Header Ads

Mera Aashiyana novel 14th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 14th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

چودہویں قسط۔۔۔
سلطان کے گھر سے نکلتے ہی جیسے اسکے مردہ جسم میں جان آگئ۔۔۔ اسنے لمحے کی تاخیر کئے بنا الماری سے چھوٹا سفری بیگ نکالا۔۔۔ اپنے دو جوڑے کپڑوں کے رکھنے کے ساتھ چند ایک ضروری چیزیں رکھیں اور آنسو رگڑ کر صاف کرتی چادر نکال کر خود پر اوڑھنے لگی۔۔۔
سلطان کے خلاف جانے کا انجام برا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی۔۔۔ اور بہت اچھے سے جانتی تھی۔۔۔ لیکن اس چیز پر سمجھوتا کرنا بھی اسکے بس سے باہر تھا۔۔۔۔
من من بھاری ہوتے قدم اٹھاتی وہ نیچے آئی تو ہادی لاوئنج میں ہی بیٹھا تھا۔۔۔وہ ابھی ابھی اٹھا تھا۔۔۔ فبیحہ  غالباً ابھی سو رہی تھی۔۔۔
اسے یوں بیگ ہاتھ میں تھامے اور اسکی روئی روئی سی سوجھی آنکھیں دیکھ کر وہ چونکا۔۔۔۔
مسز سلطان آپ کہیں جا رہی ہیں۔۔۔ وہ جو اپنی ہی سوچوں میں گم آگے بڑھ رہی تھی ہادی کی آواز پر چونک کر پلٹی جو حیرت زدہ سا گویا ہوتا قدم قدم اسکی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
ہادی کو دیکھ اسکی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔۔
آپ اٹھ گئے بیٹا۔۔۔ کچن میں آپکا ناشتہ تیار پڑا ہے۔۔۔ آپ کر لو اور جب فبیحہ اٹھے تو اسے بھی کروا دینا۔۔۔ بلکہ آو میں آپکا ناشتہ سرو کر دوں۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں مسز سلطان۔۔۔ وہ بھی سینے پر بازو باندھتا اسکے پیچھے پیچھے ہی چلا آیا۔۔۔ وہ چھوٹا سا بچہ آبزرویشن میں اسے اپنی عمر سے بہت بڑا لگا۔۔۔
جی بیٹا میں اپنے گھر جا رہی ہوں۔۔ اپنے ابا کے گھر۔۔۔ ہادی کو ناشتہ سرو کرتے اسکے گلے میں نمکین پانیوں کا گولہ سا اٹکا۔۔۔
تمہارے پاپا بھی کچھ ہی دیر تک گھر آ جائیں گے تب تک تم فبیحہ کا خیال رکھنا۔۔۔ اسنے ہادی کے سامنے آتے جھک کر محبت سے اسکے بال بکھیرے۔۔۔
آپ روئی کیوں ہیں۔۔۔ وہ غور سے اسکے روئے روئے سے سرخ چہرے کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ وہ آنسو پیتی سیدھی ہوئی اور وہیں ڈائینینگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔۔۔ وہ اتنے میں ہی ہانپنے لگی تھی۔۔۔
ہادی بیٹا پلیز اپنے بابا کو سمجھاو۔۔۔ وہ جو کرنے کو مجھے کہہ رہے ہیں میں وہ نہیں کر سکتی۔۔۔ اس وقت اسکے پاس ہادی کے سوا اور کوئی سہارا نا تھا ۔۔۔ اور اسے سامنے پا وہ اسے ہی ٹوٹے لہجے میں اپنا دکھ بیان کرنے لگی۔۔۔
مسز سلطان آپ روئیں مت پلیز۔۔۔ میں بابا سے بات کروں گا۔۔۔ اور آپ پلیز کہیں جائیں مت ۔۔۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اسکے اشک صاف کرتا پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔ عروب اسے خود میں بھینچتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اولاد کتنا بڑا سہارا ہوتی ہے۔۔۔ ابھی اس بچے کو جنم اس نے نا دیا تھا تب بھی کتنی جذباتی وابستگی ہو گئ تھی اس سے۔۔۔ پھر اپنی اولاد کے لیے وہ سلطان کی ناجائز بات کیسے مان لیتی۔۔۔
پلیز مسز سلطان ایسے مت کریں آپ۔۔۔ میں پریشان ہو رہا ہوں ۔۔۔ وہ پریشان صورت لئے الجھا الجھا سا اسے حوصلہ دیتا گویا ہوا۔۔
میرا جانا ضروری ہے ہادی۔۔۔ پلیز تم اپنے بابا کو منانا کے وہ میری بات مان لیں۔۔۔ وہ آنسو صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
مسز سلطان مجھے آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ آپ مت جائیں پلیز۔۔۔ میں ڈاکٹر آنٹی کو بلا کر لاتا ہوں۔۔۔ وہ اسکے ساتھ ساتھ چلتا گویا ہوا۔۔۔۔۔بیٹا آپ کوشیش کرنا کے آپ کے بابا مان جائیں پھر وہ مجھے واپس لے آئیں گے۔۔۔ ابھی نہیں رک سکتی میں۔۔۔ اسنے گیٹ کے پاس رک کر پھر سے ہادی کے بال بگھاڑے۔۔۔ فبیحہ کا خیال رکھنا۔۔۔ ۔خود کو کمپوز کرتی وہ گیٹ عبور کر گئ جبکہ ہادی وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔
****
ماہیر بیڈ کراون سے ٹیک لگائے گود میں کشن رکھے بیٹھی تھی۔۔۔ جبکہ اسکے بالکل سامنے بیٹھی مصباح نے تاسف سے اس زندہ دل لڑکی کو دیکھا ۔۔۔ دونوں  کے درمیان چائے کی ٹرے اور کوکیز پڑے تھے جو ابھی ابھی ماہیر بنا کر لائی تھی۔۔۔
اسکی ضرورت نہیں تھی ماہیر۔۔۔ مصباح نے چائے کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔اور یہ کیا حال بنا رکھا ہے  تم نے یار۔۔۔ کن سوچوں میں گم رہتی ہو ہر وقت۔۔۔ اسے یوں دیکھ مصباح جزبر ہوئی۔۔۔
مجھے لگتا ہے اریز کی محبت میرے روم روم میں بسنے لگی ہے۔۔۔ وہ شخص مجھے اس ایک لمحے میں قید کر گیا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا مصباح کیا کروں۔۔۔ خود کو اس گرداب سے کیسے نکالوں۔۔۔  کیوں وہ میری زندگی میں آٹھ نو سال پہلے نا آیا۔۔   مصباح گم صم سی اسے دیکھی گئ۔۔۔
ماہیر احمر بھائی۔۔۔ وہ کچھ کہتی کہتی رک گئ۔۔۔ 
یار میں کبھی احمر کے لئے بھی وہ محسوس نا کر پائی جو اب کر رہی ہوں۔۔۔ کہتے ہیں نکاح کے دو بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہے۔۔۔ وہ دو دلوں کو ایک دوسرے سے باندھ دیتے ہیں۔۔ ایک دوسرے کے دل میں محبت جگا دیتے ہیں۔۔۔ لیکن مجھے لگ رہا ہے کے اب تک کی زندگی بس جیسے تیسے کٹ گئ۔۔۔ احمر وہ شوہر نہیں جن سے میں کسی بھی ٹاپک پر بات کر سکوں ۔۔۔ اپنا نالج انکے ساتھ شیئر کر سکوں۔۔انکے ساتھ کسی کتاب کو ڈسکس کر سکوں۔۔۔۔
وہ بے بسی سے سر یاتھوں میں تھام گئ۔۔۔ اسے یوں دیکھ مصباح لب چبا کر رہ گئ۔۔۔
کہنا کیا چاہتی ہو ماہیر۔۔۔ کیا احمر بھائی سے طلاق لینا چاہتی ہو۔۔۔ مصباح گہرا سانس کھینچتی گویا ہوئی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ وہ تڑپ کر سیدھی ہوئی۔۔۔ یار میرا شوہر ہے وہ۔۔۔ میرے بچے ہیں۔۔۔ میرا گھر ہے۔۔۔ میں احمر سے بے وفائی کی مرتکب نہیں ہو سکتی۔۔۔ آنسو ٹپ ٹپ پلکوں کی بار پھیلانگتے چہرے پر پھسلتے چلے گئے۔۔۔ ہرا کانچ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔
کیسے اپنا گھر اپنے ہاتھوں سے برباد کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہوں میں۔۔۔ میرے بچے میری جان ہیں۔۔۔ انہیں آنکھوں کے سامنے نہیں دیکھتی تو سانسیں رکنے لگتی ہیں میری۔۔۔ یہ میرا گھر میرا آشیانہ ہے۔۔۔ اس گھر کا ایک ایک کونا میں نے اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے۔۔۔ یہ گھر میری جنت ہے مصباح۔۔۔ تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔ گلہ رھندنے لگا تھا۔۔۔ آواز میں آنسوں کی آمیزش تھی جبکہ چہرا نمکیں پانیوں سے تر تھا۔۔۔ مصباح کو اس پر جی بھر کر ترس آیا۔۔۔ 
نامحرم کی محبت آپکو کہیں کا نہیں چھوڑتی ماہیر۔۔۔ وہ تاسف سے گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ ماہیر چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ جانتی ہوں میں۔۔۔ سب جانتی ہوں۔۔۔ لیکن دل سے اختیار کھوتی جا رہی ہوں۔۔ کچھ۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیا کروں۔۔۔ وہ بے بسی سے سر ہاتھوں میں گرا گئ۔۔۔
اچھا پلیز تم سمبھالو خود کو۔۔۔ اور آج کل تم احمر بھائی کے متعلق جو سوچ رہی ہو پلیز اسکا ذکر انکے سامنے مت کردینا۔۔۔ کتنا برا لگے گا انہیں کے۔۔۔
میں انہیں سب بتا چکی ہوں۔۔ مصباح بول رہی تھی جب وہ بے ساختہ بولتی گھٹنوں پر سر رکھ گئ۔۔۔۔
کیاااا۔۔۔ مصباح حق دق رہ گئ۔۔۔ تم یہ ساری بکواس انکے سامنے کر چکی ہو۔۔۔ اسے صدمہ لگا تھا۔۔۔
ان سے کچھ چھپا نہیں سکتی میں ۔۔۔ ۔
مصباح اس سر پھری کو دیکھ کر رہ گئ۔۔۔۔
******
کہے کے عین مطابق ٹھیک دس بجے سلطان اپنے گھر موجود تھا۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اسے ہادی لاوئنج میں ہی گم صم سا بیٹھا مل گیا۔۔۔ ہیے چیمپ اٹھ گئے۔۔۔ ناشتہ کر لیا۔۔۔ اور فبیحہ اٹھ گئ کے نہیں۔۔۔ سلطان نے اسکے پاس آ کر مسکراتے ہوئے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔
آپ مسز سلطان کی کونسی بات نہیں مان رہے بابا۔۔۔ وہ باپ کی بات کے جواب میں انتہائی سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ سلطان چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ ماتھے پر شکنوں کا جال بچھنے لگا تھا۔۔۔
اس نے کچھ کہا تم سے۔۔۔ آواز میں سختی در آئی۔۔۔
دیکھیں بابا۔۔۔ آپکے انکے ساتھ جو بھی مسائل ہیں انہیں حل کر لیں۔۔۔ اور جا کر انہیں لے آئیں۔۔۔ میں انہیں دکھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ وہ اکھڑا اکھڑا سا گویا ہوا۔۔۔
کیا مطلب لے آوں۔۔۔ کہاں ہے وہ۔۔۔ سلطان کو حیرت ہوئی۔۔۔
وہ اپنے بابا کے گھر چلی گئ ہیں بابا۔۔۔ اور وہ جاتے وقت بہت رو رہی تھیں۔۔۔ مجھ سے انکے آنسو دیکھے نہیں جا رہے۔۔۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ تب واپس آ جائیں گی جب آپ انکی بات مان کر انہیں واپس لے آئیں گے۔۔۔ اس لئے آپ پلیز انہیں واپس لے آئیں انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ ہادی پریشان تھا اور اسکی پریشانی اسکی باتوں اور لہجے سے چھلک رہی تھی۔۔۔
سلطان نے جبڑے بھینچے۔۔۔ اسکا فشار خون بلند ہونے لگا تھا۔۔۔ اسنے بہت دقت سے ہادی کے سامنے خود کو کچھ سخت سست کہنے سے روکا۔۔۔ اس لڑکی کی اتنی جرات۔۔۔ دماغ چٹخنے لگا تھا۔۔۔
ناشتہ کرو تم اور اگر فبیحہ اٹھ گئ ہے تو اسے بھی کروا دو۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکا چہرا تھپتھپاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
وہ لڑکی اپنی مرضی سے اس گھر کی دہلیز عبور کر کے یہاں سے نکلی تھی۔۔۔ اب وہ تو اسے کسی صورت وہاں سے لینے نہیں جانے والا تھا۔۔۔۔
اچھی بات ہے ۔۔۔ دو دن زمانے کے سرد و گرم میں رہے گی تو آٹے دال کا بھاو معلوم ہو جائے گا۔۔۔ دماغ کے سارے ڈھیلے پرزے ٹھیک ہو جائیں گے   اسنے کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے ماتھے پر ہاتھ مارا۔۔۔ 
اب جو فیصلہ وہ اپنی عقلمندی کے تحت لے چکی تھی اسکا بھگتان بھی اسے ہی بھگتنا تھا۔۔۔
*****
یونیورسٹی میں فنگشن تھا اور وہاں کے بیشتر انتظامات ماہیر کے ذمہ تھے اور وہی فنگشن ہوسٹ کرنے واکی تھی۔۔۔ وہ بجھے دل کیساتھ جہاں سے وہاں چکر کاٹتی سب کچھ چیک کر رہی تھی۔۔۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چیف گیسٹ کے آنے کا شور اٹھا۔۔۔ آگے پیچھے کئ گاڑیاں آ کر رکی اور ان میں سے کئ لوگوں کی معیت میں اسیسٹینٹ کمشنر ایز آ  چیف گیسٹ باہر نکلا۔۔۔
لوگوں کا جھرمت انکی طرف استقبال کو بڑھا۔۔۔ وہ کسی سے بات کرتا آ رہا تھا۔۔۔ ماہیر سٹیج پر ڈائس کے پاس ہی کھڑی تھی۔۔۔ کے جیسے ہی چیف گیسٹ آ کر بیٹھے وہ انہیں اسقبالیہ جملے بول کر فنگشن کا باقاعدہ آغاز کرے۔۔۔۔۔
اپنے ہاتھ میں تھامے کاغذات پر ایک نظر ڈال کر  اسکی ایک بے ساختہ نگاہ سامنے سے اسی جانب آتے چیف گیسٹ کی جانب اٹھی اور وہیں ٹھٹھک گئ۔۔۔۔وہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔  جیسے سانس تک لینا بھول گئ ہو۔۔۔  وہ وہی تھا۔۔۔ ہزاروں کے جھرمت میں بھی اپنی الگ شناخت رکھتا۔۔۔ اریز۔۔۔
وہ بلیک پینٹ کوٹ پر بال جیل سے سیٹ کئے مضبوط قدم اٹھاتا سٹیج کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔  کتنے کم وقت میں اسنے کتنی کامیابیاں سمیٹ لی تھیں۔۔۔
اسکے قریب آتے اریز کی بھی ایک بے ساختہ نظر اس پر پڑی۔۔۔ لیکن یہ ایک لمحے کا کھیل تھا۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ نظر پھیرتا آگے بڑھ گیا۔۔۔ماہیر کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔۔ اب انہیں انکی جگہ پر بیٹھایا جا رہا تھا۔۔
وہ ڈائس کے قریب کھڑی یک ٹک اسے دیکھتی جا رہی تھی۔۔۔ جبکہ اریز کے لئے جیسے یہ سب کچھ نارمل تھا۔۔۔ وہ بڑے نارمل انداز میں میزبان سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔ ایک لاشعوری نظر کے بعد اسنے دوبارہ ماہیر کو دیکھا تک نا تھا۔۔۔
ماہیر کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔۔
سب لوگ فنگشن شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ لیکن ماہیر ڈائس کے پاس گم صم سی کھڑی تھی۔۔۔ جیسے الفاظ ساتھ چھوڑ چکے ہوں۔۔۔ اسکا دماغ ایک لمحے میں سلیٹ کی مانند صاف ہو گیا۔۔۔ اسے چیف گیسٹ کے استقبال میں کیا بولنا تھا فنگشن کا آغاز کیسے کرنا تھا وہ سب بھول گئ۔۔۔۔۔  وہ بس سر جھکائے ڈائس پر رکھے کاغذات کو گھورتی کھڑی رہی۔۔۔
کسی نے اسے فنگشن شروع کرنے کا بولا تھا لیکن اس سے کچھ بولا ہی نا گیا۔۔۔ اسے یوں کھڑا دیکھ کو ہوسٹ اسکی طرف بڑھی۔۔۔ جب وہ طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کرتی سب کچھ اسکے حوالے کر کے سٹیج سے اتر آئی۔۔۔۔
*******
عروب صبح سے اپنے باپ کے گھر موجود تھی۔۔۔ یہ وہ گھر تھا جہاں اسکی پوری زندگی گزری۔۔۔ بچپن کی کئ یادیں اس گھر سے وابسطہ تھیں۔۔۔ اسکی درو دیوار سے اسے مانوسیت تھی۔۔۔ لیکن پھر بھی آج یہ گھر اسے کاٹنے کو ڈور رہا تھا۔۔ اسے اپنا گھر یاد آ رہا تھا۔۔۔ اسے اپنا شوہر اور بچے یاد آ رہے تھے۔۔۔ بہت کم عرصے میں اس گھر اور اس گھر کے مکینوں نے اسکے دل میں جگہ بنا لی تھی۔۔۔
کاش کہ وہ کبھی سلطان کو بتا پاتی کے وہ اس سے کس قدر محبت کرنے لگی ہے۔۔۔ وہ اسکے لئے کس قدر ناگزیر ہو گیا ہے۔۔۔ اسکا غصے میں بھی عروب کی کیئر کرنا دل کو کس قدر بھلا لگتا ہے۔۔۔
وہ پوری زندگی بنا کسی چیز کی خواہش کئے اپنے شوہر کے سنگ اسکے رنگ میں رنگ کر گزار سکتی تھی بس وہ یہ ایک ضد چھوڑ دے۔۔۔۔
دل کو پتنگے سے لگے تھے ۔۔۔ کسی کروٹ چین نا تھا۔۔۔ آنکھوں کے سوتے خشک ہونے کا نام ہی نا لے رہے تھے۔۔  صبح اسنے سلطان کے ہاتھوں سے کھایا ہوا ناشتہ ہی کیا تھا۔۔۔ اسکے بعد پانی کی ایک بوند تک اسکے اندر نا گئ تھی۔۔۔ دل ہی نا چاہا کچھ کھانے کا۔۔۔ اگر وہ ظالم شخص نا آیا تو۔۔۔ 
اگر اسنے اپنی ضد نا چھوڑی تو۔۔۔ اگر اسے عروب کے اس گھر میں ہونے نا ہونے سے کوئی فرق ہی نا پڑا تو۔۔۔ یہ ساری سوچیں اسے کسی گرداب کی مانند جھکڑے ہوئے تھیں۔۔۔ وہ ہر ہر آہٹ پر چونک جاتی۔۔۔۔۔
آتی جاتی ہر گاڑی کی آواز پر دروازے کی جانب لپکتی۔۔  کے شاید وہی آیا ہو۔۔ لیکن ہر بار ناکام و نامراد ہی لوٹ آتی۔۔۔
شام کے سائے رات کے اندھیرے میں بدلنے کے ساتھ ہی اسکی سلطان سے وابسطہ امیدیں بھی ٹوٹنے لگیں۔۔۔ وہ نہیں آیا تھا۔۔۔ شاید اسے آنا ہی نا تھا۔۔۔
بھوک کا احساس اب بھی نا تھا لیکن جسم سے قوت ختم ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ رات کا پھیلتا اندھیرا اسے ڈرا رہا تھا ۔۔ اب اسے اپنی محفوظ پناہ گاہ چھوڑ کر یہاں باپ کے گھر چلے آنے کا فیصلہ حماقت لگ رہا تھا۔۔۔ یہ گھر اگر اس کے لئے اتنا ہی محفوظ ہوتا تو کیا اسکا باپ مرنے سے پہلے اسے جیسے تیسے بھی سلطان کی ہمراہی میں چھوڑ کر جاتا۔۔۔ خوف کی ایک لہر اسکی ریڈھ کی ہڈی تک میں سرائیت  کر گئ۔۔۔
لیکن اگر اس گھر سے نا نکلتی تو کیا کرتی۔۔۔ وہ بے بسی سے سر گھٹنوں میں چھپا گئ۔۔۔ 
اللہ میرے لئے آسانیاں فرما۔۔۔ بہت اکیلی ہو گئ ہوں میری مدد فرما۔۔۔۔۔۔ دکھی دل سے فریاد نکلی تھی۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4