Roshan Sitara novel 6th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 6th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چھٹی قسط۔۔۔
کلاس سے باہر نکلتے ہی سیاہ عبایہ اور گولڈن حجاب میں ملبوس فاہا لودھی نے گہری سانس خارج کی اور کسی پرسکون گوشے کی جانب بڑھی۔۔۔ آج بیک ٹو بیک یہ اسکی تیسری کلاس تھی۔۔۔
اب زرا فراغت نصیب ہوئی تو وہ کاریڈور کی سیڑھیوں پر آ کر بیٹھ گئ۔۔۔ یہاں رش نا ہونے کے برابر تھا۔۔۔ زیادہ تر سٹودینٹس سامنے گراونڈ میں تھے۔۔۔ اسنے پلر سے سر ٹکاتے ہاتھ کی انگلیوں سے آنکھیں سہلائی۔۔۔ چہرا ابھی بھی ہلکی سرخی چھلکا رہا تھا۔۔۔ کل رات کے بخار کا زور ٹوٹ گیا تھا لیکن حدت ابھی بھی باقی تھی۔۔۔
وہ کبھی بھی آج کے دن یونیورسٹی نا آتی جو اسنے کل رات اسے ہٹلر کے نادر فرمودات نا سن لئے ہوتے تو۔۔۔ اسکی باتوں نے یک بار خون میں ابال اٹھا دیئے تھے۔۔۔
وہ گاوں سے یہاں تک آ کر ہمت تو نا ہار سکتی تھی۔۔۔ اسے کوشیش تو کرنی ہی تھی۔۔
ویسے بھی وہ اتنی دبو قسم کی اور کم ہمت لڑکی تھی نہیں جتنا وہ ہٹلر اسے ثابتکرنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ہاں یہ درست تھا کے یونیورسٹی کا ماحول اسکے لئے نیا تھا۔۔۔ وہ آج تک کسی بھی جگہ اکیلی نہیں گئ تھی۔۔۔ نیا ماحول اور اجنبی چہرے ۔۔۔ یہ درست تھا کے وہ کچھ نروس تھی اور یہ بالکل فطری تھا۔۔۔ لیکن کل جو واقعہ پیش آیا ۔۔۔ اسنے فاہا لودھی کی سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں مفلوج کر دی تھیں۔۔۔ حقیقتاً خوف سے اسکا دل بند ہونے کے قریب تھا۔۔ لیکن اب وہ کافی حد تک اس فیز سے نکل آئی تھی۔۔ تبھی تو آج دل نا چاہنے کے باوجود بھی تیار ہو کر یونیورسٹی موجود تھی۔۔۔
ابھی اسنے آنکھیں کھولی نہیں تھیں جب اسے محسوس ہوا کے کوئی اسکے پاس آ کر بیٹھا ہے۔۔۔ اس احساس کے جاگتے ہی اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ اور نوارد کا چہرا دیکھتے ہی پل میں اسکی رنگت فق ہوئی۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔اور ابھی تک خود کو سمجھا سمجھا کر اکھٹی کی جانے والی ہمت اور اعتماد پل میں ہوا ہوا۔۔
اسنے سرعت سے اپنی چیزیں اٹھاتے اٹھنا چاہا۔۔
ارے کالم ڈاوں یار۔۔۔ کہاں جا رہی ہو۔۔۔
وہ زبیر لغاری تھا اور اسے پرشوق نگاہوں سے تکتا دوستانہ انداز میں گویا ہوا۔۔
وہ بھلا اس وقت اسکے پاس کیا کر رہا تھا۔۔۔ فاہا کا دل لرزا لیکن وہ بظاہر خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ وہ الگ بات کے چہرا سارا راز افشاں کر رہا تھا۔۔۔ اور اسکے سامنے بیٹھا شخص غضب کا چہرا شناس تھا۔۔۔
دیکھیں۔۔۔ وہ ہمت کرتی انگلی اٹھا کر گویا ہوئی۔۔۔
جی جی دکھائیں۔۔۔۔۔ وہ مسکراہٹ دابے سرعت سے اسکی بات اچکتا ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔
میری آپ سے کوئی عداوت نہیں۔۔۔ تو آپ مجھے یوں روز روز ہراس نہیں کر سکتے۔۔۔ اسکا لہجہ خدشات سے لرزتا وارن کرتا تھا۔۔۔
زبیر لغاری محظوظ ہوتا قہقہ لگا گیا۔۔۔
ارے ۔۔۔ تم سے کس نے کہا کے میں تمہیں ہراس کرنے آیا ہوں۔۔۔ یار۔۔۔ میں تم سے اپنے کل کے رویے کی معافی مانگنے آیا تھا۔۔۔ کل مذاق مذاق میں بہت زیادہ ہو گیا۔۔۔ ہم بس فریشز سے تھوڑا مذاق کر کے موج مستی کر رہے تھے۔۔۔ لیکن مجھے محسوس ہوا کے کل کچھ زیادہ ہو گیا۔۔۔ اور یقینا اس سب سے تم بہت ہرٹ ہوئی ہو ۔۔۔ تو اسی لئے۔۔۔ وہ سادگی سے کہتا کندھے اچکا گیا۔۔۔
فاہا نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ وہ بگڑا رئیس زدہ اور اس سے یوں معافی تلافی۔۔۔ بات سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔ کیا وہ ہر کسی کے پاس یونہی معافی تلافی کرنے پہنچ جاتا تھا۔۔۔
ارے یار۔۔ پلیز یوں مشکوک نگاہوں سحت مت دیکھو میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ وہ ہسا۔۔۔ فاہا نے سٹپٹا کر نگاہوں کا رخ پلٹا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ کچھ جواب تو دیتی جاو۔۔۔ اسے جانے کے پر تولتا دیکھا وہ لپک کر سامنے آیا۔۔۔ فاہا نے ٹھٹک کر اپنے قدم روکے اور بیگ کی سٹریپ پر گرفت مضبوط کی۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ وہ دوسری طرف دیکھتی بامشکل گویا ہوئی۔۔۔ زبیر لغاری کو یہ نظر اندازی و بے رخی بہت کھلی تھی۔۔۔۔
گو کے یہ نظر اندازی نہیں بلکہ اسکا گریز تھا۔۔۔ وہ جس ماحول کی پروردہ تھی وہاں وہ یوں سر عام کھڑے ہو کر کسی بھی لڑکے سے باتیں کرنے نہیں لگ جاتی تھی۔۔۔ تبھی اب جلد از جلد اس بلا سے پیچھا چھڑوا کر یہاں سے چلے جانا چاہتی تھی۔۔۔
کہاں پھنس گی تھی جان۔۔ ایک تو ابھی تک کوئی دوست بھی نہیں بنی تھی اسکی۔۔۔
پھر فرینڈز۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے فاہا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔ وہ ماتھے پر بل لئے اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔ سوری پر میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی۔۔ غم و غصے کو اندر دابتی وہ ترخ کر کہتی دو قدم آگے بڑھی۔۔۔
مرتسم لودھی بھی تو لڑکا ہی ہے مگر اس سے تو تمہاری دوستی ہے۔۔۔ پھر یہ کھلا تضاد کیوں۔۔۔ اسکی پشت کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتے زبیر لغاری نے ہوا میں تیر پھینکا۔۔۔۔
وہ جاتی جاتی رکی اور زرا سا اسکی جانب پلٹی۔۔۔
وہ دوست نہیں بھائی ہیں میرے۔۔۔
ایک دلکش مسکراہٹ زبیر لغاری کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔ اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔۔ وہ اس لڑکی سے جو بات اگلوانے یہاں تک آیا تھا وہ بڑی آسانی سے اگلوا چکا تھا۔۔۔ اسے کل مرتسم لودھی کا یوں ایک لڑکی کے پیچھے میدان میں کودنا اور پھر سب سے پہلے اس لڑکی کو میدان جنگ سے غائب کرنا کچھ کٹھکا تھا۔۔۔ا ور اسی بات کی صداقت پر تصدیق کی مہر ثبت کرنے وہ یہاں آیا تھا۔۔۔
تو پھر مجھے بھی بھائی ہی بنا لو۔۔۔ وہ پرشوخ انداز میں کندھے اچکاتا گویا ہوا۔۔۔
میں بھائی بھی ہر کسی کو نہیں بناتی۔۔ بنا توقف کے چٹختا ہوا جواب آیا اور فاہا لودھی بنا مزید وقت ضائع کئے تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے نکلتی چلی گی۔۔۔ جتنی ہمت وہ دکھا چکی تھی وہ آج کے لئے کافی تھی۔۔۔ وہ دل ہی دل خود کو آج کی ہمت کے لئے داد دے رہی تھی ۔۔۔
پیچھے زبیر لغاری بالوں ہر ہاتھ پھیرتا اسے دور تک جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ اب آئی نا تمہاری کمزوری میرے ہاتھ میں مرتسم لودھی۔۔۔ میرا یقین کرو کہ اسی لڑکی کی بدولت تمہیں توڑ پھوڑ نا دیا نا تو کہنا کے زبیر لغاری نام نہیں میرا ۔۔۔۔ تمہارا غرور اسکی لڑکی کے ہاتھوں پاش پاش کرواں گا۔۔۔
آہاہ۔۔۔ اب آئے گا نا مزہ۔۔۔ اب ہو گا کھیل دلچسپ۔۔۔ جس میں شہہ بھی میری اور مات بھی میری۔۔۔
وہ خوبصورتی سے مسکراتا آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہا تھا۔۔ یقیناً وہ مرتسم لودھی کو یونہی نہیں چھوڑنے والا تھا۔۔۔
****†
بابا زیادہ دیر نہیں لگے گی نا۔۔۔ میں نے صرف کالج جانا ہے اور وہاں سے رولنمبر سلپ لے کر واپس آ جانا ہے۔۔۔ سچ میں بابا ۔۔۔ میں بہت اختیاط سے چہرا چھپا کر جاوں گی۔۔۔ اور بہت جلد واپس آ جاوں گی۔۔۔ پلیز جانے دیں نا بابا۔۔۔
فائز علوی پروفیسر عظیم کی لیب سے اپنا آج کا کام مکمل کر کے اوپر آیا تو اسے لاوئنج سے سونم کی آتی ملتجی آواز سنائی دی۔۔۔
دفعتا وہ دروازے پر دستک دیتا آگے بڑھ آیا کیونکہ باہر جانے کا راستہ یہیں سے تھا۔۔
اسے آتا دیکھ سونم جو باپ کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھے انکے ہاتھ تھامے انہیں منا رہی تھی سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ جبکہ پروفیسر عظیم نے سکشتہ نگاہیں اٹھا کر فائز کو دیکھا۔۔۔
کام مکمل ہو گیا برخوداد ۔۔۔
جی پروفیسر صاحب۔۔۔ واپس جا رہا ہوں۔۔۔
پر۔۔ کیا سب ٹھیک ہے۔۔۔ وہ صورتحال کے مدنظر خود کو پوچھنے سے روک نا پایا۔۔۔
اگر بات صرف کالج سے رولنمبر سلپ لے کر آنے کی ہے تو سونم گڑیا کی پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری میں لیتا ہوں اور کچھ ہی دیر میں آپکی بیٹی بالکل صحیح سلامت آپکے پاس ہوگی۔۔۔ اس معاملے میں آپ مجھ پر یقین کر سکتے ہیں پروفیسر صاحب۔۔۔ وہ سنجیدگی سے پریقین انداز میں گویا ہوا تو پروفیسر صاحب ادسی سے مسکرا دیئے۔۔۔
تم پر یقین ہے برخودار اسی لئے تمہیں رازدار بنایا ہے۔۔۔ جاو سونم بچے عبایا پہن آو۔۔۔ وہ سنجیدگی سے فائز سے کہتے آخر میں وہ پاس خاموش کھڑی سونم سے گویا ہوئی۔۔۔
وہ باپ کی رضا مندی جان جھٹ سے اندر بھاگی یوں کے اسکے گھومتے ہی اسکی فراک بھی اسکے ساتھ بل کھاتی گھوم گئ۔۔۔
فائز بیٹا گاڑی لے جانا۔۔۔ سونم کے جاتے ہی پروفیسر صاحب پھر سے اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
نہیں سر گاڑی نہیں۔۔ جو حالات آپ بتا رہے ہیں اسکے پیش نظر آپکی گاڑی استعمال کرنا خطرے سے خالی نہیں۔۔۔ اسکی نسبت ایک عام شہری کی مانند میری بائیک پر جانا زیادہ بہتر رہے گا۔۔۔ وہ ناصحانہ انداز میں پرسوچ سا گویا ہوا تو پروفیسر صاحب اسکے معاملہ فہمی پر سر اثبات میں ہلا گئے۔۔۔ میں اپنی بائیک لے آتا ہوں یہاں پاس ہی ایک دکان پر کھڑی ہے۔۔۔ وہاں کچھ کام تھا پھر میں وہیں سے پیدل یہاں آگیا۔۔۔
وہ پروفیسر صاحب کو مطلع کر کے وہاں سے نکل آیا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سونم غ
عظیم فائز علوی کے ہمراہ بائیک پر جا رہی تھی۔۔۔
****
فائز بھائی مجھے کچھ ڈاکومنٹس کاپی کروانے ہیں اگر آپ راستے میں کہیں بائیک روک دیں تو۔۔۔ سیاہ عبایہ میں ملبوس سونم اسکے پیچھے بائیک پر براجماں جھجھکتی آواز میں گویا ہوئی تو فائز سر ہاں میں ہلا کر رہ گیا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ایک ایسی جگہ پر بائیک روک چکا تھا جہاں آمنے سامنے بہت سی فوٹو اسٹیٹ کی دکانیں تھیں۔۔۔
میں بس ابھی آئی۔۔۔ سونم اپنے ڈاکومنٹس لئے بائیک سے اتری اور سامنے فوٹو سٹیٹ کی شاپ کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
فائر علوی وہیں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔۔ وہ ایک پل کو بھی اسے نگاہوں سے اوجھل کرنے کا روادار نا تھا۔۔۔ پروفیسر عظیم نے اسے بہت بڑی ذمہ داری سونپی تھی جسے وہ بالکل صحیح سلامت ان تک واپس پہنچانا چاہتا تھا۔۔۔ حالانکہ وہ پروفیسر کے پریشان چہرے اور ڈھلکے کندھوں سے معاملے کی سنگین نوعیت کے بارے میں اچھے سے آگاہ ہو چکا تھا اسی لئے کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔
عین اسی وقت اسی فوٹو اسٹیٹ کی شاپ کے مد مقابل شاپ سے ماہرہ اظہر اپنی دوست کیساتھ نکلی تھی۔۔۔ وہ یونیورسٹی جانے سے پہلے اپنی اسائمنٹ کا پرنٹ نکلوانے آئی تھی۔۔
فائز کو وہاں کھڑا دیکھ اسکی آنکھوں کی چمک سی ابھری۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ پرجوش سی اسکی جانب بڑھتی اسکے قدم وہیں منجمند ہوئے۔۔۔ اگلا منظر ناقابل یقین تھا۔۔۔ فائز علوی جو باقی لڑکیاں تو دور اس سے بھی ایک حد میں رہ کر بات کرتا تھا اس فائز علوی کیساتھ ایک لڑکی بڑی بے تکلفی سے بائیک پر بیٹھ رہی تھی۔۔۔ اسکا ہاتھ فائز علوی کے کندھے پر تھا۔۔۔ ماہرہ اظہر کی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر جلنے لگیں۔۔۔ اندر شدید رقابت کا احساس جاگا تھا۔۔۔ دل چاہا جا کر اس مکار لڑکی کا چہرا تک نوچ ڈالے۔۔۔ کون تھی وہ لڑکی جو فائز علوی کی زندگی میں اتنی اہمیت رکھتی تھی۔۔۔ وہ بل کھا کر رہ گئ۔۔۔ فائز علوی روڈ کے دوسرے کنارے کھڑا تھا۔۔۔ درمیان سے ٹریفک گزر رہی تھی اس لئے ماہرہ نے روڈ کراس کرنے کی بجائے غصے سے کپکپاتے فون نکال کر فائز کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔
فائز بائیک سٹارٹ کر رہا تھا جب اسکا فون بج اٹھا۔۔۔ اسنے جینز کی جیب سے موبائل نکال کر فون دیکھا اور ماہرہ کا نمبر دیکھ کر فون کاٹتے واپس جیب میں ڈالا اور بائیک بھگا لے گیا۔۔۔ وہ اس وقت وہاں مزید رکنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔ ماہرہ سے بات وہ فری ہو کر بھی کر سکتا تھا۔۔۔
یہ منظر دیکھ ماہرہ ایک ان دیکھی آگ میں بھڑ بھڑ جلنے لگی۔۔۔۔ یہ سب نا قابل فراموش تھا۔۔ تو کیا فائز علوی کے گریز کی وجہ یہ لڑکی ہے۔۔۔ کیا وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہے۔۔۔ اسکے جسم پر کپکپی سی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
نہیں فائز علوی صرف اسکا تھا۔۔۔ اسے محض کسی اور کے ساتھ سوچنا ہی سوہان روح تھا۔۔۔ بس بہت ہوا۔۔۔ اب وہ تب تک سکون سے نہیں بیٹھ سکتی تھی جب تک ہواوں کا رخ اپنی جانب موڑ نا لیتی۔۔
اسے بنا نتائج کی پرواہ کئے سب کچھ قبل از وقت کرنا تھا۔۔۔ پھر چاہیے آندھی آتی یا کوئی طوفان ۔۔ لیکن اب وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتی تھی۔۔۔ فائز علوی کے ساتھ اس لڑکی کی موجودگی اسے جلتے کوئلوں پر گھسیٹ گئ تھی۔۔۔
****
فائز علوی نے سونم کو اسکے کالج کے گیٹ پر اتارا اور خود فاصلے پر کھڑا اسکا انتظار کرنے لگا۔۔۔ وہ بہت چوکس انداز میں مستند سا کھڑا تھا۔۔۔ حالات کا جائزہ لینے کی حس اسکی پہلے ہی بہت تیز تھی۔۔۔ اسکی نگاہیں نینو سیکنڈ کے حساب سے اپنے ارد گرد تمام چیزوں کو سکین کرتی حالات و واقعات کی نوعیت کا جائزہ لے لیتں تھیں۔۔
ابھی سونم کو اندر گئے کچھ ہی دیر گزری تھی کے فائز علوی کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔
شٹ شٹ۔۔۔ کالج کے مین گیٹ کے سامنے دو سیاہ شیشوں کی حامل وین کے آ کر کھڑا ہونے پر وہ جو بائیک کی پشت سے ٹیک لگائے ریلیکس سا کھڑا تھا جھٹکا کھا کر سیدھا ہوا۔۔۔ وہی ہوا جسکا ڈر تھا۔۔۔ یقیناً وہ لوگ آگاہ تھے کے سونم کالج سے اپنی رولنمبر سلپ لینے ضرور آئے گی۔۔۔ وہ لوگ انکی طرف سے کسی کوتاہی کے منتظر تھے۔۔ پروفیسر عظیم کی پریشانی بے جا نا تھی۔۔ یقیناً انہوں نے کالج میں اپنے منجر چھوڑ رکھے تھے۔۔۔
لمحے کے ہزارویں حصے میں فائز علوی نے اپنا موبائل نکالتے سونم کا نمبر ڈائل کیا جو وہ حفظ ماتقدم کے طور پر گھر سے نکلنے سے پہلے ہی سونم سے لے کر سیو کر چکا تھا۔۔۔ اور اسے سختی سے تائید کی گئ تھی کے وہ موبائل سے لاپرواہی نا برتے۔۔۔ تبھی پہلی ہی بیل پر کال رسیو کر لی گئ تھی۔۔۔
سونم یہاں بہت بڑی گڑبڑ ہے فوراً سے پہلے کالج کے بیک گیٹ پر آو۔۔۔
Come on hurry up.. No more arguments...
وہ بائیک کو کک مار کر ہواوں میں اڑاتا چیخ کر گویا ہوا اور موبائل بند کر کے واپس جیب میں ڈالتا گھوم کر کالج کی بیک سائیڈ پر آیا۔۔۔
بیک گیٹ پر آتے ہی اسے حواس باختہ سی سونم بھاگتی ہوئی اپنے جانب آتی دکھائی دی۔۔۔ وہ بائیک سٹارٹ کئے ہی کھڑا تھا ۔۔
سونم بس اپنا عبایہ سمبھال کر رکھنا غلطی سے بھی یہ بائیک میں نا آ جائے ورنہ کچھ بہت برا ہو جائے گا۔۔۔
سونم نے اسکے پیچھے بیٹھتے فائز کے کندھے پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھا ہی تھا کے فائز کی خدشات سے پر آواز مزید اسے بے جان کر گئ۔۔۔ اسنے ایک ہاتھ سختی سے فائز کے کندھے پر جماتے دوسرے ہاتھ سے نیچے سے اپنا عبایہ اکھٹا کر کے سختی سے ہاتھ میں دبوچا۔۔۔
بائیک ایک مرتبہ پھر سے ہواوں سے باتیں کرنے لگیں تھیں۔۔۔ لیکن جلد ہی مقابل کو صورتحال سے آگاہی حاصل ہو گئ تھی تبھی اب وہ دونوں وین آگے پیچھے اس بائیک کا پیچھ کرنے لگی تھیں۔۔۔
فائز علوی جتنا ہوسکے مہارت سے تیزی کیساتھ بائیک چلا کم ہواوں میں اڑا زیادہ رہا تھا۔۔۔ ایسی صورتحال زندگی میں پہلی دفعہ پیش آئی تھی۔۔۔ اسے اپنی فکر نہیں تھی۔ لیکن اپنے پیچھے موجود وجود کی زندگی پر وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔
زندگی اور موت کے اس کھیل میں سونم عظیم کو ابھی سے اپنی سانسوں کی ڈور ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ خوف اور دہشت سے اسکی رنگت سپیڈ پر رہی تھی۔۔۔ پیچھے سے لمحہ با لمحہ قریب ہوتی وین کو دیکھ وہ مزید بے جان ہو رہی تھی۔۔ اگر وہ انکے ہتھے چڑھ گئ تو۔۔۔۔ رہتی کسر اتنی سپیڈ سے چلتی بائیک کے باعث تھپیڑوں کی صورت پڑتی ہوا سے اسکے ہاتھ سے پھسل پھسل جاتا اسکا عبایہ تھا۔۔۔ وہ خود کو سمبھالنے میں دہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
گڑیا اپنے موبائل کو بند کر دو ہو سکتا ہے وہ تمہاری لوکیشن ٹریس کر رہے ہوں۔۔۔ فائز کے اگلے حکم پر اسکی جان مزید سوکھی۔۔۔ اسکا شولڈر بیگ اسکے کندھے پر تھا جو کھسک کر اسکی کہنی تک آ چکا تھا ۔۔۔
اب بھلا اتنی تیز چلتی بائیک میں وہ یہ کام کیسے کرتی جبکہ اسکا ایک ہاتھ فائز کے کندھے پر اور دوسرا ہاتھا اسکا عبایہ دبوچے ہوئے تھے۔۔۔
بے بسی کے احساس تلے اسکی آنکھیں بھر آئیں ۔۔۔ اور اسکی اصل جان تو تب ہوا ہوئی جب پیچھے سے آتی وین کے شیشے نیچے کئے دونوں جانب سے نقاب پوش اصلحہ لئے کھڑکیوں سے باہر نکلے۔۔۔ خوف سے سونم کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔ ایک دلخراش چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی جبکہ اس ناگہانی آفت پر فائز کے ہاتھوں سے بائیک ڈگمگائی۔۔ عین اسی وقت پچھلی جانب سے فائر کھول دیئےگئے۔۔۔۔
*****_

No comments