Scheme novel Last Episode 1st part by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel Last Episode 1st part by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
آخری قسط۔۔۔۔پہلا حصہ
عائزل اپنی سبھی ہمت مجتمع کرتی اسکی جانب بڑھی اور ہاتھ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔۔۔
یہ آپ رکھ لیں۔۔۔ وہ آہستہ سے منمنائی۔۔۔ دائم نے آنکھین وا کرتے اسکے ہاتھ کی جانب دیکھا اور سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔۔
یہ آپکے چار لاکھ پلیز آپ رکھ لیں نا۔۔۔ وہ اسے یک ٹک اپنے ہاتھ کی جانب تکتا پا روہانسی ہوئی۔۔۔ مانا کے یہ آپ ہی کے دیئے ہوئے ہیں پر ہیں تو میرا حق مہر نا۔۔۔ تو میرے ہوئے یہ۔۔۔ میں یہ آپکو لوٹا رہی ہوں۔۔۔ دقت سے بولتے اسکی آواز نم ہونے لگی۔۔۔
دائم کے دل پر گھونسہ پڑا۔۔۔۔
بیٹھ جاو عائزل اسنے عائزل کے ہاتھ سے چیک پکڑنے کی بجائے اسکی کلائی تھام کر اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔۔۔ اسکی اس قدر قربت میں بیٹھ عائزل کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔۔۔
یہ تمہارے ہیں عائزل تمہارا حق مہر۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے بات کا آغاز کیا۔۔۔
عائزل لب چبا کر رہ گئ۔۔۔
عائزل اگر میں۔۔۔ دائم سے الفاظ جوڑنا محال ہوا۔۔۔ وہ جو بہتریں مقرر تھا۔۔۔ سٹیج پر چڑھ جاتا تو اتنا بہترین بولتا کے دیکھنے والے اسکی باتوں میں کھو کر مبہوت ہو جاتے۔۔۔ جو کسی بحث و مباحثہ میں حصہ لیتا تو بڑے بڑوں کو دھول چٹا دیتا۔۔۔ وہ شخص آج اپنی زندگی کے اس مقام پر اپنی بیوی کے سامنے بیٹھا اپنی صفائی میں بولنے کو الفاظ کی توڑ جوڑ کر رہا تھا۔۔ الفاظ گویا روٹھ گئے تھے۔۔۔ یا زبان پر آنے سے انکاری تھے۔۔
اگر میں تم سے۔۔۔۔ اپنے کئے گئے اعمال کی معافی مانگوں۔۔۔ وہ رکا۔۔ ہمت پھر سے مجتمع کی اور پھر سے گویا ہوا۔۔۔
تو کیا مجھے ۔۔۔ مجھے معاف کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔۔۔
عائزل کی پریشانی اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔ اسنے بھرائی حیرت زدہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
یہ بھلا کیا کہہ رہا تھا وہ۔۔۔ عائزل نے ہر چیز کی توقع کر رکھی تھی۔۔۔ مگر اس چیز کی نہیں۔۔۔
دائم نے بے بسی سے اسکی شاک بھری نگاہوں میں دیکھا۔۔۔
اگر کچھ تم سے کہوں تو یقین کرو گئ۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔
پلیز کر لینا اور پھر اس سارے معاملے میں مجھے میرا قصور بتا کر میری سزا بھی منتخب کر دینا۔۔۔
جب وہ کچھ بھی نا بولی تو دائم گیلی سانس اندر کھینچتا اس پر سے نگاہیں ہٹاتا گویا ہوا۔۔۔
میری کہانی بہت الجھی ہوئی ہے عائزل۔۔۔ جو سنتا ہے ایک مرتبہ تو ضرور الجھ جاتا ہے۔۔۔ پلیز زرا تحمل سے ساری کہانی سننا۔۔۔۔
دائم خان کو زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کی معصومیت سے محبت ہوئی تھی۔۔۔
اسنے شروع سے اسے سب بتانا شروع کیا اور پھر سب بتاتا چلا گیا اپنے ساتھ ہوئے سکیم سے لے کر اسکے ساتھ ہوئے نکاح تک اور پھر اس رات فوٹیج میں اسے یوں رب کے حضور گڑگڑاتے دیکھ کر معاملے کی کھوج لگانے سے لے کر عالیہ کی بے حسی و گرفتاری تک۔۔۔
سب بتاتے وہ جیسے کانٹوں پر گھسیٹتا ہوا آیا تھا۔۔۔ اسنے خاموش ہو کر عائزل کا چہرا دیکھنا چاہا جو دھوان دھواں ہوا پڑا تھا۔۔۔۔
شاک اتنا گہرا تھا کے عائزل کو اپنے حواس ساتھ چھوڑتے محسوس ہوئے۔۔۔
کس کے کئے کی سزا وہ پچھلے تین مہینوں سے بھگت رہی تھی۔۔۔
عائزل۔۔۔ اسکی حالت دیکھتے دائم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ جب وہ چہرا کپکپاتے ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
دائم نے لب بھینچتے اسے دیکھا اسکی اپنی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں لیکن اندر کہیں وہ چاہتا تھا کے وہ رو کر اپنے اندر کا غبار نکال لے۔۔۔
بہتی آنکھوں سمیٹ کئ مناظر اسکی آنکھوں میں بننے لگے۔۔۔
وہ آنچل کندھے سے لاکر کمر پر باندھے کچن میں کھڑی تیزی سے ہاتھ چلاتی حور کے لئے فرائز بنا رہی تھی جب شارٹ شرٹ اور جینز کی ٹائٹس میں ملبوس ٹیل پونی بنائے چیونگم چباتی عالیہ اسکے پاس آئی۔۔۔ دوپٹہ مفلر کی صورت گلے میں لپٹ رکھا تھا جبکہ ہاتھ میں موبائل تھام رکھا تھا۔۔۔۔
ہیے عائزل میری فرینڈز ہیں کال پر پلیز ہیلو تو بول دو۔۔۔
وہ چیونگم چباتی مسکرا کر گویا ہوئی جب عائزل فرائز فرائی کرتی مسکرا کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔
How r you... What's going on...
وہ ہاتھ ہلاتی پرجوش سی گویا ہوئی۔۔۔
ہاں وہ دراصل مصروف ہے۔۔ وہ کان میں لگی ہینڈ فری میں گویا ہوئی۔۔۔
اوکے عائزل کیری آن۔۔۔ اور مسکرا کر کہتی ہوا کے جھونکے کی مانند غائب ہوگئ۔۔۔
دوسرا منظر ابھرا تھا۔۔۔ عائُزل ابھی ابھی شاور لے کر نکلی تھی۔۔۔ گیلے بال پشت پر پھیلے تھے اور آنچل کندھے پر تھا۔۔۔
Aizal looking beautiful yar... Selfie please.. ,
وہ اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیئے بغیر ڈھرا ڈھر اسکی کئ ایک سیلفیز لے چکی تھی۔۔۔ اور اس طرح کے کئ ایک مناظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے تھے۔۔۔
وہ اپنے کس کس دکھ پر روتی۔۔۔ اسقدر زہریلی دوست اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی۔۔۔۔
اپنی بے وقوفی و بے بسی اسے اندر تک کاٹ رہی تھی۔۔۔
رو رو کر وہ ادھ موئی ہوگئ۔۔ سوچیں منتشر تھیں اور حواس مختل۔۔۔
عائزل پلیز۔۔۔ ایم سوری۔۔۔ وہ اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتا اسکے دونوں ہاتھ تھام کر گلوگیر لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
جانتا ہوں یہ لفظ تمہاری اذیت کا مداوا کرنے کو ناکافی ہے۔۔ لیکن پھر بھی اگر مجھے معاف کر سکو تو۔۔
عائزل کئ لمحے خاموشی سے اسے دیکھے گئ۔۔۔
آپکی غلطی نہیں ہے دائم۔۔۔ آپ بھی تو وکٹم ہیں میرے جیسے۔۔۔ وہ پھر سے رو دی۔۔۔
اسکی بات پر دائم کا دل بھر آیا۔۔۔
لیکن میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا عائزل۔۔ محبت کے دعوے دار یوں تو نہیں کرتے۔۔۔
وہ پشیمان تھا۔۔۔
ہاں آپ نے غلط کیا۔۔۔ بہت غلط کیا۔۔۔ مجھے بھرے مجمعے میں رسوا کیا دائم۔۔۔
اسکا لہجہ شکست خوردہ تھا۔۔
مجھے جیسی لڑکی کی زںدگی میں محض عزت ہی ہوتی ہے دائم۔۔۔ آپ نے اسکا بھی تماشا بنا ڈالا۔۔ لوگ ۔۔۔ لوگ مجھ پر تھو تھو کر رہے تھے۔۔۔ وہ تکلیف میں تھی۔۔ لہجہ پراذیت تھا۔۔۔ ہارا ہوا
آپ۔۔۔آپ زرا اس فیلنگز کو محسوس کر کے دیکھیں۔۔۔ ضبط کرتے اسنے پلکیں جھپکائیں۔۔
اب آپکے رسوا کرنے کے خوف اور میرے ساتھ غلط کر جانے کے ڈر کو سائیڈ پر رکھ کر بولوں ۔۔۔ کے میرا دل کیا چاہ رہا ہے۔۔۔
وہ جیسے رفتہ رفتہ حوصلہ پا کر اب اندر کی بھراس نکالنا چاہتی تھی۔۔۔
دائم نے لب بھینچے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
جیسے وہ بھی اسکے اندر کا حال جاننا چاہتا تھا۔۔
میرا دل چاہتا ہے دائم کے۔۔۔ کے آپکو کبھی معاف نا کروں۔۔۔ آپکو۔۔۔ آپکو اتنی اذیت دوں کہ آپکو لفظ اذیت کا مطلب سمجھ میں آجائے۔۔۔
دائم نے بامشکل گیلی سانس کھینچتے پشیمانی سے چہرا جھکا دیا۔۔۔
میرا دل چاہتا ہے کہ آپ محسوس کریں کے جب بھرے مجمعے میں رسوا ہوا جاتا ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔۔ جب کچھ نا کرتے بھی آپ دنیا کے سامنے معتوب ٹھہرا دیئے جائیں تب کیسے۔۔۔ کیسے دل پھٹتا ہے۔۔۔ اسکی سسکیاں بڑھنے لگی تھیں۔۔۔
خاموش آنسو دائم کی آنکھوں سے بھی بہنے لگے۔۔۔
بہت لاڈوں سے پالا ہے نا آپ کے والدیں نے آپکو۔۔۔ اکلوتے بیٹے جو ہیں۔۔۔
دائم نے سرخ نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
میں بھی اپنی بجو کی لاڈلی تھی۔۔۔ بہت لاڈوں سے پالا انہوں نے مجھے۔۔۔
کاش آپ محسوس کریں کے جب اتنے لاڈوں سے پلنے کے بعد آپکو بے حسوں کی طرح ہڈیوں کو ٹھٹھراتی خون کو منجمند کرنے والی سردی میں پھینک دیا جائے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔۔
اسنے رگڑ کر آنسو صاف کئے۔۔۔
جب۔۔۔ جب آپ سے گدھوں کی طرح کام لیا جائے۔۔۔ اتنی سردی میں کھلے آسمان تلے جب آپکو ہینڈ پمپ۔۔۔۔۔
ایم سوری عائزل۔۔۔ پلیز خاموش ہو جاو۔۔۔ پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ ہاتھ اٹھاتا کپکپاتے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
عائزل کی باتیں اسکا دل چیر رہی تھی۔۔۔
بس دائم ۔۔۔ اتنا ہی حوصلہ۔۔۔ ابھی تو ایک طویل لسٹ ہے۔۔۔
بھوک برداشت کی ہے آپ نے کبھی۔۔۔ وہ اسکا جھکا چہرا ہاتھوں میں تھامتی اپنے سامنے کرتی عجیب شکائتی لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
لمحے میں دائم کی نظروں میں وہ دن گھوم گیا جس روز وہ بھوکی تھی۔۔۔
اتنی شرمندگی اسے آج تک کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی آج ہو رہی تھی۔۔۔
اسکی توقع کے مطابق سب سن کر عائزل کو بھڑکنا چاہیے تھا۔۔۔ چیختے چلاتے۔۔۔ الزام ترشی کرتے اپنے اندر دہکتا الاو نکالنا چاہیے تھا۔۔۔
مگر وہ تو بہت میٹھے انداز میں اسے بگھو بگھو کر مار رہی تھی کے وہ خود ہی ضمیر کے بوجھ تلے دبنے لگا۔۔۔۔
آپکو پتہ ہے جب۔۔۔
پلیز۔۔۔۔ دائم بے ساختہ ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھتے التجائیہ گویا ہوا۔۔۔
پلیز۔۔۔ کچھ مت بولو۔۔۔ سزا دے لو۔۔۔ مگر یہ سب مت دہراو۔۔۔ نہیں سن سکتا میں۔۔۔
پلیز۔۔۔
میں چاہتی ہوں آپکو سزا دینا دائم۔۔۔ سخت سے سخت سزا دینا۔۔۔ تاکے آئندہ آپ کسی کی وضاحت تو سنیں۔۔۔ اسنے کرب سے چہرا موڑا۔۔۔
لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ مسلہ بھی تو یہ ہی نا۔۔۔ کے بدلہ سکون نہیں دیتا۔۔۔
اور۔۔۔ اور مجھے سکون چاہیے۔۔ اسنے سسکی بھری۔۔۔
پہلے پوری زندگی کسی کے بدلے کی بھینت چڑھتی رہی اور اب اپنے سکون کو بدلہ لینے کی بھینت چڑھا دوں۔۔۔
لہجہ نم اور نرم تھا۔۔۔
تو سکون کہاں ہے میری زندگی میں۔۔۔
انا جھکنے نہیں دے رہی دائم۔۔۔ مگر انا کو اونچا رکھ کر میں اپنے یہ رشتے نہیں کھونا چاہتی جو مجھے آپکے توسط سے ملے ہیں۔۔۔ اسنے تھک کر صوفے کی پشت سے سر ٹکایا۔۔۔ آنسو لکیر کی مانند بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔
میں ماں کو نہیں کھونا چاہتی۔۔۔ مجھے یہ گھر اور اس گھر کا سکون سب چاہیے۔۔۔
مجھے در در کر تھوکڑیں نہیں کھانیں۔۔۔ مجھے اپنا یہ گھر عزیز ہے۔۔۔
وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی گویا تھی۔۔۔
مجھے آپ بیک وقت ظالم اور مظلوم دونوں لگتے ہیں دائم۔۔۔
آپ نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔۔۔ چاہیے انجانے میں ہی سہی۔۔۔ آپ نے میری وضاحت نہیں سنی۔۔۔ سنی بھی تو اسے سنجیدہ نہیں لیا۔۔۔ لیکن ظلم تو آپ پر بھی ہوا ہے۔۔۔۔
اسنے آنکھیں گھماتے دائم کو دیکھا جو بے بسی سے اسے ہی یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیا معافی مل سکتی ہے عائزل۔۔۔ وہ اٹھ کر اسکے پاس بیٹھا۔۔۔
وعدہ کرتا ہوں اپنے دیئے ہر زخم کا مداوا کر دوں گا۔۔۔
کیا ایک موقع مل سکتا ہے پلیز۔۔۔۔
کیا اپنی نئ اور پرسکون زندگی کے لئے انا کو جھکا سکتی ہو۔۔۔
وہ ہاتھ آگے بڑھائے آس سے اسے تکتا کسی سائل کی مانند اپنا خالی کشکول لئے کھڑا تھا کے شاید وہ عنایت کے توڑ پر چند سکے عطا کر دے۔۔۔
عائزل نے سسکیاں دابتے اپنا کپکپاتا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا اور اسے مضبوطی سے تھامے اسی سے سر ٹکاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
دائم نے اسے شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔۔
دائم کے آنسو عائزل کے بال بگھو رہے تھے۔۔۔
خدا کو حاظر و ناظر جان کر تم سے وعدہ کرتا ہوں عائزل کے آئندہ زندگی میں میری وجہ سے ان آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں گے۔۔
اسنے اپنے ہاتھوں کے انگھوٹھوں کی مدد سے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
دا۔۔دائم۔۔۔ میری حسیات اس وقت مفلوج ہو رہی ہیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے کچھ وقت چاہیے۔۔۔ پلیز۔۔۔ آگر ممکن ہو سکے تو اس وقت ۔۔۔ اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔
اسنے رو رو کر سوج چکی آنکھوں کو بمشکل کھولتے بدقت کہا۔۔۔
آج پے در پے اتنے صدمات ملے تھے کے اسے کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔
دائم نے مسکرا کر اسکا گال تھپتھپاتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
ریسٹ کرو۔۔۔
اور اٹھ کر بالکنی میں آگیا۔۔۔ جبکہ عائزل وہیں گھٹنوں میں سر دیتی پھر سے سسک اٹھی۔۔۔ آج اسکا دوستی سے بھی اعتبار اٹھ گیا تھا۔۔۔۔
********
ایمن کچن میں حماد کے لئے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔۔۔ رات فنگشن سے دیر سے لوٹنے کے باعث صبح وہ دونوں لیٹ ہی اٹھے تھے۔۔۔ اور اب انہیں ولیمے کے فنگشن کے لئے نکلنا تھا۔۔۔
ایمن نے تیزی سے آملیٹ پھینٹتے فرائی پین میں ڈالی اور دوسری طرف پڑاتھا بیل کر توے پر ڈالا۔۔۔ جب ٹراوز شرٹ میں ملبوس حماد کچن میں آتا اسکے پاس ہی کرسی گھسیٹتا بیٹھ گیا۔۔۔
وہ خاموشی سے اسکے تیزی سے چلتے ہاتھ دیکھنے لگا۔۔۔ وہ کل رات ہی واپسی پر اسے ضامن کے پرپوزل کے لئے اپنی رضا مندی دے چکی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ایمن نے ناشتہ اسکے سامنے رکھا اور خود بھی کرسی گھسیٹ کر اسکے سامنے بیٹھتی ناشتہ کرنے لگی۔۔۔۔
ایما۔۔۔ میں ایک بات سوچ رہا تھا۔۔۔ اگر تمہیں کوئی اعتراض نا ہو تو۔۔۔
وہ پراٹھے کا نوالہ توڑتا محتاط سے انداز میں بولا۔۔
ہمم بولو۔۔۔ وہ چائے کی چسکی لیتی اسکی جناب متوجہ ہوئی۔۔۔
یار اگلے ہفتے میں فوٹوگرافک کمپیٹیشن کے لئے لندن جا رہا ہوں ۔۔۔ وہ الجھا الجھا سا گویا ہوا۔۔۔
ہاں یہ تو میں جانتی ہوں۔۔۔ وہ چونکی۔۔۔
وہ اس انٹرنیشل فوٹوگرافک کمپیٹیشن کے لئے ٹاپ ٹین کنٹیسٹینٹ میں سلیکٹ ہوا تھا اور اسی بیس پر اب لندن فائنل کمپیٹیشن کے لئے جا رہا تھا۔۔۔
تو یہ کے میں چاہتا ہوں کے جانے سے پہلے تمہاری شادی ہوجائے۔۔۔ نہیں مطلب یوں میں وہاں تمہاری فکر سے آزاد مکمل فوکس کر پاوں گا۔۔۔
چونکہ اب تم بھی رضا مندی دے چکی ہو تو۔۔۔ تو شادی تو کرنی ہی ہے نا اب نہیں تو کچھ وقت بعد سہی۔۔۔
تو پھر ابھی کیوں نہیں۔۔۔
وہ ہموز محتاط انداز میں کہتا اسکے تاثرات نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔
وہ گم صم سی خاموش رہ گئ۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو ایما۔۔۔ کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔
وہ اسے گم صم دیکھ گویا ہوا۔۔۔
نہیں۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔
دیکھ لو جیسا تمہیں بہتر لگے۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔
وہ آہستگی سے کہتی چائے پینے لگی۔۔۔
ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ ۔۔۔ شادی تو کرنی ہی تھی۔۔۔ آج نہیں تو کل سہی۔۔۔
پھر آج ہی کیوں نہیں۔۔۔
******
عائزل پیج کلر کی پاوں کو چھوتی میکسی میں وائٹ نگوں سے میں نفیس سی جیولری پہنے ولیمے کے لئے مکمل تیار اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔۔۔
صبح سے ہی اسے بخار تھا۔۔۔ حالات کے چکر نے اسے بری طرح توڑا تھا۔۔۔ اور اس کے بخار کے پیش نظر بیوٹیشن گھر میں ہی اسے تیار کر گئ تھی۔۔۔
رات کے بعد سے اسکا دائم سے دوبارہ سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔
صبح اسکے اٹھنے سے پہلے ہی وہ کمرے سے جا چکا تھا۔۔۔
وہ صوفے پر ڈھیلے سے انداز میں سر صوفے کی پشت سے ٹکائے بیٹھی تھی جب وہ دروازہ کھولتا بعجلت اندر داخل ہوا۔۔۔
عائزل اسے اندر آتا دیکھ سیدھا ہو کر بیٹھی۔۔۔۔
کمرے میں گھومتی اسکی نظر عائزل پر آ کر رکی تو وہ مسکراتا ہوا اسی کی جانب بڑھا۔۔۔
وہ خود اس وقت بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس تقریب کے لحاظ سے تیار بلاشبہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔
اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ وہ اسکے قریب ہی بیٹھتا محبت سے گویا ہوا۔۔۔
اسے دیکھتی عائزل نگاہیں جھکا گی۔۔۔
یہ تمہارے لئے عائزل۔۔۔ اسنے عائزل کا مومی ہاتھ تھامتے اسکے ہاتھ میں ایک ڈبہ رکھا۔۔۔
عائزل نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ ایک سیل فون تھا۔۔۔
اس میں میں نے اپنا نمبر سیو کر دیا ہے عائزل۔۔۔ تم جب مجھے پکارو گی مجھے اپنے پاس پاو گی۔۔۔
آج تقریب کے بعد میں چلا جاوں گا۔۔۔ کم از کم تب تک جب تک تم حالات کی اس تبدیلی کو قبول نہیں کر لیتی۔۔۔
کتنا میٹھا بول رہا تھا وہ۔۔۔ یہ کون تھا بھلا۔۔۔ کم از کم اس دائم سے عائزل کا پالا آج سے پہلے نہیں پڑا تھا۔۔۔
اتنا نرم لہجہ۔۔۔ اسکی باتوں کی اسقدر ویلیو۔۔۔ اتنی عزت ۔۔۔اتنا احترام۔۔۔
عائزل بے یقینی سے اسے یک ٹک دیکھتی رہی۔۔۔
یہ اس شخص کا بھلا کونسا روپ تھا۔۔۔
زیادہ سٹریس نہیں لینا ہاں۔۔۔۔ زندگی کے ہر موڑ پر میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔
Take your time..
وہ اسکی گال تھپتھپاتا مسکرا کر ہوا کے جھونکے کی مانند جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا۔۔۔ جبکہ عائزل کو اپنی گال پر ابھی تک اسکا لمس محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
******

No comments