Header Ads

Mera Aashiyana novel last Episode part 1st by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


Mera Aashiyana novel  last Episode part 1st by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

آخری قسط۔۔۔۔۷پہلہ حصہ 
ماہیر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ڈرائینگ روم کی جانب بڑھی۔۔  اندر تجسس بھی تھا جاننے کا کے آخر تین سال بعد اس سے ملنے کون آیا تھا۔۔۔
مصباح۔۔۔ جیسے ہی اسنے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا اسکے  لب بے آواز ہلے۔۔۔ مصباح اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوتی گرمجوشی سے اسکی جانب بڑھی۔۔۔ 
شکر خدا کا لڑکی کے تمہارے شوہر نے تم سے ملنے کی اجازت دے دی مجھے۔۔۔  کب سے ترس رہی تھی تم سے ملنے کے لئے۔۔۔ وہ اسے گلے سے لگائے کھنکتی آواز میں بول رہی تھی جبکہ وہ گم صم سی کھڑی یہ سوچ رہی تھی کے اسے اپنے رشتے کے حوالے سے کونسے پہلو مصباح پر آشکار کرنے ہیں اور کونسے حذف کر جانے ہیں۔۔۔ بحرحال اسے اپنا بھرم عزیز تھا۔۔  
خیر وہ اسے لئے اپنے ساتھ کمرے میں آگئ۔۔۔
مصباح ہادی اور فبیحہ کیسے ہیں۔۔۔ تمہاری ان سے ملاقات ہوتی ہے کیا۔۔۔ کمرے میں آتے ہی وہ حسرت زدہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ مصباح اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
پتہ نہیں میری ان سے ملاقات نہیں ہوتی۔۔۔ تمہاری طلاق کے بعد وہ لوگ کراچی چھوڑ گئے تھے۔۔۔ لیکن احمر اپنی اور بچوں کی مختلف تہواروں کی تصویریں  فیسبک پر شیر کرتا رہتا ہے۔۔۔
لیکن تمہیں میں نے ہر پلیٹ فارم پر بہت سرچ کیا ۔۔۔ پر تم کہیں نا ملی۔۔۔ باقی سب تو وہیں ہیں بس ایک تم ہی گمنام ہو گئ ہو۔۔۔ مصباح دکھ سے گویا یوئی۔۔۔ ماہیر سر جھکائے خاموشی سے سنتی رہی۔۔۔۔
تم یہاں ہوتی ہو اس گھر میں۔۔۔ مجھے تو لگا تھا کے کمشنر صاحب کے ساتھ پاکستان گھوم رہی ہو گئ۔۔۔ اسلام آباد میں رہ رہی ہو گئ لیکن یہاں تو تم نے ہر چیز ہی الٹ کر ڈالی۔۔۔۔ مصباح چاروں جانب سے کمرے کو دیکھتی اسکا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
ہمم۔۔۔ یہیں ہوتی ہوں۔۔۔ وہ گم صم سی گویا ہوئی۔۔۔۔۔
اور اریز کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ کتنی دیر بعد چکر لگاتا ہے۔۔۔ وہ اب بھی وہی دوست تھی۔۔۔ اسکی فکر میں ہلکان ۔۔۔ اور ماہیر اسے بھی اس قید تنہائی میں کسی کندھے کی ضرورت تھی دل کھولنے کو۔۔۔
کبھی ہفتے بعد کبھی مہینے بعد بھی۔۔۔ ماہیر کا انداز کھویا کھویا سا تھا۔۔۔
مصباح ٹھٹھک کر سیدھا ہوئی۔۔۔
تم اتنی ابنارمل ںدگی کیسے گزار سکتی ہو ماہیر۔۔۔ ایسا کونسا شوہر ہے جو افورڈ کرنے کے باوجود بیوی سے مہینہ مہینہ دور رہے۔۔۔ مصباح کے ماتھے پر شکنیں واضح ہوئیں۔۔۔
اسے کچھ سکیورٹی اشوز ہیں۔۔۔
سکیوڑتی اشوز یا سوشل اشوز۔۔۔ مصباح بھڑکی۔۔۔ یہاں اسنے تمہیں قید کر رکھا ہے۔۔۔ تمہاری یونیورسٹی چھڑوادی۔۔۔ تم کہیں آ جا نہیں سکتی۔۔۔ کوئی تم سے مل نہیں سکتا۔۔۔ اور خود وہ جو چاہیے جو مرضی کرتا پھرے۔۔۔۔ جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ اسلام آباد میں دوسری شادی کر چکا ہوگا۔۔۔
مصباح کے دلشگاف انکشاف پر وہ بدکی۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔ کچھ بھی ہو وہ جھوٹ نہیں بولتا مجھ سے۔۔۔ ماہیر نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
پھر تمہیں ساتھ نا لیجانے کی وجہ۔۔۔ یہ وہ زندگی تھی جسکے لئے تم نے اپنی جنت کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگائی۔۔  مصباح کا قلق کسی صورت کم نا ہو رہا تھا۔۔۔
مصباح ہمارا رشتہ روحانی ہے۔۔۔ وہ قمیض کے پرنٹ پر ہاتھ پھیرتی آہستہ آواز میں کہتی مصباح کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لے گئ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ ماہیر۔۔۔ پچھلے تین سالوں سے تمہارا اس شخص کے ساتھ رشتہ روحانی ہے۔۔۔ وہ جتنی حیران ہوتی کم تھا۔۔۔
ہاں۔۔ ہم باتیں کرتے ہیں کتابیں ڈسکس کرتے ہیں ہفتے بعد یا مہینے بعد شام کی چائے پیتے ہیں اور پھر ڈنر۔۔۔
ماہیر کے پزمردہ انداز میں کہنے پر وہ سر ہاتھوں میں تھام گئ۔۔۔
رشتہ محض روحانی نہیں  ہوتا ماہیر۔۔۔ جسمانی رشتے کی اگر ضرورت نا ہوتی تو اللہ میاں بیوی میں ایک دوسرے کا سکون پنہاں نا رکھتا۔۔۔
وہ اگر آگے نہیں بڑھتا تو تم کوشیش کیوں نہیں کرتی۔۔۔ ویسے بھی میاں بیوی میں کیسا پردہ۔۔۔ ٹھیک ہے تم عمر میں اس سے بڑئ ہو۔۔۔ لیکن خود پر توجہ دو۔۔۔ اپنا آپ مینٹین کرو۔۔۔ یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے جیسے صدیوں کی بیمار ہو۔۔۔
تم کہاں سے وہ ماہیر لگ رہی ہو جو ہزاروں سٹودینٹس کی آئیڈیل ہوا کرتی تھی۔۔۔ مصباح ایک کے بعد ایک نقطہ اٹھاتی اسکی عقل کا ماتم کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ اسکی باتیں سنتی وہ خاموش تھی مکمل خاموش ۔۔۔ لیکن اندر مصباح کی باتوں نے ایک محشر برپا کر دیا تھا۔۔۔ تمہارے حالات اس نہج پر ہونگے میں یہ تصور بھی نا کر سکتی تھی ماہیر۔۔۔ مجھے یہ ماہیر وہ ماہیر لگ ہی نہیں رہی جسے میں جانتی تھی۔۔۔ ایک مرد کی محبت نے تمہیں اتنا بدل ڈالا۔۔۔ وہ شخص تمہارے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے ماہیر۔۔۔ اسکا غصہ کم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔۔۔ فکر مت کرو تم ۔۔۔ اب میں آتی جاتی رہوں گی۔۔۔ یوں تو یہ قید تنہائی تمہیں ذہنی مریضہ بنا دے گی۔۔۔۔
******
ماہیر بیڈ کروان سے ٹیک لگائے مسلسل مصباح کی باروں کو ہی سوچ رہی تھی۔۔۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔۔۔ پرسکون۔۔ ایک جیسا۔۔۔ کسی بہتے ہوئے جھرنے کی مانند۔۔۔ لیکن مصباح کی باتیں اس پرسکون ندی میں آگاہی کے کنکر پھینک پھینک کر ہچل مچا گئی تھیں۔۔۔۔
اسکے اندر بے چینی بڑھنے لگی۔۔۔ کہاں تھی وہ اس وقت۔۔۔۔ وہ کیا سے کیا ہوگئ تھی۔۔۔ اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔۔۔
دراصل احمر کی ہمراہی میں تم شیر سی زندگی گزار رہی تھی ماہیر۔۔۔ اور اپنے آئیڈیل ہمسفر مسٹر اریز کی ہمراہی میں تم گیڈر کی سی زندگی گزار رہی ہو۔۔۔
یہ آواز تھی یا ہتھوڑا۔۔۔ وہ سینا مسلتی ننگے پاوں بستر سے اتر آئی۔۔۔ناجانے کیوں مصباح ہمیشہ سے ہی منہ پھٹ ہونے کی حد تک صاف گو تھی۔۔
اس عام انسان نے تمہیں کئ سال لگا کر اونچائی کی جس سیڑھی پر چڑھا کر خاص بنایا تھا نا۔۔۔ تمہارا وہ خاص آئیڈیل تمہیں اس اونچائی کی سیڑھی سے نیچے لا پٹخ چکا ہے۔۔۔ 
وہ کسی دیوانے کی مانند بھرائی آنکھوں سے اب دھندلا دھندلا سا دیکھتی کاریڈور میں چل رہی تھی۔۔۔
تم نے یاقوت سمجھ کر کیوں انگارے جھپ لئے ماہیر۔۔۔ آواز میں تاسف تھا۔۔۔ تم کیوں نا سمجھ سکی کے اللہ جس انسان کو جس مقام پر رکھتا ہے وہی اسکے حق میں بہتر ہوتا۔۔۔اس مقام سے اوپر اٹھنے کی خواہش میں انسان نیچے پستیوں میں لا پٹخا جاتا ہے۔۔۔ 
ایک آنسو ماہیر کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔سڑھیاں اترنے کو پہلے زینے پر رکھا جانے والا پاوں رپٹا اور وہ اونڈھے میں لڑھکتی ہوئی نیچے کو پھسلتی چلے گئ۔۔۔ ایک دلخراش چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی۔۔ جبکہ پس منظر میں ایک ہی آواز گھونج رہی تھی
اللہ جس انسان کو جس مقام پر رکھتا ہے وہی اسکے حق میں بہتر ہوتا۔۔۔اس مقام سے اوپر اٹھنے کی خواہش میں انسان نیچے پستیوں میں لا پٹخا جاتا ہے۔۔۔
*******
پڑائیویٹ ہسپتال کے وی آئی پی کمرے میں اس وقت خوشیوں کا سا سماں تھا۔۔۔ پیشنٹ بیڈ پر مضحمل سی عروب لیتی مسکراتے  ہوئے دائیں جانب دیکھ رہی تھی جہاں فبیحہ اور ہادی چہکتے ہوئے کاٹ میں لیٹے اس ننھے وجود پر جھکے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
تب سے اسے ہادی نے ہی اٹھا رکھا تھا جبکہ فبیحہ کے بارہا ضد کرنے پر بھی اسنے بے بی فبیحہ کو نا پکرایا تھا۔۔ ابھی ابھی وہ ننھا وجود سویا تھا تو ہادی نے اسے کاٹ میں لٹایا تھا ورنہ اسکا بس چلتا تو وہ ہمہ وقت اسے گود میں ہی اٹھائے رکھتا۔۔۔
پاس ہی ٹیبل پر مٹھائی کا ڈبہ کھلا پڑا تھا۔۔۔
حمیدہ خالہ وہیں تھیں جبکہ فری گھر واپس جا چکی تھی۔۔۔۔
سارے انتظامات سمبھالتے سلطان کے یہاں وہاں خوب چکر لگ رہے تھے۔۔۔
دفعتا بے بی کے رونے کی آواز پر ہادی اسے اٹھائے چپ کراوتا عروب کی جانب بڑھا۔۔۔
تھینکیو ماں۔۔۔ ہمیں اتنا پیارا تحفہ دینے کے لئے۔۔۔ ہادی نے مسکرا کر کہتے بے بی اسکے ساتھ لٹایا تو بے ساختہ عروب کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
کیا کہا تم نے ہادی۔۔۔ پھر سے کہنا زرا۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
دفعتا کمرے کا دروازہ کھول کر سلطان اندر داخل ہوا لیکن کوئی بھی اسکی جانب متوجہ نا تھا۔۔۔
میں نے کہا ماں۔۔۔ یس آپ میری ماں ہو۔۔۔ یہ پیارا سا تحفہ ہمیں دے کر آپ نے ثابت کر دیا ۔۔۔ اسکی خود کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔ کل کو جب یہ بڑا ہو کر مجھ سے پوچھے گا کے مجھے تو بھائی کہتے ہو میری ماں کو ماں کیوں نہیں  کہتے تو میں کیا جواب دوں گا۔۔۔ حالانکہ آپ ہماری ماں ہو۔۔۔ وہ لفظ ماں پر زور دیتا گویا ہوا۔۔۔
عروب کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے جب ہادی نے جھکتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا تو وہ اسے خود میں بھینچتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
آج اللہ نے مجھے ایک نہیں ۔۔۔ دو دو بیٹوں سے نوازا ہے ہادی۔۔۔ تم تصور نہیں کر سکتے تمہارے منہ سے یہ لفظ مجھے کس قدر سکون فراہم کر رہا ہے۔۔۔۔
ہادی نے مسکراتے ہوئے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
ارے بس بس۔۔۔ اب یہاں سیلاب مت لے آنا۔۔۔۔ اتنا رونا اس حالت میں تمہارے لئے بہتر نہیں ۔۔۔ بلاشبہ یہ خوشی کے آنسو ہیں۔۔۔ سلطان مسکراتے ہوئے اسکی جانب بڑھا اور  اسکے بیڈ کے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا بیٹے کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا۔۔۔ وہ اس معصوم چہرے پر جھکا اسکے ایک ایک نقش کو چوم رہا تھا۔۔۔ جبکہ عروب یک ٹک اسے دیکھتے سوچ رہی تھی کہ یہ وہی شخص تھا جو اس بچے کے وجود کو اس دنیا میں لانا ہی نہیں چاہتا تھا اور اب اس کے وجود کے سامنے دنیا بھلائے بیٹھا تھا۔۔۔
ہادی نے سرعت سے موبائل نکالتے باپ بیٹے کے اس خوبصورت منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔۔۔
آجاو جنگلی بلی فیملی فوٹو بناتے ہیں۔۔۔ ہادی نے ایک طرف روٹھی روٹھی سی کھڑی بہن کو بلاتے کہا تو وہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرتی باپ کی جانب لپکی۔۔۔
چلو جی ڈرامے شروع۔۔۔ ہادی جزبر ہوا۔۔۔
ہادی۔۔۔ سلطان فبیحہ کو بازو کے حلقے میں لیتا تنبیہاً گویا ہوا۔۔۔
سوری سوری۔۔۔ ہادی فوراً ہی ہاتھ اٹھاتا سیڑنڈر کر گیا۔۔۔
کیا ہوا میری ڈول کو۔۔۔ سلطان اسکے چہرے پر پیار کرتے مستفسر ہوا۔۔۔ بابا مجھے بھی بے بی کو اٹھانا ہے۔۔ بھائی اٹھانے نہیں دیتا۔۔۔ اسنے فوراً ہی اپنی شکایتوں کی پوٹری کھولی۔۔
یہ لو پکڑو میرا بچہ۔۔۔ سلطان نے ایک ہاتھ سے خود بےبی پکڑے فبیحہ کو پکڑایا اور خود اپنے ہاتھ کا بھی سہارا دیا۔۔۔ ہادی نے مسکراتے ہوئے مکمل فیملی کے اس مکمل منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔۔۔
بابا اس کا نام احد سلطان احمر ہوگا۔۔۔ ہادی سلطان احمر کا چھوٹا بھائی۔۔۔ اور اگر آپکو اس نام پر کوئی اعتراض ہے تو آپ اپنے تیسرے بیٹے کا نام اپنی مرضی سے رکھ سکتے ہیں۔۔۔ لیکن اسکا نام احد ہی ہوگا۔۔۔ میں فائنل کر چکا ہوں۔۔ ہادی موبائل میں موجود تصویروں کو دیکھتا حتمی انداز میں گویا ہوا۔۔۔ جبکہ سلطاں اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔
عروب کے قہقے پورے کمرے میں گھونج اٹھے تھے۔۔۔ 
*****
عروب احد سلطان احمر کو سلا کر ابھی ابھی سیدھی ہوئی تھی جب فری سوپ کا باول لئے اسکے کمرے میں داخل ہوئی
اسے  ہسپتال سے آئے دو ہفتے ہو گئے تھے۔۔۔ اب وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔۔ باجی آپکے لئے ایک خوشخبری ہے۔۔ فری سوپ کا باول سائیڈ ٹیبل پر رکھتے اسکے پاس ہی بیٹھی۔۔۔۔وہ کیا۔۔۔ عروب نے احد کے ارد گرد سے چیزیں سمیٹتے اس پر لحاف دیا۔۔۔
ان چھ ماہ میں آپکے دو نال چھپ چکے ہیں۔۔۔ اب آپکے ناول کو کتابی شکل دینے کی ڈیمانڈ اٹھ رہی ہے۔۔۔ تو کیوں نا ہم اسے کتابی شکل میں چھپوائیں۔۔ کتنا پیارا لگے گا نا جب آپ اپنے ہاتھ سے لکھے مسودے کو کتابی صورت میں اپنے ہاتھ میں پکڑیں گیئں۔۔۔ فری پرجوش سی گویا ہوئی جبکہ عروب سوچ میں پر گئ تھی۔۔۔ آج کل سلطان کا رویہ اسکے سامنے تھا۔۔۔ اور احد کی پیدائش کے بعد سے تو گویا اسکے گرد موجود سبھی خول ٹوٹ چکے تھے۔۔  وہ ایک دلعزیز شوہر کے روپ میں ابھر کر اسکے سامنے آیا تھا۔۔۔ جو عروب کے ہر ہر فیصلے کا احترام کرتا تھا۔۔  اور عروب خود بھی کوشیش کرتی کے کوئی ایسا کام نا ہو جس سے ان دونوں کے رشتے میں زرا سی بھی ان بن ہو۔۔
دیکھو فری۔۔۔ کتاب تو ہم چھپوا لیتے ہیں۔۔۔ لیکن تمہیں اس میں کچھ باتوں کا خیال رکھنا ہو گا۔۔۔ کتاب چھپوانے کے سبھی مراحل تم اپنے شوہر کے ساتھ مل کر خود طے کرو گئ۔۔ میرا نام اندر کہیں نہیں آئے گا۔۔۔ کتاب چھپوانے سے لے کر اسکی پروموشن کرنا اور اسے ڈیلیور کرنا سب تمہارے ذمہ ہو گا۔۔۔ ہاں اس پر انویسٹمنٹ جتنی ہو گئ وہ میں کروں گی۔۔۔ ایک حساب سے مصنفہ کے نام کے سوا وہ کتاب تمہاری ہی ہوگئ۔۔۔ اور اگر تم چاہو تو عروب سلطان بن کر خود کو سب کے سامنے متعارف بھی کروا سکتی ہو ۔۔ کیونکہ میں صرف اپنا ہنر نکھارنا چاہتی ہوں۔۔۔ اپنے پاس موجود ہنر سے کچھ تعمیری کام کرنا چاہتی ہوں اور بس۔۔۔ میں خود کو شو نہیں کروانا چاہتی۔۔۔ اگر تو تمہیں منظور ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ سوچ سوچ کر بولتی وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
فری حیرت سے اس سر پھری کو دیکھتی رہ گئ جسکی ہر کل ہی نرالی تھی۔۔۔
مجھے اور کیا چاہیے باجی۔۔۔ آپ کی تو فین فالونگ ہی پچھلے چھ ماہ میں بہت بڑھ چکی ہے۔۔  لوگ آپکی بات کو اہمیت دیتے ہیں۔۔۔ آپ سے انسپریشن حاصل کرتے ہیں۔۔ آپ اگر خود کو شو نہیں کرنا چاہتی تو بھی اس میں مجھے کیا مسلہ ہو سکتہے۔۔۔ میں سب سمبھال لوں گی۔۔۔۔
عروب اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔ اگر انسان کرنا چاہیے تو کیا نہیں کر سکتا۔۔۔ اسکے لئے گھر اسکی چار دیواریں۔۔ رسم و رواج۔۔۔ تہذیب  روایات اور باونڈریز  کچھ بھی تو اسے نہیں روک سکتیں۔۔۔ اپنی حدود کے اندر رہ کر بھی دنیا فتح کی جاسکتی ہے۔۔ عروب محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔ وہ خوش تھی اللہ نے اسکے لئے راہیں استوار کیں۔۔ جس پر چل کر وہ کچھ تعمیری کر پا رہی تھی۔۔۔
 لیکن سلطان۔۔۔ اگر اسے پتہ چلا تو اسکا ردعمل۔۔۔ بس یہاں آ کر اسکا دل ڈوب ڈوب جاتا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4