Header Ads

Roshan Sitara novel 1st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


 Roshan Sitara novel   1st Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official


پہلی قسط۔۔۔
موسم ابر آلود تھا گرمیوں کے طویل حبس زدہ دنوں میں اچانک چھاتی کالی گھٹا کسی نعمت مترکبہ سے کم نا تھی۔۔۔ ٹھنڈی میٹھی چلتی سبک رو ہوا ہر زی روح کو بھلی لگ رہی تھی۔۔۔ ٹھنڈی سرگوشیاں کرتی ہوا کے سنگ لہلاتے اٹھکیلیاں کرتے درخت اور پودے ہر آنکھ کو تراوت بخش رہے تھے۔۔۔ ایسے میں وہ سرمئ پینٹ پر آف وائٹ ڈریس شرٹ پہنے جسکا اوپری ایک بٹن کھلا تھا بازو کہنیوں تک فولڈ کئے ہاتھ میں فائل تھامے اس پرشکوہ عمارت کے ڈرائیوے پر کھڑا پورے جلال سے کھڑی اس عمارت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکی شرٹ ہوا کے سنگ پھڑپھڑا رہی تھی جبکہ ماتھے پر لاپرواہی سے پھیلے بال بھی مسلسل ہوا سے اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔۔۔ 
ذہانت سے بھرپور روشن آنکھوں میں اس وقت ہلکی نمی تھی ۔۔ صاف رنگت پر موجود کھڑی مغرورانہ ناک اسے سب میں ممتاز بناتی تھی۔۔۔
اس گھر سے اسکی بہت سی یادیں وابسطہ تھی اور اس یادوں کی پٹاری میں محض چشم نم یادیں ہی تھیں۔۔۔
اسنے گہری سانس خارج کرتے قدم اندر کی جانب بڑھائے۔۔۔ طویل ڈرائیوے سے گزر کر دو زینے چڑھ کر اسنے لکڑی کا منقش داخلی دروازہ وا کیا۔۔۔ اور بنا کسی بھی اور جانب توجہ دیئے سفید چمچماتی ٹائلز پر لمبے لمبے ڈگ بھڑتا  وہ سیدھا ماموں کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ 
ماموں نے خرابی طبیعت کے باعث اس سے اپنی ایک ضروری فائل آفس سے منگوائی تھی جسے دینے وہ اس وقت وہاں موجود تھا۔۔۔
ماموں کو فائل دے کر وہ انکے بارہا اصرار پر بھی وہاں رکا نہیں تھا بلکہ انہیں قدموں پر وہ واپسی کے لئے پلٹا۔۔۔
صد شکر کے اس بیچ اسکی مد بھیڑ مامی سے نا ہوئی تھی ورنہ خوامخواہ سارا دن برباد جاتا۔۔۔۔
لاوئنج سے گزرتا وہ داخلی دروازہ عبور کر گیا۔۔
باہر خوبصورت لان کیساتھ طویل ڈرائیوے تھی۔۔۔ ابھی وہ دو زینے اترا ہی تھا جب ڈرائیوے پر سیاہ مرسڈی آ کر رکی۔۔۔ گاڑی پہچانتے ہی فائز علوی نے لب بھینچے جب ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ وا کرتی وہ سرعت سے باہر نکلی۔۔۔ گاڑی کے ہی ہم رنگ سیاہ اور سفید امتزاج کی شارٹ شرٹ اور کیپری میں ملبوس بالوں کی ٹیل پونی بنائے سٹالر گلے میں گھما کر ڈال رکھا تھا۔۔۔ ڈائیں کلائی پر سٹائلش گھڑی پہنی تھی۔۔۔
گاڑی سے اترتے ہی وہ تقریباً بھاگتے ہوئے اسکی جانب بڑھی۔۔۔ چہرے پر خودبخود ایک خوبصورت مسکراہت نے احاطہ کیا تھا جبکہ آنکھوں کی چمک بھی کئ گنا بڑھ گئ۔۔۔۔
فائز تم کب آئے۔۔۔ اور جا بھی رہے ہو۔۔۔ کم از کم چائے تو پی لو میرے ساتھ اور تم اتنے دنوں سے یونیورسٹی کیوں نہیں آ رہے۔۔۔ تمہیں پتہ ہے کے میں کتنی پریشان ہوگئ تھی۔۔۔ اور تو اور تم تو میرا فون بھی نہیں اٹھا رہے تھے۔۔۔ وہ بولنے پر آئی تو ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئ۔۔۔ آخر میں لہجہ کچھ اداس ہوا۔۔۔
ہمم  ۔۔۔۔۔مصروف تھا کچھ۔۔ اور چائے پھر کبھی سہی ابھی کچھ کام ہے مجھے۔۔ فائز کا انداز لیا دیا سا تھا۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ آگے بڑھا جب مائرہ نے بے ساختہ اسکی بازو تھامی ۔۔۔ وہ ٹھٹھک کر رکا اور ایک سخت نگاہ اپنے بازو پر موجود اسکے ہاتھ پر ڈالی۔۔۔
How could be you do this with me Faiz....
 وہ صدمے سے چور آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ چمکتی آنکھوں کی جوت بجھ چکی تھی۔۔۔۔
پلیز میرے ساتھ یہ لیا دیا انداز مت اپنایا کرو فائز۔۔۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔ اسکی آواز بھر آئی۔۔۔۔
For God sake mahira...
 بچی نہیں ہو اب تم اسنے نرمی سے ماہرہ کا ہاتھ اپنی بازو سے ہٹایا۔۔
اس سے پہلے کے وہ اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھتا وہ تیزی سے گھوم کر اسکے سامنے آئی۔۔۔
کاش کے بچی ہی ہوتی۔۔۔ کم از کم تمہاری یہ بے رخی تو نا سہنی پڑتی۔۔۔
تمہاری یہ بے رخی کسی دن میری جان لے لے گئ فائز۔۔۔ پلیز ایسا مت کیا کرو میرا دل بند ہو جائے گا۔۔۔۔اسکے چہرے پر لاچارگی تھی۔۔ غزالی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی تھی۔۔۔۔ ٹھنڈے ہوا کے جھونکوں کے سنگ اسکے بال بار بار اسکے چاند سے چہرے پر بکھر رہے تھے جس سے بے نیاز وہ اس ستم گر کی جانب  متوجہ تھی۔۔۔۔
اور تمہاری یہ بے باکی کسی دن مجھے تم سے متنفر کر دے گئ ماہرہ۔۔۔ اسنے جھنجھلا کر کہتے سامنے کھڑی لڑکی کی غزال سی آنکھوں میں موجود جمع ہوتی نمی سے نگاہیں چرائیں۔۔۔
اتنے فاصلے کیسے آگے ہمارے درمیاں فائز۔۔۔ تم تو میرے بیسٹ فرینڈ ہو نا۔۔۔ پلیز مجھے میرا وہی دوست لوٹا دو۔۔۔ اسنے جیسے فائز کی بات سنی ہی نا تھی۔۔۔ تڑپ کر دو قدم مزید اسکی جانب بڑھی۔۔۔
فائز نے اتنی ہی تیزی سے الٹے قدم اٹھاتے فاصلہ قائم کیا۔۔۔ وہ بچپن تھا۔۔۔ جو گزر گیا۔۔۔ اب ہم بڑے ہو چکے ہیں۔۔۔ اور اخلاقیات کا تقاضا۔۔
کاش نا گزرتا۔۔۔ وہ روہانسی آواز میں بے ساختہ اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
کاش وہ بچپن وہیں رہتا۔۔۔ اور پلیز۔۔۔۔ اسنے کپکپاتا ہاتھ اٹھا کر قطعی انداز اپنایا۔۔۔ یہ اخلاقیات کا درس تو مجھے دینا ہی مت۔۔۔ اسنے گیلی سانس اندر کھیبچی۔۔۔ جیسے ضبط کرنا محال ہو۔۔۔
آگ لگا کر بھٹی میں ڈال دینا چاہیے ایسی اخلاقیات کو جو دل کا خون کر دے۔۔۔
وہ جارہانہ اسکی جانب بڑھی۔۔۔ محبت کرتی ہوں تم سے فائر۔۔۔ اتنی سی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔۔  بار بار پلکوں کو جھپکتی وہ آنکھوں کی نمی کو باہر نکلنے سے روک رہی تھی۔۔۔ ہونٹ کیساتھ ساتھ سارا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔
چھوٹے بچے ہو تم۔۔۔ جو تمہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ فائز نے کرب سے آںکھیں میچتے ہوا سے اٹکیلیاں کرتے بالوں میں ہاتھ چلا کر خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
میری بے بسی کا تماشا دیکھنا چاہتے ہو فائز علوی۔۔۔ تو دیکھوووو۔۔۔۔ وہ چٹخی۔۔۔
محبت کرتی ہوں تم سے۔۔ نہیں رہ سکتی تمہارے بنا۔۔۔ تم مجھے میری روح کو میری سانسوں کو زندہ رہنے کے لئے ناگزیر ہو۔  تم نا ملے تو مر جاوں گی۔۔۔ میں پاگل پن کی حد تک چاہتی ہوں تمہیں۔۔۔ اور تم صرف میرے ہو ۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔
وہ بےبسی کی انتہا تھی۔۔۔ آج تو وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی انا اور نسوانیت کو بھی پڑے دھکیلتی اس شخص کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ گئ تھی۔۔۔ جو سب جانتے بوجھتے بھی سب نظر انداز کرتا اس سے کنارہ کشی اختیار کر رہا تھا۔۔۔
اسے اس شخص کی بے رخی مار رہی تھی۔۔۔
خود کو ہلکان کرتے آنسو تک بہہ نکلے تھے۔۔۔
فائز علوی کے لئے صورت حال ناقابل یقینی تھی۔۔۔ اس پاگل لڑکی کی اسی جنونیت سے تو بچنا چاہتا تھا وہ۔۔۔ 
فائز۔۔۔شادی کر لو مجھ سے۔۔۔ اسے ہنوز یونہی گم صم کھڑا دیکھ وہ اسکے ہاتھ تھامتی بے بسی سے ایک مرتبہ پھر سے اپنا خالی کشکول اسکے آگے کر گئ۔۔۔۔
فائز حیرت سے گنگ اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
شادی میری زندگی میں اگلے دس سالوں تک کہیں نہیں ہے مائرہ۔۔۔ اس لئے خود کو میرے لئے ضائع مت کرو۔۔۔ اچھی لڑکیوں کو یہ سب زیب نہیں دیتا۔۔۔
اسنے نہایت تحمل سے اسکے دودھیا ہاتھوں میں تھامے اپنے مضبوط ہاتھوں کو دیکھتے اس سر پھری کو سمجھانا چاہا۔۔۔۔
نہیں ہوں میں اچھی لڑکی فائز۔۔۔ اور نا ہی بننا ہے۔۔۔ وہ دو بدو گویا ہوئی۔۔۔  
مائرہ اظہر سے بڑھ کر فائز علوی کو کوئی نہیں چاہ سکتا۔۔۔ 
لیکن مجھے یہ چاہت نہیں چاہیے مائرہ اظہر۔۔۔  میں نہیں کرتا تم سے محبت۔۔۔ اتنی سی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔۔ وہ سفاکیت سے گویا ہوتا گویا اسکے دل کو بے دردی سے قدموں تلے کچل گیا تھا۔۔۔۔۔ مائرہ اپنی جگہ کسی برف کے مجسمے کی مانند ساکت و جامد ہوتی گویا پتھرا گئ۔۔۔ اتنی
 سفاکیت۔۔۔ اتنا قطعی انداز۔۔ جس میں کسی قسم کی لچک کی گنجائش نہیں۔۔ اسے لگا وہ پتھر کی ہو گئ ہو۔۔۔
اس لئے خود کو میرے پیچھے خوار کرنا بند کرو مائرہ۔۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔ وہ بے حسی و سفاکیت سے قطرہ قطرہ اسکے جسم سے روح کھینچ رہا تھا۔۔۔ 
میں مر جاوں گی فائز۔۔۔ اندر ایک محشر برپا تھا۔۔۔ دل کھول کر رکھنے کے بعد دل کچلے جانے کی اذیت اسکی برداشت سے باہر تھی۔۔۔ وہ کپکاتے لب بھینچتی سختی سے اندر اٹھتی تکلیف کو برداشت کرتی ہمت کر کے گویا ہوئی کے شاید اسے رحم آ جائے۔۔۔
ٹرسٹ می مائرہ اظہر۔۔۔ وہ سفاکیت سے دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔ آنکھوں میں شعلوں کی سی لپک تھی۔۔۔ کوئی کسی کے لئے نہیں مرتا۔۔۔ اگر مرتا ہوتا۔۔۔ یا اس طرح مرنا آسان ہوتا۔۔۔ وہ چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ تو سب سے پہلے فائز علوی اپنی عزیز از جان ہستی کو کھو کر مر چکا ہوتا۔۔۔ اسکی آوا میں کاٹ نمایاں تھی۔۔۔
لیکن اگر تمہیں میں۔۔۔ اس وقت چلتا پھرتا سانس لیتا دکھائی دے رہا ہوں نا تو اسکا مطلب ہے کے تم بھی نہیں مرو گی۔۔۔ کوئی بھی کسی کے لئے نہیں مرتا۔۔۔
وہ بھر بھر جلنے لگا تھا تبھی جلد از جلد وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔
تم اتنے بے حس تو نا تھے فائز۔۔۔۔ تم اتنے بے حس تو کبھئ ںا تھے فائز۔۔۔ وہ ٹوٹے لہجے میں گویا ہوئی۔۔ جاتا جاتا وہ رکا۔۔۔ دونوں کی ایک دوسرے کی جانب پشت تھی۔۔۔
مائرہ نے آنکھیں سختی سے میچی تو گرم سیال کے کئ قطرے شفاف گالوں پر پھسلتے چلے گئے۔۔ ایک ہاتھ سے وہ بے طرح اپن سینہ مسل رہی تھی۔۔۔ وہ شخص بڑے دھرلے سے اسکی سانسیں کھینچ کر ساتھ لے جا رہا تھا۔۔۔۔
وہ لب بھینچ گیا۔۔۔
میں وہی ہوں جسکی آنکھوں میں تم کبھی آنسو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ میں وہی ہوں فائز جسکا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اپنے ہاتھ سے کرنا تم اپنا فرض سمجھتے تھے۔۔۔ میں وہی ہوں جسکے لئے تم کسی سے بھی لڑنے بھرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔۔۔ پھر تم کیسے اتنا بدل گئے فائز۔۔۔ کیوں اب تمہیں میرا درد دکھائی نہیں دیتا۔۔۔
اسکا لفظ لفظ اذیت میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ ناجانے آگے وہ اسے کیا کیا یاد دلاتی جب وہ بنا مزید اسکی باتیں سنے مضبوط قدم اٹھاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
قدموں کی چاپ پر مائرہ نے تڑپ کر پیچھے کی جانب پلٹ کر اسے دیکھا جہاں ہمیشہ کی طرح وہ موجود نا تھا۔۔۔ بلکہ لمحہ با لمحہ اس سے دور ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
کسی نے اسکا دل مٹھی میں لے کر مسلا۔۔۔ وہ منہ ہر شدت سے ہاتھ جماتی حلق سے ابھرتی چیخوں کا گلے گھوٹتی اندھا دھند اندر کی جانب بھاگی۔۔۔۔
********
وہ اونڈھے منہ بستر پر لیٹی تھی۔۔۔ اسے اس حالت میں لیٹے ناجانے کتنا وقت ہو گیا تھا وہ خود بھی نا جانتی تھی۔۔۔ بس تکلیف ناقابل برداشت تھی۔۔۔ 
کمرے میں ملگجا اندھیرا پھیلا تھا دفعتاً دروازہ چڑچڑانے کی آواز آئی۔ وہ تب بھی ٹس سے مس نا ہوئیں۔۔
ٹک ٹک ٹک۔۔۔ نوارد نے ایک ہاتھ مار کر ہی سوئچ بورڈ کے سبھی بٹن نیچے گرائے تو کمرا روشنیوں سے نہا گیا۔۔۔۔
مائے گاڈ مائرہ۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔ جب سے یونیورسٹی سے آئی ہو یونہی منہ سر لپیٹ کر لیتی ہو۔۔۔ نا لنچ کیا اور نا ہی شام کی چائے پر باہر آئی۔۔۔ نیلے اور سکن امتزاج کے ڈیزائنر فینسی لان کے سوٹ میں ملبوس صائمہ بیگم بیٹی کوہنوز تکیے میں منہ گھسائے دیکھ حیرت سے گویا ہوئیں۔۔۔
بالوں کا میسی جوڑ بنا رکھا تھا جبکہ چہرے پر ہلکا سا میک آپ تھا
بازووں میں سونے کے کڑے انگھوٹھیاں اور کانوں میں ہیرے کے ٹاپس تھے۔۔۔ یہ انکی امارت کا ہی خاصا تھا کے وہ گھر میں بھی ہمہ وقت تیار ہی رہتیں۔۔۔
مائرہ کے بے جان ہوتے وجود میں جنبش ہوئی ۔۔۔ سیدھے ہوتے ہی اسکی الجھی کھلی آبشار کمر پر پھیلی۔۔۔
بس سر میں درد تھا مام۔۔۔ اس لئے۔۔ آپ چلیں میں فریش ہو کر آتی ہوں
وہ ماں سے نظریں چراتی بنا ماں کی طرف دیکھے واش روم میں گھس گئ۔۔۔
واش روم کا دروازہ بند کرتے اسنے دروازے سے ٹیک لگاتے چند گہرے سانس بھرے۔۔۔۔ وہ ماں کے سامنے اس حال میں نہیں آ سکتی تھی ورنہ الگ ایک محاظ کھڑا ہو جاتا۔۔۔ ناجانے اسکی ماں کو اسکی محبت سے کیا پرخاش تھی۔۔۔ اور اس شخص کو بھی اسکی ماں کی پرخاش سے کیسی عقیدت تھی جو وہ اس کے دل کا خون کرتا منظر سے ہی ہٹ گیا۔۔۔ ورنہ انکا رشتہ کیسا تھا ایک دنیا جانتی تھی۔۔۔ ناجانے کس کی کالی نظر لگی تھی کے وہ نرم دل حساس سا شخص بے حس اور پتھر بن گیا تھا۔۔۔ 
ٹھیک ہے بیٹا میں اور تمہارے ڈیڈ چائے ہر تمہارا انتظار کر رہے ہیں جلدی آنا۔۔۔ انکی آواز کے ساتھ ہی ہیل کی ٹک ٹک سنائی دی اور ساتھ ہی دروازہ بند ہوگیا۔۔۔
ماہرہ رگڑ کر آنسو صاف کرتی دیوار گیر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔ صبح والا لباس اب شکن آلود تھا۔۔۔ الجھے بکھرے بال۔۔۔ متورم سرخ آنکھیں اور بے تحاشہ آنسو بہانے کے باعث سرخی چھلکاتا چہرا۔۔۔
اپنی قابل رحم حالت دیکھتے آنکھیں پھر سے جلنے لگیں تھیں۔۔۔
دیکھو فائز علوی تمہاری محبت کا روگ مجھے کہاں تک لے آیا۔۔۔ کیوں تمہیں میری حالت پر رحم نہیں آتا۔۔۔ پتہ نہیں وہ کونسے خوش نصیب لوگ ہیں جنہیں محبت راس بھی آتی ہے اور مل بھی جاتی ہے۔۔۔
اسنے دونوں ہاتھوں سے واش بیسن تھامتے کرب سے آنکھیں میچ کر گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ شاور لے کر چہرے پر گزری تباہکاریوں کے تاثرات کافی حد تک ختم کر کے کمرے میں آئی۔۔۔
ٹراور پر ڈھیلی سی شرٹ زیب تن کئے بال سلجھا کر ایسے ہی کمر پر کھلے چھوڑے اور ہلکی سی کاجل کی لکیر آنکھوں میں لگا کر آنکھوں کی تباہکاریوں کو چھپانا چاہا۔۔۔ 
اب وہ ہلکی پھلکی سی باہر جانے کو تیار تھی۔۔۔
دفعتا وہ الماری کی جانب بڑھی۔۔۔۔ سٹالر لینے کو الماری کھولی تو نظر آپو آپ ہی وہاں پڑے لکڑی کے منقش چھوٹے باکس پر پڑی۔۔۔
باکس کو دیکھتے ہی آنکھیں ایک مرتبہ پھر سے بھر آئیں۔۔۔
اسنے لب بھینچتے باکس اٹھا کر کھولا۔۔۔ اندر چھوٹے بڑے کئ واٹر کلرز ۔۔ پینٹئںگ برشز اور پنٹینگ ٹولز تھے۔۔۔ وہ نم آنکھوں اور مسکراتے لبوں کیساتھ وقت کے سنگ سفر کرتے کہیں پیچھے جانے لگی۔۔۔
وہ اس وقت سرخ شارٹ فراک اور جینز میں ملبوس بالوں کی ٹیل پونی بنائے سٹالر گلے میں گھما کر ڈالے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی منہمک سی لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی پاس ہی کافی کا بھاپ اڑاتا کپ پڑا تھا جب وہ دروازہ ناک کرتا اندر داخل ہوا۔۔۔
وہ جینز پر ٹی شرٹ پہنے بال ماتھے پر لاپرواہی سے بکھرائے ہاتھ میں شاپنگ بیک تھامے کھڑا تھا۔۔۔
حسب سابق ماہرہ اسے دیکھتے ہی کھل اٹھی۔۔۔ 
ارے فائز۔۔۔ تم کب آئے۔۔۔ پلیز آو نا۔۔۔ وہ چہکی۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
یہ تمہارے لئے ۔۔۔۔ اسنے ہاتھ میں تھاما چھوٹا سا شاپنگ بیگ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
یہ کیا ہے فائز۔۔۔ اسنے تجسس سے کہتے شاپنگ بیگ پکڑ کر بے صبری سے کھولا۔۔
تمہاری میٹرک کے نتیجے کا تحفہ۔۔۔ وہ بازو سینے پر باندھتا اسکے سامنے ہی سٹڈی ٹیبل کے کنارے ٹک گیا۔۔۔
مائے گاڈ فائز۔۔۔ یہ بہت۔۔۔ بہت خوبصورت ہے۔۔۔  وہ شاپنگ بیگ میں موجود مختلف واٹر کلرز کو دیکھتی خوشی سے گویا ہوئی۔۔
اسنے میٹرک کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔۔۔ اسے پینٹنگ کا بہت شوق تھا اس لئے فائر علوی تحفے ہمیشہ اسے اسکی دلچسپی کے ہی دیتا تھا۔۔۔
چلو شکر تمہیں پسند تو آیا۔۔۔ یہ میں تمہارے لئے اسلام آباد سے لایا تھا جب وہاں کالج ٹور کیساتھ گیا تھا تب۔۔۔ اور تب سے ہی میں نے سمبھال کر رکھا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کے تمہارا نتیجہ اتنا ہی شاندار نکلے گا۔۔۔۔
وہ ایک پاوں جھلاتا اسکے چہرے پر بکھرے خوشی کے رنگوں کو دیکھتا مسکرا کر گویا ہوا۔۔
اوہ۔۔۔ شو شویٹ آف یو فائز۔۔۔ ایسے ہی تو تم میرے بیسٹ فرینڈ نہیں۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی اسکی گال پر چٹکی بھرتی گویا ہوئی کے وہ جھلا کر رہ گیا۔۔۔
اسکے جھلانے پر ماہرہ قہقہ لگا کر ہس دی۔۔۔
چلو آو میں تمہیں چائے بنا کر پلاتی ہوں۔۔۔  تمہارے لئے میں نے بالخصوص چائے بنانی سیکھی ہے۔۔۔ ورنہ تمہیں پتہ ہے میں چائے نہیں پیتی۔۔۔
I am coffee lover...
 وہ مسکرا کر کہتی کمرے سے نکل کر کچن کی جانب بڑھی۔۔۔۔
فائز نے بھی مسکراتے ہوئے اسکی تقلید کی۔۔۔
پسند نہیں تو اتنے تردد کا مطلب۔۔۔
بیسٹ فرینڈ کے لئے کچھ بھی۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔۔
بلکہ میں تو تمہیں کمپنی دینے کو تمہارے ساتھ چائے پینے بھی والی ہوں۔۔۔ اسنے پین چولہے پر رکھتے چولہے میں آگ جلائی۔۔۔
فائز کا قہقہ چاروں اوڑھ گھونج اٹھا۔۔۔
اور اگر تمہاری والدہ ماجدہ نے تمہیں اپنے بیسٹ  فرینڈ کے لئے اتنا تردد کرتے دیکھ لیا توووووو۔۔۔ وہ فروٹ باسکٹ سے سیب اچکتا کاونٹر ٹاپ کیساتھ کمر ٹکا کر اسکی جانب رخ کئے سیب کترنے لگا۔۔۔
مائرہ نے اسے گھورا۔۔۔۔ کبھی انکا ذکر چھوڑ بھی دیا کرو۔۔۔ اور یہ دیکھو۔۔۔ تمہارے لئے چائے بناتے میرا ہاتھ بھی جل گیا اسنے کلائی سے آستین زرا سی اوپر کرتے فائز کے سامنے اپنی دودھیا کلائی کی جس پر سرخ رنگ کا گول دائرہ بنا تھا۔۔۔
مائے گاڈ مائرہ یہ کیا۔۔۔ اسنے تڑپ کر سیدھے ہوتے مائرہ کا ہاتھ تھاما۔۔۔ وہ مسکرا کر کندھے اچکا گئ ۔۔ تم نے اس پر کچھ لگایا۔۔۔ تمہیں کہا کس نے یہ سب کرنے کو۔۔۔۔ غصے سے اسکا دماغ گھومنے لگا تھا۔۔۔ وہ فائز کے تاثرات دیکھتی مسکرا دی۔۔۔ کہا نا بیسٹ فرینڈ کے لئے کچھ بھی۔۔۔ خیر تمہارے لئے میرا ہاتھ جلا ہے۔۔۔ تم اس کے مداوے کے لئے مجھے آئسکریم کھلا سکتے ہو۔۔۔  
باہر سے ماں کی آتی آواز پر سار فسوں ٹوٹا ۔۔۔  وہ وقت کہاں کھو گیا فائر۔۔۔ کیوں تم مجھ سے اتنا دور ہوگئے۔۔۔ اسکے دل سے ہوک سی نکلی۔۔۔
اسنے یادوں کی پٹاری کو باکس کے ساتھ وہیں بند کر کے الماری میں رکھا اور گہرا سانس خارج کرتی باہر نکلی۔۔
تمہیں مجھے میرا بیسٹ فرینڈ لوٹانا ہو گا فائز۔۔۔ میں کسی بھی حالات کی نظر اپنی دوست اور محبت کو نہیں ہونے دوں گی۔۔۔
تم مجھے اچھے سے جانتے ہو کے میں کتنی ضدی ہوں۔۔۔ یہ جو بے حسی کا خول تم خود پر چڑھائے پھرتے ہو نا اسے چٹخا نا دیا تو کہنا۔۔
لان میں آنے تک وہ مصمم اردہ کر چکی تھی۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4