Header Ads

Mera Aashiyana novel 4th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


Mera Aashiyana novel 4th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

چوتھی قسط۔۔۔۔۔
کمرے میں نیم تاریکی تھی۔۔۔ کوئی بتی روشن نا تھی محض کھلی کھڑی سے اندر آتی چاند کی روشنی ہی اس اندھیرے کو زرا ختم کر رہی تھی۔۔۔ ایسے میں وہ صوفے پر آڑی ترچھی لیٹی رو رو کر ہلکان ہو گئ تھی۔۔۔
وہ جو صبح سے سلطان کے سرد رویے کو حوصلے سے برداشت کر رہی تھی۔۔۔ اسکا اسقدر سفاک روپ دیکھ آنسو تھمنے کا نام ہی نا لے رہے تھے۔۔۔ دل پھٹ رہا تھا۔۔۔
کوئی بھلا ایسا کیسے کر سکتا تھا۔۔۔ بنا بات جانے۔۔۔ بنا صفائی ک موقع دیئے۔۔۔۔
جتنا سوچتی ۔۔۔ آنسو مزید تیزی سے بہتے چلے جاتے۔۔۔ رو رو کر آنکھیں سوج چکی تھیں مگر آنسو تھے کے تھمنے کا نام ہی نا لیتے۔۔۔
اچانک بہت سا وقت بیتنے اور باہر اندھیرا چھا جانے کا احساس ہوا تو وہ اپنے نیم جان ہوتے وجود کو گھسیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اٹھ کر سوئچ بورڈ تک جاتے اس پر ہاتھ مارا تو سارا کمرا روشنیوں سے نہا گیا۔۔۔
واش روم میں جا کر سوجھی آنکھوں اور سرخ ہوتے چہرے پر پانی کے چھپاکے مارے اور تولیے سے چہرا تھپتھپاتی باہر نکل آئی۔۔۔
سر پر  دوپٹہ اوڑھتی وہ دل نا چاہنے کے باوجود خود کو گھسیٹتی سیڑھیاں اترتی نیچے چلی آئی۔۔۔۔
وہ شخص ظالم تھا۔۔۔ جسے نا اسکی پرواہ تھی نا اسکے آنسووں کی اور نا ہی اسکی ناراضگی کی۔۔۔ 
وہ نا اس سے لڑ سکتی تھی۔۔۔ نا اس پر چلا کر اپنا غصہ نکال سکتی تھی۔۔ نا ہی اسے سخت الفاظ کہہ سکتی تھی۔۔۔
دل میں اس شخص کے لئے غصہ تھا شیدید غصہ۔۔۔ ناراضگی تھی۔۔۔ مگر دوسری طرف پرواہ کسے تھی۔۔۔ اور دکھ بھی تو اسی چیز کا تھا۔۔۔
کیا ایسی ہوتی ہے شادی ۔۔۔ کیا ایسا ہوتا ہے ہمسفر۔۔۔ ایک ہی دن میں اسے اپنی حسیات مفلوج ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
دونوں بچے لاوئنج میں ہی بیٹھے سامنے دیوار پر نصب ایل ای ڈی دیکھ رہے تھے۔۔۔ وہ انہیں نظر انداز کرتی کچن میں چلی آئی۔۔۔
دونوں بچوں نے ایک نظر اسکے سوجھے چہرے کو دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو۔۔۔ دل میں ملال کچھ مزید گہرا ہوا۔۔۔
وہ اسے لاوئنج میں ہی بیٹھے کچن میں کاونٹر ٹاپ کے پاس کھڑا دیکھ سکتے تھے۔۔۔
وہ کاونٹر ٹاپ کے پاس کھڑی تیزی سے پیاز کاٹ رہی تھی۔۔۔ اگر یہ گھر اور بچے اسکی ذمہ داری تھی تو وہ اپنی ذمہ داری اچھے سے نبھانا چاہتی تھی۔۔۔ بنا اس ظالم انسان سے کسی صلہ کی توقع رکھے۔۔۔ اسکا اتنا ہی احسان کافی تھا کے اسنے اسکے مرتے باپ کا مان رکھ کر انکی بے سہارا بیٹی کو اپنا نام دے کر سہارا دیا تھا۔۔۔ زمانے کی سرد و گرم سے بچنے کو چھت فراہم کی تھی۔۔۔
ماما آپ کھانا بنانے لگی ہیں۔۔۔ فبیحہ اسے پیاز کاٹتا دیکھ وہیں بیٹھی معصومیت سے گویا ہوئی۔۔۔
فبیحہ کی بات سن ایک پل کو پیاز کاٹتے اسکے ہاتھ تھمے۔۔۔ اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھنے سے گریز ہی کیا۔۔۔
جی۔۔۔۔ یک لفظی جواب دیتی وہ واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئ۔۔۔
اوکے ماما پھر آپ نا بریانی بنانا ۔۔۔ ساتھ میں پودینے کا رائتہ۔۔۔ وہ چہکی۔۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔ بن جائے گا۔۔۔ وہ ہنوز سنجیدگی سے گویا ہوئی البتہ دیکھنے سے ابھی بھی گریز ہی کیا۔۔۔
اسکے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ بریانی کو دم پر لگا کر رائتہ تیار کر رہی تھی جب اسے باہر سلطان کی گاڑی رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔
دل ایک مرتبہ زور سے ڈھرکا۔۔۔ صبح کا واقعہ وہ ابھی بھولی نا تھی۔۔۔ آنکھوں میں پھر سے ایک مرتبہ پانی سمٹ آیا۔۔۔ اسنے بامشکل خود کو کمپوز کرتے آنکھوں کی نمی کو پیچھے دھکیلا۔۔۔
سر بھاری بھاری محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ 
اسے سلطان کی باہر بچوں سے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھی وہ لاوئنج میں شاید بچوں کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔۔۔ عروب کی اس جانب پشت تھی۔۔۔
وہ دانستہ اس طرف چہرا نہیں کر رہی تھی۔۔۔ 
کچھ ہی دیر میں اسے اپنے پیچھے قدموں کی ابھرتی چاپ سنائی دی  اور مردانہ کلون کی مہک نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔۔ اسکا دل سکڑ کر پھیلا۔۔۔ باول پر گرفت مزید مضبوط ہوئی۔۔۔۔
وہ کیبنٹس کھول کر برتن نکال رہا تھا۔۔۔ یکدم اسے کچھ کھٹکا۔۔۔
وہ چونک کر پلٹی۔۔۔ دوسری جانب سرد مہری کا ہنوز وہی عالم تھا۔۔۔ اسنے پلیٹیں ہاتھ میں تھام رکھی تھیں البتہ اوپر والے کیبنٹ میں تلاش ہنوز جاری تھی جیسے وہ کچھ اور بھی تلاش کر رہا ہو۔۔۔ اس سے سفر کرتی عروب کی نظر باہر لاوئنج میں پڑے میز تک گئ جس پر کھانے کے شاپر پڑے تھے۔۔۔ یقیناً وہ بچوں کے لئے کھانا باہر سے لے کر آیا تھا۔۔۔
میں نے کھانا بنایا ہے۔۔ بس ابھی لگاتی ہوں۔۔۔
وہ انا غصے اور خفگی کو دور دھکیلتی آہستگی سے منمنائی۔۔۔۔ محنت ضائع جانے کا قلق الگ تھا۔۔۔
مگر اسکی کوشیش ناکام ٹھہری۔۔۔۔ وہ اسکی توقع سے زیادہ سرد مہر تھا۔۔۔ اسکی بات پر کوئی ردعمل ظاہر کرنا تو دور سلطان نے جواب تک دینا گوارا نا کیا تھا۔۔۔۔
برتن اٹھا کر وہ اسے بھر پور نظر انداز کرتا ڈائینینگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
عروب کا دل کٹ گیا۔۔۔ ہمت جواب دینے لگی۔۔۔ غلطی بھی اس ظالم شخص کی اور خفا بھی وہی تھا۔۔۔۔ دل بھر بھر آیا۔۔۔
اسنے غصے اور بے بسی کے ملے جلے احساس سے کھانا برتنوں میں نکالا۔۔۔ بریانی کے ساتھ دوپہر والی میکرونی بھی گرم کر لی اور بنا کچھ کہے برتن اٹھا کر ڈائینینگ ٹیبل پر رکھنے لگی۔۔۔
دونوں ہی خاموشی سے ایک دوسرے کو نظر انداز کئے ہوئے تھے۔۔۔ نا سلطان نے اسے اہمیت دیتے اس سے کوئی بات کی نا ہی عروب کی دوبارہ اس سے بات کرنے کی ہمت ہوئی۔۔۔
بچوں کو وہ پہلے ہی آواز دے کر وہاں بلا چکا تھا۔۔۔۔
عروب کا دماغ چٹخ رہا تھا۔۔۔ 
پاپا مجھے بریانی کھانی ہے۔۔۔ وہ کچن سے رائتے کا بول لے کر واپس آ رہی تھی جب فبیحہ کی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی۔۔۔
اسنے رائتے کا باول میز پر رکھا اور پلیٹ میں بریانی ڈال کر فبیحہ کے سامنے رکھی اور خود وہ واپس پلٹ گئ۔۔۔ اسقدر عزت افزائی کے بعد اس شخص کے سامنے بیٹھنے کو دل ہی نا چاہا۔۔۔
ماما آپ کھلا دیں پلیز۔۔۔۔ وہ ابھی پلٹی ہی تھی جب فبیحہ کی آواز کان سے ٹکرائی۔۔۔۔
وہ گہرا سانس خارج کرتی عفیفہ کے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔۔ سلطان سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا۔۔۔ 
اسکے دائیں بائیں عفیفہ اور ہادی تھے۔۔۔ وہ عفیفہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی یوں کے چہرا اس ستم گر کی جانب تھا مگر اسنے جھکا رکھا تھا۔۔۔
آہمم۔۔۔ ایکسکیوز می مسز سلطان۔۔۔ دفعتاً ہادی کنگارا۔۔۔
وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ اسکے بلانے سے زیادہ حیرت کن اسکا طرز تخاطب تھا۔۔۔
اور چونکا تو سلطان بھی تھا بیٹے کے اس طرز تخاطب پر۔۔۔
ایم سوری۔۔۔ میں دوپہر کے لئے آپ سے شرمندہ ہوں۔۔۔ اور پاپا ۔۔۔۔ وہ اس سے کہتا باپ کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھِا کے انہوں نے لنچ نہیں بنایا ۔۔۔ انہوں نے لنچ بھی بنایا تھا اور ہمارے گھر واپس آنے پر ہم سے پوچھا بھی تھا لیکن ہم نے انکار کر دیا کیونکہ ہم نے فاسٹ فوڈ کھانی تھی۔۔
وہ پشیمانی سے وضاحت دیتا دوبارہ کھانا کھانے لگا۔۔۔
جبکہ عروب اسکی بات سن کر واپس سر جھکاتی فبیحہ کو کھلانے لگی۔۔۔
بیٹے کی بات سن کر سلطان نے اس پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔۔۔ سوجھی سرخ آنکھیں اسکے کافی دیر تک روتے رہنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔ چہرا ہنوز جھکا تھا۔۔۔ وہ اسکی جانب متوجہ نا تھی۔۔۔ نا ہی ہادی کی وضاحت پر اسنے کوئی ردعمل دیا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے اسکا خفا خفا سا انداز دیکھتا آہستہ آہستہ کھانا کھاتا رہا۔۔۔
فبیحہ کو کھانا کھلا کر سب کے کھانا کھاتے ہی وہ برتن سمیٹ کر کچن میں لے گئ۔۔۔۔
سلطان اسکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
کچن میں پہنچتے ہی ایک آنسو اسکی آنکھ سے لڑھک کر پھسلا۔۔۔
وہ جو توقع کر رہی تھی کے ہادی کی وضاحت سے دوسری طرف سے کوئی اظہار پشیمانی ہوگا اب جیسے اپنی اس توقع پر خود سے ہی خفا تھی۔۔۔
اس شخص کے سینے میں دل نہیں تھا شاید۔۔۔
اس شخص کی بے حسی اسے اندر ہی اندر کاٹ رہی تھی۔۔۔
اپنی سوچوں پر سر جھٹکتے اسنے وہیں کچن میں بیٹھ کر کھانا کھایا۔۔۔
ایک نیا قلق دل میں اٹھا تھا۔۔۔ مجال تھی جو اس شخص کو زرا احساس ہو کے اسنے سب کے ساتھ کھانا نہیں کھایا ۔۔۔ یا اسنے جھوٹے منہ ہی اسے کھانا کھانے کا کہا ہو۔۔۔
کھانا کھا کر سبھی برتن دھوتے اسنے ایک کپ چائے کا بنایا۔۔۔
سلطان باہر لاوئنج میں بیٹھا بچوں کے ساتھ ایل ای ڈی دیکھتا ان سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا گاہے بگاہے کچن میں موجود وجود پر بھی نظر ڈال لیتا۔۔۔
وہ بچوں کے ساتھ مصروف تھا جب وہ چائے کی ٹرے اٹھائے باہر آئی اور ٹرے خاموشی سے اس ظالم شخص کے سامنے موجود میز پر رکھتی خاموشی سے سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئ۔۔۔
سلطان نے ایک نظر چائے کی جانب دیکھا اور دوسری نظر اوپر جاتی عروب کو پھر کپ اٹھا کر منہ کو لگا لیا۔۔۔
وہ کھانا کھانے کے بعد چائے پینے کا عادی تھا یہ بات وہ ایک ہی دن میں جان چکی تھی۔۔۔
*****
ماہیر فجر کی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد اپنے سسر کے لئے چائے بنا کر انکے کمرے میں آئی۔۔۔
وہ سحر خیز تھے اور صبح اٹھتے ہی چائے پینے کے عادی تھے۔۔۔
روز یہ ڈیوٹی اسکی جیٹھانی کی تھی لیکن کل رات اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جسکے باعث یہ چھوٹے چھوٹے کام اس پر آن پڑے تھے۔۔۔
دروازہ ناک کرتی وہ کمرے میں آئی تو ساس بیڈ پر بیٹھی رحیل میں موجود قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھیں جبکہ سسر سامنے صوفے پر براجمان تھے۔۔۔
وہ سلام کر کے انہیں چائے پیش کرتی باہر نکل رہی تھی جب ساس نے آواز دے کر روکا۔۔۔
جی آنٹی جی۔۔۔ وہ مودب سی پلٹی۔۔۔
بیٹا رات جو تمہیں دہی جمانے کو بولا تھا نا اس میں سے مجھے دہی لا دو اور باقی کا نکال کر فریج میں رکھ دینا باقی سب ناشتے میں لیں گے۔۔۔ وہ قرآن پاک علاف میں لپیٹتیں گویا ہوئیں۔۔۔
لمحے میں ماہیر کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا۔۔۔ اسے دن میں تارے ناچتے دکھائی دیئے۔۔۔
جج۔۔۔ جی آنٹی جی۔۔۔ تھوک نگلتی وہ سرپٹ باہر کو بھاگی۔۔۔
اسے بے طرح بے چینی لاحق تھی ۔۔۔ اس کمرے سے نکلتے اسنے بریک اپنے کمرے میں ہی آ کر لگائی جہاں احمر بستر پر اونڈھے منہ لیٹا سو رہا تھا۔۔۔
اللہہہہہہہہ۔۔۔ یہ ابھی تک نہیں اٹھے۔۔۔ وہ انگلی دانتوں میں دابے اسے بے بسی سے دیکھنے لگی۔۔۔
وہ نیند کا بہت پکا تھا۔۔۔ گھر سے جانے سے محض کچھ منٹ پہلے اٹھتا۔۔۔ جھٹ پٹ تیار ہوتا اور بعجلت ناشتہ کرتا نکل جاتا۔۔۔
شادی کے بعد ابھی تک وہ اسے صبح فجر کے وقت اٹھا کر فجر پڑھوانے میں ناکام رہی تھی۔۔۔ ہر بار وہ بڑی سہولت سے ٹال جاتا۔۔۔  جب میں نے پڑھنی ہو گی پڑھ لوں گا۔۔۔ یوں دوسروں کو بار بار کہہ کر گنہگار نہیں کرتے۔۔۔ اور ماہیر چپ ہو کر رہ جاتی۔۔۔ مگر اسے نا صبح جلدی اٹھنا تھا نا وہ اٹھتا۔۔۔
لیکن ابھی وہ کیا کرتی۔۔۔ خود کو لاحق پریشانی اسے نا بتاتی تو کسے بتاتی۔۔۔
ہمت پکڑتی وہ اسکے سرہانے بیٹھی۔۔۔ احمر۔۔۔۔ احمر اٹھ جائیں نا پلیز۔۔۔ وہ بڑی محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی چاشنی بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
ماہیر تم نماز پڑھ لو۔۔۔ میں پڑھ لوں گا۔۔۔ وہ مندھی آنکھوں سمیٹ کروٹ بدل گیا۔۔۔جیسے پہلے ہی آگاہ ہو کہ اسے اس وقت اٹھانے کے پیچھے کیا مقصد کار فرما ہے۔۔۔
آہہہہہ۔۔۔ وہ مٹھیاں میچتی جھنجھلا کر رہ گئ۔۔۔
احمر اٹھیں میری بات سنیں۔۔۔ فوراً اٹھیں۔۔۔وہ اسے بازو سے جھنجھوڑتی تیز لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
دنیا کی ظالم ترین لڑکی ہو تم۔۔۔ نا رات میں بات سنتی ہو نا صبح سونے دیتی ہو۔۔۔
وہ نیند کے خمار میں ڈوبی آنکھیں کھول شکوا کنان ہوا۔۔۔
احمر پلیز بات سن لیں نا۔۔۔ روہانسی آواز میں کہتی وہ اسکے شکووں کو یکسر فراموش کر گئ۔۔۔
جی فرمائیے۔۔ وہ جمائی روکتا بیڈ کراون سے ٹیک لگائے زرا سا نیم دراز ہوا۔۔۔
رات امی نے نا۔۔۔ وہ جھٹ اسکے سامنے بیٹھتی ہونٹ چبانے لگی۔۔۔ 
مجھے دہی جمانے کو بولا تھا۔۔۔ پشیمانی سے کہتی وہ رکی۔۔۔
پھر۔۔۔ اسنے پھر سے جمائی روکی۔۔۔ لیکن مجھے یاد بھول گیا۔۔۔ اب وہ دہی مانگ رہی ہیں۔۔ کیا کروں۔۔۔ وہ کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔۔۔
روز یہ کام بھابھی کرتی ہیں۔۔۔ وہ کیا کہیں گی اس پھوہر لڑکی کو پہلی مرتبہ کام کہا اور نکمی نے وہ بھی نا کیا۔۔۔ میں کیا کروں احمر 
۔۔
وہ اسکی بازو جھنجھوڑتی نم آنکھوں سے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
یہ تو ہونا ہی تھا ماہیر۔۔۔ ساری رات تو کتابوں کو سینے سے لگائے رکھتی ہو۔۔۔ چلو ساس کی بات نا ماننا تو سمجھ میں آتا ہے تم تو شوہر کی بات تک نہیں سنتی پھر۔۔۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کرتا گویا ہوا۔۔۔ جیسے جیسے اسکے امتحانات کے دن نزدیک آ رہے تھے وہ ہر چیز فراموش کرتی جا رہی تِھی۔۔۔ اور اپنی نظر اندازی احمر کو کُھل رہی تھی۔۔۔
اب آپ بھی مجھے باتیں سنائیں گے۔۔۔ بھرائی آواز ابھری۔۔۔ ساتھ ہی لبالب آنکھیں بھر آئیں۔۔۔ میں ہی پاگل ہوں جو ڈوری ڈوری آپ کے پاس چلی آئی۔۔۔ آنسو آنکھ کی باڑ پھیلانگ بہہ نکلے جنہیں بے دردی سے صاف کرتی وہ نڑوٹھے پن سے اٹھی۔۔۔
وہ ٹرپ کر اٹھا۔۔ سب برداشت تھا مگر اس سبز کانچ کے سمندر میں آنسو کہاں برداشت تھے اسے۔۔۔
ہیےےےےے۔۔۔ سنو۔۔۔ کہاں چل دی۔۔۔  بعجلت اسکی مومی کلائی تھامے وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔
آنٹی جی کے پاس انہیں بتانے کے انکی بہو پھوہر ہے اسنے انکی بات نہیں سنی۔۔۔ سوں سوں کرتے آنسو رگڑے گئے۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کرتا اسکے مقابل آیا۔۔۔
اسکی آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے نرمی سے آنسو صاف کئے۔۔۔
اتنی چھوٹی سی بات پر آنکھوں کا حشر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ میں باہر سے دہی لا دیتا ہوں۔۔۔۔
اسکے نرمی سے کہنے پر وہ کھل اٹھی۔۔۔۔
واقعی۔۔۔ تھینک یو احمر۔۔۔ آپ دنیا کے سب سے بہترین شوہر ہیں۔۔۔ وہ محبت سے اسکا گال کھنچتی چہکی۔۔۔
مطلبی لڑکی۔۔۔ میں صرف تمہیں اپنے مطلب کے وقت ہی اچھا لگتا ہوں۔۔۔ ورنہ تو تم بات تک نہیں پوچھتی۔۔۔ وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا جاتے جاتے بھی اس پر چوٹ کرتا اسے شرمندہ کر گیا۔۔۔
اچھا نا اب جائیں۔۔۔ وہ نظریں چراتی اسے باہر کی طرف دھکا دیتی گویا ہوئی۔۔۔
وہ واقعی آج کل اسکے ساتھ زیادتی کر رہی تھی۔۔۔ وہ پشیمانی سے سوچ کر رہ گئ۔۔۔
*****
 

No comments

Powered by Blogger.
4