Header Ads

Scheme novel 40th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 40th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

_________

چالیسویں قسط۔۔۔
کیسی غلطی۔۔۔
دائم نے چونک کر پہلے ضامن کو دیکھا پھر بے بسی سے ماتھا مسلتے داود کو۔۔۔
داود کی آنکھوں میں کئ عکس ابھرنے اور مٹنے لگے۔۔۔
وقت کے ساتھ پروا کرتے ایک منظر اسکی نگاہوں میں واضح ہوا۔۔۔
عائزل کالج یونیفارم میں ملبوس سر پر شال اوڑھے لاوئنج کے بیچ و بیچ کھڑی تھی۔۔۔ پاس ہی صوفے پر اسکا کالج بیگ پڑا تھا جبکہ وہ حور کو کندھے سے لگائے ٹہلا کر سلا رہی تھی۔۔۔
وہ صبح پانچ بجے کی اٹھی تھی اور اب نیند میں جھولتی بری طرح ضد کر رہی تھی۔۔۔
عائزل اسے روتا چھوڑ کر کالج نہیں جا سکتی تھی۔۔۔یہ اسکی مجبوری تھی۔۔۔ عائزل کی جان اس ننھی سی جان میں بستی تھی ۔۔اسی لئے کالج جانے اے پہلے اسے سلا رہی تھی۔۔۔
وہ عائزل کی زندگی کی پہلی ترجیح تھی باقی سب اسکی زندگی میں حور کے بعد آتا تھا۔۔۔
دفعتاً آفس کے لئے تیار پینٹ کوٹ میں ملبوس داود کمرے سے باہر نکلا۔۔۔  اسے حور کو یوں سلاتے دیکھ اسکے ہونٹوں پر  مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔
سو گئ ۔۔۔  پھوپھو نے اسکا ناشتہ لا کر میز پر رکھا تو وہ مسکرا کر پوچھتا ناشتہ کرنے لگا۔۔۔
جی۔۔۔ بڑی مشکل سے سوئی ہے۔۔۔ عائزل اسے کندھے سے لگائے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے کمرے میں لٹا کر واپس آ چکی تھی۔۔۔
داود کو وہ بہت بجھی بجھی اور خاموش سی لگی۔۔۔
عائزل۔۔۔ وہ جھک کر بیگ اٹھانے لگی تو داود کی آواز پر اسکی جانب پلٹی۔۔
جی داود بھااااا۔۔۔۔ بے خودی میں بولتے بولتے وہ اسکی رات کی بات یاد آنے پر لب بھینچتی سر جھکا گئ۔۔۔
ایک پل کو مسکراہٹ داود کے ہونٹوں کی تراش میں چھب دکھلا کر غائب ہو گئ۔۔۔۔
تمہارا کام ہو گیا ہے۔۔۔ میں نے پھوپھو سے بات کی ہے۔۔۔ انہوں نے کہا ہے کے انکے دور پڑے کی بھتیجی ہے جو اسی شہر میں ہاسٹل میں رہتی ہے۔۔۔ عالیہ۔۔۔
اگلے دو ماہ تک وہ یہاں ہمارے ساتھ رہے گی۔۔۔ اس بیچ پھوپھو بھی آتی جاتی رہیں گی ۔۔۔ تم اپنے پیپرز کی تیاری سکون سے کر سکتی ہو۔۔۔
اسکے متانت سے کہنے پر وہ کھل اٹھی تھی۔۔۔
اوہ تھینکیو ویری مچ۔۔۔ آپ نے میرے سر سے ایک بوجھ کھسکا دیا۔۔۔ رات سے بہت ٹینشن میں تھی میں۔۔۔ وہ سادگی سے گویا ہوئی۔۔۔ ایسی ہی تو تھی وہ۔۔۔ بناوٹ سے پاک۔۔۔ جو دل میں ہوتا بنا سینسر لگائے کہہ دینے والی۔۔۔
ناشتہ کر کے داود مسکرا کر اسے دیکھتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
اور اسی شام وہ پھوپھو کی معیت میں گھر آئی تھی۔۔۔
جینز کی ٹائٹس پر شارٹ فراک پہنے گلے میں ڈوپٹہ مفلر کے سٹائل میں یوں لپیٹے کے شانوں سے تھوڑے نیچے تک جاتے کھلے بال اسکی قید میں آگئے تھے۔۔۔
وہ چہکتی ہوئی کسی بادصبا کے جھونکے کی مانند انکی زندگیوں میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ 
ہے ۔۔۔۔۔ مائے سیلف عالیہ۔۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی عائزل کی جانب ہاتھ بڑھائے تعارف کروا رہی تھی۔۔۔
وہ ایک بہت زندہ دل لڑکی تھی۔۔۔ جو بہت جلد انکے ساتھ گھل مل گئ تھی۔۔۔ 
منظر واپس بدلا تھا اور داود اپنے آفس میں دائم اور ضامن کیسامنے بیٹھا سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
کہاں ہے وہ۔۔۔ مجھے وہاں لے کر چلو۔۔۔
دائم کے لہجے میں ازدھوں کی سی پھنکار تھی۔۔۔
سب کچھ واضح تھا لیکن بہت سے سوال تھے جنکے جواب ملنا اس کے لئے بہت ضروری تھے۔۔۔ اس لڑکی نے عائزل کیساتھ یہ سب کچھ کیوں کس لئے اور کس طرح کیا۔۔۔۔
*******
یمنہ سیاہ عبایہ میں ملبوس بیگ کندھے پر ڈالے ہاتھ میں فائل تھامے تیز تیز سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔ ماں کو خداحافظ بول کر وہ تیزی سے باہر نکلی۔۔۔ لیکن سامنے جینز پر سیاہ لائینیگ شرٹ زیب تن کئے بال جیل سے سیٹ کئے ماتھے پر سن گلاسز لگائے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے حماد کو دیکھ کر اسکے قدم سست پڑے۔۔۔
آج غالباً ڈرائیور پھر سے چھٹی پر تھا اسی لئے وہ اسے پک اینڈ ڈراپ کی سروس دینے والا تھا۔۔۔ اور ایسا پہلی مرتبہ تو نا ہوا تھا وہ کئ مرتبہ ڈرائیور کی غیر موجودگی میں انہیں یہ سروس دے چکا تھا۔۔۔
لیکن آج شاید بات ہی کچھ اور تھی۔۔۔ نئے بندھنے والے رشتے کا احساس ہی تھا جو اسے سخت کنفیوز کر رہا تھا۔۔۔ حالانکہ آج سے پہلے وہ اسکی ہمراہی میں سفر کرتی کبھی نا گھبرای تھی ۔۔۔
بڑی بات کے آج تو شیرین بھی ساتھ نا تھی۔۔۔ 
لب چباتی من من بھاری ہوتے قدم اٹھاتی وہ جھجھکتی ہوئی گاڑی کی جانب بڑھی۔۔۔
حماد سے آتا دیکھ سیدھا ہوا اور اسکے گاڑی کے قریب پہنچتے ہی اسکی مشکل آسان بناتا وہ بیک ڈور کھول چکا تھا۔۔۔ یمنہ بنا اسکی جانب دیکھے خاموشی سے جا کر بیٹھ گی تو حماد دروازہ بند کرتا ڈرائیونگ سیٹ سمبھال گیا۔۔۔
سفر خاموشی سے کٹ رہا تھا۔۔۔ حماد نے فرنٹ مرر سے ایک نگاہ اس پر ڈالی جو سر جھکائے ہاتھ مسلتی بے طرح کنفوز لگ رہی تھی۔۔۔
آپ اس رشتے کے حوالے سے اپنے خدشات مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں یمنہ۔۔۔ حماد کی آواز پر اسنے جھٹکے سے سر اٹھا کر مرر سے اسے دیکھا۔۔۔ وہ اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔۔ دونوں کی نگاہیں ٹکرائیں اور یمنہ نے تیزی سے نگاہوں کا زاویہ بدلا۔۔۔۔
کیا آپ اس رشتے کے لئے رضا مند ہیں۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔۔ یمنہ کا انداز اسے کچھ کچھ سمجھا رہا تھا۔۔۔ شاید وہ انکے بیچ کے سٹیٹس کو لے کر الجھی ہوئی تھی یا شاید کوئی اور بات۔۔۔
لیکن وہ ایک مرتبہ اس سے بات کر کے سب کلیئر کر لینا چاہتا تھا۔۔۔
اتنی جلدی اسکے بات کے تہہ تک پہنچ جانے پر یمنہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسنے بے ساختہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
دیکھیں اس رشتے کے حوالے سے آپکے جو بھی خدشات ہیں وہ آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں اور یقین مانیے کے ہماری یہ گفتگو صیغہ راز رہے گی۔۔۔  آپ اگر اس رشتے سے راضی نہیں تو بھی بتا سکتی ہیں میں۔۔۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں حماد۔۔۔ آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔ وہ اسکی جانب دیکھتی بعجلت گویا ہوئی کے مبادا وہ غلط ہی نا سمجھ بیٹھے۔۔۔
ایک دلکش مسکراہٹ حماد کے لبوں کی تراش میں ابھری جسے وہ بر وقت چھپا گیا۔۔۔
تو آپ صحیح بات سمجھا دیں  نا۔۔۔  اسکے لہجے میں ہلقا سا شوخی کا عنصر ابھرا۔۔۔
آپ مجھے چھوڑیں ۔۔۔ اپنا بتائیں حماد۔۔۔ اپنی لائف پارٹنر کو لے کر آپکی کیا ریکوائرمنٹس ہیں۔۔۔ مطلب۔۔۔ بات کرتے اسکی دل  کی ڈھرکنیں ایک سو بیس کی رفتار سے بھاگ رہی تھیں۔۔۔  کسی بھی مرد سے یوں تنہائی میں بات کرنے کا اسکا پہلا تجربہ تھا۔۔۔  انکے خاندان میں پردے کا بہت اہتمام تھا  اور کبھی ایسی نوبت آئی ہی نہیں۔۔۔ محض ایک دائم تھا جس سے وہ بلاجھجھک بات کر لیتی۔۔
مطلب اپنی لائف پارٹنر کے حوالے سے آپ نے کیا سوچا ہے۔۔۔ نگاہیں جھکانے کیساتھ ساتھ آواز اپنے آپ ہی آہستہ ہونے لگی۔۔۔ کہ آپکو کیسی لائف پارٹنر چاہیے۔۔۔ وہ بامشکل اپنی بات مکمل کر پائی تھی۔۔۔
جبکہ حماد وقتاً فوقتاً فرنٹ مرر سے اس پر نگاہ ڈال لیتا۔۔۔
میری ریکوائرمنٹس کوئی بہت لمبی چوری نہیں ہیں یمنہ۔۔۔ سیدھا سا بندہ ہوں جو ابھی سٹرگلنگ فیز میں ہے۔۔۔ ابھی میرے کیرئیر کا آغاز ہے اور بہت سفر باقی ہے۔۔  مجھے اپنے لئے صرف ایک مخلص باوفا اور با کردار بیوی چاہیے۔۔۔ جسکی وفائیں مجھ سے مشروط ہوں اور جسکے دل میں محض اسکا شوہر ہو۔۔۔  
وہ سنجیدگی سے ونڈ سکریں پر نگاہیں مرکوز کئے یکسوئی سے ڈرائیونگ کرتا گویا ہوا۔۔۔
پیچھے بیٹھی یمنہ کا دل گویا ڈھرکنا بھولنے لگا۔۔۔ وہ اپنی ہی کیفیت سے بوکھلا اٹھی۔۔۔ دل میں چور تھا۔۔۔  تو کیفیت بھی عجیب ہونے لگی تھی۔۔۔
کیا وہ کبھی اپنی پہلی محبت کو بھلا پائے گی۔۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔ ماتھے پر پیسینے کی ننھی ننھی بوندیں ابھرنے لگی تھی۔۔۔
پر صد شکر کہ چہرے پر موجود نقب اسکا بھرم رکھ رہا تھا۔۔۔
اسکا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو چاہا۔۔۔ کس مصیبت میں جان پھنس گئ تھی۔۔۔۔
حماد آپ نے کہا کے ہماری یہ گفتگو صیغہ راز میں رہے گی۔۔۔ تو کیا میں آپ سے کچھ کہوں اس امید پر کہ۔۔۔۔ وہ ہاتھ بے طرح مسلتی شش و پنج میں مبتلا کہنے لگی جب وہ بے ساختہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔
آپ بے فکر ہو کر کہیں جو کہنا چاہتی ہیں یمنہ۔۔ اور اطمینان رکھیں کے میں اپنی زبان کا پکا ہوں۔۔۔ یہ گفتگو ہم دونوں کے درمیان صیغہ راز رہے گئ آپ اپنے تحفظات مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔۔۔ وہ ہنوز سنجیدہ تھا۔۔۔
میں دائم کی شادی پر انگیجمنٹ کی بجائے نکاح کرنا چاہتی ہوں کیا یہ ممکن ہے۔۔۔ وہ سر جھکائے بدقت بول پائی۔۔۔جبکہ اس کوشیش میِں ہونٹ کپکپا کر رہ گئے جبکہ آنکھیں تیزی سے نم ہوئے لگی تھی ۔۔۔۔
کیااااا۔۔۔ ابکی بار شاک لگنے کی باری حماد کی تھی۔۔۔ وہ ٹھیک ٹھاک پریشان ہو گیا تھا۔۔۔ بدقت اسنے گہری سانس خارج کرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
کہاں وہ ابھی کسی رشتے کے حق میں ہی نا تھا اور کہاں ابھی نکاح۔۔۔ وہ بے چین ہوا۔۔۔
لیکن دائم بھیا نے تو بولا تھا کہ آپ اپنی ڈگری مکمل ہونے تک شدی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ لبوں پر زبان پھیرتا وہ بدقت گویا ہوا۔۔۔
وہ اس قول و فعل کے تضاد پر حیران تھا۔۔۔۔۔
یمنہ نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
نکاح کا کہہ رہی ہوں حماد رخصتی کا نہیں۔۔۔ وہ جیسے بہت مشکل میں تھی۔۔۔ حماد چونکا۔۔۔۔
میں نے سنا ہے حماد کہ ۔۔ کہ نکاح کے دو بولوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کے اسکے بعد محبت ان دو دلوں پر الہام کی صورت نازل ہونے لگتی ہے۔۔۔ اور میں اپنی مکمل دلی آمادگی مکمل وفاوں اور محبت کیساتھ آپکی زندگی میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔۔۔ اسی لئے میں یہ نکاح پہلی چاہتی ہوں پلیز۔۔۔۔  بھیگا لہجہ اب پہلے سے کچھ مستحکم تھا۔۔۔ جب زندگی میں آگے بڑھنا ہی تھا تو پھر کوشیش بھی تو کرنی تھی۔۔۔ اور پھر اللہ بھی تو کوشیش کرنے والوں کے ساتھ ہی ہے نا۔۔۔
اور اس خواہش کا اظہار میں نے کیا ہے پلیز یہ۔۔۔ 
آپ بے فکر ہوجائیں یمنہ۔۔۔ کسی کو ہماری اس گفتگو کی خبر نا ہوگئ ۔۔۔  وہ اسکی مشکل آسان بناتا بات کاٹ کر گویا ہوا۔۔۔
یمنہ نے تشکر سے اسے دیکھا اور سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند گی۔۔۔
******
آج آن اور حسن کو اس دنیا سے گئے تیسرا دن تھا لیکن کنول کو یہ تین دن تین صدیوں کے مترادف لگے۔۔۔۔ ایک ایک لمحہ بھاری تھا۔۔۔ ایک ایک سانس تک بوجھل تھی۔۔۔۔
اسکی عیادت کو کون آیا۔۔۔ کس نے کیا کہا کیا کیا وہ کچھ بھی تو نا جانتی تھی۔۔۔
اسکی تو دنیا اندھیر ہو گئ تھی وہ جیسے حواسوں میں نا رہی تھی۔۔۔ دل ہنوز قبول کرنے سے انکاری تھا کے وہ ستم گر اب نہیں رہا۔۔۔ کہ اسکا ہستا بستا گھر ایک پل میں اجڑ گیا۔۔۔
ہاں وہ چاہتی تھی کے آن راہ راست پر آجائے۔۔۔ وہ یہ سب شان و شوکت نہیں چاہتی تھی مگر اس انداز میں۔۔۔ اس نے تو تصور بھی نا کیا تھا۔۔۔
آن کے جنازے کے بعد پولیس اہلکار اسکے پاس آئے تھے۔۔۔ اسے تو پے در پے صدمے مل رہے تھے۔۔۔
گویا سوگ منانا بھی دھنگ سے نصیب نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
پولیس نے اس سے انویسٹیگیشن شروع کی تو وہ ٹھہری صدا سے سادہ لوح انسان۔۔۔
جسکے پاس نا بناوٹ تھی نا بات بنانے کا ہنر۔۔۔ جھوٹ تو زبان کی نوک پر آتے آتے زبان مفلوج کر دیتا۔۔۔۔۔
وہ بنا سینسر لگائے بنا کچھ بھی چھپائے ان اہلکاروں سے جن میں سر فہرست انسپیکٹر ضامن تھا سب شیئر کرتی چلی گئ۔۔۔
اسنے ضامن کی اس کیس میں بہت مدد کی۔۔۔
انسپیکٹر ضامن آپکو خدا کا واسطہ ہے میری مدد کریں۔۔۔ جو کام میں آن کے جیتے جی نا کر سکی وہ اب انکے جانے کے بعد کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ خدارا اس کام میں میری مدد کریں کے میرے ٹرپٹے بلکتے دل کو سکون آجائے کے میں نے اپنی محبت کا کچھ حق ادا کیا۔۔۔
اسکے اس دنیا سے جانے کے بعد اسکی اگلی راہوں سے کچھ کانٹے چن سکوں۔۔۔
اور انسپیکٹر ضامن جو غور سے اسکی بات سن رہا تھا چونکہ۔۔۔
اس چھوٹی سی لڑکی کی باتوں نے اسے متاثر کیا تھا جو اپنا سب کچھ لٹا کر ٹوٹی بکھری حالت میں بھی کمال حوصلے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔۔۔
پھر اسنے ضامن کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے اسے آن کے سبھی بینک اکاونٹس کی دیٹیلز دینے کے ساتھ مختلف جگہوں پر اسکی پڑاپڑٹیز بتانے کیساتھ اسکی کمپوٹر لیب سے گزشتہ سارا ریکارڈ دیا تھا ان لوگوں کا جو پچھلے کئ سالوں میں آن کے سکیم کا شکار ہوئے تھَے۔۔۔
موٹی موٹی سی ڈائریوں میں ہر متاثرہ شخص کا نمبر اور سکیم کی رقم لکھی گئ تھی۔۔۔
کنول نے کسی بھی چیز پر حق جتانے سے انکار کرتے سب انکے لواحقین تک پہنچانے کی التجا کی تھی۔۔۔
انسپیکٹر ضامن میں یہ کام اکیلی نہیں کر سکتی اور شاید سب کی رقم واپس کرنا تو ناممکن ہے لیکن ایک اچھی نیت سے یہ کام کرنا ضرور چاہتی ہوں کیونکہ اللہ نیتوں کے حال جانتا ہے۔۔۔
پلیز آپ لواحقین کو انکی سکیم ہوئی رقمیں لوٹائیں تو ان سے میری طرف سے میرے شوہر کے لئے معافی ضرور طلب کریں۔۔۔ جانتی ہوں کے آن نے ان سب کے ساتھ بہت غلط کیا لیکن اللہ ۔۔۔۔حقوق اللہ معاف کر دیتا ہے حقوق العباد نہیں۔۔۔ تو اگر وہ سب آن کو معاف کردیں گے تو اللہ بھی معاف کر دے گا۔۔۔  
سب تو نہیں لیکن جتنے لوگوں تک آپ پہنچ سکیں۔۔۔ وہ بے بسی سے ٹوٹے لہجے میں بول رہی تھی۔۔۔
یہ کر کے مجھے سکون مل جائے گا انسپیکٹر کے میں نے اپنی محبت کا حق ادا کر دیا۔۔ بساط بھر آن کے راستے سے کنکر چننے کی کوشیش کی۔۔۔
ضامن کو جی بھر کر اس لڑکی پر ترس آیا۔۔۔
کیسی پرشدت محبت تھی اسکی اپنے سکیمر شوہر کیساتھ۔۔۔
آن کا سارا کچھاچٹھا پوری کالونی کے سامنے تھا۔۔۔ وہاں اسکو لے کر طرح طرح کی باتیں ہو رہی تھی۔۔۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔
کنول نے ہر جانب سے کان بند کر لئے تھے۔۔۔
ساری حقیت کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت آن کی پراپڑٹیز ضبط کر رہی تھی لیکن کنول کا ایک ہی موقف تھا وہ ریکارڈ دے رہی ہے سب کچھ لواحقین تک واپس پہنچایا جائے جس میں ضامن اسکی بھرپور مدد کر رہا تھا۔۔۔
اسکا تعاون دیکھ بنا زبردستی کئے  اسے ایک ہفتے میں یہ گھر بھی خالی کرنے کا نوٹس دے دیا گیا تھا کیونکہ اسکا یہ بنگلہ بھی ضبط کر لیا گیا تھا۔۔۔
وہ بنگلے کے لان میں کھڑی خالی خالی نگاہوں سے آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیا کروں آن۔۔۔ آپ کے بنا جینا تو سیکھا ہی نہیں۔۔۔ دیکھیں اپنے ظلم کی انتہا۔۔۔ نا اکیلے سروائیو کرنا سیکھایا اور نا ہی مجھ پر ترس کھایا۔۔۔
بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ گئے۔۔۔ کیا کروں آن۔۔۔ دنیا تو آپکی نگاہوں سے دیکھی تھی۔۔۔ اب تو خود کو اندھا تصور کرتی ہوں۔۔۔ نا کچھ دکھائی دیتا ہے اور نا سجھائی دیتا ہے۔۔۔
میرا تو بیٹا بھی لے گئے۔۔۔ زرا سا تو رحم دکھایا ہوتا۔۔۔ حسن میں آپکی جان تھی تو میرا بھی تو جگر گوشہ تھا وہ۔۔۔ 
اب کیا کروں۔۔۔ کہاں جاوں۔۔۔ کس کے ساتھ زندگی کاٹوں کے سہارے کے بنا تو چلنا آتا ہی نہیں۔۔۔ اب کوشیش کروں گی بھی نا تو لڑکھڑاوں گی نہیں بلکہ اونڈھے منہ گھر جاوں گی۔۔۔ اور ستم کے تھامنے کو کوئی ہاتھ بھی آگے نہیں آئیں گے۔۔۔
وہ بے بسی سے بہتی آنکھوں سمیٹ خود کلامی کر رہی تھی۔۔۔ دماغ مفلوج تھا۔۔۔ اس گھر سے نکلتی تو بے رحم دنیا میں کہاں جاتی۔۔۔ جہاں بھیڑیے جگہ جگہ گھاٹ لگائے بیٹھے تھے۔۔۔
عقل مفلوج ہو رہی تھی دفعتاً شدید ذہنی دباو کے باعث آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اور چکرا کر وہیں جھول گئ۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4