Mera Aashiyana novel 15th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 15th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
پندرھویں قسط۔۔۔
ماہیر شکستہ خیز قدم اٹھاتی ہال سے ہی نکل آئی۔۔۔ اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ وہاں سے نکل کر وہ پارکنگ میں آئی اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنی چاہی۔۔۔ لیکن جسم نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔۔۔ وہ وہیں سٹرنگ سے سر ٹکاتی رو دی۔۔۔۔جانے زندگی کے کس کس غم پر۔۔۔ ناجانے اسے وہاں اسی انداز میں بیٹھے کتنا وقت ہو گیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ دفعتاً اسے سامنے سے
اسٹینٹ کمشنز کی گاڑی آتی دکھائی دی۔۔۔ ناجانے کونسے جذبے کے تحت وہ گاڑی سے نکل کر ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں ڈرائیوے پر آ کھڑی ہوئی۔۔۔ گاڑی زن سے اسکے قریب سے گزری وہ دھول اڑاتی اس گاڑی کو دیکھتی رہی۔۔۔ دفعتا گاڑی کچھ آگے جا کر رکی اور اسی رفتار سے بیک ہوتی اسکے قریب آ کر رکی۔۔۔
وہ سانس تک روک گی۔۔۔ جب گاڑی سے وہ شخص اپنی پوری وجاہت سمیٹ نیچے اترا۔۔۔
Is every thing OK mam...
آپ یہاں۔۔۔ یوں۔۔۔ سب خیریت ہے نا۔۔۔ وہ نہایت مودبانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔ اور وہ جو یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی بوکھلا اٹھی۔۔۔ اسے یہاں اپنے بے وقوفوں کی طرح کھڑے ہونے کا کیا جواز دیتی بھلا۔۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکا گئ۔۔۔ دل میں ایک محشر برپا تھا۔۔۔
میم کیا میں آپکی کوئی مدد کر سکتا ہوں۔۔۔ وہ اسے گم صم کھڑا دیکھ پھر سے مستفسر ہوا۔۔۔ وہ ہنوز ہاتھ مسلتی خاموش کھڑی رہی۔۔۔ اریز نے لبوں پر زبان پھیرتے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔
اوکے آپ یہ میرا کارڈ رکھ لیں ۔۔۔ کوئی کام ہوا تو آپ رابطہ کر سکتی ہیں۔۔۔ وہ جیب سے کارڈ نکال کر اسکی طرف بڑھاتا منتظر کھڑا تھا۔۔۔
ماہیر نے ہچکچاتے ہوئے اسکے ہاتھ سے کارڈ پکڑ لیا۔۔۔ اسکے کارڈ پکڑتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی زن سے آگے بڑھ گئ۔۔۔
ایک مسکراہٹ ماہیر کے ہونٹوں پر پھیل گئ۔۔۔ وہ اسے نو ماہ بعد دیکھ رہی تھی اور نو ماہ کی ساری کلفت آج ایک ہی دن میں دھل گی تھی۔۔۔ اسنے ہاتھ میں کارڈ یوں تھام رکھا تھا۔۔۔ جیسے اسے ہفت اکلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔
*****
شام کے سائے رات میں تبدیل ہو گئے تھے ایسے میں سلطان بے چینی سے کمرے میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔ وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اندر سے وہ اس احمق لڑکی کے لئے فکر مند تھا جو اس سے ضد باندھنے کی حماقت کر رہی تھی۔۔۔
بہت مشکلوں سے اسنے فبیحہ اور ہادی کو کھانا کھلا کر سلایا تھا۔۔۔ فبیحہ تو صبح سے ماں کو دھونڈتی بولائی بولائی سی پھر رہی تھی۔۔۔ اسے اس لڑکی پر بھی طیش آیا جو اسکے بچوں کو اپنا عادی بنا کر خود چلی گئ تھی۔۔۔
فبیحہ کو بہلانا پھر آسان تھا۔۔ ہادی تو سیدھا سیدھا اسے کٹہرے میں کھڑا کر چکا تھا۔۔۔
کچھ دیر پہلے کے مناظر یاد آتے ہی سلطان نے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
وہ رات کا کھانا باہر سے لایا تھا اور کچن میں کھڑا کھانا برتنوں میں نکال رہا تھا جب ہادی کڑے تیوروں کے ساتھ اسکی طرف آیا۔۔۔
آپ یہ کھانا باہر سے کیوں لائے ہیں بابا۔۔۔ اور مسز سلطان ابھی تک گھر کیوں نہیں آئیں۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے تفتیشی انداز میں مستفسر تھا۔۔
سلطان اسے ایک خاموش نگاہ دیکھ واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔۔۔
آ جائے گی وہ بھی تم کھانا کھاو۔۔۔ وہ نرمی سے ٹالنے کے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
اور وہ کب آئیں گی بابا۔۔۔ آپ انہیں لینے کیوں نہیں گئے۔۔۔ میں نے بتایا نا آپکو کے انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ پھر۔۔۔
اور اب ہمیں باہر کا کھانا پسند نہیں ہے۔۔ ہمیں انہی کے ہاتھ کا کھانا کھانا ہے۔۔۔
وہ گم صم سا بیٹے کی صورت دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ جو کل کی آئی لڑکی کے لئے اس سے لڑنے کو تیار تھا۔۔۔
یہ وہی مسز سلطان ہے جسکا تم نام لے کر راضی نا تھے۔۔۔ سلطان نے جتلاتے انداز میں کہتے کھانا ڈائینینگ ٹیبل پر رکھنا شروع کیا۔۔۔
وہ تب کی باتیں تھیں نا بابا جب میں انہیں جانتا نا تھا۔۔۔ اب انہیں جانتا ہوں اور وہ بہت سویٹ اور کیرنگ ہیں۔۔۔ اس لئے آپ ابھی کے ابھی جا کر پہلے انہیں لے کر آئیں پھر ہم مل کر ڈنر کریں گے۔۔۔۔ وہ دو ٹوک انداز میں کہتا سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔
یس بابا۔۔۔ ماں کو لے آئیں نا مجھے انکے ساتھ سونا ہے۔۔۔ فبیحہ بھی ضدی انداز میں گویا ہوئی تو وہ بچوں کی ضد دیکھتا سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
یہ عروب نہیں تھی جسے وہ جھڑک کر اپنا غصہ نکال لیتا۔۔۔ یہ اسکے دل کے ٹکرے تھے جنہیں وہ کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔۔۔
اچھا بات سنو۔۔۔ تم دونوں کھانا کھا کر سو جاو پھر میں اسے لے آوں گا۔۔ اگر وہ گھر آئی اور اسے پتہ چلا کے تم دونوں نے کھانا نہیں کھایا اور ابھی تک سوئے نہیں تو اسے کتنا برا لگے گا۔۔۔ اوپر سے وہ مجھے کتنا لاپرواہ باپ سمجھے گی جو اپنے بچوں کو سمبھال تک نا سکا۔۔۔ کتنی انسلٹ ہو جائے گی میری اسکے سامنے یار کچھ تو خیال کرو باپ کی عزت کا۔۔۔ وہ بامشکل انہیں بہلا پھسلا کر کھانا کھلا کر سلا پانے میں کامیاب ہوا تھا۔۔۔
لیکن اب اسکی پریشانی فطری تھی۔۔ وہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی کے سامنے زیر نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ عورت ذات کے پاس مرد کو زیر کرنے کے ایک سو ایک طریقے ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن وہ اس لڑکی کے کسی بھی طریقے کے زیر اثر اسکے سامنے زیر نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔
اس لڑکی کو اپنی ضد سے ہٹنا ہی پڑے گا۔۔۔ وہ طیش سے مسلسل چکر کاٹتا کچھ سوچ رہا تھا۔۔
یہ لڑکی مجھے تگنی کا ناچ نہیں نچا سکتی۔۔۔ دیکھتا ہوں کتنا دم ہے اس مکار لڑکی میں جو میرے بچوں کو ورغلا کر میرے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہے۔۔۔
دیکھتا یوں کیسے نہیں وہ میری بات مانتی
۔
ق۔۔۔ ہار تو ماننا ہی پڑے گی اسے۔۔۔ دیکھا جائے گا کے وہ کیسے سلطان کے سامنے اپنی چلاتی ہے۔۔۔
وہ کھولتے دماغ کیساتھ نہایت طیش میں گاڑی کی چابی اٹھاتا کمرے سے نکلا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ گاڑی سٹارٹ کرتا گاڑی ہواوں میں اڑاتا عروب کے باپ کے گھر کی جانب رواں تھا۔۔۔
*****
یہ دیکھو کارڈ۔۔۔ ماہیر ایک ریسٹورینٹ میں مصباح کے مقابل بیٹھی تھی۔۔۔ چمکتی آنکھوں سے اسنے کارڈ مصباح کی جانب بڑھایا۔۔۔ مصباح نے کارڈ پکڑ کر دیکھا۔۔ اسسٹنٹ کمشنر اریز۔۔۔ ساتھ اسکی کوالیفکیشن وغیرہ لکھی تھی۔۔۔ مصباح نے گہری سانس خارج کی۔۔۔
کیا کرو گی اس کارڈ کا۔۔۔ اسے فون کرو گی۔۔۔ مگر فائدہ ایسے ٹیلفونک رابطے کا۔۔۔۔۔
وہ خود ہی سوال کرتی خود ہی جواب دے گی۔۔۔
پتہ نہیں مصباح۔۔۔ لیکن میں تمہیں بتا نہیں سکتی۔۔۔ کسی خاص انسان کا آپکے لئے راستے میں رک کر آپکو خاص اہمیت دے کر خاص کرنا معتبر کرنا کیسا احساس ہوتا ہے۔۔۔
My God Misbah...
میں ابھی تک اس ایک لمحے کے حصار میں ہوں۔۔۔ وہ چمکتی آنکھوں سے کہتی چہکی۔۔ مصباح اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
اس سب کا اختتام کہاں ہے ماہیر۔۔۔ مصباح تاسف سے گویا ہوئی۔۔۔
نہیں جانتی۔۔۔ لیکن ابھی تو مجھے اس لمحے میں جینے دو۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی جوس میں سٹرا گھمانے لگی ۔۔۔ مصباح محض اپنی بچپن کی دوست کے لئے دعا ہی کر سکتی تھی۔۔۔
******
عروب کمرے میں ہنوز ویسے ہی سر گھٹنوں میں چھپائے خوف کے زیر اثر کپکپا رہی تھی۔۔۔۔ وہ ہلکی سی آہٹ پر بھی خود میں سمٹ جاتی۔۔۔ رات کا اندھیرا اس کی حواس صلب کر رہا تھا۔۔ وہ ویسے ہی مجموعی طور پر بہت کمزور دل اور بزدل واقع ہوئی تھی۔۔۔ تبھی تو سلطان کی اونچی غصیلی آواز پر بھی ڈر جاتی۔۔۔ تبھی تو ہر وہ کام نظرانداز کر دیتی جس سے سلطان کے غصے میں آنے کے چانسز ہوتے۔۔۔
وہ کئ بار سارے گھر کی کھڑکیاں اور دروازے مقفل کر کے چیک کر چکی تھی لیکن پھر بھی خوف دل سے کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
دفعتاً گھر کے باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی ساتھ ہی دروازہ ڈھرڈھرایا جانے لگا۔۔۔ وہ خوف سے اپنی جگہ سے اچھلی۔۔۔
اس وقت کون ہوسکتا تھا بھلا۔۔۔ سلطان کی تو وہ امید ہی چھوڑ چکی تھی۔۔۔ اسے آنا ہوتا تو اب تک آ چکا ہوتا۔۔۔
کک۔۔۔ کون۔۔۔ وہ کپکپاتی آواز میں مستفسر ہوئی۔۔۔
دروازہ کھولو لڑکی۔۔۔ باہر سے ابھرتی جھنجھلائی غصیلی آواز نے جیسے اسکے تن مردہ میں نئ روح پھونک دی تھی۔۔
سس۔۔۔سلطان۔۔۔ کپکپاتے لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور وہ بجلی کی سی تیزی سے بستر سے اتری ۔۔۔بنا جوتا پہنے ننگے پاوں اندھا دھند داخلی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ وہ ابھی تک بے یقین تھی کے سلطان وہاں آگیا تھا۔۔۔
ایک جھٹکے سے لاک کھولتے اسنے دروازہ وا کیا۔۔۔ اور بنا اسکے خونخوار تیور دیکھے وہ اپنی سسکیوں کو روکتی اس سے لپٹ گئ۔۔۔
اتنے خوف کے بعد سہارا میسر آیا تھا وہ ضبط کے سبھی بندھ توڑ گئ۔۔۔
شکر ہے آپ آگئے سلطان۔۔۔آپکو اندازہ نہیں ہے کہ میں نے آپکا اتنا انتظار کیا۔۔۔ آپ اتنی لیٹ کیوں آئے سلطان۔۔۔ مجھے ۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
وہ جو انتہائی طیش میں یہاں اس لڑکی کو اسکی خود سری کا سبق سیکھانے آیا تھا اسکی خوف سے زرد پڑتی رنگت اور اسکے ردعمل کو دیکھ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔
سارا غصہ سارا طیش کہیں پانی کی مانند بہہ گیا تھا۔۔۔ یہ لڑکی ہمیشہ ہی اسکا غصہ کہیں غائب کر دیتی تھی۔۔
سلطان نے ڈھیلا پڑتے اسکے گرد حصار قائم کیا اور اسے لئے اندر آیا۔۔۔
کیوں ۔۔۔ میرا انتظار کیوں کر رہی تھی۔۔۔ ایک ہی دن میں عقل ٹھکانے آ گئ۔۔۔ فیصلے تو بہت بڑے بڑے کرنے لگی ہو۔۔۔ انکے نتائج بھگتنے کی ہمت بھی تو پیدا کرو نا پھر خود میں۔۔۔
وہ اسے واپس اسی کمرے میں لاتا بستر پر بیٹھا کر خود اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔
وہ اسکے سامنے سر جھکائے بیٹھی آنسو پینے میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔
میں بہت خوفزدہ ہوگئ تھی سلطان۔۔۔ اگر وہاں سے نا آتی تو خوف سے میرا دل بند ہو جاتا۔۔۔ میں آپ سے جیت نہیں سکتی۔۔۔ اور جیتنے کی خواہش بھی نہیں ہے۔۔۔ اسنے گیلی سانس اندر کھینچتے آنسو صاف کئے۔۔۔ سر میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھی۔۔۔
نقاہت سے برا حال تھا وہ ادھ موئی ہوئی اسکے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔
میں آپکی انا کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی تھی۔۔۔ نا ہی آپکے مقابل آنا چاہتی تھی۔۔۔ میں تو صرف اپنی التجا سے آپکو قائل کرنا چاہتی تھی۔۔۔
لیکن پھر مجھ پر نکشاف ہوا کے میری ہر التجا ہر فریاد آپکے سامنے بے اثر ہے۔۔۔ میری التجاوں میں تاثیر ہی نہیں جو سلطان سے اپنا آپ منوا سکیں۔۔۔
میں خوفزدہ ہوگئ تھی۔۔۔ کیونکہ مجھے گمان گزر رہا تھا کہ یہاں بھی میں ہار جاوں گی ۔۔۔ اور آپ جیت جائیں گے۔۔۔ لیکن یہ میری زندگی کا وہ واحد معاملہ ہے جہاں میں ہار نہیں سکتی اس لئے آپکے آنے سے پہلے فرار کے طور پر یہاں آگئ۔۔۔
لیکن یہاں آتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کے میں آپکے بنا نہیں رہ سکتی۔۔ صبح سے میں نے آپکا پل ہل انتظار کیا ہے سلطان۔۔۔ میرا دل کہہ رہا تھا کے آپ ضرور آئیں گے۔۔۔میں آپکے بنا کچھ نہیں سلطان۔۔۔ ہمارے بے بی کو محض ماں ہی نہیں باپ کی بھی ضرورت ہے یہ بات ان چند گھنٹوں میں مجھے ازبر ہوگئ ہے۔۔۔ آنسو پیتی
ہاتھوں سے سر دباتی وہ بیڈ کراوں سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
اور اگر میں نا آتا تو۔۔۔ سنجیدہ بے تاثر آواز ابھری تھئ۔۔۔
جو ہوا ہی نہیں میں اسے تصور بھی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔
اسنے مںدی آنکھیں زرا سی کھول کر سلطان کو دیکھا۔۔۔
چلو اٹھو جوتا پہنو طرم خان کی اولاد۔۔۔ وہ سر جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔عروب نے بھی بنا دیر کئے اٹھ کر جوتا پہنا اور آنچل اچھے سے خود پر اوڑھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ خاموشی سے سلطان کے ہمراہ پیسنجر سیٹ پر بیٹھی سیٹ کی پشت سے کمر ٹکائے آنکھیں مونڈے بیٹھی تھی۔۔۔
گاڑی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔۔۔
سلطان مجھے بہت بھوک لگی ہے میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ مجھے پہلے کچھ کھلا دیں پلیز ۔۔ وہ یونہی آنکھیں مونڈے نقاہت زدہ آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
سلطان نے اسے دیکھتے تاسف سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
اندازہ تو اسے اسکی اسقدر ڈاون طبیعت دیکھ کر ہو ہی رہا تھا لیکن شک پر تصدیق کی مہر وہ خود لگا چکی تھی۔۔۔
اسنے خاموشی سے گاڑی ایک ریسٹورینٹ کے سامنے روکی اور اسے لئے گاڑی سے اترا۔۔۔
وہ دیسی کھانے شوق سے کھاتی تھی اتنے دنوں کے ساتھ میں وہ اچھے سے جان گیا تھا اسنے سارا آرڈر ہی دیسی کھانوں کا دیا تھا۔۔۔
کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو سے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ صدیوں کی بھوکی ہو۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ ویٹر کے کھانا سرو کرنے تک ضبط کئے تہذیب کا مظاہرہ کرتی بیٹھی رہی لیکن ویٹر کے کیبن سے نکلتے ہی وہ کھانے پر ٹوٹ پڑی۔۔۔ اس وقت وہ یہ بھی بھول چکی تھی کے سلطان اسکے سامنے بیٹھا ہے۔۔ وہ ایک کے بعد ایک ڈش پر ہاتھ صاف کر رہی تھی۔۔۔ کھانا اندر جاتے ہی جیسے جسم کی توانائی بحال ہونے لگی تھی۔۔۔
کھانا کھا کر اسنے اللہ کا شکر ادا کیا اور سیدھی ہوئی تو نظر سامنے بیٹھے شخص سے ٹکرائی جو کرسی کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائے ٹانگ پر ٹانگ رکھے فرصت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ بے طرح گڑبڑائی۔۔۔
ایک نظر میز کی جانب دیکھا جہاں وہ تقریبا سبھی کھانا چٹ کر چکی تھی۔۔ اور پھر ایک نظر اس شخص کو دیکھا جسکی محویت ابھی بھی نا ٹوٹی تھی۔۔۔
آپ نے کچھ نہیں لیا سلطان۔۔۔ وہ پشیمانی سے گویا ہوئی۔۔۔
میں کھانا بچوں کے ساتھ کھا چکا تھا یہ تمہارے لئے ہی تھا۔۔۔ کچھ اور بھی چاہیے کیا۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کر کے سیدھا ہوتا مستفسر ہوا۔۔۔
آںنننننن۔۔۔ آئسکریم۔۔۔۔ وہ لب دانتوں تلے کترتی۔۔۔ محتاط سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
سلطان نے اسے گھورا۔۔۔
کوئی بات نہیں ۔۔۔ نہیں بھی ملے گی تو چلے گا۔۔۔ اتنا کچھ تو کھا لیا میں نے۔۔۔ ا
وہ دوستانہ مسکراہٹ لبوں پر سجاتی کندھے اچکا کر گویا ہوئی۔۔
سلطان نے جھنجھلاتے ہوئے نظروں کا زاویہ بدلہ۔۔۔ یہ لڑکی اسکے دل کے سختی سے مقفل کواروں کو کھولنے کی کوشیشوں میں تھی۔۔۔ وہ خود سے جنگ لڑتا خود ہی سے بیزار ہونے لگتا تھا۔۔۔
اسنے وہیں بیٹھے بیٹھے آئسکریم پیک کر کے لانے کا آرڈر دیا۔۔۔
چلو راستے میں کھا لینا دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وہ اٹھ کھڑا ہوتا گویا ہوا۔۔۔
اس دن کی شروعات جتنے برے انداز میں ہوئی تھی اختتام اتنا ہی بہتریں تھا۔۔۔ واپسی کے راستے پر گامزن وہ آئسکریم کھاتی خوش تھی مطمئن تھی۔۔۔ لیکن اسکا اطمیئنان اس وقت اڑا جب گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔۔۔ گاڑی رکتے ہی اسنے باہر نظر دوڑائی لیکں شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کے سامنے گاڑی رکتے دیکھ اسکے ہاتھ سے آئسکریم کا کپ چھوٹ کر نیچے جا گرا۔۔۔ یہاں اس وقت گاڑی روکنے کا مقصد کیا تھا بھلا ۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھی۔۔۔۔رات ہونے کے باعث بھی وہاں چہل پہل تھی۔۔ یہ ہسپتال دن کے چوبیس گھنٹے سروسز مہیا کرتا تھا۔۔۔
عروب نے فق پڑتی رنگت اور خالی خالی نگاہوں سے سلطان کو دیکھا۔۔۔ وہ کیوں بھول گئ تھی کے سامنے بیٹھا شخص سلطان تھا۔۔۔ جس پر اسکی التجائیں اور فریادیں بے تاثر تھیں۔۔۔
سلطان اب اپنی طرف کا دروازہ کھول کر گاڑی سے اتر رہا تھا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس کی طرف آیا اور اسکی طرف کا دروازہ کھول کر ہاتھ بڑھائے اسکے باہر نکلنے کا منتظر تھا۔۔۔
عروب کو اپنا خون خشک ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
اسنے شدت سے وہیں فنا ہو جانے کی دعا کی۔۔۔
*****

No comments