Roshan Sitara novel 2nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 2nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
دوسری قسط۔۔۔
یونیورسٹی کی پارکنگ میں بائیک کھڑی کر کے وہ بائیک سے اترا۔۔۔
آج وہ تقریباً ایک ہفتے کی غیر حاضری کے بعد یونیورسٹی آیا تھا۔۔۔ موسم خاصا خوشگوار تھا۔۔۔ ہلکی ہلکی کن من ابھی بھی ہو رہی تھی۔۔
کئ سٹودینٹس تو اس موسم سے پورا پورا خط اٹھاتے یونیورسٹی کے گراونڈ میں ہی لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔ جبکہ کچھ کاریڈور میں کھڑے سبک روی سے چلتی ہوا اور ہلکی ہلکی ہوتی کن من کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
فائز پارکنگ سے نکل کر تھوڑا آگے ہی آیا تھا جب اسے اپنا گروپ دکھائی دے گیا۔۔۔
وہ دونوں بھی کاریڈور کے زینوں پر کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کرتے فائز کو اس جانب آتا دیکھ چکے تھے۔۔۔
زہے نصیب۔۔۔ بلآخر آج چاند نکل ہی آیا۔۔۔۔
مرتسم نے اسکی جانب بڑھتے مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔ ک
نوٹنکی۔۔۔ فائز نے اسکی کمر پر دھپ رسید کی۔۔۔
اوووےےے۔۔۔ وہ اچھل کر رہ گیا۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں۔۔ تو ہے ہی نوٹنکی۔۔۔ وہاج نے اپنی گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے سر دائیں بائیں ہلایا تو بال اسکے سر کی جنبش کیساتھ دائیں بائیں حرکت کرتے اپنی جگہ پر واپس آگئے۔۔۔۔
گم کدھر ہو تم آج کل۔۔۔ وہ بھی پورے ہفتے کے لیے کچھ ہضم نہیں ہو رہی بات۔۔۔
وہ تینوں واپس آکر وہیں اپنی مخصوص جگہ کوریڈرور کی سیڑھیوں پر آ رکے۔۔۔ وہاں سے کن من ہوتی بارش کا منظر زیادہ پر لطف لگتا۔۔۔ مسرور کن ہوا کے سنگ پانی کی ہلکی پھور انہیں بھی بگھو رہی تھی۔۔۔
تھا کچھ ریسرچ ورک کرنے والا۔۔۔ جسنے دن رات لے لئے۔۔۔ بس اسی لئے سر تک اٹھانے کی فرصت نا تھی۔۔۔۔
فائز لاپرواہی سے آس پاس سے گزرتے سٹودینٹس کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
وہ ہمیشہ بہت چوکس رہتا تھا۔۔۔ نینو سیکنڈ کے حساب سے اسکی نگاہیں ارد گرد کا جائزہ لیتی تھیں۔۔۔ پل بھر میں وہ اردگرد ماحول میں ہوتی ہر چیز کا جائزہ لے لیتا۔۔۔ بات کرتے بات سنتے اسکی نگاہیں اردگرد دائیں بائیں اوپر نیچے گویا ہر چیز کو سکین کر لیتیں۔۔۔ وہ لمحوں میں صورتحال بھانپ لیتا تھا۔۔۔ وہ چہرا شناس تھا۔۔۔ انسان کے تاثرات اور اسکی باڈی لینگویج سے انسان کی نیت سمجھ جاتا تھا۔۔۔ یہ چوکنا پن اسے وراثت میں ملا تھا یا حالات کی دین تھا یہ وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔
تبھی تو ہم بھی کہیں کے پڑھائی کا شیدا شخص فائنل سر پر آنے پر یونیورسٹی سے سرے سے ہی غائب ہوگیا ۔۔ کیسے۔۔۔
وہاج کا انداز لاپرواہ تھا۔۔۔ مرتسم سمیٹ وہ خود بھی مسکرا دیا۔۔۔
دراصل ہم بھول گئے تھے کے ہمارے سامنے مستقبل میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی شخصیت کھڑی ہے۔۔ مرتسم کا انداز سادہ تھا۔۔۔ حوصلہ بڑھاتا ہوا۔۔۔
انشااللہ ہوگا تو ایسا ضرور۔۔۔ مگر تم دونوں کو ملا کر۔۔۔ باہمی اشتراکت سے۔۔ بھول ہے تم دونوں کی کہ میں تم دونوں کی جان چھوڑ دوں گا۔۔۔ اسنے لمحے میں انکی خوش فہمی دور کی۔۔۔
ابے یار۔۔۔۔ کیا قبر تک ساتھ گھسیٹنے کے ارادے ہیں۔۔۔ اب پڑھائی میں ساتھ دے تو رہے ہیں۔۔۔ اب کیا ہماری جان لے گا۔۔۔ ان دونوں کے بدمزہ ہونے پر وہ قہقہ لگا گیا۔۔۔ خدا ایسا دوست بھی ہر کسی کو نا دے۔۔۔ بس کسی کسی کو دے۔۔۔
اچھے دوست ہو تم۔۔۔ گروپ میں کوئی ایک پڑھاکو دوست ہو نا تو باقیوں کی عید ہو جاتی ہے۔۔۔ وہ دوست سب سمبھال لیتا ہے۔۔۔ اور ایک ہمارے نصیب کے پڑھاکو دوست ملا بھی تو برابری پر کام کروانے والا
۔۔۔۔ مجال ہے جو کوئی پراجیکٹ یا اسائمنٹ خود سے بنا لے۔۔۔ وہ انکی دہائیوں پر مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔۔
فائز علوی ایسا ہی تھا۔۔۔ نا خود وقت ضائع کرتا نا خود سے منسلک لوگوں کو کرنے دیتا۔۔۔
ہر کام برابری پر کرتا۔۔۔ ہر گروپ اسائمنٹ ہر پراجیکٹ کے کام بانٹ لیتا ۔۔ پھر وہ انکی مدد تو کروا دیتا لیکن اپنے حصے کا کام ان دونوں کو ہی کرنا پڑتا۔۔۔
فائز علوی کی نسبت وہاج خانزادہ اور مرتسم لودھی دونوں ہی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔۔۔ لیکن یہ فائز علوی کی مقناطیسی شخصیت اور اسکی بے لوث دوستی کا خاصا تھا کے وہ دونوں مستقل مزاجی سے درست ٹریک پر چل رہے تھے۔۔۔
فائز علوی ایک ایسے مرکز کا نام تھا جو خود سے وابسطہ لوگوں کو مدار کی درست سمت سے ہٹنے ہی نا دیتا۔۔۔
وہ یاروں کا یار تھا۔۔۔ بے لوث محبت اور خلوص سے گندھا۔۔۔ خود سے وابسطہ لوگوں پر جان چھڑکنے والا۔۔۔ دوستوں کا خیال رکھنے والا انکا احساس کرنے والا۔۔۔ اور وہ دونوں بھی تو اسی کا پرتو تھے۔۔۔ انکی دوستی مثالی تھی۔۔۔
یونیورسٹی میں انکا گروپ اسی دوستی کی بدولت مشہور تھا۔۔ انکے گروپ میں کسی چوتھے کی گنجائش نا تھی۔۔۔ لڑکیوں سے وہ سو کوس دور تھے۔۔۔
اس لئے نہیں کے وہ گرلز الرجک تھے۔۔۔ بلکہ انکی دلچسپیاں ہی الگ تھیں۔۔۔ لڑکیوں میں انکی کوئی دلچسپی ہی نا تھی۔۔۔ تینوں کی وجوہات الگ الگ تھیں جس ماحول کے وہ پروردہ تھے وہاں انہوں نے عورت کی وفا دیکھی ہی نا تھی۔۔۔۔۔
اور فائز کے اپنے سو جھمیلے تھے۔۔ اسکی سوچ ہی الگ تھی تو وہ لڑکیوں کے جھمیلوں سے دور ہی رہتا۔۔۔
کسی کلاس میٹ کو مدد درکار ہوتی تو وہ نہایت عزت و احترام سے ٹو دا پوائنٹ بات کرتا اسکے بعد اسکے چہرے پر چسپاں نو لفٹ کا بورڈ دیکھ خود ہی سب پیچھے ہٹ جاتیں۔۔۔ کچھ بہت آزاد خیال اور بے باک لڑکیاں بھی ہوتیں لیکن ان سے وہ بات بھی ایک لمٹ میں رہ کر کرتا۔۔۔
لیکن کلاس میں کسی کو بھی کوئی مدد درکار ہوتی وہ فائز علوی کے پاس ہی آتا۔۔۔
فائز علوی بھی جہاں تک ممکن ہوتا مدد کر دیتا۔۔۔ کام بس سے باہر ہوتا تو سہولت سے انکار بھی کر دیتا۔۔۔
اب بھی ان دونوں سے محو گفتگو فائز علوی کی عقابی نگاہوں نے دور سے آتے ایک ہلکے گلابی آنچل کو پہچان لیا تھا۔۔۔
شٹٹٹٹ۔۔۔۔ بے ساختہ اسکی زبان سے پھسلا۔۔۔ وہ آنکھیں میچتا رخ بدل گیا۔۔۔
اسکے اندازو اطوار اور چال دیکھ کر وہ دور ہونے کے باوجود پہچان گیا تھا کہ وہ سیدھا اسکے پاس آ کر ہی رکے گی۔۔۔ اور مائرہ اظہر کی زبان کے جوہر وہ فلحال اپنے دوستوں کے سامنے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچتی ہی نا تھی۔۔۔ اور اسکی یہ ہی بے باکی فائز کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیتی۔۔۔۔
فائز کی یہ حرکت ان دونوں کی نگاہوں سے چھپی نا رہ سکی۔۔۔ مرتسم نے اسکی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو بے ساختہ قہقہ لگا گیا۔۔۔ وہاج بھی لمحوں میں معاملہ بھانپ گیا۔۔۔
فائز نے بے بس شکوہ کناں نگاہوں سے انہیں دیکھا۔۔۔
یار وہ لیلہ بنی پچھلے ایک ہفتے سے یونیورسٹی میں بولائی بولائی سی پھر رہی ہے۔۔۔ کئ بار تو ہم سے بھی تمہارے بارے میں استفسار کر چکی ہے۔۔۔ اور اب تو وہ خود دو دن کی چھٹی کے بعد آئی ہے۔۔۔ وہاج نے مسکراہٹ سمیٹتے اسی جانب دیکھتے کہا جہاں سے وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
وہ لیلہ ہو سکتی ہے پر میں اسکا مجنوں نہیں۔۔۔ سو پلیز آئندہ خیال رکھنا مجھے یہ سب مذاق میں بھی پسند نہیں۔۔۔
فائز کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ دونوں قہقہ لگا گئے۔۔۔ یہ تو ابھی پتہ چل جائے گا محترم۔۔۔ مرتسم محظوظ ہوا۔۔۔ جبکہ فائز دانت پیس کر رہ گیا کے مائرہ کے منہ پھٹ انداز سے وہ خود بھی عاجز تھا۔۔۔
وہ دونوں آنکھوں میں شرارت اور ہونٹوں پر مچلتی شرارت روکے فائز کو ہی دیکھتے دو قدم پیچھے ہٹے جب وہ بجلی کی سی تیزی سے اسکی جانب آتی اسکے سامنے آئی۔۔۔
فائز نے اپنی ذہانت سے بھرپور نگاہیں اپنے شیطان دوستوں سے ہٹا کر اسے دیکھا جو وائٹ کیپری اور ہلکے گلابی رنگ کی شارٹ شرٹ زیب تن کئے ۔۔۔ شرٹ سے ہم رنگ سٹالر گلے میں گھما کر یوں ڈالے کے اسکی کھلی آبشار اس سٹالر کی قید میں آگئ تھی۔۔۔
وہ کاریڈور کے اندر سے بارش کی پھوار سے بچتی بچاتی آئی تھی لیکن فائر کے مقابل آتے ہی بارش کی پھوار اس پر پڑنے لگی۔۔۔
فائز نامحسوس انداز میں سیڑھیوں سے ہٹتا کاریڈور میں ہوگیا۔۔۔
ماہرہ سینے پر بازو باندھے اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھتی اپنی شفاف نازک ہتھیلی اسکے سامنے پھیلا گئ۔۔۔
فائز نے حیرت و ناسمجھی سے اسے تکا۔۔۔ جیسے پوچھا رہا ہو کیا۔۔۔
یہ نہیں بتاوں گی ۔۔۔ جیسے وہ بھی اسکی آنکھوں میں رقم تحریر پڑھ گئ ہو۔۔۔ بلکہ تم بتاو کے آج کیا ہے۔۔۔ اسنے ہوا کے دوش پر لہلہاتے بال کان کے پیچھے اڑسے۔۔۔
فائز ہاتھ پشت پر باندھے لب چباتا آنکھیں چندھی کئے ہر ممکنا چیز پر نظر ثانی کرنے لگا کے آخر آج کیا ہو سکتا تھا۔۔۔۔
مرتسم اور وہاج ان دونوں کو آپس میں مصروف دیکھ مسکراتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئے۔۔۔ اس وقت ان دونوں کا وہاں کوئی کام ہی نا تھا۔۔۔
******
مرتسم اور وہاج وہاں سے نکلنے کے بعد سیدھا لائبریری جا رہے تھے۔۔۔ انکی اسائمنٹ ابھی مکمل ہونا باقی تھی۔۔۔ فائز کی سنگت میں رہ کر اب سب بہتر سے بہتریں کرنے کا جنون ہو چلا تھا۔۔۔
برینڈڈ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس انکے جوتے سے لے کر پرفیوم تک ہر چیز برانڈڈ ہوتی۔۔۔ وہ چلتے پھرتے برانڈ ماڈلز لگتے۔۔۔ انکی ایک ایک چیز سے امارت ٹپکتی تھی۔۔۔ مرتسم لودھی خاصا برانڈ کانشیس تھا۔۔۔ جبکہ اسکی نسبت وہاج خانزدہ خاصی جولی طبیعت کا مالک تھا۔۔۔ سنجیدہ سے سنجیدہ صورتحال میں بھی چٹکلا چھوڑ کر ہسا دینے والا۔۔۔۔ مشکل کو سر پر سوار نا کرتے چل رہنا اور ہلکے پھلکے انداز میں مسلے کو حل کر لینے والا۔۔۔
ابھی بھی وہ حسب سابق چیونگم چباتا مرتسم کے ساتھ اسائمنٹ کے پوائنٹس ڈسکس کرتا لائبریری جا رہا تھا۔۔۔ اردگرد بہت سے فریشر چمکتی نگاہوں سے یونیورسٹی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ یونیورسٹی میں ریکنگ بند ہونے کے باوجود بہت سے گروپس یہ کام بہت خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے تھے جن میں زبیر لغاری کا گروپ سب سے آگے تھا۔۔۔
ابھی وہ طویل راہداری عبور کر کے کوریڈور کے دوسرے سرے پر موجود سیڑھیوں کی جانب بڑھنے ہی والے تھے کے وہاج سے بات کرتے مرتسم کی لاشعوری نگاہ گراونڈ کی جانب اٹھی۔۔۔ جہاں زبیرہ لغاری کا گروب ایک فریشر کو گھیرے کھڑا تھا۔۔۔
فریشر بھی کوئی خاصی دبو قسم کی لڑکی تھی جسکی انکے سامنے حالت غیر ہو رہی تھی۔۔۔
منظر دیکھتے مرتسم نے سر جھٹکا اور آگے بڑھنا چاہا۔۔۔ وہ خوامخواہ خدائی فوجدار بن کر پرائے پھڈے میں کودنے والا شخص نا تھا۔۔۔ اسکی جگہ فائز ہوتا تو بلاشبہ بنا سوچے سمجھے مدد کو چل دیتا۔۔۔ ابھی وہ دو قدم ہی آگے بڑھا تھا کے اس فریشر کا گھبرایا چہرا مرتسم کی نگاہوں کے سامنے آیا۔۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں دماغ نے شناخت کے مراحل طے کئے تھے۔۔۔
یک لخت ہی اس منظر کو دیکھتے اسکے جبڑے بھینچے اور دماغ میں ابال سے اٹھنے لگے۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آئی کے اسے یکدم ہوا کیا ہے بس اندر ایک محشر برپا ہوا تھا اور دماغ کی نسیں ابھر کر چٹخنے لگی۔۔۔
اسنے آو دیکھا نا تاو طیش سے وہ ایڑیوں کے بل گھوما اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا گراونڈ کی جانب بڑھا۔۔۔
ہلکی ہلکی ہوتی کن من اب رک چکی تھی ہر چیز نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔۔۔
اوے کدھر۔۔۔ وہاج اسے ٹریک تبدیل کر کے طیش سے گراونڈ کی جانب جاتا دیکھ اسکے پیچھے ہی بھاگا۔۔۔
کیا ہوا کوئی اتنا مشکل ٹاسک دے دیا کیا چھوئی موئی کو جو آواز ہی حلق میں پھنس گئ۔۔۔ بھئ رومینٹک سا گانا سنانے کو کہا ہے۔۔۔ اب اپنے پنکھریوں سے لب وا کرو چھوٹا پیکٹ بڑا دھماکا۔۔۔ زبیر لغاری کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسکا دوست خباست سے گویا ہوا۔۔۔
سامنے موجود لڑکی پر اب کپکپی طاری ہونے لگی تھی جو ہراسان نگاہوں سے یہاں وہاں کوئی جائے فرار دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔ وہ گراونڈ میں داخل ہوتے ہی ڈھارا۔۔۔۔ وہاج بھی اسکے پیچھے ہی آتا بہت حد تک معاملے کی سنگینی سے آگاہ ہو چکا تھا۔۔۔
بھیا۔۔۔ اس سہمی ہرنی کی نگاہیں مرتسم کو وہاں دیکھتے ہی چمکیں ۔۔۔ جیسے میلے میں گم بچے کو کوئی اپنا مل گیا ہو۔۔۔۔۔ مرتسم کی موجودگی سے اسکا حوصلہ بندھا۔۔۔ حوصلہ پاتے ہی اسکے بے دم ہوتے وجود میں جیسے برقی رو دور گئ۔۔۔ وہ سہمی ہرنی کی مانند بھاگ کر لمحے میں اسکے پیچھے چھپ کر اپنے کپکاتے ہاتھوں سے اسکی بازو دبوچ گی۔۔۔
مرتسم نے ایک خونخوار نگاہ اپنی مضبوط بازو کو تھامے اسکی مخروطی انگلیوں والے مومی ہاتھ کو دیکھا۔۔۔
بھیا یا سنیاں۔۔۔۔ زبیر لغاری کے کہنے پر وہاں مشترکہ قہقہ گھونجہ۔۔۔ مرتسم لودھی نے جبرے بھینچتے اتنی شدت سے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچی کے بازوں کی رگوں کے ساتھ ساتھ ہاف بازو ٹی شرٹ سے چھلکتے اسکے کسرتی بازوں کے کٹس تک ابھر کر نمایاں ہونے لگے۔۔۔
جاو یہاں سے لڑکی۔۔۔ وہ زرا سا چہرا مورتا ہلکی آواز میں غرایا کہ فاہا لودھی کو اپنی روح پرواز کرتی محسوس ہوئی۔۔۔
رفتہ رفتہ اب سٹودینٹس انکی جانب متوجہ ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ کچھ ہی دیر تک وہاں لگنے والے ہنگامے سے وہ باخوبی آگاہ تھا۔۔۔ اس لئے بہت خاموشی سے فاہا لودھی کو وہاں سے کھسکانا چاہتا تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کے یونیورسٹی کے پہلے ہی دن اسکی ریپوٹیشن وہاں خراب ہو۔۔۔
فاہا نے سہم کر ہاتھ اسکی کسرتی بازو سے ہٹائے۔۔۔ بھیاااا۔۔۔ اسکے کپکپاتے لبوں سے ادا ہوا۔۔۔
جاوووو۔۔۔ وہ مدہم آواز میں دانت پیستا پھر سے غرایا۔۔۔
فاہا نے آو دیکھا نا تاو سرپٹ پیچھے کو ڈوری۔۔۔
ارے یہ کیا۔۔۔ تمہاری گرل فرینڈ تو بھاگ گئ۔۔ لگتا ہے تم۔۔۔۔ اس سے پہلے کے زبیر لغاری کوئی گھٹیا گوہر افشانی کرتا مرتسم لودھی کی برداشت وہیں ختم ہوئی وہ طیش سے ایک ہی جست میں آگے بڑھا اور ایک زور دار مکا زبیر لغاری کے چہرے پر پوری قوت سے جڑا۔۔۔
حملہ غیر متوقع تھا اس لئے سمبھلتے ہی وہ مرتسم پر پل پڑا۔۔۔۔ صورتحال بگڑتی دیکھ وہاج خانزدہ بھی ایک ڈھار لئے دوست کے پیچھے کودا جب زبیر لغاری کا گروپ ان پر پل پڑا۔۔۔ وہ دو تھے جبکہ مقابل گروپ میں چار لڑکے شامل تھے پھر بھی وہ دونوں جم کر مقابلہ کر رہے تھے۔۔۔ وہاج خانزادہ سب سے چست واقع ہوا تھا۔۔۔ وہ مخصوص ٹرینینگ کے باعث سب کے ہاتھوں سے پھسل پھسل جاتا انہیں ڈاج دے رہا تھا۔۔۔
جبکہ وہ جسکے پیچھے وہ میدان ، میدان جنگ بن گیا تھا۔۔۔ اب خوف سے تھر تھر کانپتی کاریڈور کے پلر کے پیچھے چھپی اوٹ سے ایک آنکھ باہر نکالتی سانس تک روکے وہ روح فرسا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔ جہاں زبیر لغاری اور مرتسم لودہی ایک دوسرے سے گھتم گھتا ایک دوسرے پر سبقت لیجانے میں ہلکان ہو رہے تھے۔۔۔ دونوں ہی ٹرینڈ تھے۔۔۔ ایک ہی جگہ سے مارشل آرٹ کی کلاسز لے چکے تھے۔۔۔ بس یہ خود ساختہ دشمنی تقریباً بچپن سے ہی چلتی آ رہی تھی۔۔۔ جبکہ دوسری طرف وہاج نے ان تینوں کو قابو کر رکھا تھا۔۔۔
جھگڑا بڑھتا دیکھ ہر جانب محض ایک ہی گِونج تھی۔۔۔
فائز کو بلاو۔۔۔ زبیر لغاری اور مرتسم لودھی پھر سے جھگڑ پڑے۔۔۔۔
*****
کیا ہے آج۔۔۔ کاریڈور کے سرے پر کھڑے فائز علوی نے ناسمجھی سے مائرہ کا بڑھا ہاتھ دیکھتے استفسار کیا۔۔۔ وہ ویسے ہی شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔
فائز نے سوچنے کا عمل تیز کیا۔۔۔ ہر طرف نگاہ دوڑائی۔۔۔ ساری تاریخیں کنگالی۔۔۔ اور یکا یک ایک جگہ آ کر وہ تھم گیا۔۔۔ شعور نے آگاہی کی منازل طے کیں تو وہ لب کچل کر رہ گیا۔۔۔
سوری ۔۔۔۔ ہاتھ پشت پر باندھے وہ پشیمان سا گویا ہوا۔۔۔
Well... Happy birth day...
چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سجائے وش کیا گیا۔۔۔
نہیں چاہیے تمہارا وش۔۔۔ میرا گفٹ دو۔۔۔ اور یہ تو تمہاری خوش فہمی ہے کہ تم میرے سامنے یوں بے نیازی و نظر اندازی کا ڈرامہ کر کے میرا گفٹ ہضم کر جاو گئے۔۔۔ میرے بیسٹ فرینڈ کو تم نے مجھ سے دور کیا ہے۔۔۔ میں وہی ہوں۔۔۔ اور گفٹ مجھے ہر حال میں چاہیے۔۔۔ نروٹھے پن سے دھونس جماتی اسکی آواز بھر آ ئی۔۔ تبھی ہونٹوں پر زبان پھیرتی نگاہوں کا رخ موڑ گئ۔۔۔ اب روز روز تو خود کو بے مول کرنے سے رہی۔۔۔
کسی نے تم سے تمہارا دوست نہیں چھینا ماہرہ۔۔ بس تم نے اس دوست سے توقعات بڑھا دیں۔۔۔ لب بھینچتے اسنے جوتے سے زمین پر لکیر کھینچی۔۔۔
اینی وے۔۔۔ چلو تمہارا گفٹ خریدنے چلتے ہیں۔۔۔ وہ لمحے میں پرانا فائز بنتا تیار ہو کھڑا ہوا۔۔۔ جو یونہی ماہرہ کی بات پر ہمہ تن گوش رہتا تھا۔۔۔ ماہرہ کا دل بھر آیا۔۔۔
شام میں گھر پر برتھ ڈے پارٹی ہے فائز۔۔۔ میں انتظار کروں گی تمہارا۔۔۔ وہیں گفٹ بھی لوں گی۔۔۔ اسنے ہوا کے دوش پر امڈ کر چہرے پر آتے بالوں کو اپنے مومی ہاتھ کی انگلیوں سے ہٹاتے آس سے کہا۔۔۔
سوری پر میں شام میں کچھ مصروف ہوں تو کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔۔۔
ایک لمحے سے بھی کم وقت لگا تھا اسے ماہرہ اظہر کا دل توڑنے میں۔۔۔ یہ فائز علوی کی مجبوری تھی کے وہ کسی کا دل رکھنے کو بھی جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔۔۔ وہ ایسا ہی تھا ۔۔۔ صاف گو اور کھڑا۔۔۔
میں تمہارا انتظار کروں گی فائز اور اگر تم آج نا آئے نا۔۔۔ وہ بھرائی نگاہوں سے اسے تکتی ناجانے کیا کہنے جا رہی تھی جب یک لخت ہی ایک شور اٹھا۔۔۔ دو تین لڑکے ہانپتے ہوئے فائز تک پہنچے۔۔۔
فائز علوی۔۔۔ مرتسم لودھی اور زبیر لغاری کا جھگڑا ہو گیا۔۔۔
سنتے ہی فائز علوی کی پشیانی شکن آلود ہوئی لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ ایک ہی جست میں کاریڈور کی سیڑھیاں پھیلانگ کر عبور کرتا اندھا دھند مطلوبہ گراونڈ کی جانب بڑھا۔۔۔
******

No comments