Header Ads

Mera Aashiyana novel 16th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 16th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

سولہویں قسط۔۔۔
اپنے پرطیعش کمرے میں داخل ہوتے ہی اریز نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور کوٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتے خود ماتھا مسلتا ڈھنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھا۔۔۔
آنکھوں کے سامنے آج سارے دن کے مناظر کسی فلم کی مانند چلنے لگے تھے۔۔۔۔
وہ آج اسے نو ماہ بعد دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ان نو ماہ میں دقت سے سیئے گئے سارے زخم ہرے ہو گئے ہوں۔۔۔
یہ وہ ہیں جنکے دم سے میں ہوں۔۔۔ جنہوں نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔۔ 
He is my really soulmate...
یہ وہ آواز تھی جو پچھلے نو ماہ سے اٹھتے بیٹھتے اسکے کانوں میں ہتھوڑوں کی مانند بجتی تھی۔۔۔ اس روز وہ پشیمانی کی اٹھاہ گہرائیوں کو چھوتا یونیورسٹی سے نکل آیا تھا اور دوبارہ کبھی اسنے اکیڈمی کا بھی رخ نا کیا۔۔۔۔ وہ اسقدر پشیمان تھا کے وہ خود میں شامیر سے بھی نگاہیں ملانے کا حوصلہ نا رکھتا تھا۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کو دل میں بسایا اور اسی کے ہاتھوں ایک معمولی سے انسان کی خاطر ریجیکشن سہنے کے بعد پیچھے کیا بچتا تھا بھلا۔۔۔ محض کیریئر ۔۔۔ اور وہ کیرئر کے پیچھے اندھا ہو گیا۔۔۔ دن رات صرف اپنے کیریئر کے لئے ہی مشروط کر دیئے۔۔۔ اور اس نے اپنا لوہا منوا لیا۔۔۔
وہ لڑکی عمر میں اس سے سات آٹھ سال بڑی تھی لیکن اسکے باوجود دلوں کے تار جڑتے وقت ان باتوں کو نہیں مانتے۔۔۔۔
اور آج اسے وہاں سٹیج پر کھڑا دیکھ وہ جہاں کا تہاں رہ گیا تھا۔۔۔ اپنے عہدے اور موجودہ پوزیشن کا احساس کرتے وہ بڑی مشکل سے خود کو کمپوز کرتا اس سے نظریں ہٹائے خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
لیکن شاید وہ اسے ابھی تک معاف نہیں کر پائی تھی۔۔۔ وہ اسکی شکل تک دیکھنے کی روادار نا تھی۔۔۔ اور اسی لئے وہ اسکے استقبال کو ایک بھی لفظ اد کرنے سے انکاری ہوتی سٹیج سے ہی اتر آئی۔۔۔
اریز کو اسکے لئے افسوس تھا ناجانے اسنے آج کے فنگشن کے لئے کتنی تیاری کی ہو گی لیکن اسکے باعث ماہیر کا پورا دن برباد ہوگیا تھا۔۔۔ اریز سے وہاں بیٹھنا دوبھر ہو گیا تھا۔۔۔ جیسے تیسے کر کے مطلوبہ وقت پورا کر کے وہ وہاں سے باہر نکلا لیکن اسے یوں ڈرائیوے پر کھڑا دیکھ وہ خود کو اسکے پاس جانے سے روک نا پایا تھا۔۔۔ نا جانے اسکے ساتھ کیا مسلہ تھا یا شاید وہ اس سے بات کرنے کو بھی راضی نا تھی جو کچھ بول نا رہی تھی۔۔۔ لیکن جو بھی تھا بحرحال وہ اسے اپنا کارڈ دے آیا تھا۔۔ شاید اسنے کچھ کہنا ہو۔۔۔ یا آج کے فنگشن کے حوالے سے اس پر اپنی بھراس نکالنی ہو۔۔۔ جو بھی ہوتا بحرحال وہ اسے اپنا رابطہ نمبر دے آیا تھا۔۔۔
*****
احمر گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ سوچوں کے پردے کہیں اور ہی الجھے ہوئے تھے۔۔۔ اسکی زندگی کی سب سے محبوب عورت کل تک جسکی سانسوں میں اسکی جان بستی تھی۔۔۔ آج اسے زہر سے بھی بری لگنے لگی تھی۔۔۔ وہ پہروں گم صم بیٹھی ناجانے کس کی یادوں میں کھوئی رہتی تھی۔۔۔ وہ بدل رہی تھی۔۔۔ نہیں بلکہ وہ بدل چکی تھی۔۔۔ وہ احمر کی نرمی محبت اور آزادی کا بہت غلط فائدہ اٹھا چکی تھی۔۔۔ احمر کے اندر بھانبھر سے جل رہے تھے۔۔۔ رسوائی کا ڈر اسے کسی کروٹ چین نا لینے دیتا۔۔۔
کتنا سمجھایا تھا اسکے باپ بھائی نے اسے کے عورت ذات کو اتنی ڈھیل مت دو۔۔۔ باپ تو نہیں تھا پر اب وہی بھائی اسکی حالت پر ہستا اس پر جملے کسے گا۔۔۔ لوگ اس پر قہقے لگائیں گے کہ اسکی بیوی یوں بیچ چوڑاہے میں اسکی عزت نیلام کر گئ۔۔۔  اسے لوگوں کے نادیدہ نشتر اور چبھتی نظریں ابھی سے اپنا سینہ چھلنی کرتی محسوس ہونے لگیں تھیں۔۔۔ وہ مرد تھا اور مرد بہت کم ظرف ہوتا ہے۔۔۔
وہ بھی مرد تھا وہ کبھی بھی اتنا اعلی ظرف نہیں ہو سکتا تھا کہ پہلو میں لیٹی لڑکی کو کسی غیر مرد کے لئے آہیں بھرتا دیکھتا رہتا۔۔۔۔۔ وہ بھی کم ظرف تھا۔۔ بہت کم ظرف۔۔۔ اعلی ظرف بنتا تو بے غیرت کہلاتا۔۔۔
وہ لڑکی اسکا مان اسکا بھروسہ اسکا یقین سب چکنا چور کر چکی تھی۔۔۔ اسکی محبتیں اسکی عزت وہ سب اس دو ٹکے کے لونڈے پر لٹا چکی تھی جس سے اسکا کوئی بھی تعلق نا تھا۔۔۔ اسے ماہیر سے زیادہ خود پر طیش تھا جو ایک عورت تک نا سمبھال پایا۔۔۔ 
*****
ماہیر کئ دنوں سے اس کارڈ کو نکالتی اور خود میں اس کارڈ پر موجود نمبر ڈائل کرنے کی ہمت مجتمع کرتی۔۔۔۔ ہمت کر کے نمبر موبائل پر ٹائپ بھی کر لیتی لیکن اوکے کا بٹن دباتے ہاتھ کپکپا جاتے۔۔۔ تھک ہار کر وہ نمبر کاٹ دیتی۔۔۔ عجیب بے کلی اور یاسیت اسکی طبیعت کا احاطہ کرتی جا رہی تھی۔۔۔ اسکا گھر اسکے بچے حتکہ اسکا اور اسکے شوہر کا رشتہ بھی اس سب سے بے طرح متاثر ہو رہا تھا۔۔۔ 
وہ اپنے اور احمر کے درمیان در آنے والی دوریاں بھی اچھے سے نوٹ کر پا رہی تھی لیکن وہ خود کو اس معاملے میں بے بس پاتی۔۔۔ 
وہ پہروں اس کارڈ کو ہاتھ میں تھامے تکتی رہتی۔۔۔ کئ مرتبہ تو اس کارڈ کو تھامے ہی سو جاتی جیسے اسے اس کارڈ سے بھی عقیدت ہونے لگی ہو۔۔۔ 
آج بھی ایک ایسا ہی دن تھا۔۔۔ کمرے میں نیم تاریکی کا راج تھا۔۔۔وہ بستر پر چت لیتی کارڈ سینے پر رکھے چھت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ خاموش آنسو پلکوں کی باڑ پھیلانگتے ٹپ ٹپ بہتے چلے جارہے تھے۔۔۔۔
پاس ہی کچھ فاصلے پر احمر لیتا سگریٹ نوشی کر رہا تھا۔۔۔
عموماً وہ سگریٹ نہیں پیتا تھا۔۔۔ لیکن آج کل جسقدر فریسٹریشن اسکی زندگی میں در آئی تھی اسے خود بھی خود کی سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔ 
کچھ پل وہ یونہی لیتا سب برداشت کرتا رہا پھر یکدم ہی اسنے ماہیر کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ ہاتھ سیدھا اسکے ماتھے پر جا کر لگا اور وہ تکلیف سے بلبلاتی چیختی ہوئی اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
آہہہہہ ۔۔۔ احمر۔۔۔ اٹھتے ہی اسنے ایک جھٹکتے سے ہاتھ مارتے لیمپ روشن کیا۔۔۔۔ وہ ماتھے پر ہاتھ رکے تڑپ رہی تھی۔۔۔ احمر کے ہاتھ میں تھاما سگریٹ اسکی آنکھ کے اوپر جلد کو داغ گیا تھا۔۔۔
احمر پاگل ہو گئے ہیں کیا۔۔۔ 
ہاں ہو گیا ہوں پاگل۔۔۔ ماہیر احمر۔۔۔۔ 
بستر میرا ۔۔۔ اور آنسو کسی غیر کے لئے۔۔۔ تمہیں ڈوب کر مر جانا چاہیے بے غیرت بے حیا عورت۔۔۔ وہ غصے سے بے قابو ہوتا سر کے پیچھے سے اسکے بال جھکڑتا جھٹکا دے کر چیختا ہوا گویا ہوا۔۔۔
وہ درد سے دہری ہوتی دونوں ہاتھ پیچھے بالوں کو جھکڑے احمر کی مضبوط گرفت پر رکھے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
احمررررد۔۔۔ لب پھڑپھڑا کر رہ گئے۔۔۔
تم ایک گھٹیا اور ہلکے کردار کی لڑکی ہو ماہیر ۔۔۔ مجھے افسوس ہے کے میں نے اتنے سال تم جیسی لڑکی پر ضائع کر دیا۔۔۔ اسنے جھٹکے سے اسکے بال چھوڑے وہ لڑھکتی ہوئی بیڈ سے نیچے جا گری۔۔۔ مگر اس سے زیادہ تکلیف کسی کی نظروں سے گرنے کی تھی۔۔۔۔ وہ جو ہمیشہ سر آنکھوں پر سجا کر رکھیں انکا ایسا رویہ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔۔۔ ماہیر اس وقت اسی آگاہی کے عذاب سے گزر رہی تھی۔۔۔
نیچے لڑھکنے سے کارڈ وہیں لڑھک گیا۔۔۔ سلطان نے شعلے اگلتی نگاہوں سے بستر سے وہ کارڈ اٹھایا۔۔۔ اسسٹینٹ کمشنر اریز احمد۔۔۔ اسکے اندر ایک آگ سی جل اٹھی۔۔۔ یہ وہی نام تھا جو وہ لڑکی نو ماہ پہلے اسکے سامنے لے کر اعتراف کر چکی تھی اور آج نو ماہ بعد بھی وہ اسی نام کے لئے رو رہی تھی۔۔۔ وہ اند جلتی آگ سے جل کر خاکستر ہونے لگا۔۔  رقابت کا احساس جینے نا دیتا تھا۔۔۔
کیا نہیں کیا میں نے تمہارے لئے۔۔۔ کیا نہیں کیا میں نے ماہیر احمر۔۔۔۔ تمہارے لئے خود کو فنا کر ڈالا۔۔۔۔ ماں باپ سے ٹکرایا۔۔۔۔ سہی کہتے تھے وہ۔۔۔ کبھی کبھار بڑوں کی بات بھی مان لینی چاہیے۔۔۔ لیکن میں ہی اندھا ہو گیا تھا۔۔۔ بستر سے اترتا کپکپاتے وجود اور بھرائی آواز کے ساتھ وہ خود پر ہی شکوہ کناں تھا۔۔۔ مان ٹوٹا تھا اسکا ۔۔۔ دل تو کرچیوں میں بٹ گیا تھا۔۔۔
میں نے دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دی۔۔۔ تمہیں ایک قابل فخر زندگی دینے کو دن رات کا فرق مٹا دیا۔۔۔ تمہیں اڑنے کو آزادی دی اور تم واقعی اڑ گئ۔۔۔۔ وہ اسکے پاس پنجوں کے بل بیٹھتا اسکا چہرا دبوچ کر غرایا ۔۔۔ دل چاہ رہا تھا آج اس خوبصورت چہرے کو تہس نہس کر دے ۔
آج ان سمندر سے گہرے ہرے کانچ کی سرخی اور اس سے بہتے اشکوں سے بھی اسے نفرت ہو رہی تھی۔۔۔
تمہیں عزت دی ماہیر احمر سر آنکھوں پر بیٹھایا ۔۔۔ مگر تم قابل ہی نا تھی اسکے۔۔۔ وہ ایک جھٹکے میں اسکا چہرا چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
چھوڑ دو یہ دوہری شخصیت کا دھونگ ماہیر احمر ۔۔۔ اتار دو یہ عبایہ اور ہٹا دو حجاب جو پہن کر تم گھر سے نکلتی ہو۔۔۔ دیکھاو سب کو اپنا اصلی چہرا جو تم ہووووو۔۔۔ کمرے کے بیچ و بیچ  کھڑا سرخ آنکھوں سے ماتھا مسلتا اس پر چیختا چلاتا وہ حواسوں میں نا لگ رہا تھا۔۔۔
کمرے میں ماہیر کی اونچی سسکیاں گھونجنے لگی تھی۔۔۔
تم جو پانچ وقت کی نمازی ہو اللہ اور اسکے احکامات کو ماننے والی۔۔۔ کیا تمہیں شوہر سے بے وفائی اور نامحرم سے عاشقی کا انجام نہیں پتہ۔۔۔۔ 
ماہیر احمر۔۔۔ تم تو بہت ہلکے کردار کی نکلی۔۔۔ لعنت ہو تم جیسی لڑکی پر جسے دنیا جہاں کی ہر آسائش دستیاب ہو اور وہ منہ مارنے کو باہر نکلے۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ کمر پر ٹکائے ایک ہاتھ کی مٹھی پے در پے ماتھے پر مارتا اپنے آنسو پینے کی کوشیشوں میں ہلکان تھا۔۔۔ 
یہ عورت اسے توڑ گئ تھی۔۔۔ اور بے طرح توڑ گئ تھی۔۔۔ سچ کہا تھا کسی نے ایک عورت ہی ہوتی ہے جو مرد کو بلندیوں اور انچائیوں  پر پہنچا دیتی ہے۔۔۔ اور ایک عورت ہی ہوتی ہے جو مرد کو پستی کی گہرائیوں میں لا پٹختی ہے۔۔۔ وہ بھی اسے اسی پستی میں لا پٹخی تھی۔۔۔۔
احمرررر۔۔۔ اسکی اسقدر سخت بات پر وہ اندر تک دہل گئ۔
تم نے ثابت کردیا ماہیر۔۔۔ کے عورت کبھی کسی مرد سے وفا نہیں کر سکتی۔۔۔ جب میری بے لوث محبت عزت قدر اور اتنی قربانیوں کے بعد بھی تم میری نا ہوئی نا ۔۔۔تو۔۔۔ وفا کا جذبہ تم جیسیوں کے لئے ہے ہی نہیں۔۔۔ عورت بے وفا ہوتی ہے پھر چاہیے اسے اپنا خون بھی نچوڑ کر کیوں نا پیش کردو۔۔۔ درد کی شدت سے اسکے آنسو تک چھلک پڑے تھے۔۔۔
خبردار۔۔۔ خبردار جو تم نے ایک قدم بھی گھر سے باہر نکالا تو ماہیر۔۔۔ ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں گا تمہاری۔۔۔ بہت دے لی چھوٹ میں نے تمہیں اور بہت ناجائز فائدہ اٹھا لیا تم نے۔۔۔ اگر میں تمہیں اتنی آزادی دے سکتا ہوں نا تو مجھے پر کاٹنے بھی اچھے سے آتے ہیں۔۔۔
میں ہرگز ہرگز تمہیں اپنی عزت اچھال کر اسکا تماشا بنانے کی اجازت نہیں دوں گا۔۔۔
وہ بول نہیں پھنکار رہا تھا۔۔ خوشگفتار اور نرم مزاج احمر کا یہ لب و لہجہ اور مزاج دیکھ وہاں کے درو دیوار تک کپکپا اٹھے تھے۔۔۔ 
پھر سے بول رہا ہوں گھر سے نکلنے کی غلطی مت کرنا ماہیر احمر ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگئ۔۔۔ کمرے سے نکلتا نکلتا بھی وہ واپس پلٹتا انگلی اٹھا کر وارن کرتا تن فن کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جب پیچھے ماہیر اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔ اسنے اس شخص کی محض محبت دیکھی تھی  لیکن آج اس شخص کی آنکھوں سے چھلکتی نفرت اور حقارت ماہیر کی رگوں کو کاٹ رہی تھی۔۔۔۔
*****
باہر آو عروب۔۔۔ سلطان اسکی طرف کا دروازہ کھولے ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا۔۔۔ جبکہ عروب کو اپنا دل ڈوبٹا محسوس ہوا۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ بے طرح جھٹکتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔ 
آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے سلطان۔۔۔ میں بتا رہی ہوں میری دماغ کی شریان پھٹ جائے گی۔۔۔۔ اس سے زیادہ سٹریس آپ مجھے نہیں دے سکتی۔۔۔ ہچکیوں سے روتی وہ سر ہاتھوں میں تھام گی۔۔۔
Aroob Stopped... Behave yourself...
 ہم یہاں ریگولر چیک آپ کے لئے آئے ہیں۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ 
وہ اسے یوں روتا دیکھ اسکی بات سمجھ کر ماتھا مسلتا گویا ہوا۔۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے کسی چیک آپ کی ضرورت نہیں۔۔۔ آپ گھر چلیں پلیز۔۔۔
اسکی بات سے حوصلہ پاتی وہ آنسو رگڑ کر صاف کرتی جلد بازی میں گویا ہوئی۔۔۔۔
جو بھی تھا۔۔۔ دل اس معاملے میں سلطان پر اعتبار کرنے سے ڈرتا تھا۔۔۔
سلطان نے اس اسے گھور کر دیکھا۔۔۔
تم سے مشورہ نہیں مانگا بتا رہا ہوں تمہیں۔۔۔ باہر نکلو۔۔۔ عروب کی ہٹ دھرمی دیکھ اسکے اندر کا بھی انا پرست سخص جاگا۔۔۔
عروب نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ آنکھیں پھر سے بھرانے لگی تھی۔۔۔
یا خدا۔۔۔۔ لڑکی۔۔۔۔ وہ سر ہاتِوں میں تھامتا رکوع کی صورت جھکا۔۔۔
یوں ٹسوے بہانا بند کرو۔۔۔ سیدھا ہوتا وہ تیز لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ 
بول رہا ہوں نا۔۔۔ لیکن جلد ہی احساس ہونے ہر لبوں پر زبان پھیرتا لہجہ نرم کر گیا۔۔  کہ تمہارا ریگولر چیک آپ کروا کر میڈیسنز لے کر واپس چلے جائیں گئے۔۔۔ چلو شاباش اب باہر نکلو۔۔۔
عروب شش و پنج میں مبتلا اسے دیکھتی کپکپاتا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیتی ڈھرکتے دل کیساتھ آہستگی سے باہر نکل آئی۔۔۔۔
پتہ نہیں وہ اس معاملے میں اس شخص پر اعتبار کر کے درست کر بھی رہی تِھی یا نہیں۔۔۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں غرق من من بھارتی قدم اٹھاتی اسکے ساتھ گھسیٹتی جا رہی تھی۔۔۔
دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ وہ اسے لئے لیڈی ڈاکٹر کے کیبن میں آیا تھا۔۔۔ ناجانے ان دونوں کے درمیان کیا باتیں ہوئی تھیں۔۔۔ اپنے ہی سوچوں کے گرداب میں پھنسی وہ سمجھ ہی نا پائی۔۔۔  ہوش میں تو تب آئی جب لیڈی ڈاکٹر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
آئیے آپ اس کیبن میں آئیں وہیں آپکا پراپر چیک آپ ہوگا۔۔۔ لیڈی ڈاکٹر کے کہنے پر وہ بدکی۔۔۔ 
وہ۔۔۔ وہاں کیوں ۔۔۔ یہاں کیوں نہیں۔۔۔ وہ ہراساں نگاہوں سے ایک نظر ڈاکٹر اور دوسری نظر احمر کو دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
یہاں کیسے ہوگا کچھ بھی۔۔۔ سارا سیٹ آپ تو وہیں ہر ہے نا۔۔۔ ڈاکٹر چہرے پر پیشہ وارانہ مسکراہٹ سجائے گویا ہوئی۔۔۔آپ پریشان مت ہوں۔۔۔ میرے ساتھ آئیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔
نہیں پلیز۔۔۔ آپ یہیں چیک آپ کر لیں۔۔۔ وہ ہاتھ مسلتی گویا ہوئی جب سلطان اسکی طرف جھکتا غرایا۔۔
یہاں ڈرامہ لگانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ چپ چاپ اٹھ کر ڈاکٹر کے ساتھ اندر جاو ۔۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس ہلکی آواز میں سخت لہجے میں گویا ہوا تو وہ متوحش نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
******* 

No comments

Powered by Blogger.
4