Mera Aashiyana novel 6th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 6th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چھٹی قسط۔۔۔۔
آج سر شام ہی گھر میں ایک ہنگامہ بھرپا تھا۔۔۔ ماں سر تھامے تخت پر بیٹھی تھیں جبکہ ابا پشت پر ہاتھ باندھے غصے سے یہاں سے وہاں پیدل مارچ کر رہے تھے۔۔۔ بھابھی کچن میں بظاہر اپنے کام میں مصروف تھی البتہ ساری حسیات وہیں لگی ہوئی تھیں۔۔۔
بڑا بھائی بھی ماں کے پاس دائیں جانب صوفے پر موجود گم صم سا تھا۔۔۔ وہ اکیلا آج پھر ایک محاز لڑنے تھری سیٹر صوفے پر بے چین سا بیٹھا تھا جبکہ جسکے بارے میں یہ سب ہو رہا تھا وہ اپنے کمرے میں دروازے کی اوٹ سے ناخن چباتی ڈھرکتے دل کیساتھ باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں کہتی ہوں اس لڑکے کی مت ماری گئ ہے۔۔۔ پاگل ہو گیا ہے یہ لڑکا۔۔۔۔ ماں تلملائی۔۔۔۔
نہیں خوبصورت بیوی کے عشق میں پاگل ہوا ہے یہ باولا۔۔۔۔ بھائی نے سر جھٹکتا۔۔۔ مگر وہ ہنوز بیٹھا پاوں جھلاتا ان کی باتیں سنتا رہا۔۔۔
جانتا تھا وہ سیدھے سادھے لوگ ہیں اتنا ہنگامہ تو بنتا ہی تھا نا۔۔۔
نہیں تو اب ہمارے خاندان کی لڑکیاں یونیورسٹی میں لڑکوں کیساتھ پڑھنے جائینگی۔۔۔ ابا چلتے چلتے اسکے قریب رک کر درشتی سے گویا ہوئے۔۔۔
اسنے گہری سانس خارج کرتے باپ کے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھا۔۔۔
اس خاندان کی تو بیٹیوں تک کو یونیورسٹی جانے کی اجازت نا تھی کجا کے بہو کو۔۔۔
ابا وہ پہلے بھی یونیورسٹی جاتی تھی۔۔۔ شادی کی وجہ سے چھٹیاں لے رکھی تھیں۔۔۔ اسکے پچھلے سمیسٹر کے پیپرز تھے اور اب نیا سمیسٹر شروع ہوا ہے۔۔۔ اسنے یونیورسٹی دوبارہ جوائن کرنی ہے۔۔۔ وہ متانت سے گویا ہوا۔۔۔۔
پہلے کی بات جو بھی تھی احمر۔۔۔ مگر اب اسکی شادی ہو چکی ہے۔۔۔ اسکا دل گھر گرہستی میں لگنے دو۔۔۔ ابا گرج کر کہتے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے ۔۔۔ غصے سے سانس پھولنے لگا تھا۔۔۔ بیٹھتے ہی انہوں کے قمیض کا اوپری بٹن کھولا۔۔۔۔
ابا کی بات سن کر وہ لب بھینچ گیا۔۔۔ مگر وہ اس دل کا کیا کرتا جو اسے کہتا تھا کے وہ بہت خاص ہے۔۔۔ وہ محض گھر کا چولہا چوکی سمبھالنے کو نہیں۔۔۔ وہ ایک دنیا فتح کرنے کے لئے بنی ہے۔۔۔ وہ اسکی ذہانت کو گرہن نہیں لگانا چاہتا تھا۔۔۔
دیکھو چھوٹے اس عورت ذات کو جتنی ڈھیل دو گئے نا اتنا تمہیں تگنی کا ناچ نچائے گی۔۔۔ ٹھیک ہے بیوی کی ناز برداری الگ۔۔۔ مگر کچھ معاملے میں عقل سے کام لینا چاہیے۔۔۔
کل کلان کو یہ اگر کسی اچھے مقام پر پہنچ گئ نا تو تجھ جیسے شخص کو گھاس تک نہیں ڈالے گی۔۔۔ٹھینگا دیکھا جائے گی تجھے پھر ہاتھ ملتے رہ جانا۔۔۔ اس لئے اسکے حسن کے سحر سے نکلو اور عقل کو ہاتھ مارو۔۔۔ بھیا کے لہجے میں تنفر تھا۔۔۔ طنز تھا۔۔۔ احمر نے بڑے ضبط سے مٹھی میچتے بھائی کی بات ضبط کی اور وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
وہ میری بیوی ہے۔۔۔ اور میں بہتر جانتا ہوں کے مجھے اسکے بارے میں کیا فیصلہ لینا ہے۔۔۔ مجھے صرف آپ سب کو مطلع ہی کرنا تھا کے وہ کل صبح یونیورسٹی جانے والی ہے۔۔۔ حتمی انداز میں اپنی بات مکمل کرتا وہ واپس کمرے میں اٹھ آیا۔۔۔ جبکہ باہر سب حیرت سے اسے دیکھتے اب دل کی بھراس نکالنے لگے تھے۔۔۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔
****
وہ واپس کمرے میں آیا تو ماہیر گم صم سی بیڈ کی پائنتی پر بیٹھی تھی۔۔۔ اب کیوں اداس ہو یار۔۔۔ کہہ تو دیا کے صبح تمہیں خود یونیورسٹی چھوڑنے جاوں گا۔۔۔ وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا کلائی سے گھڑی اتارتا شیشے سے نظر آتے اسکے عکس کو دیکھ کر گویا ہوا۔۔۔
احمر۔۔۔ بھیا نے دیکھیں کتنی غلط بات بولی۔۔۔ اسنے بھڑائی نگاہیں اٹھا کر شیشے میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھا۔۔۔
وہ ٹھنڈی آہ بھرتا اسکی جانب پلٹا۔۔۔۔
کیا میں نے انکی بات کے جواب میں کوئی ردعمل دیا۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکے قریب آتا سوالیہ گویا ہوا۔۔۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
اور اسی لئے کوئی ردعمل نہیں دیا کیونکہ انکی بات میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔ میری ماہیر کیسی ہے اسکا کردار کیسا ہے کیسا نہیں یہ مجھ سے بڑھ کو کوئی نہیں جان سکتا۔۔۔ اس لئے انکی باتوں کو سر پر سوار کرنا بند کرو اور اٹھِ کر صبح کی تیاری کرو۔۔۔ احمر نے اسکے پاس بیٹھتے اسکا چہرا تھپتھپایا تو وہ اداسی سے مسکرا دی۔۔۔
جاو جا کر صبح کی تیاری کرو۔۔۔ احمر کے مسکرا کر کہنے پر وہ اداسی سے مسکراتی سر ہاں میں ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
******
اگلی صبح عروب کی آنکھ وقت سے کچھ پہلے ہی کھل گئ۔۔۔ سلطان ابھی سو رہا تھا۔۔۔۔
وہ خوموشی سے بستر سے اتر آئی۔۔۔ وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی اور کمرے سے نکل آئی۔۔۔
آج اتوار ہونے کی باعث سب کو چھٹی تھی اسی لئے ا
سبھی خوب نیند پوری کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ سیدھا کچن میں ہی آئی ناشتہ کی تیاری شروع کی جب فبیحہ آنکھیں ملتی کھٹ کھٹ کی آواز سن کر کچن میں ہی اسکے پاس چلی آئی۔۔۔
عروب اسے آتا دیکھ مسکرا دی۔
ماما میرے لئے ناشتے میں کلب سینڈویج بنانا۔۔ چہک کر فرمائش کی گئ۔۔۔۔۔۔
عروب گھٹنوں کے بل جھکی اور اسکے چہرے پر پیار کیا۔۔۔
ٹھیک ہے پر چلو پہلے میں آپکو تیار کر دیتی ہوں پھر ناشتہ بنائیں گے۔۔۔ وہ فبیحہ کو لئے اسکے کمرے میں آ گئ۔۔۔ کپڑے تبدیل کروا کر اسکے بال بناتی وہ اسے لئے واپس کچن میں ہی آگئ۔۔۔
کچھ دیر بعد ہادی بھی وہیں چلا آیا۔۔۔
اسنے دونوں بچوں کی پسند کا کھانا بنایا اور ڈائینینگ ٹیبل پر لگایا۔۔۔
وہ تینوں ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے جب سلطان سفید قمیض شلوار پر سیاہ مردانہ شال اوڑھے پاوں میں پشاوری چپل پہنے مضبوط قدم اٹھاتا نیچے اترتا دکھائی دی۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھتے اسکی آنکھوں میں ایک چمک ابھری جہاں عروب دونوں بچوں سے مسکرا کر بات کرتی انہیں ناشتہ سرو کر رہی تھی۔۔۔
آہٹ پر وہ سب سیڑھیوں کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ فبیحہ بھاگتی ہوئی باپ کی جانب لپکی۔۔۔ وہ محبت سے اسکے بال بکھراتا اسے ساتھ لئے ڈائینیگ ٹیبل تک آیا اور اسے اسکی کرسی پر بیٹھا کر خود سربراہی کرسی پر بیٹھا۔۔۔
اچھی بات ہے بیٹا آج تو ناشتے پر باپ کا بھی انتظار نہیں کیا۔۔۔ وہ ایک مطمیں نگاہ عروب پر ڈال کر ناشتہ کرتے ہادی کی جانب متوجہ ہوتا شرارتاً گویا ہوا۔۔۔
عروب نے جوس گلاس میں انڈیل کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
You are late papa...
ہادی کے کندھے اچکانے پر وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔ ناشتہ کرنے کے دوران وہ دونوں بچوں کیساتھ ساتھ عروب سے بھی چھوٹی موٹی باتیں کرتا اسے گفتگو کا حصہ بناتا رہا ۔۔۔۔
عروب اس کایا پلٹ پر حیرت زدہ تھی اور خوش بھی۔۔۔
شاید اسکی رات کی باتیں رنگ لائیں تھیں جو وہ شخص اپنے اندر لچک لایا تھا۔۔۔
حیرت انگیز توڑ پر آج تو ماتھے کی شکنیں بھی غائب تھی اور ہونٹوں پر بھی تبسم بکھرا تھا۔۔۔
وہ اندر سے پرسکون ہوگئ ۔۔ اور اندر کی دنیا آباد ہوئی تو ہر چیز ہی اچھی لگنے لگی ۔۔۔
ناشتہ کر کے اسنے برتن سمیٹے اور کچن میں آگئ۔۔۔
باہر اسے بچوں کی باپ کیساتھ خوش گپیاں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ بچوں کے ساتھ ہستے مسکراتے سلطان کو دیکھ کر کوئی تصور تک نا کرسکتا تھا کے یہ وہی سلطان ہے جسکے ماتھے سے شکنیں ہی غائب نہیں ہوتیں۔۔۔ دفعتاً بچے یاہووووو کے نعرے لگاتے اپنے کمرے کی جانب بھاگے۔۔۔ عروب نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سمیٹ انہیں دیکھا۔۔۔
وہ ناشتے کے برتن دھو کر ریک میں لگا رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے آہٹ سنائی دی۔۔۔
عروب تم بھی تیار ہو جاو۔۔۔ بچوں کو باہر لے کر جا رہا ہوں تم بھی شاپنگ کر لینا۔۔۔ لنچ ہم باہر ہی کریں گے۔۔۔
سلطان کی بات پر وہ غش کھا کر گرتے گرتے بچی۔۔۔
ہاتھ میں تھاما گلاس شلف پر رکھا اور حیرت زدہ سی جھٹکے سے پلٹی۔۔۔
کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔ وہ اسے منہ کھولے ہونق پن سے یک ٹک خود کو تکتا پا اچنبھے سے گویا ہوا۔۔۔
میں صدقے میں واری۔۔۔ آپ کے منہ سے میرا نام کتنا خوبصورت لگتا ہے سلطان۔۔۔ مجھے تو اپنے نام سے ہی محبت ہونے لگی ہے۔۔۔ وہ ہونٹ دانتوں تلے دابے مسکراہٹ ضبط کرتی اسے چھیرنے کے انداز میں گویا ہوئی۔۔ جبکہ دوسری طرف عروب کا یا انداز دیکھ اسکا موڈ پل میں بگڑنے لگا تھا۔۔۔
خیر میں تیار ہونے جارہی ہوں اس سے پہلے کے آپکا موڈ بدل جائے۔۔ اور آپکے موڈ کے حوالے سے میں آپ پر کوئی رسک نہیں لے سکتی۔۔۔ وہ اسے غصے میں آتا دیکھ کچن سے باہر نکلی جب انہی قدموں پر واپس گھومی۔۔۔
ویسے کیا میں نے آپکو ایک بات بتائی سلطان۔۔۔ وہ پرتجسس انداز میں آنکھیں پھیلاتی گویا ہوئی۔۔۔
کیاااا۔۔۔ وہ الجھا الجھا سا ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔
وہ یہ کے۔۔۔ آپ اتنے بھی برے نہیں جتنا میں آپکو سمجھتی تھی۔۔۔ وہ اٹھلا کر اسکا گال زور سے کھینچتی باہر کو بھاگی۔۔۔ جبکہ وہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی اس قدر جرات اور دیدہ دلری پر عش عش کر اٹھا۔۔۔۔
****
جی ماں آپ نے بلایا۔۔۔ احمر ابھی ابھی گھر لوٹا تھا جب ماں نے اسے بلایا۔۔ وہ سب سے پہلے ماں کے کمرے میں ہی آیا۔۔۔
بس تم مجھے ایک بات بتا دو احمر کے یہ سب کب تک چلے گا۔۔۔ ماں غصیلے لہجے میں گویا ہوئی تو احمر کا ماتھا ٹھنکا۔۔۔
کیا ماں۔۔۔۔ آپ کس بارے میں بات کر رہی ہیں۔۔۔
اسی بارے میں جو سب گھر میں چل رہا ہے۔۔۔ دو سال ہوگئے تمہاری شادی کو اب کیا میں پوتے پوتی کی صورت دیکھنے کو ترستی ہی اس دنیا سے چلی جاوں۔۔۔ ماں شکوہ کناں ہوئیں۔۔۔
احمر نے بے ساختہ ماتھا مسلہ اور ماں کے پاس ہی آ کر بیڈ پر بیٹھا۔۔۔
ماں ان کاموں میں انسانوں کا زور کہاں چلتا ہے بھلا۔۔۔ یہ تو رب کی دین ہے۔ ۔
وہ انگلی سے بیڈ شیٹ کھرچتا پست سے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
بے شک یہ رب کی دین ہے لیکن انسان کی اپنی نیت کا بھی دارومدار ہے اس پر۔۔۔
احمر نے چونک کر سر اٹھایا۔۔۔
تمہاری بیوی کو یونیورسٹی اور پڑھائی سے فرصت ملے تو وہ بچہ پیدا کرنے کے بارے میں سوچے۔۔۔
جان بوجھ کر وہ بچہ پیدا نہیں کر رہی کے کہیں اسکے پیروں میں کوئی زنجیر نا پر جائے۔۔۔
ماں کی غصے سے تیز ہوتی آواز پر احمر کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ماں۔۔۔ اسنے وضاحت دینے کو لب تر کئے۔۔۔
ارے رہنے دو تم تو۔۔۔ زن مرید جوڑو کے غلام۔۔۔ میں تو خوبصورت بہو گھر لا کر پچھتائی۔۔۔ شکل کا کیا اچار ڈالنا ہے جب بہو ہی خود کو کوئی دوسری مخلوق سمجھے۔۔۔
بھئ کیا دنیا کی دوسری لڑکیاں پڑھائیاں مکمل نہیں کرتیں۔۔۔ میں تو ترس گئ ہوں کے میرے گھر میں بھی کوئی کلکاری گھونجے۔۔۔
ماں دلگرفتہ تھی۔۔۔ ناجانے آج ہوا کیا تھا انہیں۔۔۔
وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
ماں ایسا کچھ نہیں جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔۔۔ وہ تو۔۔۔ عاجز آ کر بات کرتے اسکی اچانک نگاہ دروازے کی جانب گئ تھی جہاں ماہیر دروازے کو تھامے دھواں دھواں ہوتی رنگت کیساتھ یوں کھڑی تھی جیسے ابھی زمیں پر ڈھیر ہو جائے گئ۔۔۔۔ احمر کی نظر پڑتے ہی وہ واپس پلٹ گئ۔۔۔
یا خدا۔۔۔۔ اسنے بے طرح ماتھا مسلہ۔۔۔ اور اسکے پیچھے ہی کمرے سے نکل آیا۔۔۔
پیچھے ماں کے خدشات ہنوز جاری و ساری تھے۔۔۔
یہ آج ماں کو ہوا کیا ہے بھابھی۔۔۔ کچن میں کام کرتی بھابھی کو دیکھ وہ انکے پاس ہی چلا آیا۔۔۔
ثریہ خالہ آئی تھیں آج۔۔۔ بھابھی خود بھری بیٹھیں تھیں۔۔۔ منہ پھلائے کچن کاونٹر صاف کرتی گویا ہوئیں۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔ مطلب یہ آگ انہی کی لگائی تھی۔۔۔ ورنہ اسکی بھولی ماں کے دماغ میں ایسی خرافاتی باتیں نہیں آ سکتی تھیں۔۔۔
ثریا خالہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو نا خود خوش رہ سکتیں تھیں اور نا کبھی کسی کو رہنے دے سکتی تھیں۔۔۔
وہ بھاری دل کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
****
ماہیر۔۔۔ وہ بستر پر اونڈھے منہ لیٹی تھی۔۔۔ احمر کی پکار پر کسلمندی سے سیدھے ہو بیٹھی۔۔۔ بال کانوں کے پیچھے اڑستے اسنے احمر سے نگاہیں چرائیں البتہ وہ پہلی ہی نظر میں آنکھوں کی سرخی نوٹ کر چکا تھا۔۔۔
رو رہی تھی۔۔۔ بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر پینے لگا۔۔۔
نہیں تو۔۔۔ وہ دکھ سے مسکرائی۔۔ بس معاشرے کے لوگوں پر اور انکی سوچ پر تاسف ہوتا ہے۔۔۔
پتہ نہیں لوگ اتنے ججمینٹل کیوں ہوتے ہیں۔۔۔ وہ دوسروں کو اسقدر جج کیوں کرتے ہیں۔۔۔ اسنے بیڈ کراون سے ٹیک لگاتے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
شادی کے بعد وہ کونسی عورت ہے جسکے دل میں ماں بننے کی خواہش نا جاگتی ہو۔۔۔ بلکہ عورت تو اسکے بنا ہے ہی ادھوری۔۔۔۔ پر پتہ نہیں کیوں لوگ کیوں خود سے ہی تصور کر لیتے ہیں کے اگر ایک کیریئر وومن کی اولاد نہیں تو وجہ وہ خود ہے۔۔۔۔
مختلف لبادے اوڑھ کر وہ اسکے زخموں پر آچکے کھرنڈ نوچنے کی کوشیش کرتے ہیں۔۔۔
آنکھیں میچ کر کھولتے اسنے آنکھوں کی نمی اندر دھکیلی۔۔۔
ماہیر۔۔۔ بی بریو۔۔۔ ہم کسی کی سوچ نہیں بدل سکتے لیکن خود کو انکی باتوں کے زہریلے نشروں سے متاثر ہونے سے بچا سکتے ہیں۔۔۔ اسنے ماہیر کے پاس بیٹھے اسے اپنے حصار میں لیتے اسکا سر سہلایا۔۔
کل کے پیپر کی تیاری کیسی ہے۔۔۔ اسنے شعوری طور پر موضوع گفتگو تبدیل کیا۔۔
ہممم اچھی ہے۔۔ وہ بھی اسکی کوشیش کو کامیاب بناتی انگلی کی پور سے آنکھ کے کونے میں موجود آنسو صاف کرتی مسکرا کر گویا کوئی۔۔۔
*****
سلطان انہیں سب سے پہلے ریسٹورینٹ لے کر آیا جہاں وہ لنچ کرنے کے بعد شاپنگ مال آگئے۔۔۔
بچے تو آتے ہی پلے لینڈ چلے گے جبکہ سلطان اسے لئے لیڈیر سیکشن کی جانب آ گیا۔۔۔
عروب تمہیں جو خریدنا ہے خرید لو۔۔۔ وہ موبائل پر مصروف سا گویا ہوا۔۔ عروب نے اسکی بات پر کندھے اچکائے اور آگے بڑھ گئ۔۔۔
عروب نے شرم اور جھجھک بالائے طاق رکھتے اپنی پسند سے خوب خوب شاپنگ کی۔۔۔ اسکا شوہر وہ نہیں تھا جو قدم قدم پر اسکے نخرے اٹھاتا اس لئے اسکی طرف سے دی جانے والی یہ آفر ہی عروب کے لئے مال غنیمت کے مترادف تھی اور وہ اس موقع سے خوب خوب فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔۔۔
شاپنگ کر کے وہ واپس سلطان کے پاس آئی جو ایک سائیڈ پر بیٹھا موبائل میں بری طرح مصروف کچھ کر رہا تھا۔۔۔
میں نے شاپنگ کر لی آپ بل پے کر دیں۔۔۔
عروب کے کہنے پر وہ موبائل بند کر کے جیب میں رکھتا اٹھ کر اسکے ساتھ آیا۔۔۔
مگر بل دیکھ کر اسے ایک جھٹکا ضرور لگا مگر وہ نظر انداز کرتا بل کلیئر کروا کر مڑا۔۔۔ البتہ اب ماتھے پر ہلکی شکنوں جال ضرور تھا۔۔۔
چلو۔۔۔
وہ سپاٹ سے انداز میں کہتا باہر کی جانب بڑھا۔۔۔
ارے ایسے کیسے سلطان ۔۔۔ شاپنگ بیگز تو اٹھائیں۔۔ مجھ سے اتنے زیادہ نہیں اٹھائیں جائیں گے۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسکے قریب آ کر بعجلت گویا ہوئی۔۔۔
سلطان اسے بھنچی بھنوروں سمیٹ چند پل دیکھ کر واس پلٹا لیکن کچھ فاصلے پر لگے شاپنگ بیگز کے انبار کو دیکھ کر چکرا کر رہ گیا۔۔۔
کیا اپنی زندگی میں پہلی دفعہ شاپنگ کی ہے تم نے یا آخری مرتبہ کر رہی تھی کہ اس کے بعد تمہیں شاپنگ کا موقع ہی نہیں ملنا تھا تم نے مر ہی جانا تھا۔۔۔
وہ اسکے کان کے پاس جھک کر ہلکی آواز میں غرایا۔۔۔
عروب نے نڑوٹھے پن سے اسے دیکھا۔۔۔
ایک کھروس اور بدلحاظ انسان کے ساتھ زندگی میں پہلی مرتبہ ہی شاپنگ کی ہے۔۔۔ جسکا موڈ سیکنڈوں کے حساب سے بدلتا ہے۔۔۔
قسمت سے آج آپکا موڈ کچھ اچھا تھا۔۔۔ ناجانے مجھے یہ موقع دوبارہ کتنے سالوں بعد ملتا۔۔۔ میں موقع کیوں گنواتی۔۔۔
اور آپ تو بڑے کنجوس ہیں۔۔۔ خود ہی آفر دے کر خود ہی بھڑک رہے ہیں۔۔۔
وہ خفگی سے سر جھٹکتی نروٹھے پن سے گویا ہوئی تو سلطان اسے دیکھ تاسف سے نفی میں سر ہلاتاشاپنگ بیگز کی جانب بڑھا۔۔۔
یہ جو تم نے اپنی اور اپنی ان دیکھی بہن کی اتنی بری اکھٹی کی ہے نا یہ ایک چکر میں جائے گی بھی نہیں۔۔۔ روکو تم یہیں میں یہ سب گاڑی میں رکھ کر آتا ہوں پھر باقی لے کر جاوں گا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا جھک کر شاپنگ بیگز اٹھاتا گویا ہوا۔۔۔ جبکہ اسکی حالت دیکھ عروب نے بمشکل بے ساختہ امڈتی ہسی دابی۔۔۔
****

No comments