Scheme novel 33rd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 33rd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
تیتیسویں قسط۔۔۔۔
اریب اس وقت سٹڈی روم میں موجود کوئی فائل دکیھ رہا تھا جب ایمن دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی۔۔۔ اسنے ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ تھام رکھا تھا ۔۔۔ اریب نے ایک نظر اسے دیکھا اور سیدھا ہو کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اریب کی سٹڈی بہت آرٹسٹک انداز میں سجی تھی جس میں انڈور پلانٹس الگ ہی دلکشی پیدا کر رہے تھے۔۔۔
مجھے کچھ کام ہے آپ سے سر۔۔۔ وہ اسکے قریب جاتی گویا ہوئی ۔۔
اریب نے سر ہاں میں ہلاتے سنگل صوفے کی جانب اشارہ کیا تو ایمن خاکی لفافہ اسکی جانب بڑھاتی صوفے پر براجمان ہوئی۔۔۔
یہ کیا ہے مس ایمن۔۔ اریب نے لفافہ کھولا تو اندر سے نکلتے کئ ایک نوٹ دیکھ وہ سمجھنے کے باوجود بھی نا سمجھی سے مستفسر ہوا۔۔۔۔۔
قرض کی جو رقم باقی تھی یہ وہ رقم ہے سر۔۔۔
میرا بھائی کام کی غرض سے اسلام آباد شفٹ ہو گیا ہے۔۔۔ اس لئے میں بھی اس کے پاس ہی جا رہی ہوں۔۔۔ میں یہ مہینہ ہی یہاں مکمل کروں گی تا کے آپ اس دوران گرینی کے لئے کسی اور کیئر ٹیکر کا انتظام کر سکیں۔۔۔
ابھی یہ مہینہ مکمل ہونے میں دو ہفتے ہیں سر۔۔۔ مجھے امید ہے آپکو اس دوران کوئی اچھی کیئر ٹیکر مل جائے گی۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ اریب اسے پرسوچ نگاہوں سے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔
ایمن کے اس فیصلے سے وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا۔۔۔ شاید اب اسے واقعی شادی کر لینی چاہیے۔۔۔ گرینی ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں۔ اس چیز کا مستقل یہ ہی حل تھا شاید۔۔۔
اسکے دماغ میں بیک وقت کئ طرح کی سوچیں چل رہی تھیں۔۔
*******
دائم الجھا الجھا سا اپنے دفتر میں بیٹھا تھا ایک گھنٹے بعد وہ ضامن سے قریبی ریسٹورینٹ میں ملنے والا تھا۔۔۔ وہ شدید اضطراب کا شکار لگتا تھا۔۔۔۔
آنکھیں رات بھر جاگنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔ کسی کام میں دل نا لگ رہا تھا۔۔۔
سامنے لیپ ٹاپ پر فلیٹ کی فوٹیج آن تھی۔۔۔ اور عائزل کی حالت دیکھ اسکی پشیمانی حد سے سوا ہو رہی تھی۔۔۔
رات سے وہ وہیں لاوئنج میں جائے نماز پر ہی بیٹھی تھی۔۔۔
نماز پڑھنے کے بعد وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئ تھی۔۔۔ زمین پر بیٹھے اسکا سر صوفے کی ہتھی سے ٹکا تھا۔۔۔ وہ کافی غیر آرم دہ حالت میں سو رہی تھی۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ اٹھی تھی اور کچھ کھانے کی غرض سے کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
دائم کہنی صوفے کی ہتھی پر ٹکائے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے سرخ آنکھوں سے یک ٹک سکرین سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
دفعتا حماد دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوا۔۔۔
باس۔۔۔ نئے پڑاڈکٹس کی ایڈیٹس تیار ہیں۔۔۔ آپ ایک نظر دیکھ لیں پھر میں اپلوڈ کر دوں گا۔۔۔
وہ ہاتھ میں کیمرا تھامے مصروف سے انداز میں اندر داخل ہوا۔۔۔
دائم لمحے میں خود کو کمپوز کرتا لیپ ٹاپ کی سکرین فولڈ کر کے چہرے پر بشاشت لاتا سیدھا ہوا۔۔۔
ہمم دکھاو۔۔۔ وہ اسکے ہاتھ سے کیمرا پکڑ کر دیکھنے لگا تو حماد کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا یوں کے جیسے ابھی دائم اسے کیمرا پکڑائے تو واپس جا کر انہیں اپلوڈ کر سکے۔۔۔
اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔۔۔
کیسا رہا تمہارا ٹوڑ۔۔۔۔ خاصے پرسکون لگ رہے ہو ۔۔۔ فیملی سے مل کر کافی فریش ہو گئے ہو۔۔۔ نہیں۔۔۔
دائم اسے دیکھتا مسکرایا۔۔۔۔
باس مشاہدہ بڑا گہرا ہوتا جا رہا ہے آپکا۔۔ وہ بھی دل سے مسکرایا۔۔ سامنے بیٹھا شخص اسکا باس کم دوست زیادہ تھا جسکے باعث وہ اس سے باآسانی ناجانے کن کن موضوعات پر بات کر جاتا تھا۔۔۔
قرض تھا کچھ واجب الادا۔۔۔ وہ ادا کر کے آ رہا ہوں ۔۔۔ اس لئے خود کو بہت مطمئں اور ہلکا پھلکا سا محسوس کر رہا ہوں۔۔۔
شادی کا کب تک ارادہ ہے حماد۔۔۔ وہ کیمرا واپس سینٹرل میز پر رکھتا اب رفتہ رفتہ اصل موضوع کی جانب آ رہا تھا۔۔۔
ابھی تو دورررر دورررر تک کوئی ارادہ نہیں ہے باس۔۔۔ ابھی تو زندگی کی سب سے پہلی ترجیح میری بہن ہے۔۔۔
جسے دو پل سکون کے فراہم کرنے ہیں۔۔۔ بہت سفر کیا ہے اسنے میرے لئے ۔۔۔ اب میری باری ہے۔۔۔ وہ اداسی سے کھویا کھویا سا مسکرایا۔۔۔
اسکی بات سن کر دائم چند پل خاموشی سے اسے دیکھتا رہا جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔۔۔
پھر اسنے گہری سانس خارج کرتے نہایت موزوں انداز میں ماں کی بات حماد تک پہنچائی تو اسکی بات سمجھ کر حماد کرنٹ کھا کر سیدھا ہوا۔۔۔
کئ لمحوں تک تو وہ شاک کے زیر اثر کچھ بول تک نا سکا۔۔۔
چہرے پر واضح پریشانی کے اثرات تھے۔۔۔
باس آپ جانتے بھی ہیں کے کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔
کچھ پلوں بعد وہ خود کو کمپوز کرتا گویا ہوا۔۔۔
دیکھو حماد میں تمہیں چھوٹا بھائی کہتا ہی نہیں مانتا بھی ہوں۔۔ اور اسی رشتے کے بنا پر آج میں بھائی ہوتے ہوئے بھی خود سے اپنی بہن کے رشتے کی بات بذات خود تم سے کر رہا ہوں۔۔۔ کیونکہ تم ہر لحاظ سے مجھ اپنی بہن کے قابل لگے ہو۔۔۔
لیکن اس کے باوجود اگر تمہیں کوئی مسلہ ہے یا تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو تو بڑا بھائی سمجھ کر تم مجھ سے شیئر کر سکتے ہو۔۔۔ کوئی زبردستی والی بات نہیں ہے یہ۔۔۔ اور نا ہی ایسے معاملوں میں زبردستی چلتی ہے۔۔۔
وہ حماد کی پریشانی دیکھ متانت سے گویا ہوا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے باسسسس۔۔۔ اسنے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔ وہ خاصا مضطرب دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
پھر کیسی بات ہے۔۔۔ دائم دونوں ہاتھ باہم پھنسا کر میز پر رکھتا آگے ہو کر بیٹھا۔۔۔
بہت سے فیکٹرز ہیں باس جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ اسنے بے چین نگاہیں دائم پر ٹکائیں۔۔۔
جیسے۔۔۔ دائم نے کریدا۔۔۔
جیسےےےےےے۔۔۔۔
جیسے آپکے اور میرے درمیان موجود سٹیٹس کا فرق۔۔۔ جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ کسی جذباتی فیصلے کی نظر بھی نہیں۔۔
وہ دائم کو کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا دیکھ تیزی سے گویا ہوا ۔۔۔ دائم گہرا سانس خارج کرتا واپس سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا جیسے اسکی بات مکمل ہونے کا منتظر ہو۔۔۔
ظاہر سی بات ہے وہ آپکی بہن ہے تو جس طرح کے ماحول میں وہ ابھی تک رہی ہیں میں انہیں وہ ماحول فراہم نہیں کر سکتا ۔۔۔
شادی باذات خود ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔۔۔ کجا کے آپکی بہن سے شادی۔۔۔ مطلب سمجھ رہے ہیں آپ میری باتوں کا۔۔۔
ابھی میں خود سٹیبلش نہیں ہوں۔۔ اپنے پاوں جمانے کی کوشیش کر رہا ہوں۔۔ اس مقام پر میں خود لڑکھڑا رہا ہوں۔۔۔ ایسے میں کیسے کسی اور کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہوں میں۔۔۔
باس آپکی یہ خواہش میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔۔ لیکن میں اس اعزاز کی خوشی میں کسی کے ساتھ زیادتی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔۔
سمجھ رہے ہیں آپ باس کے میں کیا کہنے کی کوشیش کر رہا ہوں۔۔۔ آپکے حوالے سے آپکا ہر رشتے میرے لئے بہت قابل احترام ہے ۔۔ بہت زیادہ۔۔۔آپکا بے حد شکریہ کے آپ نے مجھے اس قابل سمجھا ۔۔۔لیکن۔۔۔ لیکن
میں خود کو اس رشتے کے قابل نہیں سمجھتا باس۔۔۔ وہ کچھ توقف سے سنجیدہ سا گویا ہوا۔۔۔
پلیز۔۔۔ مجھے امید ہے کے آپ میری باتوں کو سمجھیں گے۔۔۔
میں تمہاری سبھی باتوں کو بہت اچھے سے سمجھ گیا ہوں حماد۔۔۔ اب تم سمجھو میری بات۔۔۔ وہ جو پرسکون سا اسکی بات ختم ہونے کا منتظر تھا سیدھا ہوا۔۔۔
اب خود کو میری جگہ رکھ کر ساری سچویشن سوچو۔۔۔
اب فیصلہ تمہیں اپنی بہن کے لئے لینا ہے۔۔۔
تمہارے سامنے ایک ایسا شخص ہو جو محنتی ہو شریف ہو اپنے رشتوں کی نزاکت کو سمجھتا ہو ان کا قدردان ہو خوش اسلوبی سے رشتوں کو نبھانے والا ہو اور سب سے بڑھ کر خودار ہو ۔۔۔ تو کیا تم ایسے شخص کو اپنی بہن کے لئے منتخب کرو گے یا نہیں۔۔۔
دیکھو حماد ٹھیک ہے کے ابھی ہمارا کلاس ڈفرینس ہے لیکن جہاں تک میں دیکھ پا رہا ہوں ۔۔۔ اسکے مطابق وہ دن دور نہیں جب تم فناشلی ٹینشن فری ہو جاو گے۔۔۔
میری نظر میں یہ فرق اہمیت نہیں رکھتا۔۔۔ ایک اچھا اور قدر دان شخص اہمیت رکھتا ہے اور مجھے پتہ ہے کے تم میری بہن کو بہت خوش رکھو گے۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے کے وہ میری سگی بہن نہیں۔۔۔ لیکن میرے لئے اس میں اور شیرین میں کوئی فرق بھی نہیں۔۔۔
اور ابھی تھوڑی نا ہم شادی کر رہے ہیں۔۔ تم پلیز ریلیکس مائنڈ کے ساتھ اس بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو۔۔۔ کہ آخر شادی تو تمہیں بھی کہیں نا کہیں تو کرنی ہی ہے نا ۔۔۔ تو پھر یہاں کیوں نہیں۔۔
اور یقین مانو میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔
دائم کے متانت سے سمجھانے پر حماد کے تنے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے۔۔۔
وہ ہنوز الجھا ہوا تھا لیکن بے چینی کچھ کم ہوئی تھی۔۔۔
وہ سر ہاں میں ہلاتا الجھا الجھا سا اٹھ کر چلا گیا۔۔۔
موبائل کی بیل کی آواز پر دائم اسکی جانب متوجہ ہوا فون ضامن کا تھا۔۔۔ وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ یقینا وہ مطلوبہ مقام پر پہنچ چکا تھا۔۔۔
*****
کیسی ہے میری پرنسس۔۔۔ کتنے دنوں بعد ملنے آئی ہو انو۔۔۔ آن بہن کے کمرے میں موجود اسے محبت سے دیکھتا مستفسر تھا جو ضد کے مطابق انکے ساتھ شفٹ نہیں ہوئی تھی بلکہ وہیں پر رہائش پذیر تھی۔۔۔
آن ہر بار ہی اسکی ضد کے آگے مجبور ہو جاتا تھا۔۔۔ ویسے بھی اسے اپنی بہن پر پورا بھروسہ تھا۔۔
بھائی آپکو پتہ ہے اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی۔۔۔ شادی کے بعد بہت کچھ بدل جاتا ہے۔۔۔ بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے وہ کشن گود میں رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ سوٹ سے ہم رنگ دوپٹہ گلے میں تھا جبکہ بھورے بال دائیں جانب سے کندھے پر پڑے تھے۔۔۔
شادی مائے فٹ انو۔۔۔ لمحوں میں اسکا غصہ بڑھا تھا۔۔۔ جیسے منہ میں کڑوے بادام گھل گئے ہوں۔۔۔
تمہاری ضد کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں میں نے انو۔۔۔ ورنہ میری بہن کو کوئی رشتوں کی کمی نہیں تھی۔۔۔ سوری ٹو سے۔۔۔ لیکن تم اس شخص سے بہت بہتر ڈیزرو کرتی تھی۔۔۔ ایک پرسنٹ خوش نہیں ہوں میں تمہاری شادی سے۔۔۔ اور جس طرح سے تم نے مجھے اتنے شارٹ نوٹس پر راضی کیا نا اپنی شادی کے لئے وہ میں ابھی تک۔۔۔
بھائی پلیز۔۔۔ اس سے پہلے کے آن غصے میں آپے سے باہر ہوتا وہ اکتا کر گویا ہوئی۔۔
اتنے دنوں بعد ملنے آئی ہوں اتنی مصروفیت سے وقت نکال کر اور آپ ہیں کے۔۔۔
اس سے بہتر ہے کے واپس ہی چلی جاوں۔۔ وہ بددلی سے کہتی جوتا پہننے لگی۔۔۔
زیادہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے یہ مصروفیت بھری زندگی کا انتخاب بھی تمہارا اپنا ہی ہے۔۔۔
بلاو اپنے اس سو کالڈ شوہر کو کے آکے کھانا ہمارے ساتھ ہی کھائے۔۔ وہ سر جھٹک کر غصہ ضبط کرتا گویا ہوا جبکہ انو اسکے اس انداز پر مسکرا دی۔۔۔
وائے ناٹ بھائی۔۔۔
ویسے آپ کیا جانو اس محبت نامی بلا کو۔۔۔ جب یہ مرض کسی کو لاحق ہوتا ہے تو وہ سدھ بدھ کھو جاتا ہے۔۔ انو کسی اور ہی دنیا میں کھوئی دلکشی سے مسکراتی گویا ہوئی۔۔۔
کیا مطلب۔۔
آپ نہیں سمجھو گے بھائی۔۔۔۔
*****
حسن کو سلا کر کنول کچن میں آئی۔۔۔ سب کچھ تقریباً تیار ہی تھا۔۔۔ اسنے ڈھکن ہٹا کر ایک مرتبہ پھر سے سارے کھانے کا جائزہ لیا۔۔۔ آج کافی دیر بعد اسکی نند گھر آئی تھی تو کھانے کا انتظام اسنے خود کیا تھا۔۔۔
وہ آن اور انو کو کھانا تیار ہونے کا بتانے انکے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کمرے کا دروازہ ناک کرتی اندر سے آنے والی آوازوں سے اسکا ہاتھ ٹھٹھکا۔۔۔
اند سے آتی آواز سن کر اسکا ہاتھ کسی کٹے ہو شہتر کی مانند نیچے گرا۔۔۔ اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔گویا وہ الفاظ نہیں صور اسرافیل ہو جو اسکے کانوں میں پھونکا جا رہا ہو۔۔۔
کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔
صبح شام اس گھر میں کیا ہوتا تھا۔۔۔ پلانینگ پلانینگ پلانینگ۔۔۔ اسکام اور سکیم پھر سیکم اور اسکام۔۔۔
بس انکی دنیا انہی چیزوں کے گرد گھومتی تھی۔۔۔ اب تو وہ سکیم اور اسکام کا فرق بھی واضح سمجھنے لگی تھی۔۔۔
لمبے ہاتھ مارنے کو پہلے ایک بھرپور سکیم بنائی جاتی۔۔ طویل پلانینگ۔۔۔ مختلف سٹریٹیجیز اور حالات و واقعات۔۔۔ ایک بھرپور سکیم بنانے کے بعد اسے اپلائے کر کے ایک دلفریب جال بن کر پھر اسکام کیا جاتا جس کے اثر سے لوگوں کو نکلنے میں کئ کئ مہینے لگ جاتے۔۔۔
لیکن آج کی انکی پلانینگ الگ تھی۔۔۔ بہت الگ۔۔۔ اتنی الگ کے کنول کو اپنی سانس تک رکتی محسوس ہوئی۔۔۔
اسکا دل چاہا کے کاش وہ مر جائے۔۔۔ شاید اس میں اس سے زیادہ ظلم ہوتے دیکھنے کی طاقت نا تھی۔۔۔
لیکن شاید اب اگر اس ظلم کے خلاف قدم نا اٹھاتی تو تاعمر اپنی ہی نگاہوں میں گنہگار ٹہرائی جاتی۔۔
آج اگر اسنے ایک گھٹیا ترین پلانینگ سنی تھی تو اسے کچھ کرنا تھا۔۔ بلاشبہ وہ ایک بہت کم ہمت لڑکی تھی۔۔۔ لیکن آج وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتی تھی۔۔۔ آج اسے اپنے ہی شوہر سے غداری کرنی تھی۔۔۔ اور اسکے بعد کیا ہوتا۔۔۔ یقینا اسکا شوہر اسکی غداری کے بارے میں جان لیتا۔۔۔ اور پھر جو ہوتا وہ بہت بھیانک ہوتا۔۔
اتنا بھیانک کے وہ تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر زبان بند رکھ کر وہ مستقل طور پر جہنم اپنا ٹھکانہ نہیں بنا سکتی تھی۔۔۔
اسے بساط بھر کوشیش کرنی تھی۔۔۔ جسے سوچ کر ہی اسکی ٹانگیں کپکپانے لگی تھیں۔۔۔
اللہ مجھے حوصلہ دے۔۔۔ وہ اپنا کپکپاتا وجود گھسیٹی اندر چلی گئ۔۔۔
*****
سوری میں لیٹ تو نہیں۔۔ ضامن مطل ریسٹورینٹ میں دائم کا منتظر تھا۔۔۔ جب وہ بعجلت اندر داخل ہوتا کرسی گھسیٹ کر اسکے سامنے بیٹھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ تم لیٹ نہیں شاید میں ہی جلدی آ گیا۔۔۔ اضامن نے اسے دیکھتے لطیف سا طنز کیا۔۔۔
خیر چھوڑو یہ سب۔۔۔ وہ بات بتاو جس کے لئے ہم یہاں آئے ہیں۔۔
اسنے بات کرتے ساتھ موبائل پر فلیٹ کی فوٹیج بھی کھول لی۔۔ ناجانے کیوں وہ اب اس لڑکی کو ایک پل کے لئے بھی آنکھوں سے اوجھل کرنے کا روادار نا تھا۔۔۔ مگر اب ساری الجھی گھٹیاں سلجھائے بنا اسکے روبرو جانا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔
ناجانے کیوں وہ صبح سے اسے اسقدر مضحمل اور بجھی بجھی سی کیوں لگ رہی تھی۔۔ یا شاید وہ اسکی حالت پر غور ہی اب کر رہا تھا۔۔۔
وہ بس گم صم سی جس جگہ بیٹھتی وہیں بیٹھی رہتی۔۔۔ کئ کئ گھنٹے ایک ہی پوزیشن میں گم صم سی۔۔ کسی گہری سوچ میں غرق ۔۔ اس لڑکی کی حالت دائم کا دل چیر رہی تھی۔۔
دیکھو دائم مجھے تمہیں ایک بہت اہم بات بتانی ہے۔۔ جو اکاونٹ ابھی تک بھابھی کے نام سے موجود تھا وہ دو گھنٹے پہلے ڈیلیٹ ہو گیا ہے۔۔۔
کیاااا۔۔۔ ضامن کے ٹھنڈے انداز میں کہنے پر دائم کو جھٹکا لگا۔۔۔
ہاں ۔۔۔ شاید انہیں پتہ چل گیا کے کوئی اس ائی ڈی سے انکا وائی فائے ایڈریس ڈھونڈنے کی کوشیش کر رہا ہے۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔
تو پھر اب۔۔ دائم خاصا پریشان دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جہاں سے کوئی سراگ ملنے کی امید بندھتی ہے وہ راستہ ہی بند ہو جاتا ہے۔۔۔ اسنے زور سے میز پر ہاتھ مارا کہ وہاں موجود گلاس سے پانی تک چھلک گیا۔۔۔
ریلیکس دائم۔۔۔ لیکن اکاونٹ ڈیلیٹ ہونے سے پہلے ایک اہم بات مجھے پتہ چل چکی تھی۔۔۔
وہ کیا۔۔۔ دائم چونک کر سیدھا ہوا۔۔۔
دیکھو دائم ہے تو یہ بہت الجھا دینے والی بات۔۔ اور اسی وجہ سے یہ کیس مزید الجھ رہا ہے۔۔۔
بھابھی کو بے قصور نا سمجھنے کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہی تھی کے وہ پہلے جو وائی فائف استعمال کر رہی تھیں تم سے بات کرنے کے لئے اسکا ایڈریس وہی تھا جہاں بھابھی رہ رہی تھیں۔۔۔۔ مطلب اسی وائی فائی کے ایڈریس سے ہم بھابھی تک پہنچے تھے۔۔۔
لیکن وہ بے قصور ہے۔۔۔ اصل مجرم کوئی اور ہے۔۔ دائم بے ساختہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔
یہ بات مزید پختہ ہو رہی ہے دائم ۔۔ وہ دائم کو دیکھتا کچھ توقف کو رکا۔۔۔
کیسے۔۔۔ دائم مزید الجھ رہا تھا۔۔۔
ایسے کے بھابھی تو تمہارے فلیٹ پر موجود ہے اور شاید انکے پاس موبائل بھی نہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔
وہ بات کرتا رکا۔۔۔۔
لیکن۔۔۔ دائم کے ماتھے پر بل نمودار ہونا شروع ہوئے۔۔۔ لیکن صبح تک موجود بھابھی کے نام کی آئی ڈی کی لوکیشن ہنوز وہی ہے۔۔۔
دائم جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔ جیسے پتھر کا مجسمہ بن گیا ہو۔۔۔
تم کہنا کیا چاہتے ہو ضامن۔۔۔ اسے اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔
میرے خیال کے مطابق دائم کے مجرم کوئی بہت قریبی ہے۔۔۔ جو ابھی بھی اسی گھر میں وقوع پذیر ہے۔۔۔
اگر تم کہو تو ہم بھابھی کو اعتماد میں لے کر انکی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔ کہ انہیں کسی پر شک ہے کیا۔۔۔ انکے تعاون سے ہم یہ کیس جلدی حل کر سکتے ہیں۔۔ وہ ساکت و جامد بیٹھے دائم کو دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
اسنے لب بھینچتے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
وہ بے وقوفانہ حد تک معصوم ہے ضامن۔۔۔ اسنے انگلی کی پوروں سے آنکھوں کے کونے دبائے۔۔۔
پتہ نہیں یہ اسکی خوبی ہے یا خامی۔۔ مگر وہ لڑکی کورے کاغذ کی مانند شفاف ہے جسنے دنیا نہیں دیکھی مگر دنیا نے اس کورے کاغذ پر اپنی مرضی کی تحریر رقم کرنے کی کوشیش کی ہے۔۔۔
وہ اس معاملے میں کچھ نہیں جانتی۔۔ اگر اسے زرا بھی کسی پر شک ہوتا تو پہلے ہی منہ سے یہ بات نکال چکی ہوتی۔۔۔ اور اگر وہ لہجوں کی بنا پر لوگوں کو جج نا کرتی ہوتی تو شاید آج کوئی اتنی آسانی سے اسے اتنے بڑے جال میں نا پھنسا جاتا۔۔۔
اسکے لئے ہر میٹھا بولنے والا شخص اسکا خیر خواہ ہے۔۔
وہ کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔۔۔
تو پھر اسکا ایک ہی راستہ ہے کے ہمیں واپس بھابھی کی سابقہ رہائش پر جانا چاہیے اور بھابھی کے سابقہ منگیتر سے ملنا چاہیے۔۔
مطلب ۔۔ دائم مزید الجھا۔۔۔
بھابھی کی شادی ہونے والی تھی نا جس روز تم وہاں گئے تھے۔۔۔ اور شادی سے پہلے بھی وہ اپنے منگیتر کے پاس ہی رہ رہی تھیں۔۔
دائم کا دماغ اب ریورس چلنے لگا تھا۔۔۔ ضامن اسے اس کہانی کا ایک اور رخ دکھا رہ تھا جہاں تک وہ گیا ہی نا تھا۔۔۔
ہاں تو مطلب ہمیں اسکے شادی سے پہلے کے حالات جاننے چاہیے۔۔۔ وہ جیسے کسی نقطے پر پہنچا۔۔۔
ہاں اور شاید۔۔۔ ضامن کچھ کہتا کہتا رکا۔۔۔۔
یکدم دائم کے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔ اسکی رنگت سپید پڑنے لگی تھی۔۔۔
ضامن کہیں اس سب میں اسکا سابقہ منگیتر۔۔۔ وہ کچھ کہتے کہتے رکا۔۔۔
اسکا تنفس تیز ہونے لگا تھا۔۔۔
شک کے کٹہرے میں سب سے پہلے وہی آتا ہے دائم۔۔۔ کیونکہ وہ ہی بھابھی کے سب سے زیادہ قریب تھا۔۔
دائم نے سختی سے مٹھیاں بھینچتے جبڑے بھینچے۔۔۔۔ آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔
اگر ایسا سچ میں ہوا نا ضامن تو اس شخص کے اتنے ٹکرے کروں گا کے گنتی بھول جائے گا۔۔۔
اٹھو ہم ابھی وہاں جائیں گے۔۔۔ وہ غصے سے ڈھارتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
دائم یہ وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا ہے۔۔۔ لحاضہ اپنے غصے پر قابو پاو۔۔۔
ضامن بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ البتہ وہ دائم کی نسبت کمپوز تھا شاید یہ اسکی ڈیوٹی کا حصہ تھا۔۔۔
*****

No comments