Mera Aashiyana novel 19th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 19th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
انیسویں قسط۔۔۔۔
اگلے ہی دن احمر سلطان نے وہاں سے اپنا کام سمیٹنا شروع کردیا اور بمشکل ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے درمیان ہی کراچی چھوڑ کر لاہور شفٹ ہو گیا۔۔۔ اسے وہ فضا بھی منظور نا تھی جہاں وہ بے وفا سانس لے رہی تھی۔۔۔ ۔
اپنا سارا بزنس اسنے لاہور شفٹ کر لیا۔۔۔۔ جب جب وہ اسے یاد آتی اسکے جسم میں چنگاریاں سی جلنے لگتی۔۔۔ وہ لڑکی اس کی معمولی شکل و صورت اور معمولی تعلیم کی وجہ سے اسے چھوڑ کر گئ تھی۔۔۔ پوری زندگی اسنے اس لڑکی کی خواہشات پوری کرنے اسے اچھا لائف سٹائل دینے اور اسے کسی مقام پر پہچانے کے جنون میں کولہو کا بیل بن کر گزار دی۔۔۔ خود کو رول ڈالا اسکے پیچھے اور وہ لڑکی اتنی خود غرض نکلی کے آسمان کی وسعتوں کو چھونے کے بعد اسنے ان وستعوں میں مزید اونچا اڑنے کے لالچ میں اسکے ہاتھ سے اپنی ڈور کا آخری سرا بھی کھینچ ڈالنا چاہا۔۔۔ یہ جانے بنا کے کٹی ڈور مزید اونچا اڑتی ہے یا بے طرح زمین بوس ہوتی ہے۔۔۔ اور کس انداز میں کے اسکے سو سو داوے دار اٹھ نکلتے ہیں۔۔۔۔
وہ جب جب اسے سوچتا اسے اپنی بے بسی پر بھی طیش آنے لگتا۔۔۔
ہر چیز بعد میں سب سے پہلے وہ اب اپنی ذات کے متعلق سوچنے لگا تھا۔۔۔ اسے اپنی ذات کی ان کمیوں کو دور کرنا تھا جسکی بنا پر کوئی شخص اس پر حقارت کی نگاہ ڈالتا یا طنز کرنے کے بارے میں سوچتا بھی۔۔۔
ظاہری شکل و صورت پر اختیار نہیں مگر اسنے خود کو پہچانتے خود پر اسقدر کام کیا تھا کے ایک روبدار شخصیت کے طور پر ابھرا تھا۔۔۔ اسکا پہننا اوڑھنا اٹھنا بیٹھنا اور بالخصوص بات کرنے کا سنجیدہ روبدار اور پروقار انداز ایسا ہوتا کے سامنے والا بولتے ہوئے بھی کئ بار سوچتا۔۔۔
نمبر دو۔۔۔ اسکا علم اگر محدود تھا تو اسنے کتابوں سے دوستی لگا لی تھی۔۔۔ جو کام ماہیر کی موجودگی نا کروا پائی وہ اسکی بے وفائی کر گئ تھی۔۔۔ اس بے وفا کے جانے کے بعد اور کام تھا ہی کیا۔۔ وہ فارغ وقت میں کتابیں پڑھتا۔۔۔
سیلف ڈویلپمنٹ کی کتابوں سے شروع ہونے والے اس سفر نے ان دو سالوں میں بے تحاشہ وسعت سمیٹی تھی وہ کئ مضمونوں پر کئ کتابیں پڑھ چکا تھا۔۔۔ جن دو خامیوں کی وجہ سے ماہیر اسے چھوڑ کر گئ تھی اسنے ان دونوں خامیوں کو خود سے کھڑچ کر پھینک ڈالا تھا۔۔۔ علم بڑھا تو کاروبار خودبخود آسمان کی وستعوں کو چھونے لگا۔۔۔ غرض ماہیر ایک ایسا بیریئر تھی جسکے ہوتے نا وہ اپنی ذات کے بارے میں سوچتا تھا نا ہی مزید کی جستجو کرتا۔۔۔ ہر سو صرف وہ ہی وہ تھی۔۔۔ احمر کی صبح اس سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی۔۔۔ ماہیر کی خوشیاں۔۔ اسکا کیریئر۔۔۔ اسکی کامیابی۔۔۔ احمر سلطان تو کہیں تھا ہی نہیں۔۔۔ اب وہ زندگی سے کیا نکلی دھند چھٹنے سے ہر منظر خودبخود واضح ہونے لگا۔۔۔ اور واضح ہوئے راستوں پر چلنا بھی اسکی بے وفائی نے آسان بنا ڈالا۔۔۔
ایک دوسرا کام جس نے اسے ناکوں چنے چبوا کر خون کے آنسو رلایا تھا ۔۔۔ وہ تھے احمر سلطان کے بچے۔۔۔ اسکے لخت جگر۔۔۔۔
اسے ایک لمبا عرصہ لگا ان بچوں کو نارمل کرنے میں۔۔۔ وہ سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے ماں کو تلاشتے۔۔۔۔ ہادی تو پھر چھے سال کا تھا۔۔۔ جبکہ فبیحہ تو محض تین سال کی تھی۔۔۔ وہ کئ کئ گھنٹے انکے ساتھ صرف کر کے انہیں بہلا پھسلا کر سلاتا وہ آدھی رات کو چیخیں مار کر اٹھتی ماں کو تلاش کرتی۔۔۔ رات میں وہ باپ کو بھی قبول نا کرتی۔۔۔ اسے ماں ہی چاہیے ہوتی۔۔۔ ماں نا ملنے پر اسے تپ تپا کر بخار چڑھ جاتا۔۔۔ وہ غنودگی میں ٹرپتی ماں کو پکارتی۔۔ ہادی بھی ماں کو ڈھونڈتا کملایا کملایا سا گھومتا۔۔۔ وہ بہت چپ چپ رہنے لگا۔۔۔ ہر وقت بوکھلایا گھبرایا سا۔۔ بچوں کی حالت دیکھ دیکھ سلطان کی ماہیر سے نفرت ہر گزرتے دن کیساتھ ساتھ بڑھتی جاتی۔۔۔
اسے عورت ذات سے ہی نفرت ہونے لگتی۔۔۔ اسکا بھائی اور بھابھی کئ مرتبہ اسے کراچی سے ملنے آئے اور بھابھی نے تو مخلص مشورہ بھی دیا کے دوسری شادی کرلو بچوں کو بھی ماں مل جائے گی۔۔۔ وہ محض طنزیہ ہسی ہس کر رہ جاتا۔۔۔ کے جب ان بچوں کی سگی ماں انکی نا ہو سکی تو سوتیلی ماں کہاں سے ماں بننے لگی۔۔۔ یہ صنف ہے ہی نہیں اعتبار کے قابل۔۔۔ یہ سلطان کی بھرپور توجہ اور بچوں کیساتھ بھرپور وقت گزاری کا نتیجہ ہی تھا کے ایک لمبے عرصے کے بعد ہی سہی مگر وہ انکے دماغ سے انکی بے وفا ماں کا عکس پوری طرح مٹا پانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔
******
عروب لاوئنج میں بیٹھی ایل ای ڈی پر مارنینگ شو دیکھ رہی تھی۔۔۔ صاف ستھرا سمٹا سمٹایا گھر نگاہوں کو بھلا لگ رہا تھا۔۔۔ فرش کی ٹائلز تک چمچا رہی تھیں۔۔۔۔۔ حمیدہ کچن میں موجود تھی جبکہ فری ابھی ابھی گھر کو ویکیوم کر کے ڈسٹنگ کے بعد منہ ہاتھ دھو کر اسکے پاس ہی لاوئنج میں آتی نیچے کارپٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔۔
اف ۔۔۔ گرمی اتنی ہوگئ ہے کے لگتا ہے جان ہی نکال دے گی۔۔۔ وہ صوفے سے ٹیگ لگاتی اسکی سیٹ پر پیچھے کو سر گرا گئ۔۔۔ یہاں سامنے سے سپلٹ کی سیدھی ٹھنڈی ہوا پڑتی تھی۔۔۔ اسے دیکھ عروب مسکرا دی۔۔۔ وہ سرخ گولڈن اور سبز امتزاج کے لان کے پرنٹڈ سوت میں ملبوس ڈھیلے سے انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔ دوپٹہ پھیلا کر لے رکھا تھا۔۔۔ گو کے یہ ابھی اسکے ابتدائی ماہ چل رہے تھے لیکن وہ پھر بھی اپنے سراپے میں رونما ہوتی تبدیلیوں کو اچھے سے چھپا کر رکھتی۔۔۔ بالوں کی سادہ سی چٹیا بنا رکھی تھی۔۔۔ دھلا دھلایا چہرا ہر قسم کی آرائش سے پاک تھا۔۔۔
فالسے کا شربت بنا لاو فری۔۔۔ خود بھی پیو اور مجھے بھی پلاو۔۔۔ گرمی تو واقعی بہت ہو گئ ہے۔۔۔ اسنے بے دریغ فری کی تائید کی۔۔۔ گرمی کے موسم میں طبیعت مزید بوجھل ہو جاتی۔۔۔
ہاں یہ بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔۔۔ ابھی بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ وہ چٹکی بجاتی سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی جیسے اسے عروب کی بات بہت پسند آئی ہو۔۔۔
اچھا سنو ۔۔۔۔ میٹھا کم ڈالنا زرا۔۔۔ وہ پیچھے سے ہانک لگا کر بولی۔۔۔
جی۔۔۔جی پتہ ہے مجھے آپ کم میٹھا پیتی ہیں۔۔۔ وہ اوپن کچن میں کھڑی فریج سے فالسہ نکالتی مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ فالسے کا جگ اور دو گلاس ٹرے میں رکھے کچن سے نکلی اپنے گلاس میں وہ مزید میٹھا ڈال لائی تھی۔۔۔ وہ عروب کی طرح پھیکا شربت نہیں پی سکتی تھی۔۔۔
حمیدہ خالہ بچوں کے لئے دوپہر میں سپیگٹی بنانی ہے صبح کہہ کر گئے تھے۔۔۔ فری نے ٹرے لا کر اسکے سامنے میز پر رکھی تو وہ جگ سے شربت گلاس میں انڈیلتی خالہ سے مخاطب ہوئی۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔ کچن سمیٹ کر تیاری شروع کرتی ہوں۔۔۔
اپنا گلاس تھامے فری کارپٹ پر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھتی شربت پینے لگی۔۔۔ یہ اسکی فیورٹ جگہ تھی۔۔۔ بقول اسکے وہ صوفے کی نسبت یہاں زیادہ کمفرٹیبل ہو کر بیٹھتی تھی۔۔۔۔
دفعتا اسکے موبائل کی ٹیون بجی تو فری شربت پیتی اچھل کر سیدھی ہوئی۔۔۔ سرعت سے ٹیبل پر پڑا موبائل تھاما اور نمبر دیکھتے ہی اسکے چہرے پر اتنے خوبصورت رنگوں نے بسیرا کیا کے عروب دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
وہ شربت کا گلاس وہیں ٹیبل پر رکھتی فون اٹھا کر کان سے لگا گئ۔۔۔ اسکے چہرے پر پھیلے حیا کے رنگ دیکھ کر ہی عروب سمجھ گئ کے فون اسکے شوہر کا ہے۔۔۔۔۔ تین ماہ پہلے ہی اسکا اسکے پھوپھو زاد کزن سے نکاح ہوا تھا۔۔۔
وہ اکثر و بیشتر فری کو اپنے شوہر سے بات کرتا دیکھ چکی تھی۔۔۔ ان کے پاس کرنے کو باتوں کا ایک خزانہ موجود تھا جو ختم ہوتا ہی نا۔۔۔ کئ بار تو عروب بھی چڑ کر اسے کہہ دیتی کے تم لوگوں کی ایسی کونسی باتیں ہیں فری جو ختم ہوتی ہی نہیں۔۔۔ وہ آگے سے مسکرا کر سر جھکا دیتی۔۔۔ پہلے پہل وہ فون لئے ایک کونے میں گھس جاتی لیکن اب کچھ عرصے سے وہ عروب کے پاس بیٹھی ہی دھیمی آواز میں باتیں کرنے لگتی۔۔۔ فیوچر پلانینگ۔۔۔ گھر کی سیٹنگ۔۔۔ ہنی مون کے لئے جگہیں۔۔۔ انکے پاس کرنے کو ان گنت باتیں ہوتیں۔۔۔ اور ہر دو منٹ بعد فری کے چہرے پر پھیلتی سرخی۔۔۔ اور شرم و حیا سے دہری ہوتی پلکوں کا لرزنا جھکنا۔۔۔ یہ سب عروب کے لئے نیا تھا۔۔۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو اسنے اپنی ازواجی زندگی کے بعد بھی نہیں دیکھی تھیں۔۔۔
پہلے تو نہیں لیکن اب فری کو دیکھتے دل خودبخود موازنوں پر اتر آتا۔۔۔
اسکی زندگی میں ان قیمتی لمحات کی کمی تھی۔۔۔ جسکا احساس لاشعوری طور پر ہی سہی مگر فری نے اسے شدت سے کروایا تھا۔۔۔
ہر لڑکی کی طرح اسکے دل میں بھی ڈھیروں ڈھیر امنگیں جنم لینے لگی تھیں۔۔۔ جن سے وہ اب تک صرف نظر تھی۔۔۔
یہ میں کیا کر رہی ہوں۔۔ کیوں میں اپنا موازنہ کر رہی ہوں۔۔۔ سوچوں کے گرداب میں پھنسے وہ چونک اٹھتی۔۔۔ کیا میں اپنی زندگی میں خوش نہیں۔۔۔ اندر سے کوئی پوچھتا۔۔۔
ہوں۔۔۔ میں بہت خوش ہوں۔۔۔ مجھے کسی چیز کی کمی نہیں۔۔۔ میرے بچے ہیں۔۔۔ گھر ہے۔۔۔ اور شوہر ہے۔۔۔ لیکن یہاں آ کر دل زرا بیٹھ جاتا۔۔۔
اب بھی میں خوش نہیں تو ناشکری کہلاوں گی۔۔۔ مانا کے شوہر چاہنے والا نہیں مگر وہ قدردان ہے۔۔۔ اسے میری پرواہ ہے۔۔۔ بھلے ہی انکی پرواہ کے طریقے الگ ہوں پر۔۔۔ اندر سے مشرقی بیوی تن کر اسکے سامنے کھڑی ہو جاتی۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں کے گرداب میں الجھ الجھ جاتی۔۔۔ باقی سب تو ٹھیک ہے مگر سلطان میرے ساتھ وقت نہیں گزارتے۔۔۔ میری زیست کی کتاب میں کوئی ورق بھی ایسا نہیں جس میں میرے اور سلطان کے قیمتی لمحات رقم ہوں اور جسے میں اپنے اور سلطان کے کوالٹی ٹائم کے نام سے یاد رکھ سکوں ۔۔۔ اسے کبھی یہ چیزیں اتنی محسوس نا ہوتیں جو وہ فری کا طرز زندگی نا دیکھتی۔۔
وہ کئ دنوں سے بالخصوص سلطان کی ایک ایک چیز نوٹ کرنے لگی تھی۔۔۔ اسکی روٹین تو وہی تھی لیکن اب شاید وہ زیادہ محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔ حسب معمول وہ گھر آنے کے بعد فریش ہو کر ڈنر کرنے نیچے آیا تو عروب ٹیبل سیٹ کر چکی تھی۔۔۔ اس وقت حمیدہ خالہ اور فری جا چکی ہوتیں۔۔۔ اس لئے اس وقت کے چھوٹے موٹے کام وہ خود ہی نبٹا لیتی۔۔۔
سلطان ڈنر کرنے کے بعد وہیں لاوئنج میں بیٹھ کر بچوں کے ساتھ ایک کامیڈی شو دیکھنے لگا۔۔۔ فبیحہ باپ کی بازو سے چپکی بیٹھی تھی جبکہ ہادی نیچے کارپٹ پر اپنی کتابیں بکھڑائے اپنا ٹیسٹ تیار کر رہا تھا۔۔۔ بیچ بیچ میں وہ عروب سے بھی مدد لے لیتا۔۔۔ سلطان بچوں سے چھوٹی موٹی باتیں کرتا اس سے بھی دن کا حال احوال پوچھ رہا تھا۔۔۔ پہلے وہ اتنے میں ہی خوش تھی لیکن اب اسے وہ سب بہت فارمل لگنے لگا تھا۔۔۔ جیسے وہ بس اپنی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر بعد فبیحہ کو نیند آنے لگی اور ہادی بھی اپنا کام مکمل کر چکا تو سلطان بھی ایل ای ڈی آف کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اور حسب معمول اپنی سٹڈی میں چلا گیا۔۔عروب فبیحہ کو سلاتے ہوئے بھی خاصی الجھی ہوئی تھی۔۔۔ بلآخر فبیحہ کو سلا کر اپنے کمرے میں آنے تک وہ ایک فیصلہ کر چکی تھی۔۔۔ اگر سلطان نے اپنے گرد ایک خول چڑھا رکھا تھا اور وہ اس خول سے نکلنے کو تیار نا تھا تو اسے خود سے آگے بڑھتے اس خول کو چٹخا کر توڑنا تھا۔۔۔ یہ ناممکن نا تھا۔۔۔ وہ بیوی تھی اور اس پر ہر طرح کا حق رکھتی تھی۔۔۔ البتہ یہ مشکل ضرور تھا۔۔۔ لیکن اسے اپنی خوشگوار ازواجی زندگی کے لئے ہمت تو پکڑنی ہی تھی۔۔۔
*******
دوبارہ ماہیر کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ہاسٹل کے کمرے میں پایا۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی پے در پے آنسو لڑیوں کی مانند آنکھوں سے پھسلتے کنپتیوں میں جذب ہونے لگے ۔۔۔۔ کیا بچا تھا اسکے پاس۔۔۔ سب کچھ ہی تو ہاتھ سے سوکھی ریت کی مانند پھسل گیا تھا۔۔۔ اسکا اس دنیا میں آخری سہارا۔۔۔ اسکی ماں۔۔۔ ماں کی یاد آتے ہی ایک سسکی اسکے لبوں سے برآمد ہوئی۔۔۔ ماں کا بے جان کفن میں لپٹا چہرا نگاہوں کے سامنے آیا تو گویا دل چھلنی چھلنی ہو گیا۔۔۔
لوگ کہتے تھے اسکی بیٹی نے ماں کو قبر کی مٹی سے ملا دیا اور اسکا دل پھٹ جاتا۔۔۔ ۔۔ ایک خواہش کرتے ہوئے اسکے اتنے بھیانک نتائج کا تو سوچا ہی نا تھا۔۔۔
ماں چلی گئ۔۔۔ اور ماں کے جانے کیساتھ ہی ماں کی ممتا کا ٹھنڈا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔۔۔ گویا وہ تپتے ریگستان میں برہنہ پاوں کسی لٹے پٹے مسافر کی طرح تنہا رہ گئ۔۔۔۔
ماں کے جاتے ہی مالک مکان نےان کو دی گئ عنایت بھی چھین لی۔۔۔ آخری سہارا سر پر موجود چھت بھی جاتی رہی تو وہ صحیح معنوں میں چکرا گئ۔۔۔
اس وقت جب اپنے بھی منہ موڑ گئے تب ایک مرتبہ پھر سے مصباح نے دوستی کا حق ادا کیا۔۔۔ اب بھی اگر اتنے ناگزیر حالات کے بعد بھی وہ ہوش کی دنیا میں قدم رکھ چکی تھی تو یہ اسی کی مرہوں منت تھی۔۔۔ اب آخری ٹھکانہ ہاسٹل کی یہ چھت ہی بچتی تھی۔۔۔ دفعتاً مصباح کو اندر داخل ہوتے دیکھ وہ سرعت سے اپنے آنسو پونچھ گئ۔۔۔ ارے شکر ہے تمہیں ہوش آ گیا۔۔۔ وہ دور سے ہی اسے ہوش میں آتا دیکھ مسکراتی ہوئی اسکی جانب بڑھی جبکہ وہ کرب سے آنکھیں میچ گئ۔۔۔
*****
اجازت ملنے پر مصباح اس پرتعیش آفس کا دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی۔۔۔ سامنے کرسی پر براجمان شخص کو دیکھ کر ایک پل کو تو وہ بھی ٹھٹھکی۔۔۔ وہ شخص تھا ہی اتنا مکمل کے کسی کو بھی اپنے سحر میں جھکڑ لیتا۔۔۔ آگر ماہیر اظہر جیسی سوجھ بوجھ رکھنے والی لڑکی اس پر دل ہاری تھی تو اس میں واقعی ایسا کچھ تھا کے اس پر دل ہارا جاتا۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔۔۔۔اریز اس اجنبی لڑکی کو یوں یک ٹک خود کو تکتا پا گویا ہوا۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آتی سلام کر کے کرسی کھینچ کر اسکے مقابل بیٹھی۔۔۔
میرا نام مصباح ہے اور میں ماہیر کی دوست ہوں۔۔۔ اسکے سنجیدگی سے تعارف کروانے پر اریز چونکا۔۔۔
جی بتائیے میں آپکی کیا مدد کر سکتا ہوں۔۔۔ وہ سمبھل کر گویا ہوا۔۔۔
آپکی وجہ سے میری دوست ماہیر کا گھر اجڑ گیا۔۔ اسکے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔۔۔
مصباح کے غصے سے گویا ہونے پر وہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔
کیااااا۔۔۔ طلاق۔۔۔ الفاظ جیسے کہیں کھونے لگے تھے۔۔۔۔۔۔ وہ حقیقتاً پریشان ہو اٹھا ۔۔۔۔۔۔
جی ۔۔۔ اور یہ سب صرف آپکی وجہ۔۔۔
ایک۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ پلیز۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ بولتی اریز بے ساختہ اسے ٹوک گیا۔۔۔
میری وجہ سے کیسے۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے۔۔۔ دیکھیں آپ مجھے بلیم نہیں دے سکتیں۔۔۔ میری ایسی کوئی کمٹمنٹ ماہیر کے ساتھ نہیں تھی اور۔۔۔
وہ لبوں پر زبان پھیرتے پریشانی سے کلیئر کر رہا تھا تھا۔۔۔ جب مصباح طیش سے میز پر ہاتھ مارتی چٹخ اٹھی۔۔۔
مسٹر اریز احمد۔۔۔۔ آپکی وجہ سے ایک لڑکی کا گھر اجڑ گیا۔۔۔ اسکے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔۔۔ اسکی ماں یہ صدمہ نا سہتے اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔۔۔ اس لڑکی کا نروس بریک ڈاون ہو گیا۔۔۔ وہ لڑکی ہاسٹلوں میں دھکے کھا رہی ہے۔۔ اور آپ کتنی آسانی سے کہہ رہے ہیں کے آپکی اسکے ساتھ کوئی کمٹمنٹ نا تھی۔۔۔ اشتعال سے مصباح کی سانسیں پھولنے لگیں تھیں۔۔۔
وہ لب بھینچ گیا۔۔۔ ارے تف ہے آپ جیسے میچور شخص پر۔۔۔ آپکی جگہ کوئی لاابالی ٹین ایجر ہوتا نا تو شاید اتنا دکھ نا ہوتا۔۔۔ مگر واقعی آج کل کی محبتیں ایسی ہی ہیں پانی پر بلبلے کے جیسی۔۔۔۔ وہ شعلے اگلتی نگاہوں سے کہتی تن فن کرتی وہاں سے نکلتی چلی آئی جبکہ پیچھے اریز پریشانی سے سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔
*******

No comments