Header Ads

Mera Aashiyana novel 10th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 


Mera Aashiyana novel 10th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

دسویں قسط۔۔۔۔
گاڑی میں دو نفوس کی موجودگی کے باوجود خاموشی کا راج تھا۔۔۔ سلطان لب بھنچے سنجیدہ صورت لئے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ عروب سختی سے ہاتھ ایک دوسرے میں پیوست کئے انکی کپکپاہٹ پر قابو پانے کو ہلکان تھی۔۔۔ ننھا سا دل چڑیا کی مانند سہما پڑا تھا۔۔۔ لب باہم پیوست تھے لیکن پھر بھی وہ انکی کپکپاہٹ پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام تھی۔۔
اسنے ہر طرح سے تیاری کر رکھی تھی لیکن یہ تو سوچا ہی نا تھا کے اگر  رنگے ہاتھوں پکڑی گئ تو۔۔۔۔
ناجانے وہ شخص خاموش کیوں تھا۔۔۔ کچھ بول کیوں نہیں رہا تھا۔۔۔ اسے اندر سے ہول اٹھنے لگے۔۔۔
دفعتا نظر باہر جانے پہچانے رستوں پر پڑی تو دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ گاڑی تیزی سے سفر مکمل کرتی لمحہ با لمحہ آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ عروب کو اپنی روح تک فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
ایک لمحے میں اسے سلطان کی خاموشی اور سنجیدگی کی ساری کہانی سمجھ آگئ تھی۔۔۔
وہ شخص قول کا پکا تھا اور حد سے زیادہ سفاک بھی۔۔۔ وہ اپنے قول سے ایک انچ تک پیچھے ہٹنے کو راضی نا تھا۔۔ عروب کا دل کپکپا اٹھا۔۔ اسنے متوحش نگاہوں سے پہلے باہر اور پھر سنجیدگی سے اسے نظر انداز کرتے سلطان کی جانب دیکھا۔۔۔۔
اس انا پرست شخص کی انا کو تسکین کیسے مل سکتی تھی بھلا۔۔۔ جسکے لئے اسکی انا انکے رشتے سے کہیں بڑھ کر تھی۔۔۔
فاصلہ کم ہونے کے ساتھ ساتھ اسکے دل کی ڈھرکن بھی سست پڑنے لگی۔۔۔
اور وہ جھک گئ۔۔۔ اپنا آشیانہ ۔۔۔ اپنا گھر اور اپنا رشتہ بچانے کو وہ اپنے ہر حق سے دستبردار ہونے کو بھی تیار ہوگئ۔۔ اسنے اپنی عزت نفس تک اس شخص کے قدموں میں رول دی۔۔۔۔
ایم سوری سلطان مجھ سے غلطی ہوگئ مجھے معاف کر دیں۔۔۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی جب وہ کچھ بہت غلط ہو جانے کے خوف سے اسکی بازو بے طرح جھکڑتی سسک اٹھی۔۔۔
اترو عروب۔۔۔ اور اندر جاو۔۔۔ دوسری جانب ہنوز بے نیازی کا عالم تھا۔۔۔
نہیں سلطان۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں نہیں جاوں گی۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔
خدا کے لئے مجھے معاف کردیں۔۔۔ میں دوبارہ کبھی پڑھائی کا نام تک نہیں لوں گی۔۔۔ میرا کوئی خواب نہیں۔۔۔ مجھے نہیں پڑھنا۔۔۔ لیکن میرے ساتھ ایسا مت کریں۔۔۔ خود سے الگ کر کے مت جائیں۔۔ مجھے ساتھ لے جائیں۔۔۔ آپ مجھے میرے باپ کے گھر چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔۔۔ اسکے اندر کی مشرقی لڑکی انگڑائی لے کر جاگ اٹھی تھی۔۔۔ وفا جسکی سرشت تھی۔۔۔ شوہر جسکا مجازی خدا۔۔۔ پھر چاہے وہی مجازی خدا شاہ رگ پاوں تلے مسل کر جان تک نکال دے۔۔۔
یہ سب تمہیں اسقدر بغاوت پر اترنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا مس عروب۔۔۔
اسقدر بیگانہ اور اجنبی لہجہ۔۔۔۔ وہ تھوک نگل کر رہ گئ۔۔۔ 
کہہ کر گیا تھا نا صبح ۔۔۔ کے گھر سے باہر مت نکلنا۔۔۔ ایک بے تاثر نگاہ اس پر ڈالنے کے بعد وہ سٹرنگ تھامے واپس باہر دیکھنے لگا۔۔۔ کے کس پل وہ گاڑی سے نکلے اور وہ گاڑی بھگا لے جائے۔۔۔ اسکے لہجے میں کوئی گنجائش نا تھی۔۔۔۔
عروب کا دل ڈوبنے لگا۔۔۔ یعنی کے وہ اسکے بارے میں مکمل باخبر تھا تبھی صبح اسے تنبیہہ کر کے گیا تھا۔۔۔ یا اسکے گھبرائے اور بوکھلائے روپ نے اسکا راز افشا کر دیا تھا۔۔۔
غلطی ہوگئ سلطان۔۔۔ ٹوٹا لہجہ بھرایا۔۔۔۔
ایسی غلطی کی میری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں مس عروب۔۔۔ جو لڑکی ایک دفعہ میرا بھروسہ توڑ سکتی ہے۔۔۔ وہ بار بار توڑے گی۔۔۔ اور میرے گھر میں ناقابل اعتبار لڑکی کی کوئی جگہ نہیں۔۔۔ جس رشتے میں اعتبار نہیں ۔۔۔ میری نظر میں وہ رشتہ ہی نہیں۔۔۔ بے اعتباری بے وفائی کی پہلی سیڑھی ہے۔۔۔
میں بے فکر ہو کر تمہیں اپنے گھر پر اپنے بچوں کے پاس نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ تم۔۔۔ کاٹ دار لہجے میں کہتے اسنے ایک کاٹ دار نگاہ عروب پر ڈالی۔۔۔ تم اعتبار کے قابل نہیں ہو۔۔۔ اسکے لہجے کی پھنکار عروب کا خون خشک کر رہی تھی۔۔۔ گویا وہ اسکا ایک امتحان تھا جس پر وہ پورا نا اتری تھی۔۔۔ مگر اتنا سخت امتحان۔۔۔ اسکا دل کرلا اٹھا۔۔۔
مجھے سختی پر مجبور مت کرو عروب۔۔۔ نیچے اترو۔۔۔ وہ سٹرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا سختی سے گویا ہوا۔۔۔
نہیں۔۔۔ میں نہیں اتروں گی۔۔۔ پلیز ایک موقع دے دیں۔۔۔
ایم سوری۔۔۔ دوبارہ۔۔۔ کبھی۔۔۔ کبھی ایسا نہیں کروں گی۔۔۔ پلیز۔۔۔ سلطان پلیز۔۔۔ وہ گھگھیائی تھی۔۔۔۔
سلطان کے دماغ میں ابال سے اٹھنے لگے تھے۔۔۔ پس منظر میں ایک خوفناک منظر ابھرا تھا۔۔۔
مجھ پر اعتبار کریں میں ہمیشہ آپکی وفا دار رہوں گی۔۔۔
اسنے بے ساختہ زور دار ہاتھ سٹرنگ پر مارا۔۔۔ ماتھے کے رگیں تک تن چکی تھیں۔۔۔
تم عورت ذات ہو ہی نہیں اعتبار کے قابل۔۔۔
ایسے نہیں مانو گئ تم۔۔۔ نکلو میری گاڑی سے۔۔۔ وہ آپے سے باہر ہوتا گاڑی کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھولتا باہر نکلا۔۔۔۔
باہر نکل کر اسنے دروازہ اتنی زور سے بند کیا کے عروب اپنی جگہ پر اچھل کر رہ گئ۔۔  دل بند ہونے لگا اور اسکا اسقدر وحشتناک روپ دیکھ کر آنکھیں پھٹنے لگی۔۔۔ وہ کسی طور اپنے حواسوں میں نا لگتا تھا۔۔۔۔
میں ایک تکلیف سے بار بار نہیں گزر سکتا۔۔۔ میں ہر تکلیف دہ زخم کو ناسور بننے سے پہلے ہی خود سے کاٹ پھینکوں گا۔۔۔
اسنے جارحانہ انداز میں عروب کی سائیڈ کا دروازہ کھولا۔۔۔ وہ ایک چیخ مارتی سہم کر ڈرائیونگ سیٹ کی جانب کھسکی۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں سلطان۔۔۔
اسکی آنکھوں کی وحشت دیکھ خوف سے عروب کی آواز تک بند ہونے لگی تھی۔۔۔
دوسری طرف اسکی کسی فریاد کسی التجا کسی بے بسی کا کوئی اثر نا تھا۔۔۔ اسنے جیسے نادانستگی میں آج بغاوت کر کے کسی کے رفو کئے گے سارے زخم ایک ہی جھٹکے میں بے دردی سے اڈھیر  دیئے تھے یوں کے اب وہ درد سے بلبلاتا کسی کے قابو میں ہی نا آ رہا تھا۔۔۔
اسنے بےرحمی سے اسکی نازک بازو اپنے آہنی شکنجے میں جھکڑی۔۔۔ وہ خوف سے سپید پڑ گئ۔۔۔ ایک زور دار جھٹکے سے اسنے عروب کو اپنی جانب کھینچا تو وہ کراہ کی اسکی جانب کھنچتی زور سے آکر اس سے ٹکرائی ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ پھر سے پیش رفت کرتا اسے گاڑی سے باہر نکالا وہ خوف و دہشت سے وہیں اسکی بازووں میں جھول گئ۔۔۔
شٹ۔۔۔۔  وہ اسے یوں حوش و حواس سے بیگانہ ہو کر جولتا دیکھ حواس باختہ ہوتا سرعت سے اسے اپنی بازووں میں سمبھال گیا ورنہ کچھ بعید نا تھا اسکا سر بے طرح ڈیش بورڈ سے ٹکراتا۔۔۔
اسکی حالت دیکھ ایک بار تو سلطان بھی گھبرا اٹھا۔۔۔۔۔ فق ہوتی رنگت اور بے جان ہوتا وجود۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے اسے سیٹ پر ٹیک لگا کر بیٹھایا اور سرعت سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
ایک احساس پشیمانی کہیں اسکے اندر اسے چٹکیاں کاٹنے لگی تھی جسے وہ بے طرح سر جھٹکتے جھٹلا رہا تھا۔۔۔
یہ لڑکی اسے ذہنی طور پر ڈسٹرب کر رہی تھی۔۔۔ وہ بے طرح جھٹپٹایا۔۔۔
*******
ماہیر غصے سے کھولتی گھر واپس لوٹی تھی۔۔۔ شامیر کی باتیں اور اسکا پیام بار بار دماغ میں ہتھوڑے برساتا اسکا فشار خون بڑھا رہا تھا۔۔۔ 
گھٹیا جاہل بےوقوف انسان۔۔۔ محبت کو کھیل بنا رکھا ہے ان لوگوں نے۔۔۔ ہر راہ چلتی سے ہوگئ۔۔۔ محبت مائے فٹ۔۔۔ اپنے کمرے میں دائیں سے بائیں جانب چکر لگاتے اسنے پاوں پٹخا۔۔۔
دماغ میں بھانبھر سے جل رہے تھے۔۔۔۔ وہ اچھی خاصی میچور اور عقل و فہم والی لڑکی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اتنی غلط بات پر اپنا غصہ قابو نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔
رات جیسے تیسے کٹ گئ۔۔ اگلے دن وہ بڑی ہی مشکل سے ان سب باتوں کو دماغ سے جھٹکتی اپنے معمولات زندگی نبٹاتی یونیورسٹی آئی تھی۔۔۔
اپنی پہلی دونوں کلاسز لے کر وہ لائبریری آ گئ۔۔۔ یہ اسکے روز کا معمول تھا۔۔۔ اپنا یہ والا فارغ وقت وہ لائبریری میں ہی کسی نا کسی کتاب کا مطالعہ کرتے گزارتی تھی۔۔۔ وہ لائبریری میں اپنے مخصوص پرسکون گوشے میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی لائبریری میں اکا دکا ہی طالبعلم تھے۔۔ابھی اسے مطالعہ کرتے کچھ ہی وقت ہوا تھا جب ایک جانی پہچانی آواز پر اسنے سرعت سے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔
وہ شامیر تھا جو سلام کرنے کے بعد پشیمان سا اسکے سامنے آ کر بیٹھا۔۔۔ 
ماہیر نے اسے غصیلی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
میم میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں اور معذرت خواہ ہوں۔۔۔ وہ سر جھکائے پشیمانی سے گویا ہوا تو ماہیر کی آنکھوں کا غصیلہ تاثر کچھ مدہم پڑا۔۔۔
چہرے کے تنے اعضلات ڈھیلے پڑے۔۔۔
دفعتاً اسے اپنے ساتھ والی کرسی گھسیٹ کر کوئی بیٹھتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ سانس تک روک گئ۔۔۔ دل ایک مرتبہ زور سے ڈھرکا۔۔۔ اسنے اچھنبے سے چہرا گھما کر دیکھا۔۔۔ وہ اریز ہی تھا۔۔۔ اپنے مخصوص حلیے میں موجود جینز پر شرٹ زیب تن کئے بال اچھے سے سیٹ کئے سرخ و سپید رنگت پر ہلکی بڑھی شیو ۔۔۔ وہ ماحول پر چھایا ہوا سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اسکے آہستگی سے سلام کرنے پر وہ گم صم سی رہ گئ۔۔۔
میم شامیر نے آپ سے میرا مدعا بیاں کیا ہوگا۔۔۔ میں اس بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ اسے نرم نگاہوں سے دیکھتا مودب سا گویا ہوا تو وہ بدک کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
کیا آپکو میری بات سمجھ نہیں آتی مسٹر اریز کے میں شادی شدہ دو بچوں کی ماں ہوں۔۔۔ اور اپنی ازواجی زندگی سے بہت خوش اور مطمیں ہوں۔۔۔ تو پھر آپ کیوں میری پرسکون ازواجی زندگی میں کنکر پھینک کر ہلچل مچانا چاہتے ہیں۔۔۔
وہ ماحول کا احساس کرتے غصیلے مگر دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
آپ جیسے باشعور اور پڑھے لکھے انسان کو ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتیں کے آپ ایک عزت دار لڑکی کو یوں تعلیم حاصل کرنے  جیسے مقدس مقامات پر رسوا کرتے پھریں۔۔۔۔۔ اسکی آواز غم و غصہ سے کانپ رہی تھی۔۔۔ 
آپ واقعی شادی شدہ ہیں۔۔۔ وہ بے یقین سا حیرت سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ ماہیر نے چند ثانیے اسے دیکھا اور تیزی سے موبائل پر انگلیاں چلاتے ایک تصویر نکال کر موبائل سامنے موجود میز پر پھینکا۔۔۔
آپکی تسلی کے لئے۔۔۔ یہ میری فیملی کی تصویر ہے۔۔۔ اسنے سینے پر بازو باندھتے طنزیہ اسے دیکھا۔۔۔
اریز نے حیرت سے موبائل اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ چودھویں کے چاند کی طرح دمکتے ہری کانچ سی سمندر سی آنکھوں کے ساتھ بے حد معمولی انسان کی تصویر اور ساتھ دو بچے۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر تک حیرت سے اس تصویر کو دیکھتا رہا۔۔۔
کیا کرتے ہیں آپکے شوہر۔۔۔ وہ تصویر کو دیکھتا اچھنبے سے گویا ہوا۔۔۔
بزنس مین ہیں۔۔۔ لیکن میرے لئے میری کل کائنات ہیں۔۔۔ یہ وہ ہیں جنکے دم سے میں ہوں۔۔۔ جنہوں نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔۔ 
He is my really soulmate...
 اسکی آواز میں فخر تھا۔۔
آہکو نہیں لگتا کے آپ اس سے زیادہ ڈیزرو کرتی ہیں۔۔۔ اس سے کچھ بہت زیادہ۔۔۔ آسمانوں کی وسعتوں کو چھوتا ہوا کچھ اپنے ٹاکڑے کا ۔۔۔ کچھ میری طرح۔۔۔ وہ دھیمے سے گویا ہوتا ماہیر کو پتھر کا بنا گیا۔۔۔
سینے پر بندھے بازو ڈھیلے پڑتے نیچے گر گئے۔۔۔ جبکہ وہ اپنی بات مکمل کر کے موبائل واپس میز پر رکھتا خاموشی سے باہر نکل گیا۔۔۔
ایم سوری میم۔۔۔ پر یہ اسکی ضد تھی۔۔۔ وہ ایک بار خود سے آپ سے ملنا چاہتا تھا۔۔ اسکے پیچھے ہی شامیر لپکتا معذرتی انداز میں کہتا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ ماہیر گم صم سی کھڑی رہ گئ۔۔۔۔
*****
دوبارہ عروب کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ہسپتال کے ایک کمرے میں پایا۔۔۔ بازو پر کنولہ کی مدد سے ڈرپ لگی تھی جبکہ کمرے میں اس وقت کوئی نا تھا۔۔۔ اسنے حیرت سے ارد گرد دیکھا۔۔۔
نقاہت حد سے سوا تھی۔۔۔ آج کے سارے واقعات نے اسکی اساری سکت نچوڑ لی تھی وہ ادھ موئی ہوئی پڑی تھی۔۔۔ سلطان کا وحشت زدہ روپ دیکھ دماغ ہنوز سن تھا۔۔۔
دفعتاً سلطان کمرے میں داخل ہوا تو اسے ہوش میں آتا دیکھ اسکی طرف بڑھا۔۔۔
وہ ابھی ابھی ڈاکٹر کے کیبن سے آ رہا تھا۔۔۔ جسنے واضح الفاظ میں بتایا تھا کے خوف اور دہشت کے باعث وہ بے ہوش ہوئی تھی اس لئے کوشیش کی جائے کے وہ ریلیکس رہے ورنہ ان سب چیزوں کا اسکے دماغ پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔۔۔
سلطان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔۔
وہ خاموش تھا۔۔۔ بلکل خاموش۔۔۔ اور عروب کو اسکی خاموشی کھل رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد ڈرپ مکمل ہوئی تو انہیں ڈسچارج مل گیا۔۔۔ چلو اٹھو گھر چلیں۔۔۔ وہ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ اسکے چہرے کی جانب دیکھ کر عروب کے لئے اندازا لگانا مشکل تھا کے وہ کیا سوچ رہا ہے۔۔۔
مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔ اپنے بچوں کے پاس۔۔۔ ساتھ ہی بات مزید واضح کرتی گویا ہوئی۔۔۔
سلطان نے کوئی ردعمل ظاہر نا کیا بلکہ ہاتھ پشت پر باندھے اسکے اٹھنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔
وہ ہتھیلی پر وزن ڈالتی اٹھی۔۔۔ یکدم اٹھنے سے سر چکرایا ۔۔۔ اسنے سر پر ہاتھ رکھتے مدد طلب نگاہوں سے سلطان کو دیکھا جو ہنوز لاپرواہ سا کمرے کے دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ آنکھیں زور سے میچ کر کھولتی جوتا پاوں میں اڑس کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ ابھی چھوٹے چھوٹے دو ہی قدم اٹھائے تھے کے سر بے طرح چکرایا۔۔۔ مگر اس مرتبہ اسنے خود سے آگے بڑھ کر سلطان کی بازو کو مضبوطی سے دونوں ہاتھوں سے تھاما اور اسکے کندھے سے سر ٹکاتی گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔

سلطان نے چونک کر اسے دیکھا اور اسکی حالت دیکھ کچھ سوچتے ہوئے اپنا بازو اسکے کندھے کے گرد پھیلاتے اسے سہارا دیا اور اسکا کپکپاتا ہاتھ دوسرے ہاتھ میں تھامے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسے لئے باہر آیا۔۔۔
یااللہ میرے شوہر کا دل میرے لئے بدل دے۔۔۔ اس میں میرے لئے نرمی رحم اور عزت کیساتھ ساتھ ڈھیر ساری محبت ڈال دے۔۔۔ اپنے اٹھتے ہر قدم کے ساتھ وہ ٹوٹے دل کیساتھ اپنے رب کے حضور دعا گو تھی۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4