Header Ads

Mera Aashiyana novel 17th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 17th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

سترہویں قسط۔۔۔۔
واپسی کا سفر کافی خوشگوار تھا۔۔۔ سلطان کے سنگ واپس گھر آتے وہ مطمیں تھی۔۔۔ سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے اسکے چہرے پر سکون و اطمیئنان تھا۔۔۔
ڈاکٹر کے ساتھ اندر کیبن میں جاتے اسکا دل ڈر رہا تھا۔۔۔ اور یہ ڈر تب تک قائم رہا جب تک وہ ریگولر چیک آپ کے بعد واپس سلطان کے پاس نا آگی۔۔۔
اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کے وہ شخص اسکے لئے اپنی ضد چھوڑ چکا تھا۔۔۔
ڈاکٹر واپس آ کر اسے پرسکرپشن لکھ کر دینے کے ساتھ ساتھ بہت سی ہدایات بھی کر رہی تھی لیکن وہ منتشر دماغ کیساتھ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی جبکہ سلطان سب اچھے سے سن رہا تھا۔۔۔ واپسی پر ہسپتال سے نکلتے وہ فارمیسی سے اسکی میڈیسن بھی لے چکا تھا۔۔۔۔
آج ایک ماں کی جیت ہوئی تھی۔۔۔ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی نا تھک رہی تھی جس نے اسکے شوہر کے دل میں اسکے لئے رحم اور اپنی اولاد کے لئے محبت ڈال دی۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔۔۔
سارا دن وہ جس قدر فریسٹریشن اور ذہنی دباو کا شکار رہی تھی وہ ساری کلفت  سلطان کے ایک عمل سے جاتی رہی تھی۔۔۔ اسنے سر گھماتے مسکراتی  سے اسے دیکھا جو ہر چیز سے بے نیاز سامنے دیکھتا سنجیدگی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔
مضبوط ہاتھ سٹرینگ پر ڈھرے تھے۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے سٹرنگ پر دھرا سلطان کا ہاتھ اٹھایا۔۔۔
وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ جو اسکا ہاتھ تھامے لبوں سے لگانے کے بعد اسے عقیدت سے اپنی آنکھوں سے لگا رہی تھی۔۔۔
سلطان جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔ اسقدر دیوانگی۔۔۔۔ یا پھر یہ بھی کوئی ٹریپ تھا۔۔۔ وہ لب بھینچ گیا۔۔۔۔ دل اس معصوم چہرے کی معصومیت پر ایمان لانے کو کہتا مگر دماغ ہر بار ہی طرح طرح کے بیریئر سامنے لگا دیتا۔۔۔ 
معصوم چہرے سے ماضی کے ایسے ایسے تلخ واقعات جڑے تھے کے وہ اعتبار سے ڈرتا تھا۔۔۔
اعتبار اور مان کے کرچی کرچی ہونے کے ڈر سے خوفزدہ تھا۔۔۔
میرے مان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے آپکا بہت بہت شکریہ سلطان۔۔۔ ہمارے بے بی کو قبول کرنے کے لئے آپکا شکریہ۔۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں تشکرانہ گویا ہوئی۔۔۔۔
سلطان نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے نگاہیں پھیریں۔۔۔ اس لڑکی کو زبردستی دل میں گھسنے کی بیماری تھی۔۔۔ وہ اپنے دل کو اسکے لئے بدلتا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔لیکن یہ قبول کرنا اسکے لئے مشکل تھا وہ ماضی کی  غلطی پھر سے  دہرا نہیں سکتا تھا۔۔۔
لیکن اس معاملے میں وہ اسکے سامنے ہار گیا تھا۔۔۔ اب بھی اگر ایک ماں کی اپنے بچے کے لئے بقا کی جنگ لڑنے کی کاوشوں اور مستقل مزاجی کے سامنے گھٹنے نا ٹیکتا تو اپنی نگاہوں میں ہی گنہگار ٹھہرتا۔۔۔ بس وہ دعا گو ہی تھا کے یہ ماں سدا اپنے بچے کے حق میں ایسی ہی رہے۔۔۔
بچے کہاں ہیں سلطان۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اسنے سب سے پہلے بچوں کے بارے میں ہی استفسار کیا تھا۔۔۔ سلطان اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ پتہ نہیں اب یہ دکھاوا تھا یا واقعی وہ بچوں کے ساتھ جذباتی طور پر وابسطہ ہو چکی تھی۔۔۔
سو چکے ہیں وہ۔۔۔ صبح مل لینا۔۔۔ گہری سانس خارج کرتا وہ کچن میں چلا گیا کچھ ہی دیر بعد وہ ہاتھ میں دودھ کا گلاس لئے واپس اسکے پاس آیا۔۔۔
لو پہلے میدیسن کھا لو پھر کمرے میں جا کر آرام کرنا۔۔۔ وہ لاوئنج میں صوفے پر بیٹھی اپنا سر سہلا رہی تھی جب اسنے واپس آتے دودھ کا گلاس اسکی جانب بڑھاتے گولیاں نکل کر اسے دی۔۔۔
وہ چپ چاپ خاموشی سے اسے دیکھتی گولیاں نگل گئ۔۔۔ اسے اس سنجیدہ شخص کی کیئر کا یہ انداز بھی دل سے قبول تھا۔۔۔۔
*****
آج دو دن بعد احمر کہیں گیا تھا۔۔۔ وہ پچھلے دو دنوں میں بہت کم گھر سے نکلا تھا۔۔۔ ماہیر کی وہ صورت دیکھنے کا روادار نا تھا۔۔۔ انکا رشتہ آخری نہج پر جا پہنچا تھا۔۔۔ وہ اسے کھلے الفاظ میں وارن کر چکا تھا کے اسے یہ ایک موقع اسنے اپنے بچوں کی خاطر دیا ہے کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کے جب گھر ٹوٹتے ہیں تو نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔۔۔ بروکن فیملز کے بچوں کی زندگی میں رہ جانے والے خلا عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتے جاتے ہیں ۔۔۔ 
پچھلے دو دنوں سے ہی ماہیر شدید ذہنی دباو کا شکار تھی۔۔۔ طبیعت بہت حد تک بگڑ چکی تھی لیکن اسے ہتھیلی کا چھالہ بنا کر گھومنے والا شخص ۔۔۔ اسکی زرا برابر چوٹ پر تڑپ اٹھنے والا شخص اب اسکے وجود سے ہی منکر ہو گیا تھا۔۔۔ شاید وہ اسے دکھائی ہی نا دیتی۔۔۔ یا شاید وہ اسے دیکھنا ہی نا چاہتا تھا۔۔۔ ایک ساتھ ایک گھر میں رہتے ہوئے وہ صرف اسے نظر انداز ہی کر سکتا تھا اور وہ کمال نظر انداز کر رہا تھا۔۔۔ جیسے اسکے وجود سے اسے کوئی غرض ہی نا ہو۔۔۔
شاید وقت کے ساتھ ساتھ ماہیر اپنے خلوص سے اس خلیج کو پاٹنے میں کامیاب ہو جاتی۔۔۔ مگر فلحال تو یہ ناممکن تھا۔۔۔۔
احمر کی بے رخی و نظر اندازی ماہیر کا دل چیرتی۔۔۔ اسنے ان نگاہوں میں محض اپنے لئے محبت دیکھی تھی۔۔۔ ان نگاہوں سے نکلتے آگ کے شعلے اسکا وجود جھلسانے لگتے۔۔۔۔
اب بھی وہ احمر کے گھر سے جانے کے بعد کچھ سوچتی گھر سے نکلی۔۔۔ ہینڈ بیگ چیک کرتے اسنے کچھ ٹٹولا  اور گاڑی نکالتی انجانے راستوں پر گامزن ہوگئ۔۔۔ بیگ سے کارڈ نکال کر دیکھا اور گاڑی کو عین مطلوبہ منزل کے سامنے روکا۔۔۔
مجھے اسسٹنٹ کمشنر اریز احمد سے ملنا ہے۔۔۔ وہ اسکے آفس کی عمارت میں آتی اہلکار سے مخاطب ہوئی۔۔۔
کیا آپکے پاس اپائنمٹ لیٹر ہے۔۔۔۔ وہ پیشہ ورانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
نہیں لیکن آپ ان سے کہیں کے ماہیر احمر آئی ہے۔۔۔ ہزاروں کے مجمے میں اعتماد سے بولنے والی زندگی کے اس مقام پر بے طرح کنفوز ہو رہی تھی۔۔۔۔
کبھی ہاتھ سے چہرا تھپتھپاتی تو کبھی ماتھا مسلتی۔۔۔ 
یس میم آپ اندر جا سکتی ہیں۔۔۔ دفعتاً اہلکار کے کہنے پر وہ سیدھی ہوئی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے کیبن کی جانب بڑھی۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کے نامحرم سے تنہائی کی ملاقاتیں کہاں لا پٹختی ہیں۔۔۔
*******
اپنے آفس میں بیٹھا اریز احمد ماہیر احمر کا نام سن کر ساکت رہ گیا تھا۔۔۔ اسنے کارڈ فون کے لئے دیا تھا۔۔ نہیں جانتا تھا کے وہ آفس میں ہی چلی آئے گی۔۔۔ 
اور وہ یہاں آئی کیوں تھی۔۔۔ اسے باتیں سنانے یا لعن طعن کرنے اریز نے بے طرح اپنا ماتھا مسلا۔۔۔ وہ آفس میں کوئی تماشا آفورڈ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ لیکن وہ یہاں تک آ چکی اس لڑکی کو واپس بھی نہیں بھیج سکتا تھا۔۔۔ کرسی کی پشت سے کمر ٹکائے کرسی کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہاتھ کی مٹھی منہ پر رکھے وہ پریشان حال سا بیٹھا تھا جب وہ جھکی نظروں سمیٹ اندر داخل ہوئی۔۔۔ وہ سرعت سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔۔
اریز نے اسے غور سے دیکھا ۔۔۔ سنجیدہ چہرا اور ماتھے پر مدہم ہو چکا جلنے کا نشان۔۔۔ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
بیٹھیے میم۔۔۔ بتائیں میں آپکی کیا مدد کر سکتا ہوں۔۔۔ وہ مہذب انداز میں گویا ہوا تو ماہیر اسے تکتی اپنی نشست سمبھال گئ۔۔۔
آپکو نہیں لگتا کے آپ اس سے زیادہ ڈیزرو کرتی ہیں۔۔۔ اس سے کچھ بہت زیادہ۔۔۔ آسمانوں کی وسعتوں کو چھوتا ہوا کچھ اپنے ٹاکڑے کا ۔۔۔ کچھ میری طرح۔۔۔
اس جملے نے پچھلے نو ماہ سے مجھے اپنی گرفت میں جھکڑ لیا ہے اریز۔۔۔ میں چاہ کر بھی اس سے اپنا آپ چِھڑا نہیں سکتی۔۔۔۔ وہ اسکا خوبرو چہرا دیکھتی کسی ٹرانس کی کیفیت میں گویا ہوئی۔۔۔۔
وہ ٹھٹھکا۔۔۔۔ 
میں اتنا ذہین دماغ رکھنے کے باوجود بھی تمہیں اپنے دماغ سے نکال نہیں پارہی یاداشت سے مٹا نہیں پا رہی۔۔۔ یہ میری بدقسمتی ہے اریز کے میں زندگی کے ہر معاملے میں بے بس ہوتی جا رہی ہوں۔۔۔ سب کچھ میرے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل رہا ہے اور میں کچھ کر نہیں پا رہی۔۔۔
وہ اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھتی سسک اٹھی۔۔۔ 
میم پلیز۔۔۔ یہ مت کریں آپ۔۔۔ حوصلہ تو رکھیں۔۔۔ وہ بوکھلا کر گویا ہوا۔۔۔ 
یہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔۔۔ اس چیز کا تو اسنے گمان بھی نا کیا تھا۔۔۔ یہ زندگی اسے کس نہج پر لے آئی تھی۔۔۔ بالوں میں ہاتھ چلاتے اسنے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
میرے بچے ہیں اریز۔۔۔ میرا گھر داو پر لگ چکا ہے۔۔۔ سب کچھ تباہ ہو رہا ہے مگر میرا دل۔۔۔۔ وہ فقرا ادھورا چھوڑتی سسک اٹھی۔۔۔
میم بچے خدا کی ایک بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔۔۔ اور آپ خوش قسمت ہیں میم کے اللہ نے آپکو یہ نعمت عطا کی۔۔۔ اور میں کبھی نہیں چاہوں گا کے آپکا گھر برباد ہو۔۔۔ آپ صدا اپنے گھر میں آباد رہیں۔۔۔۔ اور۔۔۔
وہ ابھی بول رہا تھا جب اسکے آفس کے باہر یکدم ہی شور بلند ہوا۔۔۔ وہ چونک کر اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔ ماہیر بھی اس جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ یکدم دروازہ ڈھار سے کھلا اور اور دو اہلکاروں کی گرفت میں جھکڑا احمر غصے سے لال بھبھوکا چہرا لئے پھڑپھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
اسے دیکھتے ہی ماہیر کا رنگ فق ہوگیا۔۔
تم گھٹیا عورت۔۔۔ موقع ملتے ہی نکل آئی اپنے یار سے ملنے۔۔۔ وہ جھٹپٹا کر ان اہلکاروں کی گرفت سے نکلتا جارحانہ ماہیر کی طرف بڑھا اور اسے کھینچ کر اپنے سامنے کرتا ایک زور دار تھپڑ اسکی گال پر رسید کیا۔۔۔ تھپڑ کی شدت سے اسکا دماغ تک سنسنا اٹھا۔۔ لیکن اس تکلیف سے زیادہ سبکی اریز کے سامنے رسوا ہونے کی تھی۔۔۔
دیکھیں آپ۔۔۔ اریز اسقدر ناروا سلوک پر بونچکا ہوتا تڑپ کر دو قدم آگے بڑھا۔۔۔
دیکھ لونگا میں تمہیں بھی ۔۔۔ وہ خونخوار انداز میں انگلی اٹھا کر اسے وارن کرنا ماہیر کو گھسیٹتا ہوا ساتھ لے گیا۔۔۔
اریز وہیں بے دم ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔
وہ کسی عام پوسٹ پر نا تھا۔۔۔ اور کیریئر کے اس نازک مقام پر اس آفس میں لگنے والا لائیو ڈرامہ۔اسکے کیرئر کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا تھا۔۔۔۔ یہاں ہوئی زرا سی بات کی بھنک جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی۔۔۔ وہ ماتھا مسلتا مسلسل سوچ رہا تھا۔۔۔
******
عروب اپنے سبھی کام حسب معمول سر انجام دینے کی کوشیش کرتی۔۔۔ گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کو ٹائم دینا اور بالخصوص انہیں پڑھانا بھی اسنے خود ہی شروع کر دیا تھا۔۔۔ بچے بھی اس سے بہت گھل مل گئے تھے۔۔۔ لیکن وہ شدت سے اپنی دن با دن گرتی حالت کو نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ عجیب مکدر سی حالت تھی ۔۔۔ کسی کام کو کرنے کو دل نا چاہتا۔۔ کرنے بھی لگتی تو تھوڑا سا کام کر کے ہانپ جاتی۔۔۔ سارا دن سوتی رہتی۔۔۔ اور بھرپور نیند لے کر اٹھنے پر بھی وہ فریش نا ہوتی۔۔۔ معمولات زندگی ڈسٹرب ہونے لگے تھے۔۔۔
سلطان وہ شوہر نا تھا جو اسکے ناز نخرے اٹھاتا۔۔ وہ جتنی نرمی اسکے لئے دکھا رہا تھا عروب کے لئے وہی غنیمت تھی۔۔۔ اسنے سلطان سے بہت سی امیدیں وابسطہ نہیں کر رکھی تھی۔۔۔ وہ اپنے حال میں راضی تھی۔۔۔ نا اس سے کسی چیز کا شکوہ کرتی نا ہی فرمائش۔۔۔ ہاں بہت دل چاہتا تو فرمائش کر بھی ڈالتی اور وہ چپ چاپ بنا دوسری بات کئے وہ کام کر بھی دیتا۔۔۔ لیکن اس معاملے میں وہ اس سے بات کرتے ہوئے بھی جھجھک رہی تھی۔۔۔
وہ جتنا صاف گو تھا سیدھے سے کہہ دیتا کے بچے کی آر میں ہوگئے شروع ڈرامے تمہارے۔۔۔ وہ ناجانے اسکی باتوں کو کیا رنگ دیتا۔۔۔ وہ دل مسوس کر رہ گئ۔۔۔
اکثر ہی امور خانہ ڈسٹرب ہونے لگے۔۔۔ کبھی وہ سلطان کے کپڑے پریس کرنا بھول جاتی اور کبھی بچوں کو بے دلی سے پڑھا رہی ہوتی۔۔۔ گھر کی صفائی تو وہ روز کرنا بھول ہی گئ تھی۔۔۔ جب گھر زیادہ گندا لگتا تو جوش میں آکر اسے نکھارنے لگ جاتی۔۔  سلطان جیسے صفائی پسند اور نفاست پسند شخص کی طبیعت پر یہ چیز بھی گراں گزرتی لیکن خیر رہی ابھی تک وہ ان سب معاملات میں خاموش تھا۔۔۔ اور آج تو حد ہی ہوگئ۔۔۔ بچوں کا ناشتہ بنا کر وہ کمرے میں ائی تو سلطان کو خود اپنے کپڑے استری کرتے دیکھ اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔۔ مطلوبہ وقت پر کپڑے نا ملنے پر وہ غصہ دکھانے کی بجائے خاموشی سے خود کپڑے استری کرنے لگا تھا ۔۔ جہاں یہ بات اسکے لئے قابل اطمینان تھی وہیں اسے پشیمانی بھی ہو رہی تھی۔۔۔
ایک واحد کھانا پکانے کا کام تھا جو وہ ہر صورت ذمہ داری سمجھ کر کرتی۔۔۔ دل چاہتا یا نا چاہتا۔۔۔ طبیعت مانتی یا نا مانتی۔۔۔ لیکن وہ بچوں کے آنے سے پہلے لنچ تیار رکھتی۔۔۔ تینوں وقت کا کھانا اپنے وقت پر بنتا۔۔۔ باقی وہ ہر کام میں ڈنڈی مارنے لگی تھی۔۔۔
اب بھی وہ کوفت زدہ سی صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔  صبح سے طبیعت ٹھیک نا تھی۔۔۔ صبح بچوں کو سکول بھیج کر وہ وہیں لاوئنج میں صوفے پر بیٹھ گئ پھر آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں تو وہیں نیم دراز ہو کر سو گئ۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی آنکھ کھلی تھی اور اب بھی طبیعت فریش نہیں تھی۔۔۔ سر چکرا رہا تھا۔۔۔ بچے واپس آنے میں محض آدھا گھنٹہ ہی باقی تھا جبکہ اسنے کھانا بنانا تو دور ابھی تک ڈائینینگ ٹیبل سے صبح کے برتن تک نا اٹھائے تھے۔۔۔ کچن بھی سارا بکھرا پڑا تھا۔۔۔ وقت کی کمی کا احساس کرتے اور بکھرے گھر کو دیکھ کر اس پر عجیب بیزاری اور کوفت سی سوار ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکا دل چاہا کاش اسکے پاس کوئی جادو کی جھری ہو اور وہ اسے گھما کر ہر کام فکس کردے۔۔۔
دفعتاً سلطان کو بے وقت گھر آتے دیکھ۔۔۔ درحقیقت اسقدر بکھرے گھر میں آتے دیکھ اسے شرمندگی نے آ گھیرا۔۔۔ سلطان نے ایک تفصیلی نگاہ گھر پر ڈالی اور اسے دیکھتا اس تک ہی آ گیا۔۔ 
طبیعت ٹھیک ہے تمہاری۔۔۔ وہ فکر مندی سے گویا ہوا۔۔۔ عروب نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ بچے آنے والے ہیں اور میں نے ابھی تک کھانا نہیں بنایا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں کھانا میں باہر سے لے آوں گا۔۔۔ تم بتاو تمہیں کچھ چاہیے۔۔۔ مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ وہ اسکی بے زار سی صورت دیکھ فکر مند سا گویا ہوا۔۔۔
جی۔۔۔ دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔ شیک بنانے کے لئے جانے والی تھی لیکن ہمت ہی نہیں ہو رہی۔۔۔ وہ ڈھیلی پڑتی واپس صوفے پر نیم دراز ہو گئ۔۔۔
سلطان اسکی بات سن کر کچن میں آگیا۔۔۔ وہ بھول بیٹھا تھا کے ابھی وہ گھر سے ایک ضروری فائل لینے آیا ہے۔۔۔ 
عروب حیرت سے اسے فریج سے آم نکال کر  مہارت سے کاٹ کر جوسر میں ڈالتا دیکھتی رہی۔۔۔
کیا یہ کھڑوس شخص کچن میں کام بھی کر سکتا ہے۔۔ وہ حیرت زدہ تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ٹرے میں مینگو شیک کا جگ اور گلاس لئے اسکے پاس آیا۔۔۔ اسکے سامنے بیٹھ کر اسے شیک گلاس میں انڈیل کر دیا۔۔۔
عروب اسے تشکرانہ دیکھتی ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر گئ۔۔۔ ٹھنڈا شیک اندر جاتے ہی ٹھنڈ پر گئ تھی۔۔۔ گلاس سیدھا کرتے ہی سلطان نے گلاس دوبارہ بھر دیا۔۔۔
بس اور نہیں۔۔ تیسری دفعہ اسے گلاس بھرتا دیکھ وہ ٹوک گئ۔۔۔
ٹھیک ہے یہ فریج میں رکھ رہا ہوں۔۔۔ دوبارہ دل چاہا تو پی لینا۔۔۔ وہ ٹرے اٹھاتا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
اور ہاں بات کی ہے میں نے ایک دوست سے۔۔۔ کل تک ہیلپر آ جائے گی۔۔۔گھر وہ سمبھال لے گی تو تمہیں آسانی رہے گی۔۔۔۔ سرعت سے ڈائینینگ ٹیبل سے برتن اٹھا کر کچن سنک میں رکھتا وہ گویا ہوا۔۔۔
آج وہ شخص اسے جھٹکے پر جھٹکا دے رہا تھا۔۔۔۔۔ یعنی کے جو بات وہ لبوں سے بول نا پائی ۔۔۔ وہ شخص محسوس کر چکا تھا۔۔۔ ناجانے اس شخص کے کتنے روپ تھے۔۔۔
اب وہ کچن کا پھیلاوا سمیٹ رہا تھا۔۔۔ انکے درمیان کچھ اور ہو نا ہو۔۔۔ مگر خاموش احساس کا ایک رشتہ ضرور بن گیا تھا۔۔۔وہ لڑکی پہلی دفعہ تخلیق کے مراحل سے گزر رہی تھی ۔۔۔ لیکن اسکے پہلے سے دو بچے تھے۔۔۔ اس وقت کی نزاکت اور باریکیوں وہ خوب آگاہ تھا۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4