Scheme novel 38th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 38th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
_________
اڑتیسویں قسط۔۔۔
رات عائزل یمنہ اور شیرین کے ساتھ انکے کمرے میں ہی رکی تھی۔۔۔ شیرین کافی چلبلی سی لڑکی تھی۔۔۔۔ بہت جلد وہ عائزل کیساتھ گھل مل گئ ۔۔۔
اسے چھوٹی چھوٹی باتوں اور کاموں کے لئے بار بار یمنہ کے پیچھے پیچھے پھرتا دیکھ اسے بے ساختہ اپنی بجو کی یاد آئی۔۔۔
یمنہ آپی مجھ پر ٹیل پونی زیادہ سوٹ کرتی ہے یا چٹیا۔۔۔ شیرین آئینے کے سامنے کھڑی بالوں کو سمیٹ کے ہاتھ میں تھامے منہ کے زوایے بنا کر مختلف اینگلز سے دیکھتی یمنہ سے مستفسر ہوئی۔۔۔
ڈریسنگ ٹیبل سے کچھ فاصلے پر موجود صوفہ کم بیڈ پر اپنے کتابیں بکھرائے بیٹھی یمنہ نے کتاب سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ جبکہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی عائزل بھی مسکرا کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
ٹیل پونی۔۔۔
جواب غیر متوقع طور پر عائزل کی جانب سے آیا تھا۔۔۔ شیرین خوشگواریت سے اسکی جانب پلٹی۔۔۔ بال ہاتھ سے چھوٹے اور پشت پر بکھرتے چلے گئے
واقعی۔۔۔
نہیں چٹیا بھی اچھی لگتی ہوگی۔۔۔ بلکہ تمہارے کھلے بال تم پر سب سے زیادہ سوٹ کر رہے ہیں۔۔۔ تم ہو ہی اتنی پیاری کے تم پر سب سوٹ کرتا ہے۔۔۔ عائزل صدق دل سے گویا ہوئی۔۔۔
اب ایسے نا کہیں آپ بھابھی۔۔۔ آپ تجاہل عارفہ سے کام لے رہی ہیں۔۔۔ وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتی اسکے پاس ہی دھپ سے بیٹھی۔۔۔
مطلب۔۔ عائزل الجھی۔۔۔
مطلب کتنی پیاری ہیں آپ۔۔۔۔ سکن دیکھیں اپنی۔۔۔ جیسے دودھ ملائی۔۔ اتنی سوفٹ۔۔۔ اسنے بے ساختہ عائزل کے دونوں گال کھینچے۔۔۔ اور بال دیکھیں اپنے۔۔۔ ماشا اللہ۔۔۔
بھابھی آپ پر تو کسی گڑیا کا گمان ہوتا ہے۔۔۔ ویسے تو میرے بھیا بھی کسی سے کم نہیں۔۔۔ وہ کندھے اچکاتی اترائی۔۔۔
لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کے بھیا کیسے آپ پر دل ہارے ہونگے۔۔۔ آپ ہیں ہی اس قابل کے آپکو دیکھتے ہی آپ پر دل ہارا جائے۔۔۔
بات کہاں سے چلی تھی اور کہاں چل نکلی تھی۔۔۔ عائزل کو اسکی باتیں گھبراہٹ میں مبتلا کرنے لگی تھیں۔۔۔
دائم خان اور اس سے محبت۔۔۔ وہ جیسے جھرجھری لے کر رہ گئ۔۔
ویسے بھابھی بھائی نے آپکو پہلی دفعہ دیکھا تو کیا کہا تھا۔۔۔ مطلب کے آپکی تعریف۔۔۔۔
شیرین بات یہاں تمہارے بالوں کی ہو رہی تھی نا۔۔۔
وہ خجالت سے کہتی اسے ٹوک گئ۔۔۔
اچھا چلیں یہ بتائیں بھیا آپکو کیسے لگے۔۔۔ میرا مطلب ہے وہ کشن اٹھا کر گود میں رکھتی مزید اسکی جانب کھسکی۔۔ جبکہ یمنہ سر نفی میں ہلاتی واپس اپنے کام کی جانب متوجہ ہو گئ ۔۔۔۔ حاب سابق اسکی ٹر ٹر شروع ہو چکی تھی۔
ایک دنیا کی لڑکیاں میرے بھائی پر جان چھڑکتی ہیں۔۔۔ لیکن بھائی کبھی کسی کی طرف متوجہ نا ہوئے۔۔ پر۔۔۔
یمنہ کے دل سے ایک ہوک سی نکلی۔۔۔ اسنے سر جھٹکتے توجہ اپنے کام پر مرکوز کرنی چاہی۔۔۔
پر آپکو دیکھتے ہی۔۔۔
شیرین پلیززز خاموش ہو جاو۔۔۔ وہ نظریں چراتی جھجھک کر گویا ہوئی۔۔۔ بس وہ اسے خاموش کروا دینا چاہتی تھی۔۔۔
دائم خان کے حوالے سے یہ سب سوچنا بھی سوہان روح تھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ بھابھی آپ شرما رہی ہیں۔۔۔ دیکھیں یمنہ آپی بھابھی بلش کر رہی ہیں۔۔۔ وہ چمکتی نگاہوں سے اسے دیکھتی یمنہ کو متوجہ کرتی چہکی۔۔۔
دیکھو شیرین اگر تم نے مجھے مزید تنگ کیا نا تو میں امی کو تمہاری شکایت لگاوں گی۔۔۔
شیرین کے انداز دیکھ وہ روہانسی ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
مت تنگ کرو اسے شیرین۔۔۔ یمنہ نے کتاب سے نگاہیں اٹھاتے اسے تنبیہ کی۔۔۔
اوہ۔۔۔ میری معصوم سی بھابھی معصوم دھمکیاں بھی دیتی ہیں۔۔۔ اسنے لاڈ سے دوبارہ اسکے گال کھینچے۔۔۔
عائزل نے بےبسی سے اسے دیکھا۔۔۔
لو یو بھابھی ۔۔۔۔۔ اینڈ تھینکس ٹو بھیا۔۔۔
مجھے اتنی پیاری ڈول دینے کے لئے۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکی گود میں سر رکھ گئ۔۔۔ اسے دیکھ عائزل بھی مسکرا دی۔۔۔
ریممبر۔۔۔ یہ ڈول تمہاری نہیں۔۔۔ یمنہ کتاب پر جھکے مسکراہٹ دابے گویا ہوئی۔۔۔
جانتی ہوں یہ بھیا کی ڈول ہے لیکن انکی غیر موجودگی میں یہ میری ہیں۔۔۔ وہ اسی جوش سے گویا ہوئی جبکہ عائزل سر تھام کر رہ گئ۔۔۔
جس شخص کے حوالے سے وہ سب تصور کئے بیٹھی تھیں ناجانے وہ شخص اسکے لئے کیا سوچے بیٹھا تھا۔۔۔ وہ دکھ سے سوچ کر رہ گئ۔۔۔
******
اگلی صبح بہت البیلی تھی۔۔۔ گھر تو پہلے ہی بہت صاف ستھرا تھا لیکن آج ماں خصوصی طور پر پاس کھڑے ہو کر ہر کام کروا رہی تھیں۔۔ ہر چیز ازسر نو سنواری جا رہی تھی۔۔۔
عائزل بس مسکراتی نگاہوں سے چاروں جانب دیکھ رہی تھی کتنا سکون تھا یہاں۔۔۔ کتنی اپنائیت تھی یہاں کے لوگوں میں۔۔۔ عائزل کو تو لگتا کے وہ دائم کی نہیں بلکہ اسکی ماں ہیں۔۔ کتنی جلدی گھل مل گئ تھیں وہ اس سے۔۔۔
ہر بات میں اس سے مشورہ لیتیں اسکی رائے کو اہمیت دیتیں۔۔۔ اسکی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتیں۔۔
بے ساختہ اسکے دل سے ہوک نکلتی کے کاش یہ دائم کے حوالے سے اسکی زندگی میں نا آتیں۔۔۔
اتنے پیارے اور چاہنے والے رشتے ملے بھی تو کس توسط سے۔۔۔ اور وہ خود انتہا کا ظالم پتہ نہیں کس پر گیا تھا۔۔۔
صرف یہ ہی ایک مقام تھا جہاں آ کر وہ بے بس ہو جاتی۔۔۔ کاش کسی طرح سے دائم نامی حقیقت اسکی زندگی سے غائب ہو جائے۔۔۔ سب کچھ ایسے ہی ہو بس ان سب میں دائم نامی کوئی شخص شامل نا ہو۔۔۔ وہ تلخی سے مسکرائی۔۔۔
شیرین آج پہلی دفعہ کچھ بنا رہی تھی۔۔
آج فروٹ ٹرائفل میں بناوں گی اور یمنہ آپی آپ مجھے فروٹس کاٹ کر دیں گی۔۔۔ صبح ہی صبح اسنے اعلانیہ کہا تھا۔۔۔
وہ دونوں کچن میں گھسی ہوئیں تھیں جبکہ وہ باہر ماں کے ساتھ بیٹھی ارد گرد سبھی تیاریاں ہوتیں دیکھ رہی تھیں۔۔۔
ہسی مذاق شیرین کے چٹکلے اور یمنہ کا شیرین کی کیئر کرنا کبھی اکتا کر گھوریوں سے نوازنا۔۔۔ وقت وہاں کتنی خوش اسلوبی سے کٹ رہا تھا۔۔۔
وہاں آکر عائزل کی طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوئے تھے۔۔۔ اسکے دل جیسے ایک مرتبہ پھر سے جینے لگا تھا۔۔۔ ماحول بدلنے سے یاسیت جاتی رہی تھی۔۔۔ دل خواب سجانے لگا تھا۔۔۔
بس ایک دائم خان کا خیال آ کر اسکے اندر کرواہٹ پیدا نا کرتا تو باقی سب خوشگوار تھا۔۔۔۔ بے حد خوشگوار افسانوی سا۔۔۔
بیٹا اب آپ بھی تیار ہو جاو وہ لوگ آتے ہی ہونگے۔۔۔ سر شام ہی عصر کے بعد ماں نے اسے کمرے میں بھیج دیا ۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر اسنے تیار ہونے کی نیت سے اپنے کپڑے نکالے۔۔۔ صد شکر کے اس شخص نے اسے یہاں آنے سے پہلے کپڑے ڈلا دیئے تھے ورنہ یہاں اسکی کتنی سبکی ہوتی۔۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔۔
گھر سے تو خالی ہاتھ ہی آئی تھی۔۔۔۔ وہ وقت اور اسکا تصور بھی اسکے اندر تلخیاں گھول جاتا۔۔۔
آتے ہی اگلے دن وہ شخص اسے کسی نادیدہ بوجھ کی مانند بوا کے پاس چھوڑ آیا۔۔۔ وہاں بوا کی عنایت کردہ چند کپڑوں کے جوڑوں سے ابھی تک وقت کٹ رہا تھا مگر وہ کپڑے یہاں ان لوگوں کے درمیان ذیب تن کرتی تو وہ خود ہی احساس کمتری کے بوجھ تلے دب جاتی۔۔۔
جتنا ان لوگوں کے پاس رزق تھا اتنے ہی وہ لوگ عاجزی پسند اور رب کی جانب جھکے ہوئے تھے۔۔۔ پتہ نہیں اکلوتا سپوٹ کس پر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
اپنی ہی سوچوں میں مگن اسنے ایک لباس نکالا۔۔۔
وہ ریڈ کلر کی ٹخنوں کو چھوتی فراک تھی جس پر گولڈن نفیس سا کام ہوا تھا۔۔۔
اسے جوڑا خاصا پسند آیا۔۔۔
کچھ ہی لمحوں بعد وہ لباس زیب تن کئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی۔۔۔
سرخ فراک میں وہ بنا کسی آرائش کے ہی کھلتا گلاب لگ رہی تھی۔۔۔
اتنے دنوں تک رف سے حلیے میں رہنے کے بعد آج خود کو آئینے کے سامنے یوں فریش سا دیکھ وہ خود ہی مسکرا اٹھی۔۔۔۔۔
بال بنا کر آنچل سر پر لیٹی وہ باہر کی جانب بڑھی۔۔۔
ارررےےےے اتنی جلدی کیسے۔۔۔۔ مطلب مانا کے آپکو کسی تیاری کی ضرورت نہیں ۔۔۔ مگر ایسے تو نہیں جانے دوں گی میں آپکو۔۔۔
دروازے کے پاس ہی اندر آتی شیرین اسے تھامتی واپس اندر بڑھی۔۔۔
مطلب۔۔۔ وہ الجھی۔۔۔
مطلب آپ خاموشی سے یہاں بیٹھیں۔۔۔ وہ اسے ڈریسنگ کے سامنے بیٹھاتی دراز سے چیزیں نکالنے لگی۔۔۔
اسے دیکھ عائزل کو ایک لمحہ لگا اسکی بات سمجھنے میں۔۔۔
شیرین دیکھو۔۔۔ وہ منمنائی۔۔۔
دیکھیں آپ میری بھابھی ہیں اور بھابھی کو لے کر میرے بہت سے ارمان ہیں۔۔۔ آپ اس وقت کچھ بھی بول نہیں سکتی ورنہ میں بھیا سے آپکی شکایت لگاوں گی۔۔۔
وہ بنا اسکی بات سنے اپنی ہی کہتی فاونڈیشن نکال کر اسکے چہرے پر لگانے لگی تھی۔۔۔
جبکہ عائزل کچھ کہنے کی خواہش میں لب سیئے خاموشی سے آنکھیں موند گئ۔۔۔
*****
دائم خان سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس پشاوری چپل پہنے ہاتھ پشت پر باندھے کھڑا تھا۔۔۔ بازوں کے کف کہنیوں تک فولڈ کر رکھے تھے البتہ بال جیل سے سیٹ تھے۔۔ چہرے پر ہلکی بڑھی شیو تھی وہ زمین پر کسی نادیدہ چیز کو دیکھتا سر ہاں میں ہلاتا محویت سے یمنہ کی بات سن رہا تھا جو اسکے سامنے لائٹ پنک کلر کی کیپری اور شارٹ شرٹ میں ملبوس سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہاتھ باندھے اس وقت اس سے اپنی شادی اور پڑھائی کے حوالے سے تحفظات بیان کر رہی تھی۔۔۔
وہ دونوں اس وقت لاوئنج کے ایک کونے میں کھڑے تھے یوں کے جیسے دائم جا رہا ہو اور یمنہ نے اسے جاتے جاتے آواز دے کر روکا ہو۔۔۔
بابا اور دادا جان لاوئنح کے دوسرے کونے میں بیٹھے گفت و شنید کر رہے تھے البتہ سامنے ہلکی آواز میں ایل سی ڈی چل رہی تھی۔۔۔
اسے ضروری کام تھا لیکن دادا جان نے اسے ہنگامی صورت میں واپس بلوایا تھا کے آج کے ڈنر میں اسکی موجودگی یقینی ہے۔۔۔
دائم مکمل یکسوئی سے اسکی بات سن رہا تھا جب انگوٹھے سے تھوڑی کھجاتے اچانک اسکی بے ساختہ نگاہ سیڑھیوں سے مسکرا سہج سہج کر قدم اٹھاتی نیچے آتی عائزل پر پڑی اور گویا وہیں ٹھٹھک کر رکی یا شاید فریز ہو گئ۔۔۔
سرخ ٹخنوں کو چھوتی فراک پہنے نازک سی سینڈل میں دودھیا پاوں مقید تھے۔۔۔ لائٹ سی لپ سٹک پر آنکھوں پر لگا لائنر اسکی غزال سی آنکھوں کو مزید دوآتشہ بنا رہا تھا ۔۔۔ سنہری آبشار کو ٹیل پونی میں مقید کئے سامنے چند آوارہ لٹیں اسکے ملائم سے چہرے پر پھسل رہی تھیں۔۔۔وہ سر پر لئے آنچل سے الجھتی اپنے آپ میں مگن نیچے آ رہی تھی۔۔۔ وہ جیسے ہی آنچل سر پر سیٹ کرتی وہ پھر سے پھسل جاتا۔۔۔
اسکے ہر اٹھتے قدم پر دائم کو اپنی ڈھرکنوں کا شور مزید بلند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
سہج سہج کر قدم اٹھاتی وہ اسے کوئی موم کی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔۔۔ وہ بے خود ہوا۔۔۔
وہ ہر حال میں ہی دل کو پیاری تھی لیکن آج وہ عام دونوں کی نسبت قہر ڈھا رہی تھی۔۔۔ یا یوں کہا جاتا کے اسکی سنگت میں آنے کے بعد وہ گڑیا رل گئ تھی جسے نا کھانے کا ہوش تھا نا پہننے کا۔۔۔
دفعتا سیڑھیوں کے وسط میں آ کر اپنے آنچل سے الجھتے عائزل کی بے ساختہ نگاہ نیچے کھڑے دائم پر پڑی تو گویا اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔۔۔ ایک پاوں سیڑھی پر جبکہ دوسرا پاوں دوسری سیڑھی کے دھانے پر رکھتے ہوا میں ہی معلق رہ گیا ۔۔۔
آنچل درست کرتے ہاتھ گویا وہیں فریز ہوگئے۔۔۔
دائم خان نے واضح اسکے چہرے سے مسکراہٹ سمٹتی اور آنکھوں میں خوف سمٹتے محسوس کیا۔۔۔
جیسے چہرے کی ساری شادابی کوئی ایک لمحے میں نوچ لے گیا ہو۔۔۔
اور عائزل وہ تو جیسے بھول ہی بیٹھی تھی کے یہاں اسکا سامنا دائم سے بھی ہوسکتا تھا۔ ۔ کل سے اسکی غیر موجودگی میں وہ خاصی پرسکون تھی۔۔۔
اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔
اگر جو اسنے گھر میں سبکو عائزل کے دھوکے کے بارے میں بتا دیا تو۔۔۔۔ وہ ابھی سے سب کے بدلتے رویے محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔ اسکا دل بے ساختہ ڈھارے مار کر رونے کو چاہا۔۔۔ کاش۔۔ کاش وہ آج یہاں نا ہوتا
ارے عائزل بیٹا آگی آپ۔۔۔ جلدی سے یہاں آو مجھے آپکی مدد چاہیے ۔۔۔
کچن سے نکلتی ماں اسے سیڑھیوں پر دیکھ گویا ہوئیں تو وہ بھی ہمت پکڑتی دائم سے نگاہیں چراتی سرپٹ انکی جانب بھاگی۔۔۔ آنچل سر سے پھسل گیا جبکہ سنہرے ریشم سے بالوں کی پونی اسکی ہر ہر جنبش پر جھول جھول گئ۔۔۔
دائم گہرا سانس خارج کرتا واپس یمنہ کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اسے گمان win تھا کہ اگر ماں اسے آواز نا دیتی تو شاید عائزل خوف کے زیر اثر وہیں گر جاتی۔۔۔
اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ وہ اتنی دور سے ہی نوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
***
سب کچھ تیار ہے بس وہ لوگ بھی پہنچتے ہی ہونگے۔۔۔ ماں کچن میں آ کر سب چیزوں کا جائزہ لیتیں جیسے خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئیں۔۔۔ جبکہ انکے پیچھے کھڑی عائزل گہرے گہرے سانس بھرتی خوف سے بند ہوتی ڈھرکنوں کو اعتدال پر لانے کی سعی کر رہی تھی۔۔۔۔
اسکے ہاتھ ہنوز کپکپا رہے تھے۔۔۔ کاش۔۔۔ کاش۔۔۔ دائم یہاں کسی کو کچھ نا بتائے۔۔۔ کتنے اچھے تھے سب۔۔۔ بالخصوص ماں۔۔۔
اسنے اپنے ہاتھوں کی لغزش پر قابو پانے کو آنچل کو زور سے مٹھیوں میں بھینچا۔۔۔
عائزل فریج سے فروٹ ٹرائفل نکالنا بچے۔۔۔
ماں کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑیں برتنوں میں کھانا نکال رہی تھیں۔۔۔ عائزل کی جانب انکی پشت تھی۔۔۔ ماں کی بات سن کر وہ تھوک نگلتے فریج کی جانب پلٹی۔۔۔
کپکپاتے ہاتھوں سے باول نکال کر واپس پلٹی جب غائب دماغی میں باول شیلف پر رکھتے رکھتے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔
چھانکے کی آواز کیساتھ باول کرچیوں میں بٹا اور فروٹ ٹرائفل ماربل لگے فرش پر نقش و نگار بناتا چلا گیا۔۔
آہہہہ۔۔۔ وہ خوفزدہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے زمین کو دیکھتی کپکپاتے ہاتھ منہ پر رکھتی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
آواز پر ماں بھی جھٹکے سے پلٹیں وہ نیچے دیکھتے انکا منہ کھلا رہ گیا۔۔
عائزل نے نم آنکھوں سے ماں کو دیکھتے چہرا نفی میں ہلایا۔۔۔
آہہہ۔۔۔ یہ کس نے کیا ماں۔۔۔ دفعتاً کچن میں داخل ہوتی نک سک سے تیار شیرین نیچے دیکھتی صدمے سے چیخ اٹھی۔۔۔ یہ اسکی آج کی دو گھنٹوں کی محنت کا نتیجہ تھا۔۔۔
عائزل نے اسے دیکھتے تھوک نگلا اور دو قدم پیچھے ہٹتے ماتھے پر ابھرتے پسینے کی بوندیں صاف کیں۔۔۔
دفعتا آواز پر دائم اور یمنہ بھی کچن کے دروازے میں آ کھڑے ہوئے۔۔۔
دائم کو وہاں دیکھ بے بسی کے شدید احساس تلے اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔۔
یہ۔۔۔یہ۔۔۔ میں نے نہیں کیا۔۔۔ خود ہی ہوگیا۔۔۔۔
عائزل کی خوفزدہ آواز پر سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ دائم لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
ارے بیٹا کیا ہوگیا ہے۔۔۔ فروٹ ٹرائفل ہی تھا۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔ عائزل کی حالت دیکھ ماں نے بے ساختہ اسے خود میں بھینچا۔۔۔ انکا سہارا پاتے وہ انکے ساتھ لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
ارے بھابھی مانا کے یہ میں نے بہت محنت سے بنایا تھا لیکن اتنا بھی نہیں کے اس کے لئے آپ رو رو کر ہلکان ہو جائیں۔۔۔
اسے یوں روتا دیکھ شیرین شاک سے نکلتی اسکی جانب بڑھی جبکہ دائم کچھ پل خاموشی سے اسے ماں کے گلے لگا دیکھتا رہا پھر خاموشی سے منظر سے ہٹ گیا۔۔۔ وہ باخوبی جانتا تھا یہ آنسو فروٹ ٹرائفل کے لئے نہیں تھے۔۔۔۔
ابھی تو وہ خود ہی کش مکش میں مبتلا تھا۔۔۔ ابھی تک تو وہ جانتی تک نا تھی کے دائم خان حقیقت سے آشنا ہے کے اسکے ساتھ سکیم عائزل نے نہیں کیا۔۔۔ لیکن جب وہ اصل مجرم کو منظر عام پر لانے کے بعد اسکے سامنے جاتا تو ناجانے اسکا ردعمل کیا ہوتا۔۔۔
ناجانے وہ اسکی کی گئ زیادتیوں پر اسے معاف کرتی بھی کے نہیں کے بحرحال محبت دائم خان نے کی تھی یہ عائزل کا مسلہ نا تھا۔۔۔
کسی بھی لڑکی کو اسکی شادی کے روز سب کے سامنے معتوب ٹھہرا کر اسے رسوا کر کے اس سے نکاح کے بعد ساتھ لیجانا اور اسکے بعد جو اب تک کے حالات تھے کسی بھی عام لڑکی کا ردعمل ایسے میں بھلا کیا ہوتا۔۔۔ وہ کرب سے سوچ کر رہ گیا۔۔ کیونکہ دماغ جو اسے جواب دے رہا تھا دل وہ ماننے سے انکاری تھا۔۔دفعتاً اسے باہر حماد اور اسکی بہن کے آجانے کی اطلاع ملی تو وہ سر جھٹکتا انہیں رسیو کرنے باہر کو بڑھا۔۔۔
*****

No comments