Header Ads

Scheme novel 41st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 41st Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

_________

اکتالیسویں قسط۔۔۔
ایمن ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دے رہی تھی۔۔۔ وہ گرین کلر کی نفیس سی ٹخنوں کی چھوٹی فراک میں ملبوس  ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جھکی ہاتھ میں تھامے مسکارے سے اپنے پلکیں سجا رہی تھی۔۔۔
دفعتاً نک سک سے تیار سا حماد اندر آیا۔۔۔۔
ہوئی نہیں تم تیار ابھی تک۔۔۔
وہ سفید کرتا شلوار میں ملبوس گلے میں پیلے رنگ کی چنری ڈالے کافی خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔
وہ اسکے سامنے ہی ڈریسنگ ٹیبل کے کنارے ٹک کر بازو سینے پر باندھے اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔
آج عائزل اور دائم کی مہندی کا فنگشن تھا جہاں جانے کی تیاری جاری و ساری تھی۔۔۔
امممم۔۔۔۔ہمممم۔۔۔ ایسے کیا دیکھ رہے ہوئے۔۔۔ ایمن کو اسکے یک ٹک دیکھنے سے کوفت ہوئی اسے ایک گھوری سے نوازتے وہ دوسری آنکھ پر مسکارا لگانے لگی۔۔۔
وہ چہرا نیچے جھکاتا مسکرا دیا۔۔۔
پیاری لگ رہی ہو۔۔۔
مسٹر حماد یہ لفاظی بچا رکھو۔۔۔  فنگشن پر جا کر کسی اور کے کام آئے گی۔۔۔
اسنے مسکارا بند کر کے ڈریسنگ پر رکھا اور چند قدم پیچھے ہٹتی ناقادانہ نگاہوں سے اپنا جائزہ لینے لگی۔۔۔
نہیں اسکے لئے استعمال کی جانے والی لفاظی اور بہن کے لئے استعمال کی جانے والی لفاظی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ یہ لفاظی وہاں کام نہیں آئے گی۔۔۔ وہ کان کحجھا کر شراتی انداز میں ہستا کندھے اچکا گیا۔۔۔
اتنے بدتمیز اور منہ پھٹ تھے تو نہیں حماد مگر اب ہو گئے ہو۔۔۔ ایمن نے بظاہر سر جھٹکتے مگر خوشی و انبساط سے بھائی کے مسکراتے چہرے کو دیکھا۔۔۔
بے شک برا وقت تھا جو گزر گیا۔۔۔ اور حماد نے ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا ثبوت دیتے اپنی مضبوط قوت ارادی کو ابھارا تھا۔۔۔ 
ورنہ ایک وقت تھا جب وہ خودکشی کر لینا چاہتا تھا۔۔۔ ایمن بھائی کے لئے خوش تھی۔۔۔ بے تحاشہ خوش۔۔۔
اچھا ایما تم سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔ 
کیسی بات۔۔۔ حماد کے سنجیدہ ہونے پر وہ ڈریسنگ سے برش اٹھاتی ٹھٹھکی ۔۔۔
دراصل تمہارے لئے ایک پرپوزل آیا ہے تو میں تم سے اس بارے میں بات کرنا چاہتا تھا کے تمہارا اس حوالے سے کیا خیال ہے۔۔۔ وہ ہنوز ایسے ہی سینے پر ہاتھ باندھے ڈریسنگ کے کنارے ٹکا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
بال بناتے ایمن کے ہاتھ سست پڑے۔۔۔۔
بظاہر تو اب سب فکس ہو چکا ہے ایما۔۔۔ قرض بھی ہم تقریباً سارا اتار چکے ہیں۔۔۔ وہ یہ ایک چیز مجھے بھی مناسب نہیں لگ رہی کے تم سے پہلے میں خود شادی کروں وہ بھی تب جب سبھی حالات سازگار ہیں۔۔۔
تم میری ذمہ داری ہو تو اسی لئے میں سوچ رہا تھا کہ۔۔۔۔ وہ بات کرتا کرتا رکا جیسے اسکا پوائنٹ آف ویو جاننا چاہ رہا ہو۔۔۔
ایمن لب چباتے کسی گہری سوچ میں غرق ہوئی۔۔۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا حماد۔۔۔ ابھی اس بارے میں کچھ سوچا نہیں۔۔۔ وہ الجھی الجھی سی گویا ہوئی۔۔۔
تو سوچ لو اچھے سے۔۔ جلدی تھوڑی نا ہے کوئی۔۔۔ حماد نے کندھے اچکائے۔۔۔
ہممم۔۔۔ چلو واپس آ کر اس بارے میں بات کریں گئے۔۔۔ وہ ہیئر برش واپس ڈریسنگ پر رکھتی ڈوپٹہ اچھے سے اوڑھنے لگی۔۔۔
حماد بھی سر ہاں میں ہلاتا باہر کی جانب بڑھا۔۔۔
جب وہ اسکے پیچھے پیچھے باہر نکلتی کچھ یاد آنے پر گویا ہوئی۔۔۔
ویسے پرپوزل آیا کس کا ہے۔۔۔  اچانک سے یہ بات دماغ میں آئی تھی۔۔۔ ورنہ پہلے تو وہ لفظ شادی پر ہی اٹک گئ تھی۔۔۔
اریب سر کے چھوٹے بھائی ضامن کا ۔۔۔ وہ سرسری انداز میں کہتا اس کے سر پر بم پھوڑ چکا تھا۔۔۔
اسکے پیچھے پیچھے جاتے ایمن کے قدم وہیں مجمند ہوئے۔۔۔ 
کک۔۔۔ کیا۔۔۔۔ مطلب تم ابھی تک ان سے رابطے میں ہو۔۔۔ حماد کے کافی آگے تک چلے جانے کا احساس ہوا تو وہ پیچھے بھاگی۔۔۔
ایما ضامن بھائی دائم بھائی کے دوست ہیں ۔۔۔ اسی حوالے سے ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔۔ 
اپنی ہی دھن میں کہتا وہ اب فلیٹ کا بیرونی دروازہ لاک کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ ایمن گم صم سی کھڑی ناجانے کہاں پہنچی ہوئی تھی۔۔۔ دماغ کے لئے یہ تبدیلی نئ تھی اس لئے قبول کرنے میں شاید وقت درکار تھا۔۔۔
****
خان ولا میں اس وقت خوشیاں قہقے اور گہما گہمی عروج پر تھی۔۔۔ حویلی کے لان میں ہی مہندی کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔ 
سب لڑکیاں تیار تھیں بس کچھ ہی دیر تک عائزل کو باہر لاکر رسم کرنی تھی۔۔۔
عائزل مہندی سبز اور پیلے رنگ کے لنگے کے ساتھ پیلی کرتی اور سبز ڈوپٹہ ذیب تن کئے مہندی کے حوالے سے پھولوں کا زیور پہنے روایتی دلہن بنی تیار سی بیٹھی تھی۔۔۔ ہلکے پھلکے سے میک آپ میں ہی وہ قہر ڈھا رہی تھی۔۔۔ لمبی گھنی آبشار کی چوٹی بنا کر دائیں کندھے ہر ڈالتے اس میں پھول پروئے گئے تھے۔۔۔
وہ کوئی نازک سی گڑیا ہی  لگ رہی تھی۔۔
یمنہ اور شیرین اسکے پاس ہی کمرے میں موجود تھیں جب ایمن وہاں آ کر ان سے خوشدلی سے ملی۔۔۔
عائزل کے ہاتھ پاوں ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔۔۔ دل میں سو طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے۔۔۔
ابھی کچھ دیر پے ہی تو تیار ہونے سے پہلے اپنے کمرے کی طرف آتے وہ ماں اور بابا کی بحث سن چکی تھی۔۔۔
ماں بری طرح بھڑکی ہوئی تھیں کیونکہ آج انکے اکلوتے صاحب زادے کی مہندی تھی اور صاحب زادے کا کہیں اتہ پتہ ہی نا تھا۔۔۔
اسنے ماں کو پہلی دفعہ اسقدر غصے میں دیکھا تھا جبکہ بابا ماں کو تحمل سے اسکے کسی کام میں مصروف ہونے کی وضاحتیں دے رہے تھے۔۔۔
عائزل کا دل مکدر ہونے لگا۔۔۔
تب سے ہی اندر دل میں ایک بے چینی چٹکیاں کاٹ رہی تھی۔۔ وہ اگر نا آیا تو۔۔۔۔
ایک مرتبہ پھر سے بھرے مجمعے میں رسوائی کا احساس ہی اسے اندر ہی اندر ختم کرتا  ادھ موا کئے جا رہا تھا۔۔۔
پچھلی دفعہ کی رسوائی یاد آتی تو اسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوتی۔۔۔
شاید اسے دلہن بننا راس ہی نا تھا۔۔۔
خوفزدہ ہونا کسے کہتے ہیں یہ کوئی اس وقت عائزل سے پوچھتا جو بس کسی خوفزدہ ہرنی کی مانند دروازے پر نگاہیں ٹکائے اس ستم گر کی واپسی کی منتظر تھی۔۔۔ اور خدشات محض یہیں تک تو نا تھے۔۔۔ واپس آ کر بھی وہ شخص اسے عزت سے نوازتا یہ تو دیوانے کا خواب ہی تھا۔۔۔۔۔
شیریں کی شوخیاں آج عروج پر تھیں جسکی زد پر محض عائزل ہی نہیں بلکہ یمنہ بھی تھی جسکا کل دائم کی شادی کے ساتھ ہی حماد سے نکاح بھی تھا۔۔۔  حماد نے یہ سب کیسے کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی مگر وہ قول کا پکا تھا اسنے کہیں بھی یمنہ کا نام نہیں آنے دیا تھا۔۔۔
اور تب سے ہی شیرین نے ان دونوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔۔
عائزل تو گھبرا کر چہرا جھکا جاتی جبکہ یمنہ اسے خوب خوب گھوریوں سے نوازتی ۔۔۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی بھلا۔۔۔
ماں کے بلاوے پر عائزل کو باہر لاکر سٹیج پر بیٹھایا گیا۔۔۔ وہ سب وہیں کھڑی تصویریں بنوا رہی تھیں اور اب تو فوٹوگرافر بھی گھر کا ہی تھا۔۔۔ جو ہر ہر موقع کو کیمرے کی نظر میں مقید کر رہا تھا۔۔۔
ابھی ابھی وہ دلہن کی تصویریں لے کر لان کے زرا پرسکون گوشے میں کھڑا انہیں چیک کر رہا تھا ۔۔ جب پاس سے گزرتی یمنہ اور شیرین میں سے شیرین کی نظر اس پر پڑی۔۔۔ ساتھ ہی اسکی آنکھوں میں ایک شرارتی چمک ابھری۔۔۔ اسنے کن اکھیوں سے اپنے ساتھ اندر جاتی  یمنہ کو دیکھا جو اسکی طرف متوجہ بالکل نہیں تھی۔۔۔
وہ دونوں اندر سے پھولوں کا تھال لینے جا رہی تھیں۔۔۔ جب شیرین نے شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے بے ساختہ اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔۔۔
جھٹکا کھا کر رکنے پر یمنہ حیرت سے شیرین کی جانب پلٹی۔۔۔ 
آںنن۔۔۔ فوٹوگرافر بھیااااا۔۔۔ ہماری بھی پکس بنا دیں نا۔۔۔
اس سے پہلے کہ یمنہ کچھ سمجھتی وہ اپنی زبان کے جوہر دکھلا کر حماد کو اپنی جانب متوجہ کر چکی تھی۔۔۔
آواز پر حماد نے کیمرے سے نگاہیں ہٹا کر شیرین کی جانب دیکھا لیکن ساتھ کھڑی یمنہ پر نظر پڑتے ہی نظر جیسے ٹھٹک سی گئ۔۔۔
وہ ڈنر والے دن کے بعد آج دوسری دفعہ اسے بنا نقاب کے دیکھ رہا تھا۔   
وہ مہندی کلر کی دیدہ ذیب فراک میں میسی جوڑا بنائے ہوئے تھی۔۔ چہرے پر ہلکا سا میک آپ کر رکھا تھا جبکہ کانوں میں پھولوں کے آویزیں تھے۔۔۔ آنچل دائیں شانے پر پھیلا رکھا تھا۔۔۔
ایک بے ساختہ نگاہ کے بعد وہ دوبارہ حماد کو دیکھ نا پائی۔۔۔ آج وہ روزمرہ کے لباس سے ہٹ کر وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس الگ ہی چھپ دکھلا رہا تھا۔۔۔ سلکی بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔
اسکا یوں بے خودی سے اپنی جانب تکنا یمنہ کو گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔
آہممم۔۔۔ آہمممم۔۔۔ شیرین نے شرارت سے کھنکارتے اسکی محویت کو توڑا۔۔۔
وہ چونک کر نظروں کا زاویہ مبذول کر گیا۔۔۔
شیور وائے ناٹ۔۔۔
آئیں بناوں آپکی پکس۔۔۔ وہ خوشدلی سے شیریں کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اوکے تو۔۔۔
تم بنواو تصویریں مجھے کچھ کام ہے۔۔۔ یمنہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی بمشکل شیریں کے ہاتھ میں مقید اپنا ہاتھ کھینچتی اندر کو بھاگی۔۔۔
آںن۔۔۔ کوئی بات نہیں آپی۔۔۔ بھیا آپکی تصویریں کل نکاح کے بعد  بنا لیں گے وہ حماد کے سامنے بھی پیچھے سے ہانک لگانے سے باز نہیں آئی تھی۔۔۔
سدھر جاو چھوٹی پٹاخہ۔۔۔ حماد نے اسکے سر پر چیت رسید کی تو وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔ آئیں آپکی بناوں پکس۔۔۔
ہاں نا۔۔۔ پردراصل بھابھی کے ساتھ بنوانی ہیں۔۔۔ آپ سٹیج پر آ جائیں۔۔۔ وہ چہک کر کہتی سٹیج کی طرف بڑھی۔۔۔
حماد بھی اسکے پیچھے ہو لیا۔۔۔
*****
داود ڈھیلے سے انداز میں صوفے پر نیم دراز تھا۔۔۔ کہنی صوفے کہ ہتھی پر موجود تھی جبکہ انگلیوں کی مدد سے صوفے کی پشت سے ٹکے  سر کو سہلا رہا تھا۔۔۔
رات سے اسکی طبیعت خراب تھی۔۔۔ وہ شاید خود سے ہی روٹھا ہوا تھا۔۔۔
رات اسنے فطرت کے برخلاف جو فیصلہ لیا تھا وہ اسے اندر سے پوری طرح توڑ گیا تھا۔۔۔
جلتی آنکھوں کے پیچھے پھر سے کئ مناظر ابھرنے لگے۔۔۔ وہ اسی لاوئنج کے وسط میں بے یقین سا کھڑا تھا۔۔۔
ارد گرد کئ تماشائی موجود تھے۔۔۔ ہر کسی کی زبان پر عائزل کے لئے زہر تھا اور وہ خود کسی بے جان پتھر کی مانند سب سن رہا تھا۔۔۔
ابھی ابھی نکاح کے بعد دائم عائزل کو گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے کر گیا تھا۔۔۔
اس سے کچھ فاصلے پر کاسنی کلر کی پیروں کی چھوتی میکسی میں ملبوس عالیہ حیران پریشان سی کھڑی تھی۔۔۔ کھلی آبشار سمٹ کر ایک کندھے پر ڈال رکھی تھی جبکہ آنچل اکھٹا کر کے پیچھے سے دونوں بازوں پر ڈالا گیا تھا جسکے دونوں پلو زمین کو سجدہ ریز تھے۔۔۔
چہ مگوئیاں بڑھنے لگی تو پھوپھو اسکے پاس آئیں۔۔۔ بیٹا جو ہوا کسی کو اسکی توقع نا تھی۔۔۔ عائزل نے جو بھی کیا ۔۔۔لیکن وہ ایسی لگتی نا تھی۔۔۔
خیر میری بات کا مقصد یہ نا تھا۔۔۔ وہ داود کی سرخ نگاہیں اپنی جانب مرکوز دیکھ گہرا سانس خارج کرتیں گویا ہوئیں۔۔۔
بات بہت بڑھ چکی ہے داود ۔۔۔ باہر مولوی صاحب آ چکے ہیں۔۔
کل میں بھی جا رہی ہوں تو وقت کا تقاضا یہ ہی ہے کے اب مزید لوگوں کو باتوں کا موقع دیئے بغیر تمہارا نکاح پڑھا دیا جائے۔۔۔
کیا بات کر رہی ہیں پھوپھو۔۔۔ داود کو انکی ذہنی حالت پر شبہ ہوا۔۔۔ یہاں اتنا کچھ خلاف توقع ہو گیا اور وہ ابھی بھی نکاح کی بات کر رہی تھیں۔۔
بیٹا میری بات کو سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔ نکاح پڑھوانے کے لئے نکاح خواں تک آ چکا ہے۔۔۔
لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں۔۔۔ حور کو ماں کی ضرورت۔۔۔
آپ کہنا کیا چاہتی ہیں پھوپھو صاف صاف کہیں۔۔۔ وہ انکی اتنی تفصیل سے اکتا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا بے چینی سے انکی بات کاٹ گیا۔۔۔
بیٹا عالیہ سے نکاح کر لو۔۔۔ میں اس سے بات کر کے اسے راضی کر چکی ہوں نیز اسکے بھائی سے بھی بات کر لی ہے وہ کچھ ہی دیر تک پہنچتا ہوگا تو تم۔۔۔
For God sake phopho...
یہ میری زندگی ہے مذاق نہیں۔۔۔ وہ چٹخا۔۔۔ ذہنی توڑ پر تو پہلے ہی اس وقت مفلوج پڑا تھا۔۔۔
اور یہ ہی بات میں تمہیں سمجھانے کی کوشیش کر رہی ہوں داود کے یہ زندگی ہے مذاق نہیں تو اسے سیریس لو۔۔۔
آنکھیں کھولو اور حالات کا جائزہ لو۔۔۔ کل کو کام پر جاو گے یا بچی سمبھالو گئے۔۔۔ اتنی چھوٹی بچی کو ماں کی ضرورت ہے۔۔۔
وہ چٹختا سر دبانے لگا لیکن پھوپھو جو اسے سمجھانا شروع ہوئی تو پھر اسکے نا نا کہنے کے باوجود بھی ہاں کروا کر ہی چھوڑی۔۔۔
اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ عالیہ داود بنی اسکے پہلو میں شان سے براجمان تھیں۔۔۔
حور کے رونے کی آواز پر وہ ہڑبڑا کر حال میں پہنچا۔۔
حور شاید سوتے میں ڈر گئ تھی۔۔۔ داود بھاگ کر کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
عالیہ غالباً کچن میں تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ نیم غنودہ حور کو گود میں اٹھائے واپس لاوئنج میں آکر صوفے پر بیٹھا۔۔۔ یوں جیسے وہ کسی کا انتظار کر رہا ہو۔۔۔۔پاس ہی میز پر ایک نیلی فائل پڑی تھی۔۔۔۔
داود اب طبیعت کیسی ہے آپکی۔۔۔ چائے لاوں آپکے لئے۔۔۔۔ کچن سے نکلتی وہ اسکے پاس آ کر کھڑی ہوئی۔۔۔ فکر مند لہجہ اسے انی کی مانند چبھا تھا۔۔۔
اسنے ایک بھی نگاہ غلط اس پر ڈالے بنا نفی میں سر ہلایا اور سو چکی حور کو پاس ہی صوفے پر لٹا دیا۔۔۔
دفعتاً ڈور بیل بجی تو داود کے جانے سے پہلے ہی وہ دروازہ وا کرنے چلے گئ۔۔۔
آپ مسز عالیہ داود ہیں۔۔۔
اپنے سامنے کھڑے چند پولیس اہلکار لیڈیز کانسٹیبل اور ساتھ میں دائم کو کھڑا دیکھ اسکی روح فنا ہوئی۔۔۔
جی۔۔۔ مگر آپ۔۔۔ آواز جیسے حلق میں دبنے لگی تھی۔۔  چہرے کا رنگ پھیکا پڑنے لگا تھا۔۔
You are under arrest...
 لیڈی کانسٹیبل نے ہتھکڑی اسکے جانب بڑھاتے بے تاثر لہجے میں کہا۔۔۔
واٹتتتتتت۔۔۔۔ اندازہ یے آپکو کیا بول رہی ہیں آپ۔۔۔ داود دیکھیں یہ۔۔۔ یہ کیا۔۔  وہ پھولتی سانسوں سمیٹ بے چین سی واپس داود تک پہنچی جو ان سب کو دیکھ شکست خوردہ سا سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
مس عالیہ۔۔۔
کس۔۔۔ کس جرم میں آپ مجھے اریسٹ کرنے آئے ہیں۔۔۔
 وہ داود کو کوئی ایکشن لیتے نا دیکھ ٹرپ کر واپس پلٹی۔۔۔
میری بیوی عائزل دائم خان کو ٹریپ کرنے کے جرم میں۔۔۔ دائم پھنکارتا ہوا اسکی جانب بڑھا۔۔۔ جب ضامن نے سرعت سے اسے بازو سے تھامتے آنکھوں سے تنبیہہ کی۔۔۔۔
دائم کا دماغ اس وقت چٹخ رہا تھا۔۔۔ بس نا چل رہا تھا کے سامنے کھڑے وجود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا ڈالے۔۔۔
بب۔۔۔ بکواس ہے یہ ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ اسکا لہجہ لڑکھڑایا۔۔۔ وہ بار بار خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی خود کو کمپوز کر رہی تھی۔۔۔
صورتحال یوں بیٹھے بیٹھائے بدل جائے گی یہ تو اسنے سوچا تک نا تھا۔۔۔
دا۔۔۔ داود جھوٹ ہے یہ سب۔۔۔ الزام ہے مجھ پر۔۔ مم۔۔  میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔
وہ دائم کی طرف گھومتی اسکی بازو جھنجھوڑ کر التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔
ایک پھانس سی دائم کی سینے میں چھبنے لگی۔۔۔ وقت جیسے کہیں پیچھے چلا گیا تھا۔۔۔۔
دا۔۔۔داود میرا یقین کریں۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔ عائزل کی بے بس آواز کسی ہتھوڑے کی مانند دماغ پر بجی تھی ۔۔
اسنے سرعت سے اپنا ہاتِھ اسکی گرفت سے چھڑوایا۔۔۔۔وہ حق دق سی اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
دیکھیں مس۔۔۔ سب ثبوت آپکے خلاف ہیں۔۔ آپ ایک ریان نامی سکیمر کی بہن ہیں ۔۔۔ اور
عالیہ نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ یہ ہی تو دکھ تھا۔۔۔ کے اسکا سب سے بڑا سہارا ہی قدرت نے چھین لیا تھا۔۔۔
ہوتا اسکا بھائی تو کوئی اسے ٹیڑھی نظر سے دیکھ جاتا۔۔۔ یا وہ کوئی ٹینشن لے جاتی۔۔۔
لیکن رونا بھی تو یہ ہی تھا کے اس وقت اسکی ذات تنکے سے بھی ہلکی تھی۔۔۔
ہمارے پاس آپکے خلاف اڑیسٹ وارنٹ ہیں۔۔۔ آپ بس براہ کرم یہ بتا دیں کے عائزل کے ساتھ اتنا ظلم آپ نے کس دشمنی کی بنیاد پر کیا۔۔۔
انسپیکٹر ضامن نے سنجیدگی سے معاملہ نبٹاتے بات سمبھالی۔۔
میری اس سے کوئی دشمنی نا تھی۔۔۔ دشمنی اس شخص نے نکالی ہے اسکے ساتھ۔۔۔ وہ انسپیکٹر کی بات سن کر بپھری ہوئی شیرنی کی مانند دائم کی جانب اشارہ کرتی غرائی۔۔۔
دائم بھونچکا رہ گیا۔۔۔ کیا بکواس تھی یہ۔۔۔
کیا جاتا اگر تم چار لاکھ کو درگزر کر جاتے دائم خان۔۔۔
کڑوروں کا بزنس ہے تمہارا ۔۔۔ چار لاکھ کی کیا اوقات تمہاری نظر میں۔۔ وہ رو دی تھی۔۔۔
داود نے تاسف سے سے دیکھا۔۔۔
دائم طنزیہ ہسا۔۔۔
زرا وضاحت کردو گئ تو مجھے سمجھنے میں آسانی رہے گی۔۔۔ 
کیا وضاحت کروں میں دائم خان۔۔۔
کیا تم چار لاکھ پر صبر نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ اوقات کیا تھی تمہارے لئے چار لاکھ کی۔۔۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کے تم اتنے تھوڑے دل کے مالک نکلو گے کے چار لاکھ کے لئے راکھ کریدنے بیٹھ جاو گئے۔۔۔ دعوے محبت کے اور جان چار لاکھ پیچھے نکلنے لگی۔۔۔ وہ شرمندہ کرنے کے انداز میں آگ لگاتی گویا ہوئی۔۔۔
میں نے عائزل کے لئے یہ سب کبھی نا سوچا تھا جو اس کے ساتھ ہوگیا۔۔۔ 
کیا کیا تھا میں نے۔۔۔ وہی جو میری نظر میں عام تھا۔۔۔ بے حد عام۔۔۔
میں سوشل میڈیا پر کافی ایکٹو رہتی ہوں ۔۔۔ وہ بات الگ کے کبھی میں نے اپنی اصلی شناخت وہاں ظاہر نہیں کی۔۔۔
ہمیشہ گمنام رہی ۔۔۔ فیک اکونٹس ہی بنائے۔۔۔
وہاں کئ ٹھرکی حضرات آ کھڑے ہوتے۔۔۔ ان سب سے ہلکی پھلکی بات چیت عام تھی۔۔۔
کچھ لوگ ضد کرتے ۔۔۔ فوٹوز اور ویڈیو کالز کی تو میں کبھی کہیں پر ظاہر نا ہوئی۔۔۔
ہمیشہ جو لڑکی مجھے اپنے آس پاس سب سے زیادہ میسر ہوتی اسکی تصویر بھیج دیتی ۔۔۔ تاکے دن رات میں مجھے جب بھی اس لڑکی کی تصویر کی ضرورت پڑتی فوراً سے کھینچ کر بھیج دی جاتی۔۔۔۔۔
یہ سب میرے لئے عام تھا۔۔۔ سالوں سے چلتا آ رہا تھا۔۔۔ میری ایک ایکٹیویٹی تھی یہ۔۔۔ میرے فارغ وقت کا مشغلہ۔۔۔۔ وہ جھنجھلائی سی پرت در پرت کھلنے لگی۔۔۔
میں خود کبھی کہیں پر بھی ظاہر نا ہوتی۔۔۔
پھر یوں ہی۔۔ جب ان کی ڈیمانڈ بڑھنے لگتی تو میں انہیں سبق سیکھانے کو ان کے ساتھ سکیم کرتی۔۔۔ بظاہر وہ مجھے اپنی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا رہے ہوتے لیکن درحقیقت میں انہیں ہاتھ دکھا جاتی۔۔
سکیم کرنے کے بعد ان آئی ڈیز کا کہیں نام و نشان تک نا رہتا اور نا ہی کبھی میں نے کسی کو اپنی کوئی رئیل انفارمیشن دی تھی جو کچھ مجھے ٹریس کر سکتا۔۔۔۔۔
یوں وہ محض ہاتھ ملتے رہ جاتے۔۔۔ آج تک کوئی مجھ تک نا پہنچ پایا تھا۔۔۔
اور تم میرا سب سے آسان ہدف تھے دائم خان۔۔۔ کیونکہ تم عائزل کے نام سے آئی ڈی بنانے کے ٹھیک کچھ منٹوں بعد ہی اس پر بری طرح فداپ ہو گئے تھے۔۔۔
اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ تم یوں جان کو چمٹ جاو گئے تو میں ایسا کبھی نا کرتی۔۔۔۔
اور ادھر عائزل بھی حد سے زیادہ احمق ثابت ہوئی تھی۔۔۔ جسے اگر میں کہتی کے میری فرینڈز ہیں انہیں ہیلو ہائے بول دو تو وہ بآسانی سے خوشدلی کیساتھ ایسا کر جاتی۔۔۔ 
یہ سب میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔۔۔ میری روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔۔۔ اور تم واحد تھے جسکا سٹیٹس دیکھتے میں نے لاکھوں کا سکیم کیا تھا ورنہ ابھی تک بات ہزاروں تک مشتمل تھی۔۔۔
مگر پھر جب تم اس روز اسکے نکاح سے پہلے یہاں پہنچے۔۔۔
وہ بول رہی تھی جبکہ دائم کا خون کھول رہا تھا کے اسے تہس نہس کر کے رکھ دے۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4