Mera Aashiyana novel 5th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 5th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
پانچویں قسط۔۔۔۔۔
وہ گم صم سی آ کر صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔ گھٹنے سینے سے لگے تھے اور وہ انکے گرد بازوں کا حلقہ بنائے گھٹنوں پر سر ٹکائے کھلی کھڑی سے باہر آسمان پر جگمگاتے تنہا چاند کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ سینکڑوں ستاروں کے جھرمٹ میں وہ بھی تنہا تھا۔۔۔ بالکل اسی کی طرح۔۔۔۔
دل بہت اداس اداس سا تھا۔۔۔ اندر سے ایک خالی پن کا احساس شدت سے ہو رہا تھا۔۔۔
دفعتًاًاسے کمرے میں آہٹ کا احساس ہوا اور ساتھ ہی اس ستم گر کے پرفیوم کی مخصوص مہک نتھنوں سے ٹکرائی ۔۔۔ مطلب وہ کمرے میں آگیا تھا لیکن وہ پھر بھی بنا ردعمل دیئے ہنوز بیٹھی رہی۔۔۔۔
وہاں کونسی اسکی ذات کی اہمیت تھی۔۔۔ دل پر مزید بوجھ آ گرا۔۔۔۔
دفعتا سلطان اسکے پاس ہی آ کر بیٹھا تو عروب چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔
یہ لو ٹیبلٹ کھا لو تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔
وہ دودھ کا گلاس اسکے سامنے بڑھائے ہاتھ میں بخار کی گولی تھامے اسکے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔
عروب کی آنکھوں میں پہلے حیرت جاگی ۔۔ پھر غصہ اور پھر بے بسی۔۔۔۔
دل چاہا اس ظالم انسان کے سامنے غصے کا خوب خوب اظہار کرے ۔۔۔ اندر پلتے سارے لاوے کو اس پر انڈیل ڈالے۔۔۔۔ دل چاہا کے یہ ہی گلاس تھام کر سامنے دیوار میں مار ڈالے اور اسے خوب سنائیں مگر۔۔۔۔
مگر کیا وہ ایسا کر سکتی تھی۔۔۔۔ بے بسی کے شدید احساس تلے باوجود ضبط کے بھی ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلا۔۔۔۔
وہ شدت ضبط سے دانت دانتوں پر سختی سے جمائے چہرا موڑ گئ۔۔۔ یہ اسکی بھرپور ناراضگی کی نشاندہی تھی اور ستم یہ کے ناراضگی کے احساس کے طور پر وہ اس سے زیادہ کچھ کر بھی نا سکتی
تھی۔۔
دیکھو لڑکی۔۔۔ اس سے زیادہ میں کسی کے نخرے برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ تمہاری طبیعت۔۔۔
وہ اسکے چہرا موڑنے پر ماتھا ڑگرتا متانت سے گویا ہوا جب وہ بپھری شیرنی کی مانند اسکی جانب پلٹتی تیزی سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔۔
نہایت افسوس کا مقام ہے مسٹر سلطان۔۔۔۔ کے آپکو آپکی بیوی کا نام تک نہیں پتہ۔۔ آنکھوں میں گویا شعلوں کی سی لپک تھی اور لہجہ بھرا رہا تھا۔۔۔
سلطان نے ٹھٹھک کر ان نم آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
اس طرح کے طرز تخاطب سے مجھے مخاطب کرنے سے بہتر ہے کے آپ مجھے مخاطب ہی مت کریں۔۔۔۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔ لیکن اس سے زیادہ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ تبھی دانت پیسی چبا چبا کر گویا ہوئی
اور نخرے نا اٹھانے کی تو آپ نے خوب کہی۔۔۔
آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپکو اور آتا ہی کیا ہے۔۔۔ آنکھوں کی سختی کچھ مزید نمایاں ہوئی۔۔۔ شکووں کی لسٹ طویل ہونے لگی تھی۔۔۔ ایک گلیشیر تھا کو پھٹنے کو تیار پڑا تھا۔۔۔۔ سلطان کے ماتھے پر بل پڑنے لگے۔۔۔
سوائے ہمہ وقت غصہ کرنا اور ماتھے پر ان بلوں کو سجانے کے۔۔۔ وہ دوبدو گویا ہوئی کے سلطان کے ماتھے پر موجود شکنیں کچھ ڈھیلی ہوئیں۔۔۔۔
مسٹر سلطان مانتی ہوں آپ بہت طاقت ور ہیں لیکن آپکو اپنی یہ طاقت مجھ پر آزمانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ لہجہ پرشکوہ ہوا اور آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔۔۔
کیونکہ میں آپکی جتنی طاقتور نہیں ۔۔۔میں کمزور ہوں۔۔۔ اور آپکی طاقت میری برداشت سے باہر ہے۔۔
اتنا ہی شوق ہے آگر آپکو اپنی طاقت آزمانے کا تو مقابلہ برابری کا کریں نا۔۔۔ کسی اپنے ہم پلہ مرد پر اپنی طاقت آزمائے۔۔۔ طاقت آزمانے کے لئے کمزور کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں۔۔۔ اسنے بے طرح اپنی بہتی آنکھیں مسلیں۔۔۔
سلطان ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
کیا تمہیں نہیں لگ رہا کے تم ضرورت سے کچھ زیادہ بول رہی ہو۔۔۔ وہ سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا۔۔ اس سے زیادہ وہ کسی کا ایسا رویہ اور اونچا لہجہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ابھی بھی تحمل کا مظاہرہ اس لئے تھا کے انجانے میں ہی سہی وہ اس لڑکی کیساتھ زیادتی کر چکا تھا ۔۔۔ جسکا اب وہ پورا پورا فائدہ اٹھا رہی تھی۔۔۔
آپ دوبارہ مجھ ہر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے سلطان صاحب۔۔۔ وہ بھرائی نگاہیں اس پر گاڑے تیزی سے گویا ہوئی۔۔
سلطان بونچکا رہ گیا۔۔۔ اتنا بڑا الزام۔۔۔
پہلے کب اٹھایا میں نے تم پر ہاتھ۔۔۔ ماتھے پر سرعت سے جابجا شکنوں کا جال بچھا۔۔۔ لہجہ تیز ہو گیا۔۔۔ جیسے وہ بھی اب دو دو ہاتھ کرنے کو تیار تھا۔۔۔
تو یہ کیا ہے پھر۔۔۔ اسنے سرعت سے بازو اوپر چڑھائی۔۔۔ شفاف بازو پر گولائی میں مردانہ انگلیوں کے واضح نشان چھپے تھے۔۔۔۔ بے ساختہ سلطان کی آنکھوں کے سامنے سے دوپہر کا منظر گھوم گیا جب اسنے غصے سے اسکی بازو دبوچی تھی۔۔۔۔
احساس پشیمانی اس میں سر ابھارنے لگی۔۔۔۔
بازو توڑ کر رکھ دی آپ نے میری۔۔۔ آنسو پھر سے ٹپ ٹپ بہنے لگے۔۔۔
سر دیوار میں مار کر پھاڑ ڈالا میرا۔۔۔ اسنے تجاہل عارفہ سے کام لیتے اپنے دکھتے سر کی طرف اشارہ کیا جو بے طرح دیوار سے ٹکرایا تھا۔۔۔
بے ساختہ سلطان کی نگاہ اسکے سر کی جانب اٹھی۔۔۔ اور پھر کہتے ہیں کے کب ہاتھ اٹھایا میں نے تم پر۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
وہ لب سختی سے پیوست کئے نیچے زمین کو گھورنے لگا۔۔۔۔۔۔
اتنا غصہ بھی کیا غصہ سلطان ۔۔۔ کے انسان دوسرے کو صفائی کا موقع تک نا دے۔۔۔
ٹھیک ہے آپکے بچے آپکو بہت عزیز ہیں اور آپ انہیں بھوکا نہیں دیکھ سکتے تھے اس لئے آپ آپے سے باہر ہوگئے۔۔۔ اور یہ ہی تو بات ہے سلطان کے آپ سے اپنی بیٹی کی بھوک تک برداشت نا ہوئی اور آپ مرنے مارنے پر تل آئے۔۔۔ تو کیا میں کسی کی بیٹی نہیں۔۔۔
اسنے کاری وار وہاں کیا تھا جہاں سے سلطان جیسا شخص بھی بلبلا اٹھا۔۔۔ اسنے سرخ ہوتی نگاہیں اٹھا کر عروب کو دیکھا جو مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
جتنے پیار سے آپ اپنے بچوں کو پال رہے ہیں نا۔۔۔ میرے باپ نے بھی مجھے اتنے ہی لاڈوں سے پالا تھا۔۔۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ لاڈوں سے کے میں انکی اکلوتی اولاد تھی۔۔۔ اب وہ۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہاں سے دیکھ رہے ہونگے نا اسنے کھلی کھڑکی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ اپنی لاڈوں پلی بیٹی کے حالات ۔۔۔ تو انکی روح بھی کپکپا اٹھتی ہوگی۔۔۔
میرے باپ نے بھی آپ پر یقین کر کے ہی آپکو اپنی بیٹی تھمائی تھی۔۔۔ آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔
ہر وقت کیسے آپ مجھ سے انگارے چبا کر بات کر سکتے ہیں سلطان۔۔۔
مانا کے ہماری حیثیت میں بہت فرق تھا۔۔۔ مگر وہ فرق تھاااا۔۔۔ اسنے تھا پر زور دیا۔۔۔ کیونکہ تب میں آپکے ملازم کی بیٹی تھی۔۔۔ مگر اب تو اپکی بیوی ہوں نا۔۔۔ تو پھر کیا میں آپکے نرم لہجے تک کی حقدار نہیں۔۔۔۔
آج اسے اگر موقع ملا تھا تو وہ سارے شکوے اس بے رحم کے سامنے کر دینا چاہتی تھی
۔۔ شاید پتھر پگل جاتا۔۔۔۔
وہ نہایت اطمینان سے اسکی ساری باتیں سنتا رہا پھر خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے چلا گیا۔۔
وہ تعجب سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ دل گویا کسی نے بھاری سل تلے کچل ڈالا ہو۔۔۔
اتنے شکووں کے بعد بھی نا کوئی صفائی نا ہی کوئی دلاسہ۔۔۔
اسنے بے بسی سے سر واپس گھٹنوں پر رکھا۔۔۔ مجھے ایسے ظالم انسان کے سامنے اپنے الفاظ بے مول کرنے ہی نہیں چاہیے تھے۔۔۔
وہ سر جھٹک کر رہ گی۔۔۔
دفعتا وہ کچھ دیر بعد واپس آ کر اسکے پاس بیٹھا۔۔۔
وہ ہنوز آنکھیں مونڈے سر گھٹنوں پر ٹکائے بیٹھی رہی۔۔۔ جیسے اسکے ہونے یا نا ہونے سے عروب کو بھی کوئی فرق نا پڑ رہا ہو۔۔۔
دفعتا اسے اپنے بازو پر سلطان کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا۔۔۔ اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔
اسکے سامنے بیٹھا وہ نہایت نرمی سے اسکی بازو تھامے آستین اوپر چڑھا رہا تھا۔۔۔
پھر اسنے پاس پڑی آئنٹمنٹ اٹھائی اور ڈھکن کھول کر سرخ نشانات پر ہلکے ہاتھوں سے مرہم لگانے لگا۔۔۔
عروب یک ٹک اسے دیکھے گئ جسکے نقوش اس وقت تنے نہیں تھے مگر سنجیدہ ضرور تھے۔۔۔
ماتھے سے شکنیں غائب تھیں البتہ اسکی تمام توجہ عروب کی بازو کے متاثرہ حصے پر تھی۔۔۔
دھکن بند کرتا وہ سیدھا ہوا اور دودھ کا گلاس تھام کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
گولی کھاو۔۔۔ سنجیدہ آواز میں جیسے حکم صادر ہوا۔۔۔
اسکا نرم رویہ دیکھا عروب نے بنا چوں چرا کئے ٹیبلٹ نگل لی اور خالی گلاس واپس میز پر رکھا۔۔۔
اٹھو۔۔۔ اسکے دودھ ختم کرتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوتا اسکا ہاتھ تھام کر اسے اٹھانے لگا۔۔۔
وہ دل کی بھراس نکال کر ہلکی پھلکی ہو چکی تھی تبھی بنا مزاحمت اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
جو بھی تھا پر سلطان جیسی روبدار شخصیت کے سامنے اتنا بول جانا اور اسکا خاموشی سے سب سن کر کوئی رد عمل نا دینا اسکے لئے حیران کن تھا۔۔۔
سلطان نے اسے بیڈ پر لٹایا اور لحاف کھول کر اس پر اوڑھا دیا۔۔۔
پرسکون ہو کر سو جاو۔۔۔ آہستگی سے کہتا وہ کمرے کی لائٹ آف کر کے بالکنی میں چلا آیا۔۔۔۔
عروب نیم تاریکی میں بالکنی میں کھڑے اسکے وجود کو یک ٹک دیکھے گی۔۔۔
کیا تھا وہ شخص۔۔۔ جسنے منہ سے تلافی کا لفظ تک نا نکالا تھا لیکن اپنے عمل سے واضح کر گیا تھا کے کہیں نا کہیں وہ اسکی پرواہ کرتا ہے۔۔۔ وہ اسکی زندگی میں اہم ہے۔۔۔۔
شاید مرد کی انا بہت اونچی ہوتی ہے جو وہ جھکتا نہیں۔۔۔ یا شاید وہ لفاظی کی بجائے عمل پر یقین رکھتا ہے۔۔۔ عروب محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔
مگر جو بھی تھا اسے سلطان کا یہ روپ بھی دل سے قبول تھا۔۔۔ بس وہ اس پر غصہ نا کرے۔۔۔ اس سے بات کرتے ہاتھ کا استعمال نا کرے۔۔۔۔ اسے عزت دے تو وہ باخوشی اس مشکل نسان کے ساتھ بھی زندگی کاٹنے کو تیار تھی۔۔۔
سلطان کے بارے میں ہی سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔۔
*******
احمر کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پر چار سو کتابیں بکھرائے وسط میں اول جلول سے حلیے میں سر جھکائے جرنل پر کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد بابا اور بھائی کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے اسے واپس کمرے میں آتے آتے کافی دیر ہو گئ ۔۔۔ بے ساختہ اسکی نگاہ وال کلاک پر پڑی جو رات کے ساڑھے گیارہ بجا رہا تھا۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کرتا بیڈ کی جانب بڑھا جہاں وہ بالوں کی ڈھیلی سی پونی بنائے آنچل سے بے نیاز بیٹھی تھی۔۔۔ آنچل وہیں کتابوں کے ساتھ ہی پڑا تھا جبکہ بالوں کی کئ بکھری لٹیں زبردستی کانوں کے پیچھے اڑسی گئیں تھیں جو اسکے جھکنے پر وقتاً فوقتاً چہرے پر پھسل آتیں ۔۔۔
سبز کانچ میں نیند کی خماری تھی جنہیں وہ رگڑ رگڑ کر سرخ کر چکی تھی۔۔۔
کیوں خود پر جبر کر رہی ہو ماہیر۔۔۔ دیکھو آنکھیں نیند سے بوجھل پڑی ہیں تمہاری۔۔۔ کچھ دیر سو جاو باقی کی پڑھائی صبح کر لینا۔۔۔
احمر اسکے پاس ہی جگہ بناتا بیٹھا اور اسکے سامنے سے کتابیں ہٹانے لگا۔۔۔
احمر میرے امتحانات شروع ہونے والے ہیں مجھے امی کی طرف جانا ہے۔۔۔ جرنل بند کرتے وہ تھکے تھکے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ جبکہ اسکی بات سن کر احمر سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
کچھ ہی دنوں میں وہ لڑکی اسکے لیے اتنی ناگزیر ہو چکی تھی کے اسکے بنا رہنے کا تصور ہی اسکی سانسیں روکنے لگتا۔۔۔۔
اسنے لبوں پر زبان پھیرتے انہیں تر کیا۔۔۔۔
یارررر۔۔۔ وہاں جانا ضروری ہے کیا۔۔۔ وہ بے چارگی و بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔
ماہیر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ آنسو کسی بھی پل پلکوں کی باڑ پھیلانگنے کو تیار تھے۔۔۔ مطلب وہ اسے ماں کے گھر جانے سے روک رہا تھا۔۔۔
امی نے ابو کی بیماری کی وجہ سے میری شادی جلدی کر دی۔۔۔ تب آپ سب نے بھی کہا کے شادی کے بعد جتنا چاہے پڑھ لے اور اب آپ۔۔۔۔ وہ بات درمیان میں روکتی سسک اٹھی۔۔۔ آنسو پلکوں کی باڑ پھیلانگتے بہہ نکلے تھے۔۔۔
ماہیر۔۔۔ وہ ٹرپ کر سیدھا ہوا۔۔۔ کیا تم اس شادی سے خوش نہیں۔۔۔ لہجے میں کئ خدشات پنہاں تھے۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے احمر۔۔۔ میں نے ایسا کب کہا۔۔۔ میں تو اپنی پڑھائی۔۔۔ وہ بال کانوں کے پیچھے اڑستے منمنائی۔۔۔
تو کون روک رہا ہے تمہیں پڑھنے سے ماہیر۔۔۔۔ وہ کچھ ڈھیلا پڑتا بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔ماہیر نے قاتل شکوہ کنان نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
کہنے کو تو سب کہہ دیتے ہیں احمر۔۔۔ کہ کس نے روکا ہے پڑھنے سے۔۔۔لیکن پڑھنے کے لئے وقت چاہیے۔۔۔ پرسکون ماحول اور تنہائی چاہیے۔۔۔۔
مانا کے امی ٹیپکل ساس نہیں ہیں۔۔۔ اور نا ہی مجھ پر گھر کی بہت زیادہ ذمہ داریاں ہے۔۔۔ لیکن جو ذمہ داریاں ہیں ۔۔۔ مجھ سے وہی مینج نہیں ہو پا رہیں۔۔۔
رات میں آپ کہتے ہیں کے صبح پڑھنا۔۔۔ لیکن صبح کیسے پڑھوں۔۔۔ بلاشبہ ناشتہ میں نہیں بناتی۔۔ لیکن بھابھی کا بنایا ناشتہ سرو کرنا اسکے بعد میز سمیٹنا۔۔۔
کام والی کے سر پر کھڑا ہو کر کام کروانا۔۔۔ کبھی کوئی ملنے آ جاتا ہے تو کبھی کوئی۔۔
بن سنور کر گھنٹوں انکے پاس بیٹھنا انکی خاطر مدارت کرنا ۔۔۔ نہیں تو لوگ منہ ہر ہی منہ پھاڑ کر کہہ دیتے ہیں کے آپکی چھوٹی بہو زرا ملنسار نہیں۔۔۔
بھابھی کے چھوٹے بڑے کاموں میں مدد کروانا۔۔۔
سارا دن ایسے ہی گزر جاتا ہے تو میں کس وقت پڑھوں۔۔۔ زرا جو فوکس سے پڑھنا شروع کرتی ہوں تو کسی نا کسی کو کوئی کام یاد آ جاتا ہے۔۔۔
مجھ سے یہ سب مینج نہیں ہو پارہا۔۔۔
میرے امتحانات شروع ہونے والے ہیں اور بہت سے ٹاپکس کور کرنے والے ہیں۔۔۔ ٹینشن سے میرے کندھوں میں کھنچاو ہو گیا ہے۔۔۔ عجیب مشکل زندگی بن گئ ہے جس میں نا رات آپکی نا دن آپکا۔۔۔ وہ سوں سوں کرتی بے بسی سے اپنا دل ہلکا کرنے لگی تھی جبکہ احمر تو ہونق بنا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میرے خواب ۔۔۔ میری خواہشیں۔۔۔ میرا کیرئیر یہ سب تو جیسے اس شادی نامی پنجرے کے اندر کہیں قید ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا احمر۔۔۔ مجھے تو بہت آگے تک جانا ہے۔۔۔ اپنا کیریئر بنانا ہے ۔۔۔ ایک کامیاب عورت بننا ہے پر۔۔۔ وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی رو دی۔۔۔
ہیےےےےے ماہیر پلیز ہاتھ ہٹاو۔۔۔ میری طرف دیکھو نا۔۔۔ وہ بے چینی سے اسکے ہاتھ چہرے سے ہٹاتا تھوڑی سے اسکا چہرا اونچا کئے اسکی آنکھوں میں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
ان آنکھوں پر ظلم مت کیا کرو یار۔۔۔ ٹھیک ہے چلی جانا صبح اپنی امی کی جانب۔۔۔ بلکہ میں خود تمہیں صبح جانے سے پہلے چھوڑ آوں گا۔۔
بس فضول میں خود کو ہلکان مت کرو اور پرسکون ہو کر اپنے امتحان دینا تاکے ہمیشہ کی طرح ٹاپ کر سکو۔۔۔ وہ محبت سے اسکے آنسو صاف کرنے کے بعد اسکے بال سنوارنے لگا تھا۔۔۔
اور سنو۔۔۔ تمہارا ہر خواب پورا کرنا فرض ہے مجھ پر۔۔۔ اپنے کیریئر کے حوالے سے تم نے جو بھی خواب دیکھے ہیں نا۔۔۔ انشااللہ ان سب کو پورا کروں گا میں ۔۔۔ تمہاری ہر کامیابی میری کامیابی ہے اور میری بیوی کامیابی کی ہر منازل کو طے کرے گی۔۔۔ بس مجھ پر یقین رکھنا۔۔۔
وہ اسکی کتابیں سمیٹ کر اسے بستر پر لٹاتا اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تھا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ گہری نیند کی وادیوں میں اتر گی۔۔۔
وہ اسکا معصوم چہرا دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔
وہ واقعی نا سمجھ تھی نا تجربہ کار تھی جو زندگی کے اس بدلاو کو باآسانی قبول نہیں کر پا رہی تھی۔۔ لیکن وہ کس لئے تھا بھلا۔۔۔ اپنے شہزادی کی ہر مشکل کو حل کرنے کے لئے وہ اسکے سامنے کسی سسیہ پلائی دیوار کی مانند تن کر کھڑا تھا۔۔۔
*****

No comments