Header Ads

Mera Aashiyana novel 11th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 11th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

گیارہویں قسط۔۔۔
عروب گم صم سی کچن میں کھڑی لنچ تیار کر رہی تھی۔۔۔ بال ڈھیلی سی چٹیا میں مقید تھے اور دوپٹہ شانوں کے گرد لپٹا ہوا تھا یوں کے چٹیا اس میں مقید ہو کر رہ گئ۔۔۔
چہرا سوگوار تھا مگر اب وہ کل کے مقابلے میں بہتر تھی۔۔۔
دونوں بچے ابھی سکول سے آئے نہیں تھے۔۔۔ البتہ خلاف توقع سلطان باہر لاوئنج میں بیٹھا تھا آج وہ آفس نہیں گیا تھا۔ تھری سیٹر صوفے پر موجود ٹانگیں لمبی کئے دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے بظاہر وہ سامنے لگی دیوار گیر ایل سی ڈی کو دیکھ رہا تھا لیکن  ذہنی طور پر کہیں اور ہی پہنچا ہوا تھا۔۔۔
کل ہسپتال سے واپسی سے لے کر اب تک ان دونوں کے درمیاں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔ نا سلطان نے اسے مخاطب کیا نا ہی عروب خود میں اسے مخاطب کرنے کی ہمت جتا پائی۔۔۔ اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کے ہسپتال سے سیدھا وہ اسے اسی گھر لایا تھا۔۔۔
کھانا تیار کر کے ایک نگاہ کھانے کو دیکھتی وہ کچن سے نکلی۔۔۔ بچے بھی بس آنے ہی والے تھے۔۔۔۔
اسنے ایک اداس نگاہ سلطان پر ڈالی جو اب سیدھا ہو کر بیٹھا گھٹنوں پر کہنیاں رکھے ہاتھ میں تھامے موبائل پر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔
اسنے ایک سرد سانس ہوا کے سپرد  کی۔۔۔ یکدم ہی دونوں کے درمیاں بہت سی دوریاں آ گئ تھیں۔۔۔ اس رشتے میں فرینکنس تو پہلے ہی نام کی تھی لیکن اتنی اجنبیت بھی نا تھی۔۔۔
پیپر ۔۔۔پڑھائی۔۔۔ دو سالوں کی محنت ۔۔۔۔۔اپنے خواب۔۔۔۔ کیریئر سب کہیں محو ہو گیا تھا۔۔۔
ان سب کا درد اب بھی سینے میں کہیں مقید تھا جو اندر ہی اندر چٹکیاں کاٹتا۔۔۔۔ یا کوئی اسکا سینہ چاک کر کے دیکھتا کے وہاں ان ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں نے کیا کہرام مچایا ہے۔۔۔ کیسی تباہی کے دل زخمی زخمی ہو پڑا تھا۔۔۔ لیکن اسنے اس زخمی ہوئے دل کو خود ہی قدموں تکے کچل دیا تھا۔۔۔ تکلیف غضب کی تھی لیکن وہ لب سی گئ۔۔۔ مجال جو ایک سسکی تک کو اسنے لبوں سے آزاد ہونے کی اجازت دی ہو۔۔۔ اندر اٹھتے وبال کو زبردستی اندر ہی دفنا دیا۔۔۔ اس کوشیش میں وہ کس قدر ادھ موئی ہوئی کون جان سکتا تھا۔۔۔۔ 
 لیکن زندگی کی تلخ حقیقت جاننے کے بعد زندگی کی ترجیحات میں اول نمبر پر اسکا شوہر اور گھر آ گیا تھا۔۔۔
دو سال کی محنت ضائع جانے پر اب بھی کسی ڈراونے خواب کا گمان لگتا۔۔۔ دل کرلانے لگتا لیکن یہ اب زندگی کی دوسری ترجیح تھی۔۔۔دل کو مار  کر سہی لیکن اس پر وہ کمپرومائز کر سکتی تھی۔۔۔ لیکن گھر نہیں اجاڑ سکتی تھی۔۔۔
وہ شخص برا تھا۔۔۔ ظالم تھا۔۔۔ سفاک تھا۔۔۔ اکڑ مزاج تھا۔۔ عمر میں اس سے بڑا تھا۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ سانسوں کو مطلوب تھا۔۔۔ رشتہ ایسا بندھا تھا کے وہ اس سے دلی و جذباتی وابستگی رکھنے لگی تھی۔۔۔
اس میں سو برائیاں سہی لیکن وہ اسکی پرواہ بھی کرتا تھا اور احساس بھی۔۔۔ بھلے اسکے طریقے الگ تھے۔۔۔
یہ شخص اس کے لئے ناگزیر ہے یہ حقیقت اس پر تب ہی آشکار ہو گئ تھی جب وہ اسے اسکے باپ کے گھر چھوڑنے گیا تھا۔۔
اس کے غصے۔۔۔ اسکے دور جانے کے خوف۔۔۔اور اس شخص کے غصہ میں انتہائی قدم اٹھا لینے کے خیال سے ہی وہ اندر تک کپکپا اٹھی تھی۔۔۔
وہ اس شخص سے الگ نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ کسی قیمت پر نہیں۔۔۔
یہ گھر اسکا تھا۔۔۔ وہ اس گھر کی ملکہ تھی۔۔۔ اسے یہاں کوئی تکلیف نا تھی۔۔۔ نا لمبے چوڑے سسرال کی ٹینشن ۔۔۔ نا ساس نندوں کی روک ٹوک۔۔۔ ہاں بس شوہر کے موڈ بدلنے کا پتہ نا چلتا تھا۔۔۔
لیکن وہ رفتہ رفتہ اسکے بدلتے موڈ کو بھی سمجھنے لگتی۔۔۔
وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی لاوئنج میں اکر اسکے پاس ہی سنگل صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
سلطان اسکی جانب بنا متوجہ ہوئے موبائل پر جھکا رہا۔۔۔
کچھ دیر تک اسے دیکھتے رہنے کے بعد اسکی نگاہ سلطان کے ہاتھ میں موجود موبائل پر گئ۔۔۔ اسکی ریڈھ کی ہڈی تک میں ایک سرد لہر سرائیت کر گی۔۔۔
تھوک نگلتی وہ زرا سیدھی ہوئی۔۔۔
وہ اسکا موبائل تھا۔۔۔ سلطان اسکے موبائل کو چیک کر رہا تھا۔۔۔ ایک ایک فولڈرز ایک ایک سوشل اکاونٹ۔۔۔
اسے اپنے جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔ اند کہیں موجود دل کپکپا اٹھا۔۔۔ 
وہ غلط نا تھی۔۔۔ نا ہی موبائل میں کچھ الٹا سیدھا تھا جس سے وہ خوف زدہ ہوتی۔۔ لیکن سلطان کا غصہ اور کل کا ردعمل ایسا تھا کے اسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
وہ گہرا سانس لے کر خود کو کمپوز کرتی ڈھیلا چھوڑ گئ۔۔۔
دل ہی دل وہ مختلف قرآنی آیات کا ورد کرنے لگی تھی۔۔۔
وہ اب ایک کے بعد ایک اسکے سبھی سوشل اکاونٹس ڈیلیٹ کرنے لگا تھا۔۔۔ وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتی نظر انداز کئے خاموش رہی۔۔۔
یہ موبائل صرف تمہارے لیے رابطے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔۔۔ اس کے علاوہ اس پر  میں تمہارا کوئی فضول سوشل اکاونٹ نا دیکھوں ۔۔۔ 
اپنا کام ختم کر کے وہ اسکی طرف دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔۔ دل میں بہت سے سوال جنم لئے۔۔۔ اندر بھڑکتا الاو پھٹنے کو ہوا۔۔۔ وہ بولتی بولتی رک گئ۔۔۔ لب سی گئ۔۔۔ نہیں ابھی نہیں۔۔۔ اسنے اندر ہی اندر خود کو تھپکی دی۔۔۔ ابھی وہ گیلی زمین پر کھڑی تھی۔۔۔ ابھی بولنا خود کو اسی گیلی زمین پر کیچر کے سپرد کرنے کے مترادف تھا۔۔۔ صبر ۔۔۔ صبر۔۔۔ اس شخص کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار ۔۔ پھر جواب طلبی بھی ہوگئ۔۔۔ وہ بار بار خود کو مختلف تھپکیاں دیتی سمجھا رہی تھی۔۔۔ اندر اٹھتے وبال کو بہلا کر سلا رہی تھی۔۔۔ ابھی نہیں۔۔۔ ابھی بالکل نہیں۔۔۔۔ انتظار۔۔۔۔
اگر اس موبائل فون کی وجہ سے میرے گھر میں بیگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے نا سلطان ۔۔۔۔۔۔تو مجھے یہ فون چاہیے ہی نہیں۔۔۔ وہ اسے دیکھتی نرمی سے گویا ہوئی۔۔۔
رہ گئ بات آپ سے رابطے کی ۔۔۔ تو گھر میں ایکسٹینشن موجود ہے۔۔۔ وہ آنکھوں کی نمی پیچھے دھکیلتی نظروں کا رخ پھیر گئ۔۔۔ کیوں اس بے حس کو ان آنکھوں میں موجود نمی کے اندر چھپا کرب دکھائی نا دیتا تھا۔۔۔
سلطان نے موبائل میز پر رکھتے سر جھٹکا۔۔۔
مجھے صرف آپکا اعتبار چاہیے سلطان۔۔۔ وہ ہنوز دوسری جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ شاید ضبط کے بندھن توڑنا نہیں چاہتی ہے۔۔۔
اور یہ اعتبار کیا ہوتا ہے بھلا۔۔۔ چور راستے تلاش کرنے کو دوسرے شخص کی توجہ خود سے ہٹانے کے لئے ایک بہانہ۔۔۔ ایک شعوری  کوشیش۔۔۔ وہ تلخی سے ہسا۔۔۔۔۔
عروب نے حیرت سے چہرا اسکی جانب موڑا۔۔۔
اتنے تلخ کیوں ہیں آپ سلطان۔۔۔۔ کیا میں اسقدر بے اعتبار ہوں۔۔۔ آواز میں بے یقینی در آئی۔۔۔
عورت قابل اعتبار ہوتی ہی نہیں۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے میز سے ریمورٹ اٹھایا اور چینل سرچنگ کرنے لگا۔۔۔
عروب اسکی باتوں پر گنگ رہ گئ۔۔۔۔۔
عورت صرف تب تک آپ سے وفا نبھاتی ہے جب تک وہ آپ پر انحصار کرتی ہے۔۔۔ جب تک اسے آپکے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک اسے کوئی آپ سے بہتر آپشن مل نہیں جاتا۔۔۔
جس دن اسے آپ سے بہتر کوئی مل جائے اور وہ آپ کے سہارے کے بنا چل سکے بلکہ اڑ سکے ۔۔۔ وہ آپکے تحفظ کو قید سمجھتے وہاں سے اڑ جاتی ہے اور بس۔۔۔
یہ ہے عورت کی وفا اور اعتبار کی کہانی۔۔۔
وہ چبھتے لہجے میں ایل سی ڈی کی سکرین کو دیکھتا آخر میں ایک سرد نگاہ اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
وہ اسکی نگاہوں کے سرد پن سے خود کو فریز ہوتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
ہر عورت ایسی نہیں ہوتی سلطان۔۔۔ اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔
وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔۔  
عروب حیرت سے اسے تکنے لگی۔۔۔ وہ ہنوز ہس رہا تھا۔۔۔
اور ہر عورت ایسا ہی کہتی ہے۔۔۔۔ 
بچوں کے آنے کی آواز سن کر وہ ہسی روکتا سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ وہ وہیں کی وہیں بیٹھی رہ گئ۔۔۔ 
وہ کل سے اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔ خود کو تھپک رہی تھی۔۔۔ لیکن ابھی۔۔۔ ابھی ایک لمحے میں اسے لگا کے کہانی وہ نہیں جو وہ سمجھی تھی۔۔۔ کہانی تو کچھ اور ہی تھی۔۔۔ دوسری طرف کی کہانی۔۔۔ سلطان کی گزشتہ زیست کی کتاب  کے بند اوراق۔۔۔ وہ ساکت بیٹھی تھی۔  کیا تھا رقم ان اوراق میں۔۔۔  اسنے اتنی سخت بات کیوں بولی۔۔۔ یکدم وہ اسے اتنا بھی ظالم نا لگا ۔۔۔
کچھ تو تھا جو پس پردہ تھا۔۔۔ لیکن کیا۔۔۔۔
"********
ماہیر کا دماغ ماووف ہو رہا تھا۔۔۔ وہ غائب دماغی سے تیزی سے کار ڈرائیو کر رہی تھی۔۔۔ اندر بے چینی ہی بے چینی تھی جو چٹکیاں کاٹتے اسے چین تک نا لینے دے رہی تھی۔۔۔۔ 
دماغ ماووف تھا لیکن جسم حرکت کر رہا تھا دفعتاً اسنے ایک کیفے کے سامنے بریک لگائی اور دھندلی نگاہوں سے باہر سڑک کو دیکھتے کسی کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
دفعتاً اسکے قریب ہی ایک اور گاڑی کے ٹائر چڑچڑائے اور سٹیرنگ پر کسی کے مردانہ ہاتھ دکھائی دیئے۔۔۔
ساتھ ہی پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھول کر مسکراتی 
ہوئی مصباح باہر نکلی۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گئ۔۔۔ مصباح پھر سے اپنے کسی کولیگ کے ساتھ آئی تھی۔۔ شادی کے بعد بھی وہ ایسی دوستیاں افورڈ کر لیتی تھی ۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ  ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔۔۔
ماہیر کوشیش کے باوجود بھی اپنے آنسو روک نا پا رہی تھی جبکہ مصباح پریشانی سے ناخن چباتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ماہیر کچھ بتاو تو سہی ۔۔۔ آخر ہوا کیا ہے۔۔۔ کیوں پاگلوں کی طرح روئی جا رہی ہو۔۔۔ بات بتاو گی تو پتہ چلے گا نا۔۔۔ اور اگر بتاو گی ہی نہیں تو ۔۔۔ وہ پریشانی سے بولتے بولتے رک گئ۔۔۔
مجھ سے غلطی ہو گئ مصباح۔۔۔ بہت بڑی غلطی۔۔۔ آنسووں کے دوران کہتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ مصباح جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔۔
کیسی غلطی۔۔۔ اسے اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی سنائی دی۔۔۔۔
********
تین دن ہو گئے تھے سلطان اسکا موبائل جہاں رکھ کر گیا تھا ہنوز وہیں پڑا تھا۔۔۔ عروب نے اسے ہاتھ تک لگانے کی ضرورت محسوس نا کی تھی۔۔۔ بظاہر سب نارمل تھا۔۔۔ وہ خاموشی سے سبھی امور خانہ سر انجام دے رہی تھی۔۔۔ بچوں کے ساتھ بھی وقت گزارتی۔۔۔ سلطان کا رویہ بھی نارمل تھا۔۔۔ لیکن اندر سے جیسے اسے ایک گہری چپ لگ گئ تھی۔۔۔ لب بولتے نا تھے لیکن دل ہنوز اپنے ساتھ ہوئی اسقدر زیادتی پر کرلاتا تھا۔۔۔ پڑھائی کی شیدائی لڑکی کے لئے کتابوں کے بنا زندگی جیسے بے مقصد رہ گئ تھی۔۔ شاید وہ ان کے بنا جینا سیکھ لیتی لیکن شاید اس کے لئے اسے ایک لمببببببببا عرصہ درکار تھا۔۔۔ دل کو صبر آتا ہی نا۔۔۔
 اب بھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی جب وہیں میز پر پڑا موبائل تھڑتھڑا اٹھا ۔۔۔ وہ چونک کر متوجہ ہوئی بھلا اس بے جان میں جان کس نے پھونک دی۔۔۔ اسے کس کا فون آنا تھا بھلا۔۔۔ الجھی سی وہ اس جانب بڑھی۔۔۔۔ وہ بچوں کے ساتھ لاوئنج میں ہی تھی۔۔۔  بچے اپنا ہوم ورک مکمل کر رہے تھے۔۔۔ موبائل کی سکرین پر جگمگاتے سلطان کالنگ کے الفاظ دیکھ کر وہ خود کو ڈھیلا چھوڑتی صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
جب سے انکی شادی ہوئی تھی تب سے پہلی مرتبہ سلطان نے اسے فون کیا تھا حیران ہونا تو بنتا تھا نا۔۔۔
کیسی ہو۔۔۔ سلام کا جواب دینے کے بعد وہ گویا ہوا تو عروب نے باقاعدہ فون کان سے ہٹا کر دیکھا۔۔۔ نشہ وشہ تو نہیں کر لیا کہیں۔۔ وہ اندر ہی اندر بڑبڑائی ۔۔۔
جی ٹھیک ہوں ۔۔۔ خیریت۔۔۔ وہ محتاط سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہاں وہ۔۔۔ شام میں تیار رہنا اور بچوں سے بھی کہہ دینا۔۔۔ ڈنر آج باہر کریں گے۔۔۔ میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔۔ اسکی نرم آواز ابھری جو آج کل اسکے مزاج کا حصہ تھی۔۔۔
جی بہتر۔۔۔ وہ حیران تھی۔۔۔ یہ شخص پل میں تولہ پل میں ماشا تھا۔۔۔ ناجانے کب کہاں کس وقت اس کا دماغ گھوم جائے۔۔۔ ہمیشہ ایسا ہی رہے تو فکر کس بات کی بھلا۔۔۔ وہ محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔
مسز سلطان۔۔۔۔
وہ بچوں کو انکے باپ کا پیغام دے کر اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی جب ہادی بول اٹھا۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی پلٹی۔۔۔ مجھے مسز سلطان کیوں کہتے ہو فبیحہ کی طرح ماں کیوں نہیں کہتے۔۔۔ آج وہ دل میں پنپتا سوال پوچھ ہی بیٹھی۔۔۔
کیونکہ آپ میری ماں نہیں۔۔۔ لمحے کی دیری کئے بنا پراعتماد سا جواب آیا تھا۔۔۔ وہ اتنے سٹریٹ فارورڈ جواب کی توقع نہیں رکھتی تھی۔۔۔
ماں صرف بائیولوجیکل ہی تو نہیں ہوتی نا۔۔  اور پھر۔۔۔
ماں صرف ایک ہی ہوتی ہے۔۔  اور پلیز اب اس ٹاپک کو ختم کریں۔۔۔ اگر مجھے کبھی ایسا لگا کے مجھے آپکو ماں کہنا چاہیے تو کہہ لوں گا ۔۔۔ وہ ابھی کچھ کہہ رہی تھی جب وہ نرم لیکن اٹل لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔عروب نے اسے غور سے دیکھا۔۔۔ وہ اسے اپنی عمر سے بہت بڑا اور میچور دکھائی دیا۔۔۔
سنجیدہ اور لیا دیا سا۔۔۔ چلو جی ۔۔۔ پہلے باپ کے امتحان کم تھے اب بیٹے کے بھی شروع ہوگئے۔۔۔ اسنے سر جھٹکا۔۔۔ لیکن اسکے باوجود اسے اس بچے پر جی بھر کر ترس آیا جس نے اتنی سی عمر میں ناجانے کیا کیا سہا تھا۔۔۔
*****
وہ ناجانے گرتی پڑتی کیسے گھر پہنچی تھی۔۔  سر اور کندھوں میں تکلیف ہونے لگی تھی۔۔۔ دماغ پر ایک بوجھ تھا بہت بھاری بوجھ جو سر اٹھانے نا دیتا تھا۔۔۔
گھر آتے ہی وہ سیدھا کمرے میں آتی چت لیٹ گئ۔۔۔ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگتے کنپٹیوں میں جذب ہوتے جا رہے تھے۔۔۔
ماما۔۔۔ ماّما۔۔۔  بچے باہر بار بار اسے آوازیں دے رہے تھے۔۔۔ وہ آج اکیڈمی بھی نہیں گئ تھی اور نا ہی گھر آ کر بچوں سے ملی یا انہیں کچھ کہا۔۔۔
ناجانے وہ وہاں کتنی دیر یونہی بے حس و حرکت لیٹی رہی ۔۔۔ اب تو باہر بھی اندھیرے کے سائے بلند ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔
دفعتاً اسے باہر سے جوتوں کی چاپ سنائی دی ۔۔۔ 
پاپا۔۔۔ پاپا۔۔۔۔ بچے چہکتے ہوئے اسکی جانب لپکے۔۔۔ یقیناً وہ واپس گھر آگیا تھا۔۔۔
کیا ہوا آپ دونوں کو۔۔۔
ماہیر آنکھوں پر بازو رکھی لیٹی تھی باہر سے آتی آوازیں اسے صاف سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ ماما بات نہیں سن رہیں ۔۔ کھانا بھی نہیں بنایا بھوک لگی ہے پاپا۔۔۔۔بچوں نے دہائی دی تو وہ انہیں لئے اندر ہی آ گیا۔۔۔۔ماہیر کا دل بھر بھر آیا۔۔۔
کیا ہوا یار۔۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔ وہ اسکے پاس بیٹھتا آنکھوں سے اسکا ہاتھ اٹھا کر محبت سے اسکے بال سنوارتا گویا ہوا۔۔۔
ماہیر کی ضبط کی طنابیں چھوٹنے لگیں۔۔۔ اسے خود سے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ کیسے بتائے وہ اسے خود سے سر زد ہو چکے گناہ کا۔۔
آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں۔۔
وہ تو ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور ماہیر کے لئے اسکا دل اللہ نے رکھا ہی نرم تھا۔۔۔ 
بس سر کچھ بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ وہ آنکھیں چراتی بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر زرا سا سیدھی ہوئی۔
تم آرام کرو پرنسیں۔۔۔۔ اسنے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔
آجاو چیمپ۔۔۔ کھانا ہم باہر سے لاتے ہیں۔۔۔ آپکی ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ وہ اسے کہتا بچوں کو لئے باہر نکلنے لگا۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں احمر۔۔۔ میں بناتی ہوں بس ابھی۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی زکام زدہ  آواز میں گویا ہوتی سیدھی ہوئی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں خود کو ہلکان کرنے کی ۔۔۔ آرام کرو ہم کھانا باہر سے لاتے ہیں۔۔۔ وہ دو ٹوک انداز میں کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔ 
ماہیر کو لگا اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔
کیسے صلہ دے گی وہ اس شخص کی محبتوں اور وفاوں کا۔۔۔ وہ تکیے میں منہ گھساتی اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹنے لگی۔۔۔ رونے سے اسکا جسم ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔
پشیمانی ہی پشیمانی تھی۔۔۔ اس سے آگے کوئی جذبہ تھا ہی نہیں۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4