Header Ads

Scheme novel 37th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 37th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

سینتیسویں قسط۔۔۔۔
عائزل کی آنکھ کھلی تو کھڑکی سے باہر شام اتر رہی تھی۔۔۔ اتنے عرصے بعد وہ اسقدر سکون سے سوئی تھی۔۔۔ کیونکہ جب سے دائم خان اسکی زندگی میں آیا تھا تب سے سکون نامی چیز تو ویسے ہی اس سے روٹھ گئ تھی۔۔۔۔
پہلے وہ بوا کے پاس اسے چھوڑ آیا۔۔۔ اور وہاں تو وہ خودبخود ہی یہ سوچ بیٹھی تھی کے وہ اسے یہاں چھوڑ کر بھول بھال جائے گا دوبارہ اسکی جانب پلٹ کر دیکھے گا تک نہیں واپس لیجانا تو دور کی بات۔
لیکن نہیں۔۔۔ وہ اور دائم خان کو سمجھ جائے ایسا بھلا ممکن تھا کیا۔۔۔
عجیب تھا وہ شخص۔۔ اسکی سوچ سے پڑے۔۔۔ کبھی اتنا کیرنگ تو کبھی حد سے زیادہ ظالم۔۔۔
وہ بے خودی میں بیٹھی اسے ہی سوچے جا رہی تھی۔۔۔
کسی اچھے کی امید تو اسے ویسے بھی دائم خان سے تھی نہیں۔۔۔
ہمم اچھا خاصا ہنڈسم تھا وہ شخص۔۔۔ ہاں کوئی بھی عام لڑکی اس شخص پر اپنا دل ہار سکتی تھی۔۔ وہ بھی ایک عام لڑکی ہی تھی۔۔۔ بلاشبہ وہ بھی اس پر اپنا دل ہار دیتی اگر وہ اسکا اتنا ظالم روپ نا دیکھ لیتی تو۔۔ ۔۔ خوبصورت چہروں کے پیچھے اتنے ظالم دل ہوتے ہیں اسے یقین کرنے میں تامل تھا۔۔۔
اب تو دائم خان کو سوچتے ہوئے بھی اسے ڈر ہی لگتا تھا۔۔۔ اور اب تو وہ اسکی امارت دیکھ کر اور بھی  دھنگ رہ گئ تھی۔۔۔
اسکی امارت کا اندازہ تو وہ اسکی پرسنیلٹی دیکھ کر ہی لگا چکی تھی رہتی کسر  اسکا گھر دیکھ کر پورا ہوگئ۔۔۔
وہ شخص ہر لحاظ سے مکمل تھا۔۔۔ لیکن اسکی پہنچ سے دور تھا۔۔۔ وہ تلخی سے مسکرائی۔۔۔
پتہ نہیں اسنے اپنے گھر والوں کو اپنے ساتھ ہوئے دھوکے کا کیوں نہیں بتایا۔۔۔ ظاہر سی بات تھی کے بتایا ہوتا تو یقیناً ان سب کا رویہ اسکے ساتھ اتنا اچھا نا ہوتا۔۔۔
پتہ نہیں کب تک وہ سب اسکے ساتھ اچھے طریقے سے رہیں گے۔۔  کب دائم خان انہیں حقیقت سے آشنا کرے گا۔۔۔۔ اور جب انہیں پتہ چلے گا کے عائزل دھوکے باز  ہے اسنے انکے بیٹے کو دھوکہ دیا ہے تو انکا سلوک ناجانے کیسا ہوگا۔۔۔
اسکے دل سے ہوک سی اٹھی تھی۔۔۔۔ ابھی تو کوئی پرخلوص رشتہ ملا تھا۔۔۔
کاش۔۔۔ کاش ۔۔۔ دائم خان کی یاداشت چلی جائے۔۔ اور وہ بھول جائے سب کچھ۔۔۔   انتہائی سوچ اسکے دماغ میں یہ ہی ابھری تھی ۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔
خیر جو بھی تھا۔۔۔ جب تک گھر والوں کو اسکے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل جاتا تب تک تو وہ اچھے سے یہاں رہ سکتی تھی نا۔۔۔ بعد کی بعد میں دیکھی جاتی۔۔۔
باہر اب شام رات میں تبدیل ہونے لگی تھی۔۔۔ اسے وہیں بستر پر لیٹے اس ستم گر کو سوچتے کافی وقت ہو گیا تھا۔۔۔ کوئی بھی اسکے آرام کا خیال کر کے اسے جگانے نا آیا تھا۔۔
وہ کسلمندی سے اٹھتی فریش ہونے چلے گئ۔۔
*******
لاوئنج میں زندگی رواں دواں تھی۔۔۔ رات ہونے کے باعث گھر مضنوعی بتیوں سے روشن تھا۔۔۔ کلام کا موسم تقریباً سال کے بارہ مہینے ٹھنڈا ہی رہتا تھا لیکن سردیوں کے مہینوں میں سردی کی شدت بہت زیادہ ہوجاتی۔۔۔
دادا جان اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھے سامنے دیوار میں نسب ایل ای ڈی میں خبریں سن رہے تھے۔۔۔ جبکہ بابا صوفے پر بیٹھے کوئی فائل دیکھ رہے تھے۔۔۔ بیچ بیچ میں کوئی بات دادا جان سے بھی پوچھ لیتے۔۔۔
شہرین نیچے رگ پر اپنی کتابیں بکھرائے پڑھنے میں مصروف تھی جبکہ یمنہ ماں کے ساتھ کچن میں تھی۔۔۔
اپنے کمرے سے نکل کر باہر آتی عائزل ان سب کو دیکھ کر کچھ جھجھک کر وہیں رکی۔۔۔ 
سمجھ نا آیا کے اسے آگے جانا چاہیے یا واپس پلٹ جانا چاہیے۔۔۔
ارے آئیے بیٹا ۔۔۔ آپ وہاں کیوں رک گئ۔۔۔۔ دفعتاً دادا جان کی نظر اس پر پڑیں تو وہ محبت سے گویا ہوئے۔۔۔ وہ اسکی جھجھک باخوبی سمجھ رہے تھے۔۔۔ بابا جان اور شیرین بھی اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
وہ ڈھرکتے دل کیساتھ مسکراتی ہوئی انکی جانب بڑھی۔۔۔۔ 
اسلام علیکم دادا جان۔۔۔
وہ انکے قریب آ کر انکے سامنے جھکی۔۔
وعلیکم اسلام بیٹا خوش رہو۔۔۔ دادا جان کے بعد اسنے بابا جان کے پاس جا کر انہیں سلام کرتے انکے سامنے سر جھکایا۔۔۔
انہیں بھی یہ معصوم سی لڑکی پسند آئی تھی۔۔۔
ارے بیٹا اٹھ گئیں آپ۔۔۔ دفعتاً ماں کچن سے نکلتیں اس وہاں دیکھ گویا ہوئیں۔۔۔
بھوک لگ رہی ہو گئ نا۔۔۔ بس تھوڑی دیر رکیں ابھی کھانا لگ جائے گا۔۔۔
انکے لہجے میں چاشنی سی مٹھاس تھی۔۔۔
کتنے اچھے تھے یہ لوگ۔۔۔ کتنے پیارے تھے انکے لہجے۔۔۔ مگر کیا وہ ان لہجوں اور اس محبت کے قابل تھی۔۔۔۔
وہ ماں کیساتھ ہی ڈرائینگ روم میں آگئ جہاں ملازمہ کھانا ڈائینینگ ٹیبل پر لگا رہی تھی۔۔۔
شیرین یمنہ۔۔۔ آپ دونوں نے کل مل کر ڈنر تیار کروانے میں مدد کروانی ہے۔۔۔ کل حماد اور اسکی بہن ڈنر پر مدعو ہیں۔۔۔ تو کھانے میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ 
یمنہ اور شیرین آ کر ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھیں تو ماں ان سے مخاطب ہوئیں۔۔۔
اچھا وہ فوٹوگرافر بھیا اور انکی بہن آ رہی ہیں۔۔۔ شیرین سمجھ کر چہکی۔۔۔
اور یمنہ بیٹا بابا جان اب جلد از جلد تمہارے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں اس لئے آج کل اس معاملے میں غور و فکر کر رہے ہیں۔۔۔ آپ کو یہ سب بتانے کا مقصد کے آپ  ذہنی طور پر اس سب کے لئے تیار رہیں۔۔۔
ماں کی بات سن کر یمنہ شاک کی سی کیفیت میں انہیں دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔ گویا زبان تالو سے لگ چکی ہو۔۔۔
پر تائی جان میری سٹڈیز۔۔۔ اسکی آواز بھرائی تھی۔۔۔
اسے اس وقت دائم شدت سے یاد آیا تھا۔۔۔ محبت نا سہی لیکن وہ اسے سمجھتا تھا۔۔۔ یقیناً وہ اس شادی کو روک سکتا تھا۔۔۔ 
کیا کوئی اور دائم کا نعمل البدل ہو سکتا تھا بھلا۔۔  اسکا دل بھر آیا۔۔۔
بیٹا کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔ ابھی تھوڑی نا شادی کر رہے ہیں۔۔۔ ابھی تو بس رشتہ دیکھ کر فائنل کریں گے شادی تمہارے پیپرز کے بعد رکھ لیں گے۔۔۔ ماں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے پیار سے سمجھایا۔۔۔ وہ اسے کسی طور شیرین سے کم نا تھی۔۔۔
*****
تمہیں کیا لگتا ہے ضامن کے داود سچ کہہ رہا ہے۔۔۔۔ وہ دونوں واپسی کے راستے پر گامزن تھے۔۔۔ جب دائم اپنی کنپتی سہلاتا ڈرائیونگ کرتے ضامن سے مستفسر ہوا۔۔۔
بظاہر تو ایسا ہی لگ رہا ہے دائم لیکن جس پیشے سے میں منسلک ہوں اس کے پیش نظر میں اسے اتنے ہلکے میں بھی نہیں لے سکتا۔۔۔ شک تو مجھے بحرحال ابھی بھی اس پر ہے۔۔۔ لیکن خیر اسنے کچھ وقت مانگا ہے۔۔۔ دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے۔۔۔
مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ضامن۔۔۔ کیسے سب الجھی چیزیں سلجھیں گی۔۔۔ دائم خاصا پریشان تھا۔۔۔
میں نے داود پر نظر رکھوائی ہے کے اسکے مشاغل اور کام کی ٹائمنگ وغیرہ پتہ چل سکے۔۔ اگر اسکی روٹین میں کچھ بھی غیر معمولی ملا تو پتہ چل جائے گا۔۔۔ ضامن خود الجھا ہوا تھا۔۔۔
دفعتہ اسکے موبائل کی بیل بجی تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
جی۔۔۔ جی سر۔۔۔ وہ فون کان سے لگائے سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
اوکے سر۔۔۔ میں دس منٹوں تک سبکو جوائن کرتا ہوں۔۔۔
اوکے سر۔۔۔ جی جی۔۔۔
فون بند کر کے اسنے جیب میں ڈالا تو دائم سوالیہ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
ایک ریڈ کرنی ہے جس کے لئے مجھے ٹیم لیڈ کرنے کے لئے جانا ہوگا۔۔۔
وہ گاڑی کا یوٹرن لیتےمصروف سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
لیکن تم تو چھٹی پر نہیں۔۔۔ دائم چونکا۔۔۔
ہاں۔۔۔ میرا کیس نہیں ہے۔۔۔ کسی دوسرے انسپیکٹر کا ہے لیکن کیس سیریس ہونے کی بنا پر اور میرا پچھلہ سروس ریکارڈ دیکھ کر مجھے لیڈ کرنے کے لئے ہنگامی بنیاد پر بلوا گیا یے۔۔۔
وہ سنجیدہ دکھائی دیتا تھا۔۔۔ جیسے ذہنی طور پر ابھی سے وہاں پہنچ چکا ہو۔۔۔
کیس کیا ہے۔۔۔ دائم اچنبھے سے گویا ہوا۔۔۔
جوائن کر کے ہی ٹیم سے بریفینگ لے سکوں کا فلحال تو یہ ہی پتہ ہے کہ کسی مجرم کی منجری ہوئی ہے اس پر ریڈ کرکے اسے اڑیسٹ کرنا ہے۔۔۔
تم مجھے پولیس اسٹیشن ڈراپ کر کے گاڑی لے جانا ۔۔۔۔ وہ سامنے موجود پولیس اسٹیشن کو دیکھتا گویا ہوا جہاں پولیس موبائلز اور اسکی ٹیم ریڈ کے لئے تیار کھڑی تھی۔۔۔
تین پولیس موبائلز دیکھ کر وہ اندازہ لگا چکا تھا کے ریڈ خاصی بڑی ہے۔۔۔
ہممم۔۔۔ دائم سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔
*****
کنول لاوئنج کے دروازے کیساتھ ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے پرتاسف نگاہوں سے سامنے لان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
سفید سوٹ زیب تن کئے ڈوپٹہ سینے پر پھیلا رکھا تھا جبکہ بالوں کی آبشار پشت پر بکھری تھی۔۔۔
لان میں کافی ساری عورتیں اور بچے ترتیب سے کھڑے تھے جبکہ نیلی پینٹ اور سفید لائینینگ شرٹ میں ملبوس آن شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کئے انکے سامنے کھڑا تھا ساتھ ہی اسکا تین سالہ بیٹا حسن بھی اشتیاق سے یہ سب ہوتا دیکھ رہا تھا۔۔۔
آن کے سامنے لکڑی کا ایک میز تھا جہاں مختلف اقسام کے کپڑے اور اور اناج کے شاپر پڑے تھے۔۔ جسے وہ ان سب لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ عورتیں اس سے وہ سب لیتیں اسے پیار دے کر دعاوں سے نوازتیں واپس جا رہی تھیں۔۔۔۔
یہ یہاں تقریباً اسکا ہر ماہ کا معمول تھا۔۔ 
کالونی کے لوگوں میں وہ بہت رحم دل اور خدا ترس انسان کے طور پر مقبول تھا۔۔۔  شاید ہی کوئی تھا جو اسکے پاس مدد کو آتا اور وہ انکار کر دیتا۔۔۔ وہ سب اسے دعائیں دیتے نا تھکتے تھے۔۔۔
آخری عورت کو بھی سامان دے کر وہ مسکراتا ہوا واپس پلٹا۔۔۔
اب اسکا چہرا کنول کی جانب تھا۔۔۔ سفید شرٹ میں اسکی رنگت مزید دمک رہی تھی۔۔۔
بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔  اسکے خوبرو وجود کو دیکھتے کنول کی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی۔۔۔
وہ بیٹے کا ہتھ تھامے اسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے مسز۔۔۔ وہ اسے یک ٹک اپنی جانب دیکھتا پا کر اسکے سامنے چٹکی بجاتا گویا ہوا۔۔۔۔
وہ گہرا سانس خارج کر کے سیدھی ہوئی۔۔۔
کہتے ہیں حرام مال  سے صدقہ و خیرات کرنا ایسے ہے جیسے سفید کپڑے کو خون سے دھونا۔۔۔ آہستگی سے کہتے وہ اندر کی جانب بڑھی۔۔۔
آن کی آنکھوں میں بے تحاشہ غصہ ابھرا لیکن کنول کا پزمردہ انداز دیکھ کر وہ قابو کر گیا۔۔۔۔
یہ ہر انسان کا اور اسکے اللہ کا معاملہ ہوتا ہے۔۔۔ اس میں بے جا مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔۔۔ اور پھر تم ہی تو کہتی ہو کے اللہ بڑا رحیم ہے۔۔۔ وہ بہت جلد معاف کر دیتا ہے۔۔۔ تو کچھ تو اچھا کر لینے دو کے اللہ مجھے بھی معاف کرنے کے بارے میں سوچ لے۔۔۔۔ 
وہ مسکرا کر اسکے پاس ہی صوفے پر بیٹھا۔۔۔
اور تم نا بڑی ہی ناشکری بندی ہو۔۔۔ بقول تمہارے میں غلط طریقے سے کماتا ہوں تو تمہیں پرابلم ہے۔۔۔ 
کسی اچھی چیز پر پیسے لگاتا ہوں تو تمہیں مسلہ ہے۔۔۔ تم تو میری سمجھ سے ہی باہر ہو۔۔۔
وہ تاسف سے کہتا حسن کو گود میں بیٹھا کر اس سے کھیلنے لگا تھا۔۔۔ 
کنول نے دکھ سے اسے دیکھا۔۔۔
غلط کام کی بنیاد رکھ کر کچھ اچھا نہیں کیا جاسکتا آن۔۔۔ اچھا کرنے کے لئے بنیاد ہی درست اٹھائی جاتی ہے۔۔۔۔
کبھی دیکھا ہے آپ نے کے کسی عمارت کی بنیاد ناقص رکھ کر اس میں خراب میٹریل استعمال کر کے اس پر کوئی اچھی اور مضبوط بلڈنگ بنائی گئ ہو۔۔۔
اچھے کام کرنے کے لئے بنیاد بھی اچھی ہی رکھی جاتی ہے۔۔۔
وہ جانتی تھی اسکے الفاظ کی یہاں کوئی وقعت نہیں وہ ابھی یہ سب چٹکیوں میں اڑا دے گا مگر پھر بھی فطرت سے مجبور تھی۔۔۔
اور اللہ واقعی بڑا رحیم ہے۔۔۔ بڑی جلدی معاف کر دیتا ہے لیکن اس کے لئے اللہ سے اپنے پچھلے معاملات درست کرنے پڑتے ہیں۔۔ ماضی میں ہوئیں خطاوں کی معافی طلب کر کے آئندہ اس گناہ سے توبہ کی جاتی ہے۔۔۔
یوں معافی نہیں مانگی جاتی کے صبح ایک غریب کو لوٹو ۔۔۔ اللہ کے غضب کو آواز دو پھر اسے راضی کرنے کو اسی لوٹی ہوئی رقم سے کچھ غریبوں میں بانٹ دو۔۔۔ اور رات کو پھر کسی کو شکار کرنے کے لئے پلانینگ بناو۔۔۔ اور توقع معافی کی رکھو۔۔۔
کیا آن ہم کسے بے وقوف بنانے کی کوشیش کرتے ہیں۔۔۔ کیا ہم اللہ کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔ اور وہ جو نیتوں کے حال بھی جانتا ہے وہ ہماری نیت نہیں جانتا کیا۔۔۔۔ وہ صوفے کی سیٹ سے پشت لگائے ہارے ہوئے انداز میں مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔
آن غصے سے مٹھیاں بھینچے سے دیکھنے لگا۔۔۔ جسکی آنکھیں نم تھیں مگر ہونٹ مسکرا رہے تھے شاید اپنی ہی بے بسی پر۔۔۔
کیا اللہ نے تمہیں اپنا جانشین مقرر کر لیا ہے جو پہلے سے ہی تم آگاہ ہو کے وہ آن کو معاف نہیں کرے گا۔۔۔ اندر اٹھتے غبار کو وہ اندر ہی دابے دلکشی سے مسکرایا۔۔۔
کنول اسکی فضول باتوں کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی گئ۔۔۔ بعض اوقات وہ اتنا ہی فضول بول جاتا تھا۔۔۔
پتہ نہیں وہ کونسے لوگ ہونگے آن جنہیں عورت کی محبت بدل دیتی ہے۔۔۔ میں تو آپکو نہیں بدل سکی۔۔۔
تمہاری محبت میں شدت ہی نہیں ہے۔۔۔ وہ سفاکی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ 
کنول کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ وہ جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ بہہ نکلے تھے۔۔۔
اوہ پلیز کنول 
For God sake...
مذاق کر رہا تھا میں تم تو سیرہس ہی لے گی۔۔۔ وہ فریج سے ٹین پیک نکال کر پلٹا تو اسے یوں دیکھ ٹھٹھک کر رہ گیا۔۔۔
دیکھؤ کنول میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔۔ ٹھیک۔۔۔ وہ سمجھانے والے انداز میں اسکے پاس آ کر بیٹھا۔۔
اب دیکھو تم کتنی نیک ہو۔۔  نمازیں بھی پڑھتی ہو دعائیں بھی مانگتی ہو۔۔۔ خوف خدا بھی ہے تمہارے دل میں۔۔۔ مجھے غلط کاموں سے روکنے کی اپنی سی کوشیش بھی کرتی ہو۔۔۔ تمہاری زندگی میں تو سب پڑفیکٹ ہے نا۔۔۔
تو تم تو پکا جنت میں جاو گی۔۔۔ بس جاتے جاتے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لینا۔۔ اور کہہ دینا اللہ سے کے تم اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہو اسکے بنا۔۔۔
وہ ابھی بول رہا تھا جب کنول چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
دھت تیری دی۔۔۔ وہ سر پر ہاتھ پھیرتا پیچھے ہو گیا۔۔۔
کیا۔۔۔ آپ میری بے بسی کا مذاق بنا رہے ہیں آن۔۔۔ وہ روتی ہوئی چیخی۔۔۔
آپکو سمجھ نہیں آتا کے محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔ بے حد۔۔۔ بے انتہا۔۔۔ آپکے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ چٹخی۔۔۔
تو یہاں کیا تکلیف ہے تمہیں۔۔ کس چیز کی کمی ہے یہاں۔۔۔ وہ بھی آپے سے باہر ہوتا چٹخا۔۔۔
یہ ہی تو بات ہے آن کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔۔ یہاں ہر چیز زیادہ ہے وافر مقدار میں۔۔۔اور مجھے اسکی تمنا نہیں۔۔۔
مجھے آپکے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزارنا ہے جہاں سب حلال ہو۔۔۔
ہمارا چھوڑا سا گھر ہو جہاں ہم عزت سے دو وقت کی روٹی کھائیں اور۔۔
یہاں کیا تمہیں عزت سے روٹی نہیں ملتی یا عزت راس نہیں آتی تمہیں۔۔ وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرے سے ماتھا سہلاتا جیسے خود پر قابو پا رہا تھا۔۔۔
کیا چاہتی کیا ہو تم۔۔۔ یہ ہی ہوں میں۔۔۔ جو تمہارے سامنے کھڑا ہے۔۔  یہ ہی ہے میری اصلیت۔۔۔ اللہ نے مجھے ٹیلنٹ دیا ہے جسے میں استعمال کرتا ہوں۔۔ محنت سے روزی کماتا ہوں اور اس میں سے غریبوں کا حصہ بھی نکالتا ہوں۔۔۔ یہ ہی دنیا داری ہے۔۔۔ یہ دنیا ایسے ہی چلتی ہے اور میں اپنی زندگی میں خوش ہوں مطمیئں ہوں۔۔ 
اب میں تمہارے کہے کے مطابق جوگ لے کر کوئی جوگی بن کر پہاڑوں پر جا کر چلے کاٹنے سے تو رہا ۔۔ کہ اس سے میری بیوی خوش ہوگی۔۔۔ جو کہ تم کسی حال میں نہیں ہو سکتی۔۔۔ 
اور دین اور دنیا کو ایک ساتھ لے کر چلنے کا حکم تو اللہ نے بھی دیا ہے نا۔۔۔ پھر میرے اللہ کا خصوصی کرم ہے مجھ پر جس نے مجھے اسقدر عزت سے نوازا ۔۔۔ زرا باہر جا کر پوچھوں تو اپنے شوہر کے بارے میں لوگ اسے کن اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں ناشکری عورت۔۔۔ صرف ایک تم ہو جسے شوہر کی قدر نہیں۔۔ اور ایک بات بتاوں۔۔۔  وہ تاسف سے کہتا دو قدم مزید نزدیک ہوا۔۔۔
یہ جو ہر وقت حلال اور حرم کی رٹ لگائی ہوئی ہے نا تم نے تمہیں کیا لگتا ہے کے تم بہت پارسا ہو۔۔۔ بہت اچھی بہت نیک۔۔۔
کنول یک ٹک ساکت سی اسے سن رہی تھی۔۔۔ا
غلط فہمی ہے تمہاری۔۔ یہ سب تمہارے اندر کا کمپلیکس ہے جو تم وقتاً فوقتاً اپنے لفظوں کے ذریعے یوں باہر نکالتی ہو۔۔۔
اور آخری بات۔۔۔ میرے اور میرے اللہ کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو اور اپنی فکر کرو۔۔۔ بس اپنا معاملہ اپنے اللہ کے ساتھ فکس کرو۔۔۔ ہر کسی کی خدائی فوجدار بننے کی کوشیش نا جرو۔۔۔۔
غصے سے کھولتے دماغ کیساتھ اپنی کھولن اس پر انڈیل کر وہ حسن کو لئے گھر سے باہر نکل آیا جبکہ کنول بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔۔ اگر یہ اسکی زندگی کی آزمائش تھی تو یہ بہت کڑی آزمائش تھی۔۔۔
****
وہ حسن کو آگے بیٹھائے ہیوی بائیک بھگائے اپنے دوست سے ملنے جا رہا تھا۔۔۔ کنول سے ہوئی بحث وہ گھر سے نکلنے سے پہلے دماغ سے نکال آیا تھا۔۔۔ ا
سر لوکیشن دوسری سائیڈ کی شو ہو رہی ہے۔۔۔ ایک سڑک کنارے کھڑی پولیس موبائلز میں سے ایک شخص ہاتھ میں تھامی ٹیب پر لوکیشن ٹریس کرتا ضامن سے گویا ہوا۔۔۔
فالو کرو۔۔۔ ضامن کے کہنے پر سبھی الڑٹ ہوئے۔۔۔
گاڑیاں ہوٹر چلاتیں آگے پیچھے ڈور پڑی تھیں۔۔۔
سر میرے خیال سے لوکیشن وہ سامنے جاتی ہیوی بائیک کی شو ہو رہی ہے۔۔۔
اے ایس پی کے کہنے پر انسپیکٹر نے پہلے ٹیب دیکھی پھر سامنے سڑک کی جانب۔۔۔
سپیڈ تیز کرو۔۔۔ یہ بھاگنے نا پائے۔۔۔ اضامن کے کہتے ہی موبائل کی سپیڈ مزید تیز ہوگئ تھی۔۔۔
شٹ ۔۔۔ شٹ۔۔۔ شٹ۔۔۔۔ آن نے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ یہ موبائلز کسی اور کے پیچھے نہیں بلکہ اسی کے پیچھے آ رہی تھیں۔۔۔ دیر سے ہی سہی مگر یہ بات اسے سمجھ آ گئ تھی۔۔۔۔ اسنے ہیوی بائیک کی سپیڈ مزید تیز کی۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4