Scheme novel 31st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 31st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
اکتیسویں قسط
اب کیسی طبیعت ہے آپکی گرینی۔۔۔
گرینی اپنے کمرے میں بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔۔۔ چہرا نقاہت زدہ تھا۔۔ جبکہ ٹانگوں پر لحاف اوڑھ رکھا تھا۔۔۔ پاس ہی کرسی پربیٹھی ایمن انہیں سوپ پلا رہی تھی۔۔۔ جب اریب کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
اتنی تمہیں جو میری پرواہ ہے نا وہ مجھے بھولی نہیں ۔۔ اس لئے یہ دکھاوا کرنا بند کرو۔۔۔ مری نہیں ہوں ابھی میں۔۔۔ گرینی نے جلے کٹے انداز میں کہتے سر جھٹکا۔۔۔
ایمن تو حق دق رہ گئ تھی۔۔۔ اریب کے لئے گرینی کے اس انداز پر۔۔۔
جبکہ اریب بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا۔۔۔ کمرے کی فضا میں ایک عجیب سا تناو در آیا تھا۔۔۔ جسے ایمن نے شدت سے محسوس کیا۔۔۔
شاید دادی پوتے میں کوئی سرد جنگ چل رہی تھی۔۔۔ اسے اپنا وہاں رہنا عجیب لگا لیکن ابھی باول میں سوپ باقی تھا۔۔۔ وہ اسے چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
اس لئے سوپ ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
اب آپ ایسے تو نا کہیں گرینی۔۔۔ آپکے سوا آخر میرا ہے ہی کون۔۔۔
ایمن کی موجودگی میں اریب جزبر تو ہوا لیکن گرینی کی ناراضگی محسوس کر کے رہ نہیں سکا۔۔۔
بس ۔۔۔ بس۔۔۔ تمہاری یہ لفاظی کام نہیں آنے والی۔۔۔ یہ پیار محبت اور مان۔۔۔ یہ سب کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں۔۔ یہ سب آپکے عمل سے ثابت ہوتا ہے۔۔۔ گرینی ہاتھ اٹھاتیں چٹخی۔۔۔
جیسے اریب سے پہلے ہی بہت بھری بیٹھی ہوں۔۔۔۔ اور تم اپنے عمل سے ثابت کر چکے ہو کے تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے اور میرے کہے کا کتنا مان رکھتے ہو تم۔۔۔
انہوں نے نخوت سے سر جھٹکتے چہرا موڑا۔۔
اریب شرمندگی سے سر جھکا کر رہ گیا۔۔۔
آپکو غلط فہمی ہوئی ہے گرینی۔۔۔ آپکی دل آزاری میرا مقصد نا تھا۔۔۔
تمہارا مقصد جو بھی تھا۔۔۔ لیکن تم نے میرا دل دکھایا نا۔۔۔ اور بڑی بات کے تمہیں اسکا احساس بھی نہیں۔۔۔ انکا غصہ ہنوز وہیں تھا۔۔۔
گرینی احساس ہے مجھے ۔۔ تبھی تو یہاں آیا ہوں آپکے پاس اپنے کہے کی معافی مانگنے۔۔۔ وہ بے بسی یک لخت گویا ہوا۔۔۔
تو مطلب میں تمہاری طرف سے ہاں سمجھوں۔۔۔ تم شادی کے لئے تیار ہو۔۔۔
گرینی چہکیں۔۔۔ اور تم دیکھنا تمہاری شادی کے بعد میں یوں بھلی چنگی ہو جاوں گی۔۔۔
ایمن کو اس ساری سچویشن میں اپنا آپ بہت اکورڈ محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
اللہ اللہ کر کے سوپ ختم ہوا تو وہ بعجلت وہاں سے اٹھتی باہر نکلی۔۔۔
باہر نکلتے ہی اندر سے آنے والی آوازوں کا سلسلہ رک گیا۔۔۔۔
اسنے ایک گہری سانس خارج کی اور کچن کی جانب بڑھ گی۔۔۔ تو مطلب گرینی اریب کو شادی کا کہہ رہی تھیں اور اریب انکاری تھا۔۔۔ شاید گرینی کی یکدم خربی طبیعت کی وجہ بھی یہ ہی تھی۔۔۔ لیکن خیر یہ انکا آپسی معامل تھا۔۔۔ وہ سر جھٹکتے آگے بڑھی۔۔۔
*****
گرینی کا سارا کام نبٹا کر انہیں دوائی دے کر وہ اپنے کوارٹر کی جانب آئی لیکن سامنے اپنے کوارٹر کا دروازہ کھلا دیکھ کر وہ ٹھٹھکی۔۔۔
وہ تو دروازہ بند کر کے گئ تھی۔۔۔ وہ ایسی بے اختیاطی کبھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ پھر۔۔۔
وہ الجھتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔ اسے کچن کی جانب سے کھٹر پٹر کی آواز سنائی دی تو بے ساختہ اسکے قدم کچن کی جانب بڑھے۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھتے ہی اسکے حلق سے چیخ برآمد ہوئی۔۔۔
تم کب آئے حماد۔۔۔ وہ خوشی سے چہکتی آگے بڑھی جب حماد نے گرمجوشی سے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔
ہاں میں نے سوچا تمہیں سرپرائز دے دیا جائے۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔
تو بلآخر تمہیں چھ مہینوں بعد یاد آ ہی گیا کے ایک سرپرائز دے کر بہن کو دیدار کروا ہی دیا جائے۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے کچن شلف کے ساتھ کمر ٹکائے گہری نگاہوں سے اسے دیکھتی میٹھا سا طنز کر گئ۔۔
وہ اداسی سے مسکرایا اور سنک کی ٹونٹی کھولتا ہاتھ ڈھوندے لگا۔۔
مجبوری تھی ایما۔۔۔ ورنہ خوشی سے کون پردیس کاٹتا ہے۔۔ گھر کا سکون کسے چبھتا ہے۔۔۔
ایمن نے اسکا تفصیلی جائزہ لیا۔۔۔ وہ اسے پہلے سے بہت بدلا بدلا لگا۔۔۔ پہلے سے زیادہ میچور اور سنجیدہ۔۔۔ لیکن اسکی رنگت پہلے سے کچھ مانند پر گئ تھی۔۔۔ آنکھوں کے نیچے بھی ہلکے دکھنے لگے تھے۔۔۔
یہ تم کیا کر رہے ہو۔۔۔ اسے چولہے پر پڑی دیگچی کا دھکن اٹھا کر اس میں چمچ چلاتا دیکھ وہ مستفسر ہوئی۔۔
تب سے اب اسنے کچن کاونٹر کو دیکھا تھا جو بالکل صاف ستھرا تھا لیکن چولہے پر رکھی دیگچی اور اسکے نیچے جلتی آگ سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کے یہاں کچھ پک رہا ہے۔۔
بھوک لگی تھی ایما۔۔۔ اس لئے سوچا ہم دونوں کے لئے کچھ سپیشل بناوں۔۔۔
کتنی دیر بعد ہم مل کر بیٹھہں گے اکھٹا کھائیں گے۔۔ کچھ اچھا وقت ایک ساتھ گزاریں گے۔۔۔
تو تم نے مجھے انفارم کیوں نہیں کیا۔۔۔ میں تمہارے لئے کچھ بنا کر رکھتی۔۔۔ پہلے ہی اتنے لمبے سفر سے آئے ہو۔۔۔ آتے ہی کچن میں شروع ہوگئے۔۔۔ ایمن نے خفگی سے کہتے اسکے ہاتھ سے چمچ تھاما۔۔۔
ارے ایسی کوئی بات نہیں وہاں بھی تو سب میں خود ہی کرتا تھا نا تو اب بھی کر لیا۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔۔۔ویسے بھی بن ہی گئ بس۔۔۔
وہ کیبنٹ سے برتن نکال کر شیلف پر رکھنے لگا۔۔۔
واو۔۔۔ میکرونی بنا کر تم نے بہت اچھا کیاحماد۔۔۔ پتہ نہیں کتنا عرصہ ہوگیا کھائے ہوئے۔۔۔ ویسے بھی ایسی عیاشیاں کم کم ہی نصیب ہوتی ہیں۔۔۔ وہ گہرا سانس لیتی میکرونی کی خوشبو کو اندر تک اتارتی گویا ہوئی۔۔
بہت دیر بعد وہ آج خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ حماد بھی اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔ پچھلہ وقت رونکھنٹے کھڑے کر دیتا تھا۔۔۔
******
یہ کیا ہے حماد۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد ایمن برتن سمیٹ رہی تھی جب حماد نے اسکے پاس بیٹھے پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ اسکی گود میں رکھے۔۔۔
گنو انہیں ایما۔۔۔ وہ پرسکون سا ٹانگیں اوپر کرتا بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
ایمن نے حیرانگی سے نوٹ اٹھائے اور گننے لگی۔۔
ڈیڑھ لاکھ۔۔۔ وہ اسے دیکھتی معتجب ہوئی۔۔۔
اسنے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ ہمم ایما۔۔۔ قرض کی رقم۔۔۔۔ جو تم نے اریب سر سے لیا تھا۔۔۔ چکا دو انہیں0۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتا آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔
اس میں سے آدھا قرض تو ادا ہو چکا ۔۔۔آدھا رہتا ہے۔۔۔
چھ ماہ تک تو میں نے یہ جاب کر لی۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی سی گویا ہوئی۔۔
ہمم۔۔۔ تو پھر باقی کے پیسوں سے پرانے محلے کا قرض لوٹا دیتے ہیں۔۔۔ بہت ساتھ دیا ہے انہوں نے بھی۔۔۔ اور تمہاری وہ دوست جسنے امی کے کفن دفن کا سارا خرچ اٹھایا تھا۔۔۔ انکے پیسے بھی لوٹانے ہیں۔۔۔
وہ پرسوچ سا گویا ہوا۔۔
ایک آنسو ایمن کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔ کٹھن تھا وہ وقت۔۔۔ لیکن کٹ گیا۔۔۔
اتنی جلدی۔۔۔ اتنے پیسے حماد۔۔۔ وہ الجھی۔۔۔
حماد مسکرا دیا۔۔۔ قسم لے لو یار۔۔۔ میری حلال کی کمائی ہے۔۔۔ کوئی غلط طریقہ نہیں اختیار کیا میں نے ۔۔۔
پاگل۔۔۔ جانتی ہوں۔۔۔ سورس معلوم کر رہی تھی۔۔ اسنے حماد کو ایک چیت رسید کی۔۔۔۔
بہت سارے سورس آف انکم ہیں ایما۔۔۔ محض جاب سے تو یہ سب بہت مشکل ہو جاتا۔۔۔ صرف ارادہ مصمم اور نیت صاف ہونی چاہی وسیلے اللہ بنا ہی دیتا ہے۔۔۔
جیسے۔۔۔۔۔ وہ وسیلے ہی تو پوچھ رہی ہوں۔۔۔ وہ ہنوز اپنی بات پر قائم تھی۔۔۔
جیسے رات میں فائیور پر اور اونلائن فوٹوگرافی کی سروسز فراہم کر رہا ہوں۔۔۔ اور یہ چیز آپکی کپیسٹی پر ہے آپ جتنا کام کر سکو اتنی انکم۔۔۔
اسکے علاوہ جاب کے بعد شام میں ایک اکیڈمی جوائن کی ہے جہاں میں فوٹوگرافی کی کلاسز دے رہا ہوں۔۔۔
وہاں تھوڑی نا میری کوئی فیملی ہے جن کے ساتھ وقت گزارنا مقصود تھا۔۔۔ کیرئیر کے ابتدائی سال جان مارنی ہی پڑتی ہے۔۔
یعنی کے تم اس چیز کا اطمینان کر لو کے اگر میں پچھلے چھ ماہ میں یہاں نہیں آیا نا تو وہاں بھی سکون سے نہیں رہا۔۔۔ مصروف ہی تھا میں۔۔۔
بس کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
دراصل میں فوٹوگرافی کے لئے اپنا چھوٹا سا ادارہ کھولنا چاہتا ہوں ۔۔ اپنا خود کا اکیڈمی سنٹر۔۔۔
لیکن پھر سوچا پہلے مجھے اسکا تھوڑا سا تجربہ حاصل کرنا چاہیے۔۔۔
سٹیٹس ۔۔۔۔اکاونٹس۔۔ اداروں کے کام کرنے کا طریقہ۔۔۔ ڈیلنگز۔۔۔ پہلے مجھے یہ سب سیکھنا چاہیے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر میرے کچھ کانٹیکٹس ہونے چاہیے۔۔۔
بس اسی لئے میں نے اکیڈمی جوائن کی تاکے کچھ کانٹیکٹس بنا سکوں۔۔
اور شکر اللہ کا میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا۔۔۔
وہاں ایک مخلص دوست بھی مل گیا ہے۔۔ جسکے ساتھ مل کر میں انشااللہ اپنی فوٹوگرافک اکیڈمی کی بنیاد رکھنے جا رہا ہوں بس تم دعا کرنا۔۔۔
وہ تفصیلی جواب دیتا گویا ہوا جبکہ ایمن بس حیرت سے اسے دیکھی جا رہی تھی۔۔
وہ یہاں بیٹھے بھی اپنے بھائی کے ٹف شیڈیول کا تصور کر سکتی تھی۔۔۔
یہ جذباتی سا لڑکا اسقدر محنتی اور سمجھدار بھی ہو سکتا تھا بھلا اسنے سوچا نا تھاذ۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ وہ ایمن کو یوں خود کو یک ٹک دیکھتے پا حیرانگی سے مستفسر ہوا۔۔۔
وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلا گئ۔۔۔
اللہ تمہیں بہت ساری کامیابیوں سے نوازے۔۔۔۔
آمیں۔۔۔ وہ صدق دل سے گویا ہوا۔۔۔
بس تمہاری دعائیں ہی چاہیے ایمن کیونکہ اپنی اکیڈمی کی بنیاد رکھنا اسے اسٹیبلش کرنا اپنے قدموں پر کھڑا کرنا اس فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا کوئی آسان کام نہیں۔۔۔
تم بس دعا کرنا ہم سب مینج کر سکیں۔۔۔
اگر آپکے پیچھے کسی کی سپورٹ ہو نا ایما تو بہت حوصلہ رہتا ہے۔۔ لیکن جب آپ پہلے سے سٹیبلش اداروں کے درمیان اپنا مقام بنانے کے لئے کھڑے ہونے کی ہمت کرتے ہیں نا تو بہت کچھ فیس کرنا پڑتا ہے۔۔۔
تم بس دعا کرنا کے میں ثابت قدم رہوں۔۔۔
انشااللہ ایسا ہی ہوگا حماد۔۔۔ ایمن نے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔۔
اچھا میں ایک بات اور سوچ رہا تھا۔۔۔ یکدم کچھ یاد آنے پر وہ سیدھا ہوتا گویا ہوا۔۔۔
کیا۔۔۔ وہ چونکی۔۔۔
قرض تو اب ہم سارا ادا کر دیں گے تو پھر تم میرے ساتھ ہی واپس چلو۔۔۔ تم بھی میرے پاس ہوگئ تو میری تمہاری طرف سے فکر بھی ختم ہو جائے گی۔۔۔
ابھی فلحال کے لئے ہم رینٹ پر فلیٹ دیکھ لیتے ہیں وہاں۔۔۔
دراصل پہلے میرا ارادہ تھا کے انسٹالمنٹ پر کوئی چھوٹا موٹا فلیٹ لے لیا جائے۔۔۔ کیونکہ میرے پاس تھوڑی بہت سیونگز ہیں۔۔۔
لیکن پھر سوچا کے پہلے مجھے اکیڈمی سینٹر پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔۔۔ فلیٹ کو فلحال موخر کر دینا چاہیے۔۔
ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو۔۔۔ ایمن اس سے متفق تھی۔۔
اب یہاں بھی سوائے یادوں کے تو کچھ ہے نہیں ایمن تو سوچ رہا تھا ہم وہیں شفٹ ہو جاتے ہیں۔۔ وہاں میرا کام ہے اور میں وہیں پر اکیڈمی شروع کرنے والا ہوں تو مستقل رہائش بھی وہیں پر ٹھیک رہے گی۔۔۔ وہ جیسے اسکی رائے مانگ رہا تھا جیسے اس معاملے میں کنفوز ہو۔۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔۔۔ جیسے تمہیں سہولت ہو۔۔۔
لیکن میرے خیال سے اخلاقیات کا تقاضہ یہ ہے کے میں یہ مہینہ اپنی جاب پوری کروں تا کے ایک تو اریب سر کو گرینی کے لئے کوئی اور کیئر ٹیکر ڈھونڈنے کے لئے وقت مل سکے۔۔۔ اور دوسرا آج کل گرینی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔ تب تک وہ بھی سٹیبل ہو جائیں گی۔۔
ایمن کی پرسوچ آواز سن کر حماد نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔
جہاں اتنا وقت گزر گیا تھا وہاں یہ ایک مہینہ بھی کٹ ہی جاتا۔۔۔
*****
جس روز سے دائم خان عائزل کو واپس فلیٹ چھوڑ کر آیا تھا اسکا غصہ کسی صورت کم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔۔۔۔
اسنے اس لڑکی کا دھوکا بھلا کر اسکے سنگ زندگی کی ایک نئ شروعات کرنی چاہی تھی۔۔۔ کیونکہ اس مکار لڑکی کی معصومیت اسے اپنی جانب کھینچتی تھی۔۔۔ لیکن اس لڑکی نے کیا کیا۔۔۔
دائم جب جب اسکی باتیں سوچتا اسکا دماغ پھٹنے لگتا۔۔۔
دل چاہتا کے سب تہس نہس کر دے۔۔۔
وہ لڑکی اسکے پرخلوص جذبات کا مذاق بنا کر اسکی مردانگی کو للکار گئ تھی۔۔۔
اس لئے اس روز سے وہ مسلسل عائزل کو نظر انداز ہی کر رہا تھا۔۔۔
دانستا وہ ابھی تک دوبارہ فلیٹ میں نہیں گیا تھا۔۔۔ کہ جانتا تھا جب وہ دوبارہ سے اسکی شکل دیکھے گا اپنے غصے سے اختیار کھو بیٹھے گا۔۔۔
اس لڑکی نے اسکی غیرت و مردانگی پر سوال اٹھا کر اسکے اندر بھانبھر جلا دیئے تھے۔۔ جس میں وہ دن رات جل رہا تھا اور اگر اسکے سامنے جاتا تو یقیناً اسے بھی جلا کر بھسم کر ڈالتا۔۔۔
فلیٹ میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی کے کم سے کم بھی وہ کافی دن وہاں باآسانی گزار سکتی تھی۔۔
دائم خان خود کو نارمل کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ پرسکون ہونا چاہتا تھا لیکن جب جب اس لڑکی کا خودسر انداز اسے یاد آتا اسکا غصہ سوا نیزے پر پہنچ جاتا۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے اس وقت بھی رات کے دو بجے وہ اپنے بیڈ روم میں موجود بیڈ پر بیٹھا کھلی کھڑی سے باہر سیاہ آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
شرٹ کے اوپری دو بٹن کھلے تھے۔۔۔
وہ بے چین دکھائی دیتا تھا۔۔۔ ناجانے یہ کیسی بے چینی تھی۔۔۔ کسی کروٹ سکون نا مل رہا تھا۔۔۔
اسکا دل اس ظالم لڑکی کی جانب کھینچ رہا تھا۔۔۔ لیکن ایک بات تو تہہ تھی کے اتنی تزلیل کے بعد وہ اس لڑکی کی جانب پلٹ کر دیکھنا تک نہیں چاہتا تھا۔۔۔
محبت جیسے کہیں جا سوئی تھی اسے اسکی انا پر وار نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود دل آج اسے دیکھنے کا متمنی تھا۔۔۔
ناجانے کیوں آج وہ اسے شدت سے یاد آ رہی تھی۔۔۔ اسکا دل عائزل کو دیکھنے کو ہمک رہا تھا۔۔۔
ناجانے وہ کونسی طاقت تھی جسکے زیر اثر وہ خود پر اپنا کنٹرول کھو رہا تھا۔۔۔
اسنے بے بس ہوتے جیسے خود سے ہار مانی اور سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا لیا۔۔۔
کہیں وہ پریشانی میں نا ہو۔۔۔ اسے وہاں کوئی مسلہ نا درپیش ہو۔۔۔ تھی بھی تو اتنے دنوں سے وہاں اکیلی۔۔۔ اندر دل نے جیسے تاویل دی تھی۔۔۔ لیکن انا بھی اندر کہیں سر اٹھا رہی تھی۔۔۔
اسکے فلیٹ میں جگہ جگہ کیمرے لگے تھے وہ یہاں بیٹھا بھی عائزل کی ایک ایک حرکت پر نگاہ رکھ سکتا تھا مگر غصے کے شدید غلبے تلے وہ اسکی صورت بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
لیکن آج معاملہ کچھ اور تھا۔۔۔ وہ خود پر اختیار کھوتا جا رہا تھا۔۔ بلآخر انا دل کی دیواروں سے سر پٹخ پٹخ کر فنا ہرو گئ اوردل فتحیاب ٹھہرا۔۔۔
اسنے موبائل کی فوٹیج کھولی۔۔۔
اصولاً تو وہ رات کے اس پہر سو ہی رہی ہوگئ۔۔۔
چلو وہ سوئی ہوئی کو دیکھ کر ایک دفعہ تسلی کر لے گا۔۔۔
اسنے سب سے پہلے کمرے کی فوٹیج کھولی۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ بستر تو نفاست سے بچھا ہوا تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر یہ کہنا تو ناممکن تھا کے یہاں کوئی آرام کر رہا ہو اور آنکھ کھلنے پر واش روم یا کچن میں گیا ہو۔۔۔۔
کمرے کی فوٹیج میں واش روم کا دروازہ بھی کھلا تھا ہاں اندھیرا تھا مطلب کے وہ وہاں بھی نا تھی۔۔۔
دائم یکدم ہی سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ وہ کمرے میں نا تھی تو کہاں تھی۔۔۔
دل میں لگ الگ سے وسوسے جنم لینے لگے تھے۔۔۔
کہیں بھاگ تو نہیں گئ۔۔ اسکے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ ہوا۔۔۔
نہیں۔۔ نہیں۔۔۔ یہ تو ممکن نہیں۔۔ وہ فلیٹ باہر سے لاک کر کے آیا تھا ۔۔۔ اور مین دروازے کے سوا وہاں سے نکلنے کا کوئی اور طریقہ نا تھا۔۔۔
پھر۔۔۔
اپنے اندر جنم لیتے ہر وسوسے کو جھٹکتے اسنے کچن کی فوٹیج کھولی۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔ کچن بھی نفاست سے سیٹ تھا۔۔۔ وہاں کسی زی روح کا نام و نشان تک نا تھا۔۔۔
وہیں اسی پوزیشن میں بیٹھے اسنے سٹڈی روم اور ٹیرس کی فوٹیج بھی دیکھ ڈالی۔۔۔ وہاں کوئی نا تھا۔۔۔
غصے سے دائم کے ماتھے کی رگیں تک ابھرنے لگی۔۔۔
اسنے غصے سے اٹھتے جوتا پہنیں۔۔ اب وہ صورتحال وہیں جا کر دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن ایک بات طے تھی۔۔۔ ابکی بار وہ اس لڑکی کی کوئی غلطی معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
******

No comments