Header Ads

Mera Aashiyana novel 9th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 9th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

نویں قسط۔۔۔
وہ ہر ہربہ ہر تدبیر کر کے دیکھ چکی تھی۔۔۔ لیکن سلطان کی نا ۔۔۔ ہاں میں نا بدلی۔۔۔
وہ اس معاملے میں اتنا کھٹور نکلے کا عروب اس چیز کی توقع تک نا کر سکتی تھی۔۔۔
وہ اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی۔۔۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکی آس ٹوٹتی جا رہی تھی۔۔۔ روز وہ ایک نئ آس و امید سے سلطان کی جانب دیکھتی کے شاید اسے اسکی ویران ہوتی آنکھوں پر ترس آ جائے مگر روز ہی وہ اسکی امید توڑ جاتا۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ عروب کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔۔۔ صدمہ شدید تھا وہ اسے قبول کر پانے سے انکاری تھی۔۔۔
روز وہ گھر سے جانے سے پہلے اسکے پاس ناشتہ اور دوائی رکھ جاتا۔۔۔ وہ کھاتی یا نا کھاتی اسکی بلا سے۔۔۔ دونوں بچے دن میں اسکے پاس چکر لگا کر اسکی خیریت دریافت کر جاتے۔۔ فبیحہ تو سکول سے آنے کے بعد اکثر وقت اسی کے کمرے میں گزارتی۔۔۔۔
ناجانے وہ سب کیسے مینج کر رہے تھے بس اسکے پاس تینوں وقت کا کھانا اور دوائی پہنچ جاتی۔۔۔
کبھی سلطان خود رکھ جاتا تو کبھی بچے لے آتے۔۔۔
سلطان کو دیکھتے ہی عروب کی آنکھوں میں بس ایک آس ہی ابھرتی تھی۔۔۔۔
روز وہ سلطان کے آفس جانے کے بعد آنلائن امتحانات کی تیاری کرتی۔۔۔ کے شاید پیپر کے روز وہ ماں جائے۔۔۔ تب تک اسکا دل عروب کے لئے کچھ نرم پڑ جائے۔۔۔ وہ آخری حد تک اپنی کوشیش کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
*****
اریز اپنے بستر پر چت لیٹا تھا۔۔۔ ہاتھ سر کے نیچے باندھ رکھے تھے جبکہ پاوں قینچی کی صورت بنائے گے تھے۔۔۔۔ وہ یک ٹک وال سیلنگ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ تصور میں ایک پری پیکر چہرا ہی بار بار ابھر رہا تھا۔۔۔
روسٹرم کے پیچھے کھڑی سیاہ عبایہ اور گولڈن سکارف میں ملبوس میم ماہیر۔۔۔ اسکی روشن چمکدار ذہانت سے بھرپور آنکھیں۔۔۔ اسکے پنکھریوں سے نازک لبوں کی جنبش۔۔۔ اور ہاتھ کی حرکت۔۔۔
وہ جیسے اس ایک لمحے میں کہیں قید ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔ اس عورت کی بااعتماد آواز اور پروقار شخصیت اسکے دل پر گہری چھاپ چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔ وہ ان لمحات میں اسقدر جھکڑا گیا تھا کے خود کو چھڑا پانے میں بے طرح ناکام ہو رہا تھا۔۔۔
بے چینی حد سے سوا ہونے لگی تھی۔۔۔ 
صحیح کہا تھا شامیر نے۔۔۔ میم ماہیر کی کلاس میں داخل ہونے والے اور وہاں سے نکلنے والے اریز میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔ اسکا خود پر ہی اختیار نا رہا تھا۔۔۔
اس بے چینی کا اسکے پاس کوئی حل نا تھا۔۔۔ وہ اس عورت سے بے طرح متاثر ہونے کیساتھ ساتھ اس سے بے طرح مرغوب بھی ہوا تھا۔۔۔ وہ اپنے دل کو وہیں کہیں ان سبز کانج کے سمندر میں ہی چھوڑ آیا تھا۔۔  جو اسے اپنے سحر میں جھکڑ چکے تھے۔۔۔۔
******
آج وہ باقی دنوں کی نسبت کچھ بہتر تھی۔۔۔ آج اسکا پہلا پیپر تھا۔۔ حسب معمول وہ صبح ہی صبح اٹھ کر فریش ہو گئ تھی۔۔۔ دل بے طرح گھبرا رہا تھا۔۔  وہ مسلسل کسی نا کسی آیت کا ورد کر رہی تھی۔۔ اسنے پاوئچ میں پین اور مارکرز کے ساتھ اپنی رولنمبر سلپ رکھی اور اسے اپنی وارڈروب میں کپڑوں کے نیچے چھپا دیا۔۔۔۔ 
اس پر گھبراہٹ حد سے سوا تھی۔۔۔ پہلے اسنے سوچا تھا کے آج وہ کسی بھی طرح سلطان کو پیپر دینے کے لئے منا کر ہی دم لے گی۔۔۔ لیکن ہر گزرتے وقت کیساتھ اسکی ہمت ٹوٹتی جا رہی تھی۔۔۔ جب وہ اتنے دنوں سے نا مانا تھا تو اب کیا خاک مانتا۔۔۔ اس لئے اسنے کپکپاتے دل کیساتھ ایک فیصلہ کیا تھا۔۔۔ وہ سلطان نامی بلا کے مخالف چلنے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ جو وہ اسکے ارادے جان جاتا تو ناجانے کیا قہر ڈھاتا۔۔۔ وہ بیڈ کی پائنتی کی جانب بیٹھی تھوک نگلتی بے طرح اپنے ہاتھ مسل رہی تھی۔۔۔
وہ سلطان کے گھر سے نکل جانے کے بعد خاموشی سے پیپر دینے کے لئے نکل جانا چاہتی تھی۔۔۔ دوبارہ سلطان کی گھر واپسی بچوں کے گھر آنے کے بعد ہی ہوتی تھی۔۔ نو بجے اسکا پیپر شروع ہونا تھا دو گھںٹے کا پیپر تھا جبکہ بچے ایک بجے گھر آتے۔۔۔ تب تک وہ آسانی سے گھر واپس آ سکتی تھی۔۔۔ 
دفعتاً سلطان اندر داخل ہوا۔۔۔ عروب نے ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی جو شیشے کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم کا چھڑکاو کر رہا تھا۔۔۔ 
اب کیسی طبیعت ہے عروب۔۔۔ کف لنکس بند کرتا وہ شیشے سے نظر آتے اسکے گھبرائے اور بےچین عکس کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
جی۔۔ اب بہتر ہے۔۔۔ عروب نے زبان لبوں پر پھیرتے چہرا جھکا لیا۔۔۔
ہممم۔۔۔ اچھی بات ہے۔۔۔ گھر سے باہر مت نکلنا۔۔۔ اور میرے جانے کے بعد دروازہ اچھے سے بند کر لینا۔۔۔ وہ اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔
اسکے نکلتے ہی عروب نے کب سے سینے میں اٹکا سانس خارج کیا۔۔۔ بے ساختہ اسکی نگاہ وال کلاک کی جانب اٹھی جو صبح کے ساڑھے آٹھ بجا رہا تھا۔۔۔ اسکے پاس ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا۔۔۔
یقیناً اس آدھے گھنٹے میں وہ سنٹر پہنچ جاتی۔۔۔ اور اگر دس پندرہ منٹ اور بھی ہو جاتے تو بھی وہ مینج کر لیتی۔۔۔ ابھی اس کے لئے یہ ہی بہت تھا کہ وہ پیپر دینے جا رہی تھی۔۔
*****
ایکسکیوز می میم۔۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی یے۔۔۔ کیا آپ مجھے دو منٹ دے سکتی ہیں۔۔۔ کلاس مکمل ہونے کے بعد ماہیر روسٹرم سے اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی جب آواز پر پلٹی۔۔۔
پیچھے اونچا لمبا دراز قد شامیر کھڑا تھا ۔۔۔ اسے پلٹے دیکھ مسکرایا۔۔۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کر رہا تھا اور پچھلے دو ماہ سے ماہیر کی کلاسز اٹینڈ کر رہا تھا ۔۔
ماہیر اسے اچھے سے جانتی تھی۔۔۔
جی کہیے شامیر کیا بات ہے۔۔۔۔ 
اسنے بورڈ مارکر بند کیا اور بیگ کی زپ بند کرتے اسے کندھے پر لٹکایا۔۔۔ ساتھ ہی ایک اچٹتی نگاہ کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی۔۔۔ ذہن میں صرف احمر تھا جسنے صبح اس سے ڈرم سٹک بنانے کی فرمائش کی تھی۔۔۔ اسے جلد از جلد گھر پہنچ کر ڈنر تیار کرنا تھا۔۔۔
جی میم وہ دراصل آپ اریز کو جانتی ہیں نا۔۔۔ اسنے ہلکی سی مسکراہٹ  چہرے پر سجاتے بات شروع کی۔۔  آخر دوست کے لئے اتنا تو کر ہی سکتا تھا نا۔۔۔
اریززززز۔۔۔ اسنے دماغ پر زور ڈالا۔۔۔ ہاں نام سے واقف ہوں۔۔۔ نیا سٹودینٹ ہے نا کلاس میں ۔۔۔ شاید ایک دو دفعہ دیکھا بھی ہے اسے۔۔۔ 
اسے ہلکا ہلکا سا یاد آیا۔۔۔
Any way ....
 کیا ہوا اسے۔۔۔ وہ اچھنبے سے گویا ہوئی۔۔۔
دراصل میم وہ آپ میں دلچسپی رکھتا ہے۔۔۔ اور اس حوالے سے آپکے سرپرست سے ملاقات چاہتا ہے تو اگر آپ مناسب سمجھیں تو پلیز اپنے گھر کا ایڈریس یا رابطہ نمبر دے دیں۔۔۔
واٹ۔۔۔۔
وہ نہایت مودبانہ گویا ہوا جبکہ ماہیر بدک کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے نا مسٹر شامیر۔۔۔
یہ اکیڈمی ہے۔۔۔ کم از کم آپکو اکیڈمی کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے ۔۔۔ 
میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں جو اپنی ازواجی زندگی سے بہت خوش اور مطمیں ہے۔۔۔ کم از کم آپکو یوں کسی عزت دار لڑکی کو رسوا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔لال بھبھوکا چہرا لئے وہ غرا اٹھی تھی۔۔
غم و غصے سے وہ کپکپانے لگی تھی ۔۔۔ کم از کم یہاں اس مقام پر وہ ایسی کوئی توقع نہیں رکھتی تھی۔۔۔
جبکہ گنگ تو شامیر بھی یہ انکشاف سن کر رہ گیا تھا۔۔۔
ایم۔۔۔ ایم سوری میم۔۔۔ ایسی کوئی بات ہمارے علم میں نا تھی۔۔۔  یہ سب نادانستگی میں ہوا۔۔۔ 
Once again sorry...
وہ حواس باختہ سا چہرے پر ہاتھ پھیرتا الٹے قدم اٹھاتا کلاس سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ ماہیر لمبے لمبے سانس لیتی غصے پر قابو پاتی خود کو کمپوز کر رہی تھی۔۔۔
*****
سلطان کے گھر سے نکلتے ہی عروب کی ٹانگوں میں بجلی سی بھر گئ تھی۔۔۔ اسنے بعجلت اپنا پاوچ نکالا۔۔۔ اختیاطً ایک دفعہ پھر سے ساری چیزیں پوری کیں۔۔۔ اور بھاگ کر الماری سے اپنی سیاہ شیشیوں سے مزیں چادر نکال کر اوڑھی۔۔۔ یوں کے چہرا تک چھپا لیا۔۔۔
اسکا دل ہاتھوں میں ڈھرک رہا تھا۔۔۔ گھبراہٹ بے طرح سوار تھی۔۔۔
سلطان جا چکا تھا لیکن اسکا خوف پھر بھی حد سے سوا تھا۔۔۔
بس کسی طرح وہ سنٹر پہنچ جائے۔۔۔
اسنے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا۔۔۔ نو بجنے میں بیس منٹ باقی تھے۔۔۔ وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ تیزی سے سیڑھیاں اترتے اسکے قدم بے ربط تھے۔۔۔۔ وہ بار بار تھوک نگلتی خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی چور نگاہوں سے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔
مین گیٹ پر چوکیدار کھڑا تھا۔۔۔
وہ کسی کی بھی نظروں میں نہیں آنا چاہتی تھی۔۔ تبھی خاموشی سے گھر کے پچھلے دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔  پہلی دفعہ ایسی ہمت دکھا رہی تھی تبھی بوکھلائی ہوئی اور حواس باختہ سی تھی۔۔۔
بار بار ماتھے پر پسینہ ابھر رہا تھا جسے وہ کپکپاتے ہاتھوں سے صاف کر رہی تھی۔۔۔ اسے یوں کوئی بھی دیکھتا تو مشکوک ہی سمجھتا۔۔۔ 
روڈ پر کھڑی ایک ہاتھ سے چہرے کو ڈھانپا چادر کا پلو تھامے دوسرے میں پاوچ سختی سے دبوچے وہ گھبرائی نگاہوں میں ادھر ادھر دیکھتی کوئی رکشہ تلاش کر رہی تھی۔۔۔
دفعتا اسے سامنے سے ایک رکشا آتا دکھائی دیا تو وہ سرعت سے اس جانب بڑھتی اسے روکنے لگی۔۔۔
کہاں جانا ہے میڈم۔۔۔ رکشے والا اسے سر تا پاوں عجیب سی نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا تو اسکی نگاہوں سے ہی عروب کے جسم میں ایک سنسنی ڈور گئ۔۔۔
پہلے سے گھبراتا دل مزید کپکپا اٹھا۔۔۔
پتہ نہیں وہ یوں تنہا جا کر ٹھیک کر بھی رہی تھی یا نہیں۔۔۔ مگر اسکا یوں گھبرایا بوکھلایا اور حواس باختہ سا روپ دیکھ کوئی بھی اسےتر نوالہ سمجھتا۔۔۔
لیکن اسکے پاس زیادہ سوچنے کا وقت نا تھا ۔۔۔ اسنے  رکشہ ڈرائیور کو اپنے سنٹر کا ایڈریس  دیا اور سرعت سے ایک چور نگاہ چاروں اطراف دیکھتی اس میں سوار ہو گئ۔۔۔
بھیا نو بجے میرا پیپر شروع ہو جائے گا۔۔۔ پلیز مجھے نو بجے تک وہاں پہنچا دیں۔۔۔ وہ کلائی پر بندھی گھری پر نظر ڈالتے گویا ہوئی ۔۔۔ نو بجنے میں محض دس منٹ تھے۔۔۔
جانا پیپر دینے ہی ہے نا۔۔۔ ڈرائیور کی مشکوک آواز پر وہ چونکی۔۔۔
مجھے تو کوئی اور ہی معاملہ لگتا ہے۔۔۔ 
عروب کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ ایک اور خطرہ بھانپتے وہ ڈر کو زرا سائیڈ پر کرتی حواسوں میں لوٹی۔۔۔
دیکھو محترم جو تمہارا کام ہے نا وہ کرو۔۔۔ وقت پر سنٹر پہنچا سکتے ہو تو پہنچاو ورنہ رکشہ یہیں روک دو۔۔۔ یہاں ایک محض تمہارا رکشہ ہی نہیں رہ گیا۔۔۔ وہاں پہنچانے کے پیسے لے رہے ہو تم۔۔ فضولیات پر اترنے کی اجازت کس نے دی تمہیں۔۔۔ میں تمہیں کیا دکھائی دے رہی ہوں جو تم فضول ہانک رہے ہو۔۔۔
وہ ماتھے پر تیوریاں لئے کاٹ دار نگاہوں سے اسے دیکھتی کڑک لہجے میں گویا ہوئی کے ایک پل کو تو وہ ڈرائیور بھی بوکھلا گیا۔۔۔
کہیں کوئی ڈری سہمی لڑکی دیکھتی نہیں اور انکی بے غیرتی شروع ہوئی نہیں وہ منہ ہی منہ بڑبڑا کر رہ گئ۔۔۔۔۔ ارے باجی آپ تو غصہ ہی کر گئں۔۔۔ میں نے تو بس ایسے ہی پوچھا تھا۔۔۔ وہ شخص گھگھیایا ۔۔۔۔
عروب نے غصے سے سر جھٹکا۔۔۔ لیکن اس واقعہ سے اسکا ابتدائی خوف کچھ حد تک زائل ہو گیا تھا۔۔۔
لیں باجی آگیا آپکا سنٹر۔۔۔
رکشے والے نے سنٹر کے سامنے سڑک پر رکشہ روکا۔۔۔
عروب نے سنٹر کی جانب دیکھتے ایک پرسکوں سانس خارج کی۔۔۔ رکشے سے اتری اور اسے کرایہ ادا کیا۔۔۔ رکشے والا زن سے رکشہ بھگا لے گیا۔۔۔
عروب کے چہرے پر ایک آسودہ مسکراہٹ تھی۔۔۔ تو بلآخر وہ وہاں پہنچ ہی گئ۔۔۔
وہ سڑک کنارے کھڑی سامنے کالج کی اس بلڈنگ کو چمکتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جسکا سیاہ آہنی گیٹ کھلا تھا۔۔۔ جہاں سے اکا دکا لڑکیاں ہی اندر جا رہی تھیں۔۔۔ یقیناً یہاں کچھ دیر پہلے بہت رش لگا ہو گا۔۔۔ لیکن اس وقت وہاں کوئی رش نا تھا۔۔ اسنے بے ساختہ کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا ۔۔
پورے نو بج چکے تھے۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آئی۔۔۔ یقیناً اندر سب پیپر کے لئے بیٹھ چکے ہونگے۔۔۔۔
وہ جلدی سے آگے بڑھی۔۔۔ ابھی ایک ہی قدم آگے بڑھایا تھا کے ۔۔۔ ایک گاڑی زن سے اسکے سامنے آ کر رکی۔۔۔
وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔ خونخوار نگاہوں سے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب دیکھا۔۔۔ لیکن اس طرف دیکھتے ہی اسکا رنگ لمحے کے دسویں حصے میں فق ہوا۔۔۔ فق بے جان۔۔۔ جیسے کسی نے جسم کا سارا خون ایک ہی بار میں نچوڑ لیا ہو۔۔۔ اسے زمین و آسمان نگاہوں کے سامنے گردش کرتے دکھائی دیئے۔۔۔ سانس جیسے سینے میں کہیں آٹک گیا تھا۔۔۔ دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے تاب تھا۔۔۔ اسکا ڈر اور خوب مجسم حقیقت اسکے سامنے سلطان نامی بلا کی صورت موجود تھا۔۔۔
اسنے شاید سلطان کو بہت ہلکا لیا تھا یا بہت بے خبر۔۔۔۔
اسنے ویران ہوتی نگاہوں سے سامنے اس عمارت کو دیکھا جو اسے یکدم ہی خود سے بہت دور میلوں کی مسافت پر لگی۔۔۔
لمحوں میں وہ بے دم ہوگی تھی۔۔۔ وہ اتنی سر توڑ کوشیش کے باوجود ہار گئ تھی۔۔۔ آنکھ خشک تھی لیکن آنسو دل پر گر رہے تھے۔۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے سلطان نے اسے بے تاثر نگاہوں سے دیکھتے سنجدگی سے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔۔۔ یہ طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی تھی شاید۔۔۔ 
وہ کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی سر جھکائے خود کو گھسیٹتی خاموشی سے آ کر پیسنجر سیٹ پر بیٹھ گئ۔۔۔
ناجانے اب وہ شخص کیا کرتا۔۔۔
یقیناً وہ اس شخص سے کسی بھلائی کی توقع نہیں رکھتی تھی۔۔۔
*****
کیا بکواس ہے یہ۔۔ میں نہیں مانتا اس بات کو۔۔۔ یہ سچ نہیں ہو سکتا۔۔۔
اریز شامیر کے جواب کا انتظار کر کر کے بلآخر جواب طلبی کو خود اسکے گھر آن پہنچا تھا۔۔۔ اور آگے سے جو اسے سننے کو ملا تھا وہ اسے مفلوج کر گیا تھا۔۔۔ وہ یہ بات ماننے سے انکاری تھا۔۔ تبھی بال مٹھیوں میں جھکڑے جھنجھلایا سا گویا ہوا۔۔۔
یہ ہی سچ ہے اریز۔۔۔ مجھے تو خود اس وقت بہت شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔ شامیر ڈھیلے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھا گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے میں ایک دفعہ خود ان سے مل کر بات کرنا چاہتا ہوں۔۔ تم بس ہماری ایک ملاقات ارینج کروا دو۔۔۔ وہ حتمی لہجے میں گویا ہوا تو شامیر اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
****

No comments

Powered by Blogger.
4