Roshan Sitara novel 5th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 5th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
پانچویں قسط
مرتسم لودھی ابھی ابھی گھر پہنچا تھا۔۔۔ گاڑی ڈرائیوے پر روک کر گاڑی سے اترتے ہی اسنے اپنی جانب بڑھتے مستند سے ڈرائیور کی جانب چابی اچھالی اور اپنا ٹی شرٹ پر پہنا سٹائلش کوٹ درست کرتا لمبے لمبے ڈگ بڑھتا اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
مائے گاڈ مرتسم یہ کیا۔۔۔ پھر سے کسی سے جگھڑا کر کے آ رہے ہو کیا۔۔۔ وہ اندر آیا ہی تھا جب سامنے سے آتیں ناہید بیگم اسکی چوٹیں دیکھ دل تھام گئیں۔۔۔ گو کے رخم معمولی نوعیت کے تھے مگر پھر بھی وہ تڑپ اٹھیں تھیں۔۔۔
اوہ گارجیئس لیڈی۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے بس ہلکا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا۔۔ اسنے مسکرا کر انکے شانے کے گرد بازو پھیلایا۔۔۔
کیا کرتے ہو مرتسم۔۔۔ کیوں جان سولی پر لٹکائے رکھتے ہو۔۔۔ انہوں نے مرتسم کا ہاتھ پیچھے ہٹایا۔۔۔
اوہ مام۔۔۔ پلیز ٹینشن مت لیا کریں نا۔۔۔ آپکا بیٹا شیر ہے شیر۔۔۔ اور شیروں کو کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ وہ ماں کی کوشیش ناکام بناتا انہیں پھر سے خود سے لگا کر انکے سر کا بوسہ لے گیا۔۔۔
اچھا نا اب بس کریں۔۔۔ بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دیں۔۔۔ اسنے وہی معصوم صورت بنائی جس پر ماں فوراً پھگل جاتی تھی۔۔۔ اچھا جاو میرا بیٹا فریش ہو جاو میں تب تک تمہارے لئے کھانا لگواتی ہوں۔۔ وہ مسکرا کر آگے بڑھی تو وہ گہری سانس خارج کرتا آگے بڑھا۔۔۔
ماں مطمیئں ہوگئ تھی باقی سب فکس تھا۔۔۔
وہ سیٹی کی لے پر دھن بجاتا سیڑھیاں چڑھنے ہی لگا تھا کے اسنے پریشان حال علایہ کو ایک کمرے سے نکلتے دیکھا۔۔۔ وہ وہیں ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ یہ کمرا کس کے زیر تصرف تھا اسے سوچنے میں زیادہ تردد نا کرنا پڑا تھا اور اسکے ٹھٹھکنے کی وجہ بھی یہ ہی تھی۔۔۔
ہیے جنگلی بلی۔۔۔ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ اسنے آئبرو اچکاتے وہیں کھڑے کھڑے اسے مخاطب کیا۔۔۔
بھائی فاہا کا آج یونیورسٹی میں پہلا دن تھا اور وہ جب سے یونیورسٹی سے آئی ہے شدید بخار سے تپ رہی ہے۔۔۔ اسکا بخار اتر ہی نہیں رہا۔۔۔ بس روئے جا رہی ہے۔۔۔
وہ پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔ پریشانی اتنی تھی کے وہ مرتسم کا اسے جنگلی بلی کہنا تک محسوس نا کر سکی۔۔ ورنہ ابھی تک وہاں میدان جنگ بن چکا ہوتا۔۔۔
مرتسم نے کوفت سے آنکھیں میچی۔۔۔ اس لڑکی کی آنکھوں میں شاید ٹینکی فکس تھی۔۔۔ جو آنسو بہا بہا کر بھی ختم نہیں ہوتی تھی۔۔
سنو علایہ۔۔۔ بہن کی پریشانی دیکھ اسے شرارت سوجھی۔۔۔ یہ یونیورسٹی وغیرہ اسکے بس کا روگ نہیں۔۔۔ اسے بولو اپنے گاوں لوٹ جائے یہ دل گردے والے لوگوں کا کام ہے۔۔ اسنے تو ننھے کاکے کی طرح یونیورسٹی کے پہلے دن ہی بخار چڑھا لیا ہے جیسے بچے سکول جانےسےبچنے کے لئےسو سو بہانے بنانا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ ڈگری مکمل ہونے تک تو یہ اپنے دو تین آرگنز تک ختم کروا چکی ہو گئ۔۔۔ اسکا انداز طیش دلاتا تھا غم و غصے کو بڑھا دینے والا۔۔۔ چھیرخانی کرنے والا
اللہ نا کرے بھائی کیا اول فول بول رہے ہیں آ۔۔۔۔ علایہ گھبرائی۔۔۔
اول فول مطلب۔۔۔ حقیقت ہے ڈئیر۔۔ حقیقت۔۔۔ آنکھیں کھول کر دیکھو زرا۔۔۔ اسنے اونچی آواز میں علایہ کو دیکھتے ایک ٹیرھی نگاہ اس کمرے کے دروازے پر ڈالی۔۔۔ جیسے سنانا کسی اور کو مقصود ہو۔۔۔
انتہائی لو کانفیڈینٹ لڑکی ہے۔۔۔ دو لوگوں کے بیچ اسے بات تک نہیں کرنی آتی۔۔۔ بکری کی طرح مین مین کرنا شروع ہو جاتی ہے۔۔۔ اسے بولو کیوں چچا جان کی محنت کی کمائی آگ میں جھونکنا چاہتی ہے۔۔۔ آرام سے گاوں واپس جائے اور گھر کے کام کاج دیکھے۔۔۔ مخلص مشورہ ہے ویسے۔۔۔ رکھنا ہے تو رکھ لو ورنہ نا سہی۔۔۔ وہ مزے سے کندھے اچکاتا ایک ترچھی نگاہ اس دروازے پر ڈالتا ایڑیوں کے بل گھوما اور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔
یہ کونسا نئ بات ہے بھائی۔۔۔ آپکے خرافاتی دماغ میں ازل سے اول فول سے ہی مشورے آتے ہیں۔۔۔ علایہ اسے غصے سے کہتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔ وہ فاہا کے لئے کچھ کھانے کے لئے لینے کی غرض سے کچن کی طرف ہی جا رہی تھی۔۔۔
جبکہ اپنے کمرے میں دروازے کی اوٹ میں دل پرہاتھ رکھ کر کھڑی فاہا لودھی کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔۔
مرتسم لودھی کی بکواس کا ایک ایک حرف اسنے بخوبی اپنے کانوں سےسنا تھا۔۔۔ وہ بھی دروازے کی اوٹ سے اسکا لہلہاتا آنچل دیکھ چکا تھا اور باخوبی جانتا تھا کے وہ یہیں کھڑی ہے تبھی اتنا کچھ بول گیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ فاہا لودھی کی سائیکی سے ہی پہچان چکا تھا کے وہ اگلے کئ دنوں تک یونیورسٹی جانے کی ہمت نہیں جتا پائے گی۔۔۔
فاہا لودھی کو اپنی کم ہمتی و بے بسی پر جی بھر کر غصہ آیا۔۔۔۔ کاش۔۔۔ کاش کے اس میں اتنی ہمت و حوصلہ آ جائے کے وہ ڈٹ کر حالات اور لوگوں کا مقابلہ کر پائے۔۔۔ اس نک چڑھے شخص سے وہ پہلے ہی خار کھاتی تھی۔۔۔ اب تو اس پر غصہ مزید بڑھ گیا تھا۔۔ عجیب خود پسند شخص تھا وہ۔۔۔
******
ماہرا اظہر ڈرائیوے پر گاڑی روک کر مسکراتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔ پارٹی کے ہنگامے سرد پڑ گئے تھے۔۔۔ مہمان غالباً کھانا کھانے کے بعد واپس جا چکے تھے۔۔۔۔ اس گھر سے نکلتے وقت وہ جس قدر مضطرب اور بے چین تھی اس وقت اتنی ہی پرسکون تھی۔۔۔
آنچل ہنوز ویسے ہی سر پر اوڑھا ہوا تھا۔۔۔۔
ڈرائیوے عبور کر کے وہ دو زینے چڑھ کر لاوئنج سے ہوتی اپنے کمرے میں آگئ اور اس وقت وہ اپنے کمرے میں دیوار گیر آئینے کے سامنے کھڑی مسکراتے ہوئے آنچل کے ہالے میں چھپے اپنے وجود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ نگاہوں میں بس وہی ایک منظر ثبت ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔ فائز علوی کا اسے آنچل اوڑھنا۔۔۔ ناجانے وہ مزید کتنی دیر تک اسی ایک لمحے کے حصار میں رہتی جب دروازہ ایک ڈھار سے کھلا۔۔۔
وہ چونک کر پلٹی۔۔۔
کہاں سے آ رہی ہو تم۔۔۔ صائمہ بیگم بگڑے تاثرات سمیٹ وہاں کھڑی تھیں۔۔۔
اف ماّم ڈرا ہی دیا مجھے آپ نے۔۔۔ وہ انکی بات نظر انداز کئے گہری سانس بھر کر رخ موڑ گئ۔۔۔
کیا پوچھ رہی ہوں میں ماہرہ۔۔ کہاں سے آ رہی ہو۔۔۔۔ تمہاری تو طبیعت ٹھیک نہیں تھی نا۔۔۔ یہ ہی کہا تھا نا تم نے۔۔۔ انہوں نے جارحانہ آگے بڑھ کر اسکی بازو دبوچ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔
Mom what the hell...
ماہرہ نے حیرانگی سے ماں کی گرفت سے بازو چھڑواتے بازو سہلایا۔۔۔
تمہیں اندازا بھی ہے کے تمہارے باعث آج مہمانوں کے سامنے ہماری کتنی سبکی ہوئی ہے۔۔۔ تم دن با دن بہت خود سر ہوتی جا رہی ہو ماہرا۔۔۔ وہ درشتی سے گویا ہوئیں۔۔۔ تازہ تازہ پاڑتی میں صورتحال سمبھال کر انکا دماغ غصے سے چٹخ رہا تھا۔۔۔
ماہرا خاموشی سے چہرا مورتی اپنے آویزے اتارنے لگی۔۔۔
کہاں گئ تھی ماہرہ ۔۔۔ ورنہ میں تمہارے باپ کو بلا لاوں گی۔۔۔ پھر وہی پوچھیں گے تم سے
۔۔ انہوں نے تنک کر دھمکی لگائی۔۔۔
اوہ پلیز مام۔۔۔ بابا کے ڈراوے مجھے مت دیں۔۔۔ بابا ہیں وہ میرے کوئی جن نہیں۔۔۔ اور فائز کے اپارٹمنٹ گی تھی میں۔۔
اسنے زرا سا رخ انکی جانب پھیرا انداز میں خفگی تھی۔۔۔
تممممم۔۔۔ تم اس ٹٹ پونجھیے سے ملنے گئ تھی۔۔۔ مائے گاڈ ماہرہ۔۔۔ لمحوں میں انکا بی ہی شوٹ کرنے لگا تھا۔۔۔ تم اس دو ٹکے کے لڑکے کے لئے اپنا فنگش سپائل کر کے اسکے اپارٹمنٹ گئ تھی۔۔۔ اوقات کیا ہے اسکی جو۔۔۔
Plz Mom for God sake...
وہ چٹختی ہوئی پلٹی۔۔۔ چہرا ہتک کے باعث سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
آپکو۔۔۔ کوئی حق نہیں بنتا ۔۔۔ اسکے بارے میں یوں کہنے کا۔۔۔ وہ ماں کے قریب ہوتی چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔
بڑا جادو گر ہے وہ دو ٹکے کا انسان ۔۔۔ میری بیٹی پر وار کر کے وہ سب ہتھیانہ چاہتا ہے۔۔۔ وہ دل تھامتی صوفے پر بیٹھ گئیں۔۔۔
ماہرہ کرب سے آنکھیں میچ کر رہ گئ۔۔۔
کاش کے ایسا ہو جاتا ماں۔۔۔ لیکن وہ
جادو گر نہیں۔۔۔ خودار ہے۔۔۔ اس لئے باشعور ہوتے ہی ڈگری مکمل ہونے سے پہلے زور بازو ہی اپنی رہائش الگ کر گیا۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی اسکی صفائی میں گویا ہوئی۔۔۔
بھلا کہاں منظور تھا اس دل کو اس شخص کے لئے ایسے الفاظ سننا۔۔۔۔
تم دوبارہ اس سے نہیں ملو گی ماہرہ۔۔۔ میں تمہیں بتارہی ہوں۔۔۔ خبردار جو تم اس سے دوبارہ ملی تو۔۔۔ جان کا عذاب بن گیا ہے وہ ٹٹ پونجیا۔۔۔ ہمارے ہی ٹکروں پر پل کے ہمارے ہی منہ کو آ رہا ہے۔۔۔
وہ دہلتے دل سے کہتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ وہ تصور کی آنکھ سے مستقبل کا جو نقشہ دیکھ پا رہی تھیں وہ انکی سانسیں روک رہا تھا۔۔۔
پلیز مام خاموش ہو جائیں۔۔ میں اب اسکے بارے میں کوئی فضول بات برداشت نہیں کروں گی۔۔۔ اسنے ضبط سے چٹختے ڈریسنگ پر پڑی سبھی چیزوں کو ہاتھ مار کر نیچے گرایا۔۔۔
چھناکے سے پرفیوم کی شیشیاں زمین بوس ہوتی کرچیوں میں بٹی۔۔۔ یکدم ہی کمرا مختلف قسم کی خوشبوں سے نہا گیا۔۔۔
صائمہ بیگم بیٹی کا جارحانہ انداز دیکھتیں گم صم سی کمرے سے باہر نکل آئیں۔۔۔ اب اسے یہ مسلہ اپنے طور پر ہی ہینڈل کرنا تھا۔۔۔ اس احسان فراموش کو بھی اسکی اوقات یاد کروانا اب ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔
******
جینز اور شرٹ میں ملبوس ہشاش بشاش سے فائز نے لوہے کے آہنی گیٹ کے باہر رک کر ڈور بیل بجائی۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد اسے گیٹ کے اس پار قدموں کی ابھرتی چاپ سنائی دی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں گیٹ وا ہوا۔۔۔ سامنے ہی گرے کلر کی گھٹنوں سے نیچے تک جاتی فراک میں ملبوس جس کے گھیر پر گولڈن بارڈر تھا سر پر نفاست سے حجاب اوڑھے ایک خوبصورت سی لڑکی کھڑی تھی۔۔۔
اسلام علیکم سونم گڑیا۔۔۔۔ پروفیسر عظیم ہیں گھر پر۔۔۔ وہ ہاتھ پشت پر باندھے احتراماً گویا ہوا۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔ بابا آپ ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔۔ وہ سلام کا جواب دیتی مسکرا کر کہتی گیٹ سے ہٹی۔۔۔
وہ مسکرا کر اندر بڑھ آیا۔۔۔ چھوٹے سے کار پورچ سے گزرتے وہ ڈرائینگ روم کی جانب بڑھا اور مخصوص رستے سے بیسمنٹ میں موجود پروفیسر عظیم کی لیب تک آیا۔۔۔
لیب کا ماحول خوابناک تھا۔۔۔ سامنے دیوار میں نصب بڑی بڑی سی سکرینز کیسامنے گلاس کا ہی بڑا سا ٹچ کاوئنٹر تھا جسکے سامنے اس وقت پروفیسر عظیم کھڑے تھے۔۔۔
سائیڈوں پر کئ ہارڈ ڈسک ٹاپ اور دوسری مشینری دیوار میں بنی مخصوص جگہوں پر نصب تھی۔۔۔
دائیں جانب مینول اور سافٹ کاپی میں دبیز ڈیٹا ریسرچ ورک پڑا تھا۔۔۔۔
اور سامنے سکرین پر مختلف ربورٹس کے خاکے ابھر رہے تھے۔۔۔ جو سامنے موجود ٹچ کاونٹر ٹاپ پر پروفیسر عظیم کی انگلیوں کی جنبش سے تبدیل ہو رہے تھے۔۔۔
آو فائز ۔۔۔ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔ اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ پروفیسر عظیم گویا ہوئے اور اس ٹچ کاونٹر ٹاپ کے سامنے نصب چھوٹی گول کرسی جسکی ٹانگے سٹیل کی تھیں پر براجمان ہوتے گویا ہوئے۔۔۔
فائز کی آنکھوں کی چمک کئ گنا بڑھی۔۔۔ اپنی خواب کو جاگتی آنکھوں سے تعبیر کا روپ ڈھارتے دیکھنا بھی بڑا خوشگوار احساس تھا۔۔۔
ارے واہ پروفیسر صاحب آپ تو روبورٹس کے خاکوں تک پہنچ گئے۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا انکے ساتھ ہی نصب دوسری کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔
دائیں جانب آویزاں سکرین پر اوپر انکے گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی لائیو فوٹیج چل رہی تھی۔۔۔
پروفیسر مسکرا دیئے۔۔۔
میں انسانی طرز کا فزیکل اپیرینس والا روبورٹ بنانا چاہ رہا ہوں فائز ۔۔۔ جو اپنی طرز کا ایک شاہکار ہو۔۔۔ جو خود اسی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی کو سپروئز کر سکے
اسکے لئے کمپوزنگ ڈیٹا اور اجزاء جیسے الیکٹرونکس، میکانکس، سنسرز اور کمپیوٹنگ سسٹم مکمل ہے لیکن فزیکل اپیرینس جیسے جوائنٹ۔۔۔ انگلیوں بازوں اور ٹانگوں کی حرکات اٹھنے بیٹھنے اور سر گو گھمانے کے لئے درکار جوائنٹ اور ساخت کے درکار مواد جیسے مخصوص قسم کا لوہا، پلاسٹک، فایبر گلاس،اور سلیکن، وغیرہ ابھی امپورٹ کروانا ہے۔۔۔ وہ سکرین پر مختلف سلائیڈز کھولتے بول رہے تھے۔۔۔
لیکن۔۔۔ انہوں نے بات روکتے چشمہ اتار کر انگلی کی پوروں سے اپنی آنکھین مسلیں۔۔۔
لیکن۔۔۔ فائز سکرین سے نگاہیں ہٹا کر انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ اسے شدت سے کسی انہونی کا احساس ہوا۔۔۔
وہ پروفیسر عظیم کی شکستہ حالت پر اب غور کر پایا تھا۔۔۔
لیکن یہ کہ ایک بہت بڑی گڑبڑ ہو گئ ہے فائز۔۔۔
وہ دوسری دیوار پر چلتی اپنے گھر کی فوٹیج دیکھ کر گویا ہوئے۔۔۔
خیریت تو ہے نا پروفیسر صاحب ہوا کیا ہے۔۔۔
کچھ خیریت نہیں فائز۔۔۔
میرے اپنے ہی شاگرد نے مجھے دھوکا دیا ہے۔۔۔ انکی آنکھوں میں نمی واضح ہوئی۔۔۔
اسنے میری سبھی حساس معلومات میرے کنپیٹیٹر۔۔ ملک دشمن عناصر تک پہنچا دی۔۔۔ فائز کو وہ بہت ٹوٹے ہوئے لگے۔۔۔
فائز مجھے سالوں لگے یہ ریسرچ ورک مکمل کرنے میں اور میں کامیابی سے انچ بھر کے فاصلے پر تھا۔۔۔
وہ لوگ کب سے مجھے خریدنے پر کمر بستہ تھے۔۔۔ جب خرید نہیں سکے تو۔۔۔ تو میری کسی کمزوری کو ڈھونڈنے میں لگ گئے۔۔۔
وہ ہنوز کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہے تھے۔۔
میں نے اپنی بیٹی کو چھپا دیا۔۔۔ کئ کئ ماہ و سال وہ ہوسٹلوں میں رہی۔۔۔ مگر اس غدار احسان فراموش نے میری سب سے بڑی کمزوری میری بیٹی کے بارے میں بھی انہیں بتا دیا۔۔
مجبوراً مجھے سونم کو اپنے پاس بلانا پڑا۔۔۔ کیونکہ باہر اسکے لئے خطرہ زیادہ تھا۔۔۔
بات کرتے وہ کچھ توقف کو رکھے۔۔۔
وہ ساکت سا یک ٹک انہیں سن رہا تھا۔۔۔
تم ایماندار ہو فائز۔۔۔ اپنے کام سے مخلص۔۔۔ یہ تمہاری پچھلے پانچ ماہ سے اپنے کام کیساتھ لگن اور مستقل مزاجی ہی ہے جو میں تم سے یہ سب شیئر کر رہا ہوں۔۔۔
پروفیسر کے پراسرار انداز میں بات کرنے پر وہ ٹھٹھکا۔۔۔۔
کیونکہ میری مدد صرف تم ہی کر سکتے ہو۔۔۔
میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں پروفیسر صاحب۔۔۔
وہ چوکس ہوا۔۔
تم ایک بہت ذہین دماغ ہو فائز۔۔۔ بہت جلد چیز پک کر لینے والے۔۔۔ جلد سب سمجھ جانے والے۔۔۔ مجھے تمہاری لرنینگ ابیلیٹی۔۔۔ سیکھنے کی صلاحیت۔۔۔ پر کوئی شبہ نہیں۔۔۔ نیز تمہاری فیلڈ بھی یہ ہی ہے۔۔۔ اور تم اس چیز کے لئے پیشینیٹ ہو۔۔۔ پچھلے پانچ ماہ سے جو تم نے ریسرچ ورک اکٹھا کیا ہے میں اس سے بہت متاثر ہوں۔۔۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کے جو پراجیکٹ تم میری معیت میں مکمل کرنا چاہتے تھے وہ تم خود مکمل کرو۔۔
مطلب۔۔۔ وہ انکی آواز کا غیر معمولی پن سن کر چونکا۔۔۔
مطلب یہ کے ابھی تک بہت سی حساس معلومات ان تک پہنچ چکی ہے۔۔۔ لیکن وہ لوگ مکمل معلومات حاصل کر پانے میں ناکام رہے ہیں۔۔۔ وہ لوگ ابھی بھی یہ اے آئی روبوٹیک پراجیکٹ میری مدد کے بنا مکمل نہیں کر سکتے۔۔۔
یہ ایک ایسا اے آئی بیس پراجیکٹ ہے جو آگر انکے ہاتھ لگ گیا تو وہ ناجانے اس ٹیکنالوجی کا استعمال اپنے مفاد کے لئے کیسے کریں۔۔۔
اس کا فیوچر ایسا تحلقہ خیز ہے کے ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔۔۔
یہ اے آئی بیس ایک ایسا ماڈل ہوگا جسکا نالج کسی بھی چیز کے متعلق انفینٹی ہوگا۔۔۔ جو دنوں کا کام گھںٹوں میں کر دے گا۔۔۔ جو اس طرز پر خودکارانہ نظام کے تحت بنے گا کہ اسے جو انسان جتنا استعمال کرے گا یہ اتنی ہی تیزی سے گرو کرتا مزید سیکھے گا پھر اسے اس انسان کی بھی ضرورت نہیں ہوگئ جو اسے آپریٹ کررہا ہوگا۔۔۔ یہ ماڈل اتنا پاور فل ہوگا جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دے گا۔۔۔ فائز سنجیدگی سے انہیں سن رہا تھا۔۔۔
وہ لوگ تم سے آگاہ نہیں ہیں۔۔ اس لئے نہایت رازدرانہ انداز میں رات کو بیسمنٹ کے ہی راستے سے یہ ساری لیب اپنے اپارٹمنٹ میں شفٹ کر لو۔۔۔
جیییییی۔۔۔ پروفیسر کی بات پر وہ حیرت سے انہیں دیکھتا رہ گیا۔۔۔
ہممم۔۔۔ وہ لوگ کسی بھی پل کچھ بھی کر سکتے ہیں فائز۔۔۔ میں اپنی برسوں کی محنت یوں غداروں پر لٹا نہیں سکتا۔۔۔
اور ایک اور بات فائز۔۔۔ میری بیٹی میرے بعد تمہاری ذمہ داری ہے۔۔۔ پروفیسر نے نہایت آہستگی سے اسکے سر پر بم پھوڑا کے وہ حق دق سا انہیں دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔
یقیناً یہ ذمہ داری اس کے لئے بہت بھاری تھی۔۔۔ اسکے کان ابھی سے سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔
******

No comments