Mera Aashiyana novel 2nd last Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 2nd last Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
سیکنڈ لاسٹ ایپی۔۔۔۔
بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہو گئ تھیں۔۔۔ دونوں بچے ہی گھومنے جانے کے لئے بہت پرجوش تھے۔۔۔ عروب مسکراتے ہوئے انکی باتیں سنتی ساتھ ساتھ انکی پیکنگ بھی کرتی جارہی تھی۔۔۔
دو دن لگا کر انہوں نے اپنی شاپنگ بھی مکمل کر لی تھی۔۔۔
یہ لو بچوں آپ دونوں کی تو پیکنگ مکمل ہو گئ اب میری اور آپکے بابا کی پیکنگ رہتی ہے وہ میں کچھ دیر بعد کروں گی۔۔۔ عروب بیگ کی زپ بند کرتی وہیں بچوں کے بیڈ پر ہی ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔۔۔
آپ تھک گئ نا۔۔۔ ہادی اسکے لئے پانی کا گلاس بھر کر لاتا گویا ہوا۔۔۔
تھوڑا تھوڑا سا۔۔۔ عروب نے مسکرا کر گلاس تھاما۔۔۔
دفعتاً سلطان کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ فبیحہ باپ کو دیکھتے ہی اسکی جانب لپکی۔۔۔۔
وہ آفس سے آتے ہی سیدھا انہی کے کمرے میں آیا تھا کیونکہ اسے باتوں کی آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں۔۔۔
ہوگئ پیکنگ مکمل ۔۔۔ وہ جھک کر فبیحہ کو پیار کرتا تھکی تھکی سی بیٹھی عروب سے گویا ہوا۔۔۔
بچوں کی ہوگئ ہماری رہتی ہے ابھی۔۔۔
آپکے لئے چائے لاوں ۔۔ عروب جمائی روکتی سیدھی ہوئی۔۔ ایک تو آج کل وقت بے وقت نیند بہت آتی تھی اسے۔۔۔ سلطان آج سر شام ہی آفس سے آگیا تھا کیونکہ انہیں کل صبح ہی نادران ایریاز کے لئے نکلنا تھا۔۔۔۔ اور سلطان اس وقت چائے ضرور پیتا تھا وہ جانتی تھی۔۔۔۔ نہیں تم رہنے دو۔۔۔ چائے میں بنا لاتا ہوں۔۔۔تم اپنا بتاو چائے پیو گئ۔۔۔
وہ فبیحہ کو خود سے الگ کرتا استفہامیہ گویا ہوا۔۔۔ جب عروب بے ساختہ بول اٹھی۔۔۔
آپ چائے بنائیں گے؟؟.۔
آپکو بنانی آتی ہے چائے۔۔۔ وہ حیرت زدہ تھی۔۔۔ سلطان مسکرا دیا۔۔۔
فری سے کہہ دیتی ہوں میں۔۔۔ عروب کی حیرت بجا تھی۔۔۔ پہلے کب دیکھا تھا اسنے سلطان کو کچن میں کچھ بناتے۔۔۔اسنے پھر سے اٹھنا چاہا۔۔۔
نہیں رہنے دو۔۔۔ آج میں خود چائے بناوں گا۔۔۔ خیر اتنی بری بھی نہیں بناتا۔۔۔ آپ سب باہر آ جاو۔۔۔ بچوں آپ بھی آج میرے ہاتھ کی چائے پی کر دیکھو۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا باہر نکلا تو بچوں نے بھی اسکی پیروی کی۔۔۔ عروب بھی حیرت زدہ سی باہر آ کر بیٹھی جہاں سے وہ اکھڑ مزاج شخص کچن میں چولہے کے سامنے کھڑا چائے بناتا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
نہیں بابا۔۔ ہمیں اتنی گرمی میں چائے نہیں پینی۔۔۔ چائے آپ اور ماما پیئں۔۔۔ ہم نے آئسکریم کھانی ہے۔۔۔ اور آپ چائے پی کر ہمیں آئسکریم کھلانے لیکر جائیں گے۔۔۔۔ فبیحہ بھی لاوئنج میں ماں کے ساتھ بیٹھتی گویا ہوئی۔۔۔ سلطان مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلاتا پائے بناتا رہا۔۔۔۔چائے خوشگوار ماحول میں پی گئ۔۔۔ چائے ختم ہوتے ہی دونوں بچوں نے آئسکریم کھانے جانے کی رٹ لگا ڈالی۔۔۔
تم بھی چلو عروب۔۔۔ بچوں کو ساتھ لے کر جاتے سلطان نے اسے کہا لیکن وہ تھکاوٹ کا بتاتی سہولت سے انکار کر گئ۔۔۔۔
بچوں اور سلطان کے جانے کے بعد وہ مسکراتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔۔ ارادہ کچھ دیر آرام کرنے کا تھا۔۔۔
******
عروب کو ابھی اپنے کمرے میں آکر لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب فری وہاں آ دھمکی۔۔۔
عروب باجی امی پوچھ رہی ہیں کے رات میں کھانے کے لئے کیا بنانا ہے۔۔۔
اسے دیکھتے عروب بیڈ کراون کے سہارے نیم دراز ہوئی۔۔۔ دال چاول بنا لو۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ فرحی مسکراتے ہوئے پلٹی۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔ عروب نے اسے آواز دے کر روکا۔۔۔
جی باجی۔۔۔ وہ جاتے جاتے پلٹی۔۔۔۔
ناول مکمل ہو گیا ہے فری۔۔۔ اب کیا کرنا ہے۔۔۔ عروب نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔۔۔
ہیں سچی۔۔۔ فرحی چہکتی ہوئی اس تک آئی۔۔
ڈائجسٹ والوں کی سبھی شرائط پوری کی ہیں نا۔۔۔
فری نے اسکے پاس بیٹھتے اسکے ہاتھ سے موبائل تھاما۔۔۔
ہمم۔۔۔ کہانی کے شروع میں کہانی کا نام اور اپنا نام لکھا ہے۔۔۔ لیکن آخر میں موبائل نمبر اور گھر کا ایڈریس نہیں لکھا۔۔
اسے اب تم جانو۔۔۔ اگر اپنا نمبر دینا چاہو تو ٹھیک ہے ورنہ میں نے نمبر نہیں دینا اور ہاں۔۔۔ یہاں کا ایڈریس بھی نہیں دینا۔۔۔
وہ پزمردہ انداز میں کہتی یاد آنے پر پھر سے گویا ہوئی۔۔۔
فری پرسوچ انداز میں کچھ وقت تک اسے دیکھتی رہی۔۔۔ چلیں میں اپنا نمبر دے دیتی ہوں ۔۔۔ مجھے یقین ہے کے فرحان کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔۔۔ بات کرتے اسکی آنکھیں چمکنے لگیں۔۔۔ عروب اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ کاش ایسا اعتبار کبھی سلطان بھی مجھ پر کریں۔۔۔ دل سے ہوک سی نکلی تھی۔۔۔
اور ایڈریسسسس۔۔۔۔ اسنے پرسوچ انداز میں ایڈریس کو لمبا کھینچا۔۔۔۔ وہ بھی فرحان کو اعتماد میں لے کر انکے گھر کا ہی دے دیتی ہوں۔۔۔ اچانک یاد آنے پر وہ چٹکی بجاتی گویا ہوئی۔۔۔
عروب نے سکون کا سانس خارج کیا۔۔۔ ورنہ یہ ایک چیز سر کا آزار بنی ہوئی تھی۔۔۔
ہاں یہ بہتر رہے گا۔۔۔ عروب مسکرائی۔۔۔ وہ صرف دیکھنا چاہتی تھی کے کیا اس میں لکھنے کی خداداد صلاحیت موجود بھی ہے کے نہیں۔۔۔۔
اچھا لائیں موبائل۔۔۔ کہانی میل کرتے ہیں۔۔۔ میرے پاس انکا ای میل ایڈریس ہے۔۔۔۔
یاد آنے پر فری نے کہتے موبائل لینے کو اسکی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔
نہیں۔۔۔اسنے اچھنبے سے موبائل پیچھے کھینچا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ فری الجھی۔۔۔ ابھی تو کہانی بھیجنی تھی نا تو پھر۔۔۔
مطلب یہ کے میں اپنا موبائل کسی بھی کام کے لئے استعمال نہیں کروں گی۔۔۔ سلطان کو یہ سب پسند نہیں۔۔۔ اسنے ڈھکے چھپے انداز میں کہا۔۔۔
تو پھر۔۔۔ فری ہنوز الجھی ہوئی تھی۔۔۔۔
تو پھر یہ کے تم اپنے ای میل ایڈریس سے میل کرو۔۔۔ میں کہانی تمہیں واٹس ایپ کر دیتی ہوں۔۔۔ عروب نے بیچ کی راہ نکالی۔۔۔
اچھا تو پھر جو ہم فیسبک اور انسٹا پر رائٹر کا پیج بنانے والے تھے اسکا کیا بنے گا۔۔۔
لب کترتی فری گہری سوچ کا عمتیق لگ رہی تھی۔۔۔
دیکھو فری۔۔۔ جہاں جہاں جو جو بنانا ہے۔۔۔ تم نے خود ہی بنانا ہے اور خود ہی اسے ہینڈل کرنا ہے۔۔۔ میں بس تمہیں کہانیاں لکھ لکھ کر دیتی رہوں گی۔۔۔
عروب نے جیسے ابتداء میں ہی آسان الفاظ میں حد بندی کرنی چاہی۔۔۔
فری مسکرا دی۔۔۔ باجی۔۔۔ آپ نا پوری دنیا سے ہی الگ ہو۔۔۔ لوگ فین فالونگ کے لئے ناجانے کیا کیا کرتے ہیں اور ایک آپ ہیں جنہیں اس سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کے کون آپکو پڑھ رہا ہے کون نہیں۔۔۔
آپ نے بس اپنا کام کرنا ہے ۔۔۔ اسکی حیرت زدہ آواز پر عروب مسکرا دی۔۔۔
فین فالونگ بھی تمہاری۔۔۔ سب کچھ تمہارا
۔۔ میں تو صرف اپنے اندر موجود خداداصلاحیت سے آشنا ہونا چاہتی ہوں۔۔
ٹھیک ہے باجی پھر آپ مجھے کہانی بھیج دیں۔۔ وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ عروب اسے کہانی میل کرنے لگی۔۔۔۔
*****
ماہیر اپنے گھر کے لان میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔۔۔ اریز سے اسکی شادی کو تین سال ہو گئے تھے۔۔۔ اور پچھلے تین سالوں سے وہ یہیں تھیں۔۔۔۔ یہاں اریز کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی۔۔۔ جہاں وہ اپنے دن کا بیشتر حصہ گزارتی۔۔۔
ماہیر نے اس لائبریری کی تقریباً ہر کتاب پڑھ ڈالی تھی۔۔۔
۔ وہ ہر ہفتے آتا کبھی کبھار مہینے بعد بھی آ جاتا۔۔۔
ایک رات رہتا اور پھر سے اسکے ہاتھ میں انتظار کی ڈور تھما کر واپس چلے جاتا۔۔۔
اسکے حصے میں اریز کیساتھ شام کی ایک چائے اور رات کا ایک ڈنر ہی آتا۔۔۔ ہر دفعہ اسکے آنے سے پہلے وہ کوئی ایک کتاب مکمل کر لیتی پھر اسکے ساتھ اس کتاب پر خوب سیر گفتگو حاصل کرتی۔۔۔
زیادہ تر بات وہی کرتی اریز صرف اسکی سنتا تھا۔۔۔ وہ ماہیر کیساتھ بحث نہیں کیا کرتا تھا۔۔۔۔
یہاں اسکی واحد ساتھی کتابیں ہی تھیں۔۔۔ اب بھی وہ کتاب پڑھتے پڑھتے تھک گئ تو اٹھ کر اندر چلی گئ جب ملازمہ نے اسکے کمرے میں آتے اسے اطلاع دی۔۔۔
بی بی جی آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔۔۔ مجھ سے ملنے۔۔۔
وہ لیٹی لیٹی اٹھ کر بیٹھ گی۔۔۔ اس سے بھلا کون ملنے آ سکتا تھا۔۔۔ پچھلے تین سالوں میں تو کوئی نا آیا پھر اب۔۔۔۔ وہ الجھتی ہوئی کمرے سے نکلی۔۔۔
******
نادران ایریاز میں آکر بچے انتہائی خوش تھے۔۔۔ اور خوش تو عروب خود بھی بہت تھی۔۔۔ کہاں دیکھی تھی اسنے پاکستان کی ایسی خوبصورتی۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر سلطان کا اسقدر کیرنگ انداز۔۔۔۔ کہاں دیکھا تھا بھلا۔۔۔
یہاں اکر اسے یہ سلطان وہ سلطان لگا ہی نا جو گھر میں ہوتا تھا۔۔۔ یہ سلطان تو کوئی اور ہی سلطان تھا۔۔۔ بچوں کے ساتھ ہستا کھیلتا موج مستی کرتا اسکے ساتھ ہسی مزاق کرتا۔۔۔۔
یہ دن عروب کی زندگی کے بہترین دن تھے۔۔۔ اسے اپنی زندگی کے ان دنوں پر خواب کا گمان ہوتا ۔۔۔ سلطان کے گرد بنا خول جیسے چٹخ رہا تھا۔۔۔۔
اب بھی وہ ایک اوپن ریسٹورینٹ میں بیٹھی سامنے سلطان اور بچوں کو برف سے کھیلتا دیکھ رہی تھی۔۔۔ روئی کے گالوں کی مانند ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی۔۔۔ جبکہ بچے نیچے سے برف اٹھا کر انکے گولے بناتے ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔۔۔
دفعتا ہادی نے برف کا گولہ بنا کر فبیحہ کے ساتھ مصروف سلطان کو مارا۔۔۔ سلطان کے فبیحہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہونے کے باعث برف کا گولہ سلطان کے منہ پر لگا۔۔۔
تمہاری تو۔۔۔ گولہ لگتے ہی سلطان نے فبیحہ کو سائید پر کرتے برف کا بڑا سا گولہ بنایا اور آگے لگ کر بھاگتے ہادی کے پیچھے لپکا۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں بابا نہیں۔۔۔ کپڑے گیلے ہو جائیں گے۔۔۔ وہ آگے بھاگتا دہائیاں دے رہا تھا۔۔۔
عروب نے ہستے ہوئے فورا سے پیشتر موبائل نکال کر انکی ویڈیو بنانا شروع کی۔۔۔
بھاگتا بھاگتا وہ برف پر پھسلتا ڈھرام سے گر گیا۔۔ اسکے گرتے ہی سلطان نے بنا رعایت دیئے برف کا گولہ اسے دے مارا۔۔۔
فبیحہ اچھل اچھل تالیاں مارتی سب انجوائے کر رہی تھی۔۔۔
باباااااا۔۔۔ ہادی نے زرا سا اٹھتے باپ کی ٹانگ کھینچتے اسے بھی اپنے اوپر ہی کھینچ کر نیچے پھینکا۔۔۔۔
عروب ہس ہس کر دہری ہو رہی تھی۔۔۔ یہ پل اسکی زندگی کے انمول پل تھے۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی سلطان اپنے کپڑے جھارتا اسکی طرف آیا۔۔۔
بچے ہنوز وہیں کھیل رہے تھے۔۔۔
سنو پرنسس۔۔۔ وہ اسکے پاس بیٹھتا گویا ہوا تو عروب نے حیرت سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے پہلے اسے دیکھا اور پھر ارد گرد۔۔
آپنے مجھے بلایا۔۔۔ اسنے اپنی جانب انگلی کرتے تصدیق چاہی۔۔۔ سلطان مسکرا دیا۔ ۔
سنو لڑکی کہتا ہوں تو آنکھیں نکال کر کھانے دورٹی ہو۔۔۔ اس لئے سنو پرنسس۔۔۔ سنو لڑکی کی رپلیسمنٹ ہے۔۔۔ اسنے وضاحت دی۔۔۔
عروب کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔ بڑی زبردست ریپلیسمنٹ ہے سلطان صاحب۔۔۔
خیر کیا کہہ رہے تھے آپ۔۔۔ ہستے ہستے وہ سنجیدہ ہوئی۔۔۔
یہ ہی کے تمہارا فیملی ٹرپ پر آنے کا فیصلہ بہت بہترین تھا۔۔۔ مجھے ایک عرصے بعد اپنی مکمل فیملی کیساتھ کوالٹی ٹائم گزارنے کا موقع ملا۔۔۔ وہ وقت گزارنے کا جس کے لئے میں پچھلے تین سال سے ترس رہا تھا۔۔۔
سلطان کے لہجے میں کہیں نا کہیں حسرت تھی۔۔۔ اور عروب ۔۔۔ وہ اسے بتا نا سکی کے سلطان کے یہ الفاظ کس طرح سے عروب کے لئے آب حیات کا کام کر رہے ہیں۔۔۔
******
انکا ٹور وہاں دو ہفتوں کا تھا لیکن وہ لمبا ہوتے ہوتے ایک مہینے پر مشتمل ہو گیا تھا۔۔۔ عروب اپنی فیملی کے ساتھ بہت خوبصورت وقت گزار کر پورے ایک مہینے بعد واپس اپنے گھر آئی تھی۔۔۔
گھر پیچھے سے فری اور حمیدہ خالہ نے بہت اچھے سے سمبھالا تھا۔۔۔
وہ تھکاوٹ کے باعث گھر آتے ہی سو گئ جبکہ فبیحہ پہلے ہی راستے میں سو چکی تھی۔۔۔
شام کو اٹھی تو فریش ہو کر نیچے آ گی۔۔۔ نیچے خالہ اور فری اس سے بہت گرم جوشی سے ملیں۔۔۔ سلطان آتے ہی اپنے کام پر جا چکا تھا جبکہ بچے ابھی تک سو رہے تھے۔۔۔
ارے باجی آپکے لئے ایک خوشخبری ہے۔۔۔ وہ لان میں بیٹھی چائے پی رہی تھی جب فری اسکے پاس آ کر بیٹھی۔۔۔ کیسی خوشخبری۔۔۔ عروب چونکی ۔۔
آپکی کہانی ڈائجسٹ میں چھپ گئ۔۔۔ اسکے پرجوش سے انداز میں کہنے پر عروب جھٹکا کھا کر سیدھی ہوئی۔۔۔ واقعی۔۔۔ اسکی حیرت دیدنی تھی۔۔۔
اور نہیں تو کیا۔۔۔ باجی آپ تو چھا گئ۔۔۔ یہ دیکھیں۔۔۔ فری نے ڈائجسٹ کھول کر اسکے سامنے کیا جہاں کہانی کے ساتھ عروب سلطان نام لکھا جگمگا رہ تھا۔۔۔
عروب کی آنکھیں سرعت سے گیلی ہوئیں۔۔۔ اسنے ایک ٹرانس کی کیفیت میں اپنے ہی نام پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ آج سے پہلے یہ نام کبھی اتنا خوبصورت نا لگا تھا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ اسکے بدن پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ اسنے وہیں بیٹھے بیٹھے ہونقوں کی طرح آنکھیں پھاڑے اپنی ہی کہانی کا لکھا ایک ایک لفظ دوبارہ پڑھا تھا۔۔۔
مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا فری۔۔۔ وہ ہنوز بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔۔۔ اس سے اتنی خوشی سمبھالے نا سمبھل رہی تھی۔۔۔
ارے یہ تو ابھی کچھ بھی نہیں باجی۔۔۔ یہ دیکھیں میں نے آپکا فیسبک پیج بھی بنایا تھا اور اس پیج ہر ایک ہی مہینے میں پانچ ہزار فالورز ہو گئے ہیں۔۔۔ وہ اب اپنے موبائل پر اسکا فیسبک پیج کھولتے اسے دکھا رہی تھی۔۔۔
یہ کیسے۔۔ عروب معتجب ہوئی۔۔ جبکہ اب وہ سکرول ڈاون کرتی وہاں موجود ریڈرز کا ناول کے بارے میں فیڈ بیک پڑھ رہی تھی۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ فیڈ بیک پڑھ رہی تھی اسکے چہرے پر موجود مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ ہر ہر پازیٹو فیڈ بیک کے ساتھ اپنا سیروں خون بڑھتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اندر کچھ نیگٹو کمنٹ بھی تھے جنہیں پڑھ کر اسے برا بھی لگا لیکن وہ نظر انداز کر گئ۔۔۔
ڈائجسٹ میں تو آپکی کہانی پر تبصرا اگلے مہینے چھپے گا نا لیکن پیج پر آپ ساتھ کے ساتھ پڑھ سکتی ہیں۔۔۔
پتہ ہے کیا۔۔۔ ڈائجسٹ میں تو ناول بہت لمبا تھا لیکن پیج پر میں نے اسے دس اقساط میں پوسٹ کیا ہے۔۔۔ اسکے ساتھ ساتھ مختلف گروپس میں بھی ۔۔۔ یہاں آپ اپنی ہر ہر قسط پر فیڈ بیک پڑھ سکتی ہیں۔۔۔ فری اسے بتا رہی تھی جب سلطان کی گاڑی کار پورچ میں داخل ہوئی۔۔۔ وہ گھر واپس آ گیا تھا۔۔۔عروب نے نامحسوس انداز میں موبائل بند کر کے فری کی جانب کھسکایا اور خود مسکرا کر سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔
******

No comments