Header Ads

Scheme novel 2nd Last Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


Scheme novel 2nd Last Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

سیکنڈ لاسٹ۔۔۔
اور کیا بات۔۔۔
آپ نے سال بھر پہلے اپنی سیکم ہوئی رقم کی رپورٹ لکھوائی تھی۔۔۔ دائم سنجیدہ سا گویا ہوا۔۔۔
جی لکھوائی تھی۔۔۔ وہ ہنوز اس بات کا مقصد سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔ بھلا یہاں اسکا کیا زکر۔۔۔
وہ کیس حل ہو گیا ہے اور متاثرین کو انکی رقم واپس کی جا رہی ہے۔۔۔ وہ اب پروفیشنل انداز میں اس سے مخاطب تھا۔۔۔
ایمن حیرت زدہ تھی۔۔۔ کیا بھلا یہ ممکن تھا۔۔۔ 
اتنی دیر بعد کیسے۔۔۔ وہ معتجب سی گویا ہوئی۔۔۔
آپکو وہ سکیمر یاد ہے۔۔۔ 
جی۔۔۔ وہ کہہ نا سکی کے وہ اسے اور اسکے دھوکے کو چاہ کر بھی بھول نہیں سکتی۔۔۔
پولیس مقابلے میں اسکی ڈیٹھ ہوگئ۔۔۔
کیاااا۔۔۔ ایمن پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔۔۔ نگاہوں کے سامنے اس ہستے مسکراتے چہرے کے یونیورسٹی میں گھومتے کئ مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔۔۔۔
جی۔۔۔ اور اسکی وائف نے بہت مدد کی ہے پولیس کی۔۔۔ سارا پچھلا ریکارڈ دیا ہے اسنے تا کے متاثرین تک انکی رقم پہنچائی جا سکے۔۔۔ اسکی ڈائری سے بھی آپکی رپورٹ والا نمبر برآمد ہوا جسکی وجہ سے یہ بات پختہ ہوگئ کے آپکے ساتھ ہوئے دونوں سکیم اسی نے کئے تھے۔۔۔ 
ایمن کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔ اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔ وہ شادی شدہ تھا۔۔۔
بیوی کے ہوتے ہوئے وہ افیئر چلا رہا تھا۔۔۔ اندر کچھ پھٹ پڑنے کو تیار پڑا تھا۔۔۔ وہ بہت مشکل سے اپنی کیفیت پر قابو پائے کھڑی تھی۔۔۔۔
اور تو اور اس مقابلے میں اسکا معصوم بیٹا ناحق مارا گیا۔۔۔۔ 
ایمن نے زرد پڑتا چہرا اٹھایا۔۔۔
اسکا بیٹا بھی تھا۔۔۔ لفظ بامشکل حلق سے برآمد ہوئے۔۔۔
جی۔۔۔
لیکن ابھی آپکے پاس آنے کا اور یہ بات کرنے کا مقصد کے وہ سکیمر برا تھا اسنے لوگوں کیساتھ بہت ناحق کیا۔۔۔ لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔ آپ شاید ایک ماں اور بیوی کا درد سمجھ سکیں جسنے بھری جوانی میں شوہر اور اولاد کا دکھ دیکھا ہو۔۔۔ اور اس بے بس بیوہ کی التجا ہے کے میں جس کسی کو بھی انکی رقم واپس کروں ان سے اسکی طرف سے ریان کے لئے معافی طلب کروں شاید ایسے ہی اسکے دل کو قرار آ جائے۔۔
تو میری آپ سے ریکویسٹ ہے مس ایمن کے ۔۔۔ وہ رکا۔۔۔ جیسے خود کو کمپوز کر رہا ہو۔۔۔
کے آپ اسے معاف کر دیں۔۔۔ کیونکہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا اور معاف کرنے والوں کو اللہ بھی پسند کرتا ہے۔۔۔۔
اسکی بیوی کی اپنے شوہر کے لئے اس چھوٹی سی کاوش کو کامیاب بنا دیں۔۔۔
شدت ضبط سے دو آنسو ایمن کی آنکھوں سے بہے۔۔۔ ناجانے کس کس محرومی پر۔۔۔ کیا کیا یاد نا آگیا تھا اس مختصر سے وقت میں۔۔۔ سکیم کے بعد یونیورسٹی کے گراونڈ میں بیٹھے خود کو ہوا میں معلق محسوس کرنا۔۔۔ وہ بے بسی۔۔۔ وہ کرب۔۔۔ ساری رات اذیت کے تحت جاگتے رہنا۔۔۔
حماد کا پاگل پن۔۔۔ ماں کی بیماری۔۔۔ ماں کی بے بسی اور آخر میں ماں کا بے جان چہرا۔۔۔
آنسو لڑیوں کی مانند آنکھوں سے بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔ کیا وہ شخص تھا معافی کے لائق۔۔۔
ضامن اسے دکھ سے دیکھتا رہا۔۔۔
آپکو پولیس اسٹیشن آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میں فارمیلیٹیز مکمل کرکے وہ رقم حماد کے ہینڈ اوور کر دوں گا۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔
ایمن نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔ زندہ لوگوں سے دشمنیاں ہوتی ہیں مردوں سے بھلا کیسا بیڑ۔۔۔
میں نے اس فریبی شخص کو اللہ کی رضا کے لئے معاف کیا انسپیکٹر ضامن۔۔۔ اللہ اسکی بیوی کو صبر دے۔۔۔
وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑتی وہاں سے نکلی۔۔۔
اچھا سنیں تو۔۔۔ وہ اتنے بوجھل ماحول کا بوجھل پن زائل کرنے کو گویا ہوا۔۔
وہ رک کر پلٹی۔۔۔ میرے پرپوزل کا تو جواب دیتی جائیں۔۔۔
وہ اس واقعہ کا اثر زائل کرنے کو شریر ہوا۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔
پرپوزل آپ نے حماد کو دیا نا۔۔۔ تو جواب بھی میں اسے دے دوں گی۔۔۔ کہہ کر کندھے اچکاتی وہ بھاگ کھڑی ہوئی جب ضامن مسکرا کر اس چھوٹی مگر حالات کی ستائی لڑکی کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔ جسنے حالات کے سامنے جھکنے یا نا ٹوٹنے کی قسم کھاتے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تھانی تھی۔۔۔
****
اسکی آنکھوں میں لغزش ہوئی اور اسنے بامشکل بھاری ہوتے سر کے ساتھ پلکوں کی چلمن کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔۔۔ پہلی نظر ہی سفید فین سیلنگ سے ٹکرائی۔۔۔ اردگرد مکھیوں کی بنبناہٹ کی مانند آوازیں ابھر رہی تھیں۔۔۔
کنول نے آنکھوں کی تلیاں سکیڑتے سر گھما کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ حالات سے مطابقت پیدا ہوتے ہی اسکی آنکھیں سرعت سے گیلی ہوئیں۔۔۔ یہ سرکاری ہسپتال کا وہی کمرا تھا جہاں وہ پچھلے کئ دنوں سے داخل تھی۔۔۔
اس روز گھر کا قبضہ دیتے وہ بے طرح چکرا کر گری تھی تب کوئی خدا ترس لوگ اسے یہاں ہسپتال ایڈمٹ کروا گئے تھے۔۔۔ تب سے اب تک اسنے سوئی جاگی کیفیت میں ہسپتال کے اس کمرے میں کئ مناظر دیکھے تھے۔۔۔ پورے دن میں ایک مرتبہ ڈاکٹر کا آکر چیک آپ کر جانا اور نرسوں کا ڈرپز بدل جانا۔۔۔ اسے اکیلا پا کر اسکے ساتھ کسی اور کی موجودگی نا پا ارد گرد کے پیشنٹ کے اٹینڈینٹ اسے بھی کچھ کھلا پلا دیتے۔۔۔
وہ بہت برے حالوں میں تھی۔۔۔ گویا جینے کی ہر امنگ مر گئ ہو۔۔ 
اب بھی وہ ہوش میں آنے کے بعد بستر پر نیم درز تھی۔۔۔ آنسو لڑیوں کی مانند آنکھوں سے پھسلتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔
ان گزشتہ چند دنوں میں اسے کیا کیا یاد نا آیا تھا۔۔۔ وہ ستم گر بھولے نا بھولتا تھا۔۔  بیٹے کی معصوم شرارتیں آنکھوں سے نیند تک نوچ لیجاتیں۔۔۔
وہ غائب دماغی سے وہاں لیٹی تھی جب مختلف رنگوں سے بنی موٹی سی بال اندر اسکے بیڈ کے پاس آ کر گری۔۔۔ وہ لاشعوری طور پر اس بال کو دیکھنے لگی۔۔۔
ایسی ہی بال حسن کے پاس بھی تھی اور وہ سارا دن اسے گھر کے کونے کونے میں پھینکتا اسکے پیچھے پیچھے بھاگتا۔۔۔
آنسوں میں مزید روانی آ گئ۔۔۔
دفعتا ایک چھوٹی بچی بالوں کی دو پونیاں بنائے بھاگتے ہوئے اس بال تک آئی۔۔۔ بچی نے جھک کر بال اٹھائی۔۔۔ اسکا چہرا جھکا ہوا تھا۔۔۔
وہ بال اٹھا کر سیدھی ہوئی تو اسکا چہرا واضح ہوا۔۔۔ کنول اسے دیکھتی چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔
حور۔۔۔ بے ساختہ اسکی زبان سے نکلا۔۔۔
حور بھی حیرت سے اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
آنی۔۔۔ حور کے ننھے سے ذہن نے بہت جلد شناخت کے مراحل طے کئے۔۔۔
کنول نے سرعت سے اسے اٹھاتے خود میں بھینچا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
حور بیٹا۔۔۔ دفعتا داود اسے ڈھونڈتا دھونڈتا وہاں تک آیا لیکن سامنے کا منظر دیکھ گویا وہیں فریز ہو گیا۔۔۔
وہ یہاں اپنے کسی دوست سے ملنے آیا تھا جب حور کی غیر موجودگی محسوس کرتا اسے ڈھونڈتا ڈھونڈتا وہاں تک پہنچا۔۔۔
بھابھی۔۔۔ اسکے قریب پہنچ کر وہ آہستگی سے گویا ہوا تو کنول چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
داود بھائی۔۔۔ بھائی دیکھیں میرے ساتھ کیا ہوگیا۔۔۔ آن۔۔۔ آن ۔۔۔ چلے گئے۔۔۔ میرا حسن۔۔۔
اتنی دیر بعد کسی شناسا کا چہرا دیکھ اسکا ضبط ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ اکیلے پن نے اسے متوحش کر دیا تھا۔۔۔۔
داود بونچکا سا اس کی یہ حالت دیکھ رہا تھا۔۔
بھائی میں چاہتی تھی سب ٹھیک ہو جائے۔۔  میں انہیں غلط سے روکنا چاہتی تھی۔۔۔ راہ راست پر لانا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن میں نے یہ تو کبھی بھی نا سوچا تھا۔۔۔ 
وہ بلک بلک گئ۔۔۔ داود سے اسکی حالت دیکھنا محال ہوا۔۔۔ کوئی شک نہیں کے اس بندی کی مدد کے بنا وہ عائزلُ کو کبھی بھی بے قصور ثابت نہیں کر سکتا تھا۔۔ ان بہن بھائی کی باتیں سن کر اسنے ہی اسے ٹوٹی پھوٹی ساری انفارمیشن دی تھی۔۔ مگر اب حالات اسے کس موڑ پر لے آئے تھے۔۔۔ وہ تو عالیہ کو گرفتار کروا کے گویا خود کو ہر معاملے سے الگ کر چکا تھا۔۔۔ مگر یہ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اسکے پاس بیٹھا اس سے اسکے گزشتہ دنوں کی سبھی روداد سن چکا تھا۔۔
اب آگے آپ نے کیا سوچا ہے ۔۔۔ آگے آپ کیا کریں گی مطلب کہاں جائیں گی۔۔۔
وہ سنجیدہ سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ بھائی۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔۔
کیا کروں کہاں جاوں۔۔۔ زندگی میں تو کچھ بچا ہی نہیں۔۔۔ تھک کر اسنے کرب سے آنکھیں موندی۔۔۔ داود کو حد درجہ تاسف نے گھیرا۔۔۔۔۔ 
شاید یہاں سے نکل کر کسی دارلآمان میں چلی جاوں۔۔۔ اب اور بچا ہی کیا میرے پاس۔۔۔ زندگی کی سانسیں بھی تو پوری کرنی ہیں۔۔۔۔ 
شکست خوردہ لہجہ داود کی ذات تک ہلا گیا۔۔۔
اچھا چلیں آئیں میں آپکو چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ وہ پریشان سا کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
کنول نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
میں یہاں ایڈمٹ ہوں۔۔۔ ڈسچارج۔۔۔
وہ سب چھوڑیں آپ۔۔۔ ابھی اٹھیں۔۔۔۔ ویسے بھی یہاں آپکو آرام نہیں آنا بلکہ ذہنی حالت مزید خراب ہی ہونی ہے۔۔۔ وہ سنجیدہ تھا۔۔۔
کنول کو سمجھ نا آیا ساتھ جائے یا نا۔۔۔
چلیں آنی ہمارے ساتھ۔۔۔۔ حور کے معصوم معصوم سے ہاتھ اپنے چہرے ہر محسوس کر کے اسنے حور کو شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔
وہ عالیہ کیساتھ کئ مرتبہ گھر آ چکی تھی۔۔۔ اور کنول کو تو شروع سے ہی بچے بہت پسند تھے حسن اور حور کے سنگ اسکا دن کیسے کٹتا پتہ ہی نا چلتا۔۔۔ جبکہ عالیہ تو خود اسے کنول کے حوالے کر کے بے فکر ہو جاتی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی داود کی کار میں اسکے ہمراہ سوار تھی۔۔۔
حور اسکی گود میں تھی جبکے اسکی ساکت آنکھیں دروازے کے شیشے کے پار بھاگتی دوڑتی زندگی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ انکا سفر کتنے وقت پر مشتمل تھا اسے کچھ خبر نا تھی۔۔۔
ہوش میں تو تب آئی جب گاڑی ایک جھٹکے سے جا کر رکی۔۔۔
اسنے حیرت زدہ نگاہوں سے اس اجنبی جگہ کو دیکھا۔۔۔۔
یہ ہم کہاں آئے ہیں۔۔۔ یہ تو کوئی دارالامان نہیں۔۔۔ اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔
میں آپکو کسی دارلامان لایا بھی نہیں۔۔۔ آپ باہر آئیں۔۔۔ وہ دراواۃ کھول کر باہر نکلا۔۔۔
نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ میں باہر نہیں آوں گی۔۔۔ آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں۔۔۔
وہ بپھری۔۔۔ غصہ حد سے سوا تھا۔۔۔
اسکے خدشات سمجھتے داود نے گہری سانس خارج کی۔۔۔
آپ مجھ پر اعتبار کر سکتی ہیں۔۔۔
دفعتاً پھوپھو دروازہ کھول کر باہر نکلتیں اس تک پہنچیں۔۔۔ جنہیں وہ پوری بات پہلے ہی راستے میں بتا چکا تھا۔۔
کنول نے ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھا۔۔
دیکھیں آپ۔۔۔ آپ یہاں سکون سے اپنی عدت پوری کر لیں ۔۔۔ پھر بعد میں آپ جیسا کہیں گی ویسا کر لیں گے۔۔۔ پھوپھو کے پاس آپکو کوئی پریشانی نہیں ہوگئ۔۔۔ وہ اسکی طرف کا دروازہ کھولے اسکی طرف دیکھتا رسانیت سے گویا ہوا۔۔
عدت۔۔۔ کنول ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔۔۔
شوہر کے مرنے کے بعد عدت بھی ہوتی ہے اور اسکی کچھ شرائط بھی۔۔۔ یکدم جیسے یہ باتیں اسکے دماغ میں آنے لگیں تھیں۔۔۔ ورنہ جو حالات تھے اسے تو اپنا خود کا ہوش تک نا تھاا۔۔۔
لمحوں میں اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔ اتنے دنوں بعد عدت۔۔۔ کیا یہ عدت ۔۔۔ عدت ہوتی۔۔۔ دل میں یکدم ہی کئ سوال اٹھے تھے۔۔۔ عدت ہوتی یا نا ہوتی۔۔۔ عدت کی مدت تو پوری کرنی ہی تھی۔۔۔ دل نے جیسے تاویل دی۔۔۔ اور پھر اسکی زندگی میں نارمل تھا ہی کیا۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں سے اس مہربان کو تکتی رہی۔۔۔
آو بیٹا۔۔ باہر آو۔۔۔ پھوپھو نے اسکی گود سے حور کو پکڑ کر داود کو پکڑایا اور اسے سہارے سے باہر نکالا۔۔۔۔
پھوپھو میں نے ڈاکٹر کو کال کر دی ہے۔۔۔ وہ آجائے تو انکا چیک آپ کروا دیں۔۔۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھتا پھوپھو سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
مطلب وہ اندر بھی نہیں آ رہا تھا۔۔۔
بھائی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرتا کنول بدقت گویا ہوئی ۔۔
جی ۔۔ 
حور کو چھوڑ جائیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ کچھ دنوں کے لئے۔۔۔ مم۔۔۔ میں ۔۔۔ اسکا بہت خیال رکھوں گی۔۔۔ سچ میں۔۔۔
اسکے لہجے میں اتنی حسرت تھی کے داود چاہ کر بھی انکار نا کر سکا۔۔۔۔
اسنے حور کی جانب دیکھتے اسے گود سے اتارا تو وہ بھاگتی ہوئی کنول کی جانب بڑھی۔۔۔ کنول نے بھی اسے یوں متاع حیات کی مانند خود میں سمیٹا کے وہ پھوپھو کے ساتھ ساتھ اسکی بھی آنکھیں نم کر گئ۔۔۔
*****
عائزل اس گھر میں آنے کے بعد اب پہلی دفعہ اس ستم گر کے کمرے میں موجود پھولوں سے سجی سیج پر بیٹھی تھی۔۔۔  اسنے گھبرائی نگاہیں اٹھا کر ارد گرد کا جائزہ لیا۔۔۔ پورا گھر ہی دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتا تھا مگر اسکا کمرا۔۔۔ یقیناً وہ اپنی ہر ہر چیز کے معاملے میں بہت چوزی تھا۔۔۔
یقینا وہ ایک گھر سے اٹھ کر محل میں آگئ تھی ۔۔ مگر اس شخص کی اتنی خاموشی اسے بری طرح کھلی تھی۔۔۔ کیا وہ سب بھلا چکا تھا۔۔۔ یا یہ سب طوفان کے آنے سے پہلی خاموشی تھی۔۔۔۔
اسکا دل بے طرح گھبرانے لگا تھا۔۔۔
کیا اسے اس سیج پر بیٹھ کر اسکا انتظار کرنا چاہیے۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں یہ شادی کوئی عام شادی تھوڑی تھی جو وہ روائتی دلہنوں کی طرح اس وقت بیٹھی اپنے شوہر کی منتظر ہوتی۔۔۔
گھبراہٹ حد سے سوا تھی۔۔۔ وہ تھوک نگلتی سرعت سے بستر سے اتری۔۔۔
مہندی رچے پاوں دبیز کارپٹ پر رکھتے اس نے اپنا بھاری بھرکم لہنگا سمبھالتے کھڑا ہونا چاہا تو ہاتھوں میں پہنی چوریوں کی حرکت سے ایک خوبصورت جھنکار بج اٹھی۔۔۔
وہ ننگے پاوں اس مخملی کارپٹ پر پاوں رکھتی ڈریسنگ تک آئی۔۔۔ اسکی اپنی ہی نگاہ خود پر پڑی تو گویا پلٹنا بھول گئ۔۔۔ 
گہرا سانس خارج کرتے اسنے ابھی اپنی چوڑیوں سے سجی کلائی پر ہاتھ رکھتے اسے اتارنا ہی چاہا تھا جب دروازہ چڑرر کی آواز کے ساتھ کھلا اور وہ مضبوط قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا۔۔۔۔ 
عائزل کا دل گویا خوف سے ڈھرکنا بھول گیا وہ بوکھلا کر اسکی جانب گھومی چوریوں کے ایک دوسرے میں بجنے سے خاموش فضا میں ارتعاش پیدا ہوا۔۔۔
وہ دو قدم مزید اسکی جانب بڑھتا اسکے مقابل آیا۔۔۔
وہ بے خودی کے عالم میں یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا وہ اسکے نام پر پور پور سجی سرخ چہرا جھکائے ہاتھ بے طرح مسل رہی تھی۔۔
ارے تم تو میرے استقبال میں دروازے پر ہی کھڑی ہو۔۔۔ پر تمہارا یہ انداز بھی اچھا ہے۔۔ وہ اسکی کیفیت سے باخوبی آگاہ ہوتا نرمی سے اسکا چہرا تھپتھپا کر گویا ہوا    عائزل نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جبکہ وہ اسکی حیران کن نگاہوں کی تاب نا لاتا صوفے کی جانب بڑھا اور ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھتا سر پشت سے ٹکا گیا۔۔۔
عائزل سے وہاں کھڑا رہنا محال ہوا۔۔۔ 
عائزل اپنی سبھی ہمت مجتمع کرتی اسکی جانب بڑھی اور ہاتھ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔۔۔
یہ آپ رکھ لیں۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4