Header Ads

Scheme novel 36th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 36th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

چھتیسویں قسط۔۔۔
دادا جان کے کمرے میں گویا عدالت سجی تھی۔۔  دادا جان بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے ماں اور بابا سامنے صوفے پر براجمان تھے جبکہ  دائم خان دادا جان کے پاس ہی موجود کرسی پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔
دائم خان تمہاری ماں کی سبھی باتیں بجا ہیں۔۔۔ تم نے واقعی ہمارے دل کو ہمارے مان کو ہمارے بھروسے کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔۔۔ بابا جان نے اس معاملہ میں پہلی بار لب کشائی کی تھی۔۔۔ وہ بہت کم دائم پر غصہ ہوتے تھے لیکن اس وقت انکے غصے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔
تم اتنے منہ زور کب سے ہوگئے دائم خان کے اتنے بڑے فیصلے کسی کے بھی علم میں لائے بنا بالا ہی بالا  لینے لگو۔۔۔ ماں نے سرخ شکوہ کناں نگاہیں اٹھا کر بیٹے کو دیکھا۔۔۔
میرے علم میں تھا سب بہو۔۔۔ میری اجازت سے ہی دائم نے یہ قدم اٹھایا۔۔۔ دادا جان کی آواز گویا ان دونوں کو ساکت کر گئ تھی۔۔۔
دائم نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔ 
صد شکر تھا کے وہ دادا جان کو پہلے ہی اعتماد میں لے چکا تھا ورنہ اس مرحلے میں اسے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔
کیا۔۔۔ بابا جان آپ سب پہلے سے جانتے تھے۔۔۔ احمد خان نے شاک سے باپ کو دیکھا۔۔۔ 
ہاں میں سب جانت تھا اور میری اجازت سے ہی دائم نے قدم اٹھایا۔۔۔۔ دادا جان نے گہری سوچ میں غرق سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
ماں میرا مقصد آپکو یا بابا کو ہرٹ کرنا بالکل نہیں تھا۔۔۔ دائم کرسی سے اٹھ کر ماں کے پاس دوزانو بیٹھا اور انکے دونوں ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں تھام کر ملتجانہ گویا ہوا۔۔۔
بس حالات ہی کچھ یوں بن گئے تھے کے اگر میں تھوڑی سی دیر مزید کرتا تو شاید عائزل کو کھو دیتا۔۔۔ اور سب سے بڑی بات۔۔۔ وہ رکا اور پشیمان نگاہوں سے ماں کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
محبت آپکے بیٹے نے کی ہے۔۔۔ آپکی بہو ان سب چیزوں سے نابلد ہے۔۔۔ اس سارے واقعہ میں اسکا کوئی قصور نہیں۔۔۔  وہ اپنے ساتھ ہوئے دھوکے کو سینسر لگا کر سائیڈ پر کرتا ماں کو چیدہ چیدہ باتیں بتنے لگا تھا۔۔۔ جبکہ ماں کیساتھ ساتھ بابا بھی حیرت سے اسے سن رہے تھے۔۔۔
******
عائزل ڈری سہمی سی شیرین اور یمنہ کے کمرے میں صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔۔ آنکھوں کے سوتے ہنوز نم تھے البتہ ابھی تک وہ اسی عبایہ میں موجود تھی حتکہ نقاب تک نا اتارا تھا۔۔۔۔
شیرین لب چباتی اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی اپنی بھابھی کو دیکھ رہی تھی جو اس وقت بالکل ایک خوفزدہ ہرنی ہی لگ رہی تھی۔۔۔ جکہ اس سے کچھ دور یمنہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی کبھی ایک نظر سامنے سیاہ عبایہ میں ملبوس لڑکی پر ڈال لیتی تو کبھی پھر سے باہر دیکھنے لگتی۔۔۔
تو مطلب یہ تھی وہ دوشیزہ جس پر دائم خان دل ہارا تھا۔۔۔ اسکے دل میں پکڑ دھکر سی شروع ہو گئ تھی۔۔۔ دائم خان جیسے پرفیکٹ انسان کی منظور نظر وہ ٹھہری تھی ایسا کیا تھا خاص اس میں۔۔۔ لیکن جو بھی تھا سامنے بیٹھی خوفزدہ لڑکی کی حالت دیکھ کر وہ چاہ کر بھی اس کے لئے رقابت کا کوئی جذبہ اپنے دل میں محسوس نا کر پائی تھی۔۔۔۔
آں۔۔ں۔۔ں۔۔۔ بھابھی آپ نقاب تو اتار دیں۔۔۔ اور پلیز ریلیکس ہو جائیں آپ۔۔۔ شیریں کو بے ساختہ اس پر ترس آیا۔۔۔ اسنے غزال سی بھرائی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ لرزتی آواز میں گویا صفائی پیش کی گئ ہو۔۔۔
پلیز آپ ریلیکس ہو جائیں بھابھی آپ یہ پانی پیئں۔۔۔ شیریں کو تو کچھ سمجھ ہی نا آرہی تھی کے اس سچویشن کو کیسے ہینڈل کرے۔۔۔ اسنے سرعت سے سائیڈ ٹیبل پر موجود جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا اور اپنائیت سے اسکے پاس بیٹھ کر اسکا نقاب اتارا اور پانی کا گلاس اسکے منہ سے لگایا۔۔۔۔
یمنہ تو مبہوت رہ گئ تھی اسقدر معصوم چہرا دیکھ کر ایسے ہی تو دائم خان اس پر دل نہیں ہارا تھا۔۔۔
شیرین۔۔۔ دفعتاً ماں کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ انہیں دیکھ کر عائزل گھبراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ آنسو خودبخود پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہتے چلے گئے۔۔۔
ارے ماشااللہ۔۔۔ میری بیٹی تو بڑی پیاری ہے۔۔۔ اللہ  نظر بد سے بچائے۔۔۔ ماں نے آگے بڑھتے محبت سے اسے گلے سے لگایا اور اسکا ماتھا چومتے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
جبکہ عائزل تو حق دق سی انکا پل میں تولہ پل میں ماشہ روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
غلط طریقہ اختیار کیا ہے اس نالائق نے۔۔۔ لیکن بہو بالکل ہیرا ڈھونڈی ہے۔۔۔ بچے آپ رو کیوں رہی ہو۔۔۔ وہ ہنوز اسے خود کو حیرت سے تکتا اور روتا پا اسے لئے صوفے پر بیٹھیں۔۔۔
آپ ان سے اسقدر ناراض تھیں۔۔۔ وہ منمنائی۔۔۔ خواہش کے باوجود وہ یہ بات نا کہہ سکی کے انکا اسکے ساتھ اسقدر نارمل رویہ اسے حیرت میں مبتلا کر رہا ہے۔۔۔
وہ تو ہے ہی نالائق۔۔۔ اسی قابل تھا۔۔۔ لیکن بیٹیوں سے کون ناراض ہوتا ہے بھلا۔۔۔۔
مجھے اسکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ جاو شیرین بیٹا بھابھی کے لئے دودھ کا گلاس اور میڈیسن لاو ۔۔۔ کھا کر پھر کچھ دیر آرام کرے گی تو بہتر محسوس کرے گی۔۔۔ وہ پاس کھڑی شیرین سے مخاطب ہوئیں۔۔ اور بچے آپ بھی عبایہ اتار کر ریلیکس ہو جاو۔۔۔ آپکا اپنا گھر ہے۔۔۔ عائزل کو یقین کرنے میں تامل تھا کے یہ ہی عورت تھیں جنہوں نے کچھ وقت پہلے دائم خان کو تھپڑ مارا۔۔
خیر واقعی وہ اسی قابل تھا۔۔۔ دل میں سکون کی ایک لہر اٹھی تھی۔۔۔ کوئی تو تھا اس بددماغ کو بھی قابو کرنے والا۔۔۔
دودھ نہیں۔۔۔ مجھے چائے پینی ہے۔۔۔ شیرین کو جاتا دیکھ وہ پھر سے منمنائی۔۔۔ سر درد سے پھٹ رہا تھا اور واقعی اسے چائے کی بہت طلب ہو رہی تھی۔۔
ہاں کیوں نہیں۔۔ شیرین چائے ہی لے آو۔۔۔
ماں اس سے چھوٹے چھوٹے سوال پوچھتی اسکی جھجھک کافی حد تک ختم کر چکی تھیں۔۔۔
دفعتاً شیرین چائے اور ٹیبلٹ لے آئی۔۔۔
بیٹا آپ اب آرام کرو شام میں ملاقات ہو گئ۔۔۔
وہ چائے پی کر ٹیبلٹ کھا چکی تو ماں محبت سے گویا ہوئی۔۔
آئیں بھابھی میں آپکو بھیا کے کمرے میں چھوڑ دوں۔۔۔ برتن آگے سے اٹھاتی شیرین گویا ہوئی تو عائزل نے کرنٹ کھا کر اسے دیکھا۔۔۔
وہ اور دائم خان ایک کمرے میں۔۔۔ کچا چبا ہی نا جائے وہ شخص مجھے۔۔۔ عائزل محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔
نہیں شیرین یہ دائم خان کے کمرے میں نہیں بلکہ یہیں رہے گی۔۔۔ اس کمرے میں نہیں تو گیسٹ روم سیٹ کردو عائزل کے لئے۔۔۔
ماں کے کہنے پر بنا بات کی گہرائی میں جائے عائزل کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔ 
اس نالائق نے تو چپکے سے نکاح کر کے مرضی کر لی مگر دنیاداری بھی تو کوئی چیز ہے نا۔۔۔ پھر ہمارے خاندان کا اکلوتا وارث ہے اسکی شادی ہم پورے رسم و رواج کے ساتھ دوبارہ سے کریں گے تب تک عائزل یہیں رہے گئ۔۔۔
اور وہ خود بھی تو چلا گیا ہے ابھی کسی کام کا کہہ کر۔۔۔۔
عائزل بچے آپ چھوڑو سب جاو بستر پر اور آرام کرو۔۔۔ شام تک بہتر محسوس کرو گی۔۔۔ ماں بات کرتے کرتے اچانک اسکی جانب دیکھ کر اسکا چہرا تھپتھپاتی گویا ہوئی تو وہ سر ہاں میں ہلاتی بیڈ کی طرف بڑھی۔۔۔
اتنے دنوں کے بعد کسی نے اپنائیت دکھاتے آرام کرنے کا بولا تھا۔۔۔ اور تھکاوٹ سے تو وہ خود چور تھی۔۔۔ بستر پر لیٹی تو شیرین نے اس پر لحاف اوڑھا کر کمرے کی لائٹ آف کر دی۔۔۔
وہ تینوں آگے پیچھے کمرے سے نکل گئ تو عائزل کو بھی کچھ سوچنے کا موقع ہی نا ملا جلد ہی نیند کے غلبے نے اسے آغوش میں لے لیا۔۔۔۔
******
ارے واہ حماد۔۔۔ فلیٹ تو بڑا خوبصورت ہے۔۔۔ ایمن لاوئنج کے وسط میں کھڑی چمکتی نگاہوں سے چاروں جانب گھوم کر فلیٹ دیکھ رہی تھی پاس ہی زمین پر اسکا بیگ پڑا تھا جبکہ اس سے کچھ فاصلہ پر کھڑا حماد مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
دو کمروں چھوٹے سے لاوئنج اوپن کچن اور ٹیرس پر مشتمل چھوٹا سا فلیٹ بہت خوبصورتی سے سیٹ تھا۔۔۔
تمہیں پسند آگیا نا مطلب کے فلیٹ واقعی اچھا ہے۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے ہاتھ سے گھڑی اتار کر سینٹرل ٹیبل پر رکھی۔۔۔
میں فریش ہو کر آتا ہوں تب تک تم گھر دیکھو۔۔۔ حماد اپنے کمرے کی جانب بڑھا تو وہ وہ بھی چادر اتار کر دوپٹہ اوڑھتی گھر دیکھنے لگی۔۔۔ اپنا کمرا دیکھ کر اسنے اپنا سامان کمرے میں رکھا اور کچن میں آگی۔۔۔
حماد کے باہر آنے سے پہلے وہ چیزیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر چائے بنا چکی تھی۔۔
ارے تم نے تو چائے بنا بھی لی۔۔۔ وہ واپس آیا تو اسے چائے کی ٹرے باہر لاتے دیکھ خوشگواریت سے گویا ہوا۔۔۔
اچھا ابھی کے لئے میں اکیڈمی جا رہا ہوں ابھی اکیڈمی کا سٹارٹ ہے تو اسے بھرپور وقت کی ضرورت ہے تم چائے پینے کے بعد آرام کرو رات کا کھانا میں باہر سے لے آوں گا۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتا گویا ہوا۔۔۔
ایمن بھی اسکے سامنے سنگل صوفے پر براجمان چائے پی رہی تھئ۔۔
اور ہاں۔۔ چائے پینے کے دوران یاد آنے پر وہ یکدم گویا ہوا۔۔۔
ہمم۔۔۔ 
کل باس کے گھر ڈنر پر انوائٹڈ ہیں ہم دونوں۔۔۔ 
گریٹ۔۔۔ بڑی کوئیک سروس ہے۔۔۔ وہ چہکی۔۔۔
ویسے اس رشتے کے بارے میں تم نے کیا سوچا۔۔۔ ظاہر ہے انہیں ڈنر پر بلانے کے پیچھے یہ ہی مقصد تھا۔۔۔  
ابھی تک کنفوز ہوں ایما۔۔۔ اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے کو ابھی دل راضی نہیں۔۔ ورنہ یمنہ میں تو کوئی کمی نہیں۔۔۔ اسنے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے انگلی کی پوروں سے آنکھ کے کونے دابے۔۔۔
چلو پھر یہ فیصلہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔ اگر کل مجھے لڑکی پسند آگی تو ہم بات آگے بڑھائیں گے ورنہ یہیں سب ختم۔۔۔ وہ چہکی۔۔۔
جبکہ حماد مسکرا کر سر نفی میں ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جا رہا ہوں میں آ کر دروازہ لگا لو۔۔۔
*******
یہ ہوٹل کے ایک پرائیویٹ کیبن کا منظر تھا۔۔۔ جہاں دائم اور ضامن گول میز کے ایک طرف بیٹھے تھے جبکہ میز کی دوسری طرف داود بیٹھا تھا۔۔۔
ماحول میں ایک تناو سا تھا اور تینوں کے نقوش ہی برہم تھے۔۔۔
آج صبح ہی لاہور آتے دائم اور ضامن نے داود سے رابطہ استوار کیا تھا جسکے نتیجے میں اب وہ تینوں وہاں موجود تھے۔۔۔
داود غصے سے ماتھے پر بل لئے دائم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اندازہ ہے تمہیں مسٹر دائم کے تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔ داود غصے سے میز پر ہاتھ مارتا ڈھار اٹھا۔
کل تک تمہارا دعوی تھا کے عائزل ایک بدکردار لڑکی ہے جس نے تمہیں اپنی محبت کے جال میں پھنسایا تمہیں جھوٹے خواب دکھائے اور آخر میں تمہیں لوٹ کر تمہیں دھوکہ دے گئ۔۔۔ اور آج تم یہیں بیٹھے یہ کہہ رہے ہو کے تمہارے ساتھ دھوکہ تو ہوا ہے لیکن وہ دھوکہ عائزل نے تمہارے ساتھ نہیں کیا۔۔۔
کیا تم دماغی طور پر ایک پاگل انسان ہو۔۔۔ ساری بات سن کر داود چٹخ اٹھا تھا۔۔۔ غصے سے اسکے دماغ میں ابال آ رہے تھے۔۔۔
دائم نے نہایت ضبط سے اسکی تلخ کلامی برداشت کی۔۔۔
ہاں بالکل میں یہ ہی کہنے کی کوشیش کر رہا ہوں کے عائزل کو ٹریپ کیا گیا ہے اور کسی بہت قریبی۔۔۔
بس کردو دو مسٹر دائم خان۔۔۔ ایک لڑکی کی زندگی تباہ کر کے اسکی ذات کا تماشا بنا کر تم کس ڈھٹائی اور جرات سے یہاں بیٹھے بکواس کر رہے ہو۔۔۔ وہ لڑکی میری ہونے والی بیوی تھی۔۔۔ داود غصے سے ضبط کھوتا چیخا۔۔۔
وہ میری بیوی ہےےےےےے۔ دائم میز پر ہاتھ مارتا اس سے اونچی آواز میں چیختا۔۔۔۔ ہے پر زور ڈالتا گویا ہوا۔۔۔ لحاظہ اسکا نام اس انداز سے بیچ میں مت گھسیٹو۔۔۔ انگلی اٹھاتا وہ چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔
آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہوئی پڑی تھیں۔۔۔
گھٹیا انسان تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے۔۔۔اس معصوم کو پوری دنیا کے لئے گناہگار بنا ڈالا تم نے۔۔۔۔ داود نے آپے سے باہر ہوتے دائم کو گریبان سے پکڑتے اپنی جانب کھینچا۔۔۔
سب سے گھٹیا تو تم ہو۔۔۔ کیونکہ شک کے دائرے میں سب سے پہلے تم ہی آ رہے ہو۔۔۔۔ دائم خان نے پوری قوت سے مکہ داود کے منہ پر جڑا۔۔۔
تم ہی تھے اسکے سب سے زیادہ قریب اور اب۔۔۔۔
بسسسسس۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ دونوں ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہوتے ضامن غصے سے ڈھارتا دونوں کو الگ کرتا انکے درمیان میں آیا۔۔۔
ہم یہاں ایک اہم مسلہ حل کرنے آئے ہیں نا کے بچوں کی طرح لڑنے۔۔۔ وہ دونوں ہی بھوکے شہر کی مانند ایک دوسرے کو غور رہے تھے۔۔۔
صورتحال ہی کچھ ایسی تھی۔۔۔ دائم خان کی کہانی کوئی بھی سنتا تو ایک مرتبہ چکرا اٹھتا۔۔۔
دیکھیں داود صاحب واقعی یہ ایک معصوم لڑکی کی پاکدامنی کا سوال ہے تو میں امید کر سکتا ہوں کے آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔۔۔
ضامن نے تحمل سے بات کو سمبھالنا چاہا۔۔۔
یہ کیا تعاون کرے گا ضامن سب سے پہلا شک ہی اس پر جاتا ہے۔۔۔ اسی نے چیٹ کیا ہے اسے۔۔۔ یہ ہی اسکے سب سے زیادہ قریب تھا۔۔۔ اور۔۔۔
Daim behave your self...
 ہم بیٹھ کر بات کریں گے۔۔۔ ضامن نے اسے سرد لہجے میں تنبیہہ کی تو وہ نا چاہنے کے باوجود بھی لب بھینچتا کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔۔
انسپیکٹر ضامن وہ لڑکی مجھے بہت عزیز ہے۔۔۔ داود بولا۔۔۔
دائم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔ میری بیوی کا ذکر ان لفظوں میں مت کرو مسٹر ۔۔۔ میں تمہارا منہ توڑ دوں گا۔۔۔ وہ مٹھی بھینچتے  سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
داود ایک تلخ نگاہ اسے دیکھتے ضامن کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
وہ میری بیوی کی بہن تھی۔۔۔ بچپن سے ہی یتیم تھی۔۔۔ ہماری شادی کے بعد سے ہمارے ساتھ ہی رہ رہی تھی۔۔۔ میرا خدا گواہ ہے کے میں نے اس لڑکی کے کردار میں کبھی کوئی جھول نہیں دیکھا۔۔۔
میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا اور وہ اپنی بہن سے۔۔۔ پھر میری بیوی اپنی بیماری کے باعث زندگی کی جنگ نا جیت سکی لیکن جاتے جاتے وہ اپنی بہن کا مستقبل سکیور کرنا چاہتی تھی۔۔۔
یہ اسکی آخری خواہش تھی کے میں اسکی بہن سے نکاح کر لوں۔۔۔۔
میں اس بات کو اتنا سیریس نا لیتا اگر حالات اس طرح کے نا بن جاتے تو۔۔۔ میری بیٹی اس سے بہت اٹیچ تھی۔۔۔ وہ خود میری بیٹی کے بنا نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔ اور ہم دونوں بنا کسی رشتے کے ایک چھت تلے نہیں رہ سکتے تھے جسکی بنا پر ہمارے نکاح کی کاروائی وجود میں آئی۔۔۔
لیکن اس روز جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔ وہ رکا ۔۔۔ گہرا سانس بھر کر خود کو کمپوز کیا اور پھر سے گویا ہوا۔۔۔۔
کم از کم مجھے اس پر یقین کرنا چاہیے تھا۔۔۔
میں تو پہلے ہی گلٹ میں تھا کے کچھ بھی تھا مجھے اسے اچھے سے رخصت کرنا چاہیے تھا۔۔۔
مزید اب یہ کہ اسے ٹریپ کیا گیا ہے۔۔۔ میرا تو دماغ ہی مفلوج ہو رہا ہے۔۔  بات ختم کر کے وہ تو سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
جبکہ دائم ہنوز جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکا لہجہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔۔۔ لیکن کہانی تو ہنوز وہیں تھی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔۔۔ پھر بیچ کی کڑی کون تھا۔۔۔
دیکھیں داود صاحب میری جاب کے حوالے سے  آپ بھی میرے شک کے دائرے میں آتے ہیں۔۔۔
ضامن نے سنجیدگی سے بات شروع کی۔۔۔
تو کریں نا آپ اپنی کاروائی۔۔۔ روکا کس نے ہے۔۔۔ وہ جیسے بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔
آپکا کام ہے یہ ۔۔۔ آپ کریں۔۔  تفتیش کریں ۔۔ جو کرنا ہے کرے لیکن رزلٹ بھی تو نکالیں نا۔۔۔ وہ دکھ سے گویا ہوا۔۔۔
دائم اور ضامن ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔۔۔
تمہیں ایسا کیوں محسوس ہوا کے عائزل کو ٹریپ کیا گیا ہے۔۔۔ گیلی سانس اندر کھینچتا وہ دائم کی جانب گویا ہوا۔۔۔
ایک جھول ہے اس کہانی میں جسکے باعث مجھے پتہ چلا۔۔۔۔ لیکن وہ میں ابھی تمہیں نہیں بتا سکتا۔۔۔ دائم اب نارمل لہجے میں بات کر رہا تھا۔۔۔
لیکن اس سارے کام میں وائی فائی تمہارے گھر ک ااستعمال ہوا ہے۔۔۔ بلکہ ابھی بھی کوئی ہے جو یہ سب کر رہا ہے اور اس میں تمہارے گھر کا ہی وائی فائی استعمال ہو رہا ہے۔۔  جسکی بنا پر تم شک کے دائرے میں آ رہے ہو۔۔۔ دائم نے اپنی کنپتی سہلائی۔۔
جبکہ داود جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔
کیا کہا تم نے اب بھی۔۔۔  وہ حیرت سے فقرا ادھورا چھوڑ گیا۔۔۔
ہممم۔۔۔ اب بھی۔۔۔ کوئی عائزل کے فیک اکاونٹ بنا کر یہ ہی سب کر رہا ہے۔۔ 
داود کے دماغ میں جکڑ سے چلنے لگے تھے۔۔۔
مجھے کچھ وقت دیں آپ دونوں۔۔۔ میں اس معاملے کو زرا باریکی سے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ جیسے ہی مجھے کچھ پتہ چلا میں آپ دونوں سے رابطہ کروں گا۔۔۔ وہ الجھا الجھا سا گویا ہوا۔۔
دماغ کہیں اور ہی لگا ہوا تھا۔۔۔۔
پلیز جب تک میرے پیپرز نہیں ہو جاتے تب تک میں یہ نکاح نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ ہوا کے دوش پر ایک آواز اسکی سماعت سے ٹکائی۔۔۔
دو ماہ۔۔۔ 
ہمم۔۔ دو ماہ۔۔۔
داود کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔۔
مطلب عائزل نامی معصوم گڑیا کی قسمت پر سیاہی ان دو ماہ کے عرصے میں ہی ملی گئ تھی۔۔۔۔ 
کاش۔۔۔کاش ۔۔۔۔ وہ اسکی بات مان کر اسے دو ماہ کا وقت نا دیتا۔۔۔۔
وہ ان دونوں سے نمبر ایکسچینج کر کے حواس باختہ سا کیبن سے نکلا۔۔
اسے اب زیست کی اس کتاب کے دو ماہ کے ان کاغذات کو کنگالنا تھا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4