Header Ads

Scheme novel 35th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 35th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

پینتیسویں قسط۔۔۔

شعلہ جلتے ہی نوارد کا چہرا واضح ہوا۔۔۔ لمحوں میں ایمن کے دماغ نے شناخت کے مراحل طے کئے۔۔۔ اسکے چہرے پر بے یقینی تھی۔۔۔ وہ کم از کم یہاں اس شخص کی موجودگی کی توقع نہیں رکھتی تھی ۔۔۔ اسے دیکھتی وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔ جبکہ نووارد کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔۔
تم۔۔۔۔۔
آپ۔۔۔۔ 
حیرت کے زیر اثر دونوں یک بیک گویا ہوئے۔۔۔ 
ایمن نے دو قدم پیچھے ہٹتے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو کچن روشنی سے نہا گیا۔۔۔
اسنے بھی لائٹر بند کرتے جیب میں رکھا۔۔۔۔
دونوں ہی اپنی جگہ حیران تھے۔۔۔
آپ یہاں۔۔۔ کیسے۔۔۔ ایمن ہنوز حیرت زدہ تھی۔۔۔
ویسے اگر میں جانتی نا ہوتی کے آپ انسپیکٹر ہیں تو پکا اس وقت آپکو چور ہی سمجھتی انسپیکٹڑ ضامن۔۔۔۔
وہ تو آپ ابھی بھی سمجھ ہی چکی تھیں۔۔۔ ضامن گہری سانس خارج کرتا فریج کی جانب بڑھا اور فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پینے لگا۔۔ اسکا وہاں یوں بے تکلف گھومنا ایمن کو بہت کچھ سمجھا رہا تھا۔۔۔
یہ میرا گھر ہے مس ایمن۔۔۔ اسنے بوتل منہ سے ہٹاتے بوتل پر ڈھکن بند کیا۔۔۔
کون اپنے گھر میں یوں چوروں کی طرح آتا ہے۔۔۔ اور اس طریقہ کار سے میں تو کیا کوئی بھی آپکو چور ہی سمجھتا۔۔۔ وہ الجھی الجھی سی گویا ہوئی۔۔۔
باہر میرے بھائی کی مہندی کا فنگشن چل رہا ہے اور میں حسب سابق اپنی ڈیوٹی کے باعث لیٹ ہوں۔۔۔ 
گرینی مجھ سے سخت خفا ہیں۔۔۔ ایسے میں اگر سامنے سے آتا تو پکا گرینی تو میری عزت افزائی کرنے میں مہمانوں کی بھی پرواہ نا کرتیں۔۔۔
اسی لئے بیک سائیڈ سے آیا ۔۔۔ ارادہ فریش ہو کر ان سے ملنے کا تھا۔۔۔ شاید ایسے ہی کچھ بچت رہتی۔۔۔
اسنے بوتل شیلف پر رکھتے کندھے اچکائے۔۔۔
لیکن میں آپکی یہاں موجودگی کی توقع نہیں رکھتا تھا۔۔۔ وہ صاف گوئی سے گویا ہوا۔۔۔
میں گرینی کی کیئر ٹیکر ہوں۔۔ وہ مدہم آواز میں کہتی پلٹی۔۔
اوہ۔۔۔ 
سنو۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دروازے سے نکلتی وہ پکار اٹھا۔۔۔
جی ۔۔۔ وہ بے ساختہ پلٹی۔۔۔
ضامن دو قدم مزید اسکی جانب بڑھا۔۔۔
آپکی رقم کا کیا بنا تھا۔۔۔ جو آپ نے کلیم کی تھی۔۔۔ وہ سنجیدگی سے مستفسر تھا۔۔۔
ایمن گہرا سانس بھر کر رہ گئ۔۔۔
اب ہر کوئی آپ کے جیسا ایماندار آفیسر نہیں ہوتا انسپیکٹر ضامن۔۔۔
نیا انسپیکٹر بہت چیپ تھا ۔۔۔ اس لئے میں دوبارہ وہاں نہیں گی۔۔۔ وہ اداسی سے گویا ہوئ جبکہ ضامن اسکی بات کا مفہوم سمجھ کر لب بھینچ گیا۔۔۔
ایمن خاموشی سے باہر نکلی تو وہ بھی سیڑھیاں پھیلانگتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
*****
ڈور بیل مسلسل بج رہی تھی۔۔۔ کنول ابھی ابھی حسن کو سلا کر کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ آن بہن کو شاپنگ کروانے لے کر گیا تھا۔۔۔ اسنے تو کنول سے بھی کہا تھا مگر وہ ٹال گئ کے اسے ابھی کسی چہز کی ضرورت نہیں۔۔۔
ہر نئ ملنے والی آسائشات و آسانی کے ساتھ ویسے بھی اسکے دل کا بوجھ مزید بڑھ جاتا۔۔۔
اب تو وہ بہت گم صم اور خاموش خاموش سی رہنے لگی تھی۔۔۔ یہ اسکی خوش فہمی تھی کے وہ آن کو اپنی محبت سے بدل لے گئ۔۔۔ 
یہ سب افسانوی دنیا میں ہی اچھا لگتا تھا کے ہیروئن بگڑے سے بگڑے رئیس زادے کو بھی اپنی محبت کے بل پر سدھار لیتی تھیں۔۔۔ وہ تلخی سے مسکرائی۔۔۔
حقیقت اسکے برعکس تھی۔۔۔ حقیقت میں جنہیں غلط کاموں اور حرام چیزوں کا چسکا لگ جاتا انکی واپسی ناممکن تھی۔۔ کم از کم کنول کو تو یہ ہی لگتا تھا کے سوئے ہوئے کو جگانا آسان تھا مگر جو سونے کا ڈھونگ کرے اسے کوئی کیسے جگا سکتا تھا بھلا۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکی امید ٹوٹتی جا رہی تھی۔۔۔
آن کے ہنر میں مزید نکھار آ رہا تھا۔۔۔ وہ مزید سخت دل اور بے حس بنتا جا رہا تھا جس پر لوگوں کی آہ و بکا کا کوئی اثر نا ہوتا۔۔۔
وہ اپنا کام مزید صفائی سے کرنے لگا تھا۔۔۔
کنول ہر گزرتے دن کے ساتھ خود کو اندر ہی اندر سلگتی لکڑی کی مانند ختم ہوتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
انہی سوچوں میں گم اسنے دروازہ کھولا۔۔۔
اسلام علیکم بھائی۔۔۔ سامنے انو کے شوہر کو موجود پا اسے پوری جزئیات سے یاد آیا کے وہ آج کھانے پر انوائٹڈ تھا۔۔۔
وہ سلام کا جواب دیتا اندر بڑھ آیا۔۔۔
انو کہاں ہے کہیں دکھائی نہیں دے رہی ۔۔۔ وہ چاروں جانب نگاہ ڈوراتے مستفسر تھا۔۔۔
جی آپ بیٹھیے۔۔۔ وہ آتی ہی ہوگی۔۔ دراصل آن کے ساتھ مارکیٹ تک گئ ہے۔۔۔ اسنے رسان سے کہا تو وہ شخص سمجھ کر سر ہاں میں ہلاتا لاوئنج میں موجود صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
کنول کچن کی جانب بڑھی جب یکدم دماغ میں کچھ کلک ہونے پر ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
لمحوں میں ایک بات اسکے دماغ میں آ سمائی۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ اسکا ننھا سا دل کپکپا کر رہ گیا۔۔۔۔۔
کیا اسے اپنی سوچ پر عملدرامد ہونا چاہیے۔۔۔  اسکا دل بے ہنگم انداز میں ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔۔
کیا وہ آن کے ساتھ بے وفائی کی مرتکب ہو سکتی تھی۔۔۔ دل کرلا اٹھا جب عقل نے اسے ڈپٹ کر کونے سے لگایا ۔۔۔
کہ اگر اب بھی وہ ضمیر کی آواز نا سنتی تو شاید پوری زندگی ضمیر کے بوجھ تلے دبی رہتی۔۔۔
وہ کم ہمت تھی وہ جانتی تھی مگر وہ اسقدر کم ہمت ہوگئ یہ انکشاف اس پر آج ہوا تھا۔۔۔ محض ایک لائحہ عمل بنا لینے سے ہی اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ کجھا کے اس پر عمل پیرا ہونا۔۔۔ اسنے گہرے گہرے سانس بھرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔ وہ دل کڑا کر واپس پلٹی اور اسکے عین سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔۔
اس شخص نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔۔
جی کہیے۔۔۔
کنول نے ایک چور نظر دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔ ہاتھ بے طرح مسلتی وہ خاصی نروس تھی۔۔۔ بار بار خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی وہ سامنے بیٹھے شخص کو خاصا چونکا گئ۔۔۔
دیکھیں آپ مجھے غلط مت سمجھیے گا مگر میں مزید ضمیر کا بوجھ نہیں سہہ سکتی۔۔۔
پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشیش کیجیئے گا میں نہیں جانتی کے میں یہ سب آپ سے کہہ کر ٹھیک کر رہی ہوں یا نہیں لیکن۔۔۔۔
آنسو بے طرح لڑیوں کی مانند اسکی آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے۔۔۔ جبکہ دل اتنی زور سے ڈھرک رہا تھا جیسے ابھی سینے کی دیواریں توڑتا باہر آ نکلے گا۔۔۔۔ پھر اسنے جو بتایا وہ نوارد کے چودہ طبق روشن کرنے کو کافی تھا۔۔۔
******
وہیں کچن کاونٹر پر بیٹھے عائزل نے سیر ہو کر کھانا کھایا۔۔۔ نا صرف بریانی جبکہ باقی موجود کھانا بھی وہ اچھا خاصا کھا چکی تھی۔۔۔ جب یکدم یاد آنے پر وہ گھبرا اٹھی کے دائم خان نے تو اسے کھانا برتنوں میں نکالنے کو  کہا تھا ۔۔۔ مگر اسنے کیا کیا۔۔۔۔
پیٹ میں کچھ گیا تھا تو دماغ نے کام کرنا شروع کیا۔۔۔ 
اب اس شخص سے کیا کہتی۔۔۔ کچھ بعید نا تھا کے کھانے کے پیچھے پھر سے طعنے سننے کو مل جاتے۔۔۔
دفعتاً دوبارہ فلیٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ لب چباتی سرعت سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
دائم لاوئنج میں اسکی موجودگی نا پا سیدھا کچن میں ہی آیا۔۔۔
کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر بھی وہ ایک ہی نظر میں اندر کا جائزہ لے چکا تھا۔۔۔ کاونٹر ٹاپ پر بکھرے کھانے کے خالی ڈبے گواہ تھے کے وہ کھانا کھا چکی ہے۔۔۔ اسنے ایک پرسکون سانس فضا میں خارج کی۔۔۔۔
وہ شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کئے ہاتھ میں چند شاپنگ بیگ تھامے کھڑا تھا۔۔۔
جبکہ اس سے کچھ فاصلے ر سر جھکائے کھڑی عائزل بے طرح ہاتھ مسل رہی تھی۔۔۔ شرمندگی حد سے سوا تھی۔۔۔ ناجانے اب وہ اسے کیا کیا کہتا۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ دراصل۔۔۔ اس سے پہلے کے دائم کچھ کہتا وہ پہلے ہی صفائی میں بولنے لگی۔۔
اسکے اٹکتے جملے سن دائم ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔
وہ معصومیت کا پیکر بری طرح اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔۔۔ وہ الگ بات کے شدت گریہ سے سرخ چہرا اور سوجھے پیوٹے اسکے دل پر نشتر چلا رہے تھے۔۔۔
دراصل۔۔۔ مجھے بھو ۔۔۔ بھوک لگی تھی۔۔۔۔ تو میں نے۔۔۔ بات کرتے وہ رکی۔۔۔ گہرا سانس بھر کر خارج کیا۔۔۔ خشک لبوں پر زبان پھیرتے انہیں تر کرتے وہ شاید مزید بولنے کے لئے ہمت مجتمع کر رہی تھی۔۔۔
دائم مکمل توجہ سے اسکی بات سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔ اسکا جھکا سر اور لڑکھڑاتا لہجہ سن کر اسے بے ساختہ پہلی ملاقات کی عائزل یاد آئی جو شیرنی بنی اس پر جھپٹنے کو تیار تھی۔۔۔
وقت اور حالات نے اسے بہت توڑ دیا تھا۔۔۔
تو میں نے آپکا لایا کھانا کھا لیا۔۔۔ وہ حد درجہ شرمندگی سے گویا ہوتی دائم پر گھڑوں پانی ڈال گئ۔۔۔
دائم نے آنکھیں بھینچ کر گہرا سانس خارج کرتی بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
وہ کھانا تمہارے لئے ہی تھا۔۔ وہ بدقت بول پایا۔۔۔
عائزل نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔ دنیا جہاں کی حیرت اسکی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔۔۔
کم از کم ایسی کرم نوازی کی توقع وہ دائم سے نا رکھتی تھی۔۔۔
اسکی حیرت زدہ نگاہوں نے دائم کو نظریں چرانے پر مجبور کر دیا۔۔۔
یہ تمہارے لئے کچھ چیزیں ہیں۔۔ تم فریش ہو کر تیار ہو جاو۔۔۔ ہمیں جانا ہے۔۔۔ وہ کچن کاونٹر پر شاپر رکھتا آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔ جبکہ عائزل کے لئے یہ آج کے دن کا دوسرا جھٹکا تھا۔۔۔ دائم خان اور یہ لہجہ۔۔۔ حیرت ہی حیرت تھی۔۔۔
اور ہاں۔۔۔ وہ جاتے جاتے رک کر پلٹا۔۔ اس میں عبایہ ہے وہ پہن لینا۔۔۔ وہ اسے حیرت زدہ سا چھوڑتا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ عائزل کبھئ اسے تو کبھی شاپنگ بیگز کو ہی دیکھتی رہ گئ۔۔ 
*****
مہندی بارات اور ولیمہ۔۔۔۔ اریب کی شادی کے سبھی فنگشنز بہت اچھے سے ہو گئے تھے۔۔۔ ضامن نے آ کر بھائی کی شادی میں چار چاند لگا دیئے تھے۔۔۔ اسنے ہر ہر رسم میں بھرپور انداز سے حصہ لیا ۔۔
آج اریب کی شادی سے اگلا دن تھا۔۔۔ وہ سب گرینی کے کمرے میں جمع تھے۔۔۔ خوبصورت سی سارا بھی اریب کے پہلو میں بیٹھی ہر بات میں حصہ لے رہی تھی۔۔۔
آج تو گرینی کے قدم ہی زمین ہر نا ٹک رہے تھے۔۔۔ کتنے دنوں بعد انکے دونوں پوتے اکھٹے انکے پاس موجود تھے۔۔۔ انکے گھر میں رونق تھی۔۔۔ ر
اریب اور سارا ہنی مون پر جانے کا پلان بنا رہے تھے جب ایمن جانے کو بالکل تیار گرینی سے ملنے آئی۔۔۔۔
کل ہی اسکا مہینہ مکل ہو گیا تھا اور وہ کل رات ہی اریب کو بتا چکی تھی کے وہ آج جانے والی ہے۔۔  جسے سن کر وہ خاموش ہو گیا تھا۔۔۔۔حماد اسے خود لینے آیا تھا۔۔۔  
گرینی میں جا رہی ہوں ۔۔۔ آپ سے ملنے آئی ہوں۔۔۔ وہ سب کو مشترکہ سلام کرتی مسکرا کر گرینی کی جانب بڑھی۔۔۔
.جیتی رہو بیٹا۔۔۔ اللہ نصیب اچھا کرے۔۔۔ دل لگ گیا تھا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ وہ گرینی کی جانب جھکی تو وہ اسکے سر پر پیار دیتیں اسے دعاوں سے نوازنے لگی۔۔ رات ہی ضامن کی حماد سے بھی ملاقات ہوئی تھی وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے خوشگواریت سے ملے کیونکہ دائم کے حوالے سے دونوں پہلے ہی ایک دوسرے کو جانتے تھے اب اس اتفاقیہ ملاقات سے دونوں ہی خوشگوار حیرت میں مبتلا تھے۔۔۔
ایمن گرینی سے ملنے کے بعد سارا سے ملتی باہر نکل آئی۔۔۔ جہاں اسکا بھائی اسکا منتظر تھا۔۔۔ زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہونے کو تھا۔۔۔
******
عائزل حیران پریشان سی ان شاپنگ بیگز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ دل کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔ وہ یہ سب کیوں لایا تھا بھلا۔۔۔ اور اب وہ اسے کہاں لیجانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ اسکا دل بے طرح سے گھبرا رہا تھا کیونکہ دائم خان سے وہ کسی اچھے کی امید نہیں رکھ سکتی تھی۔۔۔ اور پچھلے چند دن اسنے جس اذیت میں تنہا یہاں گزارے تھے شاید ہی کوئی انکا مداوا کر پاتا۔۔۔ اور مداوا تو کوئی تب کرتا جب کوئی اسے بے گناہ مانتا۔۔۔ اب تو وہ سب کی نظروں میں ایک دھوکے باز تھئ۔۔۔
بے دلی سے فریش ہو کر سنے ایک گولڈن اور سی گرین کلر کا لباس زیب تن کیا اور عبایہ پہن کر باہر نکل آئی جہاں دائم  اسکا منتظر تھا۔۔۔
اسے دیکھتے ہی دائم اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
وہ اسکی معیت میں چل رہی تھی جب گاڑی کے قریب پہنچنے پر دائم نے اسکے لئے دروازہ وا کیا۔۔۔۔ عائزل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔ یہ اب کیا تھا بھلا۔۔۔
اتنی کایا پلٹ۔۔۔ کیا واقعی اسکی دعائیں رنگ لا رہی تھیں۔۔۔
مگر سب کے سامنے اپنی وہ تذلیل یاد آتی تو وہ خود کو کانٹوں پر گھسیٹتا محسوس کرتی۔۔۔ لوگوں کی تھو تھو اور بدکردادی کے الزامات۔۔۔۔ اسے پاگل کر دیتے۔۔۔
اندر بنتے بگڑتے خیالات سے جب سر کا درد شدت اختیار کرنے لگا تو وہ سب وقت کے ڈھارے پر چھوڑتی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
دائم اونچے نیچے پتھریلے رستوں پر مہارت سے کار چلا رہا تھا۔۔۔ دفعتاً ایک عالیشان بنگلے کے سامنے جا کر کار رکی تو چوکیدار نے گاڑی پہچانتے سرعت سے لوہےکا آہنی گیٹ وا کیا۔۔۔ گاڑی زن سے آگے بڑھتی سیمٹ اور بجری سے بنی روش پر جا کر رکی۔۔۔
عائزل جو نیند کی آغوش میں جا رہی تھی گاڑی رکنے کی آواز پر سرعت سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
یہ وہ کہاں آئی تھی بھلا۔۔۔ سامنے موجود عالیشان گھر کو دیکھتی وہ تھوک نگل کر رہ گئ۔۔۔ نا جانے اب قسمت کو اس سے اور کونسی آزمائش مطلوب تھی۔۔۔
اسکا دل بھرا رہا تھا۔۔۔ وہ اسی شش و پنج میں مبتلا تھی جب دائم نے اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولتے اسکے سامنے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
عائزل نے خوفزدہ نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ اسکے خوف کو محسوس کرتا دائم لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
عائزل نے کپکپاتا مومی ہاتھ اسکی چوری ہتھیلی پر رکھا کے ایک دفعہ پہلے اسکا بڑھا ہاتھ جھٹکنے کا انجام وہ دیکھ چکی تھی۔۔۔
وہ عائزل کا ہاتھ تھامے اسے اپنی معیت میں لیتا اندر بڑھا۔۔۔
لکڑی کا اندرونی منقش دروازہ وا کرتے وہ اندر گیا۔۔۔
عائزل مرغوبیت سے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔
ارے دائم بیٹا آگے تم۔۔۔ سامنے سے ایک معمر خاتوں کو آتے دیکھ وہ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
وہ عورت دائم کو دیکھتی مسکرا کر گویا تھیں جبکہ دائم کے پیچھے سیاہ عبایہ میں ملبوس اس لڑکی کو دیکھ انکے ماتھے پر بل واضح ہونے لگے۔۔۔
دائم خان کون ہے یہ لڑکی۔۔۔ وہ کرخت آواز میں گویا ہوئیں کہ ایک پل کو تو عائزل کا دل بھی کپکپا کر رہ گیا۔۔۔
دفعتا کمروں سے چند مزید افراد نکل کر ہال میں آ چکے تھے۔۔۔
یہ آپکی بہو ہے ماں۔۔۔ دائم خان شگفتگی سے گویا ہوا۔۔۔
جہاں اسکی بات پر عائزل نے حیرانگی سے اسے دیکھا وہیں غیض و غضب میں ماں کے ہاتھ کا زبردست تھپڑ دائم خان کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔
تھپڑ جاندار تھا کے عائزل کا ہاتھ دائم کے ہاتھ سے چھوٹ گیا وہ صدمے کے تحت منہ پر ہاتھ رکھے ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔ جبکہ عائزل کپکپا کر رہ گئ۔۔۔ مطلب کے وہ اسے اپنے گھر لایا تھا اور جس ماں کا رویہ اس کے ساتھ اتنا سخت تھا تو عائزل کے ساتھ کیسا ہوتا ۔۔۔ بے ساختہ عائزل کی آنکھیں بہنے لگیں۔۔۔
کسی فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے یہاں جہاں تم کسی کا بھی ہاتھ پکڑ کر لاو گے اور بولو گے یہ آپکی بہو ہے ماں تو میں تمہیں پھولوں کا ہار پہناوں گی۔۔۔ انکی آواز گرجدار تھی جبکہ دائم خان سر جھکائے کھڑا انہیں سن رہا تھا۔۔۔ وہ یہ سب ایسے نہیں چاہتا تھا مگر آج کے واقعہ نے اسے یہ فیصلہ لینے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
مانا کے مجھے بہو گھر لانے کا ارمان تھا اور میں جلد از جلد بہو گھر لانا چاہتی تھی مگر اتنی منہ زوری۔۔۔
انکی آواز غم و غصے سے کانپ رہی تھی۔۔۔
کب ہم نے تمہاری پسند کو اہمیت نہیں دی جو تم نے یہ قدم اٹھایا۔۔۔ کیا تم ہمیں بتاتے تو ہم وہاں باعزت طریقے سے تمہارا رشتہ نا لے کر جاتے۔۔۔ 
یہ کیا حرکت کی ہے تم نے۔۔۔ کیا تم اس معاشرے میں نہیں رہتے۔۔۔ کیا اس معاشرے کے اصول و قواعد تم پر لاگو نہیں ہوتے۔۔۔
اس خاندان کے اکلوتے چشم و چراغ  ہو کر تم نے ایسا کر کے مجھے سخت مایوس کیا ہے دائم خان۔۔۔ غصے سے انکی رنگت دہکنے لگی تھی۔۔۔۔
جبکہ بابا کیساتھ ساتھ یمنہ اور شیرین بھی ہونک بنی یہ سارا معاجرا دیکھ رہی تھیں۔۔۔
عائزل کے تو آنسو ہی رکنے کا نام نا لے رہے تھے وہ سر جھکائے مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
دفعہ دادا جان لاٹھی ٹیکتے باہر آئے ۔۔۔ بہو بچوں کو اندر تو آنے دو یہ کیا تم نے انہیں دروازے پر ہی روک لیا۔۔۔
دادا جان کی مداخلت پر دائم خان نے انہیں تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ 
ابا جان آپ۔۔ ماں انکی طرف پلٹی کچھ کہنے لگی جب دادا جان نے ہاتھ اٹھا کر انہیں کچھ بھی کہنے سے روکا۔۔۔ تمہارا غصہ بجا ہے ۔۔۔ ہم بیٹھ کر بات کریں گے۔۔
شیرین اپنی بھابھی کو اپنے کمرے میں لے کر جاو۔۔۔ وہ انہیں کہنے کیساتھ شیرین سے گویا ہوئے۔۔۔
وہ سر ہلاتی عائزل کی جانب بڑھی۔۔۔
اور دائم خان تم میرے کمرے میں آو۔۔۔۔ وہ اسے حکم دیتے واپس کمرے کی جانب بڑھے تو دائم کے ساتھ ساتھ ماں اور بابا بھی انکے کمرے کی جانب بڑھے۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4