Roshan Sitara novel 4th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 4th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چوتھی قسط۔۔۔
فائز ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس اپارٹمنٹ کے اوپن کچن میں کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑا کافی پھینٹ رہا تھا۔۔۔ گیلے بال ماتھے پر لاپرواہی سے پھیلے تھے جبکہ اس سے کچھ فاصلے پر لاوئنج میں ّموجود صوفے پر مرتسم لاپرواہی سی نیم دراز سامنے دیوار میں نصب ایل ای ڈی میں کوئی ٹاک شو دیکھ رہا تھا۔۔۔ البتہ چہرے کے زخموں پر آئنٹمنٹ لگا رکھی تھی۔۔۔ اب وہ صبح والے حلیے سے قدرے بہتر تھا۔۔۔ جبکہ سنگل صوفے پر براجمان وہاج اس وقت لیپ ٹاپ پر جھکا فائز کا پچھلے دنوں کیا جانے والا ریسرچ ورک چیک کر رہا تھا۔۔۔
فائز کافی فاسٹ جا رہے ہو یار۔۔۔ اسنے ستائشی انداز میں داد دیتے کہا۔۔۔
ہاں بس سوچ رہا تھا کے فائنل ہوتے ہی اس پر باقاعدہ کام شروع کردوں۔۔۔
دفعتاً ڈور بیل بجی تو وہاج لیپ ٹاپ بند کرتا دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
باہر ڈیلیوری بوائے تھا۔۔ وہاج اپنا آرڈر رسیو کر کے اندر آ گیا۔۔۔ آرڈر آتا دیکھ مرتسم بھی سیدھا ہو بیٹھا جبکہ وہاج بھی تب تک اپنی کافی کا مگ لے کر لاوئنج میں آگیا۔۔۔
مڈ ٹرمز کی تیاری کیسے ہی فائز۔۔۔۔ دیکھو میرا ہاتھ بری طرح متاثر ہوا ہے اس لئے مجھے تمہاری سخت مدد درکار ہے۔۔۔ مرتسم نے میز پر پزے کے کھلے ڈبے سے پزے کا پیس اٹھاتے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔ فائز نے اپنا پیس اٹھاتے اسے بے طرح گھورا جبکہ کولڈرنگ پیتے وہاج کو بے طرح اچھو لگا۔۔۔
وہ پیٹ پکڑ کر ہستا دہرا ہو گیا۔۔۔
یہ واقعی نوٹنکی ہے۔۔۔ ہاتھ پر لگی چوٹ کو کیش کروانا چاہتا ہے۔۔۔
فائز بھی سر جھٹکتا مسکرا دیا۔۔۔
عین اسی وقت سیاہ اور گولڈن میکسی میں ملبوس مائرہ اپارٹمنٹ کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوئی۔۔۔ اندر کا ماحول اور انہیں یوں بے فکری سے قہقے لگاتا دیکھ اسنے بے طرح لب بھینچے۔۔۔ آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی تھی۔۔۔ اندر بے طرح توڑ پھوڑ ہوئی تھی۔۔ وہاج غالباً آرڈر وصول کرنے کے بعد دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا۔۔۔
وہ چمکتی نگاہوں سے مسکرا کر پزے سے انصاف کرتے فائز کو دیکھتی قدم قدم اٹھاتی انکے سر پر آن پہنچی۔۔۔
وہ تینوں اسکی موجودگی سے ہنوز بے خبر تھے۔۔۔
تو یہ ہے تمہاری مصروفیات فائز علوی۔۔۔ وہ انکے قریب پہنچ کر سینے پر ہاتھ باندھتی اندر اٹھتے اشتعال کو قابو کرتی گویا ہوئی تو فائز چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ منہ کی طرف لیجاتا پزے والا ہاتھ بے طرح ٹھٹھکا۔۔۔
مرتسم اور وہاج بھی ٹھٹھک کر کھانے سے ہاتھ روک اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
یکدم ہی جیسے وہاں سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی اس وقت ماہرہ کی وہاں موجودگی کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
تم رات کے اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ فائز اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
وہ رات کے اس وقت شعلہ جوالہ بنی کس ڈھرلے سے وہاں موجود تھی۔۔۔ فائز کی کنپٹیاں سلگنے لگیں۔۔
بالکل میں یہاں کیا کر رہی ہوں۔۔۔ یہاں تو تم اپنے دوستوں کیساتھ پاڑتی اڑا رہے تھے۔۔۔وہ عجیب سے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ اور میں وہاں تمہارے انتظار میں ہلکان اپنی برتھ ڈے پاڑتی روکے گیٹ پر نگاہیں جمائے منتظر بیٹھی تھی۔۔۔
کیسے کر سکتے ہو تم میرے ساتھ ایسا۔۔۔وہ دو قدم اسکی طرف بڑھتی اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر جما کر دھکا دیتی غصہ سے چٹخئ۔۔۔
فائز لب بھینچے دو قدم پیچھے ہوا۔۔۔
تمہارے یہ دوست اور انکی یہ فضول سی پاڑتی تمہیں مجھ سے زیادہ عزیز ہوگئ فائز۔۔۔ بے بسی سے اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔
یہ ہے تمہاری مصروفیات جسکے لئے تم نے میرا اتنا خاص دن برباد کیا۔۔۔ وہ جیسے بے بس ہوئی۔۔۔ اس مصروفیت کے لئے تم نے مجھے انتظار کی سولی پر لٹکایا فائز۔۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے پھسلا۔۔۔۔
مرتسم اور وہاج نے آنکھوں ہی آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارا کیا اور خاموشی سے وہاں سے کھسک گئے۔۔۔
فائز نے انکی یہ حرکت نوٹ کی لیکن اسنے غلطی سے بھی انہیں روکنے کی کوشیش نا کی تھی۔۔۔۔ مائرہ اظہر جن کیل کانٹوں سے لیس اس وقت اسکے سامنے کھڑی تھی شاید اسکا احساس اسے خود بھی نا تھا۔۔۔
ایسے میں اسکے دوستوں کا وہاں سے چلے جانا ہی بہتر تھا۔۔۔
فائز نے لبوں پر زبان پھیرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
تم اپنا فنگش چھوڑ کر یہاں کیوں آئی ماہرہ۔۔۔
کیا نہیں آنا چاہیے تھا۔۔ اسنے نم بھرائی نگاہیں اٹھائیں۔۔۔ فائز کو اپنا دل ان نین کٹوروں میں ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔ وہ سرعت سے نظریں پھیر گیا۔۔۔
تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا ماہرہ۔۔۔ رات کے اس پہر کسی نامحرم کے گھر یوں تنہا چلے آنا قطعی مناسب نہیں ۔۔۔
وہ ناصحانہ انداز میں کہتا کچن میں چلا آیا۔۔۔ جبکہ ماہرہ نے دکھ سے اس پتھر کو دیکھا اور صوفے پر ڈھتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی سسک اٹھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اسے واپس لاوئنج میں اپنے قریب قدموں کی چاپ ابھرتی سنائی دی لیکن وہ ہنوز نظر انداز کئے بیٹھی رہی۔۔۔۔
کیک کاٹو ماہرہ۔۔ آواز پر وہ لمحے میں سیدھی ہوئی۔۔۔ حیرت سے اسے دیکھا جو جھک کر کانچ کے میز پر کیک رکھ رہا تھا۔۔۔
اپنا فیورٹ آلمنڈ کیک دیکھ اسکے آنسو ٹھٹھر گئے۔۔۔
کیا تھا یہ شخص۔۔۔ وہ جو یہ ظاہر کرتا تھا یا وہ جو اس وقت اسکے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔ وہ یک ٹک اسکے خوبرو چہرے کو تکے گئ جو اب کیک پر باریک سی موم بتیاں لگاتا انہیں لائٹر سے جلا رہا تھا۔۔۔
یہ کیک اسکا فیورٹ تھا اور پچھلے کئ سالوں سے ہر دفعہ وہ خود اسکی سالگردہ کے دن یہ کیک بیک کرتا تھا۔۔۔
آج بھی اسکی سالگرہ کے دن اس کیک کو بیک کرنا کیا تھا بھلا۔۔۔ ماہرہ کے آنسو تھمے۔۔ اندر کہیں ایک خوشگوار احساس جاگا تھا۔۔۔ کیا وہ جانتا تھا کے وہ یہاں آئے گی۔۔۔
ماہرہ نے آنسو صاف کرتے چھری تھامی۔۔۔
فائز نے اسکے کیک کاٹتے ہی اسے وش کیا۔۔۔ ماہرہ نے کیک کاٹ کر ہاتھ اسکی جانب بڑھایا جب فائز نے اسی کیک میں سے تھوڑا سا ٹکرا لیتے ماہرہ کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔
میرا گفٹ۔۔۔۔ کیک کھاتے ہی وہ اٹھلا کر بولی۔۔۔ موڈ یکدم ہی خوشگوار ہو گیا تھا۔۔۔
فائز خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ جب واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا۔۔۔ واو یہ بہت خوبصورت ہے۔۔۔ اسنے فائز سے شاپنگ بیگ تھامتے کھولا۔۔۔ اندر حسب سابق سب پینٹینگ کا ہی سامان تھا۔۔۔ وہ اسکے لئے ہمیشہ سے یہ ہی تحائف لاتا تھا۔۔۔
آئے کیوں نہیں تم۔۔۔ کیک سے انصاف کرنے کے بعد وہ سیدھی ہوئی۔۔۔۔
مصروف تھا۔۔۔ فائز نے سنگل صوفے پر بیٹھتے انگلی کی پوروں سے آنکھوں کے پیوٹے دابے۔۔۔
ہاں دیکھ چکی ہوں میں تمہاری مصروفیات۔۔۔۔ ماہرہ کی آواز میں طنز کی آمیزش ابھری۔۔۔۔
ہم مصروف ہی تھے ماہرہ۔۔۔ پڑاجیکٹ ڈسکس کر رہے تھے۔۔۔ ڈنر کا وقت ہوا تو آرڈر کر لیا۔۔۔ پر افسوس کے تم نے انہیں وہ بھی نا کرنے دیا۔۔۔ فائز نے میز پر کھلی سبھی چیزوں کی طرف دیکھتے تاسف سے کہا۔۔۔
مصروف تھے تو یہ کیک کیوں بیک کیا پھر۔۔۔ اسنے جیسے فائز کی تفصیل سمجھ کر منہ بسورا۔۔۔
یار تم دوست ہو میری۔۔۔ کزن ہو۔۔۔ تمہاری برتھ ڈے ہے آج۔۔۔ آج تمہارے گھر میں پاڑتی تھی۔۔ جس میں میں شرکت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ یہ کیک میں کل یونیورسٹی لا کر تمہیں وش کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے سادگی سے کہہ رہا تھا۔۔۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا فائز۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی صوفے پر تھوڑا آگے ہوئی۔۔۔۔مائرہ اظہر کی زندگی میں فائز علوی کا نمبر ہمشہ شروعات میں آتا ہے۔۔۔ آخر پر نہیں جو تم کل کا انتظار کرتے۔۔۔ سیدھی ہو کر وہ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
چلتی ہوں اب۔۔۔ شاپنگ بیگ اٹھا کر اسنے آنچل کندھے پر ڈالا اور پلٹی۔۔۔
فائز ہنوز ویسے ہی بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔۔۔
سنو۔۔۔ اسے پلٹتا دیکھ وہ بے ساختہ پکارا۔۔۔
ماہرہ ٹھٹھک کر رکی پھر پلٹی۔۔۔ کیا۔۔۔
وہ ماہرہ کو یک ٹک دیکھتا اس سے دو قدم کے فاصلے پر آ کر رکا ۔۔۔
ماہرہ نے سوالیہ بھنور اٹھائی۔۔۔
مانتا ہوں کے حق نہیں رکھتا۔۔۔ اسنے ماہرہ کے کندھے سے آنچل اتارا۔۔۔
ماہرہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
مگر۔۔۔۔ وہ رکا۔۔۔ ماہرہ سانس تک روکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ایسے تم زیادہ پیاری لگتی ہو۔۔۔ فائزہ علوی نے نہایت عقیدت سے آنچل کھولتے اسکے سر پر اوڑھایا۔۔۔۔
ماہرہ کو اپنا دل بھی موم کی مانند پھگلتا محسوس ہوا۔۔۔ وہ حق دق سی ویسے ہی کھڑی رہی۔۔۔۔آنچل اس پر اوڑھتے ہی وہ رخ موڑ گیا۔۔۔ ماہرہ نے ایک نظر دیوار گیر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر ڈالی جہاں اسکا چاندنیاں بکھیرتا سراپا چھپ گیا تھا۔۔۔ پھر نم آنکھوں اور کپکپاتے ہاتھوں سے آنچل سمبھالتی باہر کو نکلی۔۔۔
آج تک وہ اس معاملے میں کبھی کچھ نا بولا تھا۔۔۔ اور آج اس ایک لمحے میں وہ جتنی گہری بات اسے سمجھا گیا تھا وہ ماہرہ اظہر کو اندر تک ہلا گئ تھی۔۔۔
*****
رات کے اس وقت سڑکوں پر ٹریفک نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔ ماہرہ کے گھر سے نکلتے ہی فائز علوی بھی گھر سے نکل آیا تھا۔۔۔ ماہرہ اپنی کار ڈرائیو کرتی جا رہی تھی جبکہ فائز اپنی بائیک پر بیٹھا اسکے پیچھے ہی تھا۔۔۔ ماہرہ اچھے سے جانتی تھی کے وہ اسکے پیچھے ہی ہوگا۔۔۔ فائز علوی کی کیئر کا ہر انداز ہی نرالہ تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی جب تک رات کے اس پہر مائرہ اظہر سہی سلامت گھر نہیں پہنچ جاتی فائز علوی اسے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا۔۔۔
اور ہوا بھی یوںہی۔۔۔ جیسے ہی ماہرہ کی گاڑی گھر کا گیٹ عبور کر گئ ویسے ہی فائزہ علوی نے واپسی کی راہ پکڑی۔۔۔
اب تقریباً خالی روڈ پر اسکی بائیک ہوا سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔۔۔ ہوا کے سنگ اسکی شرٹ پیچھے کو پھڑ پھڑ رہی تھی۔۔۔ وہ خاصا مضطرب دکھائی دیتا تھا۔۔۔ ماہرہ کی دن بدن اس سے بڑھتی توقعات اسے عجیب کش مکش میں مبتلا کرتی تھیں۔۔۔ وہ لڑکی شروع سے ہی اسکے دل کے قریب تھی۔۔۔ جسکی چھوٹی سے چھوٹی فرمائش بھی پوری کرنا فائز علوی پر فرض تھا۔۔۔ وہ ماہرہ کی ہر الٹی سیدھی حرکت میں ناچاہنے کے باوجود بھی اسکے ساتھ ہی ہوتا تھا۔۔۔ لیکن آج شعور کی منازل طے کرتے آگاہی حاصل کر کے وہ اسے جتنا نظر انداز کرنے کی کوشیش کرتا وہ اتنا ہی اسکا ضبط آزماتی تھی۔۔۔
ماہرہ اظہر کی یوں ٹوٹی بکھڑی حالت اسکے اندر بے چیناں بھر دیتیں۔۔۔ ایسی بے چیناں جو کسی کروٹ سکون نا لینے دیتی۔۔۔
ماہرا اظہر اسکی منزل نا تھی۔۔۔ لیکن اپنی منزل کو طے کرتے ہر راستے کے وسط میں اسے وہی کھڑی ملتی۔۔۔ ماہرہ اظہر اسکی منزل کو جاتے ہر راستے کو خوش قسمتی تصور کرتی بلا سوچے سمجھے منتخب کر جاتی۔۔۔ ماہرا اظہر کسی چیز میں اپنی دلچسپی نہیں دیکھتی تھی۔۔۔ بس جو فائز علوی کرتا وہی چیز اسکی دلچسپی کا محور بن جاتی۔۔
جسکی ایک عام سی مثال تو یہ ہی تھی کے فائن آرٹس سے شغف رکھنے کے باوجود اسنے فائز کی پیروی کرت آئ ٹی کی فیلڈ منتخب کی تھی جس پر فائز علوی سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
فئز نے اسے سمجھانے کی بہت کوشیش کہ یہ اسکی فیلڈ نہیں ۔۔۔ مگر اس سرپھری کو بھلا کون سمجھاتا جس کے لئے فائز علوی کا انتخاب حرف آخر ہوتا۔۔۔
اپارٹمنٹ کے احاطے میں بائیک روک کر وہ بائیک سے اترا۔۔۔ بے چینی اسکے انگ انگ میں سرائیت کرتی جا رہی تھی۔۔۔ ماہرہ اظہر کی نم آنکھیں اور التجائیہ لہجہ اسکے دل و دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔۔۔ ضبط سے اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔
اسنے بے چینی سے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا اور اندر آ کر صوفے پر ڈھتا سر تھام گیا۔۔۔
نم آنکھوں میں کئ منظر بننے اور بگڑنے لگے اور وہ وقت کے مرغولوں کے سنگ سفر کرتا کہیں پیچھے جانے لگا۔۔۔ پیچھے ۔۔۔ کہیں بہت پیچھے۔۔۔
منظر کچھ واضح ہوا۔۔۔ سفید ٹائلز سے مزین لاوئنج میں دس سالہ بچہ ایک سات سالہ گول مٹو سی خوبصورت بچی کیساتھ ایل شیپ صوفے پر بیٹھا کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔۔۔ جبکہ وہاں سے کچھ فاصلے پر موجود اٹیلین سٹائل کچن میں ہلکے آسمانی رنگ کے سادہ سے سوٹ میں ملبوس اسکی باوقار سی ماں کھانا تیار کر رہی تھی۔۔۔
اسے گمان گزرا جیسے کھانا پکاتی اسکی ماں بے طرح ضبط کے مراحل سے گزرتی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ لیکن کیوں۔۔۔۔ وہ بچہ ۔۔۔بچہ ہونے کے باوجود اب بہت کچھ سمجھنے لگا تھا۔۔۔ اور پھر سامنے کمرے سے آتی لمحہ با لمحہ تیز ہوتی آوازوں نے بھی کہاں کسی چیز کا بھرم قائم رہنے دیا تھا۔۔۔
دیکھیں اظہر صاحب میں بتائے دے رہی ہوں میں نے یہاں کوئی خیراتی ادارہ نہیں کھول رکھا جہاں دنیا یہاں کے یتیم مسکین منہ اٹھا کر چلے آئیں گے۔۔۔
بس کر دو صائمہ بیگم۔۔۔ خدا کا کچھ خوف کرو۔۔۔ مامی کے سخت ترین الفاظ پر ماموں غصے سے چیخے۔۔۔
کیا خدا کا خوف کروں ہاں۔۔۔ خدا کا خوف ہی کیا ہے جو آپکی بہن پچھلے چھ مہینوں سے یتیم بیٹے کے ساتھ اس در پر پڑی ہے۔۔۔ ارے شوہر مر گیا تو کیا ہم نے مارا ہے۔۔۔ یا اسٹام پیپر پر لکھ کر دیا تھا کے اسکا شوہر مر گیا تو اسکی اور اسکے بیٹے کی ساری ذمہ داری ہماری ہے۔۔۔ اسکے سسرال والوں کا کوئی فرض نہیں کیا۔۔۔ اب یہ پوری زندگی یہیں ڈیڑا جمائے رکھے گی کیا۔۔۔ مامی ان سے بھی تیز آواز میں غرائی تھی۔۔۔
خدا کے لئے چپ ہو جاو صائمہ بیگم۔۔۔ میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔۔۔ وہ بہن ہے میری۔۔۔ اب کی بار ماموں کی آواز کچھ دھیمی تھی۔۔۔ ملتجی سی۔۔۔
کیوں چپ کر جاوں ہاں۔۔ پچھلے چھ مہینوں سے چپ ہی ہوں۔۔۔ اور بہن ہے تو کیا ہماری کوئی پرائیویسی نہیں۔۔۔ نہیں اظہر صاحب اس سے زیادہ میں اپنی پرائیویسی میں دخل اندازی برداشت نہیں کروں گی۔۔۔ وہ دو ٹوک انداز میں حتمی گویا یوئی۔۔۔
میں نے سبھی یتیموں کو پالنے کا ٹھیکہ نہیں لیا۔۔۔ اندر سے آوازیں ہنوز سنائی دے رہی تھیں لیکن اسکی ماں اب چولہے کی آنچ بند کر کے منہ پر ہاتھ رکھتی بھاگ کر اپنے کمرے میں گھس گئ۔۔۔ ماں کو یوں بے حال دیکھ اسکا بھی ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا۔۔۔ اندر غم و غصے کا ایک طوفان امڈا تھا۔۔۔ کاش وہ اس قابل ہوتا کے اپنی ماں کو ایک بہترین زندگی دے سکتا۔۔۔ اپنی بے بسی پر اسے رونا آیا۔۔۔
وہ سب کھلونے وہیں چھوڑ بھاگ کر ماں کے پیچھے کمرے میں گیا۔۔۔
پیچھے سے ماہرہ اسے آوازیں دے رہی تھی لیکن ماں کے سامنے اسے کچھ دکھائی دے رہا تھا نا سجائی دے رہا تھا۔۔۔
وہ دس سالہ بچہ بےقرار سا اندر بڑھا تو اسکی ماں صوفے پر بیٹھی چہرا ہاتھوں میں چھپائے سسک رہی تھی۔۔۔
ماں۔۔۔ ماں پلیز آپ چپ کر جائیں۔۔۔ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔۔۔ وہ بچہ ماں کے پاس آ کر انکے چہرے پر رکھے ہاتھوں کو تھام کر بولا تو انہوں نے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے شدت سے بیٹے کو خود میں بھینچا۔۔۔
ماں میں بہت محنت کروں گا۔۔۔ اور آپکو اس سے بھی بڑا اور اچھا گھر لے کر دوں گا پھر وہاں مامی بالکل بھی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکیں گی۔۔۔
وہ نجانے کیا کچھ کہہ رہا تھا جب اسکی ماں ٹھٹھکی۔۔۔ اسنے نرمی سے دس سالہ بچے کو خود سے جدا کیا۔۔۔
یہ کیا بول رہے ہو فائز۔۔۔ لمحوں میں اس عورت پر یہ انکشاف ہوا تھا کے گھر میں ہوتے روز روز کے ہنگامے اسکے بیٹے کی ذہنی حالت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔۔ اور یہ بالکل بھی خوش آئندہ بات نا تھی۔۔
ادھر دیکھو میری طرف میری جان۔۔۔ اسنے بیٹے کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔۔۔ آپ نے کسی چیز کی طرف توجہ نہین دینی۔۔۔ نا ہی کچھ فضول سوچنا ہے۔۔۔ آپ نے صرف اپنی پڑھائی پر فوکس کرنا ہے۔۔۔ میرا اس دنیا میں کل سرمایا میرا بیٹا ہے۔۔۔ آپ نے اپنی زندگی میں اتنی کامیابیاں سمیٹنی ہیں اتنی کامیابیاں سمیٹنی ہیں کے لوگ میرے بیٹے کو کوئی بات کہنے سے پہلے سو بار سوچیں۔۔۔ لوگوں کو زبان کی بجائے عمل سے جواب دینا ہے آپ نے۔۔۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہو نا فائز۔۔۔ ماں نے گم صم سے بیٹھے بیٹے کو بے طرح جھنجھوڑا تو وہ سرعت سے سر ہاں میں ہلا گیا۔۔
اپنے اپارٹمنٹ کے لاوئنج میں صوفے پر بیٹھے فائز علوی نے انگلی کی پور سے آنکھ کی نمی کو چنا۔۔۔ ماضی کا سفر آسان نا تھا۔۔۔ پھر وہ ماضی جس میں سوائے کانٹوں کے کچھ تھا ہی نہیں۔۔ آپکی خواہش کی تکمیل ہی محض مقصد حیات ہے ماں۔۔۔ انشااللہ وہ وقت بہت جلد آئے گا جب دنیا آپ پر آپکے یتیم بیٹے فائز علوی کے باعث فخر کرے گی۔۔۔ اسکا عزم چٹانوں سے مضبوط تھا۔۔۔۔ جس میں کم از کم ماہرہ اظہر کہیں نا تھی
*****"

No comments