Header Ads

Mera Aashiyana novel last Episode Last part by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


Mera Aashiyana novel  last Episode Last part  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

آخری قسط آخری حصہ۔۔۔
میرے منع کرنے کے باوجود تم باز نا آئی عروب۔۔۔ کیا واقعی عورت میں وفا نہیں ہوتی۔۔۔ اسکا لہجہ سخت اور سرد تھا لیکن آواز بھرا گئ تھی۔۔۔ عروب نے تڑپ  کر سر نا میں ہلایا۔۔۔ کس چیز کی کمی تھی تمہیں عروب۔۔۔
کیوں کیا تم نے یوں۔۔۔ تم تو اعتبار نا توڑتی۔۔۔ کیا میری قسمت میں عورت کی وفا ہے ہی نہیں۔۔۔
کس چیز کے تجسس نے تمہیں یہ کرنے پر مجبور کیا۔۔۔ کیا چاہیے تمہیں عروب۔۔۔ قدردان۔۔۔ واہ واہ۔۔۔ 
تو ہے نا تمہارا قدردان۔۔۔ وہ مانی شاہ۔۔۔ اور نجانے کون کون۔۔۔ جاو تم کراچی۔۔۔ لیکن آگے کی ساری کہانی میں جانتا ہوں۔۔۔ جب عورت کامیابی کے آسمان پر چمکتا ہوا ستارہ بن کر ابھرتی ہے نا تو یونہی پھر اپنی زندگی میں موجود دوسرے رشتوں کو پاوں کی زنجیر سمجھتے کاٹ کر پھینکتی ہے۔۔۔ 
وہ غصے میں جیسے پاگل ہونے کے در پر تھا۔۔۔ جیسے عروب نے اسکے بھر چکے زخموں کو بے دردی سے نوچا تھا کے وہ پھر سے رسنے لگے تھے۔۔۔ وہ درد کی انتہا پر تھا۔۔۔ جیسے قسمت اسے  آٹھ نو سال پیچھے لے جا چکی ہو۔۔۔
عروب بہتے آنسوں کے ساتھ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی کے ہر عورت بے وفا نہیں ہوتی۔۔۔ بالخصوص وہ بے وفا نہیں ۔۔۔ اسے واہ واہ نہیں چاہیے۔۔۔ اسے قدر دان نہیں چاہیے۔۔۔ وہ بولنا چاہتی تھی لیکن سلطان کے اس قدر سرد تاثرات اسکی زبان گنگ کر رہے تھے۔۔۔
اسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔
تم آزاد ہو عروب۔۔۔ تمہیں یہ گھر اپنا شوہر اور بچے نہیں چاہیے۔۔۔ وہ بدگمانی کی انتہا پر تھا۔۔۔ میں آٹھ سال پرانی کہانی تمہیں دوبارہ دہرانے کی اجازت ہرگز نہیں دونگا۔۔  وہ غرایا۔۔۔
عروب خوف سے کپکپاتی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔ 
نہیں سلطاں۔۔ میرا گھر ۔۔ میرا آشیانہ۔۔۔ میرے بچے اور میرا شوہر میری کل کائنات ہے۔۔۔ میری جنت ہے۔۔ مجھے آپ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔۔۔ میں سب چھوڑ دوں گی سلطان۔۔۔ میں کبھی دوبارہ نہیں لکھوں گی۔۔۔ کسی انہونی کا احساس عروب کی حسیات مفلوج کر رہا تھا۔۔۔ اسنے بے چینی سے کتاب اٹھا کر خود سے دور پھینکی جیسے وہ آسیب زدہ ہو۔۔۔ جو اسکا آشیانہ اسکی جنت نگل لے گی۔۔۔۔۔۔
جسم پر کپکی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ سلطان ہنوز اسے بدگمان سرد زہریلی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ کل تک جن نگاہوں میں اسکے لئے صاف محبت تھی آج ان میں حقارت تھی۔۔۔ اور عروب وہ حقارت دیکھنے سے پہلے مرنا پسند کرنا چاہتی تھی۔۔۔
یہ موبائل فون اگر ہمارے درمیان بگاڑ کی وجہ ہے تو میں اسے آگ لگا دوں گی سلطان۔۔۔ اسنے چیختے ہوئے موبائل دیوار میں دے مارا۔۔۔
بند کرو یہ پاگل پن کا ڈرامہ۔۔۔ اتنی تم پارسا ہوتی تو یہ سب حرکتیں کرتی ہی نا۔۔۔ اب یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو ہاں۔۔۔ سلطان اسے بازو سے دبوچتے غرایا۔۔۔
اسکی اسقدر سخت گرفت پر عروب تھرا گئ۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سلطان کا یہ وحشی روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسنے ایک جھٹکے سے عروب کی بازو چھوڑی وہ دور جاتی زمین بوس ہوئی۔۔۔ کہنیاں پورے زور سے زمین سے ٹکراتیں چھل گئیں۔۔۔
میں سلطان احمر۔۔۔
یہ وہ الفاظ تھے جو عروب کے اندر سے نوچ کر روح کھینچ لے گئے۔۔۔ بقائم ہوش و حواس۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ اتنی سفاکیت۔۔۔۔
تمہیں طلا۔۔۔۔ وہ چیل کی سی تیزی سے اٹھی اور سائیڈ ٹیبل کی جانب لپکی۔۔۔
کمرے میں اسکی دلخراش چیخیں گھونج اٹھی تھی۔۔۔
سلطان اپنی جگہ پر ساکت رہ گیا۔۔۔ کچھ کہنے کو لب نیم وا رہ گئے
اس بپھرے ہوئے طوفان کو روکنے کا اسکے پاس کوئی راستہ نا تھا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ جذباتیت اور غصے میں عروب کا ناقابل تلافی نقصان کر دیتا وہ بنا سوچے سمجھے ایک خطرناک قدم اٹھا چکی تھی۔۔۔ سلطان ساکت نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسقدر جنونیت۔۔۔ وہ لڑکی اسکی حسیات مفلوج کر گئ تھی۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی چیخیں وہاں کی درودیوار لرزا رہی تھیں۔۔۔
دفعتا ہادی فبیحہ اور احد ماں کی چیخیں سن کر بھاگتے ہوئے کمرے میں آئے۔۔۔ 
ماںننننننن۔۔۔۔ اسکی کلائی سے بھل بھل بہتا خون دیکھ ہادی چیختا ہوا ماں کی جانب بڑھا اور سرعت سے اسکے ڈھتے وجود کو باہوں میں بھرا۔۔۔
فبیحہ احد کو لے کر اپنے کمرے میں جاو۔۔۔ ماں کے بازو پر اسکا دوپٹہ باندھتا وہ چیخا۔۔۔
فبیحہ احد کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی اسے کھینچ کر باہر نکلی جو وہاں لگنے والی خون کی ندی دیکھ کر خوفزدہ ہو رہا تھا۔۔۔
بابا آپ ماں کو لے کر نیچے آئیں میں تب تک گاڑی نکالتا ہوں۔۔۔ اسکی لرزتی آواز پر سلطان ہوش میں آیا اور سرعت سے عروب کے نیم بہوش وجود کو اٹھا کر ہادی کے پیچھے نیچے بھاگا۔۔۔
گیٹ کے سامنے ہادی گاڑی سٹارٹ کئے کھڑا تھا۔۔۔ سلطان کے احمر کو پچھلی سیٹ پر لٹاتے دیکھ وہ گاڑی سے نکلا اور پیچھے عروب کے پاس بیٹھتے اسے سہارا دیا جبکہ سلطان کے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالتے ہی گاڑی ہواوں سے باتیں کرنے لگی تھی۔۔۔ عروب کے آج کے قدم نے اسکے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔۔۔۔
****
عروب کی حالت کافی سیریس تھی۔۔۔ خون کافی بہہ چکا تھا۔۔۔ اسے بار بار خون کی بوتلیں لگ رہی تھی۔۔۔ سلطان گم صم سا  ہسپتال کے کاریڈور میں ہاتھ پشت پر باندھے دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔ آج جو حرکت عروب نے کی تھی وہ اسکے گمان سے پڑے تھی۔۔۔ 
چکر کاٹتے کاٹتے بلآخر تھک کر وہ وہیں نصب بینچ پر بیٹھ گیا۔۔۔
بابا آپ میری ماں کی بے وفائی کی سزا عروب ماں کو نہیں دے سکتے۔۔۔ دفعتاً ہادی اسکے ساتھ آ کر بیٹھتا آہستگی سے گویا ہوا تو سلطان کرنٹ کھا کر اسکی جانب پلٹا۔۔۔ کیا وہ کچھ جانتا تھا۔۔۔ یا سب کچھ ہی۔۔۔
میں یہ نہیں کہتا کے میری ماں بے وفا تھی۔۔۔ یا وہ غلط تھی۔۔۔ وہ جو بھی تھیں انہوں نے جو بھی کیا۔۔۔ وہ آپکا اور انکا میٹر تھا بابا۔۔۔ میرے لئے وہ میری ماں تھی۔۔ اور میرے لئے وہ ہمیشہ قابل احترام رہیں گی۔۔۔ ماضی میں کس کی غلطی تھی کس نہیں۔۔۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔ وہ ماضی تھا جو گزر گیا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو تکتا بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ سلطان یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ اتنا بڑا کب ہوگیا کہ باپ کو نصیحت کر سکے۔۔۔
یہ حال ہے اور اسی سے ہمارا مستقبل منسلک ہے۔۔۔ عروب ماں کو ہم پچھلے پانچ سالوں سے جانتے ہیں۔۔۔ مجھ سے زیادہ آپ زمانہ شناس ہیں۔۔  کیا اپنی پانچ سالہ ازواجی زندگی یا پانچ سالہ رفاقت میں آپ نے کبھی عروب ماں کے کردار میں کہیں کوئی جھول دیکھا۔۔۔ یا آپکو کبھی لگا ہو کہ وہ دکھاوا کر رہی ہیں۔۔۔ وہ سراپائے سوال بنا ہوا تھا۔۔۔
جھول تو میں نے اپنی نو سالہ ازواجی زندگی میں کبھی تمہاری ماں کے کردار میں بھی نا دیکھا تھا۔۔۔ پھر یکدم کونسی آندھئ چلی تھی جو سب کچھ اپنے سنگ بہا لے گئ۔۔۔
وہ ٹوٹے لہجے میں ماتھا مسلتا گویا ہوا۔۔۔
ہادی اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ مام اور عروب ماں میں بہت فرق ہے بابا۔۔۔ ماضی میں جو کچھ بھی ہوا وہ مام کے حصے کی آزمائش تھی۔۔۔ اسکے بارے میں وہ بہتر جانیں یا انکا خدا۔۔۔
ہم کسی کو جج نہیں کر سکتے۔۔۔ آج جو ہو رہا ہے یہ آپکے حصے کی آزمائش ہے بابا۔۔۔ اور میں دلی طور پر چاہتا ہوں کے آپ اس آزمائش میں سرخرو ہوں۔۔۔ سلطان نے سرخ نگاہیں اٹھا کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے بیٹے کو دیکھا۔۔۔
کیونکہ میں اس دفعہ اپنا کوئی ناقابل تلافی نقصان نہیں کروا سکتا۔۔۔
عروب ماں رائٹر ہیں۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔ اسنے ایک نیا انکشاف کیا۔۔۔
میں نے انکی ہر ہر کتاب پڑھی ہے۔۔۔ وہ اتنا خوبصورت لکھتیں ہیں کے انکی تحریریں پڑھ کر خودبخود انکی شخصیت سے پیار ہونے لگتا ہے۔۔۔
انکی تحریروں میں آپکو حوصلہ عزم اور امید کی باتیں دکھائی دیں گی۔۔۔ انکی فین فالونگ بہت زیادہ ہے۔۔۔ مجھے اپنی ماں پر فخر ہے بابا۔۔ وہ ایک آئیڈیل ماں ہیں۔۔۔ جنہوں نے اپنے گھر اور بچوں کے ساتھ اپنی حدود میں رہتے اپنی قابلیت کی بنیاد پر اپنا لوہا منوایا ہے۔۔۔
لیکن ان سب چیزوں کے ساتھ وہ گمنام ہیں۔۔۔ انکے نام کے سوا انکے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔۔ لیکن ظاہر سی بات ہے کے ایک گھر میں زیادہ وقت انکے ساتھ رہتے میں سب کچھ جانتا ہوں۔۔۔ وہ اس معاملے میں آپ سے ڈرتی ہیں۔۔۔ وہ اس وجہ سے اپنے گھر میں کوئی بگاڑ نہیں چاہتیں۔۔۔ میں نے بھی انکا بھرم رکھا اور کبھی محسوس نا ہونے دیا کے میں انکے بارے میں کچھ جانتا ہوں۔۔۔
مزید آج کا انکا ایک شدید ردعمل انہیں ثابت کرنے کو کافی ہے کے وہ آپکے ساتھ مخلص ہیں بابا۔۔۔ اب اگر آپ انکے ساتھ کچھ برا کریں گے تو غلطی کے مرتکب ہونگے۔۔۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا بابا۔۔۔ انکے ساتھ انکا بیٹا کھڑا ہے۔۔۔ یہ آپ دونوں کا آپسی معاملہ ہے اس لئے اسے آپس میں سلجھا لیں ورنہ میں اپنی ماں کی حق تلفی کسی صورت نہیں ہونے دوں۔۔۔ میں آپنی ماں کے حق کے لئے لڑ سکتا ہوں۔۔۔ اور وہ یہ ڈیزرو کرتی ہیں۔۔۔
ایک بیوی کو اسکے شوہر سے بڑھ کر کوئی نہیں جان سکتا ۔۔۔ اور انکی پاکدامی اور باکردار ہونے کے گواہ آپ خود ہیں۔۔۔ یہ سب آپ بس ماضی کے ایک خوف کے زیر اثر کر رہیں ہیں۔۔۔ بقول آپکے اگر یہ ایک رسک ہے۔۔۔ تو بھی میں یہ ہی کہوں گا کے آپ یہ رسک لے لیں۔۔۔ کیونکہ میری ماں دنیا کی بہترین ماں ہے جس نے برے سے برے حالات میں بھی حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ باپ کو گم صم بیٹھا چھوڑ اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔ جبکہ سلطان کے لئے سوچ کے بہت سے در وا کر گیا تھا۔۔۔
*****
سلطان دروازہ گھسیٹتا اندر داخل ہوا۔۔۔ سامنے ہی عروب پیشنٹ بیڈ پر چت لیتی تھی۔۔۔ سینے تک لحاف اوڑھ رکھا تھا جبکہ کلائی پر پٹی بندھی تھی۔۔۔ دوسرے ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی۔۔۔ وہ قدم قدم آگے بڑھتا اسکے پاس آ کر بیٹھا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد عروب کی آنکھوں میں جنبش ہوئی۔۔۔ اسنے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ اسے آنکھیں کھولتا دیکھ سلطان الڑت ہو کر بیٹھا۔۔۔
سلطان۔۔۔ اسے دیکھتے ہی عروب کے لب پھڑ پھڑائے۔۔۔۔ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگتے کنپٹیوں کی جانب لکیر کی صورت بہتے چلے گئے تھے۔۔۔
سلطان ۔۔ سس۔۔۔ سوری۔۔۔ پلیز معاف ۔۔  کر دیں۔۔۔ میں سب چھوڑ دوں گی۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھ میں اسکا ہاتھ تھام گئ۔۔۔ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے۔۔۔۔
آ۔۔۔آپ غصہ تھوک دیں سلطان۔۔۔ پلیز۔۔۔ آپکو خدا کا واسطہ۔   آپکے بنا میں کچھ نہیں۔۔۔ نہیں رہ سکتی میں آپکے بنا۔۔۔ میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔ آپ میری زندگی میں آنے والے پہلے اور آخری شخص ہیں۔۔۔ خدا کے لئے میرے لفظوں پر اعتبار کر کے مجھے سرخرو کردیں۔۔۔ ہچکیوں سے روتی وہ اسے اپنا یقین دلوا رہی تھی۔۔۔
سلطان کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں تھیں۔۔ وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ دل میں ایک طوفان بھرپا تھا۔۔۔ احساسات عجیب سے ہو رہے تھے ۔۔ کیا وہ واقعی زیادتی کا مرتکب ہو رہا تھا۔۔۔
اسکے سامنے موجود یہ نازک وجود کیا اسکی بے رخی کے قابل تھا۔۔۔  اور اس اظہار نے تو سلطان کے دل پر گویا آڑے چلا دیئے تھے۔۔۔
مجھے تم پر یقین ہے پرنسس۔۔۔ اسنے عروب کی جانب جھکتے اسکے اشک صاف کئے۔۔۔ عروب وہیں تھم گئ۔۔۔
تم ایک بہترین بیوی اور مثالی ماں ہو۔۔۔
یہ الفاظ نہیں آب حیات تھے۔۔۔ جو اسکی زندگی کا کل اثاثہ بنتے اس میں نئ روح پھونک رہے تھے۔۔۔۔
میں نے کچھ معاملات میں تمہارے ساتھ زیادتی کی عروب۔۔۔ تم چاہو تو اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کر سکتی ہو۔۔۔ تم ناول لکھنا چاہو یا ڈرامہ۔۔۔ میں تمہارے اور تمہارے کیرئر کے درمیان کبھی نہیں آوں گا۔۔۔
بس میرا مان کبھی ٹوٹنے نا دینا عروب۔۔۔ کبھی میری عزت نیلام مت کرنا۔۔۔ میری ہستی بستی جنت کو اجارنا مت۔۔۔ بات کرتے سلطان کی آواز بھرآئی تھی۔۔۔
عروب نے اسکا ہاتھ تھامتے کپکپاتے لبوں سے لگایا۔۔ اس اعتبار کا شکریہ سلطان۔۔۔ میں آپکا اعتبار کبھی نہیں توڑوں گی۔۔۔۔ 
میری زندگی کی پہلی ترجیح میرا گھر میرا شوہر اور میرے بچے ہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گئے۔۔ وہ اسکا ہاتھ اپنی گال سے لگائے آنکھیں موندے ایک جذب کے عالم میں بول رہی تھی۔۔۔ چہرے پر کچھ دیر پہلے والی پزمردگی کی جگہ شادابی نے لے لی تھی۔۔۔۔ سلطان نے جھکتے ہوئے اسکے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا۔۔۔
*****
ماہیر اریز احمد اس وقت اپنے لاوئنج میں بے مقصد بیٹھی تھی۔۔۔ پچھلے پانچ سالوں کی تن تنہا مسافت نے اسکے تھکا ڈالا تھا۔۔۔ پچھلے پانچ سالوں کی آبلہ پائی کا یہ سفر بہت کھٹن تھا۔۔۔ اریز جانے سے پہلے اسے ہر چیز کی آزادی دے کر گیا تھا۔۔۔ وہ جو چاہتی کر سکتی تھی۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ کہیں آتی جاتی نا تھی۔۔۔ نا کسی سے ملتی ۔۔ نا کچھ کرتی۔۔۔ وہ تو جیسے ہر ہر آہٹ پر اسی کی منتظر تھی۔۔۔ ہر بجنے والی گھںٹی پر چونک چونک جاتی۔۔۔ لیکن اسکا انتظار انتظار ہی رہا تھا۔۔۔  کچھ خطائیں شاید اتنی جلدی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔۔۔ وہ آپکے وجود سے جونک کی مانند چمٹ جاتی ہیں۔۔۔ جو نا جینے دیتی ہیں نا مرنے دیتی ہیں۔۔۔ بس قطرہ قطرہ آپکے وجود سے خون چوستی رہتی ہیں۔۔۔
مصباح ہی کبھی وقت نکال کر اس سے ملنے چلے آتی۔۔۔  اسے وہاں بیٹھے ناجانے کتنا وقت ہو گیا تھا جب اچانک اسکی نظر لاوئنج کے دروازے کی جانب اٹھی اور وہاں ایستادہ وجود کو دیکھ کر گویا پلٹنا بھول گی۔۔۔
ماہیر حیرت کے زیر اثر جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔ کیا بھلا دعائیں یوں بھی قبول ہو جایا کرتی تھیں۔۔۔۔وہ تھوک نگلتے ایک ٹرانس کی کیفیت میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اسکے بدن پر کپکی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ دھندلائی نگاہوں سے اسے دیکھتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکی جانب بڑھ رہی تھی جب وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ماہیر تک پہنچا۔۔۔
ماہیر کے لب کپکہا اٹھے۔۔ ہونٹوں سے ایک سسکتی برآمد ہوئی۔۔۔
ہا۔۔۔ ہادی۔۔۔ میری جان۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیت اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھو رہی تھی جب ہادی نے ماں کو شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔
اتنے عرصے بعد ایک مضبوط سہارا ملتے ہی وہ ضبط کے سبھی بندھ ٹور گئ۔۔۔
مجھے معاف کردو میری جان۔۔۔ تمہاری ماں بہت بری ہے۔۔۔ لیکن میں نے تمہیں بہت یاد کیا میری جان۔۔۔ تمہیں دیکھنے کو بہت دعائیں مانگی۔۔۔ میری آنکھیں ترس گئ تھیں تمہیں دیکھنے کو۔۔۔ وہ اسکے سینے سے لگی اپنا درد ہلکا کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ ہادی بھی شدت ضبط سے سرخ نم آنکھیں لئے ماں کا سر سہلا رہا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ ماں کے ساتھ لاوئنج میں بیٹھا فرش کو گھور رہا تھا۔۔۔
کیسی ہیں آپ مام۔۔۔۔ اسنے آہستگی سے بات کا آغاز کیا۔۔۔ جبکہ ماہیر کسی دیوانی کی مانند اسکا چہرا تک رہی تھی۔۔۔ پیاسی دید سیراب ہوتی ہی نا تھی۔۔۔
کبھی اسکے ماتھے کا بوسہ لیتی تو کبھی آنچل کے پلو سے اسکا چہرا صاف کرتی۔۔۔
تمہیں یہاں کا ایڈریس کیسے ملا ہادی۔۔۔ حواس کچھ بحال ہوئے تو وہ بول اٹھی۔۔۔
مصباح خالہ ملی تھیں چند دن پہلے مال میں۔۔۔ 
تمہاری ماں بہت بری ہے ہادی۔۔۔۔ وہ اسکے خاموش ہوتے ہی بول اٹھی۔۔۔
پلیز مام۔۔۔ خود کو یوں ڈی گریڈ مت کریں۔۔۔ آپ میری ماں ہیں۔۔۔ اور میرے لئے قابل احترام ہے۔۔۔ میں بیٹا ہوں اور میرا دل آپکے لئے بہت وسیع ہے۔۔  ماضی میں جو ہوا میں نہیں جانتا ۔۔۔ میں تو یہاں بس آپنی ماں کی آغوش کا سکھ محسوس کرنے آیا ہوں۔۔۔ وہ نیچے کارپٹ پر بیٹھتا اسکی گود میں سر رکھ گیا۔۔۔ ماہیر کی ہچکی بندھ گی۔۔ 
تمہاری ماں بدکردار نہیں تھی ہادی۔۔۔ 
میری ماں بدکردار ہو بھی نہیں سکتی۔۔۔ آنسو ہادی کی آنکھوں سے لکیروں کی مانند ٹوٹنے لگے تھے۔۔۔
فبیحہ کو ساتھ کیوں نہیں لائے ہادی۔۔۔ وہ اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی گویا ہوئی۔۔۔
وہ تب بہت چھوٹی تھی ماں۔۔۔ اسکی یاداشت میں شاید آپ محفوظ ہوں یا شاید آپ محفوظ نا ہوں۔۔۔ میں نہیں جانتا۔۔۔ لیکن وہ فلحال عروب ماں سے بہت اٹیچ ہے۔۔ مستقبل میں کوشیش کروں گا اگر وہ کسی چیز سے آگاہ ہوئی تو بابا سے اجازت لے کر اسے ساتھ لے آوں۔۔۔ ابھی تو اپنے لئے میں نے ان سے اجازت لی تھی۔۔۔
کیا کھاو گے ہادی۔۔۔ وہ کچھ دیر بعد گویا ہوئی۔۔۔ کچھ نہیں مام۔۔۔ ابھی تو صرف آپ سے ملنے آیا تھا۔۔۔ عروب ماں لنچ تیار کر رہی تھیں اور وہ لنچ پر انتظار کر رہی ہوں گی۔۔۔ ہم یہاں انہی کے آفیشل کام سے آئے تھے۔۔۔۔خیر میں آتا جاتا رہوں گا تو ۔۔۔ پھر سہی۔۔۔ اسنے سیدھا ہوتے عقیدت سے اسکا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا اور پھر باری باری دونوں آنکھوں سے۔۔۔
ہادی کے آنے سے اسے بہت حوصلہ ہوا تھا۔۔۔ گویا خزان بھری زندگی میں بہار اتر آئی تھی۔۔۔ دل میں پھول کھلنے لگے تھے۔۔۔
مام ایک بات کہوں۔۔ جاتے جاتے وہ واپس پلٹا۔۔۔ ہمم کہو۔۔۔ ماہیر بھی مسکرا کر وہیں رکی۔۔۔ میں اس ماہیر کو جانتا ہوں جو آئیڈیل ہوا کرتی تھی۔۔۔ لوگ جس سے انسپائریش حاصل کرتے تھے۔۔۔
پلیز خود کو ضائع مت کریں۔۔۔ مجھے میری وہی مام لوٹا دیں۔۔۔ وہ لاوئنج کے دروازے کے پاس کھڑا جوتے سے فرش پر لکیریں کھینچ رہا تھا۔۔۔
اسکی آنکھیں پھر سے بھر ائیں۔۔۔
تمہارے باپ نے اتنے سال لگا کر مجھے جس بلندی پر پہنچایا تھا نا ہادی۔۔۔ اسنے رک کر گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔ میں وہاں سے گر گئ ہوں۔۔۔ اور گر کر ۔۔۔۔ ریزہ ریزہ ہوگئ ہوں۔۔۔
اس ریزہ ریزہ وجود کو سیمٹنا بے شک ایک مشکل امر ہے مام۔۔ لیکن ناممکن نہیں۔۔۔
ہادی سلطان احمر کی ماں اتنی کمزور نہیں ہو سکتی۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرایا۔۔۔ اسنے ثابت کیا تھا کے وہ اسی شخص کی اولاد تھا جسنے اسے بلندیوں کی اونچائی پر پہنچایا تھا۔۔  وہ سالوں بعد آیا تھا لیکن اسے حوصلے اور امید کی نئ کرن تھما گیا تھا۔۔۔
*****
ہال اس وقت طرح طرح کی سیلبرٹیز سے بھرا پڑا تھا۔۔  سٹیج بہت خوبصورت انداز میں بنایا گیا تھا۔۔۔ فینسی لائیٹس دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھیں۔۔۔ ایسی میں ڈائز کے پاس ایک طرحدار کپل کھڑا کمپئرینگ کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔۔۔
And the best drama script award goes to ... Writer Aroob Sultan for Khuahish e Zindagani... 
اناوئنس ہوتے ہی ہال تالیوں کی گھونج سے گھونج اٹھا تھا۔۔۔
عروب سلطان اور ہادی کے درمیان سے بے یقینی کی کیفیت میں اٹھی اور خوشی سے کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی سٹیج کی جانب بڑھی۔۔ اس رنگ و بو کے سیلاب میں اس وقت وہ تنہا تھی جو اس وقت عبایہ اور نقاب میں موجود تھی۔۔۔
ایوارڈ حاصل کر کے وہ ڈائز کی جانب بڑھی۔۔۔۔
اسلام علیکم ایوری ون۔
Actually m very nervous and speechless....
 وہ خوشی سے چند گہرے سانس لیتی تھمی۔۔۔ 
آج میں یہاں جس مقام پر بھی کھڑی ہوں۔۔۔ اسکا یقین کرنا میرے خود کے لئے بے حد مشکل ہے۔۔۔ 
ہال میں قہقے گھونج اٹھے تھے۔۔۔
یہ سب اللہ کے بعد میرے شوہر اور فیملی کی سپورٹ کی وجہ سے ممکن ہو  پایا ہے۔۔۔ اسکے کہتے ہی سپورٹ لائٹ اسکی فیملی کی جانب اٹھی تھی۔۔۔
میں یہاں اپنی جیسی لڑکیوں سے صرف ایک ہی بات کہنا چاہوں گی۔۔۔ کے حالات کو بلیم کرنا چھوڑ دیں۔۔۔ آپکے حالات جو بھی ہوں۔۔۔ اپنے لئے جہد کرنا کبھی نا چھوڑیں۔۔۔ آج حالات اگر مشکل ہیں تو کل اچھے بھی ہوں گے۔۔۔ شوہر سپورٹر نہیں۔۔۔ ساس نندوں کے جھگڑے۔۔۔ فنانشلی مسائل تعلیمی مسائل عرض کوئی بھی مسائل ہوں وہ آپکو نہیں روک سکتے آگر آپ اپنے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو پہچان کر اپنے لئے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو۔۔۔ سب مسائل ایک ایک کر کے ختم ہو جائیں گے۔۔۔ اللہ پر بھروسے کے بعد صرف اپنی ذات پر بھروسہ رکھیں۔۔۔ بس خود کو ضائع مت کریں۔۔۔ یہ میٹر نہیں کرتا کے آپ پڑھی لکھی ہیں یا نہیں۔۔۔
بل گیٹس بھی کالج ڈراپ آوٹ ہے۔۔۔ دنیا میں جھنڈے گاڑنے والے لوگوں میں سے بیشتر نے پڑھائی ادھوری ہی چھوڑی ہے۔۔۔ آپ اپنی زنپدگی کے جس مقام پر بھی ہیں۔۔۔ اپنے لیول پر اپنی کوشیش شروع کریں۔۔۔ اگر آپکو کوکنگ کا شوق ہے تو سٹارٹ وہیں سے لیں۔۔۔ آپکو سلائی کڑھائی آتی ہے تو وہیں سے شروع کریں۔۔۔ آپکو بچے پڑھانے کا شوق ہے تو آپکا پہلا قدم وہیں سے ہونا چاہیے۔۔۔ غرض آپکو جس چیز کا بھی شوق ہے اپنے اس پیشن کو پروفیشن سے جوڑ دیں ۔۔۔ بس خود کو ضائع مت کریں۔۔۔ اور پھر یہ تو دستور کائنات ہے نا۔۔۔ کہ ایک جگہ کھڑے صاف شفاف پانی کو بھی کائی لگ جاتی ہے۔۔ تبدیلی کائنات کا معمول ہے۔۔۔ بس وقت کے بدلتے تقاضوں کیساتھ خود کو بدلتے جائیں ۔۔۔ خود کو کائی مت لگنے دیں۔۔۔
شکریہ۔۔۔
اسکی سپیچ ختم ہوتے ہی ہال تالیوں کی گھونج سے گھونج اٹھا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ اپنی فیملی کے ساتھ حال سے نکلتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ کمیرے کی فلیش لائٹ انکے پل پل کی کوریج لے رہی تھی۔۔۔ ایسے میں وہاں سے میلوں دور اپنے لاوئنج میں بیٹھی ماہیر نے اس لائیو کوریج کی ایک ایک چیز اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔۔۔
اسنے ایک سرد آہ بھرتے اپنے سامنے پھیلے جرنلز اور کتابوں کو بند کیا۔۔۔ آج کے لئے اتنا ریسرچ ورک کافی تھا۔۔۔ اب وہ پہلے کی نسبت کافی بہتر تھی۔۔۔ 
چیزیں سمیٹ کر وہ اٹھی ہی تھی جب اسے کار پورچ میں مخصوص گاڑی کے رکنے کی آواز آئی۔۔۔ جرنل اٹھاتے اسکے ہاتھ وہیں ٹھٹھکے۔۔۔ دل روز سے ڈھرکا تھا۔۔۔ وہ ننگے پاوں بھاگتی ہوئی لاوئنج کے دروازے تک گئ جہاں وہ ستم گر پانچ سالوں بعد بلآخر لوٹ آیا تھا۔۔۔ اسنے گاڑی سے اترتے اپنے گلرسز اتارے اور سامنے دروازے میں ایستادہ حیرت کی مورت بنی ماہیر کو کھڑا دیکھ اداسی سے مسکرایا ۔۔۔۔
ماہیر نے سہارے کے لئے دروازے کو تھاما۔۔۔ گویا اسکا نتظار لاحاصل نہیں گیا تھا۔۔۔
بلآخر اس انا پرست کی انا ہار ہی گئ تھی۔۔۔
******
ختم شدہ۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4