Header Ads

Mera Aashiyana novel 20th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


 

Mera Aashiyana novel 20th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

بیسویں قسط۔۔۔۔
زندگی جمعود کا شکار ہونے لگی تھی۔۔۔ ماہیر اظہر اپنی جنت سے نکالی گئ تھی۔۔۔ اور جنت سے نکل کر وہ اس بے رحم دنیا کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہونے لگی تھی۔۔۔ 
وہ چھت ۔۔۔ وہ گھر اور وہ شخص اسکی زندگی میں کیا اہمیت رکھتے تھے یہ اس بے رحم دنیا نے اسے بتایا تھا اور بہت خوب بتایا تھا۔۔۔ اب بھی وہ مضحمل سی ہاسٹل کے کمرے میں صوفے کی پشت سے سر ٹکائے کھوئی کھوئی سی کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اب اکثر ہی وہ پہروں بیٹھی یونہی کسی غیر مری نقطے کو تکتی رہتی۔۔۔۔
ایک لاحاصل خواہش نے اسے جھکڑا بھی تو عمر کے کس حصے میں جب وہ تیس کے دہانے کو چھونے والی تھی۔۔۔ کس عمر میں وہ خالی ہاتھ ہوئی۔۔۔۔ سوچوں کا ایک انبار ہوتا جو ہر پل دماغ میں چلتا رہتا۔۔۔ وہ کبھی ماضی کی بھول بھلیوں میں کھوئی رہتی تو کبھی مستقبل کے ناگ اسے سونے نا دیتے۔۔۔۔ اپنا حال تو وہ جیسے ہر طرح سے فراموش کر بیٹھی تھی۔۔۔
دفعتا دروازے پر دستک ہوئی تو وہ چونک کر کھلے دروازے کی جانب متوجہ ہوئی جہاں پینٹ کوٹ میں ملبوس بال جیل سے سیٹ کئے نک سک سے تیار اریز کھڑا تھا۔۔۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ آفس کا ایک چکر لگا کر سیدھا وہیں آیا ہو۔۔۔
وہ سیدھی ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ ہاتھوں سے بکھڑے بال کان کے پیچھے اڑس کر آنچل درست کیا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں حیرت تھی جیسے وہ اریز کی یہاں موجودگی کی توقع نا رکھتی ہو۔۔۔
کیسی ہیں میم۔۔۔ وہ اسکے کملائے چہرے کو نگاہوں کے حصار میں لئے آگے بڑھا۔۔۔
ماہیر نے سر کے اشارے سے ہاں میں سر ہلاتے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
مجھے آپکی زندگی میں وقوع پذیر ہوئے آپکے زیاں کا پتہ چلا۔۔۔ اور حقیقتا مجھے دل سے اسکے لئے افسوس ہے۔۔ میں ایسا کبھئ۔۔۔
وہ سر جھکائے نگاہ اپنے چمکتے جوتوں پر مرکوز کئے پسیمانی سے بول رہا تھا جب وہ سرعت سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
تمہیں کیسے پتہ چلا اریز۔۔۔ ۔
آپکی دوست مصباح آئی تھی آفس۔۔۔ اریز نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
آہ۔۔ مصباح ۔۔۔۔ کہیں تو بھرم قائم رہنے دیتی ۔۔ وہ کراہ کر رہ گئ۔۔۔
اور بقول انکے یہ سب میری وجہ سے۔۔۔۔
اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اپنی صفائی میں کچھ بولتا ماہیر پھر سے اسکی بات کاٹ گئ ۔۔۔
تمہاری میرے ساتھ ایسی کوئی کمٹنٹ نہیں تھی جسکی بنا پر تمہیں قصور وار ٹھہرایا جا سکے۔۔۔۔
وہ نظروں کا رخ مورتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔قصوروار میں تنہا ہوں۔۔۔۔ سزا کی حقدار بھی میں ہی ہوں۔۔۔
وہ صاف گو تھی اریز جانتا تھا مگر اپنے لئے بھی اس حد تک ہوگئ یہ اسنے آج جانا تھا۔۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
انسان میں کچھ اور ہو نا ہو۔۔۔ خود اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ ضرور ہونا چاہیے۔۔۔ وہ لبوں پر زبان پھیرتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ آنکھوں میں نمی ہیروں کی مانند چمکنے لگی تھی۔۔۔
یہ میری آزمائش تھی اریز۔۔۔ میں نے کسی کے ضبط کو بہت آزمایا۔۔۔ شاید میں اسے فارگرانٹڈ لینے لگی تھی۔۔۔ لیکن کچھ خطاوں کا ازالہ نہیں ہوا کرتا اور نا ہی کفارا ادا کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ انکی محض سزائیں ہوتی ہیں۔۔۔ جو ہس کر یا رو کر بھگتنی ہی پڑتیں ہیں۔۔۔۔
یہ میرے حصے کی سزا ہے۔۔۔ وہ کرب زدہ سا ہسی۔۔۔ میں فرشتہ نہیں تھی۔۔۔ میں انسان ہی ہوں۔۔۔ مانتی ہوں میری خطا ناقابل معافی ہے۔۔۔ جب یہ سب سوچتی ہوں تو لگتا ہے زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہا۔۔۔
لیکن پھر جب دیکھتی ہوں نا کے خطاوار تو حضرت آدم علیہ اسلام اور حضرت اماں ہوا بھی ہوگئے تھے۔۔۔ اللہ کے حکم کو نا ماننے کی خطا تو شیطان نے ان سے بھی سرزد کروا دی تھی۔۔۔ تو بہت حوصلہ ہو جاتا ہے۔۔۔
کے واقعی انسان تو ہے ہی خطا کا پتلا۔۔۔۔
اسنے پلکیں جھپکتے آنکھوں کی نمی کو پیچھے دھکیلنا چاہا۔۔۔ لیکن کہا نا کچھ خطاوں کا ازالہ نہیں ہوتا اور نا ہی کفارا۔۔۔
حضرت آدم اور اماں ہوا کو بھی انکی جنت سے نکال دیا گیا تھا۔۔۔ یہ انکی آزمائش تھی۔۔۔ لیکن یہیں سے تو امید ملتی ہے۔۔۔ کے جنت سے نکلنے کے باوجود انہوں نے رجوع اسی طرف کیا تھا جسکی نافرمانی کی تھی۔۔۔ اور پھر کتنے ہی سالوں کی کٹھن مسافت کے بعد انہیں انکی منزل ملی تھی۔۔۔ انہیں معافی ملنے کا عندیہ سنایا گیا تھا۔۔۔
اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔ نکال تو میں بھی دی گئ ہوں اپنی جنت سے۔۔۔ اور اب منتظر ہوں کے مجھے اس رب کے گھر معافی کب ملتی ہے۔۔۔  کچھ غلطیوں کے ازالے واقعی نہیں ہوتی۔۔۔ کرب سے ایک سسکی اسکے ہونٹوں سے برآمد ہوئی۔۔۔
وہ حق دق بیٹھا اس لڑکی کو دیکھتا رہا۔۔۔ میم آپ۔۔۔
پلیز تم جاو اریز۔۔۔ اسنے دقت سے اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔۔ مگر میم۔۔۔
پلیز اریز۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ ناجانے کیسے ضبط کئے بیٹھی تھی۔۔۔ وہ لب بھینچے چند پل اسے دیکھتا رہا پھر اسی خاموشی سے اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔
ماہیر نے دقت سے سینے میں اٹکا سانس خارج کیا اور بھرائی نگاہوں سے اوپر کی جانب دیکھا۔۔۔
یہ میرے حصے کی آزمائش ہے۔۔۔ سزاوار بھی میں تنہا ہی ہوں۔۔۔ لب بے آواز ہلے جبکہ خاموش آنسو بھی کنپتیوں کی جانب بہتے چلے گئے۔۔۔
******
عروب  فبیحہ کو سلا کر اپنے کمرے میں جانے کی بجائے سیدھا سلطان کی سڈی میں ہی آگی۔۔۔ اسکا سٹڈی روم بہت نفاست سے سجا تھا دو دیواروں پر خوبصورت کتابوں کے ریک بنے تھے جیسے انہیں قدیم سا تاثر دینے کی کوشیش کی گئ ہو۔۔۔ جبکہ ایک سٹڈی ٹیبل کیساتھ ساتھ خوبصورت مخملی تھری سیٹر صوفہ پڑا تھا جبکہ سامنے دو فلور کشنز موجود تھے۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ جو صوفے پر بیٹھا منہمک سا کتاب پڑھ رہا تھا چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔
وہ قدم قدم چلتی اسکے پاس آئی اور اسکے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
خیریت۔۔۔ اسنے عروب کو حیرانگی سے دیکھتے ایک بھنور اچکائی۔۔۔ یہ پہلی مرتبہ تھا جو وہ یوں اسکی موجودگی میں سٹڈی روم میں آنے کیساتھ اسکے پاس آ کر بیٹھ گئ تھی۔۔۔ اسکی حیرانگی فطری تھی۔۔۔
کیا میں بنا کسی وجہ کے یہاں آپکے پاس نہیں آ سکتی۔۔۔ وہ کتاب تھامے اسکی بازو میں اپنی بازو حائل کرتی اسکے کندھے پر سر رکھ گئ۔۔۔
سلطان اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
عروب میں کتاب پڑھ رہا ہوں۔۔۔ اسے سمجھ نا عروب کا نافہم انداز اور مزید یہ کہ  اس کے اس انداز پر اسے کیا کہے۔۔تو میں نے کب آپکو کتاب پڑھنے سے روکا ہے۔۔۔ وہ آنکھیں موندتی پرسکون سی گویا ہوئی۔۔۔
سلطان لب بھینچ گیا۔۔۔ اسے یہ تک نا کہہ سکا کے اسکی موجودگی اسے ڈسٹرب کر رہی ہے۔۔۔
کوئی پرابلم ہے تو بتاو۔۔۔ اسنے کتاب بند کرتے سامنے میز پر رکھی۔۔۔
کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔ 
پھر۔۔۔ سوئی کیوں نہیں ابھی تک۔۔۔ وہ الجھا ا لجھا سا اس سے بات کرتا گویا بات کی تہہ تک اترنا چاہتا تھا۔۔۔ 
نیند نہیں آ رہی۔۔۔ اسلئے آپکے پاس آگئ۔۔۔ وہ یونہی آنکھیں موندے گویا ہوئی۔۔۔
سلطان گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔ چلو اٹھو آو کمرے میں چلیں۔۔۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تو عروب بھی مسکراتی ہوئی اٹھ گئ۔۔۔۔ وہ عجیب شخص اتنا بھی مشکل نا تھا۔۔۔
*****
کیوں گئ تم اسکے آفس مصباح۔۔۔۔ شام میں مصباح اسکے پاس آئی تو وہ بگڑ اٹھی۔۔۔ وہ کمرے کی واحد کھڑکی کے پاس کھڑی سینے پر بازو باندھے تفتیشی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہاری اس فضول بکواس کا ماہیر۔۔۔ جتنا نان سیریس تم نے اپنی زندگی کو لینا تھا تم لے چکی۔۔۔ مصباح بھی بگڑے تیوروں کے ساتھ اس پر چڑھ ڈورہی۔۔۔
کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ پوری زندگی لاوارثوں کی طرح ہاسٹلوں کے دھکے کھاو گئ۔۔۔ کوئی ہے تمہارے پاس فیوچر پلانینگ۔۔ کیا ہے مستقبل تمہارا۔۔۔ مصبح کا انداز غصیلہ تھا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ۔۔۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ یہ سب میری غلطی۔۔۔
ہاں تمہیں سب پتہ ہے۔۔۔ یہ سب تمہاری غلطی ہے۔۔۔ اب تمہیں سب سمجھ آ رہا ہے۔۔۔ تب کیوں تمہاری سمجھ بوجھ گھاس چڑنے گئ ہوئی تھی جب اپنے ہاتھوں سے اپنے آشیانے کو آگ لگا رہی تھی۔۔۔
اسنے بے ساختہ ماہیر کی بات اچکی۔۔۔
وہ لب بھینچتی خاموشی سے بیڈ کے کنارے ٹک گئ۔۔۔۔ جیسے یہاں آ کر سارے الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہوں۔۔۔
دیکھو ماہیر۔۔ پلیز اپنے ساتھ یہ سب مت کرو۔۔۔ اسے یوں شکستہ حال دیکھ مصباح بے بسی سے کہتی اسکے پاس آئی اور اسکے کندھے پر بازو پھیلایا۔۔۔
ماہیر خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ اس شخص کا ان سب چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ اس لئے اسے ان سب میں مت گھسیٹو مصباح۔۔۔ ماہیر نے لب کچلے۔۔۔۔
سارے فساد کے بیچ اسی کے بوے ہیں۔۔۔ ان سب کا آغاز اسی کی ملاقات سے ہوا تھا۔۔۔۔ مصباح سختی سے گویا ہوا۔۔۔ ماہیر اسے یہ تک نا کہہ سکی کے وہ تو بات کر کے پلٹ گیا تھا وہ خود ہی اسکی کہی باتوں میں جکڑتی چلی گی۔۔۔ کہ انسان میں کچھ اور ہو نا ہو۔۔۔ غلطی تسلیم کرنے کی جرات ضرور ہونی چاہیے
اور اب اس معاملے میں میں تمہاری ایک نا سنو گئ۔۔۔۔
مصباح انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔۔۔
*****
سلطان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا جبکہ عروب بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اتنی محویت سے اسے تک رہی تھی کے اسے اس چیز کا احساس تک نا ہوا۔۔۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہوتا سلطان بھی دو تین دفعہ اسکی اس محویت کو نوٹ کر چکا تھا۔۔
عروب۔۔۔ سب خیریت ہے نا۔۔۔ رات سے الجھی الجھی سی ہو۔۔۔۔ بال بنا کر خود پر پرفیوم سپرے کرتا وہ اسکی جانب پلٹا۔۔۔ عروب چونکی۔۔۔
پھر اسکے اسقدر درست تجزیے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے لبوں پر ابھری۔۔۔
مطلب اتنا بھی بے خبر نا تھآ وہ ستم گر جتنا ظاہر کرتا تھا۔۔۔۔
کیا ہو گیا۔۔۔ ابھی اسقدر کھوئی ہوئی تھی اور اب مسکرا رہی ہو۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتا اپنا والٹ اٹھا کر جیب میں رکھنے لگا۔۔۔
وہ اور مسکرا دی۔۔۔
ویسے سلطان۔۔۔ وہ لمحوں میں سنجیدہ ہوئی۔۔۔
کیا۔۔۔ صوفے پر بیٹھا جوتے پہنتا وہ متوجہ ہوا۔۔۔
آپ ہمیں کہیں گھمانے نہیں لے کر گئے۔۔۔ وہ پرسوچ سی گویا ہوئی۔۔۔
حالت دیکھو اپنی لڑکی۔۔۔۔ 
مجھے یہ لڑکی مت بلایا کریں سلطان۔۔۔ میرا نام عروب ہے۔۔۔ وہ درمیان میں ہی اسکی بات اچکتی نڑوٹھے پن سے گویا یوئی۔۔ سلطان نے اسے گھورا۔۔۔۔
صبح لاوئنج کے جس صوفے پر تمہیں بیٹھا چھوڑ کر جاتا ہوں نا۔۔۔ واپسی پر وہیں ملتی ہو۔۔۔ اور اگر  بستر پر لیٹتی ہو نا تو پہروں ایک ہی کروٹ لیے لیٹی رہتی ہو۔۔۔
اسقدر سست ہو رہی ہو تم اور جانا ہے تم نے گھومے پھرنے۔۔۔ پہلے اس کام سے فارغ ہو جاو پھر جہاں مرضی چلی جانا۔۔ 
وہ اسکی بات نظرانداز کئے تاسف سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ عروب خجالت سے سر کحجا کر رہ گئ۔۔۔ اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ منمنائی۔۔۔
ابھی تو پھر بہت دیر باقی ہے۔۔۔ اور بے بی کے آںے تک تو ہماری شادی پرانی بھی ہو جائے گی۔۔ ہھر بھلا کون گھمانے لے کر جائے گا۔۔۔
وہ منہ بسورتی گویا ہوئی۔۔
یہ آج کل اتنی عجیب عجیب حرکتیں کیوں کرنے لگی ہو۔۔۔ وہ جاتا جاتا رکا اور ماتھے پر شکنیں سجائے اسکی جانب بڑھا۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ شوہر سے کہیں گھومنے پھرنے لے کر جانے کی فرمائش کرنا عجیب ہوتا ہے۔۔۔ اور شوہر بھی وہ جو افورڈ بھی کر سکتا ہو۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔
وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
آپ مجھے لے کر جائیں گے یا نہیں۔۔۔اسے یوں اپنی بات نظرنداز کئے دروازے کی جانب بڑھتا دیکھ
وہ سیدھی ہوتی دھونس بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔۔
فلحال کے لئے تو بالکل نہیں۔۔۔ وہ زرا کی زرا رکا۔۔۔ 
قائم رہیے گا اپنی بات پر اب سلطان۔۔۔ کیونکہ بہت جلد آپ اپنی بات سے پھرنے والے ہیں۔۔۔ وہ گردن اکڑاتی تیزی سے گویا ہوئی کہ مبادا وہ بنا بات سنے وہاں سے چلا ہی نا جائے۔۔۔۔۔
دروازے سے باہر نکلتا سلطان چونک کر رکا پھر پلٹا۔۔۔
اچھاااااا۔۔۔ چیلنج کر رہی ہو مجھے ۔۔۔
کہہ سکتے ہیں آپ۔۔۔۔ وہ دوبدو گویا ہوئی۔۔۔۔
گڈ۔۔۔۔ لٹس سی۔۔۔۔ وہ ایک بھنور اچکاتا مسکرایا۔۔۔ جیسے اسکی اوور کونفیڈینس پر مسکرایا ہو۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے بڑا بچے کے مذاق پر مسکراتا ہے۔۔۔۔
ہلقا لے رہے ہیں آپ مجھے سلطان صاحب۔۔۔ 
وہ اترائی۔۔۔ دیکھا جائے گا۔۔۔ محترمہ۔۔۔ میں بھی چیونٹی کے پر نکلتا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ 
ویسے جا کہاں رہی ہو اور کب۔۔۔ وہ خلاف معمول دروازے پر رکا اسکی فضول سی بات کو طول دیتا خط اٹھا رہا ہے۔۔۔
اگر میں چیونٹی ہوں تو آپ ہیں چیونٹے۔۔ اور میں 
نادران ایریاز گھومنے جاوں گی ٹھیک پندرہ دن بعد۔۔۔ بنا تردد کے جواب آیا۔۔۔
صحیح صحیح۔۔۔۔ وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلاتا باہر نکل گیا۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی عروب ڈھیلی پڑتی گہرا سانس خارج کر کے رہ گئ۔۔۔
سلطان کے رویے کی لچک ظاہر کر رہی تھی کے اس سخت گیر انسان کے گرد موجود خول چٹخانا اتنا مشکل بھی نہیں۔۔۔۔۔
وہ بالوں کا گول مول سا جوڑا بناتی بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4