Header Ads

Roshan Sitara novel 8th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel   8th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

آٹھویں قسط۔۔۔
ماہرہ جب سے وہ منظر دیکھ کر آئی تھی جلتے انگاروں پر لوٹ رہی تھی۔۔۔۔  فائز کا اسکا نمبر اگنور کرنا اور اس لڑکی کا فائز کے پیچھے بائیک پر بیٹھ کر جانا۔۔ وہ منظر جیسے اسکی نگاہوں میں کہیں ثبت ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
یونیورسٹی میں آکر اسنے جیسے تیسے اسائمنٹ سبمٹ کروائی ۔۔۔اور اتنی سی دیر میں ہی  اسکی بے بسی کے گہرے احساس تلے انتہا ہو چلی تھی۔۔
کون تھی وہ لڑکی اور کیوں تھی وہ فائز علوی کے اتنے قریب۔۔۔ دماغ میں کہیں چٹاخے سے اٹھ رہے تھے۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے چہرا تھپتھپاتے اسنے وہی ہاتھ بالوں پر پھیر کر اپنے حواس بحال کرنے چاہیے۔۔۔
وہ بار بار فائز علوی کا نمبر ملا رہی تھی۔۔۔ لیکن اسنے اٹھا کر نا دینے کی قسم کھا رکھی تھی تبھی غصے سے کھولتی ایک مرتبہ پھر سے گاڑی لے کر یونیورسٹی سے نکلی۔۔۔ اس سے پہلے بھی کئ بار فائز علوی مصروفیت کے باعث اسکا فون نہیں اٹھاتا تھا لیکن سبکی کا جو احساس آج ہو رہا تھا وہ آج سے پہلے کبھی نا ہوا تھا۔۔۔
اپنی ہی سوچوں کے منجدھار میں پھسے پتہ نہیں کس قوت کے تحت وہ فائز علوی کے اپارٹمنٹ کے احاطے میں موجود تھی۔۔۔ یہ شعوری نہیں لاشعوری عمل تھا کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کے فائز علوی دن کے اس وقت اپنے اپارٹمنٹ میں ملے گا بھی کے نہیں۔۔۔ اسکا دماغ کہیں اور تھا لیکن لاشعور میں ہاتھ میکانگی انداز میں جانے پہچانے راستوں کو تلاشتےخصوصی جگہ پر بریک لگا چکے تھے۔۔۔
چونک کر ہوش میں آتے اسنے ارد گرد دیکھا۔۔۔ خود کو فائز علوی کے اپارٹمنٹ کے احاطے میں دیکھ کر دل سے ہوک سی نکلی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بیک گیئر لگا کر گاڑی وہاں سے باہر نکالتی ایک غیر ارادی نگاہ  اطراف میں اٹھی لیکن پارکنگ ایریا میں کھڑی فائز علوی کی بائیک کو دیکھتے جیسے وہیں ٹھٹھکی تھی۔۔۔
بائیک کو دیکھتے ہی وہ بنا توقف کئے گاڑی سے نکلی اور بھاگ کر اندر کی جانب بڑھی۔۔۔ لفٹ سے نکل کر وہ مطلوبہ فلور پر آئی۔۔۔ حیرت انگیز طور پر فلیٹ کا دروازہ پہلے ہی کھلا تھا۔۔۔ اسنے ڈھرکتے دل کیساتھ سارا دروازہ کھول دیا۔۔۔ لیکن سامنے اسنے جو منظر دیکھا وہ ناقابل یقین تھا۔۔۔
صوفے پر بیٹھی وہ اجنبی لڑکی جسکی اسکی جانب پشت تھی۔۔۔ جبکہ اسکے سامنے دوزانو بیٹھا مسکراتا ہوا فائز علوی۔۔۔
یہ منظر دیکھ کر ماہرا علوی جیسے پورے قد سے زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔ دل انکی اس قدر قربت پر رقابت کے احساس تلے تڑپ اٹھا تھا۔۔۔
فائز کے ساتھ ساتھ سونم نے بھی چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جبکہ اچھلنے کے باعث سونم کے ہاتھ میں تھاما پانی تک چھلک گیا۔۔۔
ماہرا کو دیکھ کر فائزہ نے گہری سانس خارج کی اور گھٹنوں پر وزن ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
یہ وہ آخری چیز تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔ 
کون ہے یہ فائز علوی۔۔ وہ قدم قدم چلتی اسکی طرف بڑھی۔۔۔ آواز میں ٹوٹی کانچ کی کرچیاں تھیں۔۔۔ فائز نے لبوںِ پر زبان پھیرتے بات سمبھالنا چاہی۔۔۔وہ سونم کے سامنے کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا وہ پہلے ہی مینٹلی ڈسٹرب تھی۔۔۔
سونم ہونق بنی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ اسنے ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرا ہاتھوں بالوں میں پھیرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
ہاں ڈسٹرب کر دیا نا میں نے تمہیں۔۔۔ اسکی آواز میں نمی کی آمیزش تھی۔۔۔ فائز علوی نے چونک کر اسے دیکھا اور سختی سے انگلی اٹھاتے اسے وارن کرنا چاہا ۔۔۔ ایک لفظ فضول مت بولنا ماہرہ۔۔۔ میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ جیسے وہ ماہرہ کے انداز سے ہی سمجھ چکا تھا کے وہ کیا بولنے والی ہے۔۔ تبھی کھنچے اعضلات سمیٹ سرخ نگاہوں سے اسے دیکھتا چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ وہ واضح ضبط کے کڑَے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔
کیوں کیوں نا پوچھوں۔۔مج۔۔۔ مجھے جواب چاہیے فائز علوی۔۔۔ یہ لڑکی۔۔۔ وہ ٹوٹے لہجے میں پھر سے گویا ہوئی۔۔۔
سونم۔۔۔ وہ اسکی بات نظر انداز کئے سونم سے مخاطب ہوا۔۔۔ یوں کے ماہرہ جو ناجانے کیا کہنے جا رہی تھی یکدم گم  صم رہ گئ۔۔۔
سونم نے اس آکورڈ ہوتی صورتحال میں تھوک نگلتے اسے دیکھا۔۔۔۔
جج۔۔۔ جی۔۔۔
 تم سامنے کمرے میں جا کر آرام کرو۔۔۔ میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔ اور اگر کچھ چاہیے ہو تو وہ رہا کچن۔۔۔ اسنے کچن کی جانب اشارا کیا۔۔۔ وہاں تقریباً کھانے پینے کا سارا سامان ہے۔۔۔ میں جلد واپس آنے کی کوشیش کروں گا۔۔۔
وہ بول رہا تھا جبکہ ماہرہ مٹھیاں بھینچے ضبط کے آخری مراحل سے گزرتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ کس حق سے کہا تھا اسنے کہ ۔۔۔۔وہ سامنے کمرے میں جا کر آرام کرو۔۔۔ ماہرہ کا دل چاہا کے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لے کے کون ہے وہ جسے وہ اپنے کمرے تک رسائی دے رہا ہے اور کس حق سے۔۔۔ اسکے کمرے تک رسائی تو آج تک ماہرہ اظہر بھی حاصل نا کر پائی تھی۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ ماہرہ کا بازو اپنی سخت گرفت میں جھکڑتا اسے کھینچتے ہوئے اپارٹمنٹ سے باہر نکلا جبکہ جانے سے پہلے وہ اپارٹمنٹ کا دروازہ اچھے سے لاک کرنا بالکل نا بھولا تھا۔۔
****"
چھوڑو میرا ہاتھ فائز علوی۔۔۔ اپارٹمنٹ کی پارکنگ میں پہنچ کر ماہرہ نے کسی بپھری شیرنی کی مانند اس سے اپنی کلائی چھڑوائی۔۔۔ فائز نے لب بھینچتے اسے دیکھا۔۔۔
کون ہے وہ لڑکی فائز علوی جسے اپنے کمرے تک رسائی دے کر آئے ہو۔۔۔ وہ جارہانہ اسکی طرف بڑھتی اسکا گریبان جھکڑ کر چلائی۔۔۔۔
بس نا چل رہا تھا کے اپنے ساتھ ساتھ دنیا کی ہر چیز کو آگ لگا ڈالے۔۔۔۔
فائز علوی نے چٹختے دماغ کیساتھ ایک ہی جھٹکے میں اپنا گریباں اسکی گرفت سے چھڑوایا۔۔۔ یوں کے وہ لڑھکتی ہوئی کئ قدم پیچھے گئ۔۔۔
ماں نہیں ہو تم میری جو تمہیں ہر ہر چیز کی تفصیل بتاوں۔۔۔ نا ہی میں تمہارا زر خرید غلام ہوں جو تم میرے گریبان کو پہنچ رہی ہو۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ بے طرح جھٹکتا انگلی اٹھا کر ڈھارا۔۔۔ حالات پہلے ہی اسکے مخالف چل رہے تھے۔۔۔ سونم کو وہ زیادہ دیر تک اپنے فلیٹ پر نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔ اسے جلد از جلد پروفیسر عظیم سے رابطہ استوار کرنا تھا لیکن ان سب میں ماہرہ کی بے وقت مداخلت اور ہر بات کو غلط رنگ دینا اسے مزید اشتعال دلا گیا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے ہمیشہ سے ٹھنڈے مزاج کا حامل فائز علوی اس وقت حالات کے پیش نظر بری طرح اپنے غصے پر قابو پانے میں ناکام ہو رہا تھا۔۔۔
ماہرہ کی آنکھوں میں بے یقینی بھری حیرت ابھری۔۔۔ آنکھوں سے کئ آنسو ٹوٹ کر پھسلے تھے۔۔۔
تم میرے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکتے فائز علوی۔۔۔ وہ سسک اٹھی۔۔۔ فائز علوی نے لبوں پر زبان پھیرتے ارد گرد دیکھا۔۔۔ وہ لوگ اس وقت کار پارکنگ میں کھڑے تھے ۔۔۔ وہ یہاں کوئی ہنگامہ افوڑد نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
سٹاپ ڈس نان سینس ماہرہ۔۔۔ میری تمہارے ساتھ کوئی کمنٹ نا تھی۔۔۔ نا آج نا کل۔۔۔ ۔ تم مجھ پر یوں الزام نہیں لگا سکتی۔۔۔ کمر پر ہاتھ رکھتا وہ جیسے بے بس ہوا۔۔۔ اسے دیر ہو رہی تھی لیکن وہ ماہرہ کو یوں یہاں چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔
ماہرہ کے آنسووں میں روانی آگئ۔۔۔
فائز علوی۔۔۔ ماہرہ اظہر تمہارے لئے جان تو دے سکتی ہے۔۔۔ لیکن تمہاری بے وفائی نہیں سہہ سکتی۔۔۔
اور اگر تمہیں یہ میری نادانی یا بے وقوفی لگ رہی ہے نا یا محض ہوائی باتیں تو تمہیں ابھی ثابت کر کے دکھا دیتی ہوں۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیٹ جارحانہ گاڑی کی جانب بڑھی جب فائز نے بے ساختہ زوردار ہاتھ اپنے ماتھے پر مارا۔۔۔
اس لڑکی نے آج اسے بے بس کرنے کی قسم ٹھانی تھی۔۔۔ اسے جتنی جلدی تھی جانے کی یہ اسے اتنا ہی لیٹ کروا رہی تھی۔۔۔
اسنے بے ساختہ اسکی کلائی تھامتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔
دیکھو ماہرہ پلیز اس وقت مجھے سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔ میں اس وقت بہت پریشانی میں ہوں۔۔۔ مجھے تمہارے تعاون کی ضرورت ہے۔۔۔ میں سب کچھ تمہیں کلیئر کر دوں گا۔۔ بس تم مجھے رات تک کا وقت دے دو۔۔۔ ابھی مجھے کہیں بہت ضروری پہنچنا ہے اس لئے تم پلیز فلحال اپنے گھر جاو۔۔۔ ہم رات میں مل کر ساری بات کلیئر کر لیں گے۔۔۔
اسنے یک لخت اپنے غصے پر قابو پاتے لجاہت سے کہا کے جانتا تھا اس وقت سختی بات کو بڑھا سکتی ہے اور وہ بات بڑھانا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے فائز علوی کا نرم لہجہ دیکھ ماہرہ علوی کے آنسو تھمنے لگے۔۔۔
******
فائز علوی چوکس انداز میں ہر طرف سے مکمل جانچ پرٹال کر کے پروفیسر عظیم کے گھر جا رہا تھا۔۔۔
اس بار اسنے پروفیسر صاحب کے گھر جانے کے لئے اس  بائیک کا استعمال ہرگز نہیں کیا تھا جس پر وہ سونم کو کالج سے لا رہا تھا۔۔۔ دوسری بائیک اسکی فون کال پر شاپ والا وہاں دے گیا تھا جو اس وقت اسکے زیر استعمال تھی۔ اور توقع کے عین مطابق پروفیسر صاحب کے گھر کو جاتے دونوں راستوں پر اسے چند مشکوک افراد دکھے تھے
۔۔ جسے کوئی عام انسان نوٹ کرتا یا نا کرتا لیکن فائز علوی کی زیرک نگاہ نوٹ کر چکی تھی۔۔۔ اب اسے سونم کو واپس یہیں نا لانے کا فیصلہ سو فیصد درست لگا۔۔۔
وہ اب سامنے گیٹ سے اندر جا کر مزید انکی نگاہوں میں نہیں آ سکتا تھا تبھی بچتا بچاتا دشمن کی نگاہ میں آئے بنا وہ بیسمنٹ کے راستے سے پروفیسر صاحب کے گھر پہنچا 
۔۔ اس خفیہ راستے کے بارے میں  پروفیسر عظیم نے فائز کو آج صبح ہی بتایا تھا لیکن اسکی ضرورت اتنی جلد پڑ جائے گی وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
 پروفیسر صاحب۔۔۔ 
حسب معمول وہ اسے اپنی لیب میں ہی مل گئے تھے۔۔۔
وہ انہیں آواز دیتا آگے بڑھا۔۔۔ اسکی موجودگی محسوس کر کے انہوں نے اپنی سرخ آنکھیں اٹھائیں۔۔۔۔۔
ڈھلکے کندھے اور شکستہ خیز انداز۔۔۔
سونم کہاں ہے فائز۔۔۔ فائز کو انکی آنکھوں میں واضح بے بسی دکھائی دی۔۔۔ 
اسنے ایک ماں کی بے بسی دیکھی تھی۔۔۔ اور دن رات دیکھی تھی۔۔ لیکن آج ایک باپ کی بے بسی دیکھ اسکا دل کٹ گیا تھا۔۔۔ 
وہ ٹھیک ہے پروفیسر صاحب۔۔۔ اس وقت میرے فلیٹ پر ہے۔۔کالج میں کچھ لوگوں نے اس پر حملہ کیا تھا لیکن اللہ کے کرم سے بچت رہی اس لئے ابھی اسے یہاں لے کر آنا خطرے سے خالی نہیں کیونکہ مجھے آپکے گھر کے آس پاس کچھ مشکوک افراد دکھے ہیں۔۔۔ تبھی میں بھی بیسمینٹ کے راستے سے ہی آیا ہوں۔۔۔۔ اس لئے میں نے  سونم کو فلحال یہاں لانے کی غلطی نہیں کی۔۔۔ وہ انکے سامنے دوزانو بیٹھتا انکے دونوں ہاتھ تھام کر گویا ہوا۔۔۔
انہوں نے گہری تشکرانہ سانس خارج کرتے آنکھیں موندی۔۔۔
یااللہ تیرا شکر ہے۔۔۔ وہ بے ساختہ گویا ہوئے تشکر کے احساس سے انکی آنکھیں نم ہو اٹھی تھیں۔۔۔ وہ اس وقت اپنی مخصوص جگہ ٹچ کاونٹر کے سامنے نصب کرسی پر بیٹھے تھے۔۔۔
انہوں نے وہیں بیٹھے ٹچ سکرین پر انگلیاں چلائیں۔۔۔ ہوا میں ارتعاش بھرپا ہوا ساتھ ہی بڑی سکرین کے ساتھ فضا میں مزید چند فلیشز ابِریں۔۔۔ سکرین پر تیزی سے لائنیں بننے اور مٹنے لگیں تھیں۔۔۔
چند سیکنڈ کے ساتھ بپ کی آواز کیساتھ وہ لکیریں اپنی جگہ پر ساکت ہو گئیں۔۔
پروفیسر صاحب اپنی جگہ سے اٹھے اور سائیڈ پر لگے مختلف چوکھٹوں میں نصب ہارڈویئرز میں سے ایک سے ایک فلیش ڈرائیو نکالی اور اسے لئے واپس فائز تک آئے۔۔۔
اسکی حفاظت اپنی جان سے زیادہ کرنا فائز۔۔۔
اس میں ہمارے اس روبوٹک پراجیکٹ کی مکمل تفصیلات اور ریسرچ ورک موجود ہے ۔۔۔ اگر یہ غلطی سے بھی کسی دشمن کے ہاتھ لگ گی تو بہت برا ہو جائے گا۔۔۔
فائز نے بنا تاخیر کئے وہ فلیش تھام لی۔۔۔ جب پروفیسر صاحب ٹھٹھکے۔۔۔
اگر ان لوگوں نے تم دونوں پر حملہ کیا تھا تو پھر تو تم بھی انکی نظروں میں آگئے ہوگئے۔۔۔
اور ظاہر سی بات ہے کے تمہاری بائیک کے نمبر سے تو وہ تمہاری سبھی معلومات بھی نکلوا چکے ہونگے۔۔۔
پروفیسر کو فطری تشویش نے گھورا۔۔۔
جی بالکل پروفیسر صاحب۔۔۔ میں انکی نگاہوں میں تو آچکا ہونگا۔۔
مطلب وہ اس چیز سے آگاہ تو ہو ہی چکے ہونگے کے ایک لڑکا ہے جو آپکے لئے آج کل کام کر رہا ہے۔۔۔ اور یقیناً انکا اگلا ہدف بھی میں ہی ہونگا۔۔۔۔ لیکن میرا نہیں خیال کے وہ میری شناخت کر پائے ہونگے۔۔۔  کیونکہ ایک تو اتنی تیزی سے چلتی بائیک پر پیچھے سے کسی کی شناخت ممکن نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک مرد ہے۔۔۔ نمبر دو میں نے ان راستوں کا انتخاب کیا تھا جہاں سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج  انہیں نہیں مل سکتی۔۔۔ کیونکہ پسماندہ گلیوں میں جگہ جگہ کیمرے نہیں لگے ہوتے۔۔ 
اور رہی بات بائیک کے نمبر سے میرا ریکاڑد نکلوانے کے ۔۔۔ تو اسے میں خدا کی کرنی یا اسکی ہم پر خاص عنایت کہوں گا کے جس شاپ پر میں اپنی بائیک کھڑی کر کے گیا تھا وہاں کا مالک مجھ سے خاصی جان پہچان ہونے کے باعث کسی کام کی غرض سے میری بائیک لے جا چکا تھا وہاں اسکے جانے کے بعد اسکا کوئی عزیز آیا تھا جسکی ہیوی بائیک میں لے کر گیا تھا۔۔۔ اور اس ہیوی بائیک کی ہی وجہ سے بہت بچت رہی کیونکہ عام بائیک اور گاڑی کا کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔ اور معجزانہ طور پر اسنے بائیک نئ نکلوائی تھی تو ابھی اس پر نمبر نہیں لگا تھا۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود میں یہی کہوں گا کے خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں۔۔۔ ہم دشمن کو ہلکا نہیں لے سکتے۔۔۔ ہمیں بہت اختیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کے اگر وہ لوگ پاور میں ہوئے تو یقناً وہ سب سے پہلے شہر میں موجود سبھی نئ اشو ہوئے ہیوی بائیک کا ریکارڈ نکال کر اپنی تلاش شروع کریں گے۔۔ اس ریکارڈ کے ذریعے سے مجھ تک پینچنا ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔۔۔
وہ پروفیسر صاحب کے عقب میں موجود اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا ہاتھ میں موجود ڈرائیو کو پکڑے اسے دو انگلیوں اور انگھوٹے کے درمیان گھماتا  ہر ہر پہلو پر سوچ رہا تھا۔۔۔
پروفیسر صاحب پہلے ہی اسکی ذہانت کے قائل تھے۔۔۔ انہیں مزید اسکا قائل ہونا پڑا۔۔۔ بلاشبہ وہ ایک بہترین دماغ تھا۔۔۔ 
فائز ابھی چند گھنٹوں کے اندر اندر اس لیب کا سارا سامان اپنے پاس شفٹ کرواو۔۔۔ باقی کا سامان مجھے ضائع کرنا ہوگا ۔۔۔ کیونکہ اتنی جلدی سارا سیٹ آپ شفٹ کرنا ممکن نہیں اور میں مزید تاخیر کا شکار نہیں ہو سکتا۔۔۔ دشمن بہت شاطر اور ہماری سوچ سے کہیں آگے ہے۔۔۔ 
تم اس ڈرائیو کی مدد سے یہ پراجیکٹ مکمل کر لو گئے فائز ۔۔۔۔ہمیں سارا ہاڑڈ کاپی ڈیٹا ضائع کرنا ہوگا جلد از جلد۔۔۔ پھر میں سونم کو لے کر یہاں سے شفٹ ہو جاوں گا۔۔۔ لیکن جب تک یہاں سے لیب ختم نہیں ہو جاتی میں سونم کو یہاں لانے کا رسک نہیں لے سکتا اسکے لئے ہمیں کچھ اور سوچنا ہوگا۔۔۔ تب تک کے لئے سونم کے لئے کسی محفوظ پناہ گاہ کا انتظام کرنا ہوگا۔۔۔
پروفیسر عظیم اسے اپنی پریشانی بتا رہے تھے لیکن اب تو وہ بھی اچھا خاصا پریشان ہو چکا تھا۔۔۔ سونم کو وہ اپنے اپارٹمنٹ میں اپنے ساتھ بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔ اور وہ یہاں بھی نہیں آ سکتی تھی۔۔۔ ماہرہ نے الگ فون کالز کر کر کے جان کھا رکھی تھی۔۔۔ وہ پریشانی سے ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4