Header Ads

Mera Aashiyana novel 2nd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Mera Aashiyana novel 2nd Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "میرا آشیانہ"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

دوسری قسط۔۔۔۔
اسکی آنکھ کھلی تو پہلی نظر ہی پھولوں سے خوبصورتی سے بنی مسہری سے ٹکرائی۔۔۔ مسہری سے نظر ٹکراتے ہی حواس جھنجھنا کر بیدار ہوئے۔۔۔ وہ جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
بھوری ریشم سی آبشار کمر پر پھسلتی چلی گئ۔۔۔ اسنے پلیکں جھپکتے ایک نظر اپنے پہلو میں ڈالی جہاں احمر دنیا و مافیہا سے بے خبر سو رہا تھا۔۔۔
وہ تھک کر بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔ اسنے انگلیوں کی پوروں سے اپنا ماتھا مسلہ تو نظر بازو میں پہنے نفیس سے بریسلیٹ  سے ٹکرائی۔۔۔
ساتھ ہی رات کے کئ مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم گے۔۔۔
احمر کی پرشوق نگاہیں۔۔۔ اسے رونمائی میں  بریسلیٹ پہنانا۔۔۔ اور وہ ناجانے رات اسے اپنی محبت کی کون کونسی داستانیں سناتا رہا تھا۔۔ اسکی جذبے لٹاتی آنکھیں اور باتیں۔۔۔
وہ کچھ بھی تو نا سمجھ پائی تھی۔۔۔ اسکے تو حواس مختل ہو رہے تھے۔۔۔ اتنی جلدی اس کے لئے اس نئ تبدیلی کو قبول کرنا مشکل تھا ۔۔۔ بے حد مشکل۔۔۔
ابھی تو دماغ میں ہمہ وقت محض کورس کی کتابیں ہی گھومتیں۔۔۔ کونسا ٹاپک تیار ہے کونسا تیار کرنا باقی ہے۔۔۔ کس سبجیکٹ کے ٹاپکس کور کرنا باقی ہیں۔۔ اسکے ایگزائمز اور بس۔۔۔
وقت ہی کتنا رہتا تھا آخر اسکے امتحانات میں محض ایک ماہ۔۔۔ 
ایسے میں پڑھائی کی شیدہ لڑکی کے دماغ میں محض اسکی کتابیں ہی گھوم رہی تھیں۔۔۔
پتہ نہیں وہ کیسے یہ سب مینج کرپاتی۔۔۔ شوہر اچھا تھا مگر سسرال تو روائتی ہی تھا نا۔۔۔
امی آپ نے بالکل اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔۔ گلاب کی پنکھریوں سے لبوں سے شکوہ برآمد ہوا
دفعتاً دروازہ ناک ہوا تو وہ اچھل کر سیدھی ہوئی۔۔۔
کیا مصیبت ہے۔۔۔ ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی اور دوسری جھنجھلائی نگاہ پاس سوئے احمر پر۔۔۔
خود ہی دیکھتے رہیں یہ سب۔۔۔ دوسری دستک پر اسنے جھنجھلاتے ہوئے بیڈ سے اتر کر جوتا اڑسا  اور دروازے پر ہوتی دستک کو نظر انداز کرتی واش روم میں گھس گئ۔۔۔
واش روم کا دروازہ اتنی زور سے بند کیا کے بے خبر سوئے احمر کی نیند دروازہ کھٹکنے سے تو نا کھلی مگر وہ دروازہ بند ہونے کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔
دوبارہ دروازہ کھٹکا تو وہ گہری سانس خارج کرتا دروازہ وا کرنے چل دیا۔۔۔
اسکی شہزادی کی ہر ادا ہی دلربا تھی۔۔۔
******
سلطان کے چلے جانے کے بعد بھی وہ کافی دیر سر تھامے وہیں ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھی رہی۔۔۔ وہ خود کو عجیب دوراہے پر کھڑا پا رہی تھی۔۔۔ بابا یہ ہے آپکا انتخاب جہاں آپ میری ذمہ داری سونپ کر خود بے فکری سے منوں مٹی تلے جا سوئے۔۔۔
اسنے نم ہوتی آنکھوں کو چھلکنے سے پہلے ہی مسلہ۔۔۔ دھند کے مرغولوں تلے ایک اور منظر ابھرنے لگا تھا۔۔۔
بابا ہسپتال کے پڑائیویٹ کمرے میں پیشنٹ بیڈ پر نیم جان سے لیٹے تھے۔۔۔ ہاتھ پر بنولے کی مدد سے ڈرپ لگی تھی۔۔۔۔سارا کمرا ہی سفید تھا ۔۔۔
وہ بابا کا ہاتھ تھامے اس سے سر ٹکائے انکے پاس ہی کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔ خاموش آنسو بابا کا ہاتھ بھگوتے چلے جا رہے تھے۔۔۔ وہ اسکی زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا۔۔۔ انتہائی بے بس کر دینے والا وقت۔۔۔۔
ابھی بابا نے جو اسے کہا تھا اس کو قبول کرنا اس کے لئے مشکل تھا۔۔۔ اسکا ننھا سا دل کانپنے لگا تھا۔۔۔
نکاح ۔۔ وہ بھی اس صورتحال میں یہاں ہسپتال میں۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گردش کرنے لگے تھے۔۔۔
بیٹا کیا تم اپنے باپ کی کہی بات کا مان نہیں رکھو گئ۔۔ دفعتاً بابا کی نحیف آواز پر اسنے تڑپ کر سر اٹھایا اور سرخ سوجھی نگاہوں سے انہیں دیکھا۔۔۔
سلطان صاحب بہت اچھے انسان ہیں گڑیا۔۔۔ اگر اس وقت اتنے مہنگے ہسپتال میں تمہارے باپ کا علاج ہو رہا ہے تو انہی کی مرہون منت۔۔۔
بہت نرم دل انسان ہیں وہ۔۔۔  پچھلے سات سالوں سے انکے پاس کام کر رہا ہوں۔۔۔ جتنی عزت انہوں نے مجھے ورکر ہوتے ہوئے دی ہے اسکا آدھا بھی میرے اپنے مجھے نا دے سکے۔۔۔
خاموش آنسو بابا کی آنکھوں سے لکیروں کی مانند بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔
بابا پلیز۔۔۔ اسنے بابا کو بولنے سے روکنا چاہا مگر وہ اسکی سن ہی کب رہے تھے۔۔۔
انکی اچھائی کا اندازہ تم یہیں سے لگا لو کے انہوں نے ایک مجبور باپ کی مجبوری کو سمجھا ہے۔۔۔ میرے التجا کرنے پر وہ بنا بحث کئے تم سے نکاح کے لئے تیار ہوگئے۔۔۔
ڈھر ڈھر ڈھر ۔۔۔۔ گویا ہسپتال کی ساری چھت ایک ہی مرتبہ عروب کے سر پر آ گری تھی۔۔۔
مطلب اسکے باپ نے اپنی بیٹی اس شخص کے نکاح میں دینے کے لئے اسکی منتیں کی تھیں۔۔۔
اندر کہیں موجود عزت نفس بری طرح مجروح ہوئی تھی۔۔۔ یہ آپ نے کیا کیا بابا۔۔۔ دل بلبلا اٹھا تھا۔۔۔۔
بیٹا سارے حالات تمہارے سامنے ہیں۔۔۔ خدا دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔۔۔۔
یہ بھی شاید میری آزمائش ہے۔۔۔ تم بہت بھولی ہو بیٹا۔۔۔
ہمارے پاس محض ایک گھر ہی ہے۔۔۔ میرے نام نہاد رشتے دار اس ایک گھر کے لئے تمہیں نوچ کھائیں گے۔۔۔
مجھے آگے کے حالات دکھائی دے رہے ہیں بیٹا۔۔۔ مجھے تمہاری فکر چین نہیں لینے دیتی۔۔۔
سلطان صاحب اچھے انسان ہیں۔۔۔ بس غصے کے کچھ تیز ہیں۔۔۔ پہلے نہیں تھے۔۔۔ لیکن کچھ سالوں سے ہوگئے۔۔  
خلاف مراج بات برداشت نہیں کرتے۔۔۔ میں جانتا ہوں کے تم انکے ساتھ ایڈجسٹ کر لو گئ۔۔۔۔وہ دل کے برے نہیں۔۔۔ وہاں انکے ساتھ تم زمانے کی ٹھوکروں سے بچ جاو گئ۔۔۔۔ تمہاری عزت محفوظ رہے گئ۔۔۔ تمہیں سر چھپانے کو چھت اور معاشرے میں عزت ملے گی۔۔۔ سب سے بڑھ کر میں پرسکون ہو جاوں گا۔۔۔۔
بیٹا اس شخص کے ہم پر بہت احسانات ہیں۔۔۔ تم۔۔۔۔ تم۔۔۔
انکا سانس اکھڑنے لگا تھا۔۔۔ وہ بے طرح کھانسنے لگے۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ڈاکٹر کو بلانے کو بھاگی۔۔۔۔ 
اور پھر اسنے بنا کچھ کہے سر جھکا دیا تھا۔۔۔ لمحوں کا کھیل تھا اور وہ ایک بے حس اور ظالم انسان کے نام ہوگی۔۔۔
اسنے گہری سانس بھرتے تاسف سے ارد گرد دیکھا۔۔۔ وہ واپس اسی ڈائینینگ ایریا میں موجود تھی۔۔۔
ناجانے کس چیز کا گھمنڈ ہے اس انسان کو۔۔۔ شاید اسقدر پیسے کا یا شاید اسی کی ذات اسقدر بے مول ہے۔۔۔ اسنے دکھ سے سوچا۔۔۔
زبردستی کا ہی سہی مگر انکے درمیان رشتہ تو تھا۔۔۔
اور اسے دکھ کم ہوتا جو وہ شخص اسے بیوی کے روپ میں قبول نا کرتا تو۔۔۔
اسے اپنی زندگی میں بیوی کا درجہ دے کر اپنے بچوں کی ماں تک کہہ کر وہ شخص اتنی بے رخی دکھا رہا تھا۔۔۔
باقی سب حوالے تو پیچھے رہ گئے۔۔۔ اس وقت تو وہ اس شخص کی بیوی تھی۔۔۔ اور وہ بیوی مانتا بھی تھا۔۔۔ تو کیا وہ نرم لہجے کی مستحق بھی نا تھی۔۔۔ اسے اس شخص کے لہجے کی کاٹ اور آنکھوں کا سرد پن مارتا تھا۔۔۔
وہیں بیٹھے بیٹھے جب کافی دیر ہوگئ تو وہ بے دلی سے اٹھتے گھر دیکھنے لگی۔۔۔
لاوئنج سے ہوتی ڈرائینگ روم تک گئ اور پھر بچوں کے روم میں۔۔۔۔ ہر جگہ کی تھیم اس جگہ کی مناسبت سے کی گئ تھی۔۔۔ فلور ٹائیلز تک کا ڈیزائن مختلف تھا۔۔۔
جگہ جگہ آویزاں قیمتی ڈیکوریشن پیسز دیکھنے والوں کی نگاہوں کو خیرہ کرتے تھے۔۔۔
گھوم پھر کر اسنے صرف نچلہ پورشن ہی دیکھا جب وال کلاک پر نظر پڑی۔۔ گھڑی دوپہر کے بارہ بجا رہی تھی۔۔۔ بچوں کو سکول سے ناجانے کتنے بجے چھٹی ہوتی تھی۔۔۔ وہ ان کے لئے لنچ بنانے کی غرض سے کچن میں گئ۔۔۔
ڈبل ڈور فریج کھولتے اسنے اندر کا جائزہ لیا۔۔۔۔ انڈے بریڈ۔۔۔ بٹر۔۔۔ جیم۔۔۔ دودھ۔۔۔ اسنے فریز کھولا۔۔۔ کئ فروزن چیزیں۔۔۔ نگٹس۔۔۔ مچھلی ۔۔۔ چکن اور مٹن کے زپ لاک بیگز پڑے تھے۔۔  فریج بند کرتے اسنے سارے کیبنٹس چیک کرنے شروع کئے۔۔۔ وہاں کم و بیش گروسری کا سارا سامان موجود تھا۔۔۔
اتنا سب دیکھ کر وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گئ۔۔۔ ناجانے بچے کیا پسند کرتے کیا نہیں۔۔۔ وہ کیا بنائے۔۔۔
انتہائی سوچ بچار کے بعد اسنے چکن میکرونی بنانے کا سوچا۔۔۔۔آسانی سے بن بھی جاتی اور وہ تقریباً سبھی کو پسند بھی ہوتی ہے۔۔۔ سوچتے ہوئے اسنے
فروزن چکن نکال کر پانی میں رکھا اور خود میکرونی ابالنے کو پانی چولہے پر رکھنے لگی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اسکی چکن میکرونی تیار تھی۔۔۔ اسنے دھکن اٹھا کر تازہ بھاپ اڑاتی میکرونی کی خوشبو کو لمبا سانس کھینچتے اندر اتارا۔۔۔
میکرونی خوشبو سے ہی مزے کی لگ رہی تھی۔۔۔ یقینا بچے بھی کھا کر خوش ہو جاتے۔۔۔۔
باہر سکول وین کے رکنے اور بچوں کے شور کی آواز آئی تو وہ مسکراتی ہوئی باہر کی جانب بڑھی۔۔۔ یقیناً بچے سکول سے واپس آ چکے تِھے۔۔۔
*****
احمر بھائی کیسے ہیں۔۔۔۔ پکوڑوں اور چائے سے انصاف کرتی مصباح گویا ہوئی۔۔۔
ماہیر آج ہی مائیکے آئی تھی جب مصباح کو پتہ چلا تو جھٹ سے ملنے پہنچ آئی۔۔۔
وہ بالوں کی ٹیل پونی بنائے بنا کسی آرائش و زیبائش کے ٹانگیں موڑے بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ گود میں کشن دھرا تھا۔۔۔ جبکہ ہرے کانچ سی آنکھیں اداس تھیں۔۔۔۔
ٹھیک ہیں۔۔۔۔ وہ چڑ کر کہتی بے چینی سے پہلو بدل گئ۔۔۔
اسکے انداز دیکھ مصباح کا چائے پیتا ہاتھ ٹھٹھکا۔۔۔۔
کیا بات ہے ماہیر۔۔۔ کیا تم اس شادی سے خوش نہیں۔۔۔ احمر بھائی تمہیں پسند نہیں۔۔۔ مصباح خدشات سے پر دل کے ساتھ حیرت زدہ سی گویا ہوئی۔۔۔
پتہ نہیں مصباح۔۔۔ مجھے خود کچھ سمجھ نہیں آتی۔۔۔ مطلب۔۔۔
وہ بے چین سی سیدھی ہوتی تھوڑا سا اسکی جانب کھسکی۔۔۔
احمر اچھے ہیں۔۔۔ میرا خیال بھی بہت رکھتے ہیں۔۔۔ لیکن میں ابھی تک ایڈجسٹ نہیں ہو پائی۔۔۔ میرا۔۔۔۔ اسنے بے چینی سے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔
میرا وہاں دل نہیں لگتا۔۔۔
شاید ابھی سب نیا نیا ہے۔۔۔ وہاں میری پڑھائی کا کوئی شیڈیول نہیں۔۔۔ جب پڑھنے بیٹھو کسی نا کسی کو کوئی کام یاد آ جاتا ہے۔۔۔  
کہنے کو سب کہہ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکی جتنا مرضی پڑھے ۔۔۔ لیکن۔۔۔
اسنے پلکیں جھپکتے آنکھوں کی نمی کو اندر دھکیلا۔۔۔ لیکن ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا۔۔۔
وہ اس لڑکی کو بہو بنا کر لے کر جاتے ہیں جسکے سر پر شادی کے بعد ذمہ داریوں کا ایک انبار ہوتا ہے۔۔۔ جسے اپنی فرصت نہیں رہتی۔۔۔ پھر
پھر کہتے ہیں بھئ ہماری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں۔۔۔ لڑکی جتنا مرضی پڑھے۔۔۔ اسکی آواز بھرا گئ وہ تاسف سے سر جھٹکتی دوسری جانب دیکھنے لگی۔۔۔
یہ بھی آنکھوں کی نمی چھپانے کا ایک طریقہ تھا۔۔۔
اسکی بات سنتی مصباح ہونٹ کچلنے لگی۔۔۔
اور تمہیں پتہ ہے کئ آنٹیاں تو مجھے دیکھنے آئی اور کہتی ہیں۔۔۔۔ کہتی ہیں شادی کے بعد پڑھنے کی کیا ضرورت۔۔۔ چھوڑو دفع کرو۔۔۔ کیوں اتنی خوبصورت آنلھوں کا بیڑ غرق کرتی ہو۔۔۔ شوہر تو تمہارا اچھا خاصا کماتا ہے۔۔۔ تو تمہیں جاب کی کیا ضرورت۔۔۔ وہ دکھ سے مزید گویا ہوئی۔۔۔
مطلب حد ہے یار۔۔۔ پڑھائی کی اتنی نا قدری۔۔۔ خود نہیں پڑھنا نا پڑھو۔۔۔ دوسروں کے خوابوں کو کیوں پاوں تلے رونڈتے ہیں وہ لوگ۔۔۔ وہ دکھی تھی بھری بیٹھی تھی۔۔۔ سامع ملا تو دل کھول کر بیٹھ گئ۔۔۔
اوپر سے یہاں تک کہتی ہیں فائدہ اتنی ڈگریوں کا۔۔۔  کچھ سالوں بعد یہ ڈگریاں پکوڑے رکھنے کے کام آتی ہیں ۔۔ شادی کے بعد عورت صرف چولہا اور گھر گرہستی ہی سمبھالتی ہے۔۔۔ اب کی بار اسنے ضبط کی کوشیش نہیں کی بلکہ سسک اٹھی تھئ۔۔۔ 
مصباح کے ہاتھ میں تھاما پکورا پلیٹ میں جا گرا۔۔۔۔ اسے ماہیر کو تسلی دینے کے الفاظ تک نا مل رہے تھے۔۔۔۔
میرے خواب ہیں مصباح۔۔۔ جو پورے نا ہوئے تو ۔۔۔۔ تو میری زندگی کا تو مقصد ہی ختم ہو گیا۔۔۔۔
اسنے بے داغ شفاف ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے سبز کانچ کو رگڑا۔۔۔
آنکھوں کے گرد سرخی پھیلنے لگی تھی۔۔۔
دیکھو ماہیر حوصلہ رکھو۔۔۔ ابھی شروع کے دن ہیں اس لئے تمہیں زیادہ فیل ہو رہا ہے۔۔۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
تم اس ماحول میں آیڈجسٹ کر جاو گئ۔۔۔
اور رہ گئ بات تمہارے خوابوں کی تو تمہارا سب سے مضبوط سہارا احمر بھائی تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔ تم اس بارے میں ان سے بات کرو نا۔۔
اسنے ماہیر کو دلاسہ دیتے اسے ایک نئ راہ سجھائی۔۔۔ وہ ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
ہاں احمر سے ابھی تک اتنی فرینکنیس تو ہو ہی گئ تھی کے وہ اس سے اپنی کوئی بھی بات بلا جھجھک کہہ سکتی۔۔۔ اور اس میں بھی سو فیصد ہاتھ احمر کا ہی تھا جو اسکے چہرے پر ایک مسکان لانے کو سو سو جتن کرتا تھا۔۔۔
******
ارے آگئے آپ لوگ۔۔۔۔ کیسا گزرا دن آپکا۔۔۔ وہ بیرونی چوکھٹ عبور کرتی ڈرائیوے پر آتے بچوں کو رسیو کرنے انکے پاس آ کر مسکرا کر گویا ہوئی۔۔ 
ہاتھ بڑھا کر فبیحہ کی واٹر بوتل تھامی تو اسنے مسکراتے ہوئے جھٹ سے دے دی جبکہ اسکا ہادی کی جانب برھا ہاتھ بڑھا ہی رہ گیا کیونکہ وہ اسے ایک زبردست گھوری سے نوازتا پھر سے چلنے لگا تھا۔۔۔
عروب کا جوش کچھ مانند پڑا۔۔۔
اچھا گزرا ماما۔۔۔ فبیحہ چہک کر گویا ہوئی۔۔۔ وہ کھینچ تان کر ایک مسکراہٹ ہونٹوں پر لا پانے کے قابل ہوئی تھی۔۔۔
اچھا بیٹا میں نے آپکے کپڑے نکال دیئے ہیں۔۔۔ آپ چینج کر کے جلدی سے واپس آو پھر ہم کھانا کھاتے ہیں۔۔۔ آج میں نے آپ کے لئے چکن میکرونی بنائی ہے۔۔۔ وہ پھر سے ہمت پکڑتی فبیحہ کے بال بگارتے خوشگواریت سے گویا ہوئی۔۔۔
تکلف کیا آپ نے خوامخواہ کپڑے نکالنے کا ۔۔۔ ہم خود کر لیتے۔۔۔ اور رہ گئ بات کھانے کی تو ابھی ہمیں بھوک نہیں۔۔۔ جب ہوگئ تو کھا لیں گے۔۔۔ 
ہادی سرد و سپات لہجے میں کہتا بہن کا ہاتھ تھام کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ جبکہ عروب حق دق سی اس چھوٹے سے لڑکے کو دیکھتی ہی رہ گئ۔۔
اسے اس میں اسکے باپ کی جھلک دکھائی دی۔۔  لگتا ہے غصہ اور سرد پن باپ سے وراثت میں لیا ہے اس چھوٹے کھڑوس نے۔۔۔ توبہ۔۔ یہ بچہ ہے بھلا۔۔وہ سر جھٹک کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ کیوں جنکے انتظار میں وہ ابھی تک ہلکان تھی وہاں تو نو لفٹ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔۔۔
*****
ہادی سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا اپنا ہوم ورک کر رہا تھا جبکہ پنک فراک میں ملبوس فبیحہ منہ بنائے نڑوٹھے انداز میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ کمرے کا دروازہ بند تھا جبکہ ہادی کی سٹڈی ٹیبل کے اوپر موجود وال کلاک دوپہر کے تین کا ہندسہ عبور کر رہی تھی۔۔۔۔
بھائییییییییی۔۔۔۔ جانے دیں نا باہر۔۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے۔۔ اور ماما نے میکرونی بھی بنائی ہے۔۔۔ مجھے کھانی ہے۔۔۔ وہ اسکے سامنے آتی اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتی معصومیت سے گویا ہوئی۔۔۔
وہ پنسل کاپی پر رکھتا پرسوچ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے فبیحہ۔۔۔ 
تو پھر چلیں نا باہر۔۔۔ میکرونی کھاتے ہیں۔۔۔ اسکی آنکھیں چمکیں۔۔۔
ہرگز نہیں فبیحہ۔۔۔ ہم اس عورت کے ہاتھ کا بنا کچھ نہیں کھائیں گے۔۔۔ وہ عورت ماما نہیں ہے ہماری۔۔۔ وہ غصے سے دوٹوک انداز میں گویا ہوا کے ایک پل کو فبیحہ بھی سہم گئ۔۔۔
پھرررر۔۔۔ معصومیت سے پوچھا گیا۔۔۔
پھرررر۔۔۔ ایک کام کرتا ہوں پاپا کو فون کر کے کچھ منگواتے ہیں۔۔۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔ انداز ناصحانہ تھا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔ وہ چہک کر اچھلی۔۔۔
اگلے ہی لمحے وہ اپنی ٹیب پر پاپا کا نمبر ملا کر ہیند فری لگا چکا تھا دوسری طرف بیل جا رہی تھی۔۔۔
ہیلو پاپا۔۔۔ پاپا یار بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ ہم بھوک سے مر جائیں گے۔۔۔ پلیز کچھ کھانے کو آرڈر کر دیں۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ دہائیاں دیتا گویا ہوا۔۔۔
دوسری جانب اپنے آفس کی سربراہی کرسی پر بیٹھے کوئی فائل چیک کرتے سلطان کے ماتھے پر جا بجا شکنوں کا جال بچھا۔۔۔
اسنے ایک غضبناک نگاہ کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی جہاں ساڑھے تین بج رہے تھے۔۔۔
اسکے بچے ابھی تک بھوکے تھے اسکے خون میں ابال سے اٹھنے لگے۔۔۔
اس لاپرواہ عورت پر جی بھر کر تاو آیا۔۔۔۔۔
تمہاری ماں نے لنچ نہیں بنایا۔۔۔ غصہ ضبط کرتا وہ بمشکل گویا ہوا۔۔۔
For God sake papa....
 وہ عورت ماں نہیں ہے میری۔۔۔ خدا کے لئے کچھ آرڈر کر دیں ورنہ ہم بھوک سے مر جائیں گے۔۔۔ ہادی چڑ کر گویا ہوا۔۔
Don't worry Hadi...
 کھانا لے کر آ رہا ہوں میں۔۔۔۔ تم بہن کا خیال رکھنا۔۔۔
وہ اب وہیں جا کر اس بددماغ عورت کا دماغ درست کرنے کا ارادہ رکھتا تھا جسے ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔۔
وہ سب کچھ وہیں چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
******


No comments

Powered by Blogger.
4