Mera Aashiyana novel 3rd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aashiyana novel 3rd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "میرا آشیانہ"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
تیسری قسط۔۔۔
وہ آندھی طوفان بنا راستے سے کھانا پیک کروا کر گھر پہنچا تھا۔۔۔۔ ڈرائیوے پر گاڑی جھٹکے سے رکی تو وہ غصے سے کھولتا گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔
بھینچے جبرے اور تنی رگیں اسکے شدید اشتعال میں ہونے کی نشانی تھی۔۔۔
کھانا لئے وہ سیدھا بچوں کے کمرے میں ہی آیا جو اسکے شدت سے منتظر تھے۔۔۔
اوہ شکر پاپا آپ آگئے ہمیں بہت بھوک لگی تھی۔۔۔ فبیحہ بے صبری سے لبوں پر زبان پھیرتی باپ کی جانب لپکی۔۔۔
بچوں کے معصوم بھوکے چہرے دیکھ سلطان کے غصے کا گراف کچھ مزید چڑھا۔۔۔ اسے بچوں کو پھولوں کی مانند رکھا تھا اور انکی ماں کے جانے کے بعد تو وہ اور دل کے قریب ہوگئے تھے۔۔۔۔
اسنے خاموشی سے بچوں کو بیڈ پر بیٹھایا اور کھانے کے ڈبے نکال کر انکے سامنے رکھے۔۔۔
بچے انہی ڈبوں میں کھانا کھانے لگے تو وہ کچھ دیر انہیں کھاتا دیکھتے رہنے کے بعد کمرے سے نکل گیا۔۔۔ ارادہ اب کسی اور سے ملاقات کا تھا۔۔۔
عروب جو اسکی گاڑی کی آواز سن کر کمرے سے نکلی تھی اسنے کچن میں آتے ہی میکرونی کو دوبارہ گرم ہونے کے لئے رکھا۔۔۔ ارادہ بچوں سے دوبارہ کھانے کا پوچھنے کیساتھ ساتھ سلطان سے بھی پوچھنے کا تھا۔۔۔۔
کمرے میں جاتے ہی اسکی آنکھ لگ گئ تھی۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسکی آنکھ کھلی تو وہ وقت دیکھ کر اچھا خاصا بوکھلا گئ کیونکہ بچوں نے دوبارہ اس سے کھانا نہیں مانگا تھا۔۔۔
وہ ابھی کچن سے نکلی ہی تھی جب وہ آندھی طوفان کی مانند اسکی جانب بڑھا اور اسے بازو سے جھکڑتے جھنجھوڑتے ہوئے اپنے سامنے کیا۔۔۔
گرفت اتنی سخت اور مضبوط تھی کے عروب کو اسکی انگلیاں اپنی بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔
اسنے حیرت سے گنگ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
بھلائی کی امید اسے اس ظالم انسان سے پہلے ہی کوئی نا تھی مزید یہ سب کیا تھا بھلا۔۔۔
اسنے سلطاں کی شعلے اگلتی نگاہوں کو دیکھ بے طرح تھوک نگلا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ بھرائی آواز حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔
یہ بھی اب میں تمہیں بتاوں کے کیا ہوا۔۔۔ اسنے طیش سے اسے جھٹکا۔۔۔ وہ لڑکھراتے ہوئے دیوار سے جا ٹکرائی سر دیوار سے ٹکرایا اور درد کی ایک زبردست ٹھیس اٹھی۔۔۔
اسنے چکراتے سر کو تھامتے بھرائی شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
اس گھر میں تم کر کیا رہی ہو۔۔۔ اگر تم اس گھر کی اور میرے بچوں کی ذمہ داری ہی نہیں اٹھا سکتی تو۔۔۔
کہا تھا نا کہ بچوں کا خیال رکھنا۔۔۔ انگلی اٹھاتا پھنکار کر کہتا وہ دو قدم مزید اسکی طرف بڑھا۔۔۔
عروب خوف سے خود میں سمٹی۔۔۔ آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔ اگر ان کے لئے کھانا بناتے ہاتھ ٹوٹ رہے تھے تو منہ سے پھوٹ پڑتی نا منہ سیے کیوں بیٹھی رہی۔۔۔ میں انکے لئے وقت سے کھانے کا انتظام کرلیتا۔۔۔
غصے سے پھٹتے اسکی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔
اب تک وہ معصوم بھوکے بیٹھے تھے۔۔ ارے بچوں سے بھلا کیسی دشمنی ظالم بے حس لڑکی۔۔۔وہ غصے سے دو قدم مزید اسکی جانب بڑھا کے عروب کے خوف سے کپکپاتے وجود پر نظر پڑتے ہی بامشکل ضبط کرتا لب بھینچ کر پیچھے ہٹا۔۔۔۔ بالوں پر ہاتھ پھیرتے خود کو ٹھنڈا کرنے کی ناکام کوشیش کی پھر پلٹا۔۔۔
اور بند کرو یہ اپنے مگرمچھ کے آنسو۔۔۔ انتہائی زہر لگتی ہیں مجھے وہ عورتیں جو وقت بے وقت یہ ٹسوے بہانے لگتی ہیں۔۔۔ اسے بے دردی سے روتا دیکھا وہ اشتعال کو قابو کرتا پھر سے چیخا۔۔۔۔
وہ مرد اور ہوتے ہونگے جو عورت کے آنسووں سے زیر ہوتے ہیں۔۔۔ مجھ پر ان کا کوئی اثر نہیں۔۔۔ اسکا سفاک لہجہ عروب کو اندر تک کاٹ رہا تھا۔۔۔
میں نے کھانا بنا۔۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ تم جیسی بے حس لڑکی سے تو خدا کی پناہ۔۔۔ ارے تم نے تو پہلے دن ہی دکھا دیا کے تم سوتیلی ہو سوتیلی۔۔۔ تم جیسی عورت کے بھروسے تو میں ایک پل بھی اپنے بچے نا چھوڑو۔۔۔ وہ تنفر سے کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔
عروب وہیں دیوار کا سہارا لیتی نیچے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔ دل ہنوز خوف کے زیر اثر تھا۔۔۔۔
******
کچن کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑی پستہ کلر کے سوٹ میں ملبوس ماہیر آستین چڑھا رہی تھی۔۔۔۔ دوپٹہ کندھے سے لاکر کمر پر باندھا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ ریشمی بھورے بالوں کی ڈھیلی سی چوٹیا دائیں کندھے پر پڑی تھی۔۔۔ سبز کانچ میں الجھن کے ڈورے تھے۔۔۔
کاونٹر ٹاپ پر پرات میں خشک آٹا موجود تھا پاس ہی ایک ڈبے میں پانی تھا۔۔۔ وہ غالبا آٹا گھونڈنے لگی تھی۔۔۔
وہ پورے انہماک سے اپنی پڑھائی کر رہی تھی جب اسکی ساس نے کمرے میں آتے اسے آٹا گھونڈنے کا کہا کے سب کے گھر واپس لوٹنے کا وقت ہے وہ آٹا گھونڈ لے روٹیاں اسکی جیٹھانی بنا لے گی۔۔۔
نئ نئ شادی اور ماہیر کے کم عمر ہونے کے باعث اسکی ساس پہلے ہی اسے کم کم کام ہی کہتی تھی ۔۔۔
وہ ساس کی بات سن کر خاموشی سے کتابیں سمیٹتی اٹھ کر کچن میں آگی۔۔۔
پانی آٹے میں انڈیلتے وہ اپنے مومی ہاتھوں کی مدد سے آٹا گھوندھنے لگی۔۔۔
ارے یہ کیا کر رہی ہو بے وقوف لڑکی آٹا گھوندھنے کو کہا تھا لٹی بنا کو نہیں۔۔۔۔
ابھی اسے آٹا گھونڈتے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی جب کسی کام سے کچن میں آئی اسکی ساس چیخ پڑی۔۔۔
وہ اسقدر تیز آواز پر خوف سے اچھلتی بدحواس سی ساس کی صورت دیکھنے لگک۔۔۔ جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے سر تھامے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
ہیر نے ایک گھبرائی نظر انہیں دیکھنے کے بعد دوسری نظر انکی نگاہوں کے تعاقب میں پڑات میں ڈالی جہاں اسکا ہاتھ پرات کے وسط میں تھا۔۔۔
ارد گرد موجود آٹا گوند کی مانند چپچپا سا ہاتھ سے چپٹا پڑا تھا۔۔ اسنے شرمندگی سے ہاتھ اوپر اٹھایا تو آٹا گوند کی مانند ہاتھ سے پھسل پھسل گیا۔۔۔
کیا تمہیں آٹا گھوندنا نہیں آتا لڑکی۔۔۔
ماں نے آٹا تک گھوندنا نہیں سیکھایا۔۔۔ ڈگریوں کا اچار ڈالنا ہے کیا جب لڑکی کو گھر گرہستی ہی سمبھالنی نا آتی ہو۔۔۔
ساس کی باتوں نے سینہ زور سے جھکڑا تھا۔۔۔ وہ بلبلا کر رہ گئ۔۔۔ بات اسکی ماں کی تربیت تک جا پہنچی تھی۔۔۔
وہ نادم سی سر جھکائے انکی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ کتنا کہا تھا ماں نے کچھ گھر گرہستی کا سیکھ لو مگر اس کی مکمل توجہ تو کتابوں پر ہوتی۔۔۔
لیکچر یاد کرنا۔۔۔ ٹیسٹ میں پورے نمبر لینا۔۔۔ کلاس میں ٹاپ کرنا ۔۔۔ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔۔۔ اب تک تو اس کی سب سے بڑی اچیومنٹس یہ ہی تھیں۔۔۔ سکول و کالج کے سبھی اساتذہ اسکی تعریف کرتے اسکی مثالیں دوسرے طالبعلموں کی دی جاتیں۔۔۔
اسکی الماری ٹرافیز اور شیلڈز سے بھری پڑیں تھیں۔۔۔ لیکن یہ دنیا تو اس دنیا سے بالکل الٹ تھی۔۔۔ یہ بھلا کونسی دنیا تھی جہاں کامیابی کے پیمانے ہی اور تھے۔۔۔۔ اب تک کی اسکی سبھی کامیابیوں کو تو یہاں کسی کھاتے میں ہی نہیں لایا جا رہا تھا۔۔۔
وہ جو اپنی دنیا میں باقیوں کے لئے ایک سپر ہیرو ایک رول ماڈل تھی جسنے کبھی شکست نہیں کھائی تھی۔۔۔ جسے فی البدی کسی بھی ٹاپک پر تقریر کرنے کو بولا جاتا تو اسکا نالج اتنا تھا کے وہ بلاتکان اتنا پرتاثر بولتی کے سامعیں کو اپنے لفظوں میں جھکڑ لیتی۔۔۔ وہ ماہیر اس دنیا میں پہلے ہی مقام پر بری طرح شکست سے دوچار ہوتی فیل ہوگئ تھی۔۔۔
جسنے آج تک اپنے حوالے سے سر اٹھا کر اپنے ماں باپ کے لئے انکی تربیت کے لئے ستائش سمیٹی تھی آج اس نئ دنیا میں سر جھکائے انکی تربیت پر اٹھتی انگلیاں دیکھ رہی تھی۔۔۔
دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔۔ آنکھیں تیزی سے نم ہونے لگیں تھیں۔۔۔
وہ تو ہمیشہ سے اپنے ماں باپ کے لئے سراپائے فخر رہی تھی مگر آج۔۔۔۔۔۔
اسے لگا اب ہمت جواب دے گئ۔۔۔ وہ کسی بھی پل پھوٹ پھوٹ کر رو دے گئ جب ایک مہربان تیز تیز قدم اٹھاتا اسکی جانب بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس پر کسی سایہ دار سجر کی مانند سایہ کر گیا۔۔۔۔
کیا کرتی ہیں آپ ماں۔۔۔ کیوں دانٹ رہی ہیں اسے۔۔۔۔ نہیں آتا اسے کچھ تو سیکھ لے گی آہستہ آہستہ۔۔۔ وہ اس مضبوط شخص کے پیچھے کہیں چھپ سی گئ۔۔۔ جو اسکی ایک مضبوط ڈھال بنے ماں کے سامنے اسکی طرف داری کرتا اسکا مومی ہاتھ تھام کر سنک تک لایا اور سنک کا نل کھول کر پانی کی دھار کے نیچے اسکا ہاتھ کرتا ہاتھ دھونے لگا۔۔۔ ناجانے کس وقت وہ گھر آیا تھا۔۔۔
یہ سب دیکھ سمیرا بھابھی بھی کچن تک آگئ۔۔۔
اے لو۔۔۔ ایسے کونسے کاموں کے پہاڑ توڑ دیئے میں نے اس پر جو تم خدائی فوجدار بنے میدان میں کود پڑے۔۔۔ لے دے کے ایک آٹا ہی گونڈنے کو کہہ دیا تھا۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کے میری بہو اسقدر پھوہر ہے۔۔۔ ماں بیٹے کے تیور دیکھ بھرکیں۔۔۔
پھوہر ہے تو پھوہر ہی سہی۔۔۔ سگھر بھی بن ہی جائے گی آہستہ آہستہ۔۔۔
چلو تم۔۔۔ ماں سے کہتا وہ اسکا ہاتھ تھام کر کچن سے نکلنے لگا جب وہ اسکا ہاتھ زور سے تھام کر رکی۔۔۔
احمر نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ آٹا۔۔ وہ بھرائی آواز میں منمنائی۔۔۔
خود ہی ماں یا بھابھی کر لیں گی تم چلو۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ زبردستی کھینچتا کچن سے نکلا۔۔۔
میں تو کوئی نہیں گوندنے والی ۔۔۔ یہیں پڑا ہے یہ۔۔۔ گندھ جائے گا تو روٹی پکا لوں گی۔۔۔ یہ کوئی عرش سے نہیں اتری جو کچھ بھی نا کرے اور میں صبح سے شام کولہو کے بیل کی مانند لگی رہوں۔۔۔ آج سے گھر کے کام کروں گی تو برابری کی بنیاد پر ورنہ۔۔۔۔
پیچھے سمیرا چٹخ رہی تھی جبکہ وہ سنی ان سنی کرتا اسے کمرے میں لے آیا۔۔۔
ارے یہ لڑکا تو پکا زن مرید ہو گیا۔۔۔ غضب خدا کا ماں کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔۔۔ گھٹنے سے لگ جا بیوی کے نالائق اولاد۔۔۔۔
کمرے میں آ کر اسنے بنا پرواہ کئے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔۔۔ دروازہ بند کرنے سے باہر سے آتی آوازوں کا سلسلہ بند ہوا تو کچھ سکون ہوا۔۔۔ اسکی نظر ماہیر پر پڑی جو سر جھکائے بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ سفید رنگت میں سرخیاں سے گھلنے لگی تھی۔۔۔
احمر کا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسلہ۔۔۔
******
بھیا دیکھیں ماما کتنا رو رہی ہیں۔۔۔ پاپا نے انہیں کتنا ڈانتا۔۔۔ ماما کی تو کوئی غلطی نہیں تھی نا۔۔۔ انہوں نے تو کھانا بنایا تھا۔۔۔۔ دیکھیں بھیا انہیں یوں روتا دیکھ کر مجھے بھی رونا آ رہا ہے۔۔۔۔
وہ دونوں بہن بھائی بھاپ کی غصیلی آوازیں سن کر کھانا چھوڑ کر اپنے کمرے کے دروازے میں آ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ اب باپ کے جانے کے بعد عروب کو یوں نیچے بیٹھے پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھ فبیحہ کی سہمی رندھی ہوئی آواز ابھری۔۔۔
ہادی نے بھی اڑی رنگت اور خالی خالی نگاہوں سے بہن کو دیکھا۔۔۔
تھا تو وہ بھی بچہ ہی۔۔۔ عروب کو یوں روتا دیکھ اسکا دل بری طرح پسیجا تھا۔۔۔ اپنی حرکت پر شرمندگی بھی ہوئی۔۔۔
وہ بہن کا ہاتھ تھامے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا عروب کے پاس گیا۔۔۔
ماما۔۔۔ آپ مت رو پلیز۔۔۔ فبیحہ اسکے پاس آتی اپنے ننھے ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کرتے معصومیت سے گویا ہوئی۔۔۔
عروب نے غصیلی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ مگر اسکا معصوم سہما چہرا دیکھ اسکا غصہ بے بسی میں بدلا۔۔۔ اسنے ایک پرشکوہ نگاہ ہادی کو دیکھتے اسکے ہاتھ نرمی سے اپنے چہرے سے ہٹائے۔۔۔
فبیحہ گڑیا آپکو پتہ ہے جھوٹ بولنا کتنا سخت گناہ ہے۔۔۔ اور جھوٹ بولنے والوں سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے۔۔۔ وہ مخاطب فبیحہ سے تھی مگر دیکھ ہادی کو رہی تھی جو پشیمان سا سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
آپ لوگ مجھے اپنے پاپا سے ڈانٹ ہی پڑوانا چاہتے تھے نا۔۔۔ سو کر لیا۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔ وہ نرمی سے فبیحہ کو پیچھے ہٹاتی اٹھ کر چلی گئ۔۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی فبیحہ بھائی کو دیکھتی شدت سے رو دی۔۔۔
اچھا اب تم تو چپ کرو۔۔۔ ابھی وہ غصے میں ہیں۔۔۔۔ اس لئے ہماری بات نہیں سن رہیں۔۔۔۔ پاپا آئیں گے تو ہم ان سے ایکسکیوز کر لیں گے۔۔۔
وہ شرمندہ سا گویا ہوا۔۔۔۔
*****
ماہیر کیا کر رہی ہو یار۔۔۔ پلیز یہ مت کرو۔۔۔ تمہیں پتہ ہے تمہارے آنسو سیدھا میرے دل پر گرتے ہیں۔۔۔ یہ ناقابل برداشت ہے میرے لئے۔۔۔ پلیز چپ کر جاو۔۔۔ وہ نرمی سے اسکے آنسو صاف کرتا محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
اس اپنایت بھرے لہجے پر وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی بلک بلک کر رو دی۔۔۔۔
احمر کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
ارے آگ لگے امور خانہ کو۔۔۔ اگر تم نے یوں آنکھوں کا حشر کرنا ہے تو خبردار جو آج کے بعد کسی کام کو ہاتھ لگایا تو۔۔۔ امی سے میں خود ہی بات کر لوں گا۔۔۔
وہ اسے یوں روتا دیکھ غصے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ماہیر نے ٹرپ کر چہرے سے ہاتھ ہٹایا اور بعجلت اسکا ہاتھ تھام کر اسے باہر جانے سے روکا ۔۔۔
نہیں احمر پلیز۔۔۔ امی اور بھابھی پہلے ہی غصہ ہیں۔۔۔ میں اب نہیں رووں گی۔۔۔ میں آہستہ آہستہ اب سیکھ لوں گی۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامتی ملتجی ہوئی اور ہاتھ کی پشت سے رگڑ رگڑ کر آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔
یہ ہوئی نا بات۔۔۔
وہ مسکرا کر اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔
اچھا آپ فریش ہو جائیں میں آٹے کو دیکھتی ہوں۔۔۔ بھابھی واقعی گھر کے سبھی کام کرتی ہیں۔۔۔ مجھے انکی مدد کروانی چاہیے۔۔۔ وہ اداس سا مسکرائی۔۔۔
اچھا ایک بات تو بتاو۔۔۔ تمہیں واقعی آٹا نہیں گھوندنا آتا۔۔۔ وہ مشکوک ہوا۔۔۔
ماہیر نے شرمندگی سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
کتابوں سے سر کھپاتے میں امی کے بارہا اسرار پر بھی کچن کا رخ نہیں کرتی تھی۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔ چلو ہم مل کر کرتے ہیں انشااللہ کچھ نا کچھ بن ہی جائے گا۔۔۔
وہ مسکرایا۔۔۔
نہیں۔۔۔ وہ جھٹکے سے سر اٹھاتی شدت سے نفی کرتی گویا ہوئی۔۔۔
کیوں۔۔۔ وہ مضنوعی غور کر بولا۔۔۔
احمر پہلے ہی سب آپکو زن مرید بول رہے ہیں۔۔۔ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا مزید اب آپ کچن میں میرے ساتھ۔۔۔ اسے پریشانی لاحق ہونے لگی۔۔۔
کہنے دو جسے جو کہنا ہے۔۔۔ جب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تو تمہیں بھی نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔ اور میں ہوں زن مرید۔۔۔ اس میں خفا ہونا کیسا۔۔۔ وہ کندھے اچکاتا اسے لئے باہر آ گیا۔۔۔
ماہیر اسے حیرت سے دیکھتی رہ گئ۔۔۔ اسقدر دیوانگی۔۔۔
ماں اور بھابھی باہر صحن میں ہی براجمان تھیں۔۔۔ انہیں کچن کی طرف جاتا دیکھ ٹھٹھکیں۔۔۔
اممم۔۔۔ اس میں خشک آٹا مزید ڈالنا ہوگا۔۔۔ وہ پرات سے دھکن اٹھاتا آٹے کی حالت دیکھ پرسوچ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ماہیر جھٹ سے خشک آٹا لے آئی۔۔۔
احمر نے آٹا پرات میں ڈالتے دونوں کو یکجا کرنا شروع کیا۔۔۔
ماں اور بھابھی دونوں تجسس کے ہاتھوں مجبور کچن کے دروازے تک آئیں۔۔۔
احمر کو شرٹ کے بازو فولڈ کئے آٹے کے ساتھ نبرد آزما دیکھ ماں تو دل تھام گئیں ۔۔۔ جبکہ بھابھی ہس ہس کر دہری ہوگئ۔۔۔
ماہیر کا خفت سے برا حال تھا۔۔۔
بس یہ ہی کام باقی رہ گیا تھا احمر۔۔۔۔ تم تو واقعی زن مرید ہو۔۔ بھابھی مسکراتے ہوئے گہرا طنزیہ گویا ہوئیں۔۔۔
بس بھابھی یہ گٹس بھی اب ہر کسی میں نہیں ہوتے۔۔۔ اب آپ نے بھی تو تب ہی ڑوتی بنانی تھی جب آٹا گندھتا۔۔۔ وہ لاپرواہی سے گویا ہوتا کچھ ہی دیر میں آٹا گزارے لائق کر چکا تھا۔۔۔
اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔۔۔ رات کو ڈائینینگ ٹیبل پر بڑے بھائی اور باپ کے آجانے کے بعد پھر سے اسکا ریکارڈ لگا تھا۔۔
ارے یار اب ہوں زن مرید تو۔۔۔۔ آپ لوگ جل کیوں رہے ہیں آپ بھی بن جائیں۔۔۔ کوئی روک ٹوک تھوڑی ہے۔۔۔ وہ ڈھیٹ بنا مسکرا کر کھانا کھاتا انکے ریکاڑد کا اثر لئے بنا گویا ہوا۔۔۔
اسکی شہزادی اس قابل تھی کے اس کے لئے کسی بھی حد سے گزرا جا سکتا۔۔۔۔
اتنا بے شرم ڈھیٹ اور پکا زن مرید ہماری سات نسلوں میں کوئی نا گزرا۔۔۔ ابا نے سرجھٹکتے پانی کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔۔کوئی نہیں ابا جان۔۔۔ میں جو ہوں ریکارڈ توڑنے کو۔۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔۔
ماں اسے دیکھ کر رہ گئ ۔۔۔۔۔
جب ماہیر چہرا جھکائے خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی۔۔۔
******

No comments