Mera Aahiyana novel 1st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Aahiyana novel 1st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Mera Ashiyana is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Mera Ashiyana Novel by Umme Hania | Meta Ashiyana novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Mera Ashiyana novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
پہلی قسط۔
سورج کی کرنیں کھلی کھڑکی سے چھن چھن کر اندر آتیں باہر پھیل چکے اجالے کی نوعید سنا رہی تھیں۔۔۔
ایسے میں وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھی تھئ۔۔۔
چہرے پر ویرانی تھی اور آنکھوں میں اداسی۔۔۔ سفید سوٹ میں ملبوس آنچل سینے پر پھیلائے بالوں کی ڈھیلی سی پونی دائیں کندھے پر گرائے وہ اس وقت کسی مصور کا شاہکار ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔
اسنے ایک نظر اپنے ارد گرد کمرے پر ڈورائی۔۔۔ ہر چیز اعلی سے اعلی تر تھی۔۔۔ ایرانی کارپٹ۔۔۔ بہتریں فرنیچر حتی کے کھڑکی کے سامنے لگے بلائنڈز تک۔۔۔ سب پرفیکٹ تھا۔۔۔
کسی خواب کی مانند۔۔۔ پوری کمرے پر گردش کرتی اسکی نگاہ آ کر اسکی گود میں ڈھرے ہاتھوں پر رکی۔۔۔
اسنے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھا۔۔۔
ایک ہوک سی دل سے نکلی۔۔۔ ایسی ہوتی ہے شادی۔۔۔
یوں دکھتی ہے دوسرے دن کی دلہن۔۔۔ اسکی بے ساختہ نگاہ سامنے لگے آئینے پر پڑی جہاں اسکا سوگوار حسن کسی آرائش کے بنا بھی دمک دہا تھا۔۔۔
اسنے سرعت سے بھرائی نگاہیں جھکا لیں۔۔۔
اس دن کے حوالے سے اسنے ہر لڑکی کی طرح کتنے خواب سجائے تھے۔۔۔ لیکن پہلے دن کی دلہن کا ایسا استقبال ۔۔۔۔ دل بھرا رہا تھا۔۔۔
شاید حقیقت تخیل سے الگ تھی۔۔۔ مگر اتنی الگ۔۔۔ یا شاید اس کی شادی نارمل شادی ہی نا تھی۔۔ ۔۔
اسے اندر سے ایک گہری چپ لگ گئ تھی۔۔۔۔
دفعتاً واش روم کا دروازہ کھلا اور اندر سے سفید کاٹن کے کڑکڑاتے سوٹ میں ملبوس اسکا شوہر باہر نکلا۔۔۔
ارے تم ابھی تک یہیں ہو۔۔۔ ناشتہ بنانے نہیں گی۔۔۔ وہ شخص بالوں میں تولیہ چلاتا اسے ہنوز وہیں دیکھ حیرت زدہ سا مستفسر ہوا۔۔۔
عروب نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
گندمی رنگت۔۔۔ ماتھے پر بکھرے نم بال۔۔۔ مضبوط ڈیل ڈول ۔۔۔ ماتھے پر موجود ہلکی شکنیں اور آنکھوں میں موجود ایک سرد تاثر۔۔۔
عروب نے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔ ناجانے یہ شخص ہمہ وقت انگارے کیوں چبائے رکھتا تھا۔۔۔ یہ اسکا نارمل انداز تھا۔۔۔ غصے میں ہوتا تو نا جانے کیا کرتا۔۔۔ لیکن کم از کم دوسرے دن کی دلہن سے لہجہ تو نرم رکھا جا سکتا تھا نا۔۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو بھئ۔۔۔ بچے ہیں میرے ۔۔۔ اور ابھی تک بھوکے ہونگے۔۔۔ میں تو تمہارے بھروسے بیٹھا رہ گیا کے تم انہیں ابھی تک ناشتہ کروا چکی ہو گئ۔۔۔ اسکے ماتھے کی شکنیں کچھ مزید بڑھیں۔۔۔
عروب کے لئے حیرت زد حیرت تھی وہ ہونق بنی دیکھتی رہی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ تمہارے باپ نے نہیں بتایا تھا اس بارے میں۔۔۔ وہ اس کی حالت دیکھ آئینے کی جانب پلٹتا بال بنانے لگا۔۔۔
دیکھو لڑکی اگر تمہاری شادی تم سے دوگنی عمر کے مرد سے ہوئی ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔ یہ تمہارے باپ کی خواہش تھی۔۔۔ میں قطعاً اس شادی کے حق میں میں نا تھا۔۔۔
اسنے بال بنا کر ہیئر برش ڈریسنگ پر رکھا اور کف لنکس بند کرتے آئینے سے اسکا عکس دیکھا۔۔
لیکن اب چونکہ تم اس گھر میں میری بیوی کی حیثیت سے موجود ہو تو بہتر ہے کے روز اول سے ہی اپنی ذمہ داریاں اٹھانے لگو۔۔۔
یہ گھر اور میرے بچے اب تمہاری ذمہ داری ہے۔۔۔ اور بچوں کے بارے میں میں کسی قام کی کوتاہی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ میرے بچے وہ طوطے ہیں جن میں سلطان کی جان بستی ہے تو بچوں کےمعاملے میں اختیاط سے کام لینا۔۔۔ وہ خود پر پرفیوم کا چھڑکاو کرتا آئینے سے نظر آتے اسکے ساکت وجود کو دیکھتا سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
عورت کے فضول قسم کے نخرے دیکھنے ۔۔۔۔چونچلے اٹھانے اور بالخصوص عورت کو ڈھیل دینے کے حق میں میں بالکل نہیں ہوں۔۔۔۔
ایک منٹ میں باہر آو اور آ کر ناشتہ بناو۔۔۔
اس رشتے کی حقیقت سے تم باخوبی آگاہ ہو۔۔۔ تمہارا باپ مجھے مجبور نا کرتا تو تم آج کسی صورت یہاں میری بیوی کی حیثیت سے موجود نا ہوتی۔۔۔
وہ شخص قطرہ قطرہ اسکی رگوں میں زہر انڈیل کر پرفیوم کی شیشی واپس ڈریسنگ پر رکھتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ عروب کی حالت یوں تھی کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔
وہ شخص بے حد سفاک بھی تھا یہ عروب نے اب جانا تھا۔۔۔
کم صورت سے کم صورت لڑکی بھی اس روز تو شوہر کی توجہ حاصل کر ہی لیتی ہے۔۔۔ وہ تو پھر ہزاروں میں ایک تھی۔۔۔
وہ باپ کی لاڈلی قسمت کی اس ستم ظریفی پر بونچکا رہ گئ تھی۔۔۔
اسکے باپ نے کیا سوچ کر اسکے لئے یہ فیصلہ لیا بھلا۔۔۔
کہاں وہ سفاک اور بے مہر شخص کہاں وہ نازک کلی۔۔۔ کہاں کب تک اور کیسے وہ بھلا اس شخص کی ہمراہی میں چل سکتی تھی اس پر تو ابھی سے تھکن سوار ہونے لگی تھی۔۔۔
اسنے بے طرح نم آنکھوں کو مسلا اور آہستگی سے بیڈ سے اتر آئی۔۔۔
اسنے ایک اداس نگاہ ارد گرد کمرے میں ڈالی۔۔۔ اونچے محلوں میں رہنے والے رئیس زادوں کے دلوں میں دل نہیں ہوتا پتھر ہوتا ہے اسنے اب جانا تھا۔۔۔ اونچے محلوں کی اصلیت بہت سفاک تھی۔۔۔ وہ من من بھاری ہوتے قدم اٹھاتی کمرے سے نکلی۔۔
*****
اسنے آئینے سے نظر آتے اپنے عکس کو جھلملاتی نگاہوں سے دیکھا۔۔ سرخ رنگ کے عروسی جوڑے میں ملبوس اسکا ملکوتی حسن مزید تراش خراش کے بعد چاندنیاں بکھیر رہا تھا۔۔۔ اسکے نازک سراپے کو دیکھ کسی کانچ کی گڑیا کا گمان ہوتا تھا۔۔۔
وہ تھی ہی گڑیا۔۔۔ جیتی جاگتی گڑیا۔۔۔ حسن کا شاہکار۔۔۔ دمکتی رنگت پر سبز کانچ کی آنکھیں اور بھورے ریشم سے بال۔۔۔ جسکا اس وقت خوبصورتی سے ہیئر سٹائل بنایا گیا تھا۔۔۔
نازک سی جیولری میں وہ چہرا اس وقت سوگوار تھا۔۔۔۔
بھاری بھرکم عروسی جوڑے میں اسے اس وقت اپنا آپ بے جان ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
باہر بینڈ باجوں کی کانوں کو پھاڑتی آواز بارات کے پہنچ جانے کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔ اسے اپنی حالت عجیب ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
وہ گیلی سانس اندر کھینچتی اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹتی صوفے پر آ کر ڈھے گی۔۔۔
ہاتھ پاوں سرد پر رہے تھے۔۔۔
دفعتاً ماں برائیڈل روم کا دروازہ وا کرتی بعجلت اندر داخل ہوئی۔۔۔ اسنے ماں کو دیکھ ان سے چہرا موڑا۔۔۔
یہ اسکی شدید ناراضگی کی علامت تھی۔۔۔
ماں تڑپ تڑپ گئ۔۔۔
ماہیر میری جان۔۔۔ انہوں نے اسکے پاس بیٹھتے محبت سے اسکا چہرا اپنی جانب موڑا وہ شدت ضبط سے خون چھلکا رہا تھا۔۔۔
اچھا نہیں کیا آپ نے میرے ساتھ ماں۔۔۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا۔۔۔
نا میری جان۔۔۔ ایسے نہیں کہتے۔۔۔ ماں نے محبت سے اسے خود میں سمیٹا۔۔۔
وہ انکے سینے میں چہرا چھپائے رو دی۔۔۔
ماں میری پڑھائی۔۔۔ میرے خواب۔۔۔ میرا کیرئر۔۔۔ آپ نے کچھ بھی تو نا سوچا۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ وہ ماں کی آغوش میں سمٹی سسکیاں لیتے گویا ہوئی۔۔۔۔نہیں میری جان۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ احمر بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔
اسے تمہاری شادی کے بعد تعلیم جاری رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ تم شادی کے بعد بھی اپنے سبھی خواب پورے کر سکتی ہو۔۔۔ ماں نے محبت سے اسکا سر سہلایا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں نکاح کا فریضہ سر انجام دے کر اسے باہر لا کر احمر کے پہلو میں بیٹھایا گیا۔۔۔
****
آج وہ فتحیاب ٹہرا تھا۔۔۔ وہ اپنی قسمت پر نازاں تھا۔۔۔ اسنے جسے چاہا پا لیا۔۔۔ پہلو میں موجود اسکے نام پر پور پور سجا چاندنیاں بکھیرتا نازک وجود اسکے اندر سرخوشی و سرمستی بھرتا جا رہا تھا۔۔۔
بھلا دنیا میں اس سے بھی خوش قسمت کوئی ہو سکتا تھا۔۔۔
ہال میں موجود لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔۔۔
ہر کسی کی زبان پر دلہن کے لئے تعریفیں تھی۔۔۔
احمر کے لئے بھی کہی جانے والی کئ باتیں اسکے کان میں پڑیں۔۔۔ لیکن اسے کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔
وہ عام شکل و صورت کا حامل ایک معمولی انسان تھا جسے حور سے نواز دیا گیا تھا۔۔۔
لوگ بارہا ماہیر کی تعریف کرتے کہہ چکے تھے کے دلہن بہت خوبصورت ہے جبکہ وہ نہیں۔۔۔
وہ ماہیر کے بارے میں کہے جانے والے الفاظ بھی کسی اعزاز کی طرح وصول کر رہا تھا۔۔۔
اسے فرق نہیں پڑتا تھا کے لوگ انکا موازنہ کر رہے ہیں۔۔۔ یا ماہیر اس وقت مرکز نگاہ ہے۔۔۔
وہ حسن اور کابلیت دونوں میں اس سے بہت آگے تھی ۔۔ اپنی معمولی شکل اور ذہانت سے بھی وہ باخوبی آگاہ تھا۔۔۔
اسکے پہلو میں براجمان وجود واقعی ایک کانچ کی گڑیا تھی جسے سینچ سینچ کر رکھنے کی ضرورت تھی۔۔۔ جسکے لئے وہ دل و جان سے تیار تھا۔۔۔
یہ کانچ کی گڑیا اسے اسکی کسی نیکی کے صلے کے طور پر عطا کی گئ تھی اور اسکا بس چلتا تو وہ شاید اسکی پرستیش ہی شروع کر دیتا۔۔۔
وہ اس نازک گڑیا کی ہمراہی میں خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
******
عروب مرے مرے قدم اٹھاتی سیاہ ماربل لگی گول سیڑھیوں کے زینے اترتی نیچے آ رہی تھی۔۔ چھت کے دونوں اطراف سے سیڑھیاں نیچے لاوئنج کے وسط میں اترتی تھیں۔۔۔
وہ سلور کلر کی ریلنگ کے سہارے نیچے اترتی چلی آئی۔۔۔ لاوئنج کی ہی ایک سائیڈ پر اوپن کچن تھا اور اسکے ساتھ ہی ڈائینینگ ایریا۔۔۔
اسکی بھٹکتی ہوئی نگاہ ڈائینینگ ایریا تک گئ تو ٹھٹھک کر رکی جہاں سلطان اپنے آٹھ سالہ بیٹے اور پانچ سالہ بیٹی کو ناشتہ کروا رہا تھا۔۔۔
تو یعنی کے وہ اس اے توقع نا رکھتا تھا کے وہ ان کے لئے ناشتہ بنائے گی۔۔۔ یا شاید وہ مزید اپنے بچے بھوکے نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔
عروب کے اندر کئ شکووں نے جنم لیا۔۔۔ وہ جیسے خود سے ہی خفا تھی۔۔۔ اس ظالم شخص نے اس سے خفا ہونے کا حق بھی تو نا دیا تھا۔۔۔
ابل ابل باہر آتے غم و غصے کو اسنے شدت سے اندر دابا اور قدم گھسیٹتی خود ہی ڈھیٹوں کی طرح انکے قریب پہنچی۔۔۔ کیونکہ سلطان تو اسے دیکھ کر بھی ان دیکھا کر چکا تھا۔۔۔
ناشتہ کرنے کی دعوت دینا تو دور کی بات اسنے تو مسکرا کر اسکی جانب دیکھا تک نا تھا کے یہ اسکا اس گھر میں پہلا دن تھا۔۔۔ وہ کچھ اپنائیت کی حقدار تو تھی نا۔۔۔
دل اپنی اس قدر ناقدری پر اشک کنان تھا۔۔۔
Who is she papa????.
اسکے بیٹے نے ناشتے سے سر اٹھا کر چہرے پر نافہم تاثرات سجاتے اسے دیکھا۔۔۔
وہ ہنوز خفا خفا سی سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔ نا سلطان نے اسے بیٹھنے کا بولا نا ہی وہ بیٹھی۔۔۔
سلطان نے ایک گہری سانس خارج کی اور پیچھے کو ہو بیٹھا۔۔۔
تمہاری ماں۔۔۔
کیاااااا۔۔۔ وہ چیخ اٹھا تھا جبکہ اسکی بیٹی بھی ناشتے سے ہاتھ روکے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
پر یہ میری ماما نہیں ہیں پاپا۔۔۔ اس بچے نے ناک چڑھاتے غصے سے کہا۔۔۔ وہ غصیلی نگاہوں سے عروب کو تک رہا تھا۔۔۔
چلو جی۔۔۔ باپ کم تھا کیا جو بیٹا باپ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔۔ مجھے بھی کوئی ضرورت نہیں اسقدر بدتمیز بچوں کی ماں بننے کی۔۔۔
وہ سر جھٹکتی اندر ہی اندر کڑھ کر رہ گئ۔۔۔۔
بیٹھ جاو۔۔۔ تمہیں کیا کسی نے سزا دی ہے ۔۔۔
سلطان اسے ہنوز کھڑا دیکھ سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
وہ ایک شکوہ کناں نگاہ اس پر ڈالتی خاموشی سے بیٹھ گئ۔۔۔
ہادی اسے خاموش نگاہوں سے گھورتا دوبارہ ناشتے میں مگن ہو گیا۔۔۔
جبکہ عروب کو یونہی گم صم سا بیٹھا دیکھ سلطان نے بریڈ پر بٹر لگایا اور پلیٹ اسکی جانب کھسکانے کے ساتھ جوس کا گلاس بھی اسکے پاس رکھا۔۔۔
عروب نے اس عنایت پر ایک حیرت زدہ نگاہ اس پر ڈالی جو اب مکمل طور پر بیٹی کی جانب متوجہ تھا۔۔۔۔
ناشتہ ٹھیک سے کریں فبیحہ۔۔۔ اور پلیٹ بالکل صاف کریں۔۔۔ جوس بھی مکمل ختم کرنا ہے۔۔۔
عروب نے ہر چیز کو سائیڈ پر رکھتے ناشتہ کرنا شروع کیا۔۔۔ پے در پے جھٹکوں سے جان ویسے ہی ادھ موئی ہوئی پڑی تھی۔۔۔ اوپر سے اس ظالم شخص کو اسکی جتنی پرواہ تھی دکھائی دے ہی رہا تھا۔۔۔ فائدہ موڈ بنانے کا جب سامنے والے کو پرواہ ہی نہیں۔۔۔۔اسنے سیر ہو کر ناشتہ کیا۔۔۔۔ہادی اور فبیحہ کی سکول وین آئی تو وہ ناشتہ کرتے باپ کو الوداع کہہ کر سکول چلے گئے۔۔۔
دیکھو لڑکی۔۔۔ وہ اسکی غائب دماغی نوٹ کرتا گویا ہوا۔۔۔
عروب۔۔۔ میرا نام عروب ہے۔۔۔ یہ لڑکی کیا ہوتا ہے۔۔۔
اسے سلطان کا طرز تخاطب کسی تیر کی مانند لگا تھا۔۔۔ وہ خاموشی سے لب بھینچے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
سامنے والے کی روبدرانہ شخصیت کا خاصا تھا کے عروب جلد ہی نظریں جھکا گئ۔۔۔
یہ وہ شخص تھا جس سے اسکا باپ بھی بہت احترام سے بات کرتا تھا۔۔۔ تو وہ کیسے اس سے بحث کر سکتی تھی۔۔۔۔
تمہارے باپ نے اس شادی۔۔۔۔۔۔
مر چکا ہے میرا باپ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتا وہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔۔وہ نازو پلی بھلا کہاں عادی تھی اس لہجے کی۔۔۔
اس لئے خدارا ۔۔۔۔ بخش دیں انہیں۔۔۔ وہ لفظ چباتی غصہ ضبط کرتی گویا ہوئی۔۔۔
مجبوری تھی میرے باپ کی۔۔۔۔
مجبوری تھییییییییی۔۔۔ اور اسی مجبوری کے تحت تم اس وقت یہاں موجود ہو۔۔۔ یہ بات بہت اچھے سے جانتا ہوں میں۔۔۔ کہاں برداشت ہوا تھا اس سے اس چھٹانک بھر کی لڑکی کا اتنا تیز لہجہ۔۔۔ تبھی میز پر ہاتھ مارتا شعلے اگلتی نگاہوں سے اسے تکتا وہ غرایا۔۔۔
عروب کی تو سٹی ہی گم ہو گئ تھی۔۔
ایک بات سمجھا رہا ہوں اسے پلو سے باندھ لینا۔۔۔
زبان دراز عورت اور بے وجہ بحث کرنے والی عورت انتہائی زہر لگتی ہے مجھے۔۔۔ لحاظہ آئندہ مجھ سے بات کرتے ہوئے آواز اور آنکھیں دونوں نیچی رکھنا۔۔۔ ورنہ تم ابھی سلطان کو جانتی نہیں۔۔۔
سرد و سپاٹ لہجہ ۔۔۔۔ اسکی ریڈھ کی ہدی تک سنسنا گیا۔۔۔ وہ جہاں کی تہاں بیٹھی رہ گئ۔۔۔۔ایسا نارواں سلوک۔۔۔ کیا وہ زر خرید تھی بھلا۔۔۔
زبان تو تالو سے چپک گئ تھی۔۔۔ دل چاہا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔
میرے مرے ہوئے باپ کو بار بار بیچ میں مت گھسیٹیں۔۔۔ مانا کے وہ آپکے ورکر تھے۔۔۔ لیکن میرے لئے میری کل کائنات تھے۔۔۔ میں انکا ذکر ان الفاظ میں نہیں سن سکتی۔۔۔
وہ اس شخص سے جیت نہیں سکتی تھی ۔۔۔ نا مقابلہ کر سکتی تھی اور نا ہی لڑ سکتی تھی۔۔۔ بہت جلدی یہ ساری باتیں اسکے دماغ میں بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔ اسی لئے سر جھکائے گلوگیر لہجے میں التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔
شاید یہ اس شکست خوردہ لہجے کا ہی اثر تھا کے سلطان کا غصہ مانند پڑا تھا۔۔۔
وہ کچھ دیر اسکے جھکے سر کو دیکھتا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ناشتہ میں نے بچوں کے لئے باہر سے منگوا لیا تھا۔۔۔ لیکن وہ باہر کا کھانا کھا کر بیمار پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اس لئے انکے سکول سے آنے سے پہلے کچھ بنا لینا۔۔۔ اپنے مخصوص سرد انداز میں کہہ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔پیچھے وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتی جھنجھلا کر رہ گئ۔۔۔
ظالم انسان۔۔۔۔ بیوی نا ہوئی میڈ ہی ہوگئ۔۔۔
یہ کر لینا ۔۔۔ وہ کر لینا۔۔۔
اور بچےےےےےے۔۔۔ اتنے بدتمیز۔۔۔۔۔ توبہ۔۔۔۔
کہاں پھس گئ۔۔۔ مصیبت۔۔۔۔ وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ غم و غصے کے ساتھ جھنجھلاہٹ حد سے سوا تھی۔۔۔
یہاں ایک دن نہیں کٹ رہا تھا۔۔۔ پتہ نہیں پوری زندگی اس مشکل انسان کے ساتھ کیسے کٹتی۔۔۔
******

No comments