Header Ads

Mera Aashiyana novel 18th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 18th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

اٹھارویں قسط۔۔۔۔
اسکی رگوں میں دوڑتے خون میں بھی طیش سے ابال اٹھ رہے تھے۔۔۔  رگیں چٹخ رہی تھیں۔۔۔ وہ  نہایت طیش سے ریش ڈرائیونگ کرتا گاڑی ہواوں میں اڑاتا گھر لایا تھا۔۔۔ گھر کے پورچ میں گاڑی روکتا وہ ایک جھٹکے سے باہر نکلا اور ماہیر کو گھسیٹتا ہوا اندر لے کر گیا۔۔۔ آج اس لڑکی نے احمر کی برداشت کی حد کر دی تھی۔۔۔ اس سے زیادہ نا اس میں برداشت تھی نا ظرف۔۔۔ 
وہ لڑکی آج اسکی تنبیہہ کے باوجود اس مرد کے سامنے اسکی عزت کو روندتے ہوئے جا پہنچی تھی۔۔۔
وہ اسکی عزت کو بیچ چوراہے میں آگ لگاتی تنہائی میں ایک نا محرم کے ساتھ موجود تھی۔۔ وہ غصے سے پاگل ہونے کے در پر تھا۔۔۔
اس دن احمر نے غصے سے پاگل ہوتے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا اور پے در پے اٹھایا تھا۔۔۔ حتی کہ بے دم ہوتا وہ وہیں صوفے پر ڈھے گیا۔۔۔۔ مگر اندر لگے آگ کے شعلے ہنوز بھڑک رہے تھے
ماہیر احمر تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ وہ شدت ضبط سے گویا ہوا۔۔۔
میں نے اپنی مردانہ انا و غیرت کو داب کر تمہیں ایک اور موقع دیا اور تم نے۔۔۔ وہ کرب سے بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔۔ یہ لڑکی اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی۔۔۔
کاش ماہیر۔۔۔ کاش تم اپنی ناجائز خواہش کو داب لیتی۔۔۔۔
وہ منہ پہ ہاتھ رکھے دہری ہوتی اپنی سسکیاں داب رہی تھی۔۔۔ احمر کی سخت مردانہ ہاتھوں کی تاب نا لاتے وہ ادھ موئی ہوتی زمین بوس ہو گئ تھی۔۔۔
میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں احمر میں کبھی آپکی عزت پر حرف نہیں آنے دوں گی۔۔۔ آپکی عزت کی چادر کو ہمشہ تھام کر رکھوں گی۔۔۔ وہ اذیت سے سسکیاں روکتی آنکھیں موندے زمین پر بیٹھی صوفے پر بالکل اسکے پاس سر رکھ گئ۔۔۔
احمر دکھ سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔آنکھوں میں کیا کچھ نا تھا۔۔۔ شکوے ٹوٹے مان کی کرچیاں بکھرا اعتماد۔۔۔مگر وہ دیکھنے والی ہوتی تب نا۔۔۔
آپ بس مجھے اریز سے ملنے کی اجازت دے دیں۔۔۔ میں کبھی کبھار اس سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔ ضبط کھوتے اسنے پوری شدت سے تھپر اسکی نازک گال پر جڑا تھا۔۔۔۔ 
جھوٹ بولتی ہو تم۔۔۔ بکواس کرتی ہو کے میری عزت نہیں رولو گی۔۔۔ اور میرے سامنے ہی تم ایک نامحرم سے ملنے کی اجازت مانگ رہی ہو۔۔۔ وہ جلتے انگاروں پر لوٹنے لگا ۔۔۔ 
تم اس قابل ہی نہیں کے تم پر اپنے خالص جذبے تو کیا کے تمہیں ایک موقع بھی دیا جائے۔۔۔ تم جانتی ہو کے ایک مرد جب گھر سے نکلتا ہے تو اپنی عزت۔۔ مان اور اعتماد عورت کی مٹھی میں دے کر جاتا ہے اور باحیا عورت مرتی مر جاتی ہے مگر مٹھی نہیں کھولتی کے کہیں ۔۔۔ دقت سے بولتے اسکے آواز بھرانے لگی۔۔۔۔۔ کہیں اسکے شوہر کی عزت پر حرف نا آ جائے۔۔۔ اور اگر ۔۔۔ اسنے گہری سانس بھری۔۔۔ سانس لینے میں 
دشواری ہو رہی تھی۔۔۔ اگر وہی عورت شوہر کی غیر
 موجودگی میں وہ مٹھی کھول دے تو بتاو پیچھے بچتا ہی کیا ہے۔۔۔ اس مرد سے زیادہ بدبخت مرد کوئی نہیں ہو سکتا۔۔۔ اور اس عورت سے زیادہ بد نصیب عورت بھی کوئی نہیں ہو سکتی۔۔۔ اسکی آواز میں ٹوٹی کانچ کی کرچیاں تھی۔۔۔  اور بدقسمتی سے تم وہ مٹھی کھول چکی ہو ماہیر۔۔۔ اور تم میرے لئے اتنی بے اعتبار ہوچکی ہو کے میں اب تم پر بھروسہ کر کے اپنی عزت اور مان تمہارے حوالے کر کے کہیں نہیں جا سکتا۔۔۔ آواز میں نمی کی آمیزش در آئی تھی۔۔۔ 
جاو ماہیر احمر تم آج سے آزاد ہو۔۔۔ وہ سر صوفے کی پشت سے ٹکائے ہارے ہوئے انداز میں گویا ہوا۔۔۔ جو کرنا چاہتی ہو کرو۔۔۔ آسمان کی جن وستعوں کو چھونا چاہتی ہو چھو لو۔۔۔ کوئی تم پر روک ٹوک کرنے والا نہیں۔۔۔ جاو جیو اپنی زندگی میری طرف سے تم آزاد ہو۔۔۔
نہیں احمر۔۔  پلیز۔۔۔ ماہیر تڑپ کر اسکے پاس ہوئی اور اسکا ہاتھ تھاما۔۔
دور ہٹو گھٹیا عورت۔۔۔ اسنے چیختے ہوئے بے دردی سے ماہیر کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔ جیسے وہ اچھوت ہو۔۔۔ مجھے چھونے کی کوشیش بھی مت کرنا۔۔۔ 
نہیں احمر پلیز ایسا مت کہیں۔۔۔ ماہیر بے دردی سے اپنے آنسو رگڑتی اسکی جانب بڑھی۔۔۔ احمر کے رویے سے دل کو کھنچ لگ رہی تھی۔۔۔میں وہی ماہیر ہوں جس سے آپ بہت محبت کرتے ہیں۔۔۔ احمر کے کھڑے ہوتے ہی وہ بھی جسم سے اٹھتی ٹھیسوں کو نظر انداز کرتی دقت سے اٹھ کر احمر کی جناب آئی۔۔۔
اور اسی بات کا دکھ پوری زندگی رہے گا۔۔۔ وہ اسے جھٹکتا چیخا۔۔
مگر مزید نہیں۔۔۔ وہ اسے بازو سے جھکڑے کھینچتا ہوا کمرے سے باہر لایا ۔۔۔۔جیسے آڑ یا پاڑ کا فیصلہ کر چکا ہو۔۔۔۔اور اسے کمرے سے باہر کرتے بے دردی سے چھوڑا کے وہ بامشکل سمبھل پائی۔۔
میں سلطان احمر بقائمی ہوش و حواس  تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔ وہ الفاظ نہیں  نشتر تھے جو سیدھا ماہیر کے دل کو چیر گئے۔۔۔
نہیں۔۔ وہ فق ہوتی رنگت کے ساتھ چیخی۔۔۔ بہت کچھ غلط ہو جانے کا احساس اندر جاگا۔۔۔ 
طلاق دیتا ہوں۔۔ 
نہیں احمر پلیز۔۔۔ اسنے سب سوچ رکھا تھا مگر حالات اس نہج پر جا پہنچیں گئے یہ گمان میں بھی نا تھا۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔
بنا اسکی کسی بھی التجا پر کان دھرے وہ پھولے سانسوں سمیٹ اسکے منہ پر دروازہ بند کر چکا تھا۔۔۔
جبکہ ماہیر آج ہر مصلحت بالائے طاق رکھے قسمت کی اس ستم ظریفی پر وہیں دھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اسکے بین وہاں کے درودیوار تک لرزا رہے تھے۔۔۔
اسکا گھر اسکا آشیانہ اسکا شوہر۔۔۔ سب اسکی ایک لاحاصل اور ناجائز خواہش نگل گئے تھے۔۔۔ اسنے ویران ہوتی نگاہوں سے اپنے آشیانے کو دیکھا۔۔۔ یہ اسکے خوابوں کا محل تھا۔۔۔ اسکا ایک ایک کونا اسنے اپنے ہاتھوں سے سجایا تھا۔۔ یہاں اسنے اپنے شوہر اور بچوں کے سنگ زندگی کے بہتریں لمحات گزارے تھے۔۔۔ مگر اب۔۔۔ اب وہ اپنی ہی جنت سے بے دخل کر دی گئ تھی۔۔  احساس زیان کا احساس سب سے بھاری تھا۔۔۔
تکلیف ناقابل برداشت تھی تبھی وہ مزید ذہنی دباو برداشت نا کر پاتے وہیں غش کھا کر گر گئ۔۔۔۔
******
سلطان کے کہے کے مطابق اگلے روز بچوں اور سلطان کے گھر سے جانے کے بعد ہی ایک عورت اور ایک عروب ہی کی ہم عمر لڑکی گھر آئیں تھیں۔۔۔ عروب ابھی ان سب کے گھر سے نکلنے کے بعد دائینینگ ٹیبل پر ہی بیٹھی تھی جب ان دونوں نے آ کر اسے سلام کیا۔۔۔
سلام بی بی جی۔۔۔۔ وہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔۔
میں حمیدہ ہوں اپکے چوکیدار کی بیوی اور یہ فری ہے میری بیٹی۔۔۔ ہمیں صاحب جی نے بلایا تھا امور خانہ سمبھالنے کی خاطر۔۔۔اس فربہہ مائل ادھیر عمر عورت نے اپنا تعارف پیش کیا تو وہ سمجھ کر سر ہلا گئ۔۔۔ جبکہ وہ لڑکی اسے دیکھنے کے بعد اب اشتیاق سے گھر کو چاروں جانب سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ عروب مسکرا دی۔۔۔ وہ اس لڑکی کے محسوسات اچھے سے سمجھ رہی تھی۔۔۔ وہ گھر تھا ہی امارت کا منہ بولتا ثبوت۔۔۔ دیکھنے والوں کو یونہی اپنی دلکشی میں جھکڑ لیتا۔۔۔
عروب ان دونوں سے خوشدلی سے ملی۔۔۔ وہ دونوں بھی بہت ملنسار تھیں۔۔ آئیں آپ پہلے ناشتہ کریں پھر میں آپکو سب سمجھا دوں گی۔۔ عروب نے مسکرا کر انہیں کہا۔۔۔
ارے نہیں بی بی جی ہم۔۔۔
آپ پلیز مجھے یہ بی بی جی کہنا بند کریں۔۔۔ میں آپکی بیٹی ہی کی طرح ہوں تو مجھے میرے نام سے مخاطب کریں۔۔۔ اور پلیز میں ناشتہ کرنے لگی ہوں آپ لوگ مجھے جوائن کریں گے تو مجھے خوشی ہوگئ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ عورت سبھاو سے منع کرتی عروب سرعت سے انہیں ٹوک گئ۔۔۔
اس چھوٹی لڑکی کی عادت اور اخلاق سے وہ ماں بیٹی دونوں ہی بہت متاثر ہوئی تھیں۔۔۔ مالک ہو کر ملازموں سے اتنا اپنائیت بھرا لہجہ ۔۔۔۔ حمیدہ خاتوں نم آنکھوں سے کرسی گھسیٹی بیٹھ گئیں جبکہ فری نے بھی انکی تقلید کی۔۔۔
ان دونوں کے آجانے سے جیسے عروب کی زندگی میں موجود ایک خلش بھی جاتی رہی۔۔۔ وہ حمیدہ خاتوں کو اپنی ماں سی عزت دیتی۔۔۔ ہر ہر بات میں ان سے مشورہ طلب کرتی۔۔۔ وہ جہاندیدہ خاتوں تھیں اس لیے وہ عروب کو ہر ہر معاملے کی نزاکت خوب سمجھاتیں۔۔ اور فری کیساتھ تو اسکا بہنوں سا دوستانہ بن گیا تھا۔۔ ہر وقت وہ دونوں اکھٹی ہی پائی جاتیں۔۔۔ ان کے پاس ان گنت باتوں کا خزانہ تھا جو وہ دونوں ہر وقت کرتیں رہتیں۔۔۔
شوبیز سٹارز سے لے کر رائٹرز تک۔۔۔ فیشن سے لے کر سیاست تک۔۔۔ وہ ہر ہر ٹاپک کو ڈسکس کرتیں۔۔۔ فری نے بھی اس دفعہ گریجویشن کے امتحانات دیئے تھے اور اب نتیجے کے انتظار میں تھی۔۔۔ یہ سن کر عروب کے دل سے ایک ہوک سی نکلی۔۔۔ یہ ایک کسک دل سے جاتی ہی نا تھی۔۔۔ لیکن یہ کیفیت وقتی ہوتی۔۔۔ اپنا یہ زیاں بھولتا تو نا مگر وہ سر جھٹک دیتی۔۔ ایک کمی کو لے کر وہ زندگی کی عطا کردہ سینکڑوں نعمتوں کی ناشکری نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
بچوں کے ساتھ اسکی بانڈنگ بہت مضبوط ہو گئ تھی۔۔۔ چھوٹی چھوٹی بات کے لئے بھی وہ ماں کے پاس بھاگتے۔۔۔ سکول سے آ کر چھوٹی چھوٹی بات اسکے پاس بیٹھ کر اس سے شیئر کرتے۔۔۔ اور وہ بھی تسلی سے بیٹھ کر انہیں وقت دیتی۔۔۔ کبھی انکے ساتھ چھوٹے موٹے کھیل کھیلتی۔۔۔ کبھی لڈو تو کبھی جرنل نالج کے سوال جواب کرنے لگتی۔۔۔ کبھی ان کے ساتھ مل کر ڈرائنگ کرتی تو کبھی انہیں چھوٹے موٹے کاموں میں الجھا کر مختلف چیلنجز دیتی۔۔۔ عرض وہ ہر لحاظ سے بچوں کو مثبت کاموں میں مصروف رکھتی۔۔۔ بچے بھی اسکے ساتھ کو انجوائے کرتے۔۔۔ اس سے اپنی چھوٹی بڑی خواہشات شیئر کرتے۔۔۔۔
ہر مہینے وہ بچوں کے سبھی دوستوں کو بلا کر انکا گیٹ ٹو گیڈر کرواتی۔۔۔ اور بچوں کی پسند کی سبھی ڈشز بنواتی۔۔۔
سلطان بھی اسے گھر اور بچوں میں مگن دیکھ کر خوش تھا۔۔۔۔ دونوں کے رشتے میں کافی حد تک اعتماد بحال ہو گیا تھا۔۔۔  دن با دن سلطان اسکی مزید کیئر کرنے لگا تھا۔۔  اسکی ہر ضرورت کا خود خیال رکھتا اور خاموشی سب سب بن کہے ہی کر دیتا۔۔۔ لیکن اس سے زیادہ جیسے دونوں کے درمیان ایک خلیج تھی جسے نا سلطان پاٹتا نا اسے پاٹنے کی اجازت دیتا۔۔۔
وہ بہت زیادہ وقت عروب کیساتھ نہیں گزارتا تھا۔۔۔۔ رات کو گھر لوٹتا ڈنر پوری فیملی اکھٹا ہی کرتی۔۔۔ پھر وہ لاوئنج میں ہی بچوں اور عروب کے ساتھ کچھ دیر بیٹھ کر ٹی وی دیکھتا۔۔۔ ان سے چھوٹی موٹی باتیں کرتا اور بس۔۔۔ اسکے بعد اپنے کام میں مصروف ہو جاتا اور صبح اپنے وقت پر کام پر نکل جاتا۔۔۔ 
عروب کے ساتھ گزارنے کو اسکے پاس بہت زیادہ وقت نا تھا۔۔۔۔ نا وہ اس سے اپنی فرمائشیں کرتی نا وہ پہروں بیٹھ کر اس سے باتیں کرتا۔۔۔
اسکے پاس اپنے رشتے کو کامیاب بنانے کے لئے عروب کے لئے محض محدود وقت تھا اور عروب نے جس تیزی سے شعور کی منازل طے کی تھیں اسنے سلطان سے بہت سی امیدیں وابسطہ کی بھی نہیں تھیں۔۔۔ اس کی ہر امید اسکے رب سے تھی۔۔ جو کرم کر کے جتلاتا نہیں تھا۔۔۔جو بے حد و حساب نوازتا تھا۔۔۔ جو دل کے حال اچھے سے جانتا ہے۔۔۔  وہ رب جب سلطان کے دل میں عروب کے لئے اتنی گنجائش نکال سکتا تھا تو وہ سلطان کا دل پوری طرح اسکے لئے صاف بھی کر سکتا تھا۔۔۔ اور وہ پریقین بھی تھی کے ایسا دن بھی آئے گا۔۔۔ اور بہت جلد آئے گا۔۔۔
وہ اپنے گھر اور بچوں میں مگن تھی۔۔۔ گھر میں دل لگانے کے اسکے پاس ایک سو ایک طریقے تھے۔۔۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارتی۔۔  گھر کا کونا کونا نئے سرے سے سنوارتی۔۔۔ اور اب تو اسنے فری کیساتھ مل کر گارڈنینگ بھی شروع کر دی تھی۔۔۔ اسے اس گھر میں دنیا جہاں کا ہر سکھ تھا وہ چند ایک ادھوری خواہشات کے لئے ناشکری کرنے کی متحمل نا تھی۔۔۔۔
زندگی پرسکون تھی ہر جانب سکون تھا۔۔۔ وہ لاپرواہ سی لڑکی اپنے آپ میں مگن تھی۔۔۔ مگر کب تب۔۔۔ ایک تیز ہوا کا جھونکا اس پر آگاہی کے بہت سے در وا کر گیا تھا وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئ تھی۔۔۔
******
دوبارہ ماہیر کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ماں کے گھر پایا۔۔۔ اس ایک مہینے میں اسنے سوئی جاگتی کیفیت میں کئ مناظر دیکھے تھے۔۔۔ ہسپتال کی چھت۔۔۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کا آنا جانا۔۔۔ ماں کے جھکے کندھے۔۔۔ روتی شکوہ کناں آنکھیں اور ماں کے کوسنے۔۔۔۔ اسکا بری طرح نروس بریک ڈاون ہوا تھا۔۔۔
وہ یکدم ہی جنت سے نکال کر زمین پر پٹخ دی گئ تھی۔۔۔
اب بھی اسنے نیم وا آنکھیں کھولیں تو دنوں میں ضعیف ہوئی ماں سے نگاہ ٹکرائی جو اسکے پاس ہی بیٹھیں اسکے ماتھے پر گیلے کپڑے کی پٹیاں رکھ رہی تھیں۔۔ بیٹی کا غم انہیں لے ڈوبا تھا۔۔ وہ خود بہت بیمار تھی مگر اسے بھی اسکے حال پر نہیں چھوڑ سکتی تھیں۔۔۔
اسے آنکھیں کھولتا دیکھ ماں کی آنکھیں سرعت سے گیلی ہوئیں۔۔۔
کیوں تم لاحاصل خواہشات کی تکمیل میں اندھی ہوگئ ماہیر۔۔۔
سونے سا شوہر۔۔۔ ہیرے جیسے بچے تمہارا آشیانہ تمہاری جنت۔۔۔ تمہیں کچھ بھی نا دکھا ماہیر۔۔۔ تم اتنی اندھی ہوگئ۔۔۔ مانا کے آدم اور ہوا کے درمیان شیطان ازل سے حائل ہے۔۔۔ لیکن عقل و فہم اور شعور بھی تو کسی چیز کا نام ہے۔۔۔ شیطان تم پر اسقدر حاوی ہو گیا ماہیر کے تم نفس کے ہاتِوں کٹھ پٹھلی بن گئ۔۔۔ ماں کے لہجے میں برسوں کی تھکن تھی۔۔۔ خاموش آنسو ماہیر کی آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔
مجھے احمر سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ وہ مرد تھا۔۔۔ اور غیرت پر تازیانہ کوئی مرد برداشت نہیں کرتا۔۔۔۔ اسکا ردعمل بلاشبہ یہ ہی ہونا تھا۔۔۔ شکوہ تو تم سے ہے ماہیر۔۔۔ تم ماں کی تربیت کی لاج نا رکھ پائی۔۔۔وہ لرزتے ہاتھوں سے پلو تھامتیں تیزی سے بھیگتی آنکھیں صاف کرنے لگیں۔۔۔
ماہیر لب بھینچ کر رہ گئ۔۔۔
تم جانتی ہو ماہیر خواہش اور ایمان کے بیچ ایک باریک سی لکیر ہوتی ہے۔۔۔ خواہش ترک کر کے ایمان کو تھامنا ہی صبر ہے۔۔۔ وہ صبر جسکی رسی کو تھامنے والے بنا کسی حساب کتاب کے اللہ کی جنت میں داخل ہوگا۔۔۔۔۔ تم صبر کیوں نا کر سکی۔۔۔ تمہارے بچوں کی معصوم صورتیں بھی تمہیں تمہاری خواہش ترک کرنے پر مجبور نا کر سکیں۔۔۔
ماں کا ملال کم ہونے کا نام ہی نا لیتا۔۔ اس عمر میں بیٹی کا روگ انہیں خون کے آنسو رلا رہا تھا۔۔۔ اور بیٹی بھی کون جو اچھی خاصی سمجھدار اور باشعور تھی۔۔۔ جسکے پاس کئ سٹودینٹس رہنمائی لینے آتے۔۔۔ جو ایک رول ماڈل تھی۔۔۔ جس سے لوگ انسپریشن لیتے۔۔۔
کیا فائدہ اتنے علم کا۔۔۔ اتنی ڈگریوں کا ۔۔۔ اتنی کامیابی کا۔۔ اتنی عقل و فہم اور شعور کا ماہیر۔۔۔ جب آپکے پاس عمل ہی نا ہو ۔۔ خالی خولی باتیں کرلینا تو ہر کسی کے بس کا روگ ہے۔۔۔ علم کیساتھ عمل کرنے والے ہی اہل بیت ہیں۔۔۔ تو علم حاصل کر کے بھی عمل نا کر پائی۔۔۔ ماں چہکوں پہکوں رونے لگی تھی۔۔۔ جبکہ ماہیر کو ایک مرتبہ پھر سے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہونے لگا۔۔۔ دماغ کی رگیں چٹخنے لگی تھیں یوں جیسے ابھی کوئی رگ پھٹ جائے گی۔۔۔ اسکے لئے تو پہلا صدمہ ہی کاری تھا کجا کہ ماں کی کچوکے لگاتیں باتیں وہ ایک مرتبہ پھر سے ہوش و ہواس کھو بیٹھی۔۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4