Header Ads

Mera Aashiyana novel last Episode 2nd part by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel  last Episode 2nd part  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

آخری قسط دوسرا حصہ
ماہیر کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو اپنے بستر پر لیٹا پایا۔۔۔
ماتھے اور ہاتھ پر پٹی بندھی تھی۔۔۔ جبکہ جسم میں بھی جگہ جگہ سے درد کی ٹھسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔ وہ  جسم میں اٹھتے درد کو نظر انداز کئے ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
سامنے ہی صوفے پر نک سک سے تیار اریز بیٹھا تھا۔۔۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ آفس سے ہنگامی بنیاد پر بلوایا گیا ہو۔۔۔
شکر ہے آپکو ہوش تو آیا۔۔۔ اسے ہوش میں آتا دیکھ وہ بے ساختہ گویا ہوا۔۔۔
ماہیر نے متوحش ہوتے اپنے ہاتھ پر لپٹی پٹی نوچنی شروع کر دی۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔ وہ بعجلت اسکی جانب بڑھا اور اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
اسے کھول رہی ہوں۔۔۔ وہ اریز کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑواتی اسے پھر سے نوچنے لگی۔۔۔ اریز بے بسی سے اسے دیکھے گیا۔۔۔
آپکو تکلیف ہوگی۔۔۔
وہ کب نہیں ہوتی۔۔  ماہیر نے جھٹکے سے ہاتھ سے پٹی کھینچ ڈالی۔۔۔ وہاں سے ننھی ننھی خون کی بوندیں ابھر  آئیں تھیں۔۔۔۔
اریز لب بھینچ گیا۔۔۔ اسنے فون کر کے آفس سے چھٹی لے لی۔۔۔ وہ سارا دن اریز نے اسکے ساتھ ہی گزارا۔۔۔ اسے ماہیر کی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
کہیں باہر چلے۔۔۔ شاپنگ کرنے۔۔۔ اسنے ماہیر کے وجود پر چھائی بیزاری ختم کرنے کی غرض سے کہا۔۔۔۔
ماہیر سوچ میں پڑ گئ۔۔۔ ہاں اسے سیلون جانا تھا۔۔۔ اسے اپنی نوک پلک سنوارنی تھی۔۔۔
ہممم۔۔۔ وہ محض ہنکارا بھر کر رہ گئ۔۔۔ ٹھیک ہے تھوڑا اندھیرا ہو لینے دیں۔۔۔
ماہیر نے گہرا سانس کھینچا۔۔  وہ ہمیشہ اسے رات میں ہی شاپنگ کروانے لے کر جاتا تھا۔۔۔ رات میں پہچانے جانے کے چانسز کم ہوتے تھے۔۔۔ اسکے اپنی سوشل اشوز تھے۔۔۔
شام گہری ہوتی رات میں تبدیل ہوئی تو اریز اسے لئے باہر نکل آیا۔۔۔
جائیں آپ شاپنگ کر آئیں میں یہیں آپکا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ ایک مال کے سامنے گاڑی رکی تو وہ اسکی جانب اپنا کڑیڈٹ کارڈ بڑھاتا گویا ہوا۔۔۔
ماہیر نے کارڈ پکڑا اور خاموشی سے باہر نکل گئ۔۔۔
یس میم آپکو کس چیز کی سروسز چاہیے۔۔۔
وہ سیلون میں ایک بیوٹیشن کے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔ آپکی ہر وہ سروس جو مجھے نکھار سکے۔۔۔ وہ جسے ایک ٹرانس کی کیفیت میں گویا ہوئی۔۔۔ اور پھر جیسے بیوٹیشن کی تین گھنٹوں کی محنت سے اسکا نین نقشہ ہی بدل گیا تھا۔۔۔نا جانے وہ تین گھنٹے تک اس پر کیا کیا طبع آزمائی کرتی رہی تھی۔۔۔ بال کٹنگ کے بعد ہلکے براون رنگ میں رنگے جا چکے تھے۔۔۔  چہرے پر خوبصورت میک آپ سے اسکے نین نقش مزید خوبصورت لگنے لگے تھے۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر تک آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔
ماہیر تم دنیا کی سب سے خوبصورت ترین لڑکی ہو۔۔۔
آج اسے احمر یاد آیا تھا اور بہت غلط وقت پر یاد آیا تھا۔۔۔
احمر اریز اور اسکے بچے۔۔۔ ماہیر کی زندگی جیسے انہیں ناموں کے بیچ کہیں اٹک کر رہ گئ تھی۔۔۔
وہ وہاں اپنے بلز کلیئر کر کے باہر نکل آئی۔۔۔
باہر اریز پچھلے تین گھنٹے سے اسکا انتظار کرتا کرتا عاجز آ چکا تھا۔۔۔ دفعتاً اسکے آتے ہی وہ گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔۔۔
****
رات کے تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا۔۔۔ ماہیر اپنے کمرے میں جلے پیر کی بلی کی مانند چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ دفعتا کچھ سوچتے ہوئے وہ اپنے کمرے سے نکلی رخ اریز کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔ اسنے دروازے پر رک کر اس پر دباو بڑھایا تو دروازہ خودنخود کھلتا چلا گیا۔۔۔
وہ آہستگی سے اندر بڑھ آئی۔۔۔
کمرا نیم تاریک اور خالی تھا۔۔۔ البتہ کمرے سے ملحق سٹڈی روم کی ہلکی لائٹ جل رہی تھی۔۔۔ ماہیر نے اسی جانب اپنے قدم بڑھائے۔۔۔
سامنے ہی اریز شرٹ سے بے نیار راکنگ چیئر پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی ہلکی آواز میں سلو میوزک لگا تھا۔۔۔
ماہیر کی جانب اسکی پشت تھی۔۔۔
آہٹ پر وہ پلٹا اور ماہیر کو دروازے میں ایستادہ دیکھ لپک کر اسکی جانب
 بڑھا۔۔۔ اسکا آنچل کندھے پر پھسلا پڑا تھا جبکہ رات کے اس پہر وہ اس حالت میں اریز کے حواسوں پر چھا رہی تھی۔۔۔
ماہیر تم۔۔۔ اس سے دو قدم کے فاصلے پر وہ رکا۔۔۔
میم آپ۔۔۔ جلد ہی وہ سمبھلا۔۔۔ کتنا انا پرست تھا وہ۔۔۔  ماہیر ٹرپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
ایسے نہیں اریز۔۔۔ پھر سے کہو نا۔۔ ماہیر تم۔۔۔ اسے کندھوں سے تھامے وہ سسک اٹھی۔۔۔ جبکہ اریز لب بھینچ گیا۔۔۔
میم آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔۔ پلیز اپنے کمرے میں جائیں۔۔۔
تم یوں کیوں کر رہے ہو اریز۔۔۔ وہ اسکی بات نظر انداز کئے چٹخی۔۔۔
میں خود تمہاری طرف قدم بڑھا رہی ہوں تم کیسے مجھے جھٹک سکتے ہو۔۔۔ وہ ٹرپ تڑپ گی۔۔
میم پلیز۔۔۔
تم۔۔تم۔۔۔۔  ماہیر کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا۔۔۔۔ لفظ ساتھ چھوڑنے لگے تھے اور وہ وہیں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی اسکی باہوں میں جھول گئ۔۔۔
******
صبح جب ماہیر کی آنکھ کھلی تو وہ اریز کے ہی کمرے میں موجود تھی۔۔۔ کمرے کے بلائنڈز ہٹے تھے جسکی وجہ سے سورج کی روشنی اندر تک آ رہی تھی یعنی کے اچھا خاصا دن نکل آیا تھا۔۔۔ الماریوں کے سبھی پٹ کھلے تھے اور پاس ہی اریز کا بیگ کھلا پڑا تھا جس میں وہ اپنا سامان نکال نکال کر رکھ رہا تھا۔۔۔
ماہیر کو یکدم ہی کسی انہونی کا خدشہ ہوا۔۔۔ یوں اسنے پیکنگ تو کبھی نا کی تھی۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھتی اسکے پاس آئی اور اسکے ہاتھ میں تھامی شرٹ جھٹکے سے کھینچی۔۔۔ اس جلد بازی میں اسکا آنچل کہیں نیچے گر گیا تھا۔۔۔
کیا کر رہے ہو تم۔۔۔ جا رہے ہو مجھے چھوڑ کر۔۔۔ ہمیشہ کے لئے۔۔۔ کبھی واپس نہیں آو گے۔۔۔ اسکے سامنے کھڑی وہ کسی انہونی خدشے کے تحت رو دی تھی۔۔۔
اریز لب بھینچ گیا اور پلٹ کر دوسری الماریوں سے چیزیں نکالنے لگا۔۔۔
ہاں وہ تھا انا پرست۔۔۔ بہت انا پرست۔۔۔
یہ وہ ہیں جنکے دم سے میں ہوں۔۔۔ جنہوں نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔۔ 
He is my really soulmate...
یہ وہ آواز تھی جس نے اسکا سکون چین سب لوٹ لیا تھا۔۔۔ اسکی محبت نے اس پر ایک معمولی شخص کو اہمیت دی تھی۔۔۔ یہ ریجیکشن اسکی انا پر ایک کاری ضرب تھی۔۔۔ 
اسے منظور نا تھا کے اسکی محبت اسکے نام پر رسوا ہو کر ہاسٹلوں کے دھکے کھاتی رہے۔۔۔ اس لئے اسنے ماہیر کو اپنے نکاح میں لے لیا تھا۔۔۔ 
لیکن وہ اس بات کو کبھی پبلکلی اناونس نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اسے اپنی عزت پیاری تھی۔۔۔ وہ کبھی خود پر ٹھپہ لگتا نہیں دیکھ سکتا تھا کے اسنے دو بچوں کی ماں کا گھر اجار کر ایک طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کی۔۔۔
اور پروموشن کے بعد تو یہ اور بھی مشکل ہو گیا تھا 
محبت اور انا دونوں ایک جگہ پر نہیں رہ سکتیں۔۔۔ اور اسکی انا کا قد بہت اونچا تھا۔۔۔ کل رات وہ اس سے جو چیز ڈیمانڈ کر رہی تھی وہ وہ اسے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔۔
اسی لئے صبح اٹھتے ہی وہ اپنی پیکنگ کرنے لگا تھا۔۔۔ بیروں ملک کی جس آفر ہر وہ اتنے وقت سے شش و پنج میں مبتلا تھا وہ فیصلہ ایک لمحے میں ہو گیا تھا۔۔۔ وہ خاموشی سے اسے نظر انداز کرتا پیکنگ کر رہا تھا جبکہ ماہیر کسی دیوانے کی مانند اسکے پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔۔۔
دفعتا اسنے اپنی ٹائی نکالی تو ماہیر نے اس سے جھپٹ کر چھین لی۔۔۔
یہ بھی لے جاو گئے۔۔۔ اسکی آواز میں حسرت تھی۔۔۔ ظاہر ہے۔۔۔ یہ میری ہے تو اسے ساتھ ہی لے کر جاوں گا نا۔۔۔ اسنے آہستہ آواز میں کہتے نگاہیں چرائی۔۔
نہیں یہ یہیں رہنے دو۔۔۔ یہ تمہارے دل کے سب سے زیادہ قریب رہتی ہے نا۔۔۔ یہ میرے پاس رہے گی تو تمہاری خوشبو مجھے آتی رہے گی۔۔۔ وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔ جیسے سمجھ چکی تھی وہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔۔۔
اریز جلد از جلد اپنی پیکنگ مکمل کر کے یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔ اسنے بیگ کی زپ بند کی اور اسے گھسیٹتا ہوا دروازے تک پہنچا تھا جب اسے لگا وہ گویا پتھر کا ہو گیا ہو۔۔۔
اس شخص کی انا بہت اونچی تھی لیکن ماہیر نے اسکے لئے اپنی انا کو اسکے قدموں میں روند ڈالا تھا۔۔۔ وہ اسکے قدموں میں جھکی اسکے پاوں پکڑے سسک رہی تھی۔۔۔
مت جاو اریز۔۔۔ پلیز مت جاو۔۔۔ اریز کو لگا اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔ اسنے پیچھے پلٹتے ماہیر کو بازو سے تھامتے اوپر اٹھایا اور ہر مصلحت بالائے طاق رکھتے اسے شدت سے خود میں بھینچ لیا۔۔۔
سہارا ملتے ہی ماہیر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔ آنسو دونوں کی آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر پھسل رہے تھے۔۔۔ یہ وہ لڑکی نہیں تھی جسے اریز جانتا تھا۔۔ جسکا دیوانہ وہ ہوا تھا۔۔۔ جسکا ایک ایک لیکچر اسکے پاس لیپ ٹاپ میں ابھی بھی سیو تھا۔۔۔ جسکی آواز میں اتنی تاثیر تھی کے وہ سیدھا دل پر اثر کرتی تھی۔۔۔ 
اسکا دل چاہا ان دونوں سمیٹ آج کائنات کی ایک ایک چیز آئیڈیلزم پر چیخ چیخ کر رو دے۔۔۔۔
میری بات سنیں آپ۔۔۔ میں آپکو اپنا پابند نہیں بنا کر جا رہا۔۔۔ آئندہ سالوں میں میں شاید واپس آوں ۔۔۔ شاید نا آوں۔۔۔ شاید آپکو وہاں سے فون کروں۔۔۔ لیکن میں آپ سے ہر قسم کی پابندی ہٹا رہا ہوں۔۔۔ آپ جو کرنا چاہیں کر سکتی ہیں۔۔۔ جہاں جانا چاہیں جا سکتی ہیں۔۔۔ جس سے ملنا چاہیں مل سکتی ہیں۔۔۔ لیکن بس یاد رکھیے گا۔۔۔ میرا بھرم قائم رکھیئے گا۔۔۔ ہمارا رشتہ پبلکی اناونس نہیں ہونا چاہیے۔۔۔  وہ جتنے اسکے آنسو صاف کر رہا تھا اتنے ہی مزید آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔
بلآخر وہ اپنا بیگ گھسیٹتا لاوئنج کا دروازہ عبور کر گیا۔۔ جبکہ وہ دروازے کو تھامے یوں کھڑی تھی جیسے کسی بھی پل ڈھے جائیگی۔۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اسکی طرف اپنا سائیڈ رخ کئے کافی دیر تک کھڑا رہے جیسے چاہتا ہو کے وہ اسے جی بھر کر دیکھ لے۔۔۔ آنکھوں کی پیاس بجھا لے کے پتہ نہیں اسے دوبارہ اسے دیکھنے کا موقع کب ملتا۔۔۔
پھر وہ یکدم ہی پلٹ کر تیزی سے گاڑی میں بیٹھا اور اسکے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔ اسنے آنکھیں موندتے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا لیا۔۔۔
یہ تھی اسکی انا کی کہانی۔۔۔ ناجانے کب اسکی انا اسکی محبت کے آگے سر خم کرتی۔۔۔۔
****
پانچ سال بعد۔۔۔
چار سالہ احد نے لاوئنج میں  ادھم مچا رکھا تھا۔۔۔ فبیحہ اور ہادی بیٹھے پڑھائی کر رہے تھے جبکہ وہ ان دونوں کے آگے سے کتابیں اٹھا اٹھا کر بند کرتا  ایک ہی ضد کر رہا تھا کے باہر لان میں چل کر اسکے ساتھ کھیلیں۔۔۔ وہ ان دونوں بہن بھائیوں کیساتھ ساتھ پورے گھر کی آنکھوں کا تارا تھا۔۔۔ دفعتاً  اسنے ہادی کے آگے سے جرنل اٹھایا اور آگے لگ کر بھاگ گیا۔۔۔
اوے چیمپ۔۔۔ جرنل تو واپس کر دو یار۔۔۔ چل رہے ہیں ہم کھیلنے۔۔۔ چودہ سالہ ہادی اپنی قد کاٹھ سے کسی لحاظ سے بھی چودہ سال کا نا لگتا تھا۔۔ احد جرنل لئے باہر لان میں بھاگ گیا جبکہ فبیحہ بھی کتابیں بند کر کے باہر انکے پیچھے چل دی۔۔ اوپر کھڑی عروب انہیں دیکھتی مسکرا کر اپنے کمرے میں آگئ جہاں فری اپنی دو سالہ بیٹی کے ساتھ اسکی منتظر تھی۔۔۔
اسکی ماں ابھی بھی وہیں تھی جبکہ فری اپنی رخصتی کے بعد اکثر ہی عروب سے ملنے آتے رہتی تھی۔۔۔ ان پانچ سالوں میں عروب نے بہت کامیابیاں سمیٹی تھیں۔۔۔ اسکی پانچ کتابیں منظر عام پر آ چکی تھیں۔۔۔ حلقہ ادب میں اسنے بہت پزیرائی سمیٹی تھی۔۔۔ لیکن ابھی تک لوگ محض اسے اسکے نام سے ہی جانتے تھے۔۔۔ فری اسکی نئ شائع کتاب لے کر آئی تھی۔۔۔
یہ دیکھیں باجی یہ آپکی پانچویں کتاب۔۔۔ خواہشِ زندگانی۔۔۔ فری نے کتاب اسے تھمائی تو وہ اسکے نیلے اور سنہری رنگ کے کور پر ہاتھ پھیرتی مسکرائی۔۔۔ ہر دفعہ اپنی چھپی کتاب کو ہاتھ میں لے کر وہ یونہی خوشی محسوس کرتی تھی۔۔۔
اچھا باجی مجھے آپکو ایک بات بتانی تھی ۔۔۔ ہاں کہو۔۔۔ وہ وہیں کھڑی کتاب کھول کر اسکی ورک گردانی کرنے لگی۔۔۔
کراچی کا ایک پروڈیوسر ہے مانی شاہ۔۔ وہ آپ سے ڈرامہ لکھوانا چاہتا ہے۔۔۔ لیکن اس سے پہلے وہ آپ سے ملاقات کر کے سب کچھ فا۔۔۔ الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے جب وہ دروازے میں ایستادہ سلطان کو دیکھ کر یکدم خاموش ہوئی۔۔۔ اسے یوں خاموش ہوتا دیکھ عروب الجھ کر پلٹی جبکہ اپنے پیچھے سلطان کے نافہم انداز اور سرد تاثرات کو دیکھ کر وہ گویا وہیں فریز ہوگئ۔۔۔ ہاتھ میں تھامی کتاب تک چھوٹ کر نیچے جا گری۔۔ ۔
ان دونوں کو یوں دیکھ فری خاموشی سے اپنی بیٹھی اٹھاتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔۔
سلطان نے آگے بڑھتے نیچے سے کتاب اٹھائی۔۔۔
اسکا اجنبی روپ دیکھ عروب کو اپنے جسم پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔ اسکی رنگت فق پڑنے لگی تھی۔۔۔ یہ وہ لمحات تھے جو وہ اپنی زندگی میں کبھی دیکھنا نا چاہتی تھی۔۔۔
محترمہ مصنفہ عروب سلطان۔۔۔ وہ عجیب سے انداز میں بولا۔۔ عروب نے اپنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
سس۔۔۔سلطان۔۔۔ 
بسسسسس۔۔۔۔ ایک لفظ اور نہیں۔۔۔ وہ یکدم ڈھارا۔۔۔ دھار کی آواز اتنی اونچی تھی کے عروب کو اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4