Header Ads

Scheme novel 34th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

 


Scheme novel 34th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

چونتیسویں قسط۔۔۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے حماد۔۔۔ بلکہ بہت خوشی کی بات ہے۔۔۔ ایمن بستر پر بیٹھی اپنے بال بنا رہی تھی۔۔۔ سامنے ہی موبائل کشن سے ٹیک لگائے پڑا تھا جہاں سے اپنے فلیٹ کے کچن میں کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑا حماد دکھائی دے رہا تھا۔۔۔مصروف سے انداز میں کافی پھینٹتا ہوا۔۔۔  وہ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا اور بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ ابھی وہ آفس جانے کے لئے تیار نہیں ہوا تھا۔۔۔
جبکہ ایمن بھی کافی پرسکون سی بیٹھی تھی کے ابھی اسکے گرینی کے پاس جانے میں وقت تھا۔۔۔۔
پتہ نہیں ایمن۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ باس نے کافی مشکل میں ڈال دیا ہے۔۔۔
وہ الجھا الجھا سا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
پاگل اس میں الجھن کیسی۔۔۔ شادی تو کہیں نا کہیں کرنی ہی ہے نا تمہیں۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔

ایسی بات نہیں ہے ایما۔۔۔ تم بڑی ہو مجھ سے۔۔۔ تمہاری شادی سے پہلے میں کیسے اس بارے میں سوچ سکتا ہوں۔۔۔ تم ذمہ داری ہو میری۔۔۔
وہ کافی کا مگ اٹھا کر لاوئنج میں آگیا۔۔۔ چھوٹا سا فلیٹ خاصا صاف ستھرا تھا۔۔۔
دیکھو حماد میرا مقدر میرے ساتھ اور تمہارا مقدر تمہارے ساتھ۔۔۔ صرف اس ایک بنا پر تم کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے۔۔۔
اور ویسے بھی رشتہ کنفرم کرنے میں کیسا مسلہ۔۔ تھوڑی نا ابھی شادی ہو رہی ہے۔۔۔ اور پلیز تم ہر قسم کی فضول سوچ دماغ سے نکال دو اور اپنے کام پر فوکس کرو۔۔۔ انشااللہ اللہ بہتر کرے گا۔۔۔
ایمن نے بالوں کا جوڑا بناتے انہیں کیچر میں مقید کیا۔۔
اور تمہاری اکیڈمی کا کام کہاں تک پہنچا۔۔۔۔
ہمم۔۔۔ جگہ فائنل ہو گئ ہے۔۔۔ آج اسکا رینٹ فائنل کر کے تین سال کا کنٹریکٹ کرنا ہے۔۔۔ پھر انشااللہ اسی ہفتے سے کام شروع کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔
کانٹیکٹس تو کافی بن چکے ہیں۔۔۔ آج سب فائنلائز کر کے پری ایڈمیشن اوپن کر دیں گے۔۔۔ کافی سٹوڈینٹس ہیں جو ہم سے جڑنا چاہتے ہیں ۔۔۔ تم بس دعا کرنا۔۔۔
انشااللہ سب اچھا ہی ہو گا۔۔۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔۔۔ 
وہ صدق دل سے گویا ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر تم جب سلام آباد آو گئ تو دیکھیں گے  اس بارے میں کیا کرنا ہے۔۔  وہ الوداعی کلمات کہتا فون بند کر گیا۔۔۔ جبکہ ایمن بھی گرینی کے پاس جانے کو تیار ہونے لگی۔۔۔
*****
دائم غصے سے چٹختے دماغ کیساتھ ضامن کیساتھ پارکنگ کی جانب بڑھا ۔۔۔  اب انکا ارادہ سب سے پہلے لاہور جا کر عائزل کے سابقہ منگیتر سے ملنے کا تھا۔۔۔ 
اسکی گاڑی وہیں پارکنگ میں کھڑی تھی وہ ضامن کیساتھ اسی کی گاڑی میں جانے والا تھا۔۔۔ وہ ڈرائیور کو فون کر دیتا اور وہ یہاں سے اسکی گاڑی لے جاتا۔۔۔
ضامن نے گاڑی میں بیٹھے ہی گاڑی سٹارٹ کی تو وہ حسب سابق بوجھل دل کے ساتھ فلیٹ کی فوٹیج دوبارہ کھول چکا تھا۔۔۔
اس لڑکی کا معصوم چہرا دیکھ کر ہر بار دل پر مزید بوجھ بڑھ جاتا۔۔۔ کاش وہ پہلے ہی عقل سے کام لے لیتا۔۔۔
ویڈیو میں عائزل کو دیکھتے اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔۔ وہ چونکتے ہوئے الرٹ ہو بیٹھا
کچھ تھا جو اسے کھٹک رہا تھا۔۔۔ کچھ غیر آرام دہ سا۔۔۔ مگر کیا۔۔۔
وہ لاوئنج کے صوفے پر نڈھال سی نیم درا تھی۔۔۔ 
کچھ تو غلط تھا وہاں جسے وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔۔۔
وہ یک ٹک آنکھیں مونڈے صوفے کی پشت سے سر ٹکائے بیٹھی عائزل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ 
اسکا چہرا عین کیمرے کے سامنے تھا۔۔۔ دفعتاً اسنے آنکھیں کھولیں اور سرخ آنکھوں میں تیری نمی اسکا دل چیر گئ۔۔۔
شاید وہ تکلیف میں تھی۔۔۔ اسکے سرخیاں گھلے چہرے پر تکیلف کے اثرات رقم تھے۔۔۔
دائم بے چین ہو اٹھا۔۔۔ کیا اسے کوئی مسلہ تھا۔۔۔ لیکن کیا۔۔۔۔۔ وہ کیسے پتہ لگاتا۔۔۔
وہ آہستہ سے اٹھی اور کچن کی جانب بڑھی۔۔۔ یہ آدھے گھنٹے میں اسکا کچن میں تیسرا چکر تھا۔۔۔ آخر وہ ہر تھوڑی دیر بعد کچن میں کرنے کیا جا رہی تھی۔۔۔
اسنے الجھتے ہوئے کچن کی فوٹیج کھولی۔۔۔ وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے نڈھال سی اندر آئی اور آتے ہی اسنے فریج کھولا۔۔۔ لیکن ہر بار کی طرح اسکی نگاہیں مایوس ہی لوٹ آئیں۔۔۔ پھر اسنے باری باری سبھی کیبنٹا کھولے ۔۔۔
شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔۔ وہ ڈیش بورڈ پر ہاتھ مارتا چلا اٹھا ۔۔۔  لمحوں میں وہ سارا معاملہ بھانپ گیا تھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ ضامن چونک اٹھا۔۔۔
Stop the car  now... 
وہ بے چینی سے چلا اٹھا۔۔۔
کیاااا۔۔۔ ضامن کو اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔۔۔ ساتھ ہی اسکا پاوں بے ساختہ بریک پر لگا۔۔۔ گاڑی جھٹکا کھا کر روڈ کے درمیان میں  رکی۔۔۔
بنا دیر کئے دائم دروازہ کھول کر باہر نکلا اور گھوم کر اس تک آیا۔۔۔
باہر نکلو۔۔۔ ضامن حق دق سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
خیریت۔۔۔
باہر نکلو یار۔۔۔ میری گاڑی تم لیجانا۔۔۔ ہم لاہور بعد میں جائیں گے فلحال مجھے کام ہے۔۔۔۔ وہ بعجلت ضامن کی چھوڑی جگہ سمبھال کر گاڑی زن سے بھگا لے گیا جبکہ ضامن بیچ روڈ میں کھڑا حیرت سے اسے جاتا دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔
پاگل ہو گیا ہے کیا یہ شخص۔۔۔ وہ بڑبڑاتا ہوا واپس ریسٹورینٹ کی جانب بڑھا۔۔۔ اب اسے دائم کی گاڑی میں جانا تھا۔۔۔
******

ایمن حسب سابق اپنے وقت پر گھر کے اندر داخل ہوئی تو گھر میں اسے روزمرہ سے ہٹ کر کافی چہل پہل دیکھائی دی۔۔۔
گرینی صبح ہی صبح چھری کے سہارے آ کر لاوئنج کے وسط میں براجمان تھیں جبکہ ارد گرد سب ملازموں کی دوریں لگی ہوئی تھیں۔۔۔ 
فرزانہ آپا سب کو سپروائز کر رہی تھی جبکہ حقیقی خوشی گرینی کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔
اسلام علیکم گرینی۔۔۔ آج آپ صبح ہی صبح لاوئنج میں۔۔۔ ایمن خوشگوار لہجے میں کہتی انکے سامنے آئی۔۔۔
ارے ایمن اچھا ہوا تم آ گئ بچے۔۔۔ اب سے پہلے جلدی سے میرا ناشتہ بنا لاو بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ پھر تمہیں سب بتاتی ہوں۔۔ آخر سب تم نے ہی تو کرنا ہے۔۔۔ 
خلاف توقع آج انکا لہجہ بھی شیریں ٹپکا رہا تھا۔۔۔ ایمن حیران ہوئی۔۔۔
وہ کچن میں جا کر ناشتہ بنا رہی تھی جب فرزانہ آپا کسی کام کی غرض سے وہاں داخل ہوئی۔۔
آپا آپ بہت خوش لگ رہی ہیں۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہاں نا ایمن۔۔ اریب سر شادی کے لئے مان گئے۔۔۔ وہ خوشی سے چہکی۔۔۔
واقعی۔۔۔ ایمن بھی خوش ہو اٹھی۔۔۔ اب اسے گرینی کی خوشی کی وجہ سمجھ میں آئی تھی۔۔۔ انکی طبیعت اسی وجہ سے تو بگڑی تھی۔۔۔ اب اریب شادی کے لئے مان گیا تھا تو انکا ترو تازہ اور ہشاش بشاش ہونا بنتا تھا۔۔۔
وہ ناشتہ لے کر گرینی کے پاس آئی۔۔
بہت مبارک ہو آپکو گرینی۔۔۔ 
ارے ایمن بچے میں تو رب کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتی کے اریب مان گیا شادی کے لئے۔۔۔
پچھلے دو سالوں سے رشتہ طے تھا مگر یہ پاگل ایک چھوٹی سی رنجش کو لے کر اس سے منہ موڑے بیٹھا تھا۔۔۔ حالانکہ پسند کی شادی ہے دونوں کی۔۔۔ مگر غصے اور انا میں دونوں ایک سے۔۔۔ شکر ہے اللہ نے عقل دے دی دونوں کو۔۔۔۔
وہ مطمئں سی ناشتہ کرتیں اسے تفصیل سے آگاہ کر رہی تھی۔۔۔ وہ محض مسکرا کر سر ہلا کر رہ گئ۔۔۔
سارا سگی خالہ کی بیٹی ہے اریب کی۔۔۔ بہت انڈرسٹینڈنگ ہے دونوں میں ۔۔۔ بس کبھی کبھار دونوں ہی بچے بن جاتے ہیں۔۔۔ بات کرتے وہ مسکرائیں۔۔۔
بس اب تم نے ہی اچھے سے سارے انتظامات دیکھنے ہیں۔۔۔
جی گرینی آپ فکر مت کریں۔۔ آپ بس بریف کرتے جائیے گا میں ویسے ویسے کرتی جاوں گی۔۔ اسنے مسکرا کر گرینی کی تسلی کروائی
*****
دائم گاڑی کو ہواوں میں اڑاتا لیجا  رہا تھا۔۔۔ باقی سبھی معاملات میں وہ اتنا الجھا رہا کے فلیٹ کے معاملات کو یکسر  بھول ہی گیا۔۔
وہ بھوکی تھی۔۔۔ غالبا کھانے پینے کا سارا سامان ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔ اسی لئے وہ بھوکے پیٹ بار بار کچن کے چکر کاٹ رہی تھی کے شاید وہاں کوئی کھانے کی چیز اسکی آنکھوں سے اوجھل رہ گئ ہو جسے وہ اب کھا سکے
۔۔۔ اسے جی بھر کر خود پر غصہ آیا۔۔۔ کم از کم وہ اس معاملے میں خود سے لاپرواہی کی توقع نہیں رکھتا تھا۔۔۔
وہ معصوم لڑکی تو پہلے ہی اس سے متنفر تھی۔۔۔ مزید اسکی اس لاپرواہی پر وہ اسے مزید ظالم سمجھتی ہوگئ۔۔۔ اسنے وہیں بیٹھے بیٹھے کھانا آرڈر کیا اور پھر سے کچن کی فوٹیج کھولی۔۔۔
وہ کچن میں ہی کرسی پر بیٹھی کچن کاونٹر پر سر رکھے ہوئے تھی۔۔۔
آنچل سر سے ڈھلک گیا تھا اور ریشمی آبشار پشت پر بکھری پڑی تھی۔۔۔۔
وہ گاڑی ہواوں میں اڑاتا لیجا رہا تھا۔۔۔
بھوک سے عائزل کا برا حال تھا۔۔۔ رات سے اسنے کچھ کھایا نا تھا اور اب ہمت جواب دے رہی تھی۔۔۔
دفعتاً انے ایک سسکی لی اور چہرا ہاتھوں میں چھپاتی شدت سے رو دی۔۔۔ 
گاڑی چلاتا دائم اسے دیکھ تڑپ اٹھا۔۔۔ دماغ منتشر ہونے لگا تھا۔۔
دفعتا عائزل نے آنسو صاف کرتے گلاس پانی سے بھرا اور پانی پینے لگی۔۔۔
دائم نے مطلوبہ جگہ پر گاڑی روکی اور بھاگتا ہوا اندر گیا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ہاتھوں میں مطلوبہ آرڈر کے شاپر تھامے واپس آیا اور گاڑی میں بیٹھتا گاڑی دوبارہ ہواوں میں اڑانے لگا۔۔۔
ساتھ ساتھ وہ اسے بھی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
عائزل نے نیچے کا کیبن کھولا اور سامنے بچی ہوئی خوش روٹیوں کے ٹکروں کی باسکٹ دیکھ اسکی آنکھیں چمکیں۔۔۔ اسنے جھک کر وہ باسکٹ نکالی۔۔۔
نونونونونونونونووووو۔۔۔۔۔ دائم اسکے ہاتھ میں وہ باسکٹ دیکھ آگے کی کاروائی سمجھتا چلایا۔۔۔
دماغ منتشر ہوا اور ہاتھ سے سٹرینگ پھسلا۔۔۔
گاڑی لڑکھڑائی۔۔۔ اسکی آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔
سامنے سے ٹرالر کو آتے دیکھ اسنے بامشکل اپنی کیفیت پر قابو پاتے بعجلت سٹرنگ گھماتے گاڑی کو قابو کرنا چاہا۔۔۔۔۔
روکتے روکتے بھی گاڑی ٹرالر کو کراس کرتی سامنے موجود درخت کی جانب تیزی سے بے قابو ہوتی بڑھی۔۔۔
دائم نے تیزی سے بریک لگایا۔۔۔ اتنی تیز  رفتاری سے آتی گاڑی رکتے رکتے بھی گھوم گئ۔۔ اچانک بریک لگنے کے باعث گاڑی کے ٹائر تک چڑچڑا اٹھے۔۔۔
اسنے کب کا رکا سانس خارج کیا کے بچت رہی۔۔۔ گاڑی درخت سے ایک انچ کے فاصلے پر جا رکی تھی۔۔۔
چند گہرے سانس بھرتے اسنے گاڑی ریورس کی اور واپس روڈ پر آیا۔۔۔ اسکا دل ابھی تک زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ سب کچھ سمبھالنے کی کوشیش میں سب مزید بگڑتا جا رہا تھا۔۔۔
فلیٹ کے احاطے میں پہنچتے اسنے پھر سے موبائل پر اسے دیکھنا چاہا جو ان خشک ٹکروں کو چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں تقسیم کر کے انہیں ایک پیالے میں پانی کے اندر بھگو کر اسے چمچ سے ہلا رہی تھی۔۔۔
دائم گرتا پڑتا فلیٹ کی جانب بھاگا۔۔۔
فلیٹ کے دروازے کے سامنے رک کر اسنے جیبیں ٹٹول کر فلیٹ کی چابی ڈھونڈنی چاہی۔۔۔
عائُزل روٹی کا چمچ بھرے اسے شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا دیکھ رہی تھی۔۔۔
کھانے کو دل بھی نہیں چاہ رہا تھا اور پیٹ مزید بھوکا رہنے کی اجازت بھی نا دے رہا تھا۔۔۔
بلآخر اسنے پیٹ کی مانتے چمچ اٹھا کر منہ میں ڈالا۔۔۔
عائزللللل۔۔۔ ساتھ ہی فلیٹ دائم کی ڈھار سے گھونج اٹھا۔۔۔
عائزل یکدم  گھبرا کر کرسی سے اٹھی۔۔۔ اتنے دنوں بعد یہ آواز۔۔۔ وہ اندر تک کپکپا اٹھی۔۔۔
ہاتھ میں تھامے باول کیساتھ چمچ تک زمین بوس ہو گیا۔۔۔
آخری ملاقات کے سبھی واقعات یک لخت عائزل کی آنکھوں کے سامنے سے ہو گزرے۔۔۔
دائم کا وحشیت بھرا روپ یاد آیا تو جسم پر کپکپی طاری ہوگئ۔۔۔
وہ من من بھاری قدم اٹھاتی کچن سے باہر آئی۔۔۔
دروازے کے پاس ہی کھڑا دائم چمچ اور پیالی نیچے گرنے کی آواز سن کر پرسکون ہو گیا۔۔ 
چہرے پر ایک لمبی مسافت طے کر آنے کے اثرات ہنوز موجود تھے۔۔۔
دفعتاً کچن کے دروازے سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر باہر آتی ڈری سہمی اور خستہ حال عائزل کو دیکھ اسکا دل چاہا کے ہر مصلحت بالائے طاق رکھے اسے خود میں بھینچ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔
یہ کھانا ہے انہیں برتنوں میں نکال لاو۔۔۔ وہ اس سے نظریں چراتا اسے شاپر پکڑا کر لاوئنج میں آ بیٹھا۔۔۔
وہ خود میں اس سے نظریں ملانے کی ہمت مفقود پاتا تھا۔۔۔
انکے درمیان تھوڑے نہیں بہت فاصلے تھے اتنے کے شاید ہی ایک دو بار کی کوشیش سے پاٹے جاتے۔۔۔ اسنے انگلی کی پور سے نم آنکھ کا کونہ دابا اور موبائل پر کچن کی فوٹیج دیکھنے لگا۔۔۔
کھانا دیکھتے ہی عائزل کی آنکھوں میں چمک ابھر آئی تھی۔۔۔
اسنے پہلا ڈبہ نکال کر کھولا ۔۔۔ وہ بریانی کا ڈبہ تھا۔۔۔ اسنے باقی شاپر بنا دیکھے وہیں کاونٹر ٹاپ پر رکھا اور بنا چاول پلیٹ میں نکالے اسی کرسی پر بیٹھتی ڈبے میں ہی چاول کھانے لگی۔۔۔
بنا ادھر ادھر دیکھے وہ بس رغبت سے کھا رہی تھی۔۔۔ ایک آنسو دائم کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔ اور وہ گہری سانس خارج کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ایک مرتبہ پھر سے وہ فلیٹ سے باہر تھا۔۔۔ لیکن اس دفعہ وہ ایک بڑا فیصلہ لے چکا تھا۔۔ اب وہ جانتا تھا کے اسے آگے کیا کرنا ہے۔۔۔ اپنی آج کی لاپرواہی کے باعث وہ خود سے ہی خفا تھا۔۔۔ ایسا کوئی ااور واقعی وہ مزید افورڈ نہیں کر سکتا تھا اس لئے شاید ایک اہم کام کرنے کا وقت ابھی آن پہنچا تھا۔۔۔
ایک بڑے فیصلے پر پہنچ کر اسنے مطمیں ہوتے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔
******
******
گھر سے باہر لان کو طرح طرح کی لائٹینگ سے سجایا گیا تھا۔۔ خوب خوب آتش بازیاں کی جا رہی تھی۔۔۔ میوزک کا اسقدر شور تھا کے کان پڑی آواز سنائی نا دے رہی تھی۔۔۔
ایمن گھر کے اندرونی لکڑی کے منقش دروزے میں ایستادہ مسکراتی نگاہوں سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔
آج اریب کی مہندی تھی۔۔۔ اور مہندی کا فنگشن گھر کے لان میں ہی رکھا گیا تھا۔۔۔۔
فنگشن ویسا ہی تھا جیسا کسی بھی رئیس زادے کی شادی کا ہوسکتا تھا۔۔۔ فنگشن کی ارینجمنٹس پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا۔۔۔۔
۔ہر چیز پرفیکٹ تھی۔۔۔
وہ جھلملاتی نگاہوں سے سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ سب اللہ کے کام تھے۔۔۔ کسی کو اتنا عطا کر دیتا کے ان سے سب سمبھالے نا سمبھلتا اور کسی کو اتنا بھی نا دیتا کہ زندگی ہی پرسکون کٹ جاتی۔۔۔
اسنے گہرا سانس خارج کیا اور اندر کی جانب بڑھ آئی۔۔۔
باہر جتنا شور تھا اندر اتنی ہی خوموشی تھی۔۔۔ سبھی باہر لان میں تھی۔۔۔ گرینی کے تو پاوں ہی زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔
وہ چپ چاپ اندر کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ اریب کی شادی کے بعد وہ بھی حماد کے پاس چلی جاتی۔۔۔ یقیناً زندگی ایک نیا موڑ لے لیتی تو سب ٹھیک ہو جاتا۔۔۔ وہ بھی ماضی کے دھوکوں سے آگے بڑھ آتی۔۔۔
دفعتاً اسے کچن میں کچھ گرنے کی آواز آئی تو وہ چونک کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
کچن میں اندھیرا تھا اور اسکی کھڑکی گھر کے پچھلے حصے کی جانب کھلتی تھی۔۔۔ ایسے میں جب سبھی باہر تھے تو وہ وہاں کون ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔
وہ الجھتی ہوئی اس جانب بڑھی لیکن دروازے میں ہی ٹھٹھک کر رکی کیونکہ کوئی کچن کی کھڑکی سے کود کر اندر آنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
اسکا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔ اندر وہ اکیلی تھی اور اتنے شور شرابے میں باہر تک کسی کو اسکی آواز تک نا جاتی۔۔۔
خوف کی ایک لہر اسکے جسم میں سرائیت کرتی چلی گئ۔۔۔ 
ایک دلخراش چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ مزید چیختی کسی نے بعجلت اندر چھلانگ لگائی اور لمحوں میں اسے اپنی جارحانہ گرفت میں جھکڑتے اسکے منہ پر اپنا بھاری مردانہ ہاتھ رکھتے آواز کا گلہ گھونٹا۔۔۔
وہ اس مضبوط گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئ۔۔ خوف سے پھٹی آنکھیں بہنے کو تیار تھی جب وہ اسکے کان کے پاس سرگوشانہ گویا ہوا۔۔۔
ششش۔۔۔ آواز نا آئے۔۔۔
اسنے ایمن کو چھوڑتے جیب سے لائٹر نکال کر چلایا۔۔
شعلہ جلتے ہی نوارد کا چہرا واضح ہوا۔۔۔ لمحوں میں ایمن کے دماغ نے شناخت کے مراحل طے کئے۔۔۔ اسکے چہرے پر بے یقینی تھی۔۔۔ وہ کم از کم یہاں اس شخص کی موجودگی کی توقع نہیں رکھتی تھی ۔۔۔ اسے دیکھتی وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔ جبکہ نووارد کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4