Header Ads

Scheme novel 39th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 39th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

_________

انتالیسویں قسط۔۔۔

ابتدائی ملاقات اور تعارف کے بعد کھانا بہت خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔۔۔ ایمن ان سب کو ہی پسند آئی تھی بالکل اپنے بھائی کی طرح سادہ اور بڑوں کی عزت کرنے والی۔۔۔
ایمن بھی ماں کیساتھ بہت جلد گھل مل گئ تھی۔۔۔
ارے آنٹی۔۔۔۔۔ اب ماں تو ہماری ہے نہیں نا ہی کوئی بڑا ہے۔۔۔ میں ہی حماد کی بڑی بہن ہوں تو بڑی بہن ہونے کے ناطے آج میں آپکے سامنے اپنے بھائی کے لئے سوالی بن کر آئی ہوں۔۔۔ آپ ہمیں اپنے گھر کی رونق یمنہ دے دیں۔۔۔ 
کھانے کھانے کے بعد چائے کا دور چلا تھا جب چائے پیتے اسنے بڑے سبھاو سے ان سب کا مان برقرار رکھتے عزت سے یمنہ کا ہاتھ مانگا تھا۔۔۔
جبکہ یمنہ کو تو یہ سن کر ہی جھٹکا لگا گویا چائے حلق میں پھنس کر رہ گئ ہو۔۔۔ اسنے ایک بے ساختہ نگاہ اٹھا کر اس سے کچھ فاصلے پر موجود حماد پر ڈالی جو بابا اور دائم کیساتھ باتوں میں مشغول تھا۔۔۔ وہ اسکی جانب متوجہ نا تھا۔۔۔ یمنہ کے گلے میں ایک گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تو گویا آج کے مہمان اس چیز کے لئے تھے۔۔۔
واووو۔۔۔ یمنہ آپی اور فوٹوگرافر بھیاااا۔۔۔۔ آمیزنگ جوڑی۔۔۔۔ شہرین تو چہک کر اچھل ہی پڑی تھی جبکہ یمنہ نے بے ساختہ اسکے ہاتھ پر چٹکی کاٹی۔۔۔ وہ منہ بسور کر رہ گئ۔۔۔
بیٹا حماد ہمارے گھر کا بچہ ہے۔۔۔ دیکھا بھالا ہے۔۔۔ ماشاللہ سے بہت نیک اور شریف بچہ ہے ہمیں بھلا کیا اعتراض ہو گا۔۔۔ دادا جان انکی بات سنتے مسکرا کر گویا ہوئے تو ماں اور بابا بھی مسکرا دیئے۔۔۔ وہ سب تو دل و جان سے راضی تھے۔۔۔ مزید ایمن کے انداز نے انہیں اور متاثر کیا تھا۔۔۔
یمنہ کو وہاں بیٹھنا دوبھر ہوا۔۔۔ 
آج ہی تو دائم نے اس سے کہا تھا کے تم فکر مت کرو اول تو ابھی ہوا بھی تو زیادہ سے زیادہ رشتہ ہی طے ہوگا تمہاری ڈگڑی مکمل ہونے تک کوئی تمہیں شادی کا نہیں کہے گا۔۔۔ مگر وہ کب جانتی تھی کے سب اتنی جلدی ہو جائے گا۔۔۔
جاو شیرین فریج سے مٹھائی نکال لاو۔۔۔ ماں کے کہنے پر شیرین بھاگتی ہوئی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
یمنہ وہاں سے اٹھنے کو پرتول رہی تھی جب ایمن نے اپنے ہینڈ بیگ سے ایک مخملی ڈبی نکالتے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
وہ ہونق بنی اسے دیکھتی ہی رہ گئ جبکہ ایمن اس ڈبی سے نفیس سی رنگ نکال کر اسکی انگلی میں پہنا چکی تھی۔۔۔
یہ کوئی منگنی کی رسم نہیں کی میں نے آنٹی جی۔۔۔ وہ باقاعدہ ہم آپ سب کی رضامندی سے کریں گے۔۔۔ یہ میری جانب سے میری بھابھی کے لئے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر یمنہ کے ماتھے کا بوسہ لیتی گویا ہوئی۔۔۔۔ 
دفعتاً دائم کا فون بجا تو وہ کال رسیو کرتا باہر نکل گیا۔۔۔
اگلے ہفتے عائزل اور داود کی شادی ہے تو انکی مہندی کے روز یمنہ اور حماد کی انگیجمنٹ رکھ لیتے ہیں۔۔۔ کیا خیال ہیں بابا جان۔۔۔ احمد خان بات کرتے باپ کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
جبکہ یمنہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی وہاں سے اٹھتی چلی گئ۔۔۔
ہاں کیوں نہیں نیک کام میں دیری کیسے۔۔۔۔
جبکہ اس بار جھٹکا لگنے کی باری عائزل کی تھی۔۔۔ وہ جو اب تک ماں کے ساتھ چپکی بیٹھی مسکرا کر سب دیکھ رہی تھی اس بات پر فوراً چونک اٹھی ۔۔۔ اسنے تو بیٹھنے کے لئے جگہ بھی وہ منتخب کی تھی جہاں اسکی دائم کی جانب پشت تھی۔۔۔
اب اس بات پر اسنے باقاعدہ مر کر اسے دیکھنا چاہا۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ وہ تو وہاں تھا ہی نہیں۔۔۔
تو کیا وہ گھر والوں کے اس فیصلے سے آگاہ بھی تھا یا ابھی تک بے خبر ہی تھا۔۔۔
جو بھی تھا عائزل کو اب گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔
*****
ہائی وے پر پولیس موبائلز کے چلتے ہوٹرز اور مسلسل ہیوی بائیک کے تعاقب میں جاتی ہر رکاوٹ کو توڑتی ہواوں سے باتیں کرتیں رفتار دل دہلا رہی تھی۔۔۔
دونوں میں جیسے زندگی موت کا مقابلہ چل رہا تھا ۔۔۔ نا ہیوی بائیک والا ہار ماننے کو تیار تھا اور نا ہی پولیس موبائلز۔۔۔
دفعتاً آگے پیچھے آتے دو ٹرالر کے بالکل سڑک روک لینے پر آن مہارت سے بائیک زمین کی جانب ٹیڑھی کرتا انکے سڑک بلاک کرنے سے پہلے ہوا کی رفتار سے اندر سے گزر گیا۔۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے اسنے مضبوطی سے حسن کو اپنے ساتھ دبوچ رکھا تھا جو اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر گلا پھاڑے رونے لگا تھا۔۔۔
اسکے رونے کی آواز آن کا دل دہلاتی اسکا فوکس ہٹا رہی تھی۔۔۔
آج حسن کو ساتھ لانا اسکی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔۔
وہ کیسے بھی کر کے ان موبائلز کو ڈاج دے دیتا اگر حسن اسکے ساتھ نا ہوتا۔۔۔۔
حسن کا اسکے ہاتھوں سے پھسل پھسل جانا اسکے ہاتھ پاوں پھلا رہا تھا۔۔۔
بیٹا اسے جان سے زیادہ عزیز تھا اور اسکی غیر ہوتی حالت اسکا دماغ مفلوج کر رہی تھی۔۔۔
وہ بیٹے کو قابو کرنے کی خاطر بائیک کی سپیڈ سلو نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ یہ اسکی زندگی کا معاملہ تھا کیونکہ پچھلے ہفتے کئے جانے والے سکیم سے وہ خود باخوبی آگاہ تھا مگر ایک ہفتے تک کوئی پیش رفت نا ہونے کی صورت وہ ریلیکس ہو گیا تھا۔۔
بائیک کی سپیڈ سلو نا کرتا تو شاید خوف کے باعث اس ننھی جان کا ننھا سا ہارٹ فیل ہو جاتا۔۔۔
حسن۔۔۔ حسن ۔۔سیدھے ہو بیٹا۔۔۔۔
ہواوں کو چیرتی رفتار میں ہوا کے تھپیڑے کسی تمانچے کی مانند منہ پر پڑ رہے تھے ۔۔ اسکی شرٹ بھی بے طرح پھرپھڑاتی پیچھے کو محو پرواز تھی۔۔۔۔ایسے میں حسن کا رو رو کر نیم جان ہوتے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑنا آن کے جسم سے روح کھینچ رہا تھا۔۔۔
کاش۔۔۔۔ کاش ۔۔۔ کسی طرح وہ بیٹے کو کسی محفوظ مقام پر چھوڑ دے۔۔۔ پھر اسکے لئے کچھ مشکل نا تھا۔۔۔
موٹر وے پولیس سے لائن کنیکٹ کرو۔۔۔۔۔۔ بائیک کا نمبر سینڈ کر کے سب کو الڑت کرو ۔۔۔
الڑٹ سا بیٹھا ضامن اہلکار کو بریفینگ دیتا گویا ہوا۔۔۔
ساتھ ہی پورے علاقے کے موٹر وے پولیس کو وائرلیس جا چکی تھی۔۔۔
شٹ۔۔ شٹ ۔۔۔ شٹ۔۔۔۔
ہیوی ٹریفک کے باعث راستہ خطرناک ہو رہا تھا۔۔۔۔
پیچھے موبائلز ہنوز آ رہی تھیں۔۔۔ جب اسنے پیچھے اپنا اور موبائلز کو فاصلہ ناپنے کو چہرا موڑا۔۔۔
سیکنڈ کے حساب سے چہرا واپس موڑتے وہ سامنے آتے ٹرک سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔۔۔
زن کی سی رفتار سے جاتے جاتے اسکا بازو بے طرح ٹرک سے رگڑ کھاتا چھل گیا۔۔۔
سی۔۔۔ درد کی شدید لہر کے باعث وہ دہرا ہوا۔۔۔۔ خون کی بوندیں بے طرح بازو رنگتی چلی گئیں۔۔۔
گرفت چھوٹی اور گولی کی سی رفتار سے اسکا بیٹا کسی فٹ بال کی مانند ہاتھ سے چھوٹا اور سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکراتا دور تک اچھلتا چلا گیا۔۔۔
حسننننننننننن۔۔۔۔۔ وہ پوری شدت سے چلایا۔۔۔ جیسے کسی نے ساتھ ہی جسم سے روح بے دردی سے نوچ کھینچی ہو۔۔۔
آنکھیں ابل کر باہر آ گئیں جبکہ جسم بے جان ہونے لگا۔۔۔
اسکی جان۔۔۔ اسکا بیٹا۔۔۔ اسکا شہزادہ۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے۔۔۔۔ آنکھ سے آنسو نہیں گویا خون چھلکا تھا۔۔۔
دل ڈھرکنا بھولا نا تھا۔۔۔ وہ پھٹ گیا تھا۔۔۔
ہر چیز جیسے سلو موشن میں ہو گئ تھی۔۔۔ لمحوں کا کھیل تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اور بائیک سے گرفت چھوٹ گئ۔۔۔۔
تیز رفتار سے آتے ٹرالے سے بائیک بے ہنگم انداز میں ٹکرائی اور کئ فٹ تک اسکے ساتھ گھسیٹتی چلی گئ۔۔۔
یکدم ہی ہر طرف ہارن کا بے ہنگم شور ابھرا تھا اور پھر جیسے سب ساکت ہوگیا۔۔۔
ہائی وے پر جاتی ہر گاڑی اس لرزہ خیر ایکسیڈنٹ کے باعث گویا اپنی اپنی جگہ پر ساکت ہوگئ۔۔۔
تینوں موبائلز یہ سب ہوتا دیکھ بیک وقت روڈ کے درمیان رکیں۔۔۔ ضامن کے ساتھ کئ اہلکار چھلانگیں لگاتے اندر سے باہر نکلے۔۔۔
حواس باختہ سے ضامن نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اپنے سے کچھ فاصلے پر موجود خون میں لٹ پٹ اس معصوم سے بچے کے لاشے کو دیکھا اور پھر کچھ فاصلے پر موجود اس شخص کو۔۔۔
اس شعبے سے منسلک ہونے کے بعد سے اسنے بہت برے سے برے واقعات دیکھے تھے لیکن آج یہاں اس معصوم سے بچے کا حال اسے خون کے آنسو رلا گیا تھا۔۔۔۔
ون ون ٹو ٹو پر کال کرو۔۔۔ اسنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود کو کمپوز کرتے اپنے حواس بحال کرتے کانسٹیبل سے کہا۔۔۔
*******
داود اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھا کنپتی سہلا رہا تھا۔۔۔ بیڈ پر اسکی ننھی پری محو استراحت تھی۔۔۔  اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ بار بار دائم کی باتیں یاد آتیں اسکے دماغ میں جھکڑ سے چلا رہی تھیں۔۔۔ 
عائزل کو ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔ یہ سوچ ہی دماغ مفلوج کرتی تھی۔۔۔
اسنے ہر ہر انداز سے اس واقعہ کو سوچا تھا۔۔۔ اور دماغ جو سگنل دے رہا تھا ان پر تفتیش کرنا سوہان روح تھا۔۔۔
اسنے ایک سنجیدہ نگاہ واش روم کے بند دروازے پر ڈالی جہاں سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی اور سامنے کانچ کی میز سے موبائل اٹھا کر اسکا لاک کھولنے لگا۔۔۔
کسی انتہائی سوچ کے تحت وہ موبائل کا ہر ممکنا فولڈ کھول رہا تھا۔۔۔۔ اور جیسے جیسے وہ ایک بعد اگلی فائل چیک کر رہا تھا اسکی حسیات مفلوج ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔ ہاتھ میں تھاما موبائل تک کپکپانے لگا تھا۔۔۔۔ 
اسنے کرب سے آنکھیں میچیں اور اپنا موبائل اٹھا کر نمبر ملانے لگا۔۔۔
ہیلو دائم خان۔۔۔ میں داود بات کر رہا ہوں۔۔۔
کیا ہم مل سکتے ہیں۔۔۔ کچھ ہے جو مجھے اس کیس کے بارے میں شیئر کرنا ہے۔۔۔ 
اس سے ملنے کا وقت مقرر کر کے فون بند ہونے کے بعد وہ موبائل اٹھاتا باہر نکل آیا۔۔۔۔
******
ایک ساتھ دو لاشے گھر میں آتے دیکھ کنول  کے سر پر آسمان ٹوٹا تھا۔۔۔ قیامت سے پہلے قیامت کسے کہتے ہیں یہ اسنے اب جانا تھا اور پوری جزئیات سے جانا تھا۔۔۔ اس اچانک افتاد پر تو وہ حوش و حواس ہی کھو بیٹھی تھی۔۔۔ گویا انکے ساتھ اسکا بھی دل بند ہوا جا رہا ہو۔۔۔
وہ تو ایک لاحاصل بحث کے بعد آن کے لئے کھانا تیار کرتی اسکی واپسی کی منتظر تھی۔۔۔ ایسا ہی تو تھا انکا رشتہ۔۔۔ اسقدر تلخ کلامی کے بعد کنول کی پیش قدمی پر آن بھی سب بھلاتا نارمل ہو جاتا۔۔۔ اور اب بھی یقیناً ایسا ہی ہونا تھا۔۔۔  یہ اسکی بے بسی کی انتہا تھی کے وہ آن کو خود سے خفا بھی نہیں رہنے دیتی تھی۔۔۔۔
وہ تو ان دونوں کی واپسی کی منتظر تھی۔۔۔ مگر یہ کیا۔۔۔ وہ واپس آیا بھی تو کن حالوں میں۔۔۔
لحت جگر اور جان سے پیارے شوہر کی یہ حالت دیکھ وہ تڑپ تڑپ گی۔۔۔
منظر ناقابل برداشت تھا۔۔۔ اور اذیت حد سے سوا۔۔۔ جیسے کوئی اندر رفتہ رفتہ دل چیر رہا ہو۔۔ بڑی ہی بے رحمی سے ضربیں لگائی جا رہی ہوں۔۔۔ جیسے وہ تکلیف دل سے رفتہ رفتہ سرائیت کرتی پورے بدن میں پھیلتی اسکی حسیات اور اعضا مفلوج کر رہی ہو۔۔۔۔نہیں وہ ایسے کیسے جا سکتا تھا بھلا۔۔۔ 
اسکی ڈائری میں تو اگلے بیس سالوں کی پلانینگ ہوئی پڑی تھی۔۔۔ کونسا پیسا کہاں خرچ کر کے کیا کیا بنانا تھا۔۔۔
ایسے کیسے وہ بند آنکھوں اور بھینچے لبوں کے ساتھ اسکے سامنے پڑا تھا۔۔۔ اسنے تو جاگتی آنکھوں سے ڈھیروں خواب دیکھے تھے۔۔۔
اسے تو اپنی قوت پرواز پر دنیا تسخیر کرنی تھی تو وہ اب خاموش کیسے لیٹا پڑا تھا۔۔۔ اور اس حال میں۔۔۔ اتنی بری حالت میں کے کنول سے اسکی شناخت مشکل تھی۔۔۔ 
وہ اس مغرور شہزادے کی حالت پر بلک بلک کر رو دی۔۔۔۔ اسنے ایک نگاہ اسکے شان سے تیار کردہ اس محل پر ڈالی جہاں آج اسکا آخری دن تھا۔۔۔ آن کس کام کا یہ سب۔۔۔۔ اندر کوئی کرلا اٹھا تھا۔۔۔ 
جا کہاں رہے ہیں آپ۔ آن۔۔ اس دو گز زمیں میں جہاں ہر خاص و عام نے جانا ہے۔۔۔ 
وہ اسکا پچکا ہاتھ تھامے ٹرپ ٹرپ گئ۔۔۔۔ فائدہ اتنا مال اکھٹا کرنے کا آن۔۔۔ جا تو اسی کفن میں رہے ہیں۔۔۔ اس سب کا کیا۔۔۔
اسکا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔
کس حال میں آپکو الوداع کہوں۔۔۔ کس دل سے آپکو رخصت کروں آن۔۔۔ کس کس کے پاس جا کر آپکے لئے معافی طلب کروں کے آپکا اگلا سفر آسان رہے۔۔۔۔ میں مر رہی ہوں آن ۔۔۔ختم ہو رہی ہوں۔۔۔ آپ کو اچھے سے الوداع کرتی تو دل کو پھر بھی سکون رہتا۔۔۔ اب کیااااا کروںنن۔۔ وہ دہری ہوتی چیخی۔
کس کس کی بددعاوں کے کنکر آپکی راہوں سے ہٹاوں آن۔۔۔ میں کیا کروںںنننننن۔۔۔۔۔۔
آن یہ کیا کیا آپ نے۔۔۔ کیوں نہیں سمجھی میری بات۔۔۔۔ دیکھیں یہ زندگی کتنی بے اعتباری چیز ہے۔۔۔ کونسی سانس آپکی آخری سانس ہے یہاں کون جانے۔۔۔ کیوں وقت رہتے توبہ نہیں کی۔۔۔ آن کیوں نہیں سمجھے آپ۔۔۔۔ دیکھیں موت نے لمحے کی مہلت نا دی۔۔۔۔۔وہ اسکی چارپائی سے سر ٹکائے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔
آن جانے سے پہلے ہی توبہ کر لیتے۔۔۔ اپنے رب سے معافی تو مانگ لیتے۔۔۔۔ میں کیا کروں آن۔۔۔۔ کیسے اپنے دل کو سکون دوں۔۔۔ کیوں وقت رہتے راہ راست پر نا آئے آپ۔۔۔  کتنے بے حس ہیں آپ۔۔۔ جاتے جاتے میرا آخری سہارا بھی چھیں لیا۔۔۔
لے گئے میرے بیٹے کو بھی ساتھ جس کے لئے یہ سب اکھٹا کر رہے تھے۔۔۔ جسکا فیوچر سکیور کرنا چاہتے تھے آپ۔۔۔ چیخ چیخ کر اسکی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔
مانا کے آپکو اپنے بیٹے سے محبت تھی بے تحاشہ محبت۔۔۔ اتنی کے آپ نے اسکی ماں کی بھی پرواہ نا کی۔۔۔۔ میرا بچہ تو دے جاتے آن۔۔۔۔
سسک سسک کر وہ حوش و حواس سے بیگانہ ہوتی وہیں جھول گئ۔۔شوہر کا دکھ کیا کم تھا کے لخت جگر کا دکھ بھی دل چھلنی کر رہا تھا۔۔۔
کون اسے اندر لایا۔۔۔ کب کس نے کیا کیا۔۔۔ کس وقت اسکا شوہر اور بیٹا اسے اس دنیا میں تنہا چھوڑتے اس گھر سے رخصت ہوگئے وہ کچھ بھی تو نا جان پائی تھی۔۔۔۔
وہ لوگوں کی آہوں بدعاوں اور خون سے بنے اس خوبصورت محل میں تنہا رہ گئ۔۔۔  جہاں کی ہر ہر چیز امپوڑٹڈ تھی۔۔۔ لیکن اسکا مالک کہاں تھا بھلا وہ جب جب یہ سوچتی حواس کھوتی جاتی۔۔۔
*****
فون داود کا تھا۔۔۔ اور داود کا فون سنتے ہی وہ بنا وہاں مزید رکے ضامن سے رابطہ استوار کر کے شہر کے لئے نکل گیا تھا۔۔۔
داود اسے اس کیس کے بارے میں کوئی اہم پیش رفت بتانا چاہتا تھا اور اس وقت اسکی زندگی میں سب سے اہم مسلہ یہ ہی تھا۔۔
وہاں پہنچتے ہی وہ ضامن کے سر پر سوار تھا۔۔۔
یار ابھی پہنچے ہو تھوڑا ریسٹ تو کر لو۔۔۔ وہ اسکی حالت دیکھ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔
ایک مرتبہ یہ کیس حل ہو جائے پھر ریسٹ ہی ریسٹ ہوگئ۔۔۔ لیکن ابھی کے لئے سب سے اہم یہ ہی ہے۔۔۔
فوراً داود سے رابطہ استوار کر کے ملنے کی جگہ مقرر ہوئی۔۔۔ داود نے اسے اپنے آفس میں ہی بلایا تھا۔۔۔
بنا مزید دیر کئے وہ کچھ ہی دیر میں اسکے آفس موجود تھے۔۔۔
داود ریوالونگ چیئر پر بیٹھا تھا جبکہ وہ دونوں انکے سامنے میز کے اس پار براجمان تھے۔۔۔
دائم داود کو دیکھ کر ٹھٹھکا جسکی آنکھیں رتجگے کی غمازی تھیں۔۔۔
میں تم سے شرمندہ ہوں داود۔۔۔ اور اس سے بھی زیادہ عائزل سے ۔۔۔ یا شاید سب سے زیادہ اپنے آپ سے ہی۔۔۔ وہ کرب سے ماتھا مسلتا گویا ہوا۔۔۔
ضامن اور دائم نے ناسمجھی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
وہ میری ذمہ داری تھی۔۔۔ اور عفیفہ مجھے آخری دم تک یہ ہی کہتی رہی کے میری بہن کا خیال رکھنا وہ بہت معصوم ہے جسے دنیا داری نہیں آتی۔۔۔ تب اسکی باتیں اتنی گہرائی سے سمجھ نہیں آئی تھیں۔۔۔ اب آ رہی ہیں۔۔۔
میرے ہی گھر میں میری ہی ناک کے نیچے اتنا گھناونا کھیل کھیلا جاتا رہا اور مجھے کچھ خبر ہی نا ہو سکی۔۔۔ اور اب۔۔۔
اور کیا اب تم اصل مجرم تک پہنچ چکے ہو۔۔۔ داود کی تفصیل دائم کا تنفس پھولا رہی تھی۔۔۔ مزید لمبی تفصیل کے بعد آصل بات سننے تک کا صبر نا کرتے وہ بے صبری سے مین پوائںٹ پر آیا۔۔۔
اسکے ہر ہر انداز میں بے چینی تھی کہ داود ناجانے اگلا انکشاف کیا کرے۔۔۔
داود خاموشی سے چند پل اسے دیکھتا رہا پھر ایک فائل اور موبائل فون اسکی جانب بڑھاتا گویا ہوا۔۔۔
اس میں میرے وائی فائے کا پچھلے چار پانچ ماہ کا ریکارڈ ہے۔۔۔ اور اسکے ساتھ کچھ ثبوت۔۔۔
دائم نے بے صبری سے موبائل تھاما جبکہ ضامن الجھتا ہوا فائل پر جھک چکا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد دونوں نے اکھٹے نگاہیں اٹھاتے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر داود کی جانب۔۔۔
کون ہے یہ۔۔۔ دائم کی سرد بےتاثر آواز ابھری جیسے بس نا چل رہا ہو۔۔۔ مجرم اسکے سامنے آئے اور وہ اسے تہس نہس کر دے۔۔۔ اتنی بری طرح سے کے اسکی سات نسلیں تک کپکپا جائیں۔۔۔ 
تمہاری اور عائزل کی مجرم۔۔۔ فیصلہ تم لوگوں پر چھوڑتا ہوں تم دونوں جو چاہو۔۔۔ اسنے اذیت سے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
عائزل کو تو تم اس قصے سے نکال ہی دو۔۔  یہ مجرم جس سزا کی حقدار ہے شاید عائزل وہ بھی برداشت نا کر سکے۔۔۔ اسنے شدت ضبط سے مٹھی بھینچی۔  
ہمارے نکاح سے پہلے عائزل نے مجھ سے دو ماہ کا وقت مانگا تھا۔۔۔ دو ماہ بعد اسکے پیپرز تھے اور وہ شادی پیپرز کے بعد کرنا چاہتی تھی۔۔۔
بات کرتے وہ رکا۔۔۔ اور گہری سانس خارج کی۔۔۔
بس تب مجھ سے ایک غلطی ہوگئ۔۔۔  وہ ٹوٹے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
جبکہ دائم چونک کر اسکی جانب ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4