Header Ads

Mera Aashiyana novel 21st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 21st Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ااکیسویں قسط۔۔۔
حمیدہ خالہ حسب معمول کچن میں تھیں جبکہ فری اپنے تقریباً سبھی کام نبٹا کر لاوئنج میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی صوفے سے پشت ٹکائے ٹانگیں سیدھی کئے کوئی ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی جب عروب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکی جانب آئی۔۔
وہ نارنجی رنگ کی کھلی سی لان کی شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس تھی۔۔ آنچل سینے پر پھیلا رکھا تھا جبکہ نم بال پشت پر پھیلے تھے گویا وہ ابھی ابھی نہا کر آ رہی ہو۔۔ ہلکی سی فاونڈیشن اور لپسٹک لگائے وہ کھلی کھلی اور کافی فریش لگ رہی تھی۔۔۔
 یہ کیا کر رہی ہو جنگلی بلی۔۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھتی فرحی کے سر پر ایک چیت رسید کرتی اسکے ہاتھ سے ڈائجسٹ چھین گئ۔۔۔
ہاہ باجی۔۔۔ یہ کیا کیا۔۔ اتنے دلچسپ موڑ پر کہانی تھی۔۔۔  وہ افسوس سے گویا ہوئی۔۔۔
کیا ہے ان کہانیوں میں جو ان میں گھس ہی جاتی ہو۔۔۔ عروب نے ڈائجسٹ الٹ پلٹ کیا۔۔۔
آپکو کیا پتہ ہو باجی۔۔۔ آپ پڑھیں تو پتہ چلے نا۔۔۔
اسنے منہ بسورا۔۔۔ عروب مسکرا دی۔۔۔۔اچھا چلو پھر میرے لئے شیک بنا کر لاو تب تک میں پڑھ کر دیکھتی ہوں کے اس میں کیا ہے۔۔۔ عروب نے اسے اٹھاتے وہی کہانی شروع سے شروع کی جو فرحی پڑھ رہی تھی۔۔۔۔
بیٹا آج لنچ میں کیا بنانا ہے کچن سے حمیدہ خالہ کی آواز آئی تو وہ انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
خالہ آج نا آپ ۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
کڑی پکورے اور ابلے چاول بنا لیں۔۔۔ کڑی تھوڑی تیکھی بنانا اور سب سے پہلے پکوڑے ہی بنا کر مجھے دے دینا ۔۔۔ مجھے تو ابھی سے بھوک لگنے لگی ہے۔۔۔ اسنے مسکرا کر کہتے پھر سے ڈائجسٹ کھولا۔۔۔۔
جب تک فری شیک بنا کر لائی وہ تقریباً کہانی کے اختتام تک پہنچ چکی تھی۔۔۔
فری نے شیک کا جگ اور گلاس ٹیبل پر رکھا تو تب بھی عروب اسکی جانب متوجہ نا ہوئی وہ اسقدر کہانی میں منہمک تھی۔۔۔
باجی شیک۔۔۔ فری نے اسے متوجہ کیا۔۔۔ 
ہمم ۔۔۔ لیتی ہوں۔۔۔ وہ بنوز اسی میں مصروف تھی۔۔۔ دفعتاً کہانی ختم ہوئی تو وہ گہرا سانس لیتی ڈائجسٹ بند کر کے سیدھی ہوئی۔۔۔ ڈائجسٹ میز پر رکھا اور شیک گلاس میں انڈیلنے لگی۔۔۔
کیسی لگی کہانی۔۔۔ فرحہ کے لہجے میں اشتیاق تھا۔۔ ۔اچھی تھی۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی کہانی تو میں بھی لکھ سکتی ہوں۔۔۔
اسکا انداز کھویا کھویا سا تھا۔۔۔
واقعی باجی۔۔۔ وہ اشتیاق سے اچھلی۔۔۔ تو پھر لکھیں نا۔۔۔ ہم اسے ڈائجسٹ میں بھیجیں گے ۔۔۔ اور تو اور فیسبک پر آپکا پیج بھی بنائیں گے۔۔۔ آپکی کہانیاں سپر ڈپر ہٹ جائیں گی اور پھر آپ بہت بڑی سٹار بن جائیں گی۔۔۔
فری کی آنکھیں چمکنے لگیں تھیں وہ جوش سے آگے کا من پسند نقشہ کھینچ رہی تھی۔۔۔۔
عروب شیک پیتی مسکرا دی۔۔۔
ارے بس بس۔۔۔۔ شیخ چلی کی بہن اب زرا گردن کو جھٹکا دو اور دیکھو سارے انڈے ٹوٹ گئے۔۔۔ عروب کھلکھلا کر ہسی۔۔۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔۔۔
فری نے منہ بسورا۔۔۔
پھر کب سے لکھنا شروع کریں گی۔۔  یکدم ہی یاد آنے پر وہ ناراضگی بھلائے پھر سے سیدھی ہوئی۔۔۔
ارے اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔ سوچوں گی اس بارے میں کچھ ۔۔۔ وہ اسکی جلد بازیاں دیکھ مسکرائی۔۔۔
نہیں سوچنا وچنا کوئی نہیں۔۔۔ بس آج سے ہی لکھنا شروع کریں۔۔۔ میں بھی اپنی دوستوں کو بتاوں گی کہ میری دوست بھی رائٹر ہے۔۔۔ 
میں ایک کام کرتی ہوں آپکو کاغذ اور قلم لا کر دیتی ہوں۔۔۔ وہ چٹکی بجاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
یا پھر ایک کام کریں۔۔۔ کاغذ پنسل رہنے دیتے ہیں آپ موبائل پر ٹائپ کریں۔۔۔ پھر ہم میل کر دیں گے۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔ وہ اٹھتے اٹھتے پھر سے بیٹھ گئ۔۔۔
اچھااااا ناااا سوچنے تو دو کچھ۔۔۔ فری کی جلد بازیاں دیکھ عروب حیرت زدہ سی گویا ہوئی۔۔۔
زیادہ دیر مت لگانا آپ سوچنے میں۔۔۔ فری کا جوش کچھ مانند پڑا۔۔۔ 
باہر سے بچوں کے اندر آنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں تو عروب مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ بچے سکول سے آ گئے تھے اور ابھی اسے بچوں کے ساتھ مل کر ایک لمبی پلانینگ بھی کرنی تھی۔۔۔
*****
دیکھو ماہیر زندگی میں جو ہوتا ہے بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے۔۔  میں دعا گو ہی ہوں کے تمہاری زندگی کا نیا سفر تمہارے لئے خوشگوار ہو۔۔۔
مصباح اور ماہیر میرج رجسٹرار کے دفتر کے باہر کھڑے تھے جبکہ اریز ان سے کچھ فاصلے پر گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا انکا منتظر تھا۔۔۔
بلآخر آچ چھ ماہ بعد مصباح کی کوشیشیں رنگ لائیں تھیں۔۔۔
ماہیر میروں شیشوں سے مزین چادر اوڑھے خاموش سی سر جھکائے کھڑی اسے سن رہی تھی۔۔۔
خدا تمہارا حامی و ناصر ۔۔۔ مصباح نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا۔۔۔
ان دونوں کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ اریز سیدھا ہو کر ڈرائیونگ سیٹ سمبھال گیا۔۔۔ جبکہ ماہیر کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر مصباح اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
راستے میں دونوں کے درمیان خاموشی تھی۔۔۔ ماہیر تو گم صم سی تھی ہی اریز نے بھی اس خاموشی کو توڑنے کی کوشیش نا کی۔۔۔
وہ اسے اپنے آبائی گھر لایا تھا۔۔۔ مہیر کو جان کر حیرت ہوئی کے وہاں سوائے ملازموں کے کوئی نا تھا۔۔۔ اور پھر یہ عقدہ بھی وہاں کی کیئر ٹیکر کی زبانی ہی اس پر کھلا کے اریز کے ماں باپ تو اسکے بچپن میں ہی اس دنیا سے چلے گئے تھے۔۔۔ جبکہ اسکی پرورش اسکے دادا نے کی تھی۔۔۔ جبکہ اب تو دو سال پہلے وہ بھی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے تھے۔۔۔
دیکھیں۔۔۔۔۔ یہ شادی صیغہ راز ہے۔۔۔ کچھ سوشل اشوز کی وجہ سے میں اسے ڈکلیئر نہیں کر سکتا۔۔۔ اور میری آپ سے بھی یہ گزارش ہے کے آپ بھی میرے ساتھ تعاون کریں گی۔۔۔۔
اگلی صبح اریز اپنی ڈیوٹی پر جانے کے لئے تیار اسے سامنے کھڑا بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ وہ سمجھ کر سر ہلا گئ ۔۔۔ کہنے کو کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔ اور پھر وہ اسے اداسیوں کی پٹیوں میں لپٹا چھوڑ چلا گیا۔۔۔ جبکہ وہ ہر ہر آہٹ کے ساتھ اسکی واپسی کی منتظر ہو گئ۔۔۔
*****
رات ڈنر کرنے کے بعد حسب معمول لاوئنج میں وہ سب اکھٹے بیٹھے ایل سی ڈی  دیکھ رہے تھے۔۔۔ عروب نے ایک نظر ان سب کو دیکھا۔۔۔ سلطان چائے پیتے شو دیکھ رہا تھا جبکہ دونوں بچے کارپٹ پر بیٹھے تھے۔۔۔ عروب نے سلطان سے نظر بچا کر ہادی کو آنکھ سے اشارہ کیا۔۔۔ جسے سمجھتا وہ لمحوں میں باپ کی جانب متوجہ یو۔ا۔۔
بابا۔۔۔ کتنا عرصہ ہو گیا آپ ہمیں کہیں گھمانے نہیں لے کر گئے۔۔۔ ہادی کے سنجیدہ انداز پر سلطان چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔ پندرہ دنوں بعد ہمیں گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی ہیں تو تب آپ ہمیں نادران ایریاز گھمانے لے کر چلیں گے۔۔۔ اور پلیز مصروفیت کا تو بہانہ بنانے کی کوشیش بھی مت کیجیئے گا۔۔۔ ابھی آپکے پاس دو ہفتے ہیں تو آپ اپنے سبھی کام نبٹا سکتے ہیں۔۔ وہ باپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی مفاہمتی انداز میں گویا ہوا۔۔۔
سلطان نے ایک تادیبی نگاہ اپنی چالاک بیوی پر ڈالی جو اب ہر چیز سے بے نیاز ایل سی ڈی دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے وہاں کوئی بات ہوئی ہی نا ہو۔۔۔
سیکھا دی تمہاری ماں نے تمہیں یہ ساری باتیں۔۔۔ سلطان بھی سنجیدہ ہوا۔۔۔۔
کیا مطلب کے انہوں نے سیکھا دی ہمیں یہ باتیں۔۔۔ سامنے بھی بیٹا تھا۔۔۔ فوراً اسی کے انداز میں ماتھے پر بل سجائے اسکے روبرو آیا کے سلطان بھی اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ 
آپ ہمیں اسقدر بے وقوف سمجھتے ہیں کے جب تک مسز سلطان ہمیں بریف نہیں کریں گی ہم نا کچھ سوچیں گے اور نا ہی کریں گے۔۔۔
آپ کو میری ذہانت پر شک ہے بابا کے ہم ان کی ڈکٹیشن کے بنا باپ سے فرمائش بھی نہیں کر سکتے۔۔۔ آپ کو میں اتنا کند ذہن لگتا ہوں۔۔۔
ارے چیمپ۔۔ اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تم باپ سے جتنی چاہو فرمائشیں کر سکتے ہو۔۔۔ سلطان نے بیٹے کے تیور دیکھ اسے کھینچ کر خود میں بھینچا۔۔۔
تو پھر آپ لیجا رہے ہیں ہمیں۔۔۔ اسنے جیسے تصدیق کرنی چاہی۔۔
افکورس لیجاوں گا۔۔۔ سلطان مسکرا کر گویا ہوا تو تب سے سب کو نظر انداز کئے ایل سی ڈی دیکھتی عروب کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئ۔۔۔۔کچھ ہی دیر بعد دونوں بچے سونے چلے گئے تو سلطان نے تیز نگاہوں سے عروب کو گھورا۔۔۔ تو بھڑکا دیا میرے بچوں کو تم نے چالاک عورت۔۔۔۔
تصیح کر لیں سلطاں صاحب۔۔۔ اپنے بچوں کو۔۔۔ اوکے۔۔۔ اسنے اپنے سینے کی جانب انگلی کرتے اپنے پر زور دیا۔۔۔
میرے بچے میری طاقت ہیں۔۔۔ اور خبردار میرے اور میرے بچوں کے رشتے کے بارے میں اگر آپ نے کوئی ایک فضول لفظ بھی بولا تو۔۔۔
وہ گردن اکڑا کر اسے وارن کرتی اپنی جگہ سے اٹھ کِھڑی ہوئی۔۔۔
میں ریسٹ کرنے جا رہی ہوں پھر ہم نے جانے سے پہلے شاپنگ بھی تو کرنی ہے نا جو یقیناً آپ ہی کروانے والے ہیں۔۔۔۔۔ 
وہ مسکراہٹ داب کر کہتی اسکے پاس سے گزر گئ۔۔
تم تو بہت چالاک لومڑی ہو لڑکی میں تو تمہیں خوامخواہ ہی معصوم سمجھتا رہا۔۔۔ سلطان ناراضگی سے گویا ہوا۔۔۔
وہ جاتی جاتی رکی اور واپس پلٹ کر اس تک آئی۔۔۔
اس میں آپکا قصور نہیں ہے سلطان صاحب۔۔۔ چیلنج ہارنے کے بعد انسان ایسا ہی محسوس کرتا ہے۔۔۔ وہ اس کے گال پر چٹکی بھرتی کھلکھلا کر ہسی اور بنا وہاں مزید روکے کمرے کی جانب بڑھ گی۔۔۔ جبکہ اسکی نقری ہسی کی جھنکار سلطان کو دل تک اترتی محسوس ہوئی۔۔۔
پاگل۔۔۔ وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
******
پورے ہفتے بعد اریز واپس آیا تھا اور ایک دن اور ایک رات رہنے کے بعد اب واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔ عروب گم صم سی بیڈ کی پائنتی پر بیٹھی تھی جب نک سک سے تیار اریز اسکے پاس آ کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔
اریز میں سوچ رہی تھی کے یونیورسٹی دوبارہ جوائن کر لوں۔۔۔
وہ اپنے ہاتھوں کو تکتی آہستہ آواز میں گویا ہوئی۔۔۔۔
یونیورسٹی ۔۔۔ اریز نے حیرت سے سر اٹھایا۔۔
ہاں یونیورسٹی۔۔۔ یہاں بھی سارا دن فارغ ہی رہتی ہوں۔۔ اچھی بات ہے نا مصروف ہو جاوں گی۔۔۔۔ وہ اریز کو دیکھتی وضاحتی انداز میں گویا ہوئی جسکے چہرے پر نا فہم تاثرات تھے۔۔۔
آپ پلیز یونیورسٹی  سے ریزائن کر دیں۔۔۔ میں نہیں چاہتا کے آپ دوبارہ یونیورسٹی جوائن کریں۔۔۔ میرے بہت سے سوشل اشوز ہیں۔۔۔ اسکے سنجیدگی سے کہنے پر  ماہیر اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔۔۔ وہ بے چین تھا۔۔۔ جس پوسٹ پر وہ موجود تھا اسکے بہت سے تحفظات تھے۔۔۔ وہ اس مقام پر کوئی سکینڈل افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ وہ کسی قسم کی خبروں کی ہیڈ لائنز میں نہیں رہ سکتا۔۔۔ کہ اسسٹنٹ کمشنر اریز احمد نے ایک دو بچوں کی ماں سے اسکی طلاق کروا کر شادی کی۔۔۔۔نو نیور۔۔۔ اسے اپنی جانب اٹھتی ایک انگلی بھی برداشت نا تھی۔۔۔ یہ خبریں اسکے کیریئر پر گہرا اثر چھوڑ سکتی تھیں۔۔۔۔۔
اور پھر جیسے وہ اسکی بات مان گئ۔۔۔ اسنے بڑی خاموشی سے اریز کے دیئے کاغذات پر سائن کر کے یونیورسٹی سے ریزائن کر دیا۔۔
میری بات کا مان رکھنے کے لئے شکریہ۔۔۔ کاغذ تھام کر وہ مسکرا کر کہتا چلا گیا جبکہ ماہیر خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
******
عروب فری کو کہہ تو بیٹھی تھی کے وہ ناول لکھے گی لیکن فری تو گویا اسکے پیچھے ہی لگ گئ تھی۔۔۔ 
اسکے بارہا کہنے پر عروب نے کہانی سوچتے لکھنا شروع کی تو ابتدائی سینز لکھتے ہی اسے انداز ہو گیا کہ یہ کام کہنا جتنا آسان تھا لکھنا اتنا آسان نا تھا۔۔۔
لکھنے کے لئے ایک کہانی سوچ لینے سے زیادہ سینز کو جاندار انداز میں لکھنا حالات و واقعات کا تسلسل برقرار رکھنا اور ڈائیلاگز پر گرفت کرنا نہایت ضروری تھا۔۔۔
اسنے وہیں کہانی روک فری سے دوبارہ ڈائجسٹ منگوائے۔۔۔ ابکی بار اسکے مطالعے کا انداز مختلف تھا ۔۔ اب وہ کہانی سے زیادہ کہانی کے بیانیے کو پڑھ رہی تھی۔۔۔ سین کیسے تخلیق کئے جاتے ہیں۔۔۔ ڈائلاگز پر گرفت کیسے کی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ وہ ایک سین لکھتی پھر اپنے ہی سین کو ایک نقاد کی نگاہ سے دیکھتی۔۔۔ اس میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کر کے اسکی درستگی کرتی۔۔۔
یہ سارا کام وہ فلحال سلطان کی غیر موجودگی میں ہی کرتی۔۔۔ پتہ نہیں وہ اس چیز کا کیا مطلب لیتا۔۔۔ اسے تو ویسے بھی عوب کی پڑھائی اور بےجا موبائل کے استعمال سے چڑ تھی۔۔۔ جو اسے پتہ چل جاتا تو۔۔۔
بعض دفعہ تو یہ سب سوچتے اسکا دل بے طرح ڈھرک اٹھتا۔۔۔ اور وہ وہیں موبائل بستر پر پھینکتی سر ہاتھوں میں تھام جاتی۔۔۔
کیا وہ غلط کر رہی تھی۔۔۔  اسکے اندر ہی ایک جنگ چھڑ جاتی۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں وہ سلطان کو دھوکہ نہیں دے رہی تھی۔۔ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہی تھی وہ تو بس اپنے اندر کے ہنر کو ایک نظر دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ 
روز وہ بچوں اور سلطان کے جانے کے بعد لاوئنج میں بیٹھ کر چند سینز لکھتی۔۔۔ پہلی ہی تحریر اسکی کافی اچھی تھی۔۔۔ جب وہ ایک نقاد کی نظر سے اپنی ہی غلطیاں نکالتی تو اسکی تحریر کافی بہتر لکھی جا رہی تھی۔۔۔ فری اسکے لکھے سینز پڑھتی تو تعریف میں زمین آسمان کے قلاپے ملا دیتی۔۔۔ عروب ہس کر ٹال دیتی۔۔۔ وہ تو دوست تھی ہیلپر تھی۔۔۔ اسنے تو عروب کی تعریف کرنی ہی کرنی تھی۔۔۔
وہ لاوئنج میں اس جگہ اور اس انداز میں بیٹھتی کے ایک ایک آہٹ پر چونک چونک جاتی۔۔۔ زرا جو سلطان کی گاڑی کا ہارن سنائی دیتا تو فوراً موبائل فون بند کر کے رکھ دیتی۔۔ ایک دو دفعہ تو سلطان اچانک ہی گھر آگیا لیکن وہ اللہ کا شکر ادا کرتے نا تھکتی تھی کے اسکے آنے سے ایک منٹ پہلے ہی وہ موبائل رکھ چکی ہوتی تھی۔۔۔
وہ بس اللہ سے یہ ہی دعا کرتی تھی کے اسکی آج کل کی کاروائیآں اسکے شوہر کے علم میں نا آئیں۔۔۔ وہ کچھ غلط نہیں کر رہی تھی اس لئے اندر سے مطمیں تھی۔۔۔ لیکن اپنے اور سلطان کے رشتے میں کوئی بدگمانی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ سلطان کیساتھ رہ کر وہ اتنا جو جان ہی چکی تھی کے وہ بہت اچھا تھا لیکن کچھ باتوں کو لے کر اسکے نظریات کٹر تھے۔۔۔ بے حد کٹر۔۔۔ جن میں کسی قسم کی نا تو گنجائش تھی نا ہی لچک ۔۔  وہ عورت کے زیادہ پڑھنے یا کسی بھی تخلیقی کام کرنے کے سخت خلاف تھا۔۔۔ درحقیقت وہ عورت کے خودمختار ہونے کے ہی خلاف تھا۔۔۔ اسکے مطابق خودمختار عورتیں اپنی روایات بھولتیں پھر سے اڑ جاتی ہیں۔۔۔
جب کوئی ایسی بات ہوتی تو سلطان کی آنکھوں میں خون اتر آتا۔۔۔ وہ وہ سلطان رہتا ہی نا جسے وہ جانتی تھی۔۔۔ اس معاملے میں وہ ایک لفظ تک سننے کا روادر نا تھا۔۔۔ اور عروب کو سلطان کے اس روپ سے ہی خوف محسوس ہوتا۔۔۔ بے حد خوف۔۔۔ اس لئے وہ دانستہ اسکے سامنے ایسی کوئی بات نا چھیرتی۔۔۔
لیکن اندر ہی اندر وہ کتابوں کی دیوانی لڑکی ایک خالی پن محسوس کرتی تھی۔۔۔ جو اسکی سمجھ سے بالاتر تھا۔۔۔
لیکن وہ کچھ نا کچھ نیا سیکھتی ہی رہتی تھی۔۔۔ لیکن اب تو جیسے ایک واضح سمت مل گئ تھی۔۔۔ جیسے جیسے وہ دل میں پنپتے خیالات کو لفظوں کے  پیراہن میں پرو کر قرطاس پر بکھیرتی اتنا ہی خود کو ان کرادروں سے جذباتی طور پر وابسطہ محسوس کرتی دل کی گہرائیوں سے لکھتی چلی جاتی۔۔۔
اسنے فری کو غلطی سے بھی سلطان کے سامنے اس چیز کا ذکر کرنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔۔۔
اس ستم گر کا بھرم رکھنا بھی ضروری تھا۔۔۔ وہ اپنے اندرونی معاملات بھی فری سے شیئر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اسے اپنی اور سلطان کی عزت بھی ہر حال میں پیاری تھی۔۔۔ اسنے بس فری سے یہ ہی کہا تھا کے ابھی جب تک اس کی کہانی چھپ نہیں جاتی وہ کوئی مقام حاصل کر نہیں لیتی تب تک وہ سلطان کو کچھ نہیں بتانا چاہتی۔۔۔ وہ ایک ہی دفعہ سلطان کو سرپرائز دینا چاہتی ہے۔۔  اور وہ اسکی بات مان بھی گئ تھی۔۔۔
اب بھی وہ گہری سانس خارج کرتی اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ سلطان آنے والا تھا اور اسنے بچوں سے وعدہ کیا تھا کے وہ آج انہیں نادران ایریاز جانے کے لئے شاپنگ کروانے والا تھا ۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4