Scheme novel 42nd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 42nd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
بیالیسویں قسط۔۔۔
مگر پھر جب تم اس روز اسکے نکاح سے پہلے یہاں پہنچے۔۔۔
وہ بول رہی تھی جبکہ دائم کا خون کھول رہا تھا کے اسے تہس نہس کر کے رکھ دے۔۔
تب مجھے بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔ میں یہ سب تو کبھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ مجھے یقین کرنے میں تامل تھا کے کوئی شخص مجھے یوں ٹریس کر کے بالکل میری لوکیشن پر بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔
عائزل کے ساتھ اس روز جو بھی ہوا وہ میرے رونکھںٹے کھڑے کر رہا تھا۔۔۔ وہ معصوم بے گناہ تھی۔۔۔ وہ تو کچھ جانتی تک نا تھی۔۔۔ لیکن میں اس روز چاہ کر بھی اسکے لئے کچھ کر نا سکی۔۔۔ کیونکہ اگر اسے بچاتی تو خود بری طرح پھستی۔۔۔ اور پھر مصیبت میں ہر انسان کی پہلی ترجیح اسکی اپنی ذات ہی ہوتی ہے نا۔۔۔
میں نے بھی بے بسی سے سب حالات کے ڈھارے چھوڑ دیا۔۔۔
دائم نے اس لڑکی کی سفاکیت پر شدت ضبط سے مٹھی مینچی۔۔۔
وہ آواز عائزل کی تھی ۔۔۔ جو مجھ سے بات کرتی تھی۔۔۔ میں اس آواز کو لاکھوں میں پہچان سکتا ہوں۔۔۔ وہ ضبط کی انتہاوں کو چھو رہا تھا۔۔۔
بھیا کے پاس سبھی سافٹ ویئرز تھے جس سے کسی کی بھی آواز کاپی کی جا سکتی تھی۔۔۔ میں نے عائزل کی آواز کا چینجر لگایا تھا۔۔۔
میرا پلان اتنا پڑفیکٹ ہوتا ہے کے شاید ہی اس میں کوئی جھول ہو۔۔۔ میں ہنوز سمجھنے سے قاصر ہوں کے جھول کہاں رہا۔۔۔ پشیمانی کے ساتھ وہ الجھی ہوئی تھئ۔۔۔
جب اللہ کچھ پلان کر لیتا ہے نا محترمہ۔۔۔ دائم نے شدت ضبط سے سرخ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
تب انسان کی پلانینگ دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔۔۔
اور اس لڑکی نے مدد کے لئے اللہ کو پکارا تھا۔۔ جھول تو اسنے خودبخود دیکھانے ہی تھے۔۔۔۔
دیر لگی مجھے سمجھنے میں لیکن بات دماغ میں سپارک کرنے لگی کہ ویڈیو کالز میں ہمیشہ بیک کیمرا استعمال ہوتا تھا۔۔۔ عائزل ہمیشہ کسی نا کسی کام میں مشغول ہی بات کرتی تھی ۔۔۔ دراصل جسے میں اسکی شرم و جھجھک سمجھتا رہا وہ۔۔۔ اسنے دقت سے سانس خارج کی۔۔۔ وہ ٹریپ تھا۔۔۔
آمنے سامنے تو ہماری بات بہت کم ہوتی تھی۔۔۔ صرف سلام دعا کی حد تک۔۔۔ اور جب۔۔۔ وہ رکا۔۔۔
جب اس چیز پر بھی زور دیا تو پتہ چلا وہ دعا سلام بھی کم و بیش ایک ہی طرح کی ہوتی۔۔۔
جسے بار بار ہر کال کی ابتدا میں استعمال کیا جاتا۔۔۔
واقعی مس عالیہ۔۔۔ آپکا کوئی جواب نہیں۔۔۔ لاجواب۔۔ وہ تمسخرانہ ہسا اور تالی بجا کر داد دیتا گویا ہوا۔۔۔
واقعی تمہارا پلان زبردست تھا۔۔۔ جس میں بظاہر کوئی جھول نہیں۔۔۔
اگر اللہ وہ سبیل نا بناتا تو میں کبھی اس چیز پر یقین نا کرتا کے عائزل بے گناہ ہے۔۔۔
وہ شرر بار نگاہوں سے عالیہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
مجھ سے شادی کیوں کی۔۔۔ اس سے پہلے کے لیڈی کانسٹیبل اسکی جانب بڑھتی داود کی شکست خوردہ آواز ابھری۔۔۔
وہ تڑپ کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
سب جھوٹ تھا دکھاوا تھا داود مگر ہمارا رشتہ سچا ہے۔۔۔ میں نے کبھی آپکو اس حوالے سے نہیں سوچا تھا۔۔۔ مگر جب بوا نے عائزل کے جانے کے بعد مجھ سے اس شادی کے بارے میں پوچھا تو میں چاہ کر بھی انکار نہیں کر پائی۔۔۔ کر سکتی ہی نہیں تھی۔۔۔ آپ جیسا شخص کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہو سکتا ہے۔۔۔ اسقدر پولائٹ۔۔۔ عزت کرنے والا۔۔۔
میں نے دل سے اس رشتے کو قبول کیا۔۔۔ اور آج مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کے آپ کے سنگ ازواجی زندگی کے پچھلے تین مہینے میری زندگی کا سب سے بہترین وقت تھا۔۔۔
وہ بھل بھل بہتی آنکھوں سے داود کو دیکھتی بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
دائم نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ وہ کسی کی ذات کو انگاروں کی بٹی کے سپرد کئے کتنے ڈھرلے سے کہہ رہی تھی کے پچھلے تین مہینے اسکی زندگی کے بہترین دن تھے۔۔۔
تم ایک بے حس لڑکی ہو محترمہ۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے تمہاری حرکتوں کی باعث پچھلے تین مہینے کسی معصوم نے کس کرب میں گزاریں۔۔۔۔
دائم خود کو کمپوز کرنے میں بے طرح ناکام ہو رہا تھا۔۔۔
کیوں بنائی تم نے اسکی زندگی پر اذیت۔۔۔
کیا محبت کے دعوے دار ایسے ہوتے ہیں۔۔۔ کیا وہ تم نہیں جو اس سے بے انتہا بے حد و حساب محبت کے دعوے کرتا تھا۔۔۔
کہاں گی وہ محبت۔۔۔ کیا اتنا ہی دم خم تھا اس محبت میں۔۔۔ وہ چٹختی ہوئی اسکی جانب پلٹی ۔۔۔ دائم کی آنکھوں میں خون اترا۔۔۔۔
چار لاکھ محبت پر حاوی۔۔۔اس سے پہلے کے وہ بات مکمل کرتی
تم گھٹیا لڑکی۔۔۔ وہ ضبط کھوتا جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھا جب ضامن نے پھرتی سے اسے جھکڑتے کسی انتہائی قدم سے روکا۔۔۔
وہ جبھرے بھینچے خونخوار ہوا ضامن سے اپنا آپ چھروا رہا تھا۔۔۔
اسکی جرات کے وہ اتنے بڑے دھوکے کے بعد بھی اسکی محبت پر انگلیاں اٹھا رہی تھی۔۔۔
وہ اسکی جنون خیزی سے خوفزدہ ہوتی داود کے پاس بھاگی۔۔۔۔
دد۔۔۔ داود دیکھیں اس شخص کو۔۔۔ داود آپکی عزت ہوں میں ۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔۔
مانا کے مجھے سے غلطی ہوئی ہے مگر میں پشیمان ہوں۔۔۔ پلیز روکیں اس شخص کو۔۔۔ وہ بری طرح گھبرائی داود کو مدد کے لئے پکار رہی تھی۔۔۔
تمہاری پشیمانی کسی کی شب و روز کی اذیت کا مداودا نہیں کر سکتی ۔۔ اور خوب جانتا ہوں تمہاری اس دوغلی پشیمانی کو جو انجام کو دیکھتے عود کر آئی ہے۔۔۔ دائم آپے سے باہر ہوتا ضامن کے مضبوط حلقے میں پھڑپھڑایا۔۔۔
دد۔۔۔ دیکھو مسٹر دائم۔۔۔ سب کلیر ہو گیا نا۔۔۔ سب ایک غلط فہمی تھی۔۔۔ تم تو عائزل سے محبت کرتے ہو نا ۔۔۔ تو سکون سے اسکے ساتھ نئ زندگی کی شروعات کرو مجھے بھی جینے دو۔۔۔ وہ بے طرح روتی چٹخی۔۔۔ واقعی وہ اس شخص سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔۔۔
دائم نے کینہ توز نگاہوں سے اسے دیکھتے پاس پڑے میز کو زوردار ٹانگ رسید کی۔۔۔
ضامن کے اشارے پر لیڈی کانسٹیبل اسے ہتھکڑی پہنانے لگی تو وہ بوکھلا کر اب تک خاموش کھڑے داود کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
دد۔۔۔داود۔۔۔۔۔ لفظ بری طرح ٹوٹے۔۔۔ وحشت حد سے سوا تھی۔۔۔
تم نے ٹھیک کہا عالیہ۔۔ میں پولائیٹ بھی ہوں اور لڑکیوں کی عزت کرنے والا اور اپنی عزت کو ہتھیلی کا چھالہ بنانے والا بھی۔۔۔ وہ سرخ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھتا شکست خوردہ سا گویا ہوا۔۔۔ لیکن ۔۔۔ اسنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے آنکھ کے کونے دابے۔۔۔ لیکن میں بے غیرت نہیں۔۔۔
نامحرموں سے رسم و روابط کو مشغلہ سمجھنے والی عورت میری ہمسفر نہیں ہو سکتی۔۔۔ اسکے لہجے میں اذیت تھی ایک کاٹ تھی۔۔۔
عالیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ کسی انہونی کا خدشہ شدت سے دل میں سر ابھارنے لگا تھا۔۔۔
اپنی بیٹی کی تربیت کے لئے ایسی عورت کبھی بھی میرا انتخاب نہیں ہوسکتی۔۔۔ مجھ جیسے مرد کے ُلئے شریک حیات کے حوالے سے وفا اور کرداد پہلی ترجیح ہے اور معذرت کیساتھ تم ان دونوں سے بے بہرہ ہو۔۔۔
نہیں داود ۔۔۔ ایسا مت کہیں۔۔۔ مم۔۔۔ میں۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے بکھرے لفظ اکھٹے کرنے چاہے۔۔ وقت نے کیسے پلٹا کھایا تھا۔۔۔ وہ یہ کس مقام پر آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
یہ رہا تمہاری آزادی کا پروانہ۔۔۔ میں آج صبح ہی سائن کر چکا ہوں۔۔۔ میرا تمہارا ساتھ اتنا ہی تھا۔۔۔ اور مجھے ان تین ماہ کی رفاقت پر افسوس ہے جو میری بے خبری کی نظر ہوا۔۔۔ ورنہ یقین ماننا مجھ جیسے شخص کا انتخاب تم جیسی عورت کبھی نہیں ہو سکتی۔۔۔ وہ ہمیشہ میٹھا بولا تھا مگر آج اسکے لہجے کی کاٹ عالیہ کی رگیں کاٹ رہی تھی۔۔۔ آج اسکے الفاظ سفاکیت سے بھرپور تھے۔۔۔ فائل اسکے سامنے صوفے پر پھینکتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھر کر اندر چلا گیا۔۔۔
جبکہ عالیہ تو یوں تھی گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔
وہ جو خود کو طرم خان سمجھتی تھی بہت ذہین دماغ کبھی نا ہارنے والی۔۔۔ آج وہ کس برے انداز میں اسے تماچا مارتا شکست کے احساس سے روشناس کروا گیا تھا۔۔۔
کیا کہا تھا اسنے اس جیسی لڑکی۔۔۔ کرادر ۔۔۔ وفا۔۔۔ انتخاب۔۔۔ اسکا دماغ مفلوج ہو رہا تھا۔۔۔ ذہن میں یہ ہی الفاظ گردش کر رہے تھے۔۔۔
لیڈی کانسٹیبل اسے گھسیٹتے ہوئے لیجا رہی تھی۔۔۔
اپارٹمنٹ کے باہر اندر ہوئے شور شرابے اور پولیس اہلکاروں کے باعث ایک مجمع لگ چکا تھا۔۔۔۔
شاید تین ماہ پہلے کا وقت پھر سے دہرایا جا رہا تھا۔۔۔ شرمندگی و خفت سے اس سے سر اٹھانا محال تھا۔۔۔
مجھے ان تین ماہ کی رفاقت پر افسوس ہے جو میری بے خبری کی نظر ہوئے۔۔۔ ورنہ یقین ماننا مجھ جیسے شخص کا انتخاب تم جیسی عورت کبھی نہیں ہو سکتی۔۔۔ تماچے ہی تماچے تھے جو بارہا اسکی روح کو گھائل کر رہے تھے۔۔۔۔
******
بینکویٹ ہال میں اس وقت گہما گہمی تھی۔۔۔ بارات کا فنگشن بہت بڑے پیمانے پر ارینج کیا گیا تھا۔۔۔ سرخ رنگ کے عروسی جوڑے میں ملبوس عائزل روائتی انداز میں دلہن بنی آسمان سے اتری کوئی پری ہی لگ رہی تھی۔۔۔ ہمیشہ سادہ سی رہنے والی عائزل پر دلہناپے کا ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ ہال میں پہنچی تھی۔۔۔ برائیڈل روم کے ادھ کھلے دروازے سے یہاں وہاں موجود لوگوں کو دیکھتے اب اسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔ دل بے طرح گھبرانے لگا تھا۔۔۔
ہال مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ ایک جدی پشتی نامی گرامی صنتعکار کے پوتے کی شادی کے فنگشن میں کم و بیش ملک کی تمام نامور شخصیات مدعو تھیں۔۔۔ وہاں رنگ و بو کا سیلاب امڈا پڑا تھا وہ الگ بات کے اپنی روائتوں کے پیش نظر فنگش کمبائن نہیں تھا۔۔۔ ہال میں سوائے اپنے خاص الخاص مردوں کے اجنبی مرد کوئی نا تھے۔۔۔۔۔ مردوں کا انتظام الگ سے کیا گیا تھا۔۔۔
لیکن اس سب کے باوجود بارات کا کہیں دور دور تک نام و نشان نا تھا۔۔۔
نا ہی اس شخص سے کسی کا کوئی رابطہ ہوا تھا۔۔۔ اسکا دل بے طرح گھبرا رہا تھا۔۔۔
اگر وہ نا آیا تو۔۔۔۔ آنکھیں سرعت سے بھر آئیں تھیں۔۔۔ اسنے کہنیوں تک سجے مہندی سے رنگے اپنے مومی ہاتھوں کو تکا۔۔۔ ایک آنسو چھلک کر شفاف ہتھیلی کی زینت بنا۔۔۔
کاش۔۔۔ اے کاش۔۔۔ وہ آ جائے۔۔۔۔ آج اس بھری محفل میں اسکا تماشا نا بنائے۔۔۔
دل سے ہوک نکلی تھی ساتھ ہی دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔ آنکھوں میں بے یقینی پھیل گئ۔۔۔
باہر سے کانوں کو پھاڑتی بینڈ باجوں کی آوازیں ابھریں تھیں۔۔۔
بارات آگئ۔۔۔ بارات آگئ۔۔۔ ہال میں ایک ہل چل سی مچی اور کئ لڑکیاں ہاتھوں میں پھولوں کے تھال تھامے باہر کی جانب بھاگیں۔۔۔۔
ایک تھکن زدہ سی مسکراہٹ اسکے اداس سوگوار چہرے پر پھیلی۔۔۔
سینے سے ایک آسودہ پرسکون سانس خارج ہوئی۔۔۔ رفتہ رفتہ دل کی ڈھرکنیں جیسے معمول پر آ رہی تھیں۔۔۔۔
بینڈ باجوں کا کانوں کو پھارتا شور اندر کہیں سکون پہنچا رہا تھا۔۔۔
وہ آگیا تھا۔۔۔ اور پوری شان سے آیا تھا۔۔۔ اس بار بڑے مجمعے میں اس کی ذات تماشا نہیں بنا تھا۔۔۔
وہ نڈہال سی آنکھیں مونڈے گہرے گہرے سانا بھرنے لگی۔۔۔ اندرونی توڑ پور اور ٹینش نے اسے ادھ موا کر چھوڑا تھا۔۔۔ اب رفتہ رفتہ طبیعت نارمل ہونے لگی تھی۔۔۔
اسنے برائیڈل روم کے ادھ کھلے دروازے سے ایک نظر ہال میں داخل ہوتے اس مغرور شہزادے کو دیکھا جو بابا دادا اور کئ ایک دوسرے لوگوں کے جھرمت میں مسکراتا ہوا اندر داخل ہو رہا تھا۔۔۔
بلیک اور گولڈن کلر کی شیروانی میں وہ واقعی کسی ریاست کا شہزادہ ہی معلوم ہو رہا تھا۔۔۔
فوٹو گرافر صاحب کچھ دیر کے لئے اپنا یہ کیمرا ہمارے حوالے کر دیں تاکے ہم آپکی زندگی کے کچھ انمول پل کیمرے کی آنکھ میں نظر بند کر سکیں۔۔۔
دائم شوخ سے لہجے میں ہر ہر لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کرتے حماد سے گویا ہوا۔۔۔
دائم سے پہلے حماد اور یمنہ کے نکاح کی تقریب طے پائی تھی۔۔۔
یمنہ کو بھی برائیڈل روم میں عائُزل کے ہمراہ بیٹھایا گیا پہلے حماد اور یمنہ کے نکاح کا فریضہ سر انجام دیا گیا اور پھر عائزل اور دائم کا تجدید نکاح ہوا۔۔۔
ایک مرتبہ پھر سے نکاح نامے پر سائن کرتے عائزل پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
نکاح کے بعد عائزل کو باہر ہال میں لیجایا گیا۔۔۔۔
دائم جو ضامن کیساتھ کسی بات میں مشغول تھا سامنے سے شیرین اور یمنہ کے سہارے سہج سہج کر قدم اٹھا کر اسکی طرف آتی عائزل پر جو اسکی نگاہ پڑی تو بےساختہ وہیں ٹھٹھک کر رکی۔۔۔۔
اسقدر مکمل اور سوگوار حسن۔۔۔ وہ مبہوت رہ گیا۔۔۔ گویا نگاہوں نے پلٹنے سے انکار کر رہا ہو۔۔۔
اس وقت وہ ہال میں کتنی نگاہوں کے حصار میں ہے گویا وہ سب فراموش کر بیٹھا۔۔۔
آہم۔۔۔آہم۔۔۔۔ دفعتاً ضامن نے گلہ کنگارتے اسے ماحول کا احساس دلانا چاہا تو وہ چونک کر گہری سانس خارج کرتا آنکھوں کا ارتکاز بدل گیا۔۔۔
بڑی زیادتی کر دی میں نے یار۔۔۔ وہ بشکل آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے گویا ہوا۔۔۔۔
اتنا لمبا چوڑا مضبوط مرد یہاں زندگی کے اس مقام پر آ کر بےبس ہو گیا تھا۔۔۔
فکر مت کرو۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ انشااللہ۔۔۔ ضامن نے اسکا کندھا تھپتھپاتے اسے حوصلہ دیا اور سٹیج سے اتر گیا۔۔۔
سٹیج کے قریب آنے پر دائم بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھا اور بے خودی میں عائزل کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔۔
ہال میں یکدم ہی ہوٹنگ ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکا اپنی جانب بڑھا ہاتھ دیکھ عائزل گھبرا کر اسکا ہاتھ دیکھنے لگی۔۔۔ ہاتھ سے آگے تک کا سفر کرنی کی نگاہیں ہمت نہیں رکھتی تھی۔۔۔
وقت اور موقع کی مناسبت کا احساس کرتے اسنے بامشکل اپنا کپکپاتا مومی ہاتھ دائم کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔
اس مومی گڑیا کا یخ بستہ ہوتا ہاتھ اور ہاتھ کی لغزش باآسانی اسکی اندرونی کیفیت کا بھید کھول رہی تھی۔۔۔
وہ اس سے خوفزدہ تھی۔۔۔ دائم نے اسکا ہاتھ تھامے اسے سٹیج پر چڑھنے میں مدد دی اور اسکے سٹیج پر آتے ہی اسکی کیفیت کے پیش نظر اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
******
سٹیج پر رسمیں ہو رہی تھیں۔۔۔ ایسے میں ایمن کافی دیر وہیں کھڑی سب انجوائے کرتی رہی پھر مسکراتی ہوئی ہال کے پرسکون گوشے کی جانب آ گئ۔۔۔
مس ایمن۔۔۔ ابھی اسے یہاں آئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اپنے نام کی آواز پر وہ بے ساختہ پلٹی۔۔۔
سامنے بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس ضامن کھڑا تھا۔۔۔۔ ۔کیسی ہیں آپ۔۔۔ ایمن کے پلٹنے پر وہ مسکرایا۔۔۔
فائن۔۔۔ یک لفظی جواب دیتی وہ سینے پر ہاتھ باندھے سٹیج کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔ جہاں اب شیرین پارٹی بدلے دودھ پلائی کی رسم کر رہی تھی۔۔۔ وہ سٹیج سے کافی دور تھے اس لئے وہاں کے ہنگاموں کی آواز یہاں کم کم ہی آ رہی تھی۔۔۔
کیا ہم کچھ دیر بات کر سکتے ہیں۔۔۔ وہ دو قدم آگے بڑھ کر اسکے ہمقدم ہو کر کھڑا ہوا البتہ نگاہیں اسکی بھی سٹیج کی جانب ہی مرکوز تھیں۔۔۔
آپ نے حماد کو میرا پرپوزل کیوں دیا۔۔۔ وہ ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈال کر واپس سٹیج کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔ گویا جانتی ہو کے وہ اس بارے میں ہی بات کرے گا۔۔۔
ضامن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے چھب دکھلائی۔۔۔
غالباً شریف گھرانوں میں لڑکیوں کے سرپرست سے ہی اس بارے میں بات کی جاتی ہے نا۔۔۔ لیکن آگر آپکو کوئی پرابلم ہے تو کوئی مسلہ نہیں میں آپ سے بھی۔۔۔
انف انسپکٹر ضامن۔۔۔
وہ ناجانے اسکی بات کو کس انداز میں لے کر کیا سمجھا تھا جب وہ بوکھلاتے ہوئے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ میں آپکی اٹینشن کی بات کر رہی تھی۔۔ کے کس سوچ کے تحت آپ نے حماد سے پرپوزل کی بات کی۔۔۔ وہ سرعت سے خود کو کمپوز کرتی گویا ہوئی ۔۔ مطلب۔۔ وہ اپنی بات سمجھا پانے میں ناکام ہو رہی تھی۔۔۔
مطلب میرا نہیں خیال کے آپکو لڑکیوں کی کمی ہوگئ۔۔۔
اور کمی تو آپ میں بھی کوئی نہیں۔۔۔۔ وہ اب کچھ کچھ اسکی بات سمجھتا سرعت سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
آپ شاید سٹیٹس ڈفرنس کو لے کر کانشیئس ہو رہی ہیں۔۔۔ وہ سمجھ کر گویا ہوا۔۔۔
ایمن خاموش ہی رہی۔۔۔ اس راہ کی مسافر بن کر ایک مرتبہ دھوکہ کھا چکی تھی دوبارہ اس راہ کی راہی بننے میں اسے تامل تھا۔۔۔ وہ اپنے خدشات اسے کہہ نا پائی۔۔۔ آج کی دنیا میں کوئی بےغرض ہوکر آپکی چاہ کرے یہ ماننا عبث تھا۔۔۔ دنیا بہت ظالم تھی اور وہ دوبارہ اس دنیا کے ظلم کا نشانہ نہیں بننا چاہتی تھی۔۔۔
سب کچھ اپنے اندر ہی دفن کئے وہ جلتی نگاہوں سے اسے نظر انداز کئے سٹیج کی جانب دیکھتی رہی۔۔۔
کہہ سکتے ہیں آپ۔۔۔ وہ بدقت گویا ہوتی اسکی بات پر مہر ثبت کر گئ۔۔
آپ جیسی بااعتماد لڑکی بھی ایسے کمپلیکسز پال سکتی ہے مجھے یقین کرنے میں تامل ہے۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔۔۔
جس قدر یہ دنیا ناقابل اعتبار ہے نا مسٹر ضامن تو ایسے کمپلیکسز پال لینے چاہیے۔۔۔ ایسے کمپلیکسز آپکو بہت سے نقصانات سے بچا لیتے ہیں۔۔۔
ہمم ۔۔۔ بات میں وزن تو ہے۔۔۔ لیکن کچھ مسنگ ہے۔۔۔ اسنے پراسرار انداز میں کہتے ایمن کی جانب دیکھا۔۔۔
وہ الجھی۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب متوجہ تھے۔۔۔
نقصان پہنچانے اور فائدہ اٹھانے والے لوگ باعزت طریقہ نہیں اپناتے۔۔۔ وہ سنجیدہ تھا۔۔۔
ایمن کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ وہ یک ٹک سی اسے دیکھتی رہی۔۔۔
میں پڑیکٹیل سا بندہ ہوں مس ایمن۔۔۔ پیار محبت میں چاند تارے توڑ لانے کے دعوے جیسا کچھ ایسے دعوے میں نہیں کر سکتا۔۔۔
زندگی گزارنے کے لئے ایک ہمسفر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ فطری ہے۔۔۔ لیکن اگر وہ ہمسفر ہم مزاج اور آپ کو سمجھنے والا ہو تو اس ہمسفر کی معیت میں زندگی پرسکون کٹتی ہے۔۔۔ زںدگی کا مشکل سے مشکل فیز ایک دوسرے کی سنگت میں ہمت و حوصلے سے کٹ جاتا ہے۔۔۔ اور زندگی کی خوشیاں ایک دوسرے کے سنگ ڈبل ہو جاتی ہیں۔۔۔
آپ ایک اچھی لڑکی ہیں۔۔۔ سلیقہ شعار وضع دار۔۔۔ زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ۔۔ عزت پر کمپرومائز نا کرنے والی رشتوں کا مان رکھنے والی اور بڑوں کا حترام کرنے والی۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر گرینی کی فیورٹ۔۔۔ تو شریک حیات کے انتخاب کے لئے ایسی لڑکی میرے خیال سے بہتر ہے۔۔۔ جس کی معیت میں زندگی کا سفر خوشگوار رہ سکے۔۔۔
باقی آپکا جو جواب ہو۔۔۔ آگر آپ مجھے اس قابل سمجھیں تو آپکو یقین دلا سکتا ہوں کے میرے سنگ آپکی زندگی اچھی اور پرسکون رہے گی۔۔۔ اتنا برا بندہ نہیں ہوں میں۔۔۔ وہ سنجیدہ و لاپرواہ سا بول رہا تھا جبکہ ایم یک ٹک اسے سن رہی تھی۔۔۔
لیکن ابھی میں آپ سے یہ نہیں بلکہ کوئی اور بات کرنے والا تھا۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ لیکن اچھا ہوا۔۔۔ آپ نے یہ بات شروع کر لی تو یہ بھی کلیئر ہو گئ۔۔۔۔
اور کونسی بات۔۔۔ وہ مکمل طور پر ماحول سے کٹتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
*******

No comments