Mera Aashiyana novel 7th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 7th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ساتویں قسط۔۔۔
صبح کی تیاری مکمل ہے تمہاری۔۔۔ بیڈ پر گم صم سی بیٹھی ماہیر کے پاس آکر وہ نیم دراز ہوتا گویا یوا۔۔۔
ماہیر نے چہرے کے اطراف میں پھسلتیں لٹیں کانوں کے ہیچھے اڑسیں اور خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ سبز کانچ اس وقت اداس تھا۔۔۔ ڈھیلے بالوں کی پونی کمر پر موجود تھی جبکہ آنچل کندھے سے سرک رہا تھا۔۔۔
دراصل کنفوز ہوں احمر اسنے لاچارگی سے کندھے اچکائے۔۔۔ امی ابو کا ری ایکشن ۔۔۔۔۔پھر یہ میرا بھی پہلا تجربہ ہے تو۔۔۔ وہ آنکھوں کے کونے دابتی لب کترتی شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔
امی ابو کے لئے ابھی یہ سب نیا ہے ماہیر۔۔۔ ہمارے خاندان میں پہلے کسی لڑکی نے نوکری کی جو نہیں۔۔۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔
صبح تمہارا پہلا دن ہے تو یہ ساری سوچیں جھٹک کر پرسکون ہو جاو۔۔۔ یہ تو ابھی شروعات ہے۔۔۔ انشااللہ تم بہت آگے تک جاو گئ۔۔۔ تمہارے خوابوں کی راہ میں یہ شادی رکاوٹ نہیں بنے گی۔۔۔ احمر نے اسکا ہاتھ تھام کر سہلاتے متانت سے کہا تو وہ اسکے کندھے پر سر رکھتی آنکھیں مونڈ گئ۔۔۔
******
مال سے نکلتے نکلتے موسم بہت خوشگوار ہو گیا تھا تھا۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی چلتی ہوا ہر زی روح کو مسحور کر رہی تھی۔۔۔ فبیحہ کر فرمائش پر وہ سب آئسکریم کھا کر پھر رات کا ڈنر کر کے ہی گھر لوٹے تھے۔۔۔۔
عروب خوش تھی۔۔۔ آج اسنے سلطان اور بچوں کے ساتھ ایک بھرپور دن گزارا تھا۔۔ زندگی خودبخود ہی خوبصورت لگنے لگی تھی۔۔۔
اب بھی وہ گھر آتے ہی کپڑے تبدیل کر کے سیدھا کچن میں ہی آئی۔۔۔ بچے آتے ہی تھکاوٹ کے باعث سو چکے تھے۔۔۔۔ اسنے بعجلت سلطان کے لئے چائے تیار کی۔۔۔ رات کو چائے پی کر سونا اسکا معمول تھا۔۔۔
کپ ٹرے میں رکھتی وہ کچن کی لائٹ آف کر کے باہر نکلی۔۔۔ اوپر جانے سے پہلے اسنے ایک تفصیلی نگاہ پورے گھر پر ڈالی اور سبھی غیر ضروری بتیاں بجاتی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔
کمرے میں سلطان کو موجود نا پاکر وہ سٹڈی روم میں آگی۔۔۔ توقع کے عین مطابق وہ وہیں تھا۔۔۔ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھا وہ کوئی فائل دیکھ رہا تھا۔۔۔
آپکی چائے۔۔۔ اسنے آگے بڑھ کر چائے کا کپ میز پر رکھا۔۔۔
شکریہ۔۔۔ سلطان نے ایک نظر اسے دیکھ کر کپ اٹھا کر منہ کو لگایا۔۔۔
کچھ کہنا ہے کیا۔۔۔ وہ ابھی تک عروب کو ہنوز ویسے ہی کھڑے دیکھ چونک کر مستفسر ہوا۔۔۔
وہ دراصل میں کل صبح اپنے گھر کا چکر لگانا چاہتی تھی۔۔۔ کچھ سامان ہے وہاں۔۔۔ تو کیا میں صبح وہاں چلی جاوں۔۔۔ شاپنگ مال والی شوخ و چنچل عروب اس وقت غائب تھی۔۔۔ وہ اس وقت نروس سی شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔۔
یہ سامنے بیٹھی شخصیت کے پل پل بدلتے موڈ کا ہی خاصا تھا کے وہ بات کرنے سے پہلے اسقدر محتاط تھی۔۔۔ محض دو ہی دنوں میں وہ اسکی ذات کے رنگوں کو پہچاننے لگی تھی۔۔۔ وہ پل میں تولہ پل میں ماشہ قسم کا انسان تھا۔۔۔ کبھی اتنا نرم کے دنیا لٹا دے اور کبھی اتنا گرم کے آنکھوں سے نکلتی تپش سے ہی جھلسا دے۔۔۔
کیا تم انسان ہو یا کوئی ہوائی مخلوق۔۔۔ وہ اچنبے سے مخصوص تیوریاں چڑھائے اسے غور سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
جی۔۔۔۔ وہ حیرت سے چلائی۔۔۔ مطلب کیا ہے آپکی اس بات کا۔۔۔ وہ برا منا گئ۔۔۔ مگر سامنے تھا کون۔۔۔ کیا وہ اسکے برا منانے کو کسی خاطر میں لاتا؟؟؟
شاپنگ تو تم نے اپنے اگلے دس سالوں کی اکھٹی ہی کر لی ہے۔۔۔ ابھی بھی کسی سامان کی ضرورت ہے تمہیں۔۔ اور سیریسلی ۔۔۔ سنجیدگی سے بات کرتا وہ کچھ توقف کو رکا۔۔۔ عروب منہ پھلائے نروٹھے پن سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اب تو مجھے تمہارے نارمل ہونے پر ہی شبہ ہے۔۔۔ یقیناً تمہارے دماغ کے ساتھ کوئی گڑبڑ ہے۔۔۔ وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا واپس فائل پر جھک گیا۔۔۔
جبکہ عروب کے تو سر پر لگی تلوں پر بجھی۔۔ وہ تو بلبلا کر رہ گئ۔۔
دیکھیں سلطان صاحب۔۔۔ مانا کے آپ بہت بڑے بزنس مین ہیں۔۔۔ بہت روب ہے آپکا۔۔۔ دولت عاشق ہے آپ پر۔۔۔ ہونگے آپ کوئی بہت بڑی ہستی۔۔۔ لیکن۔۔۔
وہ آستیں چڑھاتی میدان میں کودی۔۔۔ غصے سے تنفس تیز ہونے لگا تھا۔۔۔
لیکن آپ مجھے یوں ڈی گرید نہیں کر سکتے۔۔ بات بات پر شاپنگ کے طعنے نہیں دے سکتے۔۔۔
دنیا کے سبھی شوہر اپنی بیویوں کو شاپنگ کرواتے ہیں آپ نے کروادی تو کونسا انوکھا کام کر دیا۔۔۔
میں آپکی ذمہ داری ہوں۔۔۔ میرے نان نفقے کی ذمہ داری آپ پر ہے۔۔ اور پھر شاپنگ کی آفر خود آپ نے کروائی تھی۔۔۔ اب آپ یوں بار بار مجھے ٹونٹ نہیں مار سکتے۔۔۔
اور چیزیں صرف مادی ہی نہیں ہوتی۔۔۔ کچھ چیزوں سے آپکی دلی وابستطگی بھی ہوتی ہے جسکا دنیا میں کوئی نعمل البدل نہیں ہوتا۔۔۔ ایسی ہی کچھ چیزیں میری بھی ہیں اس گھر میں۔۔۔
وہ بھرپور جذباتی انداز میں بولتی آخر میں آواز نم ہونے کے باعث زرا دھیمی پڑی۔۔۔
سلطان فائل بند کئے ایک بازو صوفے کی پشت پر پھیلائے اس سے ٹیک لگائے بیٹھا بڑی فرصت سے اسکی ٹر ٹڑ چلتی زبان دیکھتا رہا۔۔۔
اسکے چپ ہوتے ہی وہ سیدھا ہوتا اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔۔
یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ۔۔۔ مجھے معاف کردو۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوگئ۔۔۔ ناجانے کیا سوچ کر میں نے تمہیں شاپنگ کی آفر کروا دی۔۔۔
اور پلیز تم صبح ڈرائیور کے ہمراہ جا کر اپنی دلی وابستطگی والی چیزیں اپنے گھر سے لے آنا۔۔۔ ہاتھ جوڑے اسکا انداز خاصا چڑانے والا تھا۔۔۔۔۔
اور اب پلیز۔۔۔ آخر میں اسکی آواز کی سختی نمایاں ہونے لگی۔۔ اپنا یہ ریڈیو بند کرو اور جاو کمرے میں۔۔۔
ہاتھ پیچھے ہٹاتا وہ سنجیدی سے کہہ کر فائل واپس کھول گیا۔۔
سلط۔۔۔۔
میں نے کہا جاو عروب۔۔ اس سے زیادہ ریڈیو میں نہیں سن سکتا۔۔۔ میرا سر درد کرنے لگا ہے۔۔۔ تمہارا تو بہت سیاپا ہے۔۔۔ وہ ہاتھ کی انگلیوں سے سر دابتا جھلا کر بولا۔۔۔
عروب نے بےبسی بھرے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔ آپ ہیں ہی کھڑوس۔۔۔ اور پھر پاوں جھٹکی سٹڈی سے باہر نکل گئ۔۔۔ اسکے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اسنے کل اسے اپنے باپ کے گھر جانے کی اجازت دے دی تھی۔۔۔
****
احمر کے تو پاوں ہی زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔ وہ خوش تھا۔۔۔ بے تحاشا خوش۔۔۔ اور خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔ آج تو جیسے اس گھر میں خوشیوں کی بہار ہی اتر آئی تھی۔۔۔ احمر نے محض میٹھائی پر ہی اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ انواع و اقسام کے میٹھے بیکڑی سے پیک کروا لایا تھا جس میں سرفہرست ماہیر کا فیورٹ چاکلیٹ کیک تھا۔۔ اور اب وہ سب کو بضد سب کھلا رہا تھا۔۔۔
آخر دو سال بعد انہیں یہ خوشخبری سننے کو ملی تھی۔۔۔ وہ باپ بننے والا تھا۔۔۔ اور خوش تو ماہیر بھی بہت تھی۔۔۔ وہ شرمائی لجائی سی اپنے کمرے میں موجود تھی۔۔۔ ساس نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔۔۔
اور سب سے پہلا اعتراض جو اس وقت اٹھا تھا وہ اسکی نوکری پر ہی تھا۔۔۔۔
بس بیٹا بہت ہوگئ یہ نوکریاں وکڑیاں ۔۔۔ اب وہ دوسرے جی سے ہے۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں مزید ایسے خرافات پالنے کی۔۔۔ میں اس معاملے میں کوئی رسک نہیں لے سکتی۔۔۔
ماں نے سب کے سامنے برملا اظہار کیا تھا۔۔۔ احمر انکی بات پر خاموش ہی رہا۔۔۔ اور خاموش تو اس بات پر ماہیر بھی تھی۔۔۔ جو بھی تھا کیریئر کے لئے وہ جتنی بھی دیوانی اور مخلص تھی۔۔۔ بحرحال اولاد اسکی پہلی ترجیح تھی۔۔۔
کیا کروں احمر۔۔۔ لیو تو اتنی لمبی ملے گئ نہیں۔۔۔ پھر ریزائن ہی دے دیتی ہوں۔۔۔ رات میں احمر کمرے میں آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی الجھی الجھی سی گویا ہوئی۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اسکے پاس ہی آ کر بیٹھا۔۔۔ کچھ دن کی چھٹی لے لو پھر سے جوائن کر لینا۔۔۔ ریزائن مت کرو۔۔۔ اس جاب کے لئے تم نے بہت محنت کی ہے۔۔۔ وہ اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتا گویا کوا۔۔۔
لیکن احمر امی۔۔۔ اور میں خود بھی کوئی رسک نہیں لینا چاہتی۔۔۔ آخر دو سال بعد اللہ نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے۔۔۔ وہ ہنوز شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا ماہیر۔۔۔ وہاں تم نے صرف لیکچرز دینے ہے۔۔۔ وہ بھی چند گھنٹوں کے لئے۔۔۔ اور امی کی فکر مت کرو میں سمبھال لوں گا۔۔۔ احمر کی یقین دہانی پر وہ اداسی سے مسکرا دی۔۔۔
اور پھر وہ اپنے کہے پر پورا بھی اترا تھا۔۔۔ اسنے ماہیر کو ہاتھ کا چھالہ بنا ڈالا تھا۔۔۔ روم روم میں تو وہ پہلے ہی بستی تھی۔۔۔ اب تو اور عزیز ہو گئ تھی۔۔۔ وہ باقاعدہ خود اسکی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھتا اور ڈاکٹر کے جاری کردہ ڈائٹ چارٹ کے مطابق اسکی ڈائٹ پر بھی خود چیک رکھتا۔۔۔
لیکن دو ہفتوں کی چھٹی کے بعد جس دن ماہیر نے ری جوائن کیا اس دن گھر میں ایک مرتبہ پھر سے طوفان اٹھا تھا مگر حسب توقع وہ پھر سے اسکے سامنے ڈھال بن کر کھڑا تھا۔۔۔
ماں کو ہینڈل کرنا ایک مشکل امر تھا مگر ماہیر کی محبت میں وہ کچھ بھی کر سکتا تھا سو یہ بھی کر گزرا۔۔۔۔ ماہیر کو کالج پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری بھی اسنے اپنے سر لے لی تھی۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بلآخر وہ دن بھی آن پہنچا جب اسنے ایک خوبصورت اور صحتمند بچے کو جنم دیا۔۔۔
اس روز سلطان کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔ اسکا بس نا چل رہا تھا کے وہ پورے شہر میں میٹھائی بانٹتا۔۔۔
اسکی دنیا مکمل ہوگئ تھی۔۔۔ کیا بھلا اس جیسا بھی خوش قسمت کوئی ہوسکتا تھا۔۔۔ اسنے جسے چاہا پا لیا۔۔۔ بے شک قسمت اس پر مہربان تھی۔۔۔
*****
بچوں کو سکول بھیج کر تقریباً گیارہ بجے عروب ڈرائیور کے ہمراہ اپنے باپ کے گھر کے لئے روانہ ہوئی۔۔۔ گھر زیادہ دور نا تھا اس لئے جلد ہی وہ وہاں پہنچ گئے۔۔۔ دروازے پر لگا تالا کھول کر اندر بڑھتے ہی یادوں کے کئ جھروکوں نے اسے اپنے حصار میں لیتے اسکا استقبال کیا۔۔۔ دل سے ایک ہوک سی نکلی تھی۔۔۔ دو کمروں پر مشتمل چھوٹا سا وہ گھر اسکی کل جنت تھا۔۔۔ جہاں کبھی خوشیاں جھومتیں تھیں۔۔۔
گہری سانس فضا کر سپرد کرتی وہ اندر بڑھی۔۔۔ اور اپنے باپ کی یادیں اکھٹی کرنے کے ساتھ ساتھ اسنے سرعت سے اپنی کتابیں سمیٹیں۔۔۔ قدم قدم پر کئ کئ یادیں اسکے قدموں سے لپٹتیں اسے کمزور کر رہی تھیں۔۔۔ آںکوں کی نمی کو چھلکنے سے پہلے ہی اسنے مسلہ اور اپنا سامان سمیٹ کر باہر آگئ۔۔۔
کچھ وقت لگا اسے ماضی سے نکلنے میں لیکن گھر آتے آتے وہ خود کو کمپوز کر چکی تھی۔۔۔
آتے ہی اسنے بچوں کے لئے کھانا تیار کیا اور گھر کے کاموں میں لگ گئ۔۔۔
دوپہر میں بچوں کے سونے کے بعد وہ کمرے میں آ کر کتابیں کھول کر پڑھنے لگی۔۔۔ اسکے امتحانات میں محض چند دن رہتے تھے اور اسکی بھرپور کوشیش تھی کے پہلے باپ کی بیماری اور پھر اچانک ہونے والی شادی کے باعث پڑھائی میں اسکا جو نقصان ہوا تھا اسے کور کر لے۔۔۔
دفعتا اسے نیچے سے سلطان کی گاڑی کے رکنے کی آواز آئی تو وہ بھاگ کر کھڑکی تک آئی۔۔۔ وہ آج سر شام ہی گھر لوٹ آیا تھا۔۔۔ کھڑکی سے دیکھتے ہی وہ کتابیں وہیں چھوڑ مسکراتی ہوئی نیچے بھاگی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔ آج آپ اتنی جلدی آگئے۔۔۔ وہ نیچے لاوئنج میں ہادی کیساتھ ہی بیٹھا تھا جو شاید ابھی ابھی اٹھا تھا البتہ فبیحہ ہنوز سو رہی تھی۔۔۔
ہممم۔۔۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اسنے انگلیوں کی پوروں سے آنکھ کے کونے دابے۔۔۔
اوہ۔۔۔ چائے بناوں پھر آپکے لئے۔۔۔ عروب اسکی سرخ ہوتی رنگت دیکھ مستفسر ہوئی۔۔۔
نہیں۔۔۔ چائے نہیں فریش جوس بنا لو۔۔۔ میں روم میں ہوں وہیں لے آنا۔۔۔ وہ ماتھا مسلتا اٹھ کر اوپر چلا گیا۔۔۔ جبکہ عروب کچن میں آتی بعجلت جوس بنانے لگی۔۔۔
جوس کا جگ اور گلاس ٹرے میں رکھتی وہ اپنے کمرے میں آئی۔۔۔
کمرا خالی تھا لیکن بالکونی کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی اسی جانب بڑھ آئی لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہی جیسے اسکے قدموں تلے سے زمین کھسک گئ تھی۔۔۔ اسے اپنے جسم سے روح پرواز کرتی محسوس ہوئی۔۔۔ یقین کرنا مشکل تھا حیرت در حیرت تھی۔۔۔
سامنے سے لمحہ با لمحہ زور پکڑتی آگ اور آگ سے اٹھتے دھویں کے مرغولے جبکہ انکے بالکل سامنے بے تاثر نگاہوں اور سنجیدہ تاثرات لئے ہاتھ میں لائٹر تھامے کھڑا سلطان۔۔۔
عروب کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔ ہاتھ میں تھامی جوس والی ٹرے زمین بوس ہوگی۔۔۔ چھناکے کی آواز کے ساتھ کانچ ٹکروں میں بٹا اور جوس ماربل لگے فرش پر نقش و نگار بناتا بہتا چلا گیا۔۔۔
سلطان یہ کیا۔۔۔ وہ چیختی ہوئی دیوانہ وار آگے بڑھی۔۔۔ مگر وہ بے حس بنا ہنوز ویسے ہی کھڑا تھا۔۔۔ وہ اس آگ کے پاس بیٹھی اپنی ایک ایک کتاب اٹھاتی بہتی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ سے ہی آگ بجانے کی ناکام سی کوشیش کرنے لگی۔۔۔ مگر آگ کی لپٹیں پرشدت تھی جو جلد ہی اس کتاب کے اوراق کے ساتھ اسکے خوابوں کو بھی تیزی نگل رہی تھی۔۔۔ ایک کے بعد دوسری کتاب کو ہاتھ سے بجھاتے وہ کوئی دیوانی ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔ ہاتھ تک جل گئے مگر وہ پھر اپنی کوشیش میں ناکام ٹہری۔۔۔ جلد ہی اپنی کوشیش میں ناکام ہو کر سامنے موجود راکھ کے ڈھیر کو دیکھتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
سلطان آگ کے بجھتے ہی سر جھٹکتا کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
کیوں کیا آپ نے ایسا سلطان۔۔۔ وہ بھوکی شیرنی کی مانند غراتی اسکے پیچھے ہی کمرے میں آئی۔۔۔
میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں۔۔۔ وہ سرد سے لہجے میں کہتا اپنی بازو پر موجود اسکا ہاتھ جھٹکتا آگے بڑھا جبکہ وہ غصے سے اس پر جھپٹی۔۔۔ آپکو جواب دینا ہوگا سلطان۔۔۔ کیوں کی آپ نے اتنی گھٹیا حرکت۔۔۔ کیوں جلائی میری کتابیں۔۔۔ اسکے سامنے آتی وہ اسکا گریبان پکڑ کر اتنی شدت سے چیخی کے اسکی رگیں پھولنے لگیں۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔ بے ساختہ پوری قوت سے پڑنے والے بھاری مردانہ ہاتھ کے تھپڑ سے وہ دور جا کر گری۔۔۔ سلطان کے ہاتھ کی انگلیاں اسکی پھولی گال پر اپنی چھاپ چھوڑ گئیں۔۔۔۔
دوبارہ میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشیش مت کرنا۔۔۔ انگلی اٹھاتا وہ غرایا۔۔۔ چہرے پر سخت پتھریلے تاثرات تھے۔۔۔
عروب فرش پر اونڈھے منہ گری چہرے پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس بے رحم سفاک شخص کا چہرا دیکھ رہی تھی۔۔۔ تھپڑ اتنا شدید تھا کے اسکا دماغ تک سنسنا اٹھا۔۔۔ دماغ کی چولیں تک ہل گئیں لیکن یہ اسکے لئے اسقدر غیر متوقع تھا کے وہ رونا تک بھول گئ۔۔۔
*****

No comments