Mera Aashiyana novel 8th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 8th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
آٹھویں قسط۔۔۔۔
سیمٹ اور بجری سے بنی روش پر گاڑی زن سے آ کر رکی تو ڈرائیونگ سیٹ کھول کر سیاہ عبایہ اور گولڈن سکارف میں ملبوس ہرے کانچ سی آنکھوں والی ماہیر نیچے اتری۔۔۔ کار کا دروازہ بند کیا اور اندر کی جانب بڑھی۔۔۔۔
ہینڈ بیگ کہنی پر لٹکا رکھا تھا۔۔۔ جبکہ چہرا ہر طرح کی آراشائش سے مبرا بھی دمک رہا تھا۔۔ ہری کانچ سی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی۔۔۔ دو زینے چڑھ کر لاوئنج کا دروازہ وا کرتی وہ اندر بڑھی۔۔۔
انٹرس پر دائیں جانب اسکی اسکے شوہر اور بچوں کی پچھلے آٹھ سالوں کی سبھی یادگار لمحات کی خوبصورت تصاویر یادوں کی صورت آویزان تھی۔۔۔
یہ حصہ اسکے گھر کا سب سے پسندیدہ ترین حصہ تھا۔۔۔
اندر بڑھنے سے پہلے وہ اس دیوار کو دیکھتی مسکرائی۔۔۔
گھر کی بتیاں جلاتی وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔۔ایک بعجلت نگاہ وال کلاک پر ڈالی ۔۔۔ بچوں اور احمر کے گھر آنے میں ابھی ایک گھںٹہ باقی تھا۔۔۔
جلدی سے حجاب اتار کر عبایہ اتارا اور بھاگم بھاگ کچن کی راہ لی۔۔۔
بچے اور احمر دونوں ہی اسکے ہاتھ کا کھانا پسند کرتے تھے۔۔۔ اور وہ بھی بصد شوق یونیورسٹی سے آتے ہی انکے لئے تازہ کھانا بناتی تھی۔۔۔
وہ اگر کیریئر وومن تھی تو کیریئر کیساتھ ساتھ اسکا گھر اسکا شوہر اور اسکے بچے اسکی کل کائنات تھی۔۔۔۔
پچھلے آٹھ سالوں میں احمر اپنی ایک ایک بات پر کھڑا اترا تھا۔۔۔ لمحہ با لمحہ اسنے ماہیر کو سپورٹ کیا تھا۔۔۔ آج وہ جس مقام پر بھی تھی یہ سب احمر کی سپورٹ کا ہی نتجہ تھا۔۔۔ اب وہ آٹھ سال پہلے والی ماہیر نا تھی۔۔۔
اب وہ ہر جگہ پر اول رہنے والی پراعتماد سی لڑکی امور خانہ میں بھی اول تھی۔۔۔ ایک بہتریں ماں ایک بہتریں بیوی۔۔۔
جو جب لیکچر دیتی تو اسکی آواز اتنی بااعتماد و پرتاثیر اور لہجے کا ٹھہراو اسقدر باکمال ہوتا کے سامنے والا اسکے الفاظ میں ہی کھو جاتا۔۔۔
یونیورسٹی و اکیڈمی میں وہ ہر دلعزیز تھی۔۔۔ سٹودینٹس اسے آئیڈیل مانتے۔۔۔ اس سے انسپائریش لیتے تھے۔۔۔۔
ان آٹھ سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔۔۔ یکے بعد دیگرے احمد کے ماں اور باپ کیساتھ ساتھ ماہیر کے والد صاحب بھی چل بسے تھے۔۔۔۔
ماں باپ کی وفات کے بعد کچھ عرصہ بھائی اور بھابھی کیساتھ رہنے کے بعد وقت کے تقاضوں کے مطابق احمر نے اپنا اور ماہیر کا خوابوں کا گھر بنایا تھا۔۔۔ جو اسکا آشیانہ تھا۔۔۔۔
کھانا بنا کر وہ کچن کاونٹر صاف کر رہی تھی جب باہر سے احمر اور بچوں کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔ یقیناً وہ بچوں کو سکول سے لے آیا تھا۔۔۔
ماہیر مسکراتی ہوئی کچن سے نکلی۔۔۔
*****
سلطان ساری رات کمرے میں نا آیا تھا۔۔۔ جبکہ عروب ساری رات وہیں ماربل لگے فرش پر سکڑی سمٹی گھٹنوں میں چہرا چھپائے سسکتی رہی تھی۔۔۔ لمحوں میں یہ اسکے ساتھ ہوا کیا تھا۔۔ تھپر کی شدت سے دماغ ابھی تک سنسنا رہا تھا۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ کسی مرد نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔ اور وہ مرد کون تھا بھلا۔۔۔ اسکا ہمسفر اسکا شوہر
۔۔۔۔ دل سے قلق جا ہی نا رہا تھا۔۔۔ اپنے اس نقصان پر دل نوحہ کناں تھا۔۔۔
رو رو کر وہ ہلکان ہو چکی تھی مگر دل کا درد کم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔۔۔
ستم یہ کے وہ ظالم شخص اسکی آنکھوں میں پنپتے خواب تک نوچ لینا چاہتا تھا۔۔۔
وہ پڑھائی کی دلدادہ کتابوں سے محبت کرنے والی لڑکی جو اپنی کتابوں کو جان سے عزیر رکھتی تھی اسکی کتابیں اسکے سامنے جلا دی گئ تھیں۔۔۔۔ وہ ہنوز اس آگ میں خود کو جلتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
مسلسل گریہ وزاری اور ذہنی دباو سے اسکی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔۔۔
اسے اپنا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا تھا نا جانے کب مستقبل کا خوفناک نقشہ سوچتے سوچتے وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی اسے علم ہی نا ہو سکا۔۔۔۔
*****
چلیں مسز آپکو اکیڈمی چھوڑ دوں۔۔۔۔
ماہیر ابھی ابھی بچوں کا ہوم ورک مکمل کروا کر کمرے میں آتی اکیڈمی کے لئے تیار عبایہ پہن رہی تھی جب احمر مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ یونیورسٹی سے آ کر وہ سارا وقت بچوں کے ساتھ گزارتی انہیں خود پڑھاتی۔۔۔ شام میں اسکی دو گھنٹے کی اکیڈمی کلاسز ہوتی۔۔۔ تب تک احمر واپس آ چکا ہوتا۔۔۔ یہ دو گھنٹے بچے اسکے ساتھ ہوتے۔۔۔۔
حجاب اوڑھ کر وہ احمر کو دیکھ مسکراتی ہوئی باہر نکلی۔۔۔
چلیں۔۔۔
انٹرنیشنل اکیڈمی کی پرشکوہ عمارت کے سامنے اترتی وہ پراعتماد قدم اٹھاتی اندر بڑھی۔۔۔
اس اکیڈمی میں مختلف این ٹی ایس اور موک انٹرویوز کی تیاری کے لئے طالبعلم آتے اور وہ وہاں انگلش کے سبجیکٹ کے لئے فرائض سر انجام دیتی تھی۔۔۔
انگلش ممالک میں جانے والے طالبعلم یا انٹرویوز کریک کرنے والے طالبعلم بالخصوص میم ماہیر کی کلاسز اٹینڈ کرتے تھے۔۔۔ اسکا انگلش لہجہ بریٹش تھا۔۔۔ اسکی انگلش پر گرفت مضبوط تھی اسے اس زبان پر خاصا عبور حاصل تھا۔۔۔
اسکی باوقار شخصیت کا خاصا ہی تھا کے اسے دیکھنے والے ہر افراد کی نگاہیں احتراماً خودبخود جھک جاتیں۔۔۔
حسب معمول وہ کلاس میں جاتی ہی رسمی دعا سلام کے بعد اپنا لیکچر شروع کر چکی تھی۔۔۔ کلاس میں ایک سماں بندھ گیا تھا ۔۔۔ وہاں پن ڈراپ سائیلنس تھا۔۔ صرف ہر جانب اسکی بااعتماد اور پر تاثیر آواز ہی تھی۔۔۔۔
*****
انٹرنیشل اکیڈمی کی پرشکوہ عمارت کے سامنے آ کر ایک سپورٹ کار ایک جھٹکے سے رکی تھی۔۔۔ پیسنجر سیٹ پر ایک خوبرو نوجوان بیٹھا تھا جسکے نقوش خاصے تنے ہوئے تھے جبکہ وہ خاصا بیزار لگتا تھا۔۔۔
اسکے برعکس ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا نوجوان خاصا ریلکیس تھا۔۔۔
For God sake Shameer...
مجھے سی ایس ایس کا انٹرویو کڑیک کرنا ہے تحریری امتحان میں پہلے ہی شاندار نمبروں سے کریک کر چکا ہوں۔۔۔ اور انٹرویو کے لئے تم مجھے یہاں لائے ہو یہاں۔۔
شامیر کو دروازہ کھول کر باہر نکلتا دیکھ وہ نوجوان غصے و تعجب سے اکیڈمی کی جانب اشارہ کرتا پھٹ پڑا۔۔۔
ٹرسٹ میں اریز۔۔۔۔۔ انٹرویو سے پہلے تم نے اگر میم ماہیر کی دو ہی انگلش کلاسز اٹینڈ کر لیں نا تو تم کلاس سے وہ اریز ہابر نہیں نکلو گئ جو اندر گئے ہوگئے۔۔۔۔
اس گارجیئس لیڈی کا انرجی لیول ہی اور ہے۔۔۔ تم انکی کلاس اٹینڈ کرو گئے نا تو خود ہی انکی صلاحیتیوں کے معترف ہو جاو گئے۔۔۔ وہ کار کے شیشے پر جھکا چمکتی نگاہوں سے اریز کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔۔۔
جبکہ وہ جھنجُھلایا سا ہاتھ سے اشارہ کرتا باہر نکلا جیسے کہہ رہا ہو کیا کہنے تمہاری میم ماہیر کے۔۔۔
اسکے باہر نکلنے پر شامیر مسکرا دیا۔۔۔
******
اسکی آنکھ اپنے ماتھے پر ایک نرم لمس محسوس کرتے کھلی تھی۔۔۔۔
پلکوں کی بار بامشکل ایک دوسرے سے جدا کرتے اسنے آنکھیں کھولیں۔۔۔ کچھ پل لگے اسے حواسوں میں لوٹنے میں۔۔۔ لیکن سامنے کا منظر ناقابل یقین تھا۔۔۔
وہ فرش کی بجائے اس وقت بیڈ پر نرم گرم سے بستر پر لیٹی تھی جبکہ وہ ستم گر اسکے قریب ہی کرسی پر بیٹھا اسکے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہا تھا۔۔۔
گزشتہ حالات و واقعات یاد کرتے عروب کی آنکھیں تیزی سے بھیگنے لگیں تھیں۔۔۔
اسے ہوش میں آتا دیکھ سلطان سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔۔
اوہ شکر۔۔۔ تمہیں ہوش آ گیا۔۔۔ اب کیسا محسوس کر رہی ہو عروب۔۔۔ ویسے تو ڈاکٹر ابھی ابھی تمہیں انجیکشن وغیرہ لگا کر گئ ہے۔۔۔ مزید کچھ کھانے کی بعد دوائی لو گی تو بہتر محسوس کرو گئ۔۔۔
وہ اس سے یوں بات کر رہا تھا جیسے ان دونوں کے درمیان کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔۔
عروب کا دل بھر بھر آیا۔۔۔۔۔وہ کہنیوں کی بل سہارا لیتی نیم دراز ہوئی۔۔۔ اسے اٹھنے کی کوشیش کرتا دیکھ سلطان نے سرعت سے اسکے پیچھے تکیے رکھتے اسے سہارا دیا۔۔۔
وہ بخار کی حدت سے سرخ پڑتے چہرے اور آنکھوں سمیٹ اسے دیکھے گئ۔۔۔
اوہ وہ۔۔۔ سلطان کنپٹی کھجاتا کچھ کہنے کے در پر تھا جب وہ شدت سے اسکا ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
وہ سلطان کی جانب سے پڑنے والے تھپڑ اور تھپڑ کی شدت دونوں کو یکسر بھول گئ ۔۔۔۔
سلطان پلیز۔۔۔ میرے ساتھ ایسا مت کریں۔۔۔ پلیز
۔۔پیلز مجھے اس دفعہ امتحانات دے لینے دیں۔۔۔ امتحانات میں محض چند دن باقی ہیں سلطان۔۔۔ میرے دو سالوں کی محنت ہے۔۔ پلیز سلطان میرا کچھ تو احساس کریں۔۔۔ میرے دو سال ضائع ہو جائیں گے۔۔۔ بس۔۔۔
اسنے ہاتھ کی پشت سے بے دردی سے آنسو رگڑے۔۔۔ بس مجھے میری بی ایس سی مکمل کر لینے دیں میں قسم کھاتی ہوں۔۔۔ وہ رکی ۔۔۔ گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔ قسم کھاتی ہوں سلطان دوبارہ کبھی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگاوں گی۔۔۔۔
کبھی ہاتھ نہیں لگاوں گی مگر پلیز اس وقت مجھ پر ترس کھائیں ۔۔۔ میں نے بہت محنت کی ہے ۔۔۔ پلیز۔۔۔
آنسو لڑیوں کی مانند ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرتے بے مول ہو رہے تھے۔۔۔ سوکھے پپٹری زدہ ہونٹ کپکپا رہے تھے۔۔۔ پہلے سے سرخ آنکھیں شدت گریہ سے مزید سرخ ہونے لگی تھیں۔۔۔
اسکا دل جیسے کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔۔۔ تکلیف ناقابل برداشت تھی۔۔۔ اگر جو وہ نا مانا تو۔۔۔۔
وہ اندر سے منفی خدشات کے تحت لرز رہی تھی۔۔۔
دو سال اسنے دن رات جان ماری تھی۔۔۔ یہ اسکے باپ کا خواب تھا۔۔۔ اور باپ کی بیماری کے دنوں میں بھی وہ خود پر جبر کرتی اپنی پڑھائی کیساتھ انصاف کرتی رہی تھی۔۔۔۔ اتنی بھرپور تیاری کے بعد اگر اسے عین وقت پر امتحانات نا دینے دیے جاتے تو شاید اسکا دل پھٹ جاتا۔۔۔۔
وہ سراپہ التجا بنی اسکے سامنے اپنی التجائیں پیش کر کے کسی خالی ہاتھ سوالی کی مانند آس و نراس کی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ کہ شاید گلیشیئر پھگل جائے ۔۔ کے شاید اس پتھر دل کے اندر زرا سا رحم آ جائیں۔۔۔۔
آنکھوں میں جلتے بجھتے پھرپھڑاتے آس کے دیئے کو لئے وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی کے آیا وہ اسے جان کا مزدہ سناتا ہے یا اسکے اندر سر پٹختی زخمی زخمی ہوتی روح کو بھی ایک ہی جھٹکے میں کھینچ لیتا ہے۔۔۔۔
اسنے آہستگی سے اپنا ہاتھ عروب کے ہاتھ سے کھینچا۔۔۔
عروب کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔۔
آرام کرو۔۔۔ میں تمہارے لئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں۔۔۔ کھانا کھا کر دوائی لو گی تو بہتر محسوس کرو گی۔۔۔ بے تاثر لہجے میں کہتا وہ اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ عروب کو اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہوئی وہ وہیں تکیے میں منہ گھساتی گھٹ گھٹ کر روتی سسکیوں کا گلہ گھونٹنے لگی۔۔۔
*****
بیمار وہ پہلے ہی تھی لیکن سلطان کے فیصلے نے اسے بے طرح توڑ دیا تھا۔۔۔ دفعتا وہ دودھ کیساتھ کوکیز لئے اندر داخل ہوا۔۔
اٹھو یہ کھا لو۔۔۔۔ وہ واپس آ کر اپنی چھوڑی جگہ پر بیٹھا۔۔۔
ناجانے وہ اتنا نارمل اور ریلیکس کیسے تھا جس پر اسکی کسی فریاد کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
مجھے کھانے کی ضرورت نہیں ہے سلطان۔۔۔ مجھے آپکی اجازت کی ضرورت ہے۔۔۔ آپ پلیز وہ دے دیں ۔۔۔ میں خودبخود ٹھیک ہو جاوں گی۔۔۔ وہ بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے آنسووں سے بھیگے چہرے کیساتھ ہارے ہوئے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔۔
سلطان کوکیز دودوھ میں دبو کر اسکے منہ کے قریب لے کر گیا۔۔۔ عروب اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھتے رہنے کے بعد چہرا جھکاتی سسک اٹھی۔۔۔
سلطان گہری سانس خارج کرتا بڑھا ہاتھ واپس لے گیا۔۔۔
کیوں چاہتی ہو عروب کے میں تم پر سختی کروں۔۔۔ لہجے سے نرمی مفقود ہو چکی تھی۔۔۔
پلیز مان جائیں نا سلطان۔۔۔ آپکو خدا کا واسطہ۔۔۔ صرف اس ایک چیز کی اجازت دے دیں زندگی میں دوبارہ کبھی کوئی خواہش نا کروں گی۔۔۔ پلیز سلطان۔۔۔
میری بھی کوئی خواہشات ہیں۔۔ یہ میرے بابا کی خواہش تھی سلطان۔۔۔ جسے میں۔۔۔
اپنی خواہشات کو باپ کے گھر پورا کر کے آنا تھا نا پھر۔۔۔ ابھی وہ التجائیہ بول رہی تھی جب وہ اپنے مخصوص اکھڑ انداز میں آتا پھنکارا۔۔۔ ماتھے پر شکنیں پھر سے ابھر آئیں تھیں۔۔۔ ہاتھ میں تھامی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر پٹخی اور کرسی کھسکاتا کچھ فاصلے پر ہو کر بیٹھا۔۔۔۔
میری تمہارے باپ کے ساتھ ایسی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوئی تھی کے شادی کے بعد میں اسکی بیٹی کی تعلیم مکمل کرواتا پھروں گا۔۔۔ اسکے لہجے کی کاٹ عروب کا دل چیر رہی تھی۔۔۔
یہ ایک مرے ہوئے شخص کی خواہش تھی سلطان۔۔۔ سلطاں کی بلند ہوتی آواز کے سامنے اسکا لہجہ دھیما پڑنے لگا تھا۔۔۔
جب انسان ہی مر گیا تو اسکی خواہش پوری کر کے کیا کرو گئ۔۔۔
عروب نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس سفاک انسان کو دیکھا۔۔۔
زندہ لوگوں کی باتوں کی زیادہ اہمیت ہونی چاہیے۔۔۔ وہ گھٹنوں پر کہنیاں رکھے ہاتھ باہم پھنساتا آگے کو جھکتا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر گویا یوا۔۔۔
اور تمہارے شوہر کو تمہارا پڑھائی جاری رکھنا پسند نہیں ہے۔۔۔ تو مسلہ کیا ہے پھر تمہارے ساتھ۔۔۔ شوہر کی نافرمانی کر کے بی ایس سی کلیئر کر بھی لو گئ تو تم کونسے تیر مار لو گئ۔۔۔
اب شادی شدہ ہوچکی ہو تو اس پڑھاتی کے خمار کو دماغ سے اتار کر گھر گرہستی پر توجہ دو۔۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
میں ہر حال میں امتحانات دوں گی سلطان۔۔۔ آپ مجھے روک نہیں سکتے۔۔۔ یہ میرے باپ کی خواہش تھی۔۔۔
بے بسی کے شدید احساس تلے وہ ناجانے کیسے ہمت پکڑتی بول اٹھی۔۔۔
وہ جاتا جاتا رکا۔۔۔ ایک تلخ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔۔
ضرور۔۔۔ لیکن باپ کی خواہش پوری کرنے کے لئے پھر باپ کے گھر ہی چلی جانا اور ہاں۔۔۔ وہ پلٹا ۔۔۔۔
واپسی کا راستہ پھر بھول جانا کیونکہ اس خود سری کے بعد اس گھر کے دروازے تم پر بند ہیں۔۔۔
وہ بڑے آرام سے اسکے ہاتھ پاوں باندھ کر اسے بے بس کر کے ایک اندھیری کوٹھری میں پھینکتا جا چکا تھا۔۔۔ جبکہ اسکی اس بات پر عروب ساکت رہ گئ تھی۔۔۔ کتنی آسانی سے وہ شخص کتنی سخت بات بول گیا تھا کہ وہ گنگ رہ گئ ۔۔۔
*****

No comments