Scheme novel Last Episode Last part by Umme Hania Represent by Uniqe Novels0
Scheme novel Last Episode Last part by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
آخری قسط دوسرا حصہ۔۔۔
رات کے سائے ہر سو اپنے پنکھ پھیلا چکے تھے۔۔۔ چاند کی چاندی رات کے اندھیرے میں بکھرتی اسے فسوں خیز بنا رہی تھی۔۔۔
ایسے میں یمنہ لان کے قدرے نیم تاریک گوشے میں کھڑی سینے پر ہاتھ باندھے یک ٹک چاند کو تک رہی تھی۔۔۔
شال گرد لپٹی ہوئی تھی۔۔۔ جبکہ پونی سے نکلتی کئ اوارہ لٹیں چہرے کے ارد گرد پھیلی ہوئی تھیں۔۔
آہممم۔۔۔۔ دفعتاً اپنے پیچھے سے آواز آنے پر وہ چونک کر پلٹی۔۔۔ اور اپنے پیچھے کھڑے حماد کو دیکھ وہ بے طرح بوکھلائی جو پشت پر ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
آ۔۔ آپ۔۔۔۔ آپ کب آئے۔۔۔
اسنے چہرے سے بال ہٹاتے شال سیدھی کی۔۔۔
ابھی۔۔۔ابھی۔۔۔ کیا نہیں آ سکتا۔۔۔ وہ اسکا بوکھلایا روپ دیکھ شریر ہوا۔۔۔
نہیں ایسا تو نہیں کہا میں نے۔۔۔
حماد مسکرا دیا۔۔۔
وہ بابا کو فیکٹری سے کچھ فائلز دینے آیا تھا جب ماں سے اجازت طلب کر کے اس سے ملنے چلے آیا۔۔۔
کیسی ہو یمنہ۔۔۔ ہو ہنوز اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ اسکے یوں دیکھنے سے بے طرح کنفوز ہو رہی ہے۔۔
ٹھیک۔۔۔ وہ یک لفظی گویا ہوئی۔۔۔ الفاظ ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔۔
میرا حال نہیں پوچھو گی۔۔۔ ناجانے کیوں وہ اسے تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔ مگر وہ یوں اسکے سامنے بوکھلائی سی کھڑی نگاہوں کو اچھی لگ رہی تھی۔۔۔
اسنے سر جھکاتے شدت سے نفی میں سر ہلایا جبکہ وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
یہ تو بالکل بھی اچھی بیویوں والی بات نہیں ہے۔۔۔ اسنے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔
وہ۔۔۔ مم۔۔۔مجھے کچھ کام ہے۔۔۔ وہ اسکے بدلے انداز دیکھ اندر کو بھاگی جب اسکی گداز بازو اسکی مردانہ گرفت میں آئی۔۔۔
یمنہ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا۔۔۔۔
میں کچھ دنوں تک ایک کمپیٹیشن کے سلسلے میں لندن جا رہا ہوں یمنہ ۔۔۔۔ میرا انتظار کرو گی۔۔۔ اسکا لہجہ مخمور ہوا۔۔
اسکے علاوہ اور کوئی چوائس بھی نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ یمنہ کی دھیمی مدہم آواز ابھری۔۔۔
اور اگر کوئی اور چوائس ہوتی تو۔۔۔ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھتا اسکے سامنے آیا۔۔۔
اب تو جو بھی راستہ اختیار کروں ۔۔۔ منزل آپ ہی ہو حماد۔۔۔ اسنے آہستگی سے پلکوں کی چلمن اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔۔جس کے چہرے پر گویا یمنہ کے جواب نے بہار کھلا دی تھی۔۔۔
یہ تمہارے لئے۔۔۔ اسنے جیب سے ایک مخملی ڈبی نکالتے ایک نفیس سے انگوٹھی اسکی مخروطی انگلی کی زینت بنائی۔۔۔۔ ہمارے نکاح کا تحفہ۔۔ پینڈنگ تھا
میرے لئے دعا کرو گئ۔۔۔
مخمور لہجہ یمنہ کا دل ڈھرکا گیا۔۔۔
میری دعائیں آپکے ساتھ ہیں حماد۔۔ انشااللہ آپ فتحیاب ہو کر لوٹیں گے۔۔۔ پلکیں حیا کے بھاڑ سے اٹھنے سے انکاری تھیں۔۔۔۔
مجھے مس کرو گئ۔۔۔ وہ مسکراہٹ ضبط کرتا ایک قدم مزید اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔
اسکا جھکا سر مزید جھک گیا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔
بندہ دل رکھنے کو جھوٹ ہی بول دیتا ہے۔۔۔ اسنے اپنے ہاتھ میں تھاما اسکا ہاتھ سہلایا۔۔۔ یمنہ نے جھجھک کر ہاتھ کھینچنا چاہا لیکن گرفت مضبوط تھی۔۔۔۔
مجھے جھوٹ نہیں بولنا آتا۔۔۔ وہ بدقت گویا ہوئی۔۔۔
اچھا تو پھر تھوڑا سا مس کر لینا۔۔۔ تھوڑا سا۔۔۔ زیادہ نہیں۔۔۔ وہ ہنوز اسے تنگ کر رہا تھا۔۔۔
یمنہ نے نظریں چراتے ارد گرد دیکھا۔۔۔ اب اس سے اس شخص کے سامنے کھڑا رہنا محال ہو رہا تھا۔۔۔
دفعتا حماد نے اسکی آنکھوں میں حیرت ابھرتی دیکھی۔۔۔
شیریں۔۔۔ یمنہ کی بوکھلائی آواز پر وہ اسکا ہاتھ چھوڑتا اسکی نگاہوں کے تعاقب میں پیچھے کو پلٹا جب وہ کھلکھلاتی ہوئی سرپٹ بھاگی۔۔۔
اسکی چالاکی سمجھ کر وہ گہرا سانس خارج کرتا دل سے مسکرایا۔۔۔
یہ چیٹنگ ہے یمنہ۔۔۔ وہ پیچھے سے پکارا مگر وہ نظر انداز کرتی اندر جا کر ہی رکی۔۔۔
دل ایک الگ ہی لے پر ڈھرک رہا تھا۔۔ وہ اتھل پتھل ہوتی ڈھرکنوں کو سمبھالتی لان کی جانب کھلتی کھڑی سے اسے باہر جاتا دیکھتی رہی۔۔۔
ٹھیک کہا تھا کسی نے۔۔۔ وقت سب سے بڑا مرحم ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ شخص اسکے دل سے پرانے نقش مٹا کر اپنے نقش بنانے میں کامیاب ہو رہا تھا۔۔۔
وہ مطمیئں تھی۔۔۔ اور پوری دلی آمادگی سے اس مخلص شخص کی زندگی میں شامل ہو رہی تھی۔۔۔
آگے بڑھنا مشکل تھا لیکن ناممکن نہیں۔۔۔
*****
وعدے کے مطابق دائم ولیمے کے بعد ماں کی ڈانٹ اور جھرکیوں سے بے بہرا جا چکا تھا۔۔۔ جبکہ وہ پوری رات اور اگلا دن عائزل کا بہت بے چین گزرا۔۔۔
حالات سازگار نا تھے تو ہمہ وقت اپنی فکر کھائی جاتی۔۔۔ اب حالات سازگار تھے تو قدم قدم پر اسے حور یاد آتی۔۔۔ بجو کا وہ گھر اور اسکی ننھی گڑیا۔۔۔
ناجانے وہ کیسے رہ رہی ہوگئ۔۔۔ اسنے کیسے سروائیو کیا ہوگا۔۔۔
وہ تو کسی اور کے ہاتھ سے کھانا تک نا کھاتی تھی۔۔۔ وہ تو سوتی بھی اسی کے ساتھ تھی۔۔۔ حتکہ بجو تک عائُزل اور حور کے ان چونچلوں سے تنگ آ جاتی۔۔۔ اور اب۔۔۔
وہ جتنا اسے یاد آتی اسکا دل کرلانے لگتا۔۔۔
اور داود ۔۔ یہاں آ کر اسکی سوچیں مفلوج ہونے لگتیں۔۔۔۔
ماضی کی سوچوں نے اسکا دماغ بے طرح جھکڑ رکھا تھا۔۔۔ کسی طور سکون نا تھا۔۔۔
داود اسکا بہنوئی تھا پھر اسکا اس سے رشتہ بدلا اور اسکی داود سے شادی ہونے والی تھی۔۔۔
اور اب اسکا عائزل کی زندگی میں حوالہ سابقہ منگیتر کا تھا۔۔۔
کیا دائم اسے کبھی اپنے سابقہ منگیتر سے ملنے کی اجازت دیتا۔۔۔ اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ یا وہ کبھی خود سے دائم سے اس سے ملنے کی اجازت طلب کر پاتی۔۔۔
کیا سب ٹھیک ہو جانے کے باوجود بھی وہ کبھی اپنی گڑیا سے مل پاتی۔۔۔
وہ جتنا سوچتی اسکے اندر گھٹن بڑھنے لگتی۔۔۔
وہ ان سوچوں سے تنگ آ گی تھی۔۔۔ یہاں اس معاملے میں وہ بے بس ہو رہی تھی۔۔۔ نا ان مسائل کا حل نکال پا رہی تھی اور نا ہی ان سوچوں سے پیچھا چھڑا پا رہی تھی۔۔۔
اب بھی وہ رات کے اس پہر بیڈ کراون سے ٹیک لگائے نڈھال سی بیٹھی تھی۔۔۔ اسنے سائیڈ ٹیبل پر پڑے اپنے موبائل کو دیکھا اور موبائل اٹھا کر دائم کا نمبر نکالا۔۔۔ نمبر کے ساتھ اسکی دلکش مسکراتی تصویر جگمگا رہی تھی۔۔۔
عائزل کئ لمحے بے خودی کے عالم میں اسکی تصویر کو تکے گئ۔۔۔
وہ موبائل کی سکرین پر اسکا نمبر ملاتی اور پھر کال کاٹ دیتی۔۔۔
کیا مجھے رات کے اس پہر دائم کو کال کرنی چاہیے۔۔۔
اسی شش و پنج میں مبتلا اسنے کئ دفعہ نمبر ملایا اور کاٹا۔۔۔
پھر تھک ہار کر گہرا سانس خارج کرتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
صبح کال کروں گی۔۔۔
صبح ناشتے کے بعد پھر سے کمرے میں آکر وہ ایک مرتبہ پھر سے موبائل ہاتھ میں تھامے بیٹھی شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔
ڈھرکتے دل کیساتھ اسنے نمبر ملا کر کان سے لگایا۔۔۔۔ دوسری طرف بیل جا رہی تھی۔۔۔
دائم جو ابھی ابھی آفس آیا تھا ابھی ابھی اپنے آفس میں پہنچا ہی تھا جب موبائل پر بلنک کرتے عائزل کے نمبر کو دیکھ وہ ٹھٹھکا۔۔۔ اتنی صبح صبح فون خیریت۔۔۔ وہ بڑبڑایا۔۔۔
ریوالونگ چیئر پر بیٹھتے اسنے پریشانی سے فون اٹھاتے کان کو لگایا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ فون سے اسکی مدھر آواز ابھری۔۔۔
واعلیکم اسلام ۔۔۔ تم ٹھیک ہو نا عائزل ۔۔۔ سب خیریت۔۔۔
وہ چھوٹتے ہی بے چینی سے گویا ہوا۔۔۔
سب خیریت ہے دائم۔۔۔ بس آپ سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔ پہلے رات میں فون کرنا چاہا مگر پھر سوچا کے رات گہری ہوگئ ہے صبح کروں گی۔۔۔ اس لئے اب ناشتے کے بعد آپکا نمبر ملا لیا۔۔۔
وہ بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے ناخنوں سے کھیلتے نرمی سے وضاحت کرتی دائم کے اندر سر ابھارتے خدشات کا سر کچل گئ۔۔۔
اسنے پرسکون ہوتے کرسی کی پشت سے سر ٹکایا۔۔۔ چہرے پر بڑی دلکش مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔
تمہیں مجھے فون کرنے کے لئے وقت کا خیال رکھنے کی ضرورت نہیں عائزل۔۔۔ تم مجھے کسی بھی وقت بلاجھجھک کال کر سکتی ہو۔۔۔۔
وہ آنکھیں موندے طمانیت سے گویا ہوا۔۔۔
وہ خود پیش قدمی کر رہی تھی یہ احساس ہی بڑا جلا بخش تھا۔۔۔
آپ آ جائیں دائم۔۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ اتنی جلدی یہ مزدہ۔۔۔۔ وہ شاک رہ گیا۔۔۔ وہ تو ایک لمبے انتظار کا منتظر تھا۔۔۔ سرور اسکے اندر سرائیت کرنے لگا۔۔۔۔
اتنی کایا پلٹ ایک ہی رات میں۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔
مجھے ماضی کی یادیں ستاتی ہیں دائم۔۔۔ کسی ناگ کی مانند ڈستی ہیں۔۔۔ میں اس مقام پر بے بس ہوں۔۔۔ میں ان یادوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔۔۔ لیکن انہیں ریپلیس کر سکتی ہوں۔۔
آپ آجائیں پلیز۔۔۔ میں آپ کے لئے اچھا سا لنچ تیار کروں گی۔۔۔ ہم بہت سا کوالٹی ٹائم گزاریں گے۔۔۔ میں نئ یادیں بنانا چاہتی ہوں۔۔۔ پرانی یادوں کو رپلیس کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
وہ تھکی تھکی سی میٹھی آواز میں رفتہ رفتہ امرت اسکی رگوں میں انڈیل رہی تھی۔۔۔۔
وہ پر نم آنکھوں سے اسکے لفظوں کی مٹھاس محسوس کرنے لگا۔۔۔۔
وہ لڑکی واقع کورا کاغذ تھی۔۔۔ جیسی اندر سے تھی ویسی ہی باہر سے تھی۔۔۔ جو بھی اسکے دل میں تھا۔۔۔ وہ بنا سینسر لگائے سب کہہ چکی تھی۔۔۔۔
وہ مسکرا دیا۔۔۔
اممم۔۔۔ تمہارا آئیڈیا برا نہیں ہے عائزل لیکن تھوڑا سا بورنگ ہے۔۔ وہ مسکراتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا۔۔
ہننن۔۔۔ مطلب۔۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔۔
مطلب یہ کہ تم اسکی بجائے یہ بھی کہہ سکتی تھی کے دائم مجھے اپنا فیورٹ کلر بتائیں۔۔۔ میں آپکی پسند کے مطابق اچھا سا تیار ہوتی ہوں پھر ہم کسی اچھی سی جگہ پر رومینٹک سا ڈنر کریں گے اور پھر اسکے بعد لانگگگگ ڈارئیو۔۔۔
یہ نئ یادیں بنانے کو زیادہ رومینٹک ساونڈ نہیں کرتا کیا۔۔
وہ مسکراہٹ دابے شریر ہوا۔۔۔
توبہ دائم۔۔۔۔ سیدھی سی بات کا کیا مطلب نکالا ہے آپ نے۔۔۔ اسکے رخسار تک تپتپا اٹھے تھے۔۔۔
جائیں میں نہیں کرتی آپ سے بات۔۔۔
دائم کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔۔ بلیک کلر کا ڈریس پہننا اور بال کھلے چھوڑنا۔۔۔ اچھا سا تیار ہونا۔۔۔ ڈرائیور کچھ دیر تک پہنچ جائے گا۔۔ وہ تمہیں میرے پاس چھوڑ دے گا پھر۔۔۔
لمحے میں اسکا فرمائشی پروگرام شروع ہوا تھا۔۔۔۔ جب وہ سرعت سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کر رہی۔۔۔ سب کیا سوچوں گے بھلا۔۔۔۔۔ وہ بوکھلا اٹھی۔۔۔
اور۔۔۔ اور مجھے کوئی نہیں آتا تیار ہونا ۔۔۔ اسکے تو ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے اتنا طویل فرمائشی پروگرام سن کر۔۔۔
فکر مت کرو یمنہ کو بولتا ہوں وہ تمہیں تیار کر دے گی۔۔۔ اور ماں کو میں خود بتا دوں گا۔۔۔ اور اب کوئی بحث نہیں۔۔ اپنی بات مکمل کر کے بنا اسکی سنے وہ فون بند کر چکا تھا جبکہ وہ ارے ارے ہی کہتی رہ گئ۔۔۔
اب جبکے وہ خود پیش قدمی کر رہی تھی تو ہاتھ بڑھا کر اسے تھامنا فرض تھا اس پر۔۔
وہ اپنی معصوم سی پرنسس کی اس پیش قدمی پر خوش تھا۔۔۔
******
آج ایمن کا ولیمہ تھا۔۔۔ فنگشن رات کا تھا اس لئے وہ فلحال ریلیکس تھی۔۔۔ ابھی ابھی گرینی اسکے پاس کافی وقت گزار کر گئ تھیں۔۔۔ وہ اسے بہو کے روپ میں پا کر خوش تھیں۔۔۔ بے تحاشہ خوش۔۔۔
وہ اس وقت ریڈ کلر کے نفیس سے سوٹ میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ گرینی کے کہنے پر ہلکا پھلکا میک آپ کر رکھا تھا اور سامنے گرینی کی نکالی جیولری پڑی تھی جسے وہ رفتہ رفتہ پہن رہی تھی۔۔۔
البتہ آنکھوں میں خفگی اور غصہ تھا۔۔۔
چھوٹے چھوٹے گولڈ کے ایئر رینگز پہننے کے بعد اسنے چین اٹھا کر گلے میں ڈالی اور گردن کے یچھے سے اسکا ہک بند کرنے لگی۔۔۔
جب دو مردانہ ہاتھ اسکی گردن پر آ رکے۔۔۔ اسنے نگاہیں اٹھاتے آئینے میں موجود عکس کو دیکھا۔۔۔ ضامن اسکے پیچھے کھڑا اسے چین پہنا رہا تھا۔۔۔ وہ سادہ سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا۔۔۔
اسے دیکھتے ایمن کی آنکھوں کی خفگی مزید بڑھی ۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اسکی جانب پلٹی اور خونخوار نگاہوں سے اسے تکنے لگی۔۔۔
ضامن نے آنکھ اچکاتے اسکے بگڑے تیوروں کا جائزہ لینا چاہا۔۔۔ وہ دراصل ۔۔۔
مسٹر ضامن۔۔۔ کل رات جو آپ نے میرے ساتھ کیا اگر وہ آپکی ڈکشنری میں پڑیکٹکل ہونا کہلاتا ہے تو معذرت کے کیساتھ مجھے ایسی پڑیکٹیکل لائف نہیں چاہیے۔۔۔۔
وہ غصے سے پھٹ پڑی تھی۔۔۔ جبکہ ضامن لبوں پر زبان پھیرتا اپنی صفائی میں بولنے کو الفاظ ڈھونڈتا ہی رہ گیا۔۔۔
شادی کے دوسرے ہی دن اس انداز میں جواب طلبی ہو جائے گی یہ تو اسنے سوچا تک نا تھا۔۔۔
دیکھو ایمن میری جاب۔۔۔
نام مت لیں اپنی جاب کا۔۔۔ کیا دنیا میں ایک واحد آپ ہی ہیں جو اس فیلڈ سے وابسطہ ہیں۔۔۔ یا پولیس انسپیکٹرز کی شادیاں نہیں ہوتی۔۔۔ وہ سراپا سوال تھی
لیکن میں نے آج تک کوئی اسقدر بے رحم انسپیکٹر نہیں دیکھا جو شادی کی پہلی رات اپنی بیوی کو تنہا چھوڑ کر ڈیوٹیاں نبھاتا پھرے۔۔۔
آپکو اندازہ بھی ہے کے صبح سے گرینی اور سب کے سامنے میں اپنے اس رشتے کا بھرم رکھنے کو کس قدر ہلقان ہوتی رہی ہوں۔۔۔
سوری مسٹر ضامن اسقدر ابنارمل زندگی مجھے نہیں جینی۔۔۔ نا ہی مجھے اسقدر ستی ساوتری بیوی بننا ہے کے میں زندگی کے ہر اہم موقع پر صابر و شاکر بیوی کا کردار نبہاتی اپنے شوہر کا انتظار ہی کرتی رہوں۔۔۔
آپ تو ایک انتہائی غیر ذمہ دار شخص ہیں اور آپکی بھول ہے کے میں آپکا یہ غیر مصنفانہ رویہ برداشت کروں گی۔۔۔
فیصلہ آج ہی ہو گا۔۔ اور ولیمے کے فنگشن کے بعد میں گرینی کو آپکی سبھی حرکتیں بتا دوں گی کہ آپ۔۔۔
ریلیکس۔۔۔ ریلیکس یار۔۔۔ سانس تو لو۔۔۔۔
وہ غصے سے پھولے منہ کے ساتھ جب بولنا شروع ہوئی تو پے در پے ساری بھراس نکالتی چلی گئ۔۔۔ جبکہ اب تو ضامن بھی اسکی سبھی باتیں سن اچھا خاصا شرمندہ ہو گیا تھا۔۔۔ رات ایک ایمرجنسی کال پر اسے فوراً ریڈ کے لئے نکلنا پڑا تھا۔۔۔ سبھی معاملات سمبھالتے ابھی اسکی واپسی ہوئی تھی۔۔۔ لیکن جان خلاصی یہاں بھی نہیں تھی۔۔۔
اسے بیوی بھی خاصی سخت ملی تھی۔۔۔
اسنے بامشکل اس بپھری شیرنی کو بازوں سے تھامتے بیڈ پر بیٹھایا اور بھاگ کر کمرے کا دروازہ لاک کیا کے مبادا انکی آوازیں باہر کسی مہمان کے کانوں میں نا پڑ جائے۔۔۔
دیکھو ایمن مجبوری۔۔۔
مجھے اپنی مجبوری کی دستانیں مت سنائیں انسپیکٹر ضامن۔۔۔ میں لوری زندگی آپکی مجبوریاں نہیں سن سکتی۔۔۔
وہ اپنی بے توقیری پر خاصی برہم تھی۔۔۔
جانتا ہوں میرا کل رات کا رویہ بالکل بھی قابل معافی نہیں۔۔ مجھے ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ دراصل اندازہ نہیں تھا مجھے کے صبح ہی صبح اتنی سخت کلاس لگ جائے گی۔۔۔ لیکن اب پکا وعدہ کرتا ہوں کے دوبارہ تم اس معاملے میں مجھے کہیں پر بھی روح گردانی کرتے نہیں پاو گئ۔۔۔ یار پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کردو۔۔۔ کیا کہیں گے لوگ شادی کے دوسرے دن ہی اس دلہا کی دلہن اس سے ناراض ہے۔۔۔ بس ایک بار اپنے شوہر کی ریپوٹیشن کا احساس کرتے اسے معاف کر دو پلیز۔۔۔
وہ اسکے سامنے دوزانو بیٹھا اپنے کان پکڑنے کی بجائے اسکے کان پکڑتا معذرت خواہاںہ انداز میں کہتا دلکشی سے گویا ہوا تو وہ کئ لمحے اسکی بیچاری صورت کو دیکھتے رہنے کے بعد کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
اوہ شکر۔۔۔ ضامن نے تشکرانہ سانس خارج کیا۔۔۔
میری منہ دکھائی دیں۔۔۔ وہ اٹھلا کر کہتی اسکے سامنے ہاتھ پھیلا گئ۔۔۔
اب یہ کیا۔۔۔ ضامن آنکھیں پھیلاتا معتجب ہوا۔۔۔
ایمن نے اسے زبردست گھوری سے نوازا۔۔۔۔
آںننن۔۔۔ نہیں۔۔۔ یاد آ گیا۔۔۔ خریدا ہے میں نے گفٹ۔۔۔ ابھی لاتا ہوں۔۔۔ اللہ معاف کرے لڑکی بہت خطرناک ہو تم تو۔۔۔ اب ایسے بھی شوہر کو کون گھورتا ہے۔۔۔ وہ اسکے خونخوار انداز کو دیکھتا دہائیاں دیتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ ایمن کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
******
عائزل دائم کے فلیٹ میں اس وقت کچن میں کھڑی اسکے لئے بریانی بنا رہی تھی۔۔۔
وہ پچھلے چند دنوں سے دائم کی ساتھ وہیں تھی۔۔۔ گزشتہ چند دن اسکی زندگی کے بہتریں دن تھے جو اسنے دائم کے سنگ جیئے تھے۔۔۔
چاہے جانے کا احساس کس قدر انمول ہوتا ہے یہ اسنے اب جانا تھا۔۔۔
دائم واقعی اسے کانچ کی گڑیا کی مانند ٹریٹ کرتا تھا۔۔۔ اور وہ بھی اسکا چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کر کے خوشی محسوس کرتی۔۔۔ دائم کے لئے اسکی پسند کے کھانے بنانا اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔۔۔
روز رات میں کھانے کے بعد آئسکریم کھانے جانا اور پھر اسلام آباد کی سڑکیں ناپتے ونڈو شاپنگ کرتے ڈھیروں ڈھیر باتیں کرنا انکی روٹین تھی۔۔۔ جس میں عائزل اس سے اپنے بچپن کی چھوٹی سے چھوٹی یاد شیئر کرتی اور وہ مسکرا کر اسے سنتا جاتا۔۔۔
اب بھی دائم کا فون آیا تھا کے وہ لنچ گھر پر کرے گا اس لئے وہ تب سے ہی لنچ کا اہتمام کرنے میں لگی تھی۔۔۔
بریانی بنا کر اسنے رائتہ تیار کیا جب اسے دروازہ کھلنے کے بعد قدموں کے ابھرنے کی چاپ سنائی دی تو وہ جلدی سے ہاتھ صاف کرتی کچن سے باہر نکلی۔۔۔
تب تک دائم کچن کے دروازے تک پہنچ چکا تھا۔۔۔
پرنسس۔۔۔ تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے۔۔۔ یقیناً تمہیں پسند آئے گا۔۔۔ وہ محبت سے اسکا گال سہلاتا گویا ہوا ۔۔۔
آنی۔۔۔۔ دفعتا آواز پر وہ چونک کر دائم کے پیچھے دیکھنے لگی۔۔۔
دروازے کے پاس اپنی ننھی گڑیا کو کھڑا دیکھ عائزل کی چیخیں نکل گئ۔۔۔
حورررر۔۔۔ میری گڑیا ۔۔۔ میری جان۔۔۔ وہ بے خود سی اسکی جانب لپکی اور اسے شدت سے خود میں بھینچتی بہتی آنکھوں سمیٹ چٹا چٹ اسکے چہرے کے بوسے لیٹی اسے محسوس کرنے لگی۔۔۔
دائم نم آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
کافی دیر بعد وہ خود کو کمپوز کرتی سیدھی ہوئی تو نظر خود سے کچھ فاصلے پر کھڑے داود اور اسکے ساتھ کھڑی ایک لڑکی سے ٹکرائی۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ داود کی جانب بڑھی۔۔۔۔
داود بھائی۔۔۔۔
کیسی ہو گڑیا۔۔۔ داود اسکے سر پر ہاتھ رکھتے نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
میں بے قصور تھی بھائی۔۔۔ میں نے۔۔
جانتا ہوں عائزل۔۔۔ اسی لئے تو تم سے معافی طلب کرنے آیا ہوں کے تم پر یقین نا کر کے جو گناہ میں نے کیا ہے تم خدا کے لئے اسکی معافی دے دو۔۔۔ ورنہ عفیفہ کبھی معاف نہیں کرے گی کے میں نے اسکی گڑیا کا خیال نہیں رکھا۔۔۔ داود نے اسکا سر تھپتھپاتے گلوگیر لہجے میں کہا تو وہ بہتی آنکھوں سے سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔
مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔
ان سے ملو یہ ہے میری وائف۔۔۔ مسز کنول داود۔۔۔
داود نے مسکرا کر اسکی توجہ کنول کی جانب مبذول کروائی تو عائزل خوشدلی سے اس سے ملی۔۔۔
عدت مکمل ہونے کے بعد پھوپھو کے کنول کو سمجھانے پر وہ اس معصوم گڑیا کے ساتھ کے لئے داود کا ہاتھ تھام گئ تھی جسنے اسکی ٹرپتی بلکتی ممتا کو سکون فراہم کیا تھا۔۔ یوں دو ادھورے لوگوں نے مل کر ایک دوسرے کی زندگی کو مکمل کر دیا تھا۔۔ اور داود جو عالیہ جیسی مکار لڑکی کے لئے اتنا بہترین ہمسفر ثابت ہوا تھا وہ کنول جیسی نرم دل لڑکی کے لئے کیسے نا اچھا شوہر ثابت ہوتا۔۔۔
وہ داود کی ہمراہی میں پرسکون تھی۔۔۔
اور آج عائزل کی زندگی سے آخری خلش بھی جاتی رہی تھی۔۔۔ اسکے شوہر کو اسکے اپنی گڑیا سے ملنے پر کوئی اعتراض نا تھا۔۔۔ اسنے داود یا اسکے رشتے کو کسی غلط نگاہ سے نا دیکھا تھا۔۔۔ وہ مطمیئں تھی۔۔۔
اس وقت وہ اپنے کمرے میں سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی دائری پر کچھ لکھتی دائم کی منتظر تھی جو ابھی آنے والا تھا۔۔۔
دنیا میں بہت سے آسیب ہوتے ہیں لیکن سب سے برا آسیب انسانی آسیب ہے۔۔۔ جو کبھی حسد کبھی کینہ اور کبھی جلن کی صورت جب کسی کو چمٹتا ہے تو اس کی ذات کی بنیادوں تک کو ہلا کر چھوڑتا ہے۔۔ لیکن ببول بیج کر کبھی پھول نہیں اگائے جا سکتے۔۔۔ آج تک برائی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔۔۔۔اللہ کبھی انسان کو اسکی سکت سے زیادہ نہیں آزماتا۔۔ جب سکت ختم ہونے لگے اور حوصلہ ٹوٹنے لگے تو وہ آزمائش ختم کر دیتا ہے لیکن اس کے لئے ایمان شرط ہے۔۔
جب تک زندگی کی سانس باقی ہے کوئی اچھا یا برا واقعی زندگی کا آخری واقعہ ثابت نہیں ہو سکتا۔۔۔ اتار چڑھاو زندگی کا حصہ ہیں۔۔ لیکن زندگی کو ماضی کے کسی تلخ واقع کی نظر کرنا اپنے ساتھ زیادتی ہے۔۔۔
اس لئے تلخ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا اور اللہ کی رضا کے لئے معاف کر کے دلی سکون حاصل کر کے ایک پرسکون زندگی گزارنا ہی اصل آرٹ ہے۔۔۔
عائزل نے تیزی سے قلم گھسیٹتے ڈائری پر اپنی پوری زندگی کا نچوڑ لکھا اور گہری سانس خارج کرتی ڈائری بند کر گئ۔۔۔
باہر سے دائم کی اسے پکارنے کی آوازیں سن کر اسکے چہرے پر ایک آسودہ سی مسکراہٹ ابھری اور وہ مسکراتے چہرے کے ساتھ باہر بڑھی۔۔۔
*******
ہال کچھا کچھح لوگوں سے بھرا تھا۔۔۔ سامنے سٹیج کی ایک طرف تینوں جج بیٹھے تھے جبکہ کمپئرر ہاتھ میں مائیک تھامے سٹیج کے وسط میں کھڑی تھی جسکے ایک طرف تینوں فائنل کنٹیسٹینٹ بے چین سے کھڑے فیصلے کے منتظر تھے۔۔۔
And the International photography 2023's winner is ....
وہ لڑکی پرتجسس انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہال میں پن ڈراپ سائیلنس تھا۔۔۔
Hamad Ali from Pakistan..
اس لڑکی کے جوش سے کہنے پر ہال تالیوں کی گونج سے گونج اٹھا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔۔ فرط جذبات سے حماد وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں تشکرانہ آنسو تھے۔۔۔۔
ججز بھی اپنی سیٹس سے اٹھتے انکے قریب آ چکے تھے۔۔۔
جذبات پر قابو پاتا وہ اٹھا تو تینوں ججز نے اسے گلے سے لگاتے اپریشیٹ کیا۔۔۔
میلوں دور اپنے ٹی وی سکرینز سے یہ لائیو شو دیکھتی ایمن بھائی کی اس کامیابی پر خوشی سے پاگل ہو رہی تھی۔۔۔
جبکہ اپنے لاوئنج میں چلتی ایل ای ڈی میں سب گھر والوں کی معیت میں یہ شو دیکھتی یمنہ کی آنکھوں میں بھی خوشی سے پانی جگمگانے لگا تھا۔۔۔
جہاں اب وہ ججز سے ٹرافی رسیو کرنے کے بعد مائیک تھامے بول رہا تھا۔۔۔
جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ بے بس ہوتا ہے۔۔۔ خاندان کا انتخاب کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔۔۔ زندگی میں بہت سے مقامات ایسے بھئ آتے ہیں جب مجھ جیسے کمزور انسان خودکشی کو گلے سے لگانا بہتر اور آسان سمجھتے ہیں۔۔۔
میرا تعلق ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے ہے۔۔۔ اس فیملی سے جہاں ماں کے علاج کے لئے بھی آپ کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔۔۔
آگر میں یہ کہوں کے میری ماں وقت پر پراپر علاج نا ہونے کے باعث اور دوائیوں کی قلت کے باعث اس دنیا سے چلی گئ تو بے جا نا ہوگا۔۔۔
بات کرتے اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔
اسنے بدقت خود پر قابو پاتے نم آنکھ کا کونا صاف کیا۔۔۔
دنیا کے سامنے آپنا آپ کھولنا آسان نا تھا۔۔۔
ہال میں مکمل خاموشی تھی۔۔۔ سبھی سانس تک روکے اسے سن رہے تھے۔۔۔
پھر میں نے جانا کے یہ سب زندگی کی فیزز ہیں۔۔۔ آزمائشیش۔۔۔ کہ ہم آزمائے جا سکیں کے ہم میں سے کون بہتر ہے۔۔۔ کون اللہ کی رضا کو سمجھتے اسکے آگے سیرنڈر کرتا ہے۔۔۔
پھر میں نے جانا کے زندگی تو نام ہی جہد مسلسل کا ہے۔۔۔
اگر کامیاب ہونا ہے تو کمفرٹ زون کو تو چھوڑنا ہی چھوڑنا ہے۔۔۔
نرم بستر پر بیٹھ کر دن کا بیشتر وقت آرام کر کے آپ کامیابی کے خواب تو دیکھ سکتے ہو مگر کامیاب نہیں ہو سکتے وہ مسکرایا۔۔۔
کامیابی کے لئے بھوک پیاس آرام سب نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔۔۔
میں نے کندھے پر کیمرا اٹھا کر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے سرکوں کی خاک چھانی ہے۔۔۔ گلی میں چلتے بچوں کو بھی روک روک کر انکی فری فوٹوگرافی کر کے اپنے ہنر کو نکھارا ہے۔۔۔ تب اس جنون میں بھوک پیاس کی خبر نہیں ہوتی تھی۔۔۔ رات کو جب بستر پر جاتا تھا تو دردیں ہوتی تھیں مگر تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔۔۔
اور آج میں یہاں انٹرنیشنل سٹیج پر کھڑا دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں کامیاب ہو سکتا ہوں نا تو دنیا کا کوئی بھی شخص۔۔۔ کامیاب ہو سکتا ہے۔۔۔
جوش سے اسکی آواز بلند ہونے لگی تھی۔۔۔
کیونکہ اس دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط انسان کا قوت ارادہ ہوتا ہے۔۔۔ ایک مضبوط قوت ارادہ کے ساتھ اپنے کمفرٹ زون کو چھوڑ کر اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے پہلی کوشیش کرنا ہی کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔۔۔
وہ بول رہا تھا اور ہال میں بنا رکے تالیاں بج رہی تھیں۔۔۔
اس ایشائی مرد کو کئ آنکھیں حسرت سے تک رہی تھیں۔۔۔
سپیچ ختم کر کے وہ سٹیج سے اترنے لگا جب وہی لڑکی مائیک میں گویا ہوئی۔۔۔
مسٹر حماد۔۔۔
وہ رک کر پلٹا۔۔۔
اتنی کامیابی کے بعد جب کے آپ ایک سٹار بن چکے ہیں تب اگر یہاں موجود کوئی لڑکی۔۔۔۔ وہ رکی اور مسکرا کر ارد گرد دیکھا۔۔۔۔ آپ پر دل ہارتے آپکو پرپوز کردے تو۔۔۔۔
ساتھ ہی ہال میں ہوٹنگ کی آوازیں ابھرنے لگی تھیں۔۔۔ وہ کھل کر مسکرا دیا۔۔۔
سوری میم۔۔۔ ایم میرڈ۔۔۔
کچھ خدا کا خوف کھائیں ۔۔۔ میں نے واپس بھی جانا ہے اور میری بیوی یہ شو دیکھ رہی ہو گئ۔۔۔ وہ دلکشی سے مسکراتا بات کو ہلکا پھلکا سا رخ دیتا کئ دل ڈھرکا گیا۔۔۔
ویسے بھی مشرقی مرد بہت باوفا ہوتے ہیں سو نو چانس۔۔۔
مسکرا کر کہتا وہ مضبوط قدم اٹھاتا شان سے سر اٹھائے ہزاروں کے مجمعے میں چلتا جا رہا تھا۔۔
میلوں دور بیٹھی یمنہ سب کے سامنے اپنی بے ساختہ ابھرتی مسکراہٹ کو دابتی سر جھکا گئ۔۔۔
بے شک وہ رب بہتر لے کر بہترین سے نوازتا ہے۔۔۔
******
ختم شدہ۔۔

No comments