Header Ads

Roshan Sitara novel 3rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel   3rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

تیسری قسط۔۔۔
اندھا دھند باہر بھاگتے اسے دور سے ہی وہ سب گراونڈ میں ایک دوسرے سے گھتم گھتا نظر آگئے۔۔۔ اسکے  بھاگنے کی شدت میں مزید آضافہ ہوا۔۔۔۔چٹختے اعصاب کیساتھ رگیں پھول گئ۔۔۔ 
زبیررررر لغاری۔۔۔۔۔۔
چھلانگ لگا کر گراونڈ میں اترتے لمبے ڈگ بھر کر ان تک پہنچتے ہی اسنے للکارتے ہوئے جھپٹ کر ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔۔۔ گو کہ یہ ایک خاصا محنت طلب کام تھا۔۔۔۔ درمیان میں کھڑے ہوتے اسنے دونوں کو دائیں بائیں ہاتھوں کی مدد سے روکتے ایک دوسرے کی طرف بڑھنے سے روکا۔۔۔
مرتسم تو دوست کے بیچ میں کودنے سے غصے سے کھولتا ناچاہنے کے باوجود تھم گیا۔۔۔ جبکہ زبیر لغاری کے لئے ایسی کوئی اخلاقیات نا تھی۔۔۔ وہ وہاں سے بھی اچھل کر مرتسم تک پہنچنا چاہتا تھا گو کہ بیچ میں آتے فائز علوی کو بھی کیوں نا پیس دیا جاتا۔۔۔۔
اسکے ساتھی بھی وہاج خآنزادہ کیساتھ جھگڑا روک زبیر لغاری کے اگلے حکم کے منتظر تھے۔۔۔ 
زبیر لغاری پھر سے اسکی جانب لپکا جب فائز علوی نے اپنا مضبوط ہاتھ اسکے سینے پر دھرتے اسے روکا۔۔ اسے پیش قدمی کرتے دیکھ مرتسم بھی طیش سے اسکی جانب لپکا جب فائز نے دوسرے ہاتھ سے اسے پرے دھکیلا۔۔۔
دیکھو زبیر لغاری جھگڑا کرنا مجھے بھی آتا ہے اور یہ بات تم باخوبی جانتے ہو۔۔۔ مگر اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کے جس جگہ ہم کھڑے ہیں اس جگہ کے تقدس کو پامال نا کیا جائے۔۔۔ فائز علوی کی سنجیدہ روب دار آواز ابھری۔۔۔ گراونڈ میں موجود کئ سٹودینٹس اور فریشر اس شخص کے ہنوز آپے سے باہر نا ہونے اور ٹھنڈے دماغ سے کام لینے پر اس سے متاثر ہوئےتھے۔۔۔
اس سے پہلے کے زبیر لغاری کوئی الٹا ہی جواب دیتا ڈین کے وہاں بروقت پہنچنے پر وہاں سناٹا چھا گیا۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔ ڈین کے آنے سے پہلے جھگڑا تھم جانے پر وہ غصے سے جائے وقوعہ دیکھتا مستفسر ہوا۔۔۔۔۔
کچھ نہیں سر۔۔۔ ان دونوں سے میں نے کہا بھی تھا کے مارشل آرٹ کی پریکٹس شام میں یونیورسٹی آف ہونے کے بعد کریں۔۔۔ لیکن یہ موسم اچھا دیکھ کر یہیں شروع ہوگئے۔۔ ایم سوری سر۔۔۔ ان کی اس حرکت کی وجہ سے آپ کو یہاں تک آنا پڑا۔۔۔ وہ مودب سا گویا ہوا اور ساتھ ہی نا محسوس انداز میں ان دونوں کو گھوری سے نوازنا نا بھولا۔۔۔
سوری سر۔۔۔ ہمیں فائز کی بات سننی چاہیے تھی۔۔۔ مرتسم کے بعد زبیر لغاری بھی ہونٹ کے کنارے سے نکلتا خون انگوتھے کی مدد سے صاف کرتا وہی بیاں دے گیا۔۔۔ کہ دونوں کے ہی گروپس جانتے تھے کے ڈین کے آفس جانا مطلب اگلے ایک ہفتے کے لئے یونیورسٹی سے باہر ہونا۔۔۔
اچھی مارشل آرٹ ہے جہاں جنگلیوں کی طرح لڑا جاتا ہے۔۔۔ ڈین کے طنزیہ کہنے پر وہ سب قطار میں کھڑے سر جھکا گئے۔۔۔
ڈین کے واپس پلٹنے پر وہ دونوں گروپس ایک دوسرے کو گھوریوں سے نوازتے مخالف سمت چل دیئے۔۔۔ یوں ایک مرتبہ پھر سے فائز علوی نے اپنا معاملہ ڈین کے آفس تک جانے سے روک لیا۔۔۔ وہ تھا ہی صلح جو انسان جو یونہی اپنے مسائل نبٹا لیا کرتا تھا۔۔
چلو میرے ساتھ۔۔۔ زبیر لغاری کے جاتے ہی وہ پشت پر ہاتھ باندھتا ان دونوں سے مستفسر ہوا جن کو اچھی خاصی چوٹیں آ چکی تھیں۔۔۔ صد شکر کے کسی چوٹ کی نویت سیریس نا تھی۔۔۔
مرتسم لودھی نے ایک طائرانہ نگاہ وہاں موجود ہجوم پر ڈالتے اس سیاہ عبایہ میں ملبوس فاہا لودھی کو دھونڈنا چاہا۔۔۔ مگر نظر ناکام لوٹی۔۔۔ 
 تم لوگ چلو میں دو منٹ میں تم دونوں کو جوائن کرتا ہوں۔۔۔ دفعتاً اسے دور سے کاریڈور کے پلر کے پیچھے سے سیاہ عبایہ دکھائی دیا تو وہ بنا زخموں کی پرواہ کئے اس طرف چل دیا۔۔۔
******
فاہا لودھی جو ہاتھ سختی سے ہونٹوں پر جمائے تھر تھر کانپتی آنسو بہاتی وہ منظر دیکھ رہی تھی اسے خبر ہی نا ہو سکی کے کب وہ شخص وہاں سے نکلا اور اسکی جانب آیا۔۔۔ وہ سکتے کی سی کیفیت میں ہنوز ایسے ہی کھڑی باہر گراونڈ میں دیکھ رہی تھی جہاں سے اب بھیڑ چھٹنے لگی تھی۔۔۔  باہر لگنے والی بھیڑ کے باعث اب کاریڈور تقریباً سنسان تھا۔۔۔ وہ ہنوز ایسے ہی کھڑی تھی جب ایک مضبوط مردانہ گرفت پر مچل مچل گئ۔۔۔ مرتسم لودھی نے اسے بازو سے دبوچتے اپنی جانب کھینچا جب خوف سے سپید پڑتی ایک دلخراش چیخ اسکی حلق سے برآمد ہوئی مگر اتنی ہی تیزی سے مرتسم پر نظر پڑتے ہی وہ لرزتی کانپتی اپنی چیخ کا گلہ گھونٹ گئ۔۔۔
وہ مزید کسی تماشے سے بچنے کو اسے ایک خالی کلاس میں کھینچ لایا۔۔۔
کلاس میں آتے ہی اسنے فاہا کو ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھایا ورنہ کچھ بعید نا تھا کے وہ ابھی تک زمین بوس ہو چکی ہوتی۔
کرسی پر بیٹھتی ہی وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ 
وہ باوجود اندر اٹھتے اشتعال کے ابال کے ضبط کرتا لب بھینچ گیا۔۔۔
ایک ہاتھ کمر پر ٹکائے دوسرا ہاتھ گھنے بالوں میں پھیرتا  وہ اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو قابو کرنے کی سعی میں تھا۔۔۔
انتہائی زہر لگتی ہیں  مجھے وہ لڑکیاں۔۔۔ جو ہر مسلے پر جاہلوں کی طرح ٹسوے بہانا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔۔
بلآخر ضبط کا دامن چھلکا اور وہ نا نا کرنے کے باوجود بھی چٹخ اٹھا۔۔۔
فاہا نے سہم کر چہرے سے ہاتھ اٹھائے۔۔۔
مرتسم بھا۔۔۔۔ بھائی۔۔۔ کپکپاتے لبوں سے ادا ہوا جب وہ کاٹ دار انداز میں اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
مرتسم لودھی کی محض ایک ہی بہن ہے ۔۔۔ اور ٹرسٹ می ۔۔۔ وہ تمہاری طرح لو کانفیڈینس ہرگز نہیں ہے فاہا لودھی۔۔۔ لحاظہ خود سے توڑ جوڑ کرتی خود کو میری بہن کے درجے پر فائز کرنا بند کرو۔۔۔ مرتسم کے لہجے کی کاٹ اسکا خون خشک کر گئ۔۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔
کر کیا رہی تھی تم ان گھٹیا لوگوں کے درمیان۔۔۔ وہ ایک کرسی کھینچتا اس پر پاوں رکھ کر گھٹنے پر کہنی ٹکاتا فاہا کی جانب جھک کر سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
You know that what...  
اسکی آنکھوں میں دیکھتا مرتسم چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ یہ یونیورسٹی گاوں کی گنواروں کے لئے ہے بھی نہیں۔۔۔ شعلے اگلتی نگاہوں سے اسے دیکھتے باور کروایا گیا۔۔۔
فاہا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ نگاہیں خودبخود جھک گئیں۔۔۔۔ مرتسم لودھی نے سیاہ حجاب کے ہالے میں رونے کی شدت سے سرخ ہوتے چہرے کا واضح رنگ پھیکا پڑتا محسوس کیا۔۔۔
میں نے تو محض اپنی کلاس کے بارے میں رہنمائی مانگی تھی۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔
مرتسم نے بے بسی سے آنکھیں میچیں۔۔۔
تمہیں گائڈنیس مانگنے کو وہی تھرڈ کلاس گروپ ملا۔۔۔ اسنے دانت پیسے۔۔۔
نہیں۔۔۔ فاہا نے بھیگی نم آنکھیں اٹھائیں۔۔۔ صبح سے سب مجھے بے وقوف بنا رہے تھے۔۔۔ آنکھوں سے آنسو پھر سے بہہ نکلے۔۔۔ کلاس کا کہہ کر یہاں سے وہاں۔۔۔ کبھی اوپر کبھی نیچے۔۔۔ پو۔۔۔ پوری یونیورسٹی گھما ڈالی۔۔۔ چل چل کر میری ٹانگیں شل ہوگئیں۔۔۔ پھر میں نے ایک لڑکی سے مدد مانگی تو وہ انہیں بلا لائی۔۔۔ فاہاہ لودھی آج کے ہنگامے سے بہت خوفزدہ ہو گئ تھی۔۔۔ خوف سے اسکا بدن کپکپا رہا تھا۔۔۔ یونیورسٹی کے پہلے ہی دن اسکا تجربہ خاصا برا رہا تھا۔۔۔
مرتسم نے خود کو کمپوز کرتے  کرسی سے پاوں نیچے اتارتے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔
یقیناً وہ لڑکی بھی زبیر لغاری کے ہی بیچ کی تھی جس سے فاہا نے مدد مانگی۔۔۔۔
رونا بند کرو۔۔۔ اسنے اضطراری انداز میں ہونٹوں پر زبان پھیرتے جینز کی جیب سے اپنا موبائل نکالا۔۔۔
فاہا لودھی اپنے آنسو صاف کرو۔۔۔ یہ یونیورسٹی ہے یہاں باشعور لوگ پڑھنے آتے ہیں۔۔۔ چھوٹے بچوں کی طرح بات بات پر رو رو کر ہلکان ہو کر اپنا تماشا مت بناو۔۔۔
وہ اسے ہنوز روتا دیکھ موبائل پر میسج ٹائپ کرتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
پہلے ہی یونیورسٹی کے پہلے ہی دن اپنی ذہانت کے باعث تم کافی سین کریٹ کروا چکی ہو۔۔۔ مزید کی گنجائش نہیں۔۔۔ لہجے میں کاٹ کا عنصر نمایاں ہونے لگا تھا۔۔۔ یہ ہی اگر وہاں اس مقام پر زرا سی خوداعتمادی دکھائی ہوتی نا ۔۔۔ اسنے ٹائپ کرتے ایک سخت نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ فاہا اپنی جگہ چور سی بن کر رہ گئ۔۔۔ تو بات یہاں تک پہنچتی ہی نا۔۔۔
میلے میں گم بچے کی طرح ہراساں لڑکی کو ہر کوئی آسان حدف سمجھتے تر نوالے کی طرح نگلنے کی کرتا ہے۔۔۔ اگر یونیورسٹی آنے کی ہمت نہیں تھی تو اپنے گاوں میں ہی رہتی نا۔۔۔ خوامخواہ یہاں آ کر سب کے لئے انٹرٹینمنٹ کا سامان بننے سے تو بہتر ہی تھا۔۔ وہ غصے سے کھولتا اپنی کھولن اس صورت نکال رہا تھا۔۔۔  جبکہ اپنی بے بسی پر فاہا کی حالت عجیب ہونے لگی۔۔
اسکے آنسو تھمنے لگے۔۔۔ اسنے کسی چھوٹے بچے کی مانند تابعداری سے ہتھیلیوں کی مدد سے اپنی آنکھیں اور گال ڑگرے۔۔۔
صاف رنگت اس ستم ظریفی پر خون چھلکانے لگی۔۔۔
مرتسم لودھی نے کن اکھیوں سے اسے دیکھتے سر جھٹکا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں قمیض شلوار میں ملبوس ایک طرحدار لڑکی وہاں موجود تھی۔۔۔
کیا بات ہے مرتسم۔۔۔ اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا مجھے۔۔۔ 
یہ فریشر ہے عینی۔۔۔ اس سے اسکا ڈیپارٹمنٹ پوچھ کر اسے اسکی کلاس تک گائیڈ کردو ۔۔۔ بلکہ خود چھوڑ آنا ورنہ پھر سے کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح بھٹکتی پھرے گی۔۔۔
مرتسم کے جھنجھلا کر کہنے پر عینی نے غور سے اس لڑکی کو دیکھا۔۔۔
جو دیکھنے سے ہی کافی سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔ جبکہ مرتسم اپنی بات مکمل کرتا  کلاس سے نکل گیا۔۔۔
آو میرے ساتھ عینی کے کہنے پر وہ اپنے بیگ پر گرفت مضبوط کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
*****
بڑے سے لان میں شاندار سی تقریب کی تیاریاں  عروج پر تھیں۔۔۔ برقی قمقوں کی مضنوعی روشنیاں اور ہلکے گلابی غباروں کی ڈیکوریشن جگہ جگہ بنائی گئ تھی۔۔۔ گول میزوں کے گرد ہی گولائی میں لگی کرسیاں اور خوبصورتی سے سجے سٹیج پر نازک سے گولائی میں بنا میز جسے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا جسکے بیچ و بیچ کیک رکھنے کی جگہ بنائی گئ تھی۔۔۔  اسکی پچھلی دیوار پر جلی حروف میں ہیپی برتھ ڈے ماہرہ لکھا جگمگا رہا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہاں مہماں آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دے کر مائرہ نے آئینے میں اپنا تنقیدی جائزہ لیا۔۔۔
سیاہ پاوں کو چھوتی میکسی جس پر گولڈن نفیس سا کام ہوا تھا۔۔۔ گولڈن ہی پرل گلے میں گولائی کی صورت لگے تھے۔۔۔ بالوں کا میسی جوڑا بنائے جسکے اطراف سے کچھ اوارہ لٹیں اسکے چاند سے چہرے کو چھو رہی تھیں۔۔۔ آنچل پیچھے سے بازوں میں ڈالے ۔۔ نفاست سے کئے گئے میک آپ میں وہ واقعی کوئی باربی ڈول ہی لگ رہی تھی۔۔۔ سنہرے کلچ میں اپنا موبائل رکھ کر
اپنی تیاری سے مطمیں ہو کر اسنے انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے چٹکی بھرتے میکسی کو اوپر اٹھایا اور کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
ماں صدقے۔۔۔ اللہ میری شہزادی کو نظر بد سے بچائے۔۔۔ باہر نکلتے ہی نفیس سی فیروزی کلر کی ساڑھی میں ملبوس صائمہ بیگم نے بیٹی کی بلائیں لے ڈالی۔۔۔۔
چلو جلدی سے باہر آ جاو بیٹا سارے مہمان پہنچ چکے ہیں۔۔۔ 
جی ماما۔۔۔ آپ چلیں میں بس ابھی آتی ہوں۔۔۔ اسنے اپنے چہرے کی پھیکی پڑتی مسکراہت کو بحال کرتے بشاشت سے کہا۔۔۔ صائمہ بیگم مسکرا ساڑھی کا پلو سمبھالتی باہر نکل گئیں تو اسنے جھنجھلاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے فائز علوی کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔ لیکن ہر بار کی طرح فون بج بج کر بند ہو گیا۔۔۔
اسکی آنکھیں بھرانے لگی۔۔۔ وہ اسکے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا تھا بھلا۔۔۔ جب وہ جانتا تھا کے وہ اسکے بنا کیک نہیں کاٹے گی۔۔۔
اسی شش و پنج میں وہ باہر لان میں نکل آئی۔۔ ہر کوئی اسکی تعریف میں رطب السان تھا۔۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی کے کوئی آنکھ اسکی تعریف کئے بنا  رہ ہی نا سکی۔۔۔ تین منزلہ خوبصورتی سے سجا کیک سٹیج پر رکھے میز پر رکھ دیا گیا تھا ۔۔۔
اور پھر ماہرہ اظہر کی انگلیاں ٹوٹنے لگیں فائز علوی کا نمبر ملاتے ملاتے لیکن اسے نا فون اٹھانا تھا نا اسنے اٹھایا۔۔۔
غصے سے اسکا دماغ چٹخنے لگا۔۔۔ بیٹا مہمان بے چین ہو رہے ہیں آ کر کیک کاٹو تاکے انہیں کھانا کھلایا جا سکے۔۔۔ ماں جب تیسری دفعہ اسکے پاس یہ ہی بات کہنے آئی تو وہ جو انہیں ہر بار کچھ نا کچھ کہہ کر ٹال رہی تھی غصے سے وہاں سے واک آوٹ ہی کر گئ۔  
کمرے میں آتے ہی اسنے اپنا سنہری کلچ بیڈ پر پھینکا اور نوچ نوچ کر کانوں میں موجود آویزوں کو اتارا۔۔۔  اور سر ہاتھوں میں تھامتی صوفے پر ڈھے گی۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے مائرہ۔۔۔ 
پیچھے ہی صائمہ بیگم کڑھتی ہوئی ڈھار سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں۔۔۔ باہر مہمان انتظار کر رہے ہیں اور تم یہاں آ گئ ہو۔۔۔
مام پلیز۔۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں پلیز اپنے مہمانوں کو خود ہی ہینڈل کر لیں۔۔۔ اسنے اپنی مومی انگلیوں سے اپنے پیوٹے سہلائے۔۔۔
ماہرہ بیٹا پلیز صرف کیک کاٹ لو۔۔۔ پھر اندر آ جانا۔۔۔ اسکی طبیعت کا سن کر وہ نرم پڑیں۔۔۔
پلیز مام۔۔۔ کہا نا نہیں دل چاہ رہا۔۔۔ آپ پلیز خود مینج کر لیں۔۔۔ وہ جھنجھلا کر کہتی صوفے پر چٹ لیٹ گئ۔۔۔
بھلا اس بات کا میں مہمانوں کو کیا جواز پیش کروں ماہرہ۔۔۔ صاعمہ بیگم جیسے عاجز آئیں۔۔۔
مجھے نہیں پتہ مام۔۔۔ وہ آنکھوں پر بازو ڈھر گئ۔۔۔
صائمہ بیگم بے بسی سے اسے چند پل دیکھتے رہنے کے بعد خاموشی سے باہر نکل گئیں۔۔۔ ابھی انہیں باہر جا کر عین وقت پر ماہرہ کی غیر موجودگی کے بارے میں بھی سب سمبھالنا تھا۔۔ 
کچھ دیر تک وہ یونہی صوفے پر لیٹے پاوں جھلاتی غصے سے کھولتے دماغ کے ساتھ کچھ سوچتی رہی۔۔۔
پھر یکدم ہی کچھ سوچتی اٹھ بیٹھی۔۔۔ اسکی مضطرب نگاہوں نے پورے کمرے میں نگاہ ڈوراتے کچھ تلاشنا چاہا۔۔۔ جلد ہی اپنی تلاش ختم کر کے وہ سائیڈ ٹیبل کی جانب بڑھی ۔۔۔ وہاں سے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر کی جانب لپکی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اسکی گاڑی ہواوں میں باتیں کرتی اڑتی جا رہی تھی۔۔۔
دھندلی آنکھوں میں کئ عکس ابھرنے اور مٹنے لگے۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے بیٹا۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں اپنے مخملی بستر پر محو استراحت تھے جب اسے اپنے بالوں میں ایک مہربان سا لمس محسوس ہوا۔۔۔
اسنے جھٹ سے آنکھیں وا کر ڈالیں۔۔۔ نظر سامنے وال کلاک سے ٹکرائی جو رات کے بارہ بجا رہا تھا۔۔۔ ایک آسودہ مسکراہٹ مائرہ کے لبوں پر ابھری۔۔۔
پھوپھو جانی۔۔۔  پھوپھو کا سفید آنچل کے ہالے میں دمکتا شفیق اور مہربان چہرا دیکھتے ہی وہ چہکتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔۔۔
پھوپھو نے جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
چلو آو کیک کاٹتے ہیں۔۔ پھوپھو نے اسکے بستر سے اٹھتے کہا تو وہ بھی مسکراتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔۔۔ سلک کے گلابی نائٹ ڈریس پاجامہ شرٹ میں ملبوس اسنے بستر سے پاوں نیچے اتارے اور پشت پر بکھرے بالوں کا رف سا جوڑا بنایا۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔ پھوپھو کے کمرے میں داخل ہوتے ہی یکدم اس پر سنو آئس کی بارش ہوئی ۔۔ وہ چہرے ہر ہاتھ رکھتی کھلکھلا کر ہستی چہرا موڑ گئ۔۔۔
فائز علوی مسکراتے ہوئے اس پر مسلسل سپرے کر رہا تھا۔۔۔ سامنے ٹیبل پر پھول کی پتیوں کے درمیاں خوبصورت سا کیک پڑا تھا۔۔۔ 
آئیے محترمہ کیک کاٹیے۔۔ بندہ بشر نے اپنے ہاتھوں سے یہ آپکے لئے بیک کیا ہے۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھتا کورنش بجا لایا۔۔۔
تھینک یو۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے کیک کاٹا۔۔۔۔ پھوپھو نے اسے بہت ہی خوبصورت شیشوں سے مزین چادر گفٹ کی تھی۔۔۔ پھوپھو سے گفٹ لے کر وہ اسکی جانب. متوجہ ہوئی جو صوفے پر بیٹھا پرشوق نگاہوں سے اسی کی جانب تک رہا تھا۔۔۔
دفعتاً گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو وہ حال میں لوٹی۔۔۔ سامنے ہی اپارٹمنٹ کی بلڈنگ تھی۔۔۔
وہ غصے میں گاڑی سے اتری۔۔۔ وہ کیوں غصہ اندر دابتی۔۔۔ اسی لئے تو فائز علوی سے دو دو ہاتھ کرنے کو آ موجود تھی۔۔۔
پارکنگ میں ہی وہ مرتسم اور وہاج کی گاڑیاں کھڑی دیکھ چکی تھی۔۔۔ اندر کا غم و غصہ کچھ مزید بڑھا۔۔ تو یہ دوست اسے ماہرہ اظہر سے بھی زیادہ عزیز ہو گئے۔۔۔ غصے سے چٹختے دماغ کیساتھ وہ بلڈنگ کے اندر بڑھی۔۔۔
******

 

No comments

Powered by Blogger.
4