Header Ads

Roshan Sitara novel 117th last Episode Last part by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  117th last Episode Last part  by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

17th last epi part 2
نہیں یہ خواب نہیں تھا۔۔۔ اسکا تصور اس وقت مجسم حقیقت اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔
اسکا فائز ۔۔۔ وہ کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئی تھی۔۔۔ وہ وہی تھا۔۔۔ وہ وہیں کھڑی ساکت سی بہتی آنکھوں سے  یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے پلکیں جھپکے گی تو منظر تحلیل ہو جائے گا۔۔۔ آنکھوں میں جمع ہوتے پانی کے باعث سامنے دکھائی دیتے منظر کے درمیان دھند کی دبیز تہہ جمتی جو اس پانی کے پھسل کر بہہ جانے پر چھٹتی اور کچھ ہی وقت میں پھر سے بن جاتی۔۔۔۔
ماہرہ کی آنکھیں اسی ایک شخص کے چہرے پر جمی تھیں جسے دن رات اسنے دعاوں میں گڑگڑا کر مانگا تھا ۔۔۔ وہ اپنے شاہکار کے شانے پر ہاتھ رکھے مسکراتا ہوا پریس کے جوابات دے رہا تھا جبکہ مرتسم اور وہاج انکے دائیں بائیں کھڑے تھے۔۔۔ 
اے پرفیکٹ ٹیم۔۔۔ درمیاں میں کوئی صحافی چٹکلا چھوڑتا تو وہ سب ہس دیتے۔۔۔۔
کتنی مکمل تھی اسکی مسکراہٹ۔۔۔
وہاج اور مرتسم کو دیکھ کر لگتا نا تھا کے وہ فائز سے ابھی ابھی ملے ہیں۔۔۔ یہ ملاقات شاک زدہ نہیں بلکہ پرسکون سی تھی۔۔۔  مطلب وہ ہر چیز سے پہلے سے آگاہ تھے۔۔۔
ماہرہ وہیں کھڑی کھڑی بے دم ہونے لگی تھی ۔۔ جیسے یہ سکون بھی اسکی جان نکالتا اسے بے دم کر رہا تھا۔۔۔ وہ کسی بھی پل ڈھ جانے کے در پر تھی۔۔۔
بریسلٹ وائبز کے شور نے اسے پاگل کر رکھا تھا ۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر اسے نوچ کر کلائی سے اتارا۔۔۔ ساتھ ہی ان وائبز کا رابطہ ٹوٹ گیا۔۔۔ وہ جھٹکے سے پلٹی اور اندھا دھند باہر کو بھاگی۔۔۔
اسکا ردعمل غیر متوقع تھا۔۔۔ وہ زاروقطار رو رہی تھی۔۔۔ ہچکیوں سے۔۔۔  پھوٹ پھوٹ کر۔۔۔ بچوں کی مانند۔۔۔
جس شخص کو دن رات دعاوں میں مانگا اسے سامنے پا کر وہ اس تک نہیں گئ تھی بلکہ واپس پلٹ آئی تھی۔۔۔
اس شخص کے ساتھ ساتھ مرتسم اور وہاج کی جانب بھی اسکے بہت سے حساب کتاب نکلتے تھے جنہوں نے اسکی حالت دیکھنے کے باوجود اسے ہر چیز سے لاعلم رکھا تھا ۔۔۔ ان سب سے حساب وہ بعد میں بے باک کرنے کا ارادہ رکھتی تھی  ۔۔۔ وہ قدم رکھ کہیں رہی تھی پڑ کہیں رہا تھا۔۔۔ وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔۔۔ ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرتے اسنے پارکنگ سے گاڑی نکالی اور زن سے روڈ پر بھگا لے گئ۔۔۔۔
دل ہنوز بے ہنگم انداز میں ڈھرک رہا تھا ۔۔۔ انتہائی ریش ڈرائیونگ کر کے وہ اپارٹمنٹ پہنچی۔۔۔ اور آتے ہی وضو کر کے سجدے میں گر گئ۔۔۔ اس پر سجدہ شکر واجب تھا۔۔۔ اس ذات کا جسنے اسکی دعاوں اور فریادوں کو رد نہیں کیا تھا۔۔۔ اسکی دعائیں قبولیت کا شرف پا گئ تھیں۔۔۔ وہ اب بھی یہاں اس ذات کے پاس نا آتی جسنے اسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی تنہا نا چھوڑا تھا۔۔۔ جسنے اسکی ایک ایک پکار پر لبیک کہا تھا۔۔۔
وہ سجدے میں سر رکھے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔
تیرا شکر میرے مالک۔۔۔ تیرا لاکھ لاکھ دفعہ شکر۔۔۔
میرے پاس وہ الفاظ ہیں ہی نہیں جن میں میں تیرا شکر ادا کر پاوں میرے مالک۔۔۔
تو کتنا پیارا ہے میرے اللہ۔۔۔ تو کتنا پیارا ہے۔۔۔ میں تیری کس کس نعمت کا شکر ادا کروں۔۔۔ تو نے سب کچھ تو عطا کر دیا۔۔۔ مجھے معاف کردے میرے مالک۔۔۔ میں تیری گنہگار بندی۔۔۔ اس قابل نا تھی جتنا تو نے نواز دیا۔۔۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔ اور بے شک صرف تو ہی ہر چیز  پر قادر ہے۔۔۔ اور پھر کتنی ہی دیر وہ اس رب کے حضور حاضری دیتی اس سے راز و نیاز میں مشغول رہی۔۔۔ جو سکون اس در پر تھا اسکا نعمل البدل تو پوری دنیا میں کہیں نہیں۔۔۔۔۔ اسقدر بے سکونی بے چینی اور اضطراب کے بعد یہ سکون جو اسکی رگ رگ میں سرائیت کر رہا تھا اسی سکون سے اسکا دم نکلتا جا رہا تھا۔۔۔ 
******
وہ وہیں سجدے میں سر رکھے اپنے رب سے راز و نیاز کرتی ہوش و ہواس سے غافل ہو گئ تھی۔۔۔ اب جو اسکی آنکھ کھلی تو ایک ہی پوزیشن میں رہنے کے باعث جسم کے اعضا گویا درد کرنے لگے تھے۔۔۔ وہ کراہ کر سیدھی ہوئی جب اسے باہر سے مائز کے کھلکھلانے کی آواز آئی۔۔۔ غالباً وہ سب کانفرینس سے واپس آ چکے تھے۔۔۔ وہ وہاں سے اٹھتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر دروازے تک آئی جہاں اسکا روبو بوائے مائز کو گود میں اٹھائے اس سے کھیل رہا تھا۔۔۔
یکدم ہی ماہرہ کا پارہ ہائی ہوا۔۔۔ وہ مائز سے بہت کھیلتا تھا ماہرہ کو اس سے اعتراض نا تھا مگر وہ اسے کبھی مائز کو اٹھانے نا دیتی۔۔۔ اسکی گرفت اتنی سخت تھی کے ننھا مائز لمحوں میں کراہ اٹھتا ۔۔۔ 
وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتی اسکی جانب لپکی۔۔۔
روبو بوائے بدتمیز بدلحاظ کتنی دفعہ کہا ہے کے میرے بیٹے کو اٹھایا مت کرو۔۔۔ سنائی نہیں دیتا کیا تمہیں۔۔۔۔ اسنے جھپٹ کر مائز کو اسکی گود سے کھینچا۔۔۔ جب پیچھے ہٹتی ہٹتی چونک کر پلٹی۔۔۔
یکدم ہاتھ پاوں بے جان ہوئے اور گرفت کمزور ہونے پر مائز نیچے اترتا لپک کر اپنے کھلونوں کی جانب بڑھا۔۔۔ جبکہ اسے لگا وہ گویا پتھر کی ہو گئ ہو۔۔۔
سامنا کھڑا شخص جسکی گرفت سے اسنے مائز کو جھپٹا تھا وہ لوہے کا روبورٹ نہیں بلکہ گوشت پوشت کا بنا انسان تھا۔۔۔
وہ اسی پوزیشن میں کھڑی بے یقینی و حیرت زدہ  نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔گویا ہر چیز اپنی جگہ پر ساکت ہو گئ ۔۔۔۔ ہوا تھم گئ  ۔۔۔ سانس رک گئ۔۔ وقت تھم گیا۔۔۔ گویا ہر چیز فریز ہوگئ۔۔۔کئ ساعتیں آئی اور بے یقینی کی نظر ہوتیں گزر گئیں۔۔۔ وہ وہی تھا۔۔۔ اسکے اسقدر قریب۔۔۔ خواب سا خواب تھا۔۔۔ گمان سا گمان تھا۔۔۔
جب ہلکی سی مسکراہٹ فائز کے ہونٹوں پر ابھری اسنے درمیانی فاصلہ عبور کرتے بڑی نرمی سے اسے اپنے حصار میں سمیٹا تو وہ جیسے لمحے کے ہزارویں حصے میں ہوش میں آتی بھری بھری ریت کی مانند ریزہ ریزہ ہو کر اسکی باہوں میں بکھرتی چلی گئ۔۔۔  اس مضبوط سہارے کا انتظار اسنے پچھلے دو سالوں سے کیا تھا۔۔۔ اور دن رات کیا تھا۔۔۔۔ جی جان سے کیا تھا۔۔۔ رو رو کر کیا تھا ۔۔۔ گڑگڑا کر کیا۔۔۔ اب جو یہ میسر ہوا تو ضبط کے سبھی بندھن ٹوٹ گئے ۔۔۔ سمجھ ہی نا آئی ہوا کیا۔۔۔ یہ جو ایک آشنا لمس تھا۔۔۔ اسے محسوس کرتی وہ بکھر بکھر گئ۔۔۔
پھر جو نیروں کے سیلاب امڈے۔۔۔۔ آنسو تھے کے تھمنے کا نام تک نا لے رہے تھے۔۔۔ وہ بڑی نرمی سے اسے سمیٹے مسلسل اسکے بال سہلا رہا تھا۔۔۔ جیسے برسوں کی مسافت کے بعد مسافر کو منزل مل گئ ہو ۔۔۔ ساری دنیا گویا ساکت ہوگئ تھی۔۔۔ الفاظ اپنی موت آپ مر گئے۔۔۔ اس خاموشی میں محض احساس تھا جو دونوں کی اندرونی کیفیت کی عکاسی کر رہا تھا۔۔۔ نگر نگر مارے مارے پھر کر ہجر کی کئ طویل راتیں کاٹ کر کہیں وصل کے لمحات نصیب ہوئے تھے۔۔۔ وہ یونہیں زاروقطار روتے اس کا چہرا اپنے کپکپاتے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتی انگلیوں کی پوروں سے اسکا نقش نقش چھو کر گویا خود کو اسکے ہونے کا یقین دلا رہی تھی۔۔۔
عجیب بے یقینی کا عالم تھا۔۔ تصور یوں بھی مجسم حقیقت بن جاتے ہیں کیا۔۔۔
وہ بھی نم آنکھیں لئے یک ٹک سا جذب کے عالم میں اس دیوانی کی صورت دیکھ رہا تھا۔۔۔
بہت امتحان لیا ہے تم نے میری محبت کا فائز علوی۔۔۔ دیکھ لو تمہاری محبت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ کافی لمحوں بعد اسکی آنکھوں میں دیکھتے کپکپاتے لبوں سے شکوہ برآمد ہوا تو آواز بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔
کہا تھا نا کہ یہ سفر بہت کھٹن ہے۔۔۔ قدم پیچھے ہٹا لو۔۔۔ اپنے لئے کوئی آسان منزل ڈھونڈو۔۔۔  نہیں مانی نا تم۔۔۔بہت ضدی ہو۔۔۔ اسکے لہجے میں کرب تھا۔۔۔
نو ڈاوٹ ۔۔۔ تم میرے فائز ہی ہو۔۔۔ وہ آہستگی سے ہسی۔۔۔ کیونکہ تم کل بھی میرے معاملے میں بے مہر ظالم اور سفاک تھے۔۔۔ اور تم آج بھی وہی ہو۔۔۔ اتنے عرصے کی جدائی بھی تمہیں بدل نہیں سکی۔۔۔ 
اسکی ہسی میں فائز کا قہقہ بھی شامل ہوا۔۔۔ ان سب کا تو پتہ نہیں۔۔۔ البتہ خوش قسمت ضرور ہوں۔۔۔ کیونکہ قسمت والوں کو ملتی ہے ایسی ہمسفر اور میں خوش قسمت ہوں جسے اللہ نے اسقدر مخلص باوفا قدردان اور چاہنے والی ہمسفر عطا کی۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتا آنکھوں کی نمی پیچھے دھکیل کر اسکی بھیگی گال نرمی سے سہلاتا گویا ہوا تو ماہرہ کو لگا گویا کسی نے جلتے بھڑکتے دل پر پھاہے رکھ دئیے ہوں۔۔۔ اسکی ایک لائن کی لفاظی نے گویا سالوں کی مسافت کی تھکن اتار دی ہو۔۔۔ کبھی لفظ بھی شفا بن جاتے ہیں یہ اسنے آج جانا تھا۔۔۔
کیوں ستایا مجھے اسقدر فائز۔۔۔ جانتے ہو کتنا تڑپی ہوں تمہارے لئے۔۔۔ کہاں تھے تم اب تک۔۔ وہ نا نا کرنے کے باوجود شکوہ کر گئ۔۔۔
*******
سر سانس چل رہی ہے ابھی اسکی۔۔۔ وہ دلاور خان کی لیب تھی جہاں خون کا سیلاب امڈا پڑا تھا ۔۔۔ دلاور خان کرسی پر سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا جبکہ میر خون میں لٹ پٹ اس شخص کو جھلسا دینے والی نگاہوں سے تک رہا تھا جب اسکا ایک شخص فائز پر جھکا اسکی نبض چیک کر کے بولا۔۔۔ فائز کا دماغ اندھیروں میں اتر رہا تھا جب اسے میر کی کٹیلی آواز سنائی دی۔۔۔
کال کوٹھری میں پھینک کر آو اسے ۔۔۔
پھر اسے اپنے جسم پر دو لوگوں کی سخت گرفت محسوس ہوئی اور اسکے بعد اسے اندھیرے کمرے کے سخت چٹیلے فرش پر پھینک دیا گیا۔۔۔ اسکے جسم سے خون پانی کی مانند بہہ رہا تھا۔۔۔ ساری تکلیفیں آپس میں مدغم ہو رہی تھیں ۔۔۔ اسے نہیں پتہ وہ کب تک اس سخت چٹیلے فرش پر بے حس و حرکت پڑا رہا۔۔۔ بس آہستہ آہستہ اسکی حسیات اسکا ساتھ چھوڑ رہی تھیں۔۔۔  آنکھوں کے آگے تیزی سے اندھیرا چھا رہا تھا جب اسے باہر سے تیزی سے آتی ہیل کی ٹک ٹک کی آواز سنائی دی۔۔۔ اور اسکے بعد شائنہ کی گارڈ سے جھگڑنے کی آوازیں اسکے کانوں سے ٹکرائیں۔۔۔
تم بے غیرت انسان مجھے اندر جانے دو۔۔۔ اور خبردار جو اگر یہ بات بابا یا اس گھٹیا میر کو پتہ چلی تو۔۔۔ ورنہ تمہارا وہ حشر کروں گی کے تمہاری سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔ اور میری دھمکیوں کو ہلکا ہرگز مت لینا۔۔۔ شائنہ خان اب اس مقام پر کسی بھی حد سے گزر سکتی ہے۔۔۔ اسکی آواز میں ازدھوں کی سی پھنکار تھی۔۔۔  جیسے سب جلا کر بھسم کر دینا چاہتی ہو۔۔۔ اسکے ساتھ ہی فائز کا دماغ مکمل تاریکی کی نظر ہو گیا۔۔۔
****
دوبارہ اسکی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ایک چھوٹے سے لکڑی کے کمرے میں پایا۔۔۔ سخت چٹیلے فرش کی جگہ نرم بستر نے لے لی تھی۔۔  اسنے نگاہیں گھما کر ارد گرد دیکھا ۔۔  وہ گویا ایک چھوٹا سا وڈ ہاوس تھا۔۔۔
اسکے زخموں کی پٹی کر دی گئ تھی۔۔۔ لیکن نقاہت حد سے سوا تھی۔۔۔ اتنی کے منظر دھندلا رہے تھے۔۔۔ بار بار آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔
دفعتا بوکھلائی سی شائنہ اندر داخل ہوئی۔۔۔ نیلی جینز اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس سر پر سفید فر والی ہڈی لئے ہوئے۔۔۔
احمر ہم اس وقت آبادی سے دور جنگل میں ایک وڈ ہاوس میں موجود ہیں۔۔۔ دیکھو تم مجھ پر اعتبار کر سکتے ہو۔۔۔ وہ لبوں کو تر کرتی تیز تیز بول رہی تھی۔۔۔ اعتبار نا کرنے کی تم اس وقت پوزیشن میں نہیں ہو۔۔۔ وہ اسکے قریب آ کر بیٹھی۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں عجلت اور بے چینی تھی۔۔۔ جیسے اسے کسی چیز کا خوف لاحق ہو۔۔۔
تمہیں تین گولیاں لگی تھیں ایک کندھے پر دوسری سینے کے قریب اور تیسری پیٹ میں۔۔۔ پیٹ والی گولی چھو کر گزری تھی۔۔۔ البتہ سینے کے قریب لگنے والی گولی سب سے خطرناک تھی۔۔۔جنہیں نکال دیا گیا ہے۔۔۔ لیکن تمہارا خون بہت بہہ چکا ہے ۔۔۔ بے ساختہ فائز کو اپنے ارد گرد بہتے خون کا سیلاب یاد آیا۔۔۔ البتہ قوی امکان ہے کے تمہارے مسلز کام کرنا چھوڑ دیں۔۔۔ یا کوئی مستقل معذوری تمہارا مقدر ٹھہرے۔۔۔
میرے پاس خون کا کوئی انتظام نہیں۔۔۔ اگر جلد از جلد تمہیں خون نا ملا تو تمہاری جان کو بھی خطرہ ہے۔۔۔وہ اس سے بات کرتی بار بار کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھ رہی تھی۔۔ جیسے اسکے پاس وقت مختصر ہو۔۔۔ بے حد مختصر۔۔۔
موت تو ویسے بھی تمہارے سر پر منڈلا رہی ہے۔۔۔
میر کو خبر لگ گئ ہے کہ تم اسکی کال کوٹھری سے فرار ہو چکے ہو۔۔۔ وہ شکاری کتے کی مانند تمہاری بو سونگھتا پھر رہا ہے۔۔۔ اگر وہ تم تک پہنچ گیا تو تمہاری موت پکی ہے۔۔۔
اگر وہ تم تک نا پہنچا اور تم یہیں وڈ ہاوس میں رہے تو بھی خون نا ملنے کی بنیاد پر تم مر جاو گے۔۔۔ کیونکہ میں جتنا تمہارے لئے کر سکتی تھی۔۔۔ اپنی جان پر کھیل کر کر چکی ہوں۔۔۔ جب تمہارا مرنا طے ہے تو کیوں نا تم اپنوں میں جا کر مرو۔۔۔ کیا پتہ خدا کے گھر تمہاری زندگی ہو۔۔۔ وہ پریشانی سے بول رہی تھا یا شاید اسے خود پر اعتبار کرنے کے لئے قائل کر رہی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کے وہ شخص اتنی آسانی سے اس  پر اعتبار نہیں کرے گا۔۔۔
کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ فائز کو اتنا سا بولنے پر ہی اپنا سر گھومتا محسوس ہوا۔۔۔
کسی ایسے انسان کا کانٹیکٹ نمبر دو جو جلد از جلد تمہیں یہاں سے آ کر ریسکیو کر سکے۔۔۔ جلد از جلد۔۔۔ جتنا جلدی ممکن ہو سکے۔۔۔۔ کیونکہ تمہاری جان ہنوز خطرے میں ہے۔۔۔
وہ پریشان تھی اور اسکی پریشانی اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔
ناجانے کیسے سوئی جاگی کیفیت میں اسنے شائنہ پر اعتبار کرتے اسے میجر اریز کا نمبر دیا۔۔۔۔
اس پر مسلسل غنودگی طاری ہو رہی تھی سوئی جاگی کیفیت میں وہ اپنے اردگرد سب ہوتا محسوس کر پا رہا تھا۔۔۔ شائنہ کا میجر اریز سے رابطہ کر کے اسے مختصراً سب بتا کر اس وڈ ہاوس کا ایڈریس دینا۔۔۔
پھر جلے پیر کی بلی کی مانند وہاں چکر کاٹنا۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ پیچھے بھی کسی سے رابطے میں تھی۔۔۔  شاید وہ میر کی حرکات و سکنات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھی۔۔۔
مائے گاڈ ۔۔۔ پلیز تم کیسے بھی کر کے اسے اس طرف آنے سے کچھ وقت تک روکو۔۔۔ وہ گھبرائی سی فون پر کسی کو کمانڈ دے رہی تھی۔۔۔ شاید میر اسی جانب آنے والا تھا۔۔۔
آپ کہاں ہیں۔۔ پلیز اگر آپ اگلے چند منٹوں تک یہاں پہنچ سکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ آپ یہاں آنے کا تکلف مت کریں۔۔۔ وہ غالبا اب پرہشانی میں میجر اریز کو فون کرتی اس سے بھی الجھ پڑی تھی۔۔۔
اور اگلے کچھ ہی وقت میں میجر اریز اپنے چند ساتھوں کے ساتھ وہاں تھا۔۔  وہ سب تیز تیز قدم اٹھاتے اسی کی جانب آ رہے تھے۔۔۔ شائنہ پتہ نہیں تیزی سے انہیں کیا کیا بتا رہی تھی۔۔۔ فائز کا دماغ مزید گنودگی میں جاتا جا رہا تھا۔۔۔
اسے میجر اریز خود پر جھکا محسوس ہوا۔۔۔
وہ پریشان حال صورت لئے فائز کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرے کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔ فائز کا دماغ اسکے الفاظ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ پھر شائنہ کی جلد بازیاں ۔۔۔ وہ انہیں جلد از جلد وہاں سے نکلنے کو بول رہی تھی۔۔۔ فائز علوی اس بندی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اس وقت بے بسی کا عالم یہ تھا کے وہ چاہنے کے باوجود کچھ نا کرپایا۔۔۔
اسے تیزی سے سٹریچر پر لٹاتے جیٹ میں منقل کیا جا رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی اسے فرسٹ ایڈ دی جانے لگی۔۔۔
جیٹ کے پرواز کرتے ہی اسکا ذہن اندھیروں میں ڈوب گیا۔۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ ہسپتال کے کمرے میں کھلی۔۔۔ وہ غالباً پاکستان واپس آ گیا تھا۔۔۔ اسکے ہاتھ پر خون کی بوتل آئی وی لائن کی مدد سے لگی تھی۔۔  جبکہ میجر اریز کیساتھ ساتھ مرتسم اور وہاج بھی وہیں تھے۔۔۔ وہ اب منظر واضح پہچاننے لگا تھا۔۔۔ 
وہ تینوں تیزی سے اسکی جانب بڑھے۔۔۔ انہیں دیکھتے ہی فائز کی آنکھیں تیزی سے بھیگنے لگی۔۔۔ دل کی ڈھرکن بڑھ گئ۔۔۔ وہ اپنوں کے بیچ واپس آ گیا تھا۔۔ اتنی مشقت کاٹنے کے بعد۔۔۔
فائز میرے یار۔۔۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔۔۔صرف وہ ہی نہیں بلکہ اسکے دونوں جگری یار رو رہے تھے۔۔۔ اسنے زندگی میں پہلی مرتبہ انہیں روتے دیکھا تھا۔۔۔ وہاج نے اپنی آنکھیں مسلتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا جبکہ مرتسم اسکا ہاتھ تھامتا ہونٹوں سے لگا گیا۔۔۔
جلدی سے ٹھیک ہو جا یار۔۔۔ہمیں بہت ضرورت ہے تمہاری۔۔۔ اور تو اور ابھی تو وہاں گھر میں بھی ایک دیوانی تمہاری منتظر ہے جسکا یقین راسخ آج جیت گیا۔۔۔
مرتسم کے کہنے پر وہ ہلکا سا ہسا۔۔۔
اسکی حالت ابھی خطرے سے باہر نہیں تھی۔۔۔ ڈاکٹروں کی بارہا کوشیشوں کے باوجود اسکے مسلز کام نہیں کر رہے تھے۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔ خون خطرناک حد تک ضائع ہو گیا تھا۔۔۔ اگر یہ کہا جاتا کے اسکی زندگی معجزانہ طور پر کسی کی بے لوث دعاوں کی بدولت بچ گئ تھی تو بے جا نا تھا۔۔۔   اس لئے اسنے ہی سب کو ماہرہ کو کسی بھی قسم کی صورتحال سے آگاہ کرنے سے منع کیا تھا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کے اگر آج یہاں اس مقام پر وہ زندگی کی بازی ہار جاتا تو وہ پھولوں سی نازک لڑکی دوبارہ اس دوہری اذیت کا شکار ہوتی۔۔۔
ہنگامی بنیادوں پر خون کا ارینج کر کے اسے خون فراہم کیا جا رہا تھا۔۔۔ دن تیزی سے گزر رہے تھے۔۔۔ مرتسم اور وہاج کی پریشانی دیدنی تھی۔۔۔ وہ دونوں اسے پریس کے روز اپنے ساتھ لیجانا چاہتے تھے مگر اسکی طبیعت سمبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
پھر ایک روز وہ ہوا جسکے لئے شاید ابھی تک فائز کی سانسیں چل رہی تھی۔۔۔
شہزادے اٹھو۔۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔۔ دیکھو آج تم سے ملنے کون آیا ہے۔۔۔۔اٹھو اور اٹھ کر اپنے شیر سے ملو۔۔۔ مرتسم کی آواز پر اسنے آہستگی سے آنکھیں کھولیں جب اسکی گود میں ایک ننھے سے شہزادے کو دیکھ اسکا سارا جسم متحرک ہو اٹھا۔۔۔
وہاج بھی اسکے ساتھ ہی تھا۔۔۔
پھر وہ ہوا جو اب تک ڈاکٹروں کی پوری ٹیم مل کر بھی نا کر پائی تھی۔۔۔۔ اسنے اپنی پوری قوت اور پوری ول پاور  صرف کرتے اپنے پٹھوں کو حرکت دینے کی کوشیش کی۔۔۔۔ وہ کیا چیز تھی جسنے اسے دشمن کی قید میں بے تاب کر دیا تھا۔۔۔ وہ کونسا احساس تھا جو اسے ہر بندش ٹور کر یہاں واپس آنے کو اکساتا تھا۔۔۔ اسکے وجود کا حصہ۔۔۔ وہ ننھی سی جان ۔۔ جو اس وقت اسکے سامنے تھی۔۔۔ اپنے آپ میں مگن ۔۔۔ بلیک جینز اور بلیک ہی ہڈی میں ملبوس ریشم سے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ وہ ایک سرخ و سپید گول مٹول سا بچہ تھا جو ماں اور باپ دونوں کی شباہت چرا لایا تھا۔۔۔ وہ اس وقت مرتسم کی گود میں مگن سے انداز میں چاکلیٹ کھا رہا تھا۔۔۔
 اتنی کھٹن مسافت طے کرنے کے بعد بھی بھلا وہ اس لمس سے آشنا ہونے سے محروم رہ پاتا۔۔۔ وہ کونسی چیز تھی جو اب بھی اسے اسکے بیٹے سے دور رکھتی۔۔۔۔۔۔ اندر جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوا تھا۔۔۔ وہ ہر چیز پس ہشت ڈالتا بھرپور کوشیش سے اٹھ کر بیٹھا۔۔۔ چہرے پر تکلیف کے اثرات واضح تھے۔۔۔ رنگت خطرناک حد تک سرخ پر گئ
مگر ہر جسمانی تکلیف ۔۔۔ درد ۔۔۔۔کھنچاو۔۔۔ ہر چیز اس منظر کے سامنے ہیچ تھی۔۔۔
صرف ایک طلب ۔۔۔ صرف ایک طلب۔۔۔ محض بیٹے کو سینے میں بھیچنے کی طلب ہر چیز سے اوپر تھی۔۔۔ 
اسکی زخموں سے خون ابھر آیا۔۔۔ مگر جہاں اتنی تکلیفیں سہی وہاں کچھ اور سہی۔۔۔ وہ اپنی پوری قوت صرف کر کے اٹھا۔۔ اس سے پہلے کے وہ ڈولتا وہاج نے سرعت سے آگے بڑھتے اسے سہارا دیا ۔۔۔ مرتسم مائز کو اسکے پاس بستر پر چھوڑے ڈاکٹرز کو بلانے بھاگا۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ ہر چیز پس پشت ڈالے مائز کو سینے میں بھینچے اسے چٹا چٹ چومتا یوں اس میں مگن تھا جیسے برسوں کی تشنگی مٹانا چاہتا تھا۔۔۔ اس ننھے سے معصوم لمس نے کئ زخموں کا مداوا کر دیا تھا۔۔۔ دل میں ٹھنڈک اتار دی تھی۔۔۔آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند اسکی آنکھوں سے پھسل پھسل گر رہے تھے۔۔۔وہ اسے شدت سے خود میں بھینچے اسے محسوس کرتا خود کو سکون فراہم کر رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹرز کی ٹیم بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔  اس خوبصورت منظر نے سب کو اشک بار کر ڈالا۔۔
جلد ہی اسکی ہمٹ ٹوٹنے لگی اور مائز بھی اسکے پرشدت لمس پر رونے لگا تو مرتسم نے آگے بڑھ کر اس سے مائز کو پکڑا۔۔۔۔ڈاکٹرز نے اسے سرعت سے پکڑتے اسے ٹریٹمنٹ دینا شروع کیا۔۔
*******
اگر کبھی فائز نے پروفیسر عظیم سے کیا وعدہ ایفا کرتے سونم کے بھائی ہونے کا حق ادا کیا تھا۔۔۔ تو اس کھٹن وقت میں اسنے بھی بہن ہونے کا حق ادا کیا تھا۔۔۔ آرمی ہسپتال میں وہ دن رات اسکی عیادت کو آتی۔۔۔ پہروں اسکے پاس بیٹھ کر اس سے باتیں کرتی تینوں وقت کا پرہیزی کھانا وہ فائز کے لئے بنا کر لاتی ۔۔۔ نا صرف بنا کر لاتی بلکہ خود اسے کھلاتی۔۔۔
مائز کی ملاقات فائز کے لئے بہتریں دوا ثابت ہوئی تھی۔۔۔ اسنے تیزی سے ریکور کرنا شروع کیا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اب وہ دونوں باقاعدگی سے مائز کو اس سے ملانے لاتے۔۔۔ وہ کئ کئ گھنٹے اسکے ساتھ رہتا یہ ہی وجہ تھی کے وہ بہت جلد باپ سے مانوس ہونے لگا تھا۔۔۔ اور فائز بھی تو سارے دن میں اس ایک ملاقات کے لئے بے تاب رہتا۔۔۔ وہ تو جب اکتا کر پیچھے سے ماہرہ کا مائز کے لئے فون آتا تو انہیں یاد آتا کے بچے کو اسکی ماں کے پاس واپس بھی چھوڑنا ہے۔۔۔  ابھی اسکے زخم بھرے نا تھے لیکن وہ لوگ ڈاکٹر سے اجازت لے کر فائز کو ہائی پین کلرز اور اینٹی بائیو ٹکس دے کر پریس میں لے کر آئے تھا۔۔۔ ان دوائیوں کا اثر کم از کم بھی بارہ گھنٹے تک رہنے والا تھا۔۔۔ 
*****
وہ صوفے پر بیٹھی فائز کے سینے پر سر رکھے اسکی زبانی ساری روداد سنتی خانوش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ اسکا ہر درد ماہرہ کے درد سے بڑا تھا۔۔۔ وہ اپنوں میں تھی۔۔۔ اسکا بیٹا اسکے پاس تھا۔۔۔ مگر وہ دشمنوں کے بیچ تن تنہا اتنا عرصہ اذیتیں سہتا رہا۔۔۔ماہرہ کا دل اسکی ایک ایک تکلیف پر اشکبار تھا۔۔۔  
ماہرہ کے سر رکھنے کے باعث فائز کے سینے سے درد کی شدید ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔۔ مگر وہ یہ بات چاہ کر بھی اسے کہہ نا سکا۔۔۔ بس نرمی سے اسکے گرد حصار بنائے اسکا سر سہلاتا رہا۔۔۔ جب اسکے منہ سے نکلتی ہلکی  سی کراہ سن کر وہ چونک کر ہوش میں آتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
ایم۔۔۔ ایم سو سوری فائز۔۔۔ سو سوری یار۔۔۔ مجھے بالکل پتہ نہیں چلا۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ ریلیکس ہو جاو یار۔۔۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔۔۔ اپنوں کے بیچ آ کر ہی تو میں خود کو تندرست محسوس کرنے لگا ہوں۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر کہتا زرا ریلیکس ہو کر بیٹھا تو وہ بھی صوفے کی ٹیک سے سر ٹکاتی اسے ہی دیکھنے لگی۔۔۔
کہتے ہیں اللہ کے اپنے بندے کو آزمانے کی تین طریقے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی سی بولی۔۔۔ 
ایک۔۔۔ وہ مانگنے پر فوراً عطا کر کے شکر کا امتحان لیتا ہے۔۔۔
دوسرا ۔۔۔وہ مانگنے پر دیر کرتا ہے اور انسان کے صبر کا امتحان لیتا ہے۔۔۔
تیسرا وہ مانگنے پر عطا نا کر کے انسان کے ایمان کا امتحان لیتا ہے۔۔۔ 
میری آزمائش شاید صبر کی تھی۔۔۔  تم نہیں تھے نا میرے پاس میں تو گویا اندھی ہوگئ تھی۔۔۔ میں نے جانا کے تمہارے بنا تو میں کچھ بھی نہیں۔۔۔ جو تھی تمہارے دم سے تھی۔۔۔ وہ اظہار کے معاملے میں کبھی بھی کنجوس نا تھی۔۔۔ اب کنجوسی کیسے کرتی جب عرصے بعد وہ میسر آیا تھا۔۔۔
وہ لب بھینچے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ تمہیں پتہ ہے ۔۔۔ تمہارے بعد اس بے رحم دنیا نے مجھے اپنے بہت سے رنگ دکھائے۔۔۔ اسکی آنکھیں بھرانے کیساتھ ساتھ لہجہ تک بھر آیا۔۔۔
ہر لمحہ میں نے تمہیں یاد کیا۔۔۔ اللہ سے تمہیں بارہا مانگا۔۔۔ مگر واقعی۔۔۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے۔۔۔ میری سوچ سے بھی زیادہ۔۔۔ مجھے تنہا تو دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔ کہتی تھی فائز نہیں تو تمہارا تو وجود ہی نہیں۔۔ اپنے لئے نیا سہارا تلاشو۔۔۔ اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔ تمہیں کہاں کہاں سے دکھاوں فائز ۔۔ تمہاری ماہرہ کو اس بے رحم دنیا نے کیسے کیسے زخمی کیا ہے۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سے بہت دقت سے بول رہی تھی۔۔۔ جیسے میلے میں گھما بچہ کوئی اپنا مل جانے پر شکایتوں کی پوٹری کھولے بیٹھا ہو۔۔۔
تم واپس آگے ہو نا۔۔۔ اب بس تمہارے پیچھے چھپ کر اس ظالم دنیا کے ظلموں سے محفوظ ہو کر پرسکون رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ شدت سے اسکا ہاتھ تھامتی ماتھے سے لگا گی۔۔۔
فائز نے نرمی و محبت سے اسکے آنسو چنے۔۔۔ جب یکدم اپارٹمنٹ کا درلوازہ کھلا اور بابا اور مظہر اندر داخل ہوئے۔۔۔
انہیں اندر آتا دیکھ ماہرہ سرعت سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔۔ چہرے کی رنگت یکدم متغیر۔۔۔ فائز اسکے چہرے کی اڑتی رنگت دیکھ چونک اٹھا۔۔۔
مظہر نے ہاتھ میں مہندی کے لباس کی سجی باسکٹ اور بڑائیڈل ڈریس کا ڈبہ تھام رکھا تھا۔۔۔
ماہرہ نے ایک چور نگاہ فائز کو دیکھتے تھوک نگلا۔۔۔ 
ماہرہ بیٹا۔۔ جو تم چاہتی تھی وہ ہو گیا۔۔۔ شام کو تمہاری مہندی ہے اور یہ رہا تمہاری مہندی کا اور دلہن کا لباس۔۔۔  کچھ وقت تک بیوٹیشن یہیں آ جائے گی پھر مظہر تمہیں یہاں سے پک کر لے گا۔۔۔ اب کسی قسم کے اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔۔۔  اب تمہارا انکار۔۔۔
بابا کی باتوں کے ساتھ ہی ماہرہ کی رنگت زرد پڑتی جا رہی تھی۔۔۔ اسکی زرد پڑتی رنگت اور بابا کی باتوں سے فائز کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔۔۔ بابا تو اسے یکسر نظرانداز کئے مکمل طور پر ماہرہ سے مخاطب تھے ۔۔۔ غالباً وہ اسے روبورٹ ہی سمجھے تھے۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ماموں جان۔۔۔ کی۰سے ہیں آپ۔۔۔ یار پہلے بیٹے سے تو مل لیں۔۔۔ پھر بیٹی سے بھی بات چیت کر لیجئے گا۔۔۔ وہ تو تب سے آپکے پاس ہی تھی۔۔۔ دور سے تو میں ایا ہوں۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کوئی اور بات کرتے ۔۔۔ فائز مسکرا کے انہیں مخاطب کرتا انکی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتآ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جبکہ اظہر صاحب حیرت و انیساط سے ماتھے پر بل لئے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہیں ہے یار آپکاپ فائز ہی ہوں۔۔۔ کوئی روبو بوائے نہیں۔۔ وہ اندر ہے لیب میں اپنے کام پر لگا ہوا۔۔ اسنے مسکرا کر لیب کے بند دروازے کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔ 
بابا نے حیرت سے وہاں دیکھا۔۔۔ مظہر کی حالت بھی کچھ یونہی تھی۔۔۔
فائز علوی۔۔۔ یہ جو ایک مضبوط سہارا مجھ سے کھو گیا تھا۔۔۔ میں نے بارہا اسے دعاوں میں مانگا ہے۔۔۔ اور اب  میرے مالک نے مجھے اس سہارے سے نواز دیا۔۔۔ جس کے پیچھے  چھپ کر میں ہر فکر و غم سے آزاد ہونا چاپتی ہوں۔۔۔ ماہرہ نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے فائز کے کندھے کو چھوا۔۔۔ یوں کے اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔۔۔۔ 
لحاظہ اب تم جانو۔۔۔ یہ سب جانیں اور یہ سفاک دنیا جانے۔۔۔  میرا محافظ میرے پاس ہے تو مجھے کسی چیز کا غم نہیں۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیٹ کہتی جا کر کمرے میں بند ہوگئ۔۔۔ جبکہ جاتے جاتے اظہر صاحب کو پتھر کا بنا گئ۔۔۔
*****
ماموں جان۔۔۔۔ وہ قدم قدم اٹھاتا  انکی جانب بڑھا جو بالکل گم صم سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ مظہر بھی شش و پنج میں مبتلا تھا۔۔۔
تم فائز نہیں ہو۔۔۔ یہ پھر سے ماہرہ کی کوئی فضول سی پلانینگ ہے شادی سے بچنے کے لئے۔ ۔۔ لیکن اگر اسنے اس مرتبہ انکار کیا تو۔۔۔
ماموں جان کا جسم بے بسی سے کپکپانے لگا تھا۔۔۔ جب فائز نے بے ساختہ آگے بڑھتے انہیں شانوں سے تھاما۔۔۔
ریلیکس۔۔۔ یلیکس ماموں جاں ۔۔۔ آپ یہاں آئیں ۔۔۔ بیٹھیں۔۔۔ وہ زبردستی انہیں پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتا جگ سے پانی کا گلاس بھر کر انکی جانب بڑھا چکا تھا۔۔۔
پانی پیئں پہلے۔۔۔ انہیں ہنوز بھرائی نم آنکھوں سے تکتا پا کر فائز نے خود ہی پانی کا گلاس انکے لبوں سے لگایا۔۔۔
میں فائز علوی۔۔۔ آپکا بیٹا ماموں جان۔۔۔ مانا کے دو سال کے عرصے کے بعد دیکھ رہے ہیں لیکن ممکن نہیں کے مجھے پہچان نا پا رہے ہوں۔۔۔۔ اسکے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔
وہی لہجہ۔۔ وہی شائستہ انداز۔۔۔ وہی اطوار۔۔۔ وہی دل مو لیتا کردار ۔۔۔ وہ کس کس چیز کو جھٹلاتے۔۔۔ بے ساختہ ایک آنسو انکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔ فائز نے انکے کپکپاتے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگانے کے بعد عقیدت سے آنکھوں سے لگائے تو وہ رو دئیے۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے بھلا۔۔۔
انکے پوچھمے پر فائز انہیں اپنے ساتھ گزری ایک ایک بات انکے گوش گزارتا رہا جسے سن کر وہ گویا پتھرا گئے۔۔۔
تمہیں تو پھر ریسٹ کرنی چاہیے فائز تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔۔۔ اسے اسقدر ظالمانہ انداز میں گولیاں لگنے کا سن کر انکی پدرانہ شفقت جاگ اٹھی۔۔۔
اب بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں ماموں جان۔۔ شاید اپنوں میں لوٹ آنے کی خوشی ہے جو کسی درد تکلیف کو محسوس نہیں ہونے دے رہی۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرایا۔۔۔ پھر اٹھ کر پاس کھڑے ساکت سے مظہر تک آیا اور آگے بڑھ کر اس سے گلے ملا۔۔۔ وہ بھی ہوش میں آتا اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔ حالانکہ دونوں میں خوشگوار تعلقات کبھی بھی نا رہے تھے۔۔۔اور اس میں بھی زیادہ ہاتھ مظہر کا ہی تھا جسنے ہمیشہ اسے ڈی گریڈ ہی کیا تھا۔۔۔ مگر اب بہن کی بدولت رشتہ ہی ایسا بن گیا تھا یا وہ سب بچپن کی نادانیاں تھیں
۔۔۔ وہ اس سے بہت خوش ہو کر ملا۔۔۔
یہ سب کیا ہے ماموں جان ۔۔۔ وہ بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی انکے منہ سے سننا چاہتا تھا تبھی اسکا اشارہ مہندی اور برائیڈل ڈریس کی جانب تھا۔۔۔
ماموں جان کسی حد تک شرمندہ ہو اٹھے۔۔۔ میں بہت ڈر گیا تھا فائز۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ میری بیٹی پچھلے دو سالوں سے جوگن بن گئ تھی۔۔۔ ہر چیز سے خود کو کاٹ کر اسنے خودکو خود تک ہی محدود کر لیا تھا۔۔۔ اور پھر میر والا واقع میرے قدموں تلے سے زمین تک سرکا گیا۔۔۔ مجھے اسکی فکر تھی۔۔۔ اسی لئے چاہتا تھا کے اسے اس بے رحم دنیا میں ایک مضبوط سائبان فراہم کروں۔۔۔ یہ ایک باپ کی بے بسی تھی بیٹا جو بیٹی کی رضا مندی کے خلاف جا کر میں اسکی بہتری کو مدنظر رکھتے یہ فیصلہ کر رہا تھا۔۔۔ وہ پشیمانی سے کہتے سر جھکا گئے تو فائز جا کر انکے ساتھ بیٹھتا انہیں اپنے حصار میں لے گیا۔۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں ماموں جان۔۔۔ اولاد کی محبت چیز ہی ایسی ہے جو آپکو بے بس کر ڈالتی ہے۔۔۔ ماں باپ تو اولاد کے لئے دل چیر کر بھی خوشیاں خرید لانے کے خواہشمند ہو جاتے ہیں۔۔۔ اس تکلیف سے گزر چکا ہوں اس لئے آپکا درد بہت اچھے سے سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ لیکن اب چونکہ میں آگیا ہوں تو دوبارہ ماہرہ کے سامنے اس بات کا ذکر تک مت کرئیے گا۔۔۔ وہ ہرٹ ہوتی ہے۔۔۔ اور اب میں اسے مزید ہرٹ کرنا نہیں چاہتا۔۔۔ فائز کے رسانیت سے کہنے پر وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گئے۔۔۔
میرے خیال میں ہمیں چلنا چاہیے بابا۔۔۔ جا کر ابھی یہ فنگشن رکوانا بھی ہے اور مام سمیٹ سبکو فائز کی آمد کے بارے میں بھی بتانا ہے ۔۔۔ مظہر نے عقلمندی کا مظاہر کرتے وہ لباس واپس اٹھاتے باپ کو وقت کی قلت کا احساس دلایا تو وہ بھی سر ہاں میں ہلاتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
****
وہ بہت ٹھنڈی میٹھی پرسکون نیند کی وادیوں میں اتری ہوئی تھی  جب اسے اپنے بالوں میں کسی کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا۔۔۔ اس سکون کو محسوس کرتے وہ نیند میں بھی مسکرا دی۔۔۔
مسلسل سر میں سرائیت کرتے اس نرم سے لمس کے باعث وہ کچھِ ہی پلوں بعد مسکراتی ہوئی آنکھیں کھول گئ۔۔۔ اور آنکھیں کھولتے ہی بڑا خوبصورت منظر اسکا منتظر تھا۔۔۔ فائز علوی ڈھیلے سے ٹراوز شرٹ میں ملبوس ایک ٹانگ مورے بیڈ کراون سے ٹیک لگائے اسکی جانب جھکا بہت محنت سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ پرکشش ساحرانہ نگاہیں اسی کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔ نیند کی خماری کے اترتے اسنے گردن گھما کر گویا مائز کو ڈھونڈنا چاہا جو اسکے بائیں جانب بستر پر پھیل کر لیٹا محو استراحت تھا۔۔۔ ماہرہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔ اسکا باپ آگیا تھا اور اب ماہرہ کو اسکی فکر نا رہی تھی۔۔۔ دفعتاً اسکی نگاہ وال کلاک پر پڑی جو رات کا ڈیڑھ بجا رہا تھا۔۔۔ مائے گاڈ۔۔۔ وہ چونک اٹھی۔۔۔ میں اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ وہ زرا سا سیدھی ہوتی بیڈ کرون سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوئی۔۔۔ وہ تو سر شام ہی سو گئ تھی اور اب تو آدھی رات ہو چکی تھی۔۔۔ مطلب سارا وقت مائز فائز کے پاس ہی رہا۔۔۔
فائز بھوک لگی ہے۔۔۔ دفعتاً وقت کا احساس ہوتے ہی اسکی بھوک جاگ اٹھی ۔۔۔ ویسے بھی اسنے پریس میں جانے سے پہلے ناشتہ ہی کیا تھا۔۔۔ تبھی اسکی جانب دیکھتی لاڈ سے بولی۔۔۔ 
وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔
سویٹ ہارٹ شوہر بیچارا بیمار ہے۔۔۔ تین تین گولیاں لگی ہیں اسے۔۔۔ بجائے اسکے کھانے پینے کا خیال رکھنے کے تم الٹا اسے ہی بول رہی ہو۔۔۔ اسکا انداز متاسفانہ تھا۔۔۔ ماہرہ کی رنگت پل بھر میں بدلی۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
ایم سو سوری فائز۔۔۔ میں تو یہ بات یکسر بھول ہی گئ تھی۔۔۔ تمہیں بھوک لگ رہی ہوگئ نا میں ابھی تمہارے لئے کچھ پرہیزی کھانا بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔ اسکی حواس باختگی اور عجلت دیدنی تھی۔۔۔ وہ تو وہی پہلے والا فائز سمجھ کر فرمائش کر گئ تھی۔۔۔ جو بالخصوص اسکے لئے کوکنگ کر کے اسے زیر نگرانی کھانا کھلاتا تھا۔۔۔ 
ارے یار رکو تو صحیح۔۔۔ کہاں بھاگی جا رہی ہو۔۔۔ فائز نے اسے بازو سے تھامتے بستر سے اترنے سے روکا۔۔۔
تمہیں تو خود بھوک لگ رہی ہے نا تو بھوک میں تو تم سے ویسے بھی کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہوتا۔۔۔ 
وہ خفت سے مسکرا دی۔۔۔
اب ایسی بھی بات نہیں فائز علوی۔۔ تم دو سال پہلے کی ماہرہ کو جانتے ہو۔۔۔ ان دو سالوں نے مجھے بہت سے رنگ دکھائے ہیں بہت کچھ سیکھ چکی ہوں میں۔۔۔ اس لئے اب مجھے انڈر ایسٹیمیٹ مت کرنا۔۔۔ 
چلو پھر ایک کام کرتے ہیں۔۔۔ اکھٹے کھانا بناتے ہیں۔۔۔ اسنے کچھ سوچتے نئ تجویز پیش کی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا اسکی تجویز مسترد کر گئ۔۔۔
چلو پھر باہر چلتے ۔۔۔ فائز نے چٹکی بجاتے اگلا حل پیش کیا۔۔۔
اس وقت۔۔۔ ماہرہ کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے۔۔۔
بالکل اس وقت۔۔۔ ابھی ابھی تو قید تنہائی اور بندشوں سے رہائی ملی ہے۔۔۔ اب زرا آزادی بھی تو محسوس کرنی چاہیے نا۔۔۔ یہاں تھوڑی نا کوئی قید ہے جو اس وقت گھر سے نکلنے کے بارے میں سوچا نا جائے۔۔۔
اٹھو چلو جلدی کرو۔۔۔ دو منٹوں میں باہر آو۔۔۔ وہ جلدی مچاتا اسے ہاتھ سے پکڑ کر بستر سے اتار گیا۔۔۔ یوں کے وہ بوکھلا کر رہ گئ۔۔۔
مگر مائز۔۔۔ وہ سو رہا ہے۔۔۔
اسکا مسلہ نہیں۔ اسکا باپ ہے اسے سمبھالنے کو۔۔۔ تم بس چادر اوٹھ کر باہر آو۔۔۔۔ وہ دوسری سائیڈ سے آتا جھک کر سوئے ہوئے مائز کو اٹھاتے اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر اسے کندھے سے لگاتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ 
*****
وہ لوگ اس وقت ایک مشہور شاہراہ کے قدرے سنسان گوشے میں گاڑی میں بیٹھے تھے۔۔۔ سامنے فوڈ پوائنٹ پر بہت رش تھا۔۔۔  ماہرہ نے باہر جانے کی بجائے وہیں سوپ منگوایا تھآ۔۔۔
اسکی گود میں سویا مائز اٹھ چکا تھا اور اب کلکاریاں مارتا کبھی ماں اور کبھی باپ کے پاس جا رہا تھا۔۔۔ اسکی معصوم معصوم حرکتیں دیکھ وہ دونوں خوش ہو رہے تھے۔۔۔کبھی فائز اسکے ننھے ننھے ہاتھوں کے سامنے اپنی انگلی کرتا تو وہ جھٹ سے اسے تھام لیتا۔۔۔ فائز اسکے صوقے واری جاتے اسکے ننھے ننھے ہاتھوں کا بوسہ لیتا تو ماہرہ اسے سینے میں بھینچتی چٹاچٹ چوم ڈالتی۔۔۔۔ وہ ماں اور باپ دونوں کی توجہ پا کر بے حد خوش تھا۔۔۔
دفعتاً انکا آرڈر آگیا۔۔۔ فائز اللہ کتنا پیارا ہے نا۔۔۔۔ وہ سوپ پیتی کھوئی کھوئی سی گویا ہوئی۔۔۔ تو فائز مسکرا دیا۔۔۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے اللہ نے مجھے ایک مشکل فیز سے گزارا ہی خود سے جوڑنے کے لئے تھا۔۔۔ میری غفلت کو دور کرنے کے لئے۔۔۔ اپنے ہونے کا احساس دلانے کے لئے۔۔۔ ورنہ کیا کوئی میرے جتنا غافل بھی ہو سکتا تھا بھلا ۔۔۔ جسے اپنا مقصد حیات ہی نا معلوم ہو۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرائی۔۔۔
اللہ نے مجھ سے میری سب سے محبوب چیز دور کر دی۔۔۔ جسے دیکھ دیکھ میں جیتی تھی۔۔۔ میں آخری حد تک ٹوٹ گئ۔۔۔ بکھر گئ۔۔ مگر میرے رب کی یہ ہی تو شان ہے کے وہ بڑے سے بڑا غم دے کر بھی انسان کو تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ وہ تو ہمیشہ انسان کو تھامنے کو تیار رہتا ہے۔۔۔ بس انسان ہی غفلت میں مارا جاتا ہے۔۔۔ میرا میرے رب کی جانب بڑھنے کا سفر بھی تمہارے کھو جانے کے بعد ہی شروع ہوا۔۔۔ تب میں نے جانا کے قرآن میں تو کوئی ایک سورۃ بھی ہوپ لیس نہیں۔۔۔ پورا قرآن محض بھرا ہی امید سے ہے۔۔۔ کے اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا۔۔۔ حالات جو بھی ہوں آپ جس مقام پر بھی ہوں ۔۔۔ مر رہے ہو۔۔۔ ٹوٹ گئے ہو۔۔۔ بکھر گئے ہو۔۔۔ ریزہ ریزہ ہو گئے ہو تب بھی اللہ سے امید نا چھوڑنا۔۔۔ وہ ہے نا۔۔۔ اور جب وہ ہے تو تمہیں کیا غم۔۔۔ جو رب حضرت موسی کو فرعون پر غالب لا سکتا ہے۔۔۔ جو حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ سے سہی سلامت واپس لا سکتا ہے ۔۔ جو حضرت عیسی کو زندہ سلامت اوپر اٹھا سکتا ہے کیا وہ رب تمہارے لئے راستے نہیں بنا سکتا۔۔۔ اور پھر حضرت یعقوب علیہ اسلام کے واقعی نے بہت ہمت دی مجھے فائز۔۔۔ انکا غم تو اتنا بڑا تھا کے وہ رو رو کر اندھے ہو گئے۔۔۔ اسقدر گہری چوٹ۔۔۔ مگر انکا اپنے رب پر توکل بڑا نیکسٹ لیول کا تھا۔۔۔ آخری وقت تک انکی امید نہیں ٹوٹی۔۔۔ پھر کیا ہوا۔۔۔ اللہ نے بیٹا بھی لوٹایا۔۔۔ اور بادشاہی دے کر لوٹایا۔۔۔ اور بینائی بھی واپس آگئ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔
بے شک یہ سب میرے مالک کی ہی کرم نوازی ہے جو کہتا ہے میں اپنے بندے کو اسکی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا۔۔۔
ماہرہ کی آواز بھر آئی۔۔۔
اس رب نے تمہیں مجھ سے ملا دیا نا۔۔ لگتا ہی نہیں کبھی وہ برا وقت تھا بھی۔۔۔ وہ وقت برا تھا۔۔۔ بہت برا۔۔۔ لیکن اسنے کٹوا دیا نا۔۔۔ اور یہ ہی شان ہے میرے مالک کی۔۔۔ بے ساختہ اسکی آنکھیں بھر آئیں تو فائز نے اسے بازو کے حصار میں لئے اپنے ساتھ لگایا۔۔ سہارا پاتے ہی وہ سسک اٹھی۔۔۔
یقین نہیں آتا کے میری آزمائش ختم ہوگئ۔۔۔ اس خوبصورت حقیقت  پر گمان کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ اسنے بھرائی نگاہوں سے اسکا چہرا دیکھتے اپنا مومی ہاتھ اسکی گال پر رکھا۔۔۔
کہتے ہیں جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے نا تو اسے مصائب میں ڈال دیتا ہے۔۔۔ فائز ہولے سے ہسا۔۔۔ آزماتا ہے اس انسان کو۔۔۔ یہ میرے اللہ کا فریم آف ورک ہے۔۔۔ اس لئے جو مشکل وقت انسان کو اللہ کے قریب تر کر دے وہ مشکل وقت بھی رحمت ہے اور جو مشکل انسان کو باغی بنا دے اللہ سے دور کر دے۔۔۔ وہ دنیا میں ہی انسان کے لئے سزا ہے۔۔۔
مجھے خوشی ہے کے ہمارا برا وقت بھی ہمارے لئے خدا کی رحمت رہا۔۔۔ جسنے نا صرف ہمارا توکل ہمارے رب پر بڑھاتے ہمیں اسکے مزید قریب کیا بلکہ ہمیں بھی مزید ایک دوسرے کا قدردان بنایا۔۔۔ وہ اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکرائے آہستہ آواز میں سرگوشیاں کر رہا تھا۔۔۔ ماہرہ ہولے سے مسکرا دی۔۔۔ نیز اس مشکل وقت میں بھی ہمیں ایک خوبصورت تحفے سے نواز دیا۔۔۔ ماہرہ نے مسکراتے ہوئے مائز کی جانب اشارہ کیا جو اپنی ہی ایک دنیا آباد کئے ڈیش بورڈ کھولے اندر موجود چیزیں نکال نکال کر انکا باہر ایک ڈھیر لگا رہا تھا۔۔۔
فائز نے مسکراتے ہوئے مائز کی ننھی گال کا پرشدت بوسہ لیا۔۔۔ یہ تو شہزادہ ہے ۔۔ میرے جینے کی وجہ۔۔۔ اسکا بوسہ اسقدر پرشدت تھا کے مائز شدت سے رو دیا۔۔۔
ماہرہ نے اسے اٹھا کر سینے میں بھینچتے فائز کو گھورا۔۔۔
ابھی جو یہ بھاگ بھاگ کر ماں کی گود میں چھپتا ہے نا۔۔۔ ایک ہفتہ گزر لینے دو جو یہ زرا باپ کی گود سے اتر بھی گیا تو۔۔ وہ مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔
******
صبح تقریباً نو بجے ہی مامی ماموں جان کے سنگ فائز کے اپارٹمنٹ میں موجود تھیں۔۔۔۔ فائز جو مائز کو تیار شیار کئے کپڑے چینج کروا کر سیریلیک کھلا رہا تھا انہیں یوں فلیٹ میں آتا دیکھ مائز کا منہ صاف کر کے مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور نہایت خوشدلی سے ممانی سے جا کر ملا۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر اسے نم آنکھوں سے دیکھتے رہنے کے بعد اسکے ماتھے کا بوسہ لے گئیں۔۔۔ فائز کھل کر مسکرا دیا۔۔۔
اللہ تمہیں لمبی زندگی دے میرے بچے۔۔۔ اور تمہارا سایہ صدا میری بیٹی کے سر پر بنا رہے۔۔۔ ورنہ وہ تو رل گئ تھی تمہارے بنا۔۔۔ ممانی جان نے انگلی کی پور سے نم آنکھیں صاف کی تو وہ انہیں بازو کے حصار میں لے کر صوفے تک آیا۔۔۔ ماموں جان مائز کو اٹھائے اس سے کھیلنے لگے تھے۔۔۔
انہیں صوفے پر بیٹھا کر وہ خود بھی سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ مام نے جانچتی نگاہوں سے ارد گرد دیکھا مگر انہیں ماہرہ کہیں دکھائی نا دی۔۔۔
ماہرہ کہاں ہے۔۔۔ بلآخر وہ زیادہ دیر تک دل میں پنپتا سوال دل میں نا رکھ پائیں۔۔۔
وہ سو رہی ہے ممانی جان۔۔۔ رات مائز تنگ کرتا رہا تو وہ ٹھیک سے سو نہیں پائی۔۔۔ اس لئے ابھی تک اٹھی نہیں۔۔۔ اور ہم باپ بیٹے نے بھی اسے تنگ نہیں کیا اور خاموشی سے کمرے سے نکل آئے۔۔۔ انہیں مسکرا کر کہتے اسنے ماموں جان کی گود سے مائز کو تھاما جو دونوں ہاتھ اٹھا کر لپک کر اسکی طرف آ رہا تھا۔۔۔
رات واپسی پر انہیں دیر ہوگئ تھی اور تب تک مائز اپنی نیند پوری کر کے بالکل فریش تھا جیسے نا خود سوئے گا نا انہیں سونے دے گا۔۔۔ اور وہ دونوں بھی بنا ماتھے پر شکن لائے رات گئے تک اسکے ساتھ کھیلتے رہے جو بستر پر کبھی ماہرہ پر چڑھ جاتا تو کبھی فائز پر۔۔۔ وہ دونوں اسکی شرارتیں اور کلکاریاں دیکھ دیکھ خوش ہوتے تھے۔۔۔
ان سب تکلفات کی کوئی ضرورت نہیں تھی بیٹا۔۔۔ کچھ دیر بعد فائز کو چائے کے ساتھ اچھا خاصا اہتمام کر کے لے آنے پر مامی جان خاموش نا رہ سکیں۔۔۔ وہ خود بیمار تھا اوپر سے مائز سمبھال رہا تھا نیز انکے لئے اہتمام تک کر لایا تھا۔۔۔
ارے تکلف کی کیا بات ہے مامی جان۔۔۔ میرا خودکا بھی چائے پینے کا موڈ ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے مسکرا کر ٹرے انکے سامنے رکھتے انہیں سرو کرنا چاہا جب مامی جان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے خود سرو کرنا شروع کیا۔۔۔ وہ مائز کو اٹھائے پھر سے بیٹِھ گیا۔۔۔
اب ماہرہ کو اٹھا دو فائز۔۔۔ خاصا وقت ہو گیا ہے۔۔۔ گھڑی کو دس کا ہندسہ عبور کرتے دیکھ مامی گویا ہوئیں۔۔۔ اس وقت فائز کو خود کئیر اور خدمت کی ضرورت تھی۔۔۔
چھوڑیں نا ممانی جان۔۔۔ اٹھ جائے گی جب نیند پوری ہوگئ اسکی۔۔۔ کوئی تھوڑی بے آرامی تو نہیں کاٹی اسنے۔۔۔ ابھی تو پرسکون ہوئی ہے۔۔۔ کرنے دیں اسے انجوائے اپنی سکون کی نیند۔۔۔ وہ ہولے سے مسکراتا کوکیز چائے میں دبو کر نرم کرتا گود میں بیٹھے مائز کو کھلا رہا تھا۔۔۔
مامی جان نے اسے نم آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ دل اور آنکھوں سے کدورت کی پٹی اتری تھی تو وہ شخص خودباخود ہیرا دکھائی دینے لگا تھا جسکے پیچھے انکی بیٹی پاگل تھی۔۔۔ اسکی پوشیدہ خوبیاں بھی دکھائی دینے لگی تھیں۔۔۔
نہیں میں تو تمہارے احساس سے کہہ رہی تھی کے تم خود بیمار ہو اور مائز کو یوں سمبھالنا ۔۔
نہیں یہ اتنی بڑی بات نہیں مامی جان ۔۔۔ انفیکٹ ہم دونوں تو بہت اچھا وقت گزار رہے ہیں۔ بس اب یہ بھی دوبارہ سے سو جائے گا ۔۔۔ اسنے چائے کی چسکی لیتے گویا بات ہی ختم کر دی۔۔
تقریباً گیارہ بجے کے قریب ماہرہ موندی موندی آنکھیں لئے۔۔۔ نائٹ سوٹ میں ملبوس بالوں کا گول مول سا جوڑا بناتی کمرے سے نکلی۔۔۔ فائز میں اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ تم نے مجھے جگایا نہیں یار۔۔ اور ناشتہ۔۔۔ وہ اپنے دھیان بات کرتی باہر آ رہی تھی جب سامنے مام اور بابا کو دیکھ خوشی سے چیخ اٹھی۔۔۔
مام۔۔۔ بابا۔۔۔ وہ لپک کر ماں کی آغوش میں آسمائی۔۔۔
کیسی ہیں آپ۔۔۔ ماں نےباریک بینی سے اسکا ہستا مسکراتا چہرا دیکھتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا جو ایک ہی رات میں کھلتے گھلاب کی طرح مہکنے لگا تھا۔۔۔۔
 چہرے اور آنکھوں میں آلوہی سی چمک تھی۔۔ صدا سہاگن رہو۔۔۔ خدا تمہارا دامن خوشیوں سے بھرے۔۔۔ ماں نے صدق دل سے دعا دیتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
بابا۔۔۔ ماں کے بعد وہ باپ سے آ کر ملی ۔۔۔۔ میرا پیارا بچہ۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔  انہوں نے محبت سے اسکے سر پر پیار دیا۔۔۔
آپ مجھ سے ناراض تو نہیں نا بابا ۔۔۔ وہ باپ کی بازو تھامتی انکی ساتھ ہی بیٹھتی گلوگیر آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ وہ نرمی سے مسکرا دئیے۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ بلکہ میں اپنی بیٹی کے لئے بہت خوش ہوں۔۔۔ بابا کے مسکرا کر کہنے پر وہ ہلکی پھلکی ہوگئ۔۔۔
تمہارا ناشتہ اوون میں پڑا ہے ماہرہ ۔۔۔ گرم کر کے پہلے ناشتہ کرلو۔۔۔ تب تک میں اسے سلا آوں۔۔۔  فائز نیند سے بھری آنکھیں لئے رین ریں کرتے مائز کو اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔  مام نے مسکراتی نگاہوں سے فائز کو مائز کو تھپکتے کمرے کی جانب لیجاتے دیکھا۔۔۔ وقت نے ثابت کیا تھا کے انکی بیٹی کا انتخاب اسکے لئے بہترین انتخاب تھا۔۔۔ فائز علوی ماہرہ فائز علوی کے لئے ایک بہترین ہمسفر ثابت ہوا تھا۔۔۔
*****
ماہرہ اپارٹمنٹ کے لاوئنج میں بیٹھی چائے پی رہی تھی جبکہ مائز نیچے کارپٹ پر بیٹھا اپنے سوفٹ ٹوائز سے کھیل رہا تھا۔۔۔ سامنے دیوار گیر ایل سی ڈی چل رہی تھی جہاں فائز مرتسم اور وہاج کیساتھ ساتھ انکا روبو بوائے بھی ایک مارنینگ شو میں بیٹھے تھے جہاں سے انکی لائیو ٹرانسمیشن وہ اس وقت پورے انہماک سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ان تینوں نے ماہرہ کو بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا کے جو بھی تھا اس مقصد کی دوبارہ بنیاد اسی نے رکھوائی تھی۔۔۔ لیکن وہ سہولت سے انکار کر گئ جب اسکے پاس ہر چیز کی بھاگ ڈور کرنے کے لئے اسکا سائبان موجود تھا تو وہ پھر کیوں ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی۔۔۔ بہت مشقت کاٹی تھی اسنے اب وہ سب عزیز از جان شوہر کے سپرد کرتی خود پرسکون رہنا چاہتی تھی۔۔۔ شوہر اولاد اور گھر کا سکون دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ ویسے بھی یہ سب کام فائز کے تھے۔۔۔ وہ جانتا اور اسکے کام ۔۔۔ ابھی بھی مارنینگ شو میں جانے سے پہلے اسنے خود اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر اسے کروایا تھا۔۔۔ اور ابھی کچن کاونٹر ٹاپ پر لنچ کی تیاری کے لئے چیزیں پڑی تھیں۔۔۔ وہ خود چائے پی کر دوبارہ سے کچن کا رخ کرنے والی تھی۔۔۔ بہت تیزی سے اسنے خود کو واپس ورکنگ وومن سے ہاوس وائف میں ڈھالا تھا۔۔۔ اب اسکے گھر کا کونا کونا گھر میں اسکی موجودگی کاگواہ تھا۔۔۔ بزنس اور باقی ہر چیز سے توجہ ہٹاتی وہ اپنی چھوٹی سی جنت اپنے شوہر بچے اور اپنے گھر کی جانب مبذول کر چکی تھی۔۔۔
مارنینگ شو میں سب سے پہلے آیڈینس سیگمنٹ میں روبو بوائے سے سوال جواب جاری تھے جسکے وہ مشینی انداز میں جواب دے رہا تھا۔۔۔
ہمیں پتہ چلا ہے کے آپ ایک انتہائی خطرناک چیز ہیں۔۔۔ اے آئی کے انٹروڈیوس ہونے کی بدولت بے روزگاری بڑھنے والی ہے اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں جانے والی ہیں۔۔۔ آڈینس میں سے ایک چلبلے سے لڑکے نے اس سے تندہی سے سوال کیا۔۔۔
وہ تینوں روبو بوائے کیساتھ پرسکون سے بیٹھے تھے۔۔۔ 
ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ آپکو غلط معلومات فراہم کی گئ ہے۔۔۔ اے آئی کا آغاز انسانی خدمت کے لئے کیا گیا ہے۔۔۔ میں لوگوں کا دوست ہوں اور انکی آسانی کے لئے کام کرتا ہوں۔۔۔ اے آئی کی بدولت کسی کی نوکریاں خطرے میں نہیں پڑی۔۔۔ 
جب سب کی مدد ہی تم کردو گئے تو پیشہ ورانہ افراد کی جاب تو خودباخود گئ۔۔۔ انکے پاس کون جائے گا۔۔۔ وہ لڑکا سرعت سے اسکی بات کاٹتا گویا ہوا۔۔۔
تبدیلی کائنات کا معمور ہے۔۔۔ بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے ساتھ یہاں سروائیو وہی کرے گا جو وقت کے تقاضوں کیساتھ ساتھ خود کو تیزی سے اپڈیٹ کرتے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالے گا۔۔۔ جیسے مختلف ایپس کے نئے ورزن آنے کے بعد پرانے اپنی اہمیت کھو جاتے ہیں۔۔ اسی طرح جو لوگ اپنا ورزن وقت کے ساتھ ساتھ اپڈیٹ کرتے جائیں گے اور اے آئی کا بہتریں استعمال کریں گے انکا بول ہمیشہ بالا رہے گا۔۔۔
مسٹر فائز علوی۔۔۔ آپکے خیال میں اے آئی کا بہتریں استعمال کیا ہے۔۔۔ ایک لڑکی نے کھڑے ہوتے روبو بوائے کی بجائے فائز سے سوال داغا۔۔۔
وہ گلہ کنگارتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
دیکھیے محترمہ ٹیکنالوجی کے سہی استعمال سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کے اسکا غلط استعمال کیا ہے۔۔۔ آپکا سوال بہت ویلیڈ ہے اور اس پر میں کئ گھںٹے بول سکتا ہوںیکن پھر شاید آپ بور ہو جائیں۔۔  وہ ہلکا سا مسکراہا۔۔۔ اسکی روشن مسکراہت پر میلوں دور بہٹھی ماہرہ نے وہیں سے اسکی نظر اتاری۔۔۔
جہاں پچھلے کچھ عرصے میں ہماری ویب سائٹ اور ایپ نے دنیا بھر میں بہت مقبولیت حاصل کی۔۔۔ اسکے یوزرز لاکھوں بلکہ عربوں میں چلے گئے ہیں۔۔۔ پوری دنیا میں مختلف ممالک سے لوگ اس سے استفادا حاصل کر رہے ہیں وہیں کچھ لمحہ فکریہ اور قابل غور باتیں بھی سامنے آئیں ۔۔۔ جیسے یہ ایجادات کی گئ ہیں زیادہ تر یوتھ کے لئے تا کے وہ اس سے مستفید ہو سکیں اور اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کر سکیں۔۔۔ لیکن ہماری یوتھ نے یہاں ہمیں کچھ مایوس کیا۔۔۔
بجائے اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے چند انتہائی فضول اور بے مقصد سوالات جنکا کوئی وجود نہیں انکی زیادہ بھاری تعداد ہمارے ڈیٹے سے حاصل ہوئی۔۔۔
جیسے زیادہ تر روبو بوائے سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کے تم شادی کب کرو گئے۔۔۔ تمہارا مذہب کیا ہے۔۔۔ بتاو میری شادی کب ہوگئ۔۔۔ تمہارے بال کتنے عرصے بعد لمبے ہوتے ہیں۔۔۔ اور اس جیسے بہت سے بے مقصد سوالات۔۔۔۔
آج میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے سے اپنی یوتھ کو مخاطب کر کے کچھ کہنا چاہتا ہوں کے آپکے پاس اتنی طاقت ہے اتنی طاقت ہے کہ اگر آپ اسکا درست اور بامقصد استعمال کرتے ہیں تو آپ ستاروں پر کمنڈ ڈال سکتے ہیں۔۔۔ پروکیسٹینیشن اور فضولیات کو چھوڑیں۔۔۔ کمر کس کر میدان میں آئین۔۔۔ اپنے وقت کا بہترین استعمال کریں۔۔۔ جہاں ہر چیز کے کچھ فوائد اور کچھ نقصانات ہوتے ہیں وہیں اے آئی کے بھی جہاں بہت سے فوائد ہے وہیں اسکے چند نقصانات بھی ہیں۔۔۔ اگر ہم نے تیزی سے خود کو نا بدلہ تو یہ واقعی ہمیں زندگی کی ڈور میں بہت پیچھے چھوڑ جائے گا۔۔۔ جیسے ڈراوں کیمراز آئے تو موسٹلی دوسرے کیمرا مینز کی جاب خطرے میں پڑ گئ۔۔۔ حالانکہ اگر وہ خود کو اپڈیٹ کرتے سادہ کیمرے سے ڈراون پر شفٹ ہوتے وہ سیکھتے تو کون تھا جو انکی نوکریوں کو خطرے میں ڈال دیتا۔۔۔
اے آئی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اگلے چند سالوں میں کچھ ایسا ایکسٹریم لیول پر ہونے والا ہے جو انسان نے کبھی گمان بھی نا کیا ہوگا۔۔۔ اس لئے اس بدلتی دنیا میں ہمیں تیزی سے خود کو اپڈیٹ کرنا ہے تاکے ہم بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔۔۔ بہت سے اے آئی ٹول اور اے آئی ویب سائٹس ہیں جنہیں مختلف جگہ سے استعمال کر کے ہم اپنی عقل کی بیس پر کچھ بہت ایکسٹرا ارڈنری کر سکتے ہیں۔۔۔ صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لوگ اپنے کیرئر کو لے کر سنجیدہ ہو جائیں۔۔۔ کنویں کے مینڈک نا بنیں۔۔ جو سب کر رہے ہیں اسکی تقلید میں نا بھاگیں پھر چاہے وہ کوئی بھی فیلڈ ہو۔۔ رائیٹنگ کی ہو انڈسٹری کی ہو۔۔۔ ملبوسات کی فیشن کی یا پھر چاہے فود کی ہی کیوں نا ہو۔۔۔ کرنے کو اب بہت کچھ ہے۔۔۔ لیکن ابھی لوگ ایڈمائر نہیں کر رہے۔۔۔
 ان سب کی نظروں میں وہ جو کر رہے ہیں وہ درست ہیں۔۔۔ جب تک بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق وہ اس حقیقت کو ایڈمائر کریں گے تب تک  کرنے والے بہت کچھ کر چکے ہونگے۔۔۔ اس لئے آپکو خود پر اپنے کیرئر پر زرا ہٹ کر الگ انداز سے اے آئی کی مدد سے کام ابھی سے شروع کرنا ہے۔۔۔ تاکے آنے والے چند سال آپکو آپکی آج کی محنت کی بنیاد پر بہت آگے تک لیجا سکیں۔۔۔ اب لڑائیں دماغ۔۔۔ کے آپ سب۔۔۔ اسنے پہلے آڈینس اور پھر کیمرے کی آنکھ میں فوکس کرتے سبھی ناظرین کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ اپنی اپنی فیلڈ میں کیا کمال کر سکتے ہیں۔۔۔ اللہ پر توکل رکھتے آج سے ہی کام شروع کریں  اس کام میں برکت ڈالنے والی اللہ کی ذات ہے۔۔۔ اللہ نے کوئی انسان بھی اس دنیا میں بے مقصد نہیں بھیجا۔۔۔ یہ زندگی بہت مختصر ہے۔۔۔ ہماری سوچ سے بھی زیادہ۔۔۔ اس لیے اپنے اس دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کو پہچانیں۔۔۔ اپنے ٹیلنٹ کو پہچانیں اس پر کام کر کے اسے تراشیں اور پھر اس دنیا میں اپنے آنے کا کردار ادا کریں۔۔۔ آپکے وجود سے لوگوں کی زندگی میں کچھ ویلیو تو ایڈ ہونی چاہیے۔۔۔ ٹرسٹ می یہ زندگی ہمیں سونے کھانے انجوائے کرنے بے مقصد کی ہانکنے وقت ضائع کرنے اور فضول کے کاموں کے لئے نہیں ملی۔۔۔ اس لئے ابھی سے جاگیں۔۔۔ اس غفلت کی نیند سے جو کسی بھی انسان کو سوائے احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے کچھ نہیں دیتی۔۔۔ اٹھیں اور خود پر کام کرتے اپنا ورزن اپڈیٹ کریں اور اس دنیا میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔۔۔
اسکے مسکرا کر کہنے پر ہال تالیوں سے گھونج اٹھا۔۔۔
******
نوٹ۔۔۔ یہ ناول چیٹ جی پی ٹی ۔۔۔ پیکٹوری ڈاٹ اے آئی اور ایسی ہی بہت سی اے آئی کی ایجادات سے انسپائر ہو کر لکھا گیا ہے۔۔۔ یہ سب اپنی اپنی فیلڈ میں یعنی کے کچھ ریٹن کچھ ویڈیو اور کچھ وائس کے لئے ایکسپرٹ اے آئی ایجادات ہیں جنہیں مرکب کر کے ہمارے روبو بوائے کا کردار تشکیل دیا کیا ہے۔۔۔ امید ہے کے آپکو ہماری یہ کاوش پسند آئی ہوگی۔۔۔
*****
فائز علوی اس وقت نیوی بلو ڈنر سوٹ میں ملبوس نک سک سے تیار اپارٹمنٹ میں داخل ہوا گود میں سیم ڈریسنگ کئے ننھا مائز تھا۔۔۔۔۔ اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہی مائز اسکی گود سے اترتا سیدھا لیب میں گیا جہاں روبو بوائے سب کچھ آپریٹ کر رہا تھا۔۔۔  فائز کے چہرے پر ہلکی بیرڈ تھی جو اسنے ماہرہ کی خاص تنبہ پر رکھی تھی کے عجلت میں وہ روبو بوائے اور فائز میں فرق نہیں کر پاتی تھی۔۔۔ کئ بار تو وہ اپنے پیچھے فائز کی موجودگی محسوس کر کے اسے ساری بات سنا جاتی جب روبو بوائے کی معذرتی آواز سن کر اسکا دل چاہتا یا اپنا سر پھاڑ ڈالے یا اس روبو بوائے کا۔۔۔ اس لئے روبو بوائے پر الگ سے حکم نافذ ہوا تھا کے فائز کی موجودگی میں وہ لیب سے نہیں نکلے گا۔۔۔ اور فائز کو بیئرد رکھنے کا حکم ملا تھا جس پر وہ ناجانے کتنی ہی دیر ہستا رہا۔۔۔ انکا نیا بنگلہ ابھی زیر تعمیر تھا جہاں خاص ماہرہ کی ہدایت پر لیب بیسمنٹ میں بنائی جا رہی تھی تا کے اسکا روبو بوائے سے ٹاکرا کم سے کم ہو۔۔۔۔
فائز سیدھا اپنے کمرے میں ہی آیا جہاں سلور اور سی گرین کلر کی پاوں کو چھوتی دیدہ زیب میکسی میں دلہن کے روپ میں جھنجھلائی سی ماہرہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اسکا  یوں سجا سنورا روپ دیکھ فائز اپنی جگہ مسمرائز سا رہ گیا وہ لگ بھی تو آسمان سے اتری کوئی حور ہی رہی تھی۔۔۔
اوہ تھینک گاڈ فائز تم آگے۔۔۔ آئینے میں ابھرتا اسکا عکس دیکھ وہ بعجلت اسکی جانب پلٹی۔۔۔ ساتھ ہی فائز کو اپنا دل سینے میں ڈگمگاتا محسوس ہوا۔۔۔
اتنی دیر کہاں لگا دی تم نے اور مائز کہاں ہے۔۔۔
روبو بوائے کے پاس۔۔۔ وہ اسے دیکھتا کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں گویا ہوا جسکے چہرے پر موجود جھنجھلاہٹ بھی اسے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
وہ بے چینی سے واپس شیشے کی جانب مڑی۔۔۔ الجھی نگاہوں سے خود کا سر تا پیر جائزہ لیا۔۔۔ ویسے تم بھی نا دنیا سے انوکھے ہو فائز علوی۔۔۔ جب دلہن بنانے کا دنیا سے انٹروڈیوس کروانے کا وقت تھا تب پوری دنیا سے چھپاتے پھر رہے تھے مجھے بھی اور ہمارے رشتے کو بھی۔۔۔ اب ایک سال کے بچے کے ساتھ ریشپشن پارٹی دیتے ہم اچھے لگیں گے۔۔۔ کتنا آکورڈ فیل ہو رہا ہے مجھے۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی پھر سے اسکی جانب پلٹی۔۔۔ جب اسنے ہاتھ بڑھاتے اسے بازو سے تھام کر کھینچا اور نرمی سے اپنے حصار میں لیا۔۔۔
کیا کر رہے ہو فائز۔۔۔ وہ یکدم بوکھلا اٹھی۔۔۔ میں پہلے ہی اسقدر گھبرائی ہوئی ہوں فائز ۔۔۔ اوپر سے تم۔۔۔
ششش۔۔۔۔ اسنے ماہرہ کے لپ سٹک سے سجے ہونٹوں پر انگلی رکھی تو وہ تھوک نگلتی اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
ریلیکس ہو جاو۔۔۔ یہ کوئی اتنا بڑا اشو نہیں۔۔۔ اور یوں سراپا قیامت بن کر گھومو کی تو کون کمبخت نہیں بہکے گا۔۔ اسنے خمار آلود نگاہوں سے اسے تکتے اسکی گال سہلائی۔۔
رہ گئ بات اب ریسیپشن کی۔۔۔ تو جب شادی ہوئی تھی تب نا تمہیں نا ہی ہمارے رشتے کو بہت سی وجوہات کی بنیاد پر ڈکلئیر نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اسکے بعد حالات نے قسمت میں ہجر لکھ ڈالا۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ ماہرہ یک ٹک اسکے خوبرو چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
اب جب قسمت نے دوبارہ ملایا ہے تو میں کیوں نا اپنی بیوی اور بیٹے کو اپنے نام سے دنیا سے متعارف کرواں۔۔۔۔
ہاں بہت اچھا لگے گا نا ایک سال کا بچہ گود میں اٹھا کر سٹیج پر بیٹھنا۔۔۔ ہم دنیا کے انوکھے کپل ہونگے جو بیٹے کے ساتھ ولیمہ کر رہے ہونگے۔۔۔ اسکے جھنجھلانے پر وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
باز آجاو اپنی حرکتوں سے ورنہ جس طرح کی سویٹ سی کینڈی تم اس وقت لگ رہی ہونا ریپر سمیٹ ہی کھا جاوں گا تمہیں۔۔۔ اسنے گہرا مسکراتے ماہرہ کی ناک دبائی۔۔۔ ہاں یہ ہی کرنا تم ۔۔ بنا وقت یا موقع دیکھے۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکراتے اسکے ہاتھ پر چیت رسید کرتی اسکے حصار سے نکلی۔۔۔ جب ہاتھ میں بسکٹ تھامے ہستے کھکھلاتے مائز کو اندر آتے دیکھ اسکی جانب لپکی۔۔۔
ماشااللہ میلا بے بی۔۔۔ میلا شونا کاکا۔۔۔ کتنا پالا لگ رہا ہے۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔
اسنے شدت سے مائز کو خود میں بھینچتے اسکی معصوم سی گال کا بوسہ لیا۔۔۔
ہاں جی بس اپنے بےبی کی ہی تعریف کرنا اسکے باپ کی مت کرنا۔۔۔ میرے بے بی کا پاپا ورلڈ کا بیسٹ ہزبینڈ ہے۔۔۔ اسکی ماں کی آتی جاتی سانسوں کی وجہ ہے۔۔۔ وہ ہے ہی قابل تعریف۔۔ جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے۔۔۔۔۔ وہ مائز کو اٹھا کر مسکراتی ہوئی اسکی جانب بڑھی۔۔۔ ماہرہ فائز علوی اظہار کے معاملے میں کبھی بھی کنجوس نا تھی۔۔۔ فائز گہرا مسکرا دیا۔۔۔۔
اٹھاو اسے اور اس شیشے کے سامنے آو مجھے ہماری پیاری سی فیملی کی سیلفی لینی ہے۔۔ ماہرہ نے گود میں اٹھایا مائز فائز کی جانب بڑھایا اور خود ڈریسنگ سے موبائل اٹھا کر انکے پاس آ کر کھڑی ہوئی یوں کے فائز نے مائز کو اٹھانے کے ساتھ دوسرا ہاتھ ماہرہ کے شانے پر رکھا ۔۔ ماہرہ نے نظر آئینے میں نظر آتے اس خوبصورت عکس کو دیکھا اور دوسری نظر اپنے بے حد قریب کھڑے فائز کو۔۔۔ پھر فائز کے کندھے پر سر رکھتے کیمرا آن کرتے شیشے سے اپنی تصویر  کھینچی۔۔۔
آ  پرفیکٹ فیملی فوٹو۔۔۔ اپنی ہی کھینچی فوٹو کو دیکھتے وہ بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔۔۔۔
*****
گاڑی ہال کی اینٹرس پر جا کر رکی تو ہال میں موجود سبھی لوگ اس جانب متوجہ ہوئے جہاں سے ڈرائیونگ ڈور کھول کر فائز علوی نیوی بلو ڈنر سوٹ میں ملبوس اپنی پوری آن بان شان سمیٹ باہر نکلا اور کوٹ کا بٹن بند کرتا پیسنجر سیٹ کے دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔۔ اسنے دروازہ کھول کر ماہرہ کی گود میں موجود اپنے ننھے شہزادے کو اٹھایا اور ہاتھ ماہرہ کی جانب بڑھایا ۔۔۔ جسے تھامتی وہ گاڑی سے باہر نکلی تو ہر جانب سے ہوٹنگ کا شور بلند ہونے لگا۔۔۔
ایک ساتھ کھڑے وہ دونوں پرفیکٹ کپل لگ رہے تھے۔۔۔ چند قدم آگے بڑھے جب مرتسم نے انہیں ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا ساتھ ہی انکے سامنے قطار میں خوبصورتی سے آتش بازی ہونے لگی۔۔۔ یہ سارا منظر دیکھتا مائز تالیاں بجاتا کھلکھلانے لگا تھا۔۔۔ فائز یونہی ماہرہ کا ہاتھ تھامے سٹیج کی جانب بڑھا جہاں باری باری ماں بابا اور مظہر آکر اس سے مل کر گئے۔۔۔ کچھ ہی دہر بعد فوٹو شوٹ شروع ہوا تو وہاج علایہ مرتسم اور فاہا کیساتھ ساتھ میجر اریز اور سونم بھی اپنی ننھی گڑیا کے ساتھ سٹیج پر آگے۔۔۔ سونم اور ماہرہ دونوں بہت خوشدلی سے ایک دوسرے سے ملیں۔۔۔ ان سب کا اکٹھا فوٹو شوٹ ہوا اسکے بعد وہیں سٹیج پر ہی محفل جم گئ۔۔۔
آگے کیا پلان ہیں تم دونوں کے۔۔۔ مائز سے کھیلتے وہاج مستفسر ہوا۔۔۔
پلان تو بہت بڑے بڑے ہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے فائز کچھ کہتا ماہرہ بول اٹھی۔۔۔ 
جیسے۔۔۔
جیسے یہ کے ابھی مجھے فائز کیساتھ آپ سب کی طرف دعوتیں کھانی ہے۔۔۔ اسکے بے ساختہ انداز میں کہنے پر وہاں مشترکہ قہقہ پھوٹا ۔۔
اور۔۔۔ مرتسم مسکراہٹ دابتا مزید گویا ہوا۔۔۔ پھر ہمیں عمرے پر جانا ہے۔۔۔ اسکے بعد  ہمیں ورڈ ٹور پر جانا ہے۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا پھر چوتھا۔۔۔ اور یونہی بہت سے ملکوں میں گھوم کر ہمیں بہتتتتتت سا اکھٹا وقت گزار کر پھر واپس آنا ہے۔۔۔
یہ سارے کے سارے پلان شاید اسنے ابھی ترتیب دیئے تھے یا پہلے ہی ترتیب دے چکی تھی لیکن فائز کے علم میں ابھی آئے تھے۔۔۔ وہ سادگی سے مسکرا دیا۔۔۔۔
ہے نا فائز۔۔۔ آخر میں وہ اٹھلا کر فائز سے مستفسر ہوئی تو وہ سینے پر ہاتھ رکھتا سر خم کر گیا۔۔۔
وہ یونہی خوش گپیوں میں مشغول تھے جب اچانک وہاں سناٹا چھا گیا ۔۔۔ ماہرہ نے چونک کر سر اوپر اٹھایا جہاں بلیک پینٹ اور سفید ڈریس شرٹ میں الجھا بکھڑا سا زاویار کھڑا تھا۔۔۔ اسے یوں یہاں دیکھ ماہرہ لب بھینچ گئ۔۔۔ اسنے کن اکھیوں سے فائز کو دیکھتے اسکا ردعمل جانچنا چاہا۔۔۔ پر صد شکر کے وہ پرسکون سا بیٹھا تھا۔۔۔
دغا دینا تمہاری شروع سے عادت تھی ماہرہ۔۔۔ پھر کیسے ممکن تھا یہاں نا دیتی تم۔۔۔۔یہاں بھی عین موقع پر دے گئ۔۔۔ وہ تلخی سے ہسا۔۔۔
کافی دن لگے مجھے تم سے سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرنے میں۔۔۔ لیکن میں تمہارے لئے خوش ہوں۔۔۔ بے حد  خوش۔۔۔ خدا تمہیں یونہی صدا ہستا مسکراتا رکھے۔۔۔ یہ مت سوچنا کے میں تمہارا اتنا اہم فنگشن خراب کرنے آیا ہوں۔۔۔ وہ ماہرہ کے سنجیدہ انداز دیکھتا ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ جا رہا تھا تو سوچا جاتا جاتا مل کر جاوں۔۔۔ اور دیکھوں تو سہی تم واقعی میں خوش ہو کے نہیں۔۔۔ لیکن اب تمہیں یوں ہستا مسکراتا دیکھ کر دل سمبھل گیا۔۔۔ مجھے تمہاری خوشی ہی مقصود ہے۔۔۔۔ شاید تم اتنا خوش میرے ساتھ کبھی نا رہ پاتی۔۔۔۔وہ انگلی کی پور سے نم آنکھ کا کونا صاف کرتا الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔ اسکے جاتے ہی ماہرہ نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔
شکر ہے فائز ۔۔۔ عین وقت پر تم نے فلم کے بلاک باسٹر سین کی مانند اینٹری دے دی۔۔۔ ورنہ میرا کیا بنتا ماہرہ نے ہاتھ سے چہرا تھپتھپاتے اپنے چہرے کی تپش کم کرنی چاہی۔۔۔ فائز کے ساتھ ساتھ وہ سب بھی مسکرا دئیے۔۔۔
*****
سب انجوائے کر رہے ہیں فائز ۔۔۔ ہم تنہا یہاں سٹیج پر کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ہمیں تھوڑی نا کسی نے ایلفی سے چپکا دیا ہے چلو نیچے اتر کر انجوائے کرتے ہیں۔۔۔ سبھی کپلز کچھ دیر کے بعد سٹیج سے اتر گئے حتکہ مائز بھی انہی کے ساتھ تھا۔۔۔ میجر اریز کو کوئی ضروری کام تھا تبھی وہ اور سونم کچھ وقت پہلے  جا چکے تھے۔۔۔ جبکہ ماہرہ تنہا سٹیج پر بیٹھے ہونے کے باعث بور ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
چلو۔۔۔ فائز مسکرا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ سارا انتظام اوپن ایریا میں کیا گیا تھا رات کے وقت سبک روی سے چلتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ماحول کو مزید پرفسوں بنا رہی تھی۔۔۔ وہ فائز کی بازو تھامتی اسے لئے ایک پرسکون گوشے میں آگئ۔۔۔ میری ساری پلانینگ تمہیں منظور ہے نا۔۔۔  اب ماشااللہ سے تم اتنا تو کما ہی رہے ہو کے میری سبھی خواہشات پوری کر سکو۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔
الحمدللہ۔۔۔ لیکن اس سے پہلے تمہیں تمہارے فیورٹ مال سے شاپنگ کروانی ہے۔۔ وہ ایک منظر دل پر نقش ہوگیا تھا ماہرہ فائز علوی جب تم نے اپنے شوہر کی جیب کا احساس کرتے اپنا سٹینڈر گھٹایا تھا اور اپنے فیورٹ مال پر لوکل ایریا سے شاپنگ کرنے کو ترجیح دی تھی۔۔۔ فائز کے بتانے پر اسے بے ساختہ وہ منظر یاد آیا جب وہ شادی کے بعد پہلی دفعہ اسکے سنگ شاپنگ کرنے گئ تھی۔۔۔ بڑی خوبصورت مسکراہٹ اسکے چہرے پر رینگی۔۔۔
تمہیں ہاد ہے وہ بات۔۔۔ 
افکورس۔۔ جو شخص آپکے مشکل وقت اور تنگی کا ساتھی ہو وہ اچھے وقت میں کبھی نہیں بھولتا۔۔۔ میری کمائی پر سب پہلا اور سب سے زیادہ حق تمہارا ہے۔۔۔ یہاں سے فری ہو کر چلیں گے شاپنگ پر۔۔ فائز کے کہنے پر وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
فائز علوی۔۔۔
دفعتاً پیچھے سے ایک جانی پہچانی آواز ابھرنے پر وہ چونک کر پلٹا۔۔۔ جبکہ اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھ ساکت رہ گیا۔۔۔
جبکہ الجھ تو ماہرہ بھی گئ براون جینز پر شارٹ شرٹ زیب تن کئے گلے میں مفلر ڈالے کھڑی اس لڑکی کو دیکھ کر۔۔۔ جسکی آنکھوں میں حسرت تھی اور وہ حسرت زدہ نگاہوں سے فائز کو دیکھ رہی تھی۔۔
تم یہاں۔۔۔ فائز نے لبوں پر زبان پھیری۔۔
 ماہرہ فائز علوی رائٹ۔۔۔ اسنے ماہرہ کی جانب اشارہ کرتے فائز سے تصدیق چاہی۔۔۔ فائز کے سر ہاں میں ہلانے پر وہ دلکشی سے مسکراتی ماہرہ سے ملی۔۔۔
بہت قسمت والوں کو ملتے ہیں ایسے ہمسفر ماہرہ جو پارٹنر کی غیر موجودگی میں بھی محض اسی کا ہو۔۔۔ جو کسی دوسری لڑکی کی جانب دیکھنا تو دور سوچنا بھی گناہ تصور کرتا ہو۔۔۔ جو پارٹنر سے اس حد تک مخلص اور با وفا ہو۔۔
اور تم خوش قسمت ہو۔ جسے اسقدر باوفا اور قدردان شوہر ملا۔۔۔
 اسکے مسکرا کر کہنے پر ماہرہ نے الجھتے ہوئے فائز کو دیکھا۔۔۔
تم پاکستان کب اور کیسے آئی شائنہ۔۔۔
فائز کو ریسکیو کروانے کے بعد شائنہ نے اپنے باپ اور میر کو ایکسپوز کروانے کے لئے انکی بہت مدد کی تھی۔۔۔ اسی کی مدد اور پروفیسر صاحب کے قتل والی فوٹیج کے باعث ہی میجر اریز افغانستان کی پولیس کی مدد سے میر اور دلاور خان پر کئ ایک کیس ثابت کرتا انہیں اریسٹ کر پانے میں کامیاب ہو پایا تھا۔۔۔
نو ڈاوٹ کے میرے بابا غدار ہیں برے ہیں اور بلا بلا۔۔۔ لیکن ہیں تو میرے بابا ہی نا۔۔۔ وہ کرب سے مسکرائی۔۔۔ پچھلے کچھ دنوں سے دل بہت بے چین تھا تبھی پاکستان ان سے ملنے آئی تھی۔۔۔ میں نے بابا کے پاس موجود سبھی ریکارڈ انکے سوفٹ وئیرز غرض سب کچھ یہاں کی فورس کے ہینڈ آوور کرتے ان سے بابا کی سزا میں کمی اور ان سے نرمی کا رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے کے بحرحال قتل کیس میں تو میر ملوث تھا۔۔۔ اور اپنا ہر مشن وہ اپنے طریقے سے مکمل کرتا تھا۔۔۔ یہاں کی فورس نے مجھے تسلی دی ہے قوی امکان ہے کے بابا کی سزا کم ہو جائے ۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔۔۔ لیکن آنکھوں میں ہلکورے لیتا دکھ گواہ تھا کے وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔۔۔
تم ایک بہت بہادر لڑکی ہو شائنہ۔۔۔ انفیکٹ میں خود تم سے ملنا چاہتا تھا تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت بے بسی نے اجازت نا دی۔۔۔ بلاشبہ آج اگر میں یہاں اپنوں کے بیچ موجود ہوں تو یہ اللہ کی رحمت اور میری بیوی کی دعاوں کے بعد بلاشبہ تمہاری کوشیشوں سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔۔۔ فائز کہہ رہا تھا جبکہ وہ جوتے سے فرش مسلتی سر جھکائے مسلسل مسکرا رہی تھی۔
اب ہمارے پاس کچھ وقت رکیں آپ۔۔۔ ہمیں بھی مہمان نوازی کا موقع دیں۔۔۔ ماہرہ خوشدلی سے گویا ہوئی۔۔
ارے نہیں۔۔۔ کچھ وقت بعد کی فلائٹ ہے میری۔۔۔ پیچھے مام تنہا ہے۔۔۔ زیادہ لمبا سٹے نہیں کر سکتی۔۔۔ بس جاتے جاتے فائز سے ملنا چاہتی تھی۔۔ اور یقین جانو دو سال کا عرصہ ساتھ گزارنے کے باوجود میں نے آج پہلی مرتبہ تمہارے فائز کو مسکراتے دیکھا ہے۔۔۔ شاید یہ من پسند شخص کی قربت کا اعجاز ہے۔۔۔ وہ مسکرائی تو بے ساختہ فائز جھینپ گیا۔۔۔
اب اجازت دو۔۔۔۔ زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی۔۔۔ وہ ہوا کے جھونکے کی مانند جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس چلی گئ۔۔۔
مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے فائز علوی کے یہ لڑکی تم میں انٹرسٹڈ ہے۔۔۔ ماہرہ جانچتی نگاہوں سے شائنہ کو جاتا دیکھ فائز سے مستفسر ہوئی۔۔۔
بالکل اسی طرح جس طرح زاویار تم میں دلچسپی رکھتا ہے۔۔۔ فائز کے دوبدو کہنے پر یکدم ماہرہ کی رنگت فق ہوئی۔۔۔
اس سے کچھ نہیں ہوتا سویٹ ہارٹ۔۔۔ بے ساختہ اسنے ماہرہ کو اپنے حصار میں لیتے اسکا شانہ سہلایا۔۔۔ کون کس میں انٹرسٹڈ ہے یہ ہمارا کنسرن نہیں۔۔۔ اہمیت یہ رکھتا ہے کے اپنے پارٹنر سے باوفا اور مخلص رہا جائے۔۔۔  اور میں جانتا ہوں کے میری بیوی  ایک باوفا ا ور مخلص بندی ہے۔۔۔ فائز کے نرمی سے کہنے ہر وہ ہلکی پھلکی ہوتی آنکھیں موند کر سر اسکے شانے پر رکھ گئ ۔۔ باقی سب کو انکے حال پر چھوڑ دو۔۔۔  ہم ہر کسی کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔۔۔ اس دنیا میں اللہ نے ہر کسی کے لئے جوڑ بنا رکھا ہے۔۔۔ اور وہ بہتر لے کر بہترین سے نوازنے والا ہے۔۔۔۔ اس لیے سب کو انکے حال پر چھوڑ کر اپنے معاملات فکس کرنے کی کوشیش کرو۔۔
۔فائز کے کہنے پر وہ بند آنکھوں سمیٹ آسودگی سے مسکرا دی۔۔۔
*****
کچھ دیر پہلے جس ہال میں لوگوں کا کافی رش تھا وہ جگہ اب بڑھتی رات کیساتھ ساتھ خالی ہو چکی تھی۔۔۔ کھانا کھا کر تقریباً سبھی لوگ واپس جا چکے تھے محض وہ تین جوڑیاں ہی وہاں موجود تھیں۔۔۔ ہوا سبک روی سے چل رہی تھی جبکہ وہ سب کھلے آسمان تلے ایک گول میز کے گرد بیٹھے تھے۔۔۔ انکا ارادا ابھی یہاں رک کر بہت سا وقت ایک دوسرے کے سنگ گزارنے کا تھا۔۔۔ 
ماہرہ کرسی پر ریلیکس سے انداز میں بیٹھی تھی جبکہ مائز باپ کی گود میں سکون سے سو رہا تھا۔۔۔ سامنے میز پر چائے کے خالی کپ پڑے تھے جیسے ابھی ابھی وہاں چائے کا دور چلا ہو۔۔۔
چلو محفل کے اختتام سے پہلے سب اپنی اپنی لائف کا ایک بہترین سبق شیئر کریں۔۔۔ خالی کب کے کنارے پر انگلی پھیرتے مرتسم گویا ہوا۔۔۔
آغاز مجھ سے کرتے ہیں۔۔۔علایہ اٹھلائی۔۔۔
جی جی ضرور۔۔۔ وہاج اسکا چہکتا روپ دیکھ مسکرایا۔۔۔۔
میں نے اپنی زندگی سے سیکھا کے کبھی بھی فرسٹ امپریشن کی بنیاد پر کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔۔۔ اسے جج نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ بعض دفعہ حقیقت بہت منفرد اور خوبصورت ہوتی ہے۔۔۔ وہ وہاج کی خوبرو صورت آنکھوں میں بسائے جذب کے عالم میں گہری معنی خیزی سے گویا ہوئی تو وہ مسکرا کر سر خم کر گیا۔۔۔
اور میں نے زندگی سے سیکھا کے کبھی انا کو رشتوں میں نہیں لانا چاہیے۔۔۔ اپنی انا کے زعم میں کسی کی نادانیوں کی سزا اسے دینے کی بجائے خدا کے فیصلوں پر سر خم کرتے  ماضی بھلا کر ایک پرسکون زندگی بسر کرنی چاہیے۔۔۔ زندگی کا بڑے سے بڑا نقصان اور آپسی چپقلش جہاں ہو وہیں بھلا کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔۔۔ وہاج نے اسی کے انداز میں حساب بے باک کیا تو وہ سر جھکاتی مسکرا دی۔۔۔
ناو اٹس یور ٹرن۔۔ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے ریلیکس سے انداز میں بیٹھی فاہا کی جانب متوجہ ہوئی۔۔
میں نے زندگی میں سیکھا کے اپنی ذات کی خامیوں پر کمپلیکسز کا شکار ہونے کی بجائے خود پر کام کرتے ہر دم بہتری کے سفر پر گامزن رہنا چاہیے۔۔۔ زندگی میں ہر چیز ممکن ہے اگر وہ چیز ادھر کلک کر جائے تو۔۔۔ اسنے دماغ کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ 
فاہا کے بعد سب کی نگاہوں نے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھے مرتسم تک کا سفر کیا۔۔۔
زندگی میں کبھی بھی کسی بھی فیز میں کسی طرح کے حالات میں بھی کبھی ماں کا دل نہیں دکھانا چاہیے۔۔۔ ماں کو ہرٹ نہیں کرنا چاہیے۔۔۔  کبھی انکے مخالف نہیں چلنا چاہیے۔۔۔ ماوں کے دل اولاد کے معاملے میں بڑے نرم ہوتے ہیں۔۔۔ وہ بڑی جلدی مان جاتی ہیں۔۔۔ انکی خوشی انکی اولاد سے مشروط ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے ہمیشہ ماں کو اعتماد میں لے کر انہیں منا کر کوئی بھی کام کرنا۔۔۔ چاہیے وہ کتنا بھی ٹائم ٹیکنگ کیوں نا ہو۔۔۔ کیونکہ ماں کا دل دکھا کر کبھی کوئی کامیاب نہیں ہو سکا۔۔۔  اس لیے ۔۔ آپ بیٹی ہو یا بیٹا۔۔۔ زندگی کی جس بھی فیز میں ہو آپکا کوئی کام اٹک گیا ہے یا کوئی پریشانی کوئی غم کوئی مشکل آپکو درکار ہے تو  اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں زرا رک جائیں۔۔۔ اپنے ارد گرد دیکھیں کہیں جانے انجانے میں ماں کا دل تو نہیں دکھایا ۔۔۔ کہیں ماں ناراض تو نہیں۔۔۔ اگر ہاں تو فوراً سے انہیں منائیں۔۔۔ انکا دل اپنی طرف سے خوش رکھیں۔۔۔ پھر دیکھیں کے آپکے راستے کی رکاوٹیں کیسے کیسے دور ہوتی ہیں۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھتا ہلکا سا مسکرا کر شانے اچکا گیا۔۔۔
اور جنکی مائیں نا ہوں۔۔۔ سوال فائز کی جانب سے آیا تھا جو سر جھکائے سوئے ہوئے مائز کا سر سہلا رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ وہی کریں جو انکے بس میں ہے۔۔۔ مرتسم نے گہرا سانس بھرا ۔۔۔ انکے لئے قرآن پاک پڑھیں صدقہ خیرات کریں اور انکی مغفرت کی دعا کریں۔۔۔
میری باری آگئ ہے بھئ۔۔۔ ماحول کی گھمبیرتا کم کرنے کو ماہرہ نے سبکی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔۔۔
جی جی فرمائیے۔۔۔ وہ سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ میری زندگی کا لیسن اتنا لمبا نہیں ہے۔۔ بہت چھوٹا سا ہے۔۔۔ لیکن وہ اپنے اندر پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔۔۔
جی جی پلیز بتائیے نا۔۔۔ فائز مسکرایا۔۔۔
صبر۔۔  شکر اور توکل اگر آپ اپنی زندگی میں ان تین چیزوں کو مضبوطی سے تھام لیتے ہو تو کوئی آپکو گرا نہیں سکتا۔۔۔ کوئی آپکو ہرا نہیں سکتا۔۔۔ مشکل وقت آنے پر صبر۔۔۔ نعمت ملنے پر شکر اور کام نا بننے پر اللہ پر توکل بہت زیادہ توکل ۔۔۔ ان تین چیزوں سے آپکی زندگی سٹریس فری ہو جاتی یے۔۔۔ جب انسان اللہ کی رضا میں راضی ہونا سیکھ جاتا ہے تو پھر پیچھے کچھ ڈسٹرب کرنے کو بچتا ہی نہیں۔۔۔
جی تو مسٹر فائز علوی ناو اٹس یور ٹرن۔۔۔
میں نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی یے۔۔  کے جب تک آپکے ہاتھ سے خیر بٹتی رہے گی تب تک آپکی راہ کی رکاوٹیں چھٹتی رہیں گی۔۔۔ اور خیر بانٹنا کوئی بڑے بڑے صدقہ خیرات کرنا نہیں ہے۔۔۔ بلکہ آپکے باعث کسی کے ہونٹوں پر مسکان آجانا بھی خیر ہے۔۔۔ آپ کسی کے ٹوٹے دل کا مرہم بن جائیں یہ بھی خیر ہے۔۔۔ کسی کو حوصلہ دینا اسکی ہمت بندھانا بھی خیر ہے۔۔۔ کسی کی زندگی میں کوئی ویلیو ایڈ کرنا بھی خیر ہے۔۔۔ اس لئے کوشیش کریں کے آپ تنقید کرنے والے نقص نکالنے والے اور اپنے لفظوں سے دل توڑنے والے نا بنیں بلکہ آپ خیر بانٹے والے بنیں۔۔۔ کسی کو اپنے حق میں دعا کرنے کو بولنے کی بجائے کام ایسے کریں کے لوگوں کے دل سے آپکے لئے دعا نکلے۔۔۔ یہ ہی صدقہ جاریہ ہے۔۔۔ 
امپریسو۔۔ وہاج بے ساختہ گویا ہوا۔۔۔
چائے مزید آرڈر نا کی جائے۔۔۔ 
میرے خیال سے اب واپس چلنا چاہیے۔۔۔ ماہرہ کے کہنے پر فائز دوبدو گویا ہوا۔۔۔
کوئی نہیں یار۔۔۔ کچھ دیر بعد چلیں گے۔۔۔ اپنے ہی گھر جانا ہے پھر پریشانی کیسی۔۔۔
آئی تھنک چائے کی جگہ اب کی بار کافی ٹرائے کرنی چاہیے۔۔۔ 
ناٹ بیڈ۔۔۔ گڈ آئیڈیا۔۔۔ وہ سب کے سب ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو چکے تھے۔۔ دور کھڑے چاروں اوڑھ چاندنی بکھیرتے چاند نے بھی مسکرا کر انہیں آپس میں مگن دیکھا۔۔۔۔ 
****
ختم شدھ۔۔۔
یہاں ایک اور ناول اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔ ناول پڑھ کر اپنا فیڈ بیک دینا بالکل نا بھولیں۔۔۔ بہت جلد ملیں گے ایک نئے ناول کیساتھ۔۔۔ اگلا ناول میری زندگی کا سب سے اہم ناول ہونے جا رہا ہے ایک اہم موضوع کی بنیاد پر۔۔۔ بس جلدی سے اس پر میرا ریسرچ ورک مکمل ہو جائے۔۔۔۔۔۔ تو نئے ناول کی اپڈیٹ کے بارے میں جاننے کے لئے جڑے رہیں ہمارے ایف بی آفیشل پیج۔ ام ہانیہ آفیشل۔۔۔۔ اور یوٹیوب چینل۔۔۔ رائٹر ام ہانیہ سے۔۔۔ اسکے ساتھ ساتھ آپ ہمیں انسٹاگرام پر بھی فالو کر سکتے ہیں۔۔۔
Instagram : ummehania46...


No comments

Powered by Blogger.
4