Mera Aashiyana novel 12th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 12th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
بارہویں قسط۔۔۔
زندگی اپنی ڈگر پر چل نکلی تھی۔۔۔ سلطان بہتریں نا سہی لیکن مجموعی طور پر ایک اچھا شوہر ثابت ہو رہا تھا۔۔۔ جو عروب کی ضروریات زندگی کا خیال رکھتا۔۔۔ انہیں اپنے ساتھ آوٹینگ پر بھی لے جاتا۔۔۔ اپنا موڈ ہوتا تو ڈنر اور لنچ کے ساتھ ساتھ آئسکریم کھلانے بھی لے جاتا۔۔۔ گھر کی حد تک عروب کو ہر آزادی حاصل تھی۔۔۔ وہ گھر کے معاملات میں دخل اندازی نا کرتا۔۔۔
لیکن کچھ معاملات میں وہ کٹر تھا جن کے لئے اسکے پاس کوئی گنجائش نا تھی۔۔۔۔
جھوٹ سے اسے نفرت تھی اور غلط بیانی کرنے والے کو وہ آنکھوں سے سالم نگل جاتا۔۔۔
عروب اسکے سامنے جھوٹ بولنے کا تو تصور بھی نا کر سکتی تھی۔۔۔ کئ دفعہ سلطان کو اچھے موڈ میں دیکھ کر عروب نے اسے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کرنے پر قائل کرنا چاہا۔۔۔ لیکن یہ بات سنتے ہی سلطان کا فشار خون سیکنڈوں کے حساب سے بلند ہونا شروع ہوتا۔۔۔ رفتہ رفتہ عروب نے اس ٹاپک کو ہی زندگی سے نکال دیا۔۔۔۔
مجموعی طور پر اگر عروب سے پوچھا جاتا تو ایک پڑھائی ادھوری رہ جانے کی خلش کے علاوہ اسکی زندگی میں دوسرا کوئی خلش نا تھا۔۔۔
وہ سارا دن خود کو مصروف رکھتی۔۔۔ اتنا بڑا گھر تھا جسکا کونا کونا وہ سنوارتی سجاتی۔۔۔ اسکی بیشتر خریداری اسکے گھر کے لئے ہی ہوتی۔۔۔
موبائل استعمال کرنے کا ابتدائی خوف بھی اب تو جاتا رہا تھا۔۔۔ شروع میں سلطان نے باقاعدگی سے اسکا موبائل چیک کیا لیکن کچھ بھی غیر معمولی نا پا کر اسکی اس عادت میں کمی آتی گئ۔۔۔
اب بھی وہ کبھی کبھار اسکا موبائل اٹھاتا ضرور لیکن وہ دیکھ کر بھی نظر انداز کر جاتی۔۔۔
اگر اسکے شوہر کی تسلی یوں ہوتی تھی تو یوں ہی سہی۔۔۔ جب وہ غلط تھی ہی نہیں تو وبال کیوں اٹھاتی۔۔۔ لیکن سوچتی ضرور کے کبھی نا کبھی تو وہ شخص اس پر مکمل یقین کرنے لگے گا نا۔۔۔
وہ اس کے لئے اعتبار کی سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا اسکے بدلے انداز اور نرم رویہ گواہ تھا اس بات کا۔۔۔ اور عروب کے اطمیئنان کے لئے یہ کافی تھا۔۔۔
وہ شوہر کے مزاج کے رنگوں کو اچھے سے سمجھنے لگی تھی۔۔۔ اسکے ٹریگر پوائنٹس اسے انگلیوں کی پوروں پر یاد تھے۔۔۔
وہ شخص عام حالت میں جتنا اچھا تھا غصے میں آپے سے باہر ہوتا ہر لحاظ بھول جاتا۔۔۔ اس لئے عروب شعوری کوشیش سے ہر اس عمل سے دور رہتی جو اسکے غصے کا باعث بنتا ۔۔۔
رہنا جب وہیں تھا تو ضروری تھا کے اسکی مزاج آشنا بن کر بدمزگی سے گریز کیا جاتا۔۔۔
موبائل سب کی ضرورت تھی اور وہ بھی فارغ وقت میں موبائل سکرول کر لیتی۔۔۔
سارا دن گھر کے کاموں اور بچوں میں مصروف رہتی ۔۔۔ کبھی کبھار پڑھائی مکمل نا ہونے کا قلق دل میں اٹھتا تو گہرا سانس خارج کر کے خود کو دوسرے کاموں میں مصروف کرنے لگتی۔۔۔
ایسے میں پھر موبائل ہی اٹھا لیتی۔۔۔ اب بھی اونلائن شاپنگ کی ویب سائٹ کھولے وہ گھر کے لئے کچھ ڈیکوریشن پیسز دیکھنے لگی۔۔۔
کچھ اونلائن چیزیں پسند کر کے اسنے آرڈر بک کروایا اور ایڈریس کی جگہ پر سلطان کے آفس کا ایڈریس لکھ کر رابطہ نمبر پر اسی کا نمبر دے کر کیش آن ڈیلیوری سیلیکٹ کر دیا۔۔۔
آرڈز کنفرم ہوتے ہی اسنے اسکا سکرین شارٹ لے کر سلطان کو واٹس ایپ کرتے اسکے لئے میسج چھوڑ دیا۔۔۔
کچھ شاپنگ کی ہے ایڈریس آپکے آفس کا دیا ہے۔۔۔ آج کل میں جب رسیو ہو جائے تو پیمنٹ کر کے گھر لے آئیے گا۔۔۔
میسج کر کے اسنے موبائل سامنے میز پر رکھا اور اپنا سر سہلانے لگی۔۔۔ صبح سے طبیعت آج کچھ بہتر نا تھی۔۔۔ عجیب کسلمندی اور قنوطیت سی طبیعت پر چھائی ہوئی تھی۔۔
کچھ بھی تو اچھا نا لگ رہ تھا۔۔۔ بچے سکول سے آنے کے بعد آرام کر رہے تھے۔۔۔
یکدم ہی اسکا دل گھبرانے لگا تو وہ بے چینی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ وہ تھوری دیر پہلے ہی شاور لے کر آئی تھی ہلکے نم بال ہنوز پشت پر پھیلے تھے۔۔۔ آنچل کندھے ہر ڈھلک آیا تھا۔۔۔
ٹھنڈا پانی پینے کی غرض سے وہ صوفے سے اٹھنے لگی جب ایک زوردار چکر آیا وہ سر پر ہاتھ رکھتی لہرا کر رہ گئ۔۔۔
یہ اسکے ساتھ ہو کیا رہا تھا۔۔۔ وہ گھبرا اٹھی۔۔۔
ابھی اسنے دوسرا قدم اٹھایا ہی تھا جب پھر سے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔
مسز سلطان آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔ دفعتا ہادی اپنے کمرے سے نکلا لیکن اسے سر پر ہاتھ رکھے لہراتا دیکھ دوڑ کر اس تک آیا اور اسے بازووں سے تھامتے سہارا دیا۔۔۔
سہارا پا کر وہ زرا سمبھلی ورنہ شاید زمین بوس ہو جاتی۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ صوفے پر واپس بیٹھتی ہی وہ سر زور سے دونوں ہاتھوں میں جھکڑے حواس بحال کر رہی تھی جب ہادی کی فکرمندانہ آواز گھونجی۔۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ بس چکر سے آ رہے ہیں اور دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔ وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی بے چینی سے گویا ہوئی۔۔۔
ہادی بھاگ کر فریج سے پانی کی بوتل اٹھا لایا۔۔۔ اور پانی گلاس میں انڈیل کر اسے تھمایا۔۔۔
آپ یہ پانی پیئں میں ساتھ والے بنگلے سے آفہیم کی ممی ڈاکٹر آنٹی کو بلا لاتا ہوں۔۔۔ اس وقت تک وہ ہسپتال سے آ جاتی ہیں۔۔۔ وہ وال کلاک کی جانب دیکھتا باہر کو بھاگا۔۔۔
عروب نے اسے روکنا چاہا مگر تب تک وہ جا چکا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ایک ڈیسینٹ سی عورت کے ہمراہ واپس آیا ۔۔۔
آتے ہی اس عورت نے خیر مقدمی جملے کے تبادلات کے بعد اسکا پراپر چیک آپ شروع کیا اور جو بات اسنے بتائی وہ عروب کی زندگی میں خوشگوار ہوا کا جھونکا بن کر آئی۔۔۔
مبارک ہو مسز سلطان آپ امید سے ہیں۔۔۔
اس ایک جملے نے اسکے ہونٹوں پر پھول کھلا دیئے۔۔۔ اسے یکدم ہی اپنے ارد گرد سب خوبصورت لگنے لگا تھا۔۔۔
******
ماہیر کو جیسے کچھ اندر سے کھانے لگا تھا۔۔۔ وہ وہ ماہیر رہی ہی نا تھی جسکی مثالیں لوگ دیتے تھے۔۔۔ سب سے پہلے تو اسکے معمولات زندگی متاثر ہونے لگے تھے۔۔۔ وہ صبح خیر لڑکی فجر کی پہلی اذان کیساتھ اٹھ جانے والی۔۔۔ جسکا ایک ایک منٹ پلین ہوتا۔۔۔ جو وقت کی پاسداری کرتی۔۔۔ جسکی زندگی نام ہی ڈسپلن کا تھی۔۔۔ وہ پہروں بے مقصد چت لیٹی رہتی۔۔۔ نا اسے گھر کا ہوش تھا اور نا ہی یونیورسٹی کا۔۔۔ اکیڈمی جانا تو وہ بھولتی ہی جا رہی تھی۔۔۔
آج وہ کافی دنوں بعد اندر بھر چکے غبار سے تنگ آ کر ماں سے ملنے آئی تھی۔۔۔ اسکا بھائی باہر شفٹ ہو چکا تھا۔۔۔ گھر وہ جانے سے پہلے فناششلی کرائسس کے باعث بیچ چکا تھا۔۔۔ وہاں جا کر اسنے ماں کو بھی کئ بار اپنے پاس بلانا چاہا مگر ماں اپنا وطن چھوڑنے کو تیار ہی نا تھی۔۔۔ ہر ماہ وہ ماں کو باقاعدگی سے خرچ بھیچتا۔۔۔ ماہیر نے بھی ماں کو اپنے پاس بلانا چاہا مگر وہ بیٹی کے گھر جانے کو راضی نا ہوئی۔۔۔
ماں نے اپنے ہی گھر میں بطور پے انگ گیسٹ رہنا چاہا۔۔۔ مگر مالک مکان اسی محلے کے ہونے کے باعث انہوں نے ان سے وہ بھی لینے سے انکار کر دیا ۔۔۔ اوپر کا پورشن کرائے پر چڑھا دیا گیا جبکہ نچلے پورشن میں ماں ابھی بھی رہ رہی تھی۔۔۔ ماں کے سب سے تعلقات اتنے بہتریں تھے کے مالک مکان کا کہنا تھا کے اپنی حیاتی میں آپ جب تک چاہیں وہاں رہ سکتی ہیں۔۔۔ محلے میں ماں کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔۔۔ محلے کے کم و بیش سبھی بچوں نے ان سے ہی قرآن پڑھا تھا اور اب اگلی نسل بھی پڑھ رہی تھی۔۔۔
ماں کے پاس آتے ہی وہ انکی گود میں سر رکھتی لیٹ گئ۔۔۔ آنسو لکیروں کی مانند کنپٹیوں میں جذب ہونے لگے۔۔۔
اے پگلی۔۔۔ ہوا کیا ہے۔۔۔ مجھے تو بتا۔۔۔ اب یوں ماں کو پریشان کرے گی۔۔۔ ماں نے محبت سے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
ماں دل پر بوجھ بہت ہے۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔۔ میں اپنی ہی نگاہوں میں گناہگار ہو رہی ہوں۔۔۔ وہ دل کی کیفیت سے تنگ آ کر گویا ہوئی۔۔۔
کیسا بوجھ ماہیر۔۔۔ کیا غلط کیا ہے تم نے۔۔۔ ماں چونکی۔۔۔
خیالات پر اختیارات نہیں رہا ماں۔۔۔ وہ میرے دل کو اپنی مرضی سے موڑ رہے ہیں۔۔۔ اور میں خود سے ہی خوفزدہ ہوتی جا رہی ہوں۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رہ دی جیسے بہت تکلیف میں ہو۔۔
بیٹا الٹے سیدھے خیالات دل میں ڈالنا شیطان کا کام ہے۔۔۔ کیونکہ وسوے دلوں میں ڈالنے کی اجازت اسے اللہ نے دے رکھی ہے۔۔۔ جسکا وہ خوب خوب فائدہ اٹھاتا ہے۔۔۔ کوئی اسکے وسوسوں سے جان چھڑوانا بھی چاہیے تو اس پر بار بار حملہ کرتا ہے۔۔۔
لیکن بیٹا شیطان صرف وسوے ڈال سکتا ہے۔۔۔۔ ایڑی چوٹی کا زور بھی لگائے تو بھی صرف وسوے ہی ڈال سکتا ہے آگے عمل کرنا نا کرنا بالکل انسان کے اختیار میں ہوتا ہے۔۔۔
جیسے ایک دفعہ ایک صحابہ کرام رسول اکرم کی خدمت میں حاظر ہوئے اور فرمایا یا رسول اللہ میرے دل میں ایسے ایسے وسوے آتے ہیں کے اگر میں یہاں بتا دوں تو قتل ہو جائیں۔۔۔ اور ایسے وسوسوں پر میرا دل چاہتا ہے کہ میں خود کو ہی آگ لگا لوں۔۔۔ ماں کی پرسوز آواز سن کر وہ ٹھہر گی۔۔۔ آنسو تھم گئے۔۔۔ وہ پوری توجہ سے ماں کو سننے لگی۔۔۔
پتہ ہے رسول اللہ نے کیا فرمایا۔۔۔ انہوں نے کہا کے وسوے شیطان دلوں میں ڈالتا ہے لیکن اگر ان وسوسوں کے جواب میں تمہارا دل چاہتا ہے کے تم خود کو آگ لگا لو تو وہی تو تمہارا ایمان ہے جو تمہاری ڈھال بن رہا ہے۔۔۔
ایک دم ماہیر کو لگا کے جیسے کسی نے ٹھنڈا ٹھار پانی اس پر ڈال دیا ہو۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے ہل تک نا سکی۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں پھر لبالب پانیوں سے بھر آئیں ۔۔۔ وہ ماں کو بتا نا سکی کے اسکا ایمان ہی تو کمزور ہو رہا تھا۔۔ وہ اختیار ہی تو کھو رہی تھی خود پر۔۔۔ اسے لگا وہ پاگل ہو جائے گی۔۔۔ یا دماغ کی کوئی نس پھٹ جائے گی۔۔۔
****
کچھ دیر بعد مصباح بھی اسکے بلانے پر وہیں چلی آئی تو ماں اٹھ کر انکے لئے چائے بنانے چلی گئ۔۔۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے ماہیر۔۔۔ یہ تم تو نا تھی۔۔۔ وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی جب مصباح تاسف زدہ سی گویا ہوئی۔۔ کیا تم اریز سے رابطے میں ہو۔۔ وہ محتاط سی گویا ہوئی۔۔۔
اس نام سے دل پر ایک ضرب سی لگی تھی۔۔۔ اسنے آنکھیں میچ کر کھولیں۔۔ اور سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔
وہ یونیورسٹی میں ہماری آخری ملاقات تھی۔۔۔ اسکے بعد اسنے اکیڈمی بھی چھوڑ دی۔۔۔ لیکن جاتے جاتے مجھے ایک مستقل روگ دے گیا۔۔۔
اس نے لب دانتوں تلے کچلے۔۔۔
اس روگ کا مطلب ماہیر۔۔۔ تم شادی شدہ دو بچوں کی ماں ہو۔۔ کیا تمہاری زندگی میں ان سب کی گنجائش نکلتی ہے۔۔۔ مصباح کسی ناصح کی طرح بولی۔۔۔
تم جانتی ہو نا ماہیر کے ایک عورت کا لڑکھڑانا پوری نسل تباہ کر جاتا ہے۔۔۔
ماہیر خود پر ہی مسکرا دی۔۔۔ کچھ دنوں پہلے تک یہ سمجھانے کی ڈیوٹی اسکی تھی لیکن اب تو جیسے عقل پر پڑدے پرنے لگے تھے۔۔۔ نا کچھ سجھائی دیتا نا ہی کچھ دکھائی دیتا بس ہر سو ایک ہی جملے کی بازگشت سنائی دیتی۔۔
آپکو نہیں لگتا کے آپ اس سے زیادہ ڈیزرو کرتی ہیں۔۔۔ اس سے کچھ بہت زیادہ۔۔۔ آسمانوں کی وسعتوں کو چھوتا ہوا کچھ اپنے ٹاکڑے کا ۔۔۔ کچھ میری طرح۔۔۔
یہ ایک جملہ اس پر آگاہی کے در وا کر گیا تھا۔۔ اس ایک جملے نے اسکی دن رات کی نیندیں اڑا دیں تھیں۔۔۔
یہ ہی تو غم ہے مصباح ۔۔۔ کاش وہ میری زندگی میں آٹھ نو سال پہلے آیا ہوتا۔۔۔ وہ پہلے کیوں نا آیا۔۔۔ لہجہ پھر سے بھرا گیا تھا۔۔۔
اب تم کیا چاہتی ہو ماہیر۔۔۔ مصباح نے سنجیدگی سے دریافت کیا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ میں خود کچھ نہیں جانتی۔۔ وہ بے بسی سے سر ہاتھوں میں گرا گئ۔۔
*****
سلطان کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا ہاتھ پشت پر بندھے تھے جبکہ چہرا سنجیدہ تھا۔۔۔
عروب بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اسکے چہرے پر حقیقی خوشیوں کے رنگ تھے۔۔۔ وہ ناجانے کب سے ضبط کئے بیٹھی تھی سلطان کے گھر آتے ہی اسنے سب سے پہلے یہ خبر ہی اسکے گوش گزاری تھی۔۔۔ اور تب سے ہی سلطان یونہی گم صم سا پیدل مارچ کر رہا تھا۔۔۔ اور عروب جو کے اب شوہر کے لہجے اور موڈ کے رنگوں کو سمجھنے لگی تھی اب تو اسے بھی شوہر کی اسقدر خاموشی اور سنجیدگی کھلنے لگی تھی۔۔۔
سلطان آپ خوش نہیں۔۔۔ وہ ہاتھ مسلتے گویا ہوئی۔۔۔
دیکھو عروب ۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکی طرف بڑھا۔۔۔ اسکے ہر اٹھتے قدم پر عروب کو اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئی۔۔۔ ناجانے کیوں اسکی چھٹی حس اسکے کسی خطرے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکے مقابل آ کر بیٹھا۔۔۔ عروب سانس تک روک گی۔۔۔
دیکھو عروب۔۔ ہماری فیملی مکمل ہے جس میں مزید کسی فرد کی گنجائش نہیں۔۔۔ وہ نرم مگر سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
عروب جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔
آ۔۔۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں سلطان۔۔۔لفظ ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔۔۔ وہ سمجھ کر بھی اسکی باتیں سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
وہی جو تم بہت اچھے سے سمجھ رہی ہو۔۔۔ صبح میرے ساتھ ہسپتال چلنا۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
عروب کے دل کو ایک گھونسہ پڑا ۔۔۔
ایسے کیسے سلطان۔۔۔ آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔۔۔ وہ سرعت سے اسکا ہاتھ تھام کر روک گئ۔۔۔
وہ اسقدر دل سوز بات پر سلطان پر چیخنا چلانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر سمجھ چکی تھی مقابل پر اسکے چیخنے چلانے کا اثر الٹا ہی ہوگا۔۔۔ تبھی ملتجی گویا ہوئی۔۔۔۔
اولاد ہے یہ بھی آپکی۔۔۔ کوئی بھلا اپنی اولاد کے بارے میں ایسا کیسے کہہ سکتا ہے۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا۔۔۔ اندر کہیں دل کو ڈھرکا بھی لگا تھا۔۔۔ آج تک وہ سلطان کے خلاف نا جا پائی تھی۔۔۔ حتمی فیصلہ اسی کا ہوتا۔۔۔ کاش وہ اسے قائل کر لے۔۔۔ دل سے ہوک سی نکلی۔۔۔
میرے پاس اولاد ہے۔۔۔ یہ عروب کے نرم لہجے کا اعجاز ہی تھا کے وہ ابھی تک ہائپر نا ہوا تھا۔۔۔ اور تمہیں بھی انہیں اپنی اولاد ماننا چاہیے۔۔۔
بلاشبہ آپکے پاس اولاد ہے اور میں انہیں اپنی اولاد مانتی ہوں۔۔۔ مگر یہ بھی تو آپکی ہی اولاد ہے۔۔۔ اور آپ مجھ سے میرا ماں بننے کا فطری حق نہیں چھین سکتے۔۔۔۔
اندر دل کو کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔۔۔ وہ فق ہوتی رنگت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتی اسکے مقابل آئی۔۔۔
یہ ہی تو بات ہے عروب۔۔۔ اگر تم ان بچوں کو اپنے بچے سمجھو تو خود کو اس حق سے محروم نا سمجھو۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔
لیکن سلط۔۔۔۔
بس ۔۔۔ اب اس موضوع پر مزید بات نہیں ہو گئ۔۔۔ تم صبح میرے ساتھ ہسپتال چل رہی ہو۔۔۔ اسے کچھ کہنے کو لب کھولتے دیکھ وہ حتمی انداز میں کہتا اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتا مڑ گیا جبکہ عروب اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتی رہ گئ۔۔
******

No comments