Header Ads

Mera Aashiyana novel 13th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


Mera Aashiyana novel 13th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

تیرھویں قسط۔۔۔
بس ۔۔۔ اب اس موضوع پر مزید بات نہیں ہو گئ۔۔۔ تم صبح میرے ساتھ ہسپتال چل رہی ہو۔۔۔ اسے کچھ کہنے کو لب کھولتے دیکھ وہ حتمی انداز میں کہتا اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتا مڑ گیا جبکہ عروب اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتی رہ گئ۔۔ 
اندر دل کو جیسے کھینچ لگی تھی۔۔۔ جلد ہی وہ ہوش میں آتی اسکی جانب لپکی۔۔۔۔ اسنے حتی المقدور اپنے غصے اور جذباتیت پر قابو پانا چاہا۔۔۔
پچھلی دفعہ اپنی جذباتیت اور غصے کا نتیجہ وہ چہرے پر تھپڑ کھا کر بھگت چکی تھی۔۔۔ اس بار وہ نوبت وہاں تک نہیں پہنچنے دینا چاہتی تھی۔۔۔ اسے حوصلے اور سمجھداری سے کام لینا تھا۔۔۔
وہ کم عمر تھی لیکن سلطان سے شادی کے بعد وہ بڑی تیزی سے شعور کی منازل طے کر گئ تھی۔۔۔ 
وہ ہر دوسرے دن شوہر سے پٹنے والی عورت بن کر زندگی نہیں گزار سکتی تھی۔۔ وہ شخص عام طور پر جتنا ڈیسنٹ تھا  غصے میں اتنا ہی آپا کھو جاتا تھا اور اسے سلطان کے غصے کو ہی قابو میں رکھنا تھا۔۔۔
آپ یوں اس معاملے میں مجھ پر اپنا فیصلہ تھوپ کر جا نہیں سکتے سلطان۔۔۔
اندر سے پھٹ پڑنے کی شدید خواہش کو اندر ہی دابے وہ بھاگ کر اسکے سامنے آئی اور کپکپاتے ہونٹوں سے ملتجی ہوئی۔۔۔۔۔
اتنے ظالم مت بنیں پلیز۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے سلطان کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں تھاما۔۔۔
وہ سنجیدہ و ساکت سا اسے دیکھتا رہا۔۔۔  آپکا۔۔۔۔ اسنے گہری سانس بھر کر خود کو کمپوز کیا۔۔۔ آپکا ہر حکم سر آنکھوں پر۔۔۔
لیکن یہاں پر بات مجھ پر ختم نہیں ہوجاتی نا۔۔۔۔ یہ فیصلہ محض میرے لئے ہوتا تو مان جاتی۔۔۔ اس فیصلے سے ایک اور ننھی جان بھی نتھی ہے اسکا کیا قصور سلطان۔۔۔۔
تم میری بات سے انحراف کرو گئ۔۔۔ وہ اپنے چہرے سے اسکے ہاتھ ہتاتا انہیں اپنے ہاتھوں میں تھام کر ہسا۔۔۔ جیسے اسکی باتوں سے بہت محظوظ ہوا ہو۔۔۔
نہیں۔۔۔ میں بیوی کے روپ میں آپکی کسی بات سے انحراف نہیں کر سکتی۔۔۔ آپ دن کو بولیں گے رات ہے تو میں بھی وہی بولوں گی۔۔۔ رات کو بولیں گے دن ہے تو بھی میں آپکے پیچھے ہوں۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔ وہ جسم کی لغزش پر قابو پاتی پھر سے گویا ہوئی۔۔ لیکن یہاں آپکے سامنے آپکی بیوی نہیں بلکہ ایک ماں کھڑی ہے۔۔۔۔ اور ماں جانتے ہیں کیا ہوتی ہے۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔ آنکھیں ہنوز مقابل کی سنجیدہ آنکھوں پر ٹکی تھیں۔۔۔
ماں وہ ہے جس سے اللہ نے خود کو تشبیہ دی ہے۔۔۔ کے میں ایک ماں سے ستر گنا زیادہ محبت اپنے بندوں سے کرنے والا ہوں۔۔۔ اس تشبیہ سے آپ اس لفظ کی چاشنی کو محسوس کر سکتے ہیں۔۔۔
آج اگر چپ رہی تو اپنی اولاد کے سامنے گنہگار ہو جاوں گی۔۔۔ ٹھیک ہے شوہر مجازی خدا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن پھر بھی اسکے حکم پر میں اولاد کے حقوق حزف نہیں کر سکتی۔۔۔
سلطان سمجھ کر سر ہلانے لگا جیسے واقعی اسکی بات بہت اچھے سے سمجھ رہا ہو۔۔۔ اسکی آنکھوں میں مضنوعی ستائش ابھری۔۔۔ 
بس مجھے ایک بات کا جواب دے دیں اسکے بعد میں آپکی ہر بات بلا چوں چرا مان لوں گی۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سے کہتی دو قدم مزید اسکی جانب بڑھی۔۔۔
روز محشر جب یہ ہی بچہ آ کر میرا گریبان پکڑے گا کے میرا کیا قصور تھا  جو میری ماں نے مجھ سے دنیا میں آنے کا حق چھین کر مجھے قتل کر ڈالا تب میں کیا جواب دوں گی اسے۔۔۔ وہ خود پر ضبط کھوتی اسکے سینے پر سر رکھے سسک اٹھی۔۔۔
وہ سرخ آنکھیں کھڑکی پر ٹکائے بے حس بنا کھڑا رہا حتکہ اسے دلاسہ دینے کو ہاتھ تک نا اٹھایا۔۔۔
بھنچے لب اور آنکھوں کے سرخ پڑتے کنارے اسکے ضبط کے گواہ تھے۔۔۔
میری دنیا میرے شوہر اور بچوں سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہوجاتی ہے۔۔۔ یہ گھر میرا آشیانہ ہے۔۔۔ پس منظر میں ایک آواز سلطان کے کانوں میں ہتھورے کی مانند بجی۔۔۔
آنکھوں کی سرخی کچھ مزید بڑھی۔۔۔
اسنے ہاتھ اٹھا کر نرمی سے اس ٹوٹی بکھری لڑکی کو خود سے الگ کیا۔۔۔
فلسفے بہت اچھے سناتی ہو ۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر وہ اسکے اشک چننے لگا۔۔۔
فلسفہ نہیں ہے یہ۔۔۔ وہ جیسے بے بسی سے چٹخنے لگی۔۔۔ حقائق ہیں۔۔۔ گلہ پھر سے رندھ گیا۔۔۔ وہ بقا کی جنگ لڑتی تھکنے لگی تھی۔۔۔
اور میں نے پوری زندگی محض فلسفوں میں ہی گزاری ہے۔۔۔ اسنے جیسے عروب کی بات سنی ہی نا تھی۔۔۔ اس لئے آج کے لئے اتنا کافی ہے۔۔۔ جاو اور جا کر آرام کرو۔۔۔ وہ نرمی سے اسکے بال سنوارتا یوں گویا ہوا جیسے یہ مسلہ کوئی مسلہ ہی نا ہو۔۔۔
عروب نے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
سلطان۔۔۔
No more arguments...
 جاو اور جا کر آرام کرو۔۔۔ صبح بات ہو گئ۔۔۔ وہ نرم مگر بے لچک لہجے میں کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ عروب سر تھامتی وہیں صوفے پر بیٹھ گی۔۔۔
جسم ہنوز کپکپا رہا تھا۔۔۔ وہ کل صبح سے خوفزدہ تھی۔۔۔ سر کو ہاتھ سے شدت سے دباتی وہ مسلسل اس مسلے کا کوئی حل سوچ رہی تھی۔۔۔ وہ سلطان سے ٹکرائے بنا اسکی انا کو ٹھیس پہنچائے بنا ۔۔۔ اس مسلے کو سلجھانا چاہتی تھی۔۔۔ جو وہ چاہتا تھا وہ عروب مر کر بھی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اسکی بات مان کر بھی مرتی تھی اور نا مان کر بھی مرتی ۔۔۔
اسکے اندر بے چینی بڑھنے لگی۔۔۔۔
اسے شدت سے اس وقت گھر میں کسی بڑے کی کمی محسوس ہوئی۔۔۔ کاش کوئی سلطان کا بھی بڑا ہوتا جسکے پاس وہ اپنے معاملہ لے جاتی جو کسی نا کسی طرح سلطان کو قائل کر لیتا۔۔۔ بڑے پن سے انکا معاملہ سلجھا دیتا۔۔۔ وہ بے چینی سے سر دباتی ادھر ادھر دیکھتی مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔ لیکن سوچیں منتشر تھی انہیں کوئی مرکز مل ہی نا رہا تھا۔۔۔
وہ شخص قول کا پکا تھا۔۔۔ التجا اس پر اثر نا کرتی۔۔۔ فریاد کو وہ مانتا نا تھا۔۔۔ ابھی تک وہ اس سے اپنی کوئی بات منوا نا سکی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں تھا وہ اتنا پتھر دل۔۔۔ لیکن جو بھی تھا وہ اپنے بچے کے ساتھ اسقدر ظُلم نہیں ہونے دے سکتی تھی۔۔۔ 
******
سلطان سیڑھیاں اترتا نیچے آیا اور باہر لان میں نکل آیا۔۔۔ اندر کی تلخی بڑھنے لگی تھی۔۔۔ اسنے شرٹ کے اوپری دونوں بٹن کھول دیئے اور لان میں پڑی کین کی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔۔۔
عروب کی باتوں نے ضمیر جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ ماتھے پر مسلسل ہاتھ مارتا خود کو کمپوز کر رہا تھا۔۔۔ عورت ذات کا کوئی اعتبار نہیں۔۔۔ وہ گرگٹ کی مانند اپنی باتوں سے پھر جاتی ہے۔۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کیساتھ اسکی آنکھوں کی سرخی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ بارہا خود کو باور کروا رہا۔۔۔
ہادی اور فبیحہ کو ایک ٹراما سے گزرنے کے بعد نارمل کرنے میں اسے جتنا وقت لگا تھا وہ دوبارہ کسی ننھی جان کے لئے ایسا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔ وہ اپنے بچوں کی بے خوابی کا گواہ تھا۔۔۔ ایک عرصہ لگا اسے ان بچوں کو نارمل لائف سٹائل دینے میں۔۔۔ ناجانے عروب کن ماوں کی مثالیں دے رہی تھی۔۔۔ لیکن ایک بات طے تھی وہ دوبارہ کسی عورت کی باتوں میں نہیں آسکتا تھا۔۔۔ کوئی جذباتی تقریر اسے چند برس پچھلے وقت تک کھینچ کر نہیں لے جا سکتی تھی۔۔۔ وہ اندر چٹکیاں کاٹتے ایک احساس کو تھپک تھپک کر سلا رہا تھا۔۔۔ آج اس مقام پر وہ ایک عورت کی ایموشنل باتوں کے ہاتھوں دوبارہ بے وقوف نہیں بن سکتا تھا۔۔۔
فیصلے پر مہر ثبت کرتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔ دوبارہ سے وہ حالات ہاتھوں سے نکلنے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔
*****
ماہیر کھوئی کھوئی سی لاوئنج میں صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔ بال پشت پر پھیلے تھے جبکہ سبز آنکھیں شب خوابی کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔ وہ ناجانے کن سوچوں میں محو پرواز تھی جب مسکراتا ہوا احمر اسکے پاس آ کر بیٹھا۔۔ 
انٹرویو کی تیاری کیسی ہے ماہیر۔۔۔ اسنے محبت سے ہاتھ اسکے بالوں میں پھیرا۔۔۔
ماہیر نے ویران نگاہیں اٹھا کر احمر کو دیکھا۔۔۔ فائدہ تیاری کرنے کا احمر ۔۔۔ چاہیے میں کچھ بھی کرلوں رہنا تو مجھے آپکی بیوی ہی ہے۔۔۔ 
اسکے نافہم انداز پر احمر جھٹکا کھا کر سیدھا ہوا۔۔ چہرے کی مسکراہٹ تک غائب ہو گئ۔۔۔
کہنا کیا چاہتی ہو ماہیر۔۔۔ 
یہ ہی۔۔  کے میں چاہیے اس دنیا میں کسی بھی مقام تک پہنچ جاوں۔۔۔ میری پہچان تو ایک معمولی شخص ہی ہے نا۔۔  پہچانا تو میں نے آپکے نام سے ہی جانا ہے۔۔۔ میں ترقی کی چاہیے جتنی بھی منازل طے کر لوں چاہیے جتنی بھی کامیاب ہو جاوں ۔۔۔۔حوالہ تو میرا آپ ہی ہے نا کہ میں ایک عام سے شخص اور معمولی سے بزنس مین کی بیوی ہوں۔۔  پھر فائدہ اتنا کچھ کرنے کا یا مزید انٹرویوز دینے کا۔۔۔
اسکا بے تاثر لہجہ کس کس انداز میں احمر کا سینہ چھلنی کر رہا تھا کاش کے وہ جان پاتی۔۔۔ احمر کو اپنا دل اسکے لفظوں کے زہریلے نشتروں سے کٹتا محسوس ہوا۔۔۔
ماہیر تمہیں اندازہ ہے تم کیا بول رہی ہو۔۔۔ کیا کچھ نہیں کیا میں نے تمہارے لئے۔۔۔ کہاں کہاں نہیں لڑا میں تمہیں کسی مقام پر پہنچانے کے لئے۔۔۔کس کس سے نہیں ٹکرایا میں۔۔۔ لمحہ با لمحہ تمہارا سہارا بنا ۔۔۔ تمہیں ہر اگلی سیڑھی پر پہنچانے کے لئے سو سو جتن کرتا رہا اور تم۔۔۔ تم کہہ رہی ہو کے۔۔۔
ٹوٹے بکھرے لہجے میں کہتے اسکے الفاظ کھونے لگے۔۔۔ بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔ یہ اسکی ماہیر کے الفاظ تھے بھلا۔۔۔ اسکی ماہیر کے۔۔۔ جو اسکی آتی جاتی سانسوں کی وجہ تھی۔۔۔
جی آپ نے یہ سب کیا سلطان۔۔۔ وہ کرب زدہ نگاہوں سے اسے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔ کیونکہ آپ یہ ہی سب کر سکتے تھے۔۔۔ آپ خود کچھ نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ اس لئے آپ مجھے سہارا دیتے رہے کیونکہ یہ ہی ایک آسان کام تھا آپ کے لئے۔۔۔ وہ سفاکی سے کہتی احمر کو جہاں کا تہاں چھوڑے اٹھ کر اندر بڑھ گئ۔۔۔
****
احمر کافی وقت سائیں سائیں کرتے دماغ کے ساتھ وہیں بیٹھا رہا۔۔۔ ماہیر جو باتیں کہہ کر گئ تھی دماغ ان سب کو ماننے سے انکاری تھا۔۔۔ عقل نے کچھ کام کرنا شروع کیا اور اپنی زندگی کی محبوب ترین عورت پر جب غصہ بڑھنے لگا تو وہ گاڑی کی چابی اٹھاتا گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔ یہ احساس ہی جان گسل تھا کے وہ اسکی سبھی قربانیوں کو آپشن کا نام دے چکی تھی۔۔ غصے کے زیر اثر وہ ناجانے کتنی دیر تک سڑکوں کی خاک چھانتا رہا۔۔۔  رات کے سائے گہرے ہونے لگے تو اسنے بے دلی سے گھر کی راہ لی۔۔۔دماغ چٹخ رہا تھا
غصے سے کنپٹیوں کی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔  اندر ایک جوار بھاتا پک رہا تھا۔۔۔
اسکے آنے تک بچے سو چکے تھے۔۔۔ وہ انکے کمرے پر ایک نگاہ ڈالتا اپنے کمرے میں آگیا۔۔۔ وہ ہنوز صوفے پر بیٹھی گم صم سی تھی۔۔۔
کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ وہ خون خوار تیور لئے اسکے سر پر آن پہنچا۔۔۔ وہ حیرت سے سر اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔
علیحدگی چاہتی ہو۔۔ طلاق کے بعد کسی ہم پلہ کو اپنانا چاہتی ہو۔۔۔ سرخ پڑتی نگاہوں سے ناجانے وہ کیسے ضبط کی منازل طے کرتا بول رہا تھا۔۔۔
جب وہ تڑپ کر آگے بڑھتی سرعت سے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ جما گئ۔۔۔
کیا بول رہے ہیں احمر۔۔۔ ایسی سوچ آپکے دماغ میں آئی بھی کیسے۔۔  اسکی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئ۔۔۔
میں آپ سے علیحدگی اختیار کروں گی۔۔۔ اللہ۔۔۔ وہ جیسے صدمے کے زیر اثر گویا ہوئی۔۔۔
میری دنیا میرے شوہر اور بچوں سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہوتی ہے۔۔۔ یہ گھر میرا آشیانہ ہے۔۔۔ آپ سے کچھ چھپا نہیں سکتی میں احمر۔۔۔ اس لئے میرے دل میں جو تھا میں نے کہہ دیا۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں نے دوست سمجھ کر آپ سے اپنے احساسات شیئر کئے ہیں۔۔۔ شوہر دوست بھی تو ہوتا ہے نا۔۔۔ میں آج کل خود ہی خود کو سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔ مجھے آپکی ضرورت ہے احمر۔۔۔ آپکا ساتھ چاہیے ہر دفعہ کی طرح۔۔۔ آپ مجھے پہلے سے زیادہ محبت دیں گے تو میں نکل آوں گی اس فیز سے۔۔۔ میں سب بھول جاوں گی۔۔۔ پلیز ایسی بات دوبارہ زبان سے مت نکالنا ۔۔۔ وہ اسکے سامنے کھڑی سسک اٹھی۔۔۔ اور احمر۔۔۔ اسے کہاں منظور تھا اپنی ماہیر کی آنکھوں میں آنسو دیکھنا۔۔۔ سارا غصہ ساری تلخی  انہی آنکھوں کی نمی کے ساتھ کہیں بہہ گئ تھی۔۔۔ اسنے شدت سے ماہیر کو کسی متاع جان کی طرح خود میں بھینچا۔۔۔
میں دوں گا تمہیں محبت ۔۔۔ بہت بہت زیادہ محبت اسنے اسکے بالوں کا بوسہ لیا۔۔۔
******
اگلی صبح بہت سوگوار تھی۔۔۔ عروب نے خاموشی سے ناشتہ تیار کیا۔۔۔ آج بچوں کو سکول سے چھٹی تھی اس لئے صبح کا وقت زیادہ مصروف ترین نا تھا۔۔ بچے آرام سے سو رہے تھے۔۔۔ وہ سلطان کا ناشتہ بنا کر کمرے میں ہی لے آئی۔۔۔
تم نے ناشتہ کیا۔۔۔ وہ شیشے کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم سپرے کرتا شیشے سے نظر آتے اسکے مضحمل سراپے کو دیکھتا نارمل انداز میں گویا ہوا۔۔۔
نہیں ابھی بھوک نہیں۔۔۔ اسنے آنسو حلق سے اتارتے ٹرے میز پر رکھی۔۔۔
آو میرے ساتھ ہی ناشتہ کرو۔۔۔ وہ ٹرے رکھ کر پلٹنے لگی جب سلطان نے صوفے پر بیٹھتے اسکا ہاتھ تھام کر اسے بھی اپنے ساتھ ہی بیٹھایا۔۔۔۔ وہ کٹی ڈال کی طرح ڈھنے کے انداز میں بیٹھ گئ۔۔۔
سلطان خود نوالے بنا کر اسکے منہ میں ڈالنے لگا۔۔۔ وہ دکھی دل کیساتھ بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھتی منہ کھولتی آہستہ آہستہ کھانے لگی۔۔۔
کاش یہ شخص ہمیشہ یونہی رہے۔۔۔ لیکن اسنے ایک بات شدت سے نوٹ کی تھی۔۔۔ وہ ایک آئیڈیل شوہر تھا لیکن تب تک جب تک عروب اسکی مانتی رہے۔۔۔ جہاں اختلاف رائے شروع ہوتا یا وہ اسکے فیصلے کے خلاف جانے کی کوشیش کرتی وہ لمحوں میں سب بھول جاتا۔۔
اپنی حد تک تو سب ٹھیک تھا لیکن اپنے بچے کے معاملے میں وہ اسکی باتیں نہیں مان سکتی تھی۔۔
میری ایک ضروری میٹنگ ہے دس بجے تک میں واپس آ جاوں گا پھر ہسپتال چلیں گے تم تیار رہنا۔۔۔
اسنے ناشتہ کر کے نرمی سے اسکا گال سہلایا۔۔۔ عروب کو لگا جیسے اندر سے کوئی بے رحمی سے اسکا دل نوچ لے گیا ہو۔۔۔
اسنے اپنے گال پر رکھا سلطان کا ہاتھ تھاما اور گلے تک لے گئ۔۔۔ گلے پر اسکا ہاتھ رکھتے دباو بڑھانے لگی۔۔۔
سلطان نے اسے تعجب سے اسے دیکھا۔۔۔ مجھے مار دیں سلطان۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے میری جان لے لیں۔۔۔ لیکن میں وہ نہیں کروں گی جو کرنے کو آپ مجھے بول رہے ہو۔۔۔ وہ نم مگر اٹل لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ 
تم مجھ سے انحراف کرو گئ۔۔۔ وہ گردن سے ہاتھ ہٹاتا پیچھے سے اسکے بالوں تک لے جاتا اسکے بال مٹھی میں جھکڑ گیا۔۔۔ 
اممم ہممم۔۔ وہ مسکراتی نم آنکھوں سے سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔ میری اتنی جرات جو آپ کی بات سے انحراف کر جاوں۔۔۔ آپکے سامنے اس وقت آپکی بیوی نہیں ایک ماں ہے جو اپنے بچے کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔۔۔ اور قسم خدا کی سلطان ۔۔۔ آج اگر یہ ماں ہار گئ نا تو لعنت ہے مجھ جیسی ماں پر جو اولاد کے حق کے لئے لڑ تک نا سکے۔۔ بہتی آنکھوں سے سخت لہجے میں وہ بہت سخت بات بول گئ تھی۔۔۔۔دیکھو عروب تم ایک اچھی لڑکی ہو۔۔۔ اور میں تم پر کوئی زور زبردستی کرنا نہیں چاہتا۔۔۔ اس لئے اگر چاہتی ہو کے کوئی بدمزگی پیدا نا ہو تو ایک گھنٹے تک تیار رہنا دس بجے ہم ہسپتال جا رہے ہیں۔۔۔ یہ عروب کے نرم لہجے کا اعجاز ہی تھا کے سلطان جیسا بات بات پر ہائپر ہونے والا شخص چاہ کر بھی اسکے ساتھ سختی سے پیش نہیں آسکتا تھا۔۔۔
آپ اس معاملے میں میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے سلطان۔۔۔ وہ چہرا مورتی گویا ہوئی۔۔۔
اور تم یہ اولاد کیوں چاہتی ہو عروب۔۔۔ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں۔۔۔ وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ ابھی اسکے پاس دس منٹ تھے۔۔۔
اس گھر میں اپنے قدم مضبوط کرنے کو۔۔۔ اولاد کے ذریعے مجھے بلیک میل کرنے کو۔۔۔ اور اولاد کے ذریعے مجھ پر پڑاپڑتی کا حصہ کلیم کرنے کو۔۔۔ 
فار گاڈ سیک سلطان۔۔۔ وہ ابھی بول رہا تھا جب وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامتی چٹخ اٹھی۔۔۔
کیوں آپکو لگتا ہے کے دنیا کی ہر لڑکی دھوکے باز ہے اور وہ آپکو دھوکہ دے گی۔۔۔ 
وہ شاکی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ دراصل آپکا پالا ابھی تک عروب سلطان سے نہیں پڑا۔۔۔ غریب باپ کی اولاد ضرور ہوں لیکن میرا باپ خدار تھا۔۔۔  میرے بیک گراونڈ اور سٹیٹس کو دیکھ کر میری ذات کو ڈیفائن مت کریں۔۔۔ وہ پھر سے رو دی۔۔۔
عورت کی وفا بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔۔۔ نہیں ہوں میں بے وفا کیسے یقین دلاوں۔۔۔ ایک موقع تو دے کر دیکھیں۔۔۔ کچھ نہیں چاہیے مجھے۔۔۔ لکھ کر دے دیتی ہوں۔۔  آپکی طرف سے پڑاپڑتی میں میرا جو شرعی حصہ بنتا ہے وہ بھی میں خوشی سے اپنے بچوں کے نام کرتی ہوں۔۔  لیکن اپنے بچے کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ اسنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو رگڑے۔۔۔ 
بار بار بچے کے نام پر مجھے بلیک میل کرنا بند کرو۔۔۔ وفا ہی ثابت کرنی ہے نا تو کرو ثابت۔۔۔ پہلے یہاں تک تو شوہر کے ساتھ وفا نبھا کر دکھا دو آگے کی بات تو بہت دور کی۔۔۔ شوہر کی ایک بات مانتے تو تمہیں موت پڑ رہی ہے۔۔۔
پہلے یہاں میرے ہمقدم ہو کر میری بات مان کر دکھاو پھر آگے کی بات کرنا۔۔۔ اسکا غصہ بھی اب اس لاحاصل بحث سے بڑھنے لگا تھا۔۔۔
پہلے وفا کا مطلب سمجھ کر آئیں آپ۔۔۔ کسی کے قدموں تلے سے اسکی جنت نوچ کر الگ کرنے کا نام وفا نہیں ہے سلطان۔۔۔ اسے اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔۔۔
ہاں صحیح کہا تم نے یہ وفا نہیں ہے۔۔۔ مگر اپنی لاحاصل خواہشات کے پیچھے اسی اولاد کو خود سے الگ کر کے ذہنی مریض بنا دینا وفا ہے تمہاری نظر میں۔۔۔ اسکا دماغ بے طرح گھوما تھا۔۔۔ عروب سلطان میری بات کان کھول کر سن لو۔۔۔ ایک گھنٹے بعد تم مجھے بالکل تیار ملو۔۔۔ اور اب ایک لفظ نہیں سنو گا میں۔۔۔
انگلی اٹھا کر سختی سے وارن کرتا وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ عروب کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند ڈھ گئ۔۔ پھر یک قادم ہی ایک فیصلہ کر کے اٹھی۔۔۔ ایسے تو ایسے ہی سہی۔۔۔
ایک عورت کمزور ہو سکتی ہے۔۔۔ ایک بیٹی کمزور ہو سکتی ایک بیوی بھی کمزور ہو سکتی ہے۔۔۔ مگر ایک ماں کبھی کمزور نہیں ہو سکتی۔۔۔  اسے بھی اگر اپنے بچے کے لئے ایک پل صراط پار کرنا تھا تو وہ اسکے لئے بھی تیار تھی۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4