Header Ads

Scheme novel 32nd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 32nd Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

بتیسویں قسط
اسنے غصے سے اٹھتے جوتا پہنا۔۔۔۔ اب وہ صورتحال وہیں جا کر دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن ایک بات طے تھی۔۔۔ ابکی بار وہ اس لڑکی کی کوئی غلطی معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
یکدم یاد آنے پر اسنے موبائل جیب میں ڈالتے ڈالتے پھر سے نکالا۔۔۔
لاوئنج اور انٹرس کی فوٹیج تو اسنے چیک کی ہی نہیں۔۔۔
اسنے وہیں کھڑے کھڑے انٹرس کی فوٹیج نکالی۔۔۔ دروازہ ہنوز لاک تھا۔۔۔ شش و پنج میں مبتلا اس نے لاوئنج کی فوٹیج نکالی اور اسے دیکھتے ہی وہ تھم گیا۔۔۔
جیسے ایک پل کو کوئی اسے اندر تک جھنجھوڑ گیا ہو۔۔۔
وہ گھبرا کر وہیں بیٹھ گیا۔۔۔
رات کے دوسرے پہر زیرو پاور کی مدہم لائٹ میں وہ دوپٹہ حجاب کی صورت لپیٹے جائے نماز پر بیٹھی ہاتھ اٹھائے اپنے رب کے حضور رو رہی تھی۔۔۔۔

نہیں بلکہ وہ رو نہیں رہی تھی۔۔۔ جس چیز نے دائم خان کو جھنجھوڑا تھا وہ اسکے دعا مانگنے کا طریقہ تھا۔۔۔ وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہی تھی۔۔۔
یا یہ کہا جاتا کے بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔
دائم کے اندر توڑ پھوڑ سی ہونے لگی تھی۔۔۔ اسنے آج تک اس لڑکی کو اتنی ٹوٹی پھوٹی حالت میں نا دیکھا تھا۔۔۔
اسنے وہیں بیٹھے بیٹھے ہیڈفون اٹھا کر کانوں کو لگایا۔۔۔
یوں وہ اسکی کلیئر آواز سن نہیں پا رہا تھا۔۔۔
یا اللہ وہ شخص ظالم ہے۔۔۔ بہت بہت ظالم۔۔۔۔ اللہ اسکے دل میں میرے لئے رحم ڈال دے۔۔۔۔ اسکی آواز ٹوٹ رہی تھی۔۔۔۔
وہ میری بے گناہی پر یقین لے آئے۔۔۔ اللہ میں بے گناہ ہوں۔۔۔ تو تو جانتا ہے نا۔۔۔ تو جانتا ہے نا اللہ۔۔۔ جیسے وہ اللہسے اپنی بے گناہی کی یقین دہانی چاہتی ہو۔
اللہ وہ شخص جسے تو نے میرا محافظ مقرر کیا ہے۔۔۔ وہ مجھے بدکردار  بے حیا اور دھوکے باز کہتا ہے۔۔۔
اللہ تو جانتا ہے نا میں ایسی نہیں۔۔۔ میں اچھی لڑکی ہوں اللہ۔۔۔ اس  شخص کو بھی اس بات کو یقین ڈلا دے۔۔۔ اسکا دل زخمی زخمی ہوا پڑا تھا جہاں سے درد کی بے شمار ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں ۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیا کروں اللہ۔۔۔ میں خود کو ایک بند اندھیری کوٹھری میں کھڑا پاتی ہوں جہاں میرے پاس میری واحد امید تو ہے۔۔۔ اور تو تو سب کر سکتا ہے نا اللہ ۔۔۔ تیرے لئے کیا مشکل 
تو کوئی سبیل نکال دے۔۔۔ کوئی وسیلہ بنا دے میرے مالک۔۔۔ درد آنسووں کی صورت بے ساختہ بہہ رہا تھا
تو گواہ ہے کے نکاح سے پہلے میں اس شخص کو جانتی تک نا تھی۔۔۔ پھر اسکے پاس تمام ثبوت۔۔۔ وہ کہاں سے آئے۔۔۔
وہ تمام ثبوت مجھے جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔۔۔ حالانکہ وہ خود جھوٹے ہیں۔۔۔ میں نے کب بات کی کسی نا محرم سے۔۔۔
کیوں اس ظالم شخص کو مجھ پر یقین نہیں آجاتا اللہ۔۔۔ کیوں ہے وہ اتنا ظالم۔۔۔
اللہ میری پارسائی ثابت کردے۔۔۔ کردے نا اللہ۔۔۔
وہ ہچکیوں سے رو دی تھی۔۔۔ جیسے آج اپنے رب کو راضی کر کے ہی اٹھنے کا ارادہ ہو۔۔۔
اس ظالم شخص کو احساس دلا دے کے اسنے میرے ساتھ کتنا غلط کیا ہے۔۔۔ کتنا ظلم کیا ہے اسنے مجھ پر۔۔۔
اسکی آواز بلند ہونے لگی تھی۔۔۔
رسوائی کا وہ منظر یاد کرتی ہوں تو میرا دل بند ہونے لگتا ہے اللہ۔۔۔ پوری دنیا عائزل کو جھوٹا فریبی اور بد کردار سمجھ رہی ہے۔۔۔ پر کیا میں ایسی ہوں اللہ۔۔۔
وہ کہتا ہے کے میرے ایمان کی قیمت چار لاکھ ہے۔۔۔ اللہ وہ کیسے بار بار میرا دل توڑ سکتا ہے۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔
بار بار کیسے وہ میرے دل پر اتنے کاری وار کر سکتا ہے۔۔
کیا اسے احساس نہیں ہوتا کے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ یا اسے مجھے تکلیف دے کر خوشی ہوتی ہے۔۔ 
اللہ کیا میں اپنا ایمان بیچ سکتی ہوں۔۔۔ میں ایسا کر سکتی ہوں اللہ۔۔۔
اللہ میرے دل کو سکون عطا کر۔۔۔ میرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔  اللہ۔۔۔ اللہ اپنی ذات کے بارے میں اتنے غلط الفاظ سنے ہیں نا میں نے کے اب تو یقین ہونے لگا ہے ۔۔۔ کہ۔۔۔ کہ میں ہوں ہی ایسی۔۔۔ بری لڑکی۔۔۔ وہ شدت گریہ سے سرخ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی بلکی۔۔۔۔
جبکہ دوسری جانب شاید آج انکشاف کا دن تھا۔۔۔
دائم کے ہاتھ میں تھاما موبائل بھی ہاتھوں کی لغزش کے باعث کپکپا اٹھا  تھا۔۔۔۔
اسکی ذات جھٹکوں کی زد پر تھی۔۔۔
وہ اس واقعہ کو پری پلین نہیں کہہ سکتا تھا۔۔۔
وہ لڑکی رات کے اس پہر اپنے رب کے حضور اداکاری نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
ناجانے کس قوت نے آج اسے اسکی فوٹیج دیکھنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔
اسکا بلکنا سسکنا گڑگڑانا۔۔۔ کچھ بھی جھوٹا نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔
وہ رات کے دوسرے پہر اپنے رب کے حضور اسی کی شکایتیں لگا رہی تھی۔۔۔ اسے ظالم کہہ رہی تھی۔۔۔
دائم کے دماغ میں جھکڑ سے چلنے لگے۔۔۔
موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔۔۔
اسنے چکراتا سر ہاتھوں مین تھام لیا۔۔۔۔
آپ مجھے منہ دکھائی میں کیا دیں گے دائم۔۔۔۔۔ اسکے ماتھے کی رگ پھرکنے لگی تھی
میں آپکو نہیں جانتی۔۔۔ مجھے آپکے ساتھ کہیں نہیں جانا۔۔۔۔ چیختی آواز اسکے دماغ میں ہتھوڑے برسانے لگی تھی
دائم ہم ہنی مون پر کہاں جائیں گے۔۔۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
آپ کیوں میری بات نہیں سمجھتے۔۔۔ مجھے نہیں پتہ آپکے پاس میری فوٹوز کہاں سے آئیں۔۔۔
آہہہہ۔۔۔ اسکا دماغ پھٹنے لگا تھا۔۔۔
سوچیں منتشر تھیں اور دماغ مفلوج۔۔۔
کیا ٹھیک تھا کیا غلط۔۔۔ 
کیا وہ جو دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ یا وہ جو نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔۔۔
اسنے گہری سانس لیتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔ اب وہ رفتہ رفتہ اس الجھی ڈور کے پاس کھڑا اسکا ایک سرا تھام کر اسے سلجھانے کی کوشیش کرنے لگا تھا۔۔۔
عائزل ایک سکیمر تھی۔۔۔ جسنے اس سے بات چیت کر کے اسے اعتماد میں لیا اور اسکے ساتھ گھپلا کر کے بعد میں نمبر بند کر کے اور اکاوئنٹس ڈیلیٹ کر کے فرار ہونے کی کوشیش کی۔۔۔
پھر اسنے بہت تگ و دود کے بعد اسے ڈھونڈ لیا اور نکاح کے بعد اسے ساتھ لے آیا۔۔۔
اس الجھی ڈور کا سرا تھامے وہ وہیں رکا۔۔۔ بظاہر تو کہانی میں کوئی جھول نا تھا۔۔۔ لیکن ڈور کے اس سرے کو سلجھ کر اسکے ہاتھ میں آ جانا چاہیے تھا لیکن آگے سے تو وہ ہنوز اس الجھے گچھے کا ہی حصہ تھا۔۔۔
تو اس سے اس سرے کو سلجھانے میں غلطی کہاں ہو رہی تھی۔۔ ۔وہ جو ایک سکیمر تھی ۔۔۔ ایک شاطر دماغ۔۔۔۔
تو پھر وہ اتنی دیر تک وہاں خاموشی سے اس پسماندہ علاقے میں کیوں رہی ۔۔ کیوں حالات کے ساتھ کمپرومائز کرتی رہی۔۔۔ اتنے شاطر دماغ نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشیش کیوں نا کی۔۔۔ اور تو اور بوا کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا۔۔۔
اور اب اتنی مشقتیں سہنے کے بعد اصولا تو اسے دائم خان کا بڑھایا ہوا ہاتھ جھٹ سے تھام لینا چاہیے تھا۔۔۔
لیکن وہ بھڑکی کیوں۔۔۔ آگے سے سرا مزید الجھ گیا تھا۔۔۔ اتنا کے سلجھانا مشکل ہونے لگا۔۔۔
کیا کہا تھا اسنے اس وقت۔۔۔ اسنے دماغ پر زور ڈالتے سوچا
اسنے کہا تھا کے اگر دوسرے کو ذلیل و رسوا کردینا محبت ہے تو خدا کرے کے ایسی محبت کبھی کسی کو نا ہو۔۔۔۔ 
تب اسے یہ باتیں بہت بری لگی تھی۔۔۔ اپنی محبت کا مذاق اڑاتی ہوئی۔۔۔ لیکن اب انکا پس منظر کچھ کچھ سمجھ آ رہا تھا۔۔۔
ایک دھوکے باز فراڈی انسان کبھی اس جرات سے سامنے والے پر پھٹ نہیں سکتا۔۔۔
وہ لہجہ وہ الفاظ وہ آنکھوں کی بے بسی ایک سچے انسان کی تھی۔۔۔ جن پر تب اسنے غور نہیں کیا مگر اب کر رہا تھا تو رونکھنٹے کھڑے ہو رہے تھے۔۔۔
میں ایک بدکردار لڑکی ہوں نا۔۔۔ تو آپکی مردانگی کیسے گوارا کر رہی ہے کے آپ نے ابھی تک ایک بدکردار لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھا ہوا ہے۔۔۔مار ڈالیں مجھے۔۔۔
اسنے آنکھیں میچتے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
وہ چوری اور سینہ زوری والامعاملہ نہیں تھا۔۔۔ وہ زندگی سے بے زار حالات کے ستائے ہوئے انسان کے بے بسی بھرے الفاظ تھے۔۔
لیکن ڈور کا یہ سرا سلجھ کیوں نہیں رہا تھا۔۔۔ وہ بے بس ہوا۔۔۔ 
کیسے ممکن تھا کے مجھ سے بات کرنے والی اور میرے نکاح میں موجود لڑکی دونوں الگ الگ ہوں۔۔۔
اسنے ڈور کا سرا وہیں چھوڑ دیا۔۔۔
شاید وہ غلط سرے کو سلجھانے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
اسنے شروع سے ڈور کا سرا ڈھونڈنا چاہا۔۔۔
انکی بات چیت کیسے شروع ہوئی تھی۔۔ نگاہوں کے سامنے ریسٹورنٹ کا منظر ابھرنے لگا۔۔۔۔جہاں اسنے پہلی دفعہ عائزل کی آئی دی ٹویٹر پر دیکھی تھی۔۔۔
پھر ۔۔۔ پھر انکی بات چیت ہونے لگی۔۔۔ پہلے ٹیکسٹ پر۔۔۔
پھر کال پر اور پھر ویڈیو کالز۔۔۔
پھر مسلہ کہاں تھا۔۔۔
ابکی بار اسکی کہانی میں اہم نقطہ اسکے ساتھ ہوا سکیم نہیں تھا۔۔۔ بلکہ ابکی بار وہ اس کہانی میں موجود جھول ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
وہ آپس میں بات کرتے تھے۔۔۔ اور وہ یہ ہی لڑکی ہوتی تھی۔۔۔ لیکن عائزل کی آج کی باتیں۔۔۔ اسکا سر مزید چکرانے لگا۔۔۔
وہ اس واقعہ کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کر سکتا تھا کے شاید عائزل کی کوئی ہم شکل ہو۔۔۔
وہ اس لڑکی کی معصومیت پر مر مٹا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں سے چھلکتی معصومیت اسے جھکڑ لیتی تھی۔۔۔
آج اگر وہ رات کے اس پہر اسے اپنے رب کیساتھ راز و نیاز میں مصروف نا دیکھتا تو شاید کبھی زندگی میں یقین نا کرتا کے وہ لڑکی بے قصور ہے۔۔۔
کیونکہ دائم خان کی آنکھیں دھوکہ نہیں کھا سکتیں۔۔۔
ویڈیو کال پر موجود لڑکی یہ ہی تھی۔۔۔
لیکن کوئی نسان اپنے رب کے حضور جھوٹے آنسو نہیں بہا سکتا۔۔۔
یا تو اس لڑکی کو ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔ اور بہت برے طریقے سے ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔
یا پھر شاید واقعی کوئی اسکی ہم شکل ہو۔۔۔
اسنے بے بسی سے مکہ ماتھے پر مارا۔۔۔
وہ پھر سے ازسر نو ہر چیز کا باریک بینی  سے جائزہ لینے لگا تھا۔۔۔
اس لڑکی کا کہنا تھا کے وہ نکاح سے پہلے دائم خان کو جانتی تک نا تھی۔۔۔ پھرررررر
ایک کے بعد ایک چیز وہ سوچے جا رہا تھا۔۔
مسلسل۔۔۔۔  حتی کے وہ اس پراسس کو دوبارہ شروع کر دیتا۔۔۔
چھوٹی سے چھوٹی بات بھی وہ دماغ میں دہرا رہا تھا۔۔۔
شاید ہی آج سے پہلے اسنے کبھی اتنی دماغی مزدوری کی ہو۔۔۔  دائم خان اتنا بے وقوف نہیں ہو سکتا کے کئ طرح کے ہنٹ ملنے کے باوجود بھی وہ ایک گھٹی سلجھا نا سکے۔۔۔
شاید وہ درمیان میں جذبات کو لے کر آ رہا تھا۔۔۔۔ اسے جذبات کو ایک سائیڈ پر کرتے نیوٹرل انداز میں اس چیز کو لے کر مسلے کا حل نکالنا چاہیے۔۔۔
غیر جانبداری سے۔۔
اب وہ اس مسلے کو ٹھنڈے دماغ سے سوچ رہا تھا۔۔۔ ایک ایک چیز۔۔۔
کال والی عائزل اور موجودہ عائزل کی شخصیت کا موازنہ کیا جا رہا تھا۔۔۔۔
 سوچتے سوچتے یکدم ایک مقام پر وہ رکا۔۔۔۔
جیسے دماغ کو ایک سپارک ملا ہو۔۔۔ لیکن اسنے سر جھٹکے آگے کے واقعات سوچنے چاہے۔۔۔
لیکن اس بار پھر سے وہی سپارک۔۔۔
وہ جیسے تھم گیا۔۔۔ گویا فریز ہو گیا ہو۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔۔ وہ اتنی معمولی بات کیسے مس کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
اسنے تھوک نگلا اور سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ چہرے کی رنگت تک فق ہو گئ تھی۔۔۔
ایک بار۔۔۔ دو بار۔۔۔ اور پھر بار بار۔۔۔ اسنے ہر ہر انداز میں اس واقعہ کو سوچا لیکن ہر دفعہ ایک ہی مقام پر آ کر وہ رک گیا۔۔۔ کہانی کی تان ہر مرتبہ یہیں آ کر ٹوٹ رہی تھی۔۔۔ ایک چھل اور فریب سے اس کہانی کے پیونڈ لگے ٹکروں کو چھپایا جا رہا تھا۔۔۔
مائے گاڈدددد اسنے بے بسی سے سر ہاتھوں میں گرا دیا۔۔۔
وہ لڑکی  سچی ہے۔۔۔ بلآخر دل ایمان لے ہی آیا۔۔۔
اسے ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔ اور اتنے برے طریقے سے کے آج اگر دائم خان اسے اس طرح سے نا دیکھتا تو وہ ساری زندگی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتی لیکن وہ کبھی اسکا یقین نا کرتا۔۔۔
دھند چھٹنے سے منظر واضح ہونے لگا تو ہر چیز کلیئر دکھائی دینے لگی تھی۔۔۔
دائم خان عائزل کی معصومیت پر مر مٹا تھا۔۔ لیکن وہ لڑکی اسکی سوچ سے زیادہ معصوم اور بھولی تھی تبھی تو اتنی بری طرح سے ٹریپ ہوگئ۔۔۔
ِاب اس معصوم کے ساتھ کی گئ اپنی زیادتیاں یاد آئیں تو دل کرلا اٹھا تھا۔۔۔

وہ کہتا ہے کے میرے ایمان کی قیمت چار لاکھ ہے۔۔۔ اللہ وہ کیسے بار بار میرا دل توڑ سکتا ہے۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔
بار بار کیسے وہ میرے دل پر اتنے کاری وار کر سکتا ہے۔۔
کیا اسے احساس نہیں ہوتا کے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ یا اسے مجھے تکلیف دے کر خوشی ہوتی ہے۔۔ 
دائم کے دل پر جیسے سوئیاں سی چبھنے لگی تھیں۔۔۔ آج اس لڑکی کا دکھ محسوس ہو رہا تھا  تو روح فنا ہونے لگی تھی۔۔۔۔
اللہ میری پارسائی ثابت کردے۔۔۔۔ کردے نا اللہ۔۔۔
ضبط کے باوجود ایک آنسو دائم کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
وہ لڑکی اتنی نازک تھی کے اسے کسی آبگینے کی طرح سینچ سینچ کر رکھنا چاہیے تھا۔۔۔ مگر اسنے کیا کیا۔۔۔۔
محبت اگر ایسی ہوتی ہے نا تو میری دعا ہے اللہ سے کے  کبھی کسی کو محبت نا ہوئے۔۔۔
آج اسکا اپنا دل ہی اپنی محبت کا مذاق اڑانے کا کر رہا تھا۔۔۔ 
وہ خود میں اس معصوم لڑکی سے آنکھیں ملانے کا حوصلہ تک نا پا رہا تھا۔۔۔
لیکن یہ اب تو بعد کی باتیں تھیں۔۔۔ وہ شاید پھر سے جذبات میں بہہ کر ٹریک سے ہٹ رہا تھا۔۔۔
اسے نیوٹرل رہنے کی ضرورت تھی۔۔۔ جو اس وقت اسے دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔۔۔
لیکن اس لڑکی کے دکھوں کا کچھ مداوا کرنے کو یہ بے حد ضروری تھا۔۔۔
وہ بے قصور تھی تو قصور وار کون تھا۔۔۔ اسکے آگے ایک بڑا سا سوالیہ نشان ہنوز موجود تھا۔۔۔
اسے اصلی مجرم تک پہنچنا تھا۔۔ جو یقیناً سزا کا حقدار تھا۔۔۔
ایک بات تو طے تھی کے اصل مجرم عائزل کا کوئی بہت قریبی تھا۔۔ بہت قریبی۔۔۔ اپنوں میں چھپا کوئی بھیریا۔۔۔
یا شاید وہ قریبی نا ہو۔۔۔ یہ بھی اسکا دماغ بھٹکانے کو کہانی کا کور ہو۔۔۔ اب وہ کسی چیز پر یقین نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ہر چیز شک کے دائرے میں تھی۔۔
لیکن جو بھی تھا اب اسے کسی بھی دوسرے کام سے پہلے اس کہانی کو سلجھانا تھا۔۔۔ 
کیونکہ یہ کہانی کوئی پروفیشنل یا فرضی کہانی نا تھی۔۔۔بلکہ اسکی ذاتی زندگی کا دارومدار اسی کہانی پر تھا۔۔
اسنے وہیں بیٹھے بیٹھے بنا وقت کی پرواہ کئے ضامن کا نمبر ملایا۔۔
دوسری طرف سے کافی دیر بعد فون اٹھایا گیا۔۔۔
دیکھو ضامن میں جانتا ہوں کے کسی کو فون کرنے کا یہ وقت مناسب نہیں۔۔۔
لیکن پلیز میں اس وقت بہت الجھا ہوا ہوں اور مجھے تمہاری مدد کی اشد ضرورت ہے۔۔۔ اس لئے تم آرام بعد میں کرنا فلحال اپنے حواس بحال کر کے میری پوری بات سنو اور پھر اس مسلے کا کوئی حل نکالنے کی کوشیش کرو۔۔۔
وہ بنا ضامن کی کوئی بات سنے اپنی ہی بات کہنے لگا ۔۔
ضامن نے گہرا سانس خارج کرتے نیند سے مندی آنکھیں کھولیں اور بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔
پھر دائم شروع سے لے کر آخر تک اسے سب بتاتا چلا گیا۔۔۔
ضامن کے ماتھے کے بل واضح ہونے لگے۔۔۔
سوری میں تمہاری بات کاٹ رہا ہوں۔۔۔ لیکن ایک اہم بات ہے جو میں تمہیں  بتانا چاہتا ہوں۔۔۔
ابھی دائم بول رہا تھا جب ضامن اسکی بات کاٹتا گویا ہوا۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔ دائم الجھا۔۔۔
ابھی پچھلے دنوں میں لنکڈ ان استعمال کر رہا تھا تو اسی نام  اور پروفائل سے مجھے  ایک آئی ڈی وہاں بھی شو ہوئی۔۔۔
لیکن میں نے اسے نظر انداز کرتے تم سے شیئر نہیں کیا کہ شاید وہ بھابھی کا کوئی پچھلہ اکاونٹ ہو۔۔۔
لیکن شاید وہ اکاونٹ ہماری کچھ مدد کر سکے۔۔۔
ضامن کے کہنے پر دائم ساکت رہ گیا۔۔۔
مطلب اس کہانی کی جڑیں بہت اندر تک تھی اور مجرم انکی سوچ سے  زیادہ شاطر تھا۔۔۔
ٹھیک ہے تم صبح مجھے ملو۔۔۔ تب تک میں وہ پروفائل چیک کرتا پوں۔۔۔
دائم نے غصے سے چٹختے اعصاب کے ساتھ فون بند کرتے لنکڈ ان کھولا۔۔۔
********


No comments

Powered by Blogger.
4