Header Ads

Roshan Sitara novel 7th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels

 


Roshan Sitara novel   7th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ساتویں قسط۔۔۔
مرتسم لودھی اس وقت اپنی سیوک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا یونیورسٹی سے نکلا تھا۔۔۔ جینز پر ہاف سلیوز ٹی شرٹ پہنے کہنی کو اپنی گاڑی کے دروازے پر ٹکائے ایک ہاتھ سے سٹیرنگ تھامے ہلکے چلتے میوزک سے لطف اندوز ہوتا وہ بہت پرسکون انداز میں ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
دفعتاً اسے روڈ کنارے کھڑی سیاہ عبایہ میں ملبوس لڑکی پر فاہا کا گمان ہوا۔۔ وہ اچنبھے سے سیدھا ہوا۔۔۔ لیکن جلد ہی سر جھٹک گیا کے ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ پاگل ہو گیا ہوں میں بھی جو ضرورت سے زیادہ اس بےوقوف پلس ڈریوک لڑکی کو سوچ رہا ہوں۔۔۔ ماتھا رگڑتے اسنے اپنی توجہ دوسری جانب مبذول کروانی چاہیے۔۔۔ لیکن لاشعوری طور پر اس وجود کے قریب سے گزرتے اسکی نگاہ اسکی جانب اٹھی۔۔۔ 
جو پسینے سے شرابو بوکھلائی گھبرائی سی فائل سختی سے دبوچے سینے سے لگائے لب کچلتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔۔۔ گاڑی کے کچھ آگے بڑھتے ہی مرتسم لودھی نے یکدم بریک لگائی اور بیک گیئر لگاتے عین فاہا کے قدموں کے قریب جا کر بریک لگائی۔۔
وہ پریشان حال سی ادھر ادھر کچھ تلاش کر رہی تھی یکدم ہی اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر چند قدم پیچھے ہٹی۔۔
اسنے چیخ مارتے چونک کر سامنے دیکھا اور ڈرئیونگ سیٹ پر براجمان مرتسم لودھی کو دیکھ اسکی سانس میں سانس آئی۔۔۔
مرتسم نے شیشہ نیچے کرتے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔۔ گاڑی میں بیٹھو۔۔۔ اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ گاڑی کا شیشہ چڑھا گیا ۔۔۔ جبکہ فاہا اس عنایت پر بھاگ کر گاڑی کی دوسری جانب بڑھی اور پیسنجر سیٹ کا دروازہ وا کرتی اندر بیٹھی۔۔۔
اسکے دروازہ بند کرتے ہی مرتسم گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔۔۔
گاڑی میں آتے ہی اے سی کی چلتی ٹھنڈی ہوا نے باہر دھوپ میں مختل ہوتے حواسوں کو اچھی خاصی تقویت بخشی تھی۔۔۔ جھلسا دیتی تپش کے بعد یہ ٹھنڈئ ٹھنڈی ہوا سکون دے رہی تھی۔۔۔ وہ پرسکون سی سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتی آنکھیں موند گئ۔۔۔
گاڑی ڈرائیو کرتے مرتسم نے ایک سنجیدہ نگاہ اسے دیکھا۔۔۔
کیا کر رہی تھی تم اس وقت تنہا یہاں کھڑی۔۔۔ اسکی آواز میں سختی کے ساتھ ساتھ غصے کا عنصر واضح تھا۔۔۔
فاہا نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔ اور خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
دفعتاً اسکی نگاہ سامنے ڈیش بورڈ پر پڑی پانی کی بوتل پر گئ۔۔۔
یکدم ہی اسکے گلے میں گویا کانٹے سے اگ آئے تھے۔۔۔
میں۔۔۔ پپ۔۔ پانی پی لوں۔۔۔ اسنے ایک نظر بوتل کو دیکھ کر گویا اس سے اجازت طلب کی۔۔۔ اسکے سوال کو وہ یکسر فراموش کر گئ تھئ۔۔۔
مرتسم نے اسے کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھتے پانی کی بوتل اٹھا کر اسکی جانب بڑھائی۔۔۔۔
وہ بنا تاخیر کئے بوتل تھام کر اسکا دھکن کھولتی بوتل منہ سے لگا گئ۔۔۔
کچھ پوچھا ہے میں نے۔۔۔ اسکے بوتل منہ سے ہٹا کر دھکن بند کرنے پر وہ ونڈ سکرین کی جانب دیکھتا پھر سے سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
پل میں فاہا کے چہرے کا سکون غارت ہوا۔۔۔ وہ منہ بسور کر رہ گئ۔۔۔
یونیورسٹی سے نکلتے نکلتے دیر ہوگئ اور تب تک یونی بس نکل گئ۔۔۔ اسی لئے اب کسی کنوینس کے انتظار میں کھڑی تھی۔۔۔ وہ پشیمان سی چہرا جھکائے منمنائی۔۔
مرتسم نے اسے تاسف سے دیکھتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ جب یونی بس کی ٹائمینگ سے آگاہ ہو تو پھر تم اتنی لاپرواہی کیسے برت سکتی ہو۔۔۔ یا پھر تم چچا جان پر بس یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کے یہاں پر تمہارے ساتھ بہت ناروا سلوک ہو رہا ہے۔۔۔ گھر میں اپنی گاڑیاں ہونے کے باوجود تم لوکل کنوینس کے لئے دھوپ میں دھکے کھا رہی ہو۔۔۔ حالانکہ یونی بس کی سروسز لینا سراسر تمہارا ذاتی فیصلہ تھا۔۔۔ ہمار امیج انکی نظروں میں گرانے کی کوشیش کر رہی ہو ۔۔ میں تو تمہیں خوامخواہ ہی بےوقوف اور دبو ٹائپ کی سمجھتا رہا ۔۔ پر تم تو اچھی خاصی شاطر اور جادوگرنی ٹائپ کی بندی ہو۔۔۔ چچ چچ۔۔۔۔
وہ پہلے خفگی اور پھر  طیش دلاتےانداز میں گویا ہوا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اس روندو سی لڑکی کو طیش دلا کر چڑانا اسے اچھا لگتا تھا۔۔ کوئی تسکیں ملتی تھی ایسا کر کے۔۔۔
وہ شاک کی کیفیت میں حیرت زدہ سی اسے دیکھے گئ۔۔۔ پہلے وہ جو اسکی غلط فہمی پر اسے صفائی دینے کا ارادہ رکھتی تھی آخر میں اسکے طیش دلانے پر غم و غصے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
دیکھیں۔۔ میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا۔۔۔ اور میں کیوں کسی کا امیج بابا کی نگاہوں میں خراب کروں گی۔۔۔ اور رہ گئ بات یہاں میرے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے کی ۔۔۔ تو باقی سب تو ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن آپ کا سلوک میرے ساتھ ناروا ہی ہے۔۔۔ وہ تپے تپے انداز میں بنا لحاظ کے گویا وئی۔۔۔
ہیں۔۔۔ہیں۔۔۔ہیں۔۔۔ہیں۔۔ہیں۔۔۔ وہ غش کھاتے کھاتے بچا۔۔
حیرت سے تقریباً اسی کی جانب گھوما۔۔۔ چیک کروانا زرا مجھے۔۔۔ یہ زبان یکدم ہی کہاں سے نکل آئی۔۔ کل تک تو کہیں نہیں تھی۔۔۔ وہ باقاعدہ اسکی تھوڑی تھامے چہرا اونچے کئے ناصحانہ انداز میں جیسے واقعی چیک کر رہا ہو۔۔۔
مرتسم بھائی پلیز دیکھ کر گاڑی چلائیں۔۔۔ وہ اسکے اس انداز اور ڈرائیونگ سے دھیاں ہٹا لینے کے باعث اچھا خاصا بوکھلاتی ہوئی اپنا چہرا اسکی گرفت سے آزاد کروا کر اسکی توجہ سامنے مبذول کروانے لگی جب وہ زوردار انداز میں بریک لگاتے گاڑی وہیں سائیڈ پر روک گیا۔۔فاہا نے بے بسی سے اسے دیکھا جو ماتھے پر تیوریاں لئے سٹرینگ پر کہنی ٹکائے فرصت سے مگر غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وضاحت دو زرا اس بکواس کی جو تم نے ابھی کی۔۔۔ اسے کہاں ہضم ہوا تھا اس چھٹانک بھر کی لڑکی کا یوں ٹکرا توڑ جواب۔۔۔ 
پلیز آپ گاڑی چلائیں۔۔۔ فاہا نے لبوں پر زبان  پھیرتے ادھر ادھر دیکھ اسے ملتجی انداز میں کہا۔۔۔
یہ گاڑی کم از کم تب تک تو بالکل نہیں چل سکتی جب تک تم سب کلیئر نہیں کرتی۔۔
وہ ہٹ دھرم ہوا۔۔۔
کیا کلیئر کروں بھائی۔۔۔ 
Stop call me this word Bhai... I m Not your brother...
 فاہا کے تیز لہجے پر وہ چٹخا۔۔۔ وہ لبوں کے ساتھ ساتھ مٹھیاں بھی بھینچتی رخ موڑ گئ۔۔۔
او ہیلو۔۔۔ یہ ایٹیٹوڈ کسے دیکھا رہی ہو۔۔ ہاں۔۔۔۔
وہ اسکے چہرے سے تھامتا اسکا رخ اپنی جانب کر گیا۔۔۔
کیا مسلہ ہے آپکے ساتھ۔۔۔ فاہا نے اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔ مسلہ میرے ساتھ نہیں تمہارے ساتھ ہے جادوگرنی۔۔۔
خبردار۔۔۔ خبردار جو آپ نے مجھے جادوگرنی کہا تو۔۔۔ آپ خود ہیں جادو گر۔۔۔ وہ بنا اسکے لہجے کا اثر لئے چلائی۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ چیونٹی کے بھی پر نکل آئے۔۔۔ وہ جیسے طنزیہ محظوظ ہوا۔۔۔
یہ ہی مسلہ ہے آپ کا مسٹر مرتسم لودھی۔۔۔ کے آپکو اپنی ذات کے سوا باقی سب حقیر نظر آتے ہیں۔۔۔ یونہی آپ مجھے پہلے دن سے ڈی گریڈ کر رہے ہیں۔۔۔ کبھی گاوں کی گنوار کہہ کر تو کبھی کچھ کہہ کر۔۔۔ اور اب آپکو حقیقت  کڑوی لگ رہی ہے۔۔۔ وہ گویا ہر مصلحت بالائے طاق رکھے چٹخ اٹھی۔۔۔
وہ قہقہ لگاتا ہس دیا۔۔۔
فاہا لودھی کو شدید سبکی کا احساس ہوا۔۔
فاہا ڈئیر۔۔۔ 
Don't call me this word dear... M not your dear... Do you got that...
 وہ لمحوں میں حساب بے باک کر گئ تھی۔۔۔ غصے اوراہانت سے چہرا سرخی چھلکانے لگا تھا۔۔ تنفس پھول گیا تھا۔۔۔ اب اپنا اسکی گاڑی میں بیٹھنا اسے سراسر بے وقوفی لگا۔۔۔ مرنے تو نہیں لگی تھی نا۔۔۔ مل ہی جاتی کوئی نا کوئی کنوینس۔۔۔ خوامخواہ اس کھڑوس کی آفر قبول کی۔۔ وہ دل ہی دل کڑھ رہی تھی۔۔۔
مرتسم نے ستائشی بھنور اٹھائی۔۔۔
M impressed...
پر جسے تم ڈی گریڈ کرنا کہتی ہو نا محترمہ وہ میری نظر میں حقیقت ہے۔۔۔ جس کو تم ڈی گریڈ کے ریپر میں لپیٹ کر خود کو جھوٹے دلاسے دے دے کر حقیقت سے نظریں چرانا چاہتی ہو۔۔۔
پر۔۔۔ چچ۔۔۔چ۔۔۔  تم کچھ بھی کرو حقیقت وہی رہے گئ۔۔ کے فاہا لودھی گاوں کی ایک گنوار۔۔۔ کم ہمت دبو احمق عظیم  لاپرواہ اور روندو لڑکی ہے جسے ہر مسلے پر محض رونا ہی آتا ہے۔۔۔
اب اس بات کو تم اپنی طرف سے کسی بھی قسم کے ریپر میں لپیٹ کر خود کو حوصلہ دیتی رہو۔۔ لیکن حقیقت یہ ہی ہے۔۔۔ وہ شعلے اگلتی نگاہوں سے چبا چبا کر کہتا اپنے اندر کی ساری کھولن باہر نکال کر  بڑی فرصت سے اسکی ذات کے بخیے ادھیرتا سکون سے گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔۔ جبکہ فاہا لودھی کا تو یہ حال تھا کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔
گھمنڈی ۔۔ خود سر۔۔۔ منہ پھٹ اور بدتمیز انسان۔۔۔ وہ اسکی نشتروں کی مانند باتوں سے لگے ہر گھاو کی بدولت دل پر گرتے ہر آنسو کے ساتھ اسے ایک نئے لقب سے نواز رہی تھی۔۔۔ جو اسے شرمندہ کر کے اب سکون سے ڈرائیو کررہا تھا۔۔۔
******
خوف سے سونم کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔ ایک دلخراش چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی جبکہ اس ناگہانی آفت پر فائز کے ہاتھوں سے بائیک ڈگمگائی۔۔ عین اسی وقت پچھلی جانب سے فائر کھول دیئےگئے۔۔۔
سونم کی مسلسل چیخیں گھونج رہی تھیں۔۔۔ گو کے صورتحال بھانپتے فائز نے بائیک کو یوں زِگ زیگ گھمایا تھا کے نشانہ خطا ہو چکا تھا۔۔۔ وہ صدا سے بائیک چلانے والا بائیک کو بروقت قابو کرنے کی سبھی ٹیکنیکس جانتا تھا لیکن سونم ک چیخنا اسکا فوکس بری طرح سے منتشر کر رہا تھا ۔۔۔ گو کے صورتحال ہی خاصی خطرناک تھی لیکن وہ پھر بھی خود کو کمپوز کئے ہوئے تھا کے وہ ہمت ہار دیتا تو سونم کا کیا بنتا۔۔۔
پیچھے سے مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی۔۔۔ وہ تعداد میں زیادہ تھے فائز زیادہ دیر تک انہیں ڈاج نہیں دے سکتا تھا۔۔۔ ایک بات جو اسنے نوٹ کی تھی کے ان لوگوں کا مقصد سونم کو نقصان پہنچانا نا تھا بلکہ وہ لوگ انکی بائیک کے ٹائروں پر فائر کھول رہے تھے یعنی کے وہ سونم کو زندہ صحیح سلامت پکڑنا چاہتے تھے۔۔۔
اب انہیں ڈاج دینے کا ایک ہی طریقہ تھا کے اسنے روڈ سے اندر کو جاتی پہلی سڑک کی جانب اپنی بائیک دوڑائی۔۔۔
سڑک ٹوٹی پھوٹی تھی۔۔ روڈ کے نسبت اسے یہاں بائیک چلانا دشوار ہو رہا تھا۔۔۔ گو کے یہاں اس سڑک پر انکے جلد ڈھر لئے جانے کے چانسز زیادہ تھے۔۔۔
لیکن اسے یہ رسک لینا ہی تھا۔۔۔مین روڈ پر بھی خطرہ کم نا تھا۔۔۔
سونم موبائل بند کرو۔۔۔ ہواوں میں مہارت سے بائیک اڑاتا وہ چیخا۔۔۔
فائز بھائی موبائل بیگ میں ہے اور میں اتنی تیز  رفتاری سے  چلتی بائیک پر وہ بیگ سے نکال نہیں سکتی۔۔۔ خوف سے دہری ہوتی سونم نے لرزتی مگر اونچی آواز میں کہا۔۔۔
فائز کا دماغ تیزی سے چل رہا تھا۔۔۔ اب کیا کیا جائے۔۔۔ وہ ایک بہترین دماغ تھا۔۔۔ لیکن وہ فزیکلی اتنے اسلحہ سے لیس لوگوں سے تنہا لڑ نہیں سکتا تھا۔۔ ہاں اسے فزیکلی نہیں بلکہ دماغی طور پر کسی منصوبے کے تحت انہیں ڈاج دینا تھا۔۔۔۔۔
سونم بیگ ندی میں پھینک دو۔۔۔ زن سے پیچھے آتی وین کو دیکھتا وہ پھر سے چیخا۔۔۔ خوف سے زرد پڑتی سونم کے لئے یہ بھی سوہاں روح تھا۔۔۔ وہ تو تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔ ناجانے ابھی تک حواس قائم رکھے بیٹھی کیسے تھی۔۔۔۔
شولڈر بیگ کندھے سے کھسک کر فائز کے شانے پر رکھے اسکے ہاتھ تک آ گیا تھا۔۔۔ اسنے ہاتھ ہلکا سا اٹھاتے فائز کے کندھے سے اٹھانا ہی چاہا تھا جب فائز نے جھپٹ کر بیگ چھینتے پوری قوت سے پاس ہی بہتی ندی میں پھینکا۔۔۔ چھپاک کی آواز کے ساتھ پانی اچھلا لیکن ساتھ ہی بائیک بے طرح ڈگمگائی۔۔۔ سونم نے بوکھلا کر چیختے ہوئے  فائز کو بے طرح دبوچا۔۔۔
فائز نے بروقت ایک ٹانگ نیچے لگاتے  بائیک کو قابو کیا۔۔۔ اتنا وقت کافی تھا وین کو ان تک پہنچنے میں۔۔۔
سونم نے اسے دبوچے موت کو سر پر منڈلاتے دیکھ کبوتر کی مانند آنکھیں میچتے چہرا فائز کی پشت میں گھسیرا۔۔۔
لمحے کی تاخیر کئے بنا فائز نے بائیک کو ریس دیتے پہلی نظر آتی گلی میں بائیک گھسائی۔۔۔
بائیک اور کار کا کوئی مقابلہ نا تھا۔۔۔ لیکن مین روڈ کیساتھ موجود سڑک کے ساتھ وقفے وقفے سے نکلتی گلیوں کی بدولت بچت رہی تھی کے وین کو روڈ کے مقابلے بار بار سڑک پر موڑ کاٹتے کچھ سیکنڈ لگتے جبکہ بائیک کیساتھ ایسا کوئی ایشو نا تھا اور آج یہ چند سیکنڈ کی گیم ہی انکی چلتی سانسوں کی مدت بڑھانے کا باعث بن رہی تھی۔۔ جتنا ممکن ہو سکے وہ مختلف تنگ سے تنگ گلیوں میں بائیک گھسیرتا انہیں ڈاج دینے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔ تقریباً پانچ سے سات گلیاں مرنے کے بعد وہ ویں آنکھوں سے اوجھل ہوگئ ۔۔۔ وہ اس وین کے گلی مرنے سے پہلے پہلے ہی اگلی گلی مڑ گیا تھا۔۔۔
اسنے کچھ پرسکون ہو کر گہری سانس خارج کی ۔۔۔ لیکن خطرہ ابھی ٹلا نا تھا۔۔۔
چند مزید گلیوں سے گزرتے وہ سڑک پر نکل آیا۔۔۔ اب بھی وہ رش والی جگہوں سے چوکنا انداز میں سب کچھ جانچتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔ سونم نے ہنوز اسے دبوچے آنکھیں زور سے میچ رکھیں تھیں دفعہ اسے بائیک رکنے کی آواز آئی۔۔۔ سونم نے محتل ہوتے حواسوں کے ساتھ ارد گرد دیکھا ۔۔۔ وہ کسی پارکنگ کا احاطہ تھا۔۔۔
اترو۔۔۔ فائز کی آواز پر وہ ہونق بنی ادھر ادھر دیکھتی اپنے بے جان وجود کو گھسیٹتی نیچے اتری۔۔۔
سر چکرا رہا تھا جبکہ جسم ہنوز کپکپاہٹ کا شکار تھا۔۔۔
ی۔۔۔یہ ۔۔۔ ہہ۔۔۔ ہم کہاں ۔۔ آئے ہیں۔۔اجنبی جگہ کو خوفزدہ نگاہوں سے دیکھتے وہ  ٹوٹے لفظوں میں  با مشکل بول پائی۔۔۔ جبکہ فائز ارد گرد ہر جگہ کو نگاہوں سے سکین کرتا اسکی کلائی اپنے مضبوط مردانہ ہاتھ میں تھامتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھا۔۔۔ کئ آنسو موتیوں کی صورت سونم کی نگاہوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر پھسلتے چلے گئے۔۔۔ وہ ہانپتی کانپتی تقریباً گھسیٹتی ہوئی اسکے ساتھ چل رہی تھی۔۔۔ ٹانگیں شل تھی اور اغ مفلوج۔۔۔ دل خوف کے زیر اثر بند ہونے کے در پر تھا۔۔۔
فائز نے لفٹ میں جا کر فلور سلیکٹ کیا۔۔۔ مگر سونم کو سب گول گول گھومتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ لفٹ سے نکلتا وہ سیدھی راہداری سے چلتا ایک دروازے کے سامنے رکا۔۔۔
اگر فائز نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام نا رکھا ہوتا تو وہ یقیناً ابھی تک وہیں گر  چکی ہوتی۔۔۔
اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کر کے وہ اندر بڑھا اور اسکا ہاتھ چھوڑا۔۔۔
اسکا ہاتھ چھوڑتے ہی سونم لہرائی۔۔۔ اس سے پہلے وہ تیورا کر گر پڑتی فائز نے اسے دونوں بازوں سے تھاما اور لا کر صوفے پر بیٹھایا۔۔۔ پھر بھاگ کر کچن تک گیا واپسی پر وہ پانی کی بوتل اور فرسٹ ایڈ باکس تھامے ہوئے تھا۔۔۔
یہ کھاو سونم۔۔۔ وہ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا ایک ہاتھ میں پانی اور دوسری ہتھیلی پر گولی تھی۔۔۔۔
سونم نے اسے متوحش نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
ہم کہاں۔۔۔۔ وہ اسکی پرخوف آواز سن کر اسکا مفہوم اچھے سے سمجھتا اسکی بات کاٹ گیا۔۔
یہ میرا اپارٹمنٹ ہے سونم۔۔۔ وہاں پروفیسر عظیم کے گھر جانا خطرے سے خالی نا تھا۔۔۔ دشمن شاطر اور پوری تیاری سے میدان میں اترا ہے ۔۔  ہم اسے محض ڈاج دے کر ہلکا نہیں لے سکتے۔۔۔ عین ممکن تھا کے ہمارے ہاتھوں شکست کھا کر وہ تمہارے گھر کو جاتے راستوں پر پوری تیاری سے ہمارے منتظر ہوتے۔۔۔ فلحال کے لئے یہ فلیٹ تمہارے لئے محفوظ پناہ گاہ ہے۔۔۔ ابھی تم یہیں رکو یہ دوائی ذہنی سکون کی ہے جسکی اس وقت تمہیں اشد ضرورت ہے۔۔۔۔
تم یہ کھا کر کچھ دیر آرام کرو تب تک میں پروفیسر صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشیش کرتا ہوں اور موقع محل دیکھ کر ان سے مل آتا ہوں۔۔ پھر وہ آگے جیسا کہیں گے ویسا کر لیں گے ۔۔۔۔ وہ اس کی ہراساں نم نگاہوں میں دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
لیکن اسے ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ فائز نے گولی والی ہتھیلی پیچھے ہٹاتے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔
دیکھو سونم اگر تم میرے ساتھ تعاون کرو گی تو مجھے سہولت رہے گی۔۔۔ میں خود اس صورتحال سے بہت پریشان ہوں۔۔۔ تم مجھ پر یقین کر سکتی ہو۔۔ اور تمہارے اعتبار کے لئے اتنا کافی ہے کے تمہارے والد نے تمہیں مجھ پر اعتبار کر کے ہی میرے ساتھ بھیجا ہے۔۔۔ سو پلیز۔۔۔
اسکے ملتجی انداز میں کہنے پر سونم نے لب کچلتے سر ہاں میں یلایا اور اس سے گولی لے کر نگل گئ۔۔۔
اس سے پہلے کے فائز مسکراتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوتا فلیٹ کا پہلے سے ہی ادھ کھلا دروازہ ڈھار سے وا ہوا۔۔۔
فائز کے ساتھ ساتھ سونم نے بھی چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جبکہ اچھلنے کے باعث سونم کے ہاتھ میں تھاما پانی تک چھلک گیا۔۔۔
*******


No comments

Powered by Blogger.
4