Scheme novel 30th episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 30th episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
انتیسویں قسط۔۔۔۔
وہ ایک خوبصورت ڈرائنگ روم تھا۔۔۔ جہاں دیوار کے ساتھ قطار میں مخملی صوفے پڑے تھے۔۔۔ جنکے سامنے کانچ کی میز تھی۔۔۔
ایک نوجوان اس صوفے پر بیٹھا سامنے موجود میز پر پڑے لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا تھا۔۔۔
اسکے ماتھے پر جابجا بل تھے اور تاثرات ناسمجھی کے معلوم ہوتے تھے۔۔۔ جبکہ ٹرواز شرٹ میں ملبوس موٹی توند والا ایک شخص پشت پر ہاتھ باندھے برہمی سے دائیں بائیں چکر کاٹ رہا۔۔۔ بیچ میں وہ ایک برہم نگاہ لیپ ٹاپ پر جھکے لڑکے پر بھی ڈال لیتا۔۔۔
ہوا کچھ۔۔۔ دفعتا وہ شخص اس لڑکے کے پاس آ رکا۔۔۔
نہیں ماموں۔۔ کوشیش کر تو رہا ہوں لیکن کچھ بن نہیں رہا۔۔۔ لڑکے کے چہرے ہر مایوسی تھی۔۔۔
تممم۔۔۔ وہ شخص کچھ سخت سست کہتے کہتے رکا۔۔۔
ریکوائرمنٹس تو میں نے ساری پوری کر دی ہیں۔۔ اس شخص کا نام شناختی کارڈ نمبر تاریخ پیدائش۔۔۔ پھر۔۔۔ پھر مسلہ کیا ہے۔۔۔
وہ شخص بگڑا۔۔۔
پتہ نہیں ماموں۔۔۔ جو اسنے بتایا تھا سب ویسے ہی کر رہا ہوں۔۔۔ لیکن کچھ ہو ہی نہیں رہا۔۔۔ لڑکا بھی ٹھیک ٹھاک پریشان ہو چکا تھا۔۔۔
کیا مطلب ہے۔۔۔ اس آدمی کی آواز بلند ہوئی۔۔ تم نے اس سکیمر سے اچھے سے سب سیکھا تھا نا۔۔۔
ماموں اسنے سب ایسے ہی بتایا تھا۔۔۔ لیکن اب اکاونٹ ہیک نہیں ہو رہا ۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔۔۔ وہ لڑکا بھی بار بار کی کوشیش سے اکتا کر لیپ ٹاپ پیچھے کرتا سر تھام گیا۔۔۔
تمہیں اندازا بھی ہے میں نے کتنا بڑا رسک لیا ہے۔۔۔ صرف اسی بنیاد پر میں نے اس سکیمر کا کیس کمزور کرتے اسے چھوڑا تھا کہ سکیم سے اتنا تو میں ایک دن میں کما لوں گا جتنا یہاں پولیس کی نوکری میں ایک مہینے میں بناتا ہوں۔۔۔
مگر تم۔۔۔ تم۔۔۔۔
انسپیکٹر غصے سے کانپنے لگا تھا۔۔
پھر اب میں کیا کروں ماموں۔۔۔ یقینا وہ سکیمر ہمیں بھی چکما دے گیا۔۔۔ وہ لڑکا بھی غصہ سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اور اب اس سکیمر کو دوبارہ تلاش کر کے پکڑنا مطلب بوسے کے ڈھیر سے سوئی دھونڈنا۔۔۔
وہ انسپیکٹر سر تھامتا بیٹِھ گیا۔۔۔
کاش وہ سکمیر کبھی مجھے دوبارہ مل جائے تو اپنی ریوالو کی سبھی گولیاں اسکے سینے میں اتار دوں۔۔۔ وہ غصے سے کھول رہا تھا
*****
آن اپنی کمپیوٹر لیب میں بیٹھا تھا۔۔۔ ارد گرد کئ سکرینز لگی تھیں جہاں پر مختلف ڈیٹا شو ہو رہا تھا۔۔۔
کان میں لگے بلو توتھ کی مدد سے وہ کسی کے ساتھ رابطے میں تھا۔۔۔
اس نئ رہائش میں اسنے اپنی کمپیوٹر لیب تہہ خانے میں بنائی تھی جہاں کنول کا داخلہ بالکل ممنوع تھا۔۔
کیا تمہیں میں اتنا بے وقوف لگتا ہوں کے اپنے ہاتھ کاٹ کر کسی کو دوں گا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نا جائے۔۔۔۔۔ وہ فون پر بات کرتا قہقہ لگاتا گویا ہوا۔۔۔
اب یہ سکیم کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو پاکستان میں ہر دوسرا انسان سکیمر ہی ہوتا۔۔۔
میرے دوست انہیں صرف میں نے چکما دیا ہے۔۔۔ اور اب وہ ماما بانجھا میرے خون کے پیاسے مجھے ڈھنونڈ رہے ہونگے۔۔۔۔ لیکن کیا مجھے دھونڈنا اتنا ہی انسان ہے۔۔۔۔۔
اسنے بات کرتے قہقہ لگایا۔۔۔
کہا تھا میں نے ان سے کے مجھے یہاں سے رہا کرنے کے لئے میرے ساتھ ڈیل کر لو۔۔۔
مگر افسوس نہیں مانے۔۔۔ اب میں کیا کہہ سکتا ہوں۔۔۔
وہ کسی کے ساتھ محو گفتگو تھا۔۔۔ جب اسکے پرسنل نمبر پر کنول کی بیل آنے لگی تو وہ اسے الواع کہتا مسکراتا ہوا لیب سے نکلا۔۔۔
†*******
وہ گہری نیند میں سو رہی تھی جب زور زور سے دروازہ ڈھرڈھرانے کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔۔ اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔
ایمن نے بے ساختہ وال کلاک کی جانب دیکھا جو رات کے دو بجا رہا تھا۔۔۔ وہ خوفزدہ ہوئی۔۔۔
رات کے اس پہر کون تھا بھلا دروازے پر۔۔۔۔
جب سے حماد گیا تھا شروع کے کچھ دن تو وہ خوفزدہ ہوئی مگر پھر رفتہ رفتہ اسکا خوف جاتا رہا کیونکہ کچھ بھی تو غیر معمولی نا ہوا تھا۔۔۔
لیکن اب ۔۔۔ یہ دستک۔۔۔۔
وہ تھوگ نگلتی ننگے پاوں رفتہ رفتہ دروازے تک گئ۔۔۔
کووون۔۔۔ خوفزدہ آواز حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔
مس ایمن میں ہوں اریب پلیز دروازہ کھولیں۔۔۔
اریب کی تیز آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
کیوں آپکو اس وقت کیا کام ہے سر۔۔۔ ایمن کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے البتہ اب آواز ہموار تھی۔۔۔
مس ایمن گرینی کی طبیعت یکدم ہی خراب ہو گئ ہے آپ پلیز میرے ساتھ چلیں۔۔۔ وہ جیسے کچھ توقف کے بعد بولا۔۔۔
ایمن شش و پنج میں مبتلا تھی ۔۔۔ دروازہ کھولے یا نا کھولے۔۔۔ کچھ غیر آرام دہ تھا جو اسے دروازہ کھولنے سے روکے ہوئے تھا۔۔۔
مس ایمن دروازہ کھولیں۔۔۔ دستک پھر سے ہوئی تھی۔۔۔
انکی طبیعت خراب ہے تو آپ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں سر۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتی رکھائی سے گویا ہوئی۔۔۔
اس وقت وہ کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔۔
اسی لئے آپکے پاس آیا ہوں مس ایمن کہ آپ انہیں میرے ساتھ ہسپتال لے کر چلیں کیونکہ فرزانہ آپا اس وقت چھٹی پر ہیں۔۔۔ ایمن کو اسکی جھنجھلائی آواز سنائی دی۔۔۔
اسنے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولنا چاہا مگر پھر بے بسی سے ہاتھ گرا گئ۔۔۔
سوری سر اس وقت میں آپکی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔۔۔ نا ہی یہ درواہ کھول سکتی ہوں اور نا آپکے ساتھ چل سکتی ہوں۔۔۔ وہ بے رخی سے کہتی واپس پلٹ گی۔۔۔
یہ دو پل کی بے رخی پوری عمر کے خمیازے سے بہتر تھی۔۔۔ اب اسکے پاس بچا ہی کیا تھا سوائے عزت کے۔۔۔ اور عزت کے معاملے میں وہ کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اپنی بے وقوف اور رحمانہ طبیعت کے باعث بھی نہیں۔۔۔
اس دنیا نے اسے جو رنگ دکھائے تھے اب تو وہ تیز ہوا کے چلنے سے بھی ڈر جاتی۔۔۔
باہر سے ہنوز دروازہ کھٹکھٹانے اور اریب کے پکارنے کی آوازیں آ رہی تھی مگر وہ بے حس بنتی کمرے میں آکر کمرے کا بھی دروازہ بند کر گئ۔۔۔
*******
گرینی ہسپتال میں ہیں رات انکی طبیعت بہت خراب ہوگئ تھی۔۔۔ اس لئے اریب سر انہیں ہسپتال لے گئے۔۔
صبح وہاں آنے پر اسے فرزانہ آپا کی زبانی سب سے پہلے یہ ہی خبر سننے کو ملی تھی۔۔۔
وہ ایک پل کو تھمی۔۔۔ مطلب وہ واقعی سچ کہہ رہا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی پل سر جھٹک گئ۔۔ کے وہ اس معاملے میں کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔۔
مجھے بھی صبح ہی صبح اریب سر کا فون آیا تھا۔۔۔ انہوں نے مجھے ہنگامی بنیاد پر واپس آنے کو بولا حالانکہ ابھی میری دو چھٹیاں باقی تھیں۔۔۔ لیکن وہ اتنے غصے میں تھے کے میں آگے سے کچھ بول ہی نا سکی اور پہلی فرصت میں ہی ادھر آ گئ۔۔۔
فرزانہ آپا تاسف سے کہہ رہی تھیں جبکہ وہ گم صم سی سن رہی تھی۔۔۔
کونسے ہسپتال میں ہیں گرینی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ خود کو کمپوز کرتی گویا ہوئی۔۔
اور پھر فرزانہ آپا سے ہسپتال کا پوچھ کر وہ کچھ ہی دیر میں وہاں موجود تھی۔۔۔
ریسیپشن سے کمرے کا پوچھ کر وہ چکنی راہداری پر چلتی دروازے تک آئی۔۔۔
دروازہ دھکیل کر اندر بڑھی تو پہلی نظر ہی بستر پر کندھوں تک لحاف اوڑھے لیتی گرینی پر گئ۔۔۔
وہ اس وقت شاید دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔۔ جبکہ اریب انکی پائنتی کی جانب موجود دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بیھٹا آج کا اخبار پڑھ رہا تھا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اسنے سر اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا اور وہاں ایمن کو کھڑا پا اریب کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔ اسنے اخبار فولڈ کر کے واپس میز پر رکھا اور بھینچے جبڑے سمیٹ اٹھ کھڑا ہوتا مضبوط قدم اٹھا کر اس تک آیا۔۔۔
کیا کر رہی ہیں آپ یہاں مس ایمن۔۔۔
اگر کل رات میرے ساتھ گرینی کو یہاں لانے میں آپکو کو تکلیف ہو رہی تھی تو پوچھ سکتا ہوں اب آپ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔۔ وہ غصے بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا کرخت آواز میں چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔
جبکہ ایمن اسے نظرانداز کرتی گرینی کے پاس موجود ٹرالی میں انکی دوائیاں چیک کرنے لگی۔۔۔
کل رات جو میں نے کیا اریب سر۔۔۔ وہ رکی۔۔۔
میری جگہ اگر کوئی بھی شریف لڑکی ہوتی بالخصوص اگر وہ رات کے اس پہر اکیلی ہوتی تو یہ ہی کرتی۔۔۔۔
اور۔۔۔ وہ پلٹی۔۔۔ اریب اسکے پیچھے ہی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ اڑسے کھڑا اسے گھور رہا تھا۔۔۔
مجھے اپنی رات کی حرکت پر کوئی شرمندگی نہیں۔۔۔ اسکی آواز مضبوط تھی۔۔۔۔ اریب کے ماتھے کی شکنیں کچھ مزید ابھریں۔۔۔
اینڈ ٹرسٹ می۔۔۔ اگر میری زندگی میں دوبارہ بھی کبھی ایسا مقام آیا۔۔ جب تنہا رات کے اندھیرے میں مجھے کسی نامحرم کے لئے دروازہ وا کرنا پڑے۔۔۔
تو تب بھی میرا جواب وہی ہوگا۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتی وہ ٹھہر ٹھہر کر گویا ہوئی اور واپس ٹرالی کی طرف متوجہ ہوتی گرینی کی دوائیاں دیکھنے لگی۔۔۔
جبکہ اریب کا غصہ جیسے رفتہ رفتہ بیٹھنے لگا تھا۔۔۔ البتہ وہ ہنوز چبھتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں اتنا بھی بے اعتبار نہیں ہوں جتنا آپ سوچ بیٹھی ہیں مس ایمن۔۔۔ وہ برہمی سے کہتا جا کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔
میں نے ایسا کب کہا۔۔۔ اعتبار یا بے اعتباری کی تو بات ہی نہیں۔۔۔ بات ہے مقرر کردہ حدود کی۔۔۔
جو میرے اللہ نے مجھ جیسی لڑکیوں کے لئے مقرر کی ہیں۔۔۔ اور جب تک ہم انہیں فالو کریں گی خسارہ نہیں اٹھائیں گی۔۔۔ اور جیسے ہی ہم نے کسی بھی جذبے کے تحت۔۔۔ خواہ وہ ہمدری یا بے بسی کا ہی کیوں نا ہوں ان قائم کردہ حدود کو عبور کیا ہم خسارہ اٹھائیں گی۔۔ کیونکہ حل ہمیں پتہ ہوتا ہے۔۔۔ ہم سب جانتی ہیں لیکن اس سے روح گردانی کر جاتیں ہیں۔۔ کبھی کسی کی میٹھی باتوں میں آ کے تو کبھی کسی کی ہمدردانہ باتوں میں آ کر۔۔۔ پس منظر میں کہیں یونیورسٹی کی کینٹین میں اسکے سنگ بیٹھے ریان کا چہرا ابھرا تھا۔۔۔
اسنے تلخی سے سر جھٹکا۔۔۔۔۔
جب ہمیں پتہ ہے کے ہماری سینس آف ہیومر اتنی تیز نہیں۔۔۔ ہمیں لوگوں کو پرکھنے کی سمجھ نہیں۔۔۔ ہم چہرے اور لہجے دیکھ کر لوگوں کو جج کر لیتی ہیں اور ہم جذباتیت اور حماقت میں اکثر احمقانہ اور غلط فیصلے کر لیتی ہیں تو پھر میرے خیال میں ہمیں خود پر ۔۔۔۔اپنی عقل سمجھ پر اندھا بھروسہ کر کے اوور سمارٹ بننے کی بجائے اسلام کے وضع کردہ اصولوں پر عمل کر لینا چاہیے۔۔۔
کیونکہ بلاشبہ اللہ سب جانتا ہے اور وہ ہماری ایموشنل کنڈیشن سے بھی باخوبی واقف ہے تو اسی لئے اسنے مجھ جیسی نازک لڑکیوں کے لئے کچھ اصول اور حدود وضع کی ہیں نا تاکے ان پر عمل کر کے ہم بہت سے خساروں سے بچ سکیں۔۔۔
بہت دیر سے سہی مگر مجھے یہ سب باتیں سمجھ آ گئ ہیں۔۔۔۔ اور آج مجھے یہ قبول کرنے میں کوئی آر نہیں کے مجھے لوگوں کی کوئی پہچان نہیں۔۔ مجھے اجنبیوں کو پرکھنا نہیں آتا۔۔۔ میں اپنی ہمدردانہ طبیعت کے باعث اکثر خسارے اٹھالیتی ہوں۔۔۔۔
تو اس لئے اب اتنے خسارے اٹھانے کے بعد میں خود کو اپنے اللہ کی جانب سے وضع کردہ حدود کے درمیان قید کر چکی ہوں۔۔۔ اور یقین مانیے میں ان حدود کی قید میں بہت پرسکون ہوں اور محفوظ بھی۔۔۔ یہ حدود میرے گرد میری حفاظتی شیلڈ ہیں۔۔۔ جن کے درمیان اگر میں گھری رہوں گہ تو اللہ کا وعدہ ہے کے کوئی بھی اجنبی چاہے جتنی بھی کوشیش کرلے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔ ہاں وہ اس شیلڈ سے سر ٹکر ٹکرا کر خود تو زخمی ہو سکتا ہے لیکن میرا کچھ نہیں بگھاڑ سکتا۔۔۔ تب تک جب تک میں ان حدود کو عبور کرتی خود کو وہاں سے باہر نا لے آوں۔۔۔ٹھوکریں کھا کر ہی سہی مگر میں ان حدود کی افادیت پر یقین لے آئی ہوں۔۔۔
آپکی جگہ کوئی بھی ہوتا میں یہ ہی کرتی۔۔۔ کیونکہ یہ میرے لئے وضح کردہ حدود سے باہر ہے۔۔۔
وہ گرینی کی ساری دوائیاں چیک کر کے انکے پاس موجود سنگل کرسی پر بیٹھی جبکہ اریب گم صم سا بیٹھا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ جیسے مزید ایمن سے اس ٹاپک پر بات کرنے کو اسکے پاس الفاظ ہی ختم ہو گئے ہوں۔۔ اسنے دلیل ہی اتنی پختہ دی تھی کے باقی سارے جواز اپنی موت آپ مر گئے۔۔۔
******
جی داداجان آپ نے بلایا مجھے۔۔۔ دائم کچھ دیر پہلے ہی گھر آیا تھا وہ اپنے کمرے میں تھا جب اسے دادا جان کا بلاوا آیا تو وہ پہلی فرصت میں انکے پاس چلا آیا۔۔۔
ماں اور بابا بھی وہیں موجود تھے۔۔۔ کمرے کی کھڑکھی کھلی تھی جہاں سے نرم اور میٹھی دھوپ کی ہلکی ہلکی کرنیں اندر آ رہی تھیں۔۔۔
ہاں بیٹا آو بیٹھو ۔۔۔ دراصل تمہاری ماں نے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ دادا جان نے
مسکرا کر اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
جی ماں۔۔۔۔ وہ نشست سمبھالتاماں کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
بات تو میں تم سے کروں گی دائم خان۔۔۔ لیکن اس سے پہلے تم مجھے بتاو کے تم کرتے کیا پھر رہے ہو۔۔۔ ہر وقت بیزار سے اداس سے کسی سوچ میں گم جیسے ناجانے تمہارا کتنا بڑا نقصان ہو گیا ہو۔۔۔
نا وقت پر کھاتے ہو نا آرام کرتے ہو۔۔۔ صحت دیکھو اپنی کتنے کمزور ہو گئے ہو۔۔ یہ سب کیا ہے دائم خان۔۔
ماں اسے دیکھتی فکرمندی سے گویا ہوئیں۔۔۔ وہ کتنے دنوں سے اس سے اس موضوع پربات کرنا چاہتی تھیں مگر وقت ہی نا ملتا۔۔۔
انکی فکر مندی پر دائم مسکرا دیا۔۔۔ اب انہیں اپنے اس حال کا کیا بتاتا۔۔۔ لیکن وہ ماں تھیں باوجود اسکے چھپانے کے وہ اسکی حرکات و سکنات کو بہت اچھے انداز میں سمجھ گئ تھیں۔۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ماں۔۔ دراصل کام کا لوڈ آج کل کچھ زیادہ بڑھ گیا ہے۔۔۔ اور جب سے حماد آیا ہے اور بھی بڑھ گیا ہے۔۔۔ ماشااللہ سے وہ اتنا ایکٹوی اور ایماندار ورکر ہے۔۔۔
نا خود سکون سے بیٹھتا ہے نا بیٹھنے دیتا ہے۔۔۔
اتنے اچھے طریقے سے کام کرتا ہے اور بیک ٹو بیک کرتا ہے کے خوامخواہ بندے کو شرمندگی ہونے لگتی ہے اور اس لئے پھر میں بھی اسکے ساتھ لگا رہتا ہوں۔۔۔ بس اسی لئے لیکن اب آپکو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔
وہ مسکرا کر ماں کو مطمئن کرنے کی خاطر بولا۔۔۔
حماد کا ذکر کرتے اسکے لہجے میں مان تھا۔۔۔
ماں کیساتھ ساتھ بابا اور دادا جان بھی مسکرا دیئے۔۔۔
حماد کے حوالے سے ہی تمہاری ماں تم سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔ دادا جان مبہم سا گویا ہوئے تو وہ چونکا۔۔۔
حماد سے اب اس گھر میں کوئی بھی ناآشنا نا تھا۔۔۔ وہ انکا صرف فوٹوگرافر نا تھا۔۔۔ بلکہ اسنے بہت نامحسوس انداز میں اس گھر کے مکینوں کے درمیان اپنی جگہ بنائی تھی۔۔۔
کام کے حوالے سے نا کرنا اسنے سیکھا ہی نا تھا۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھتا۔۔۔ ہر کسی سے عزت سے پیش آتا اور جہاں اسکی ضرورت پڑتی وہ بنا ماتھے پر شکن لائے کام کرنے لگتا پھر چاہیے وہ آفس کے کام ہوتے یا ڈرائیور کی عدم موجودگی میں دادا جان کو ڈاکٹر کے ہاس لیجانا ہوتا یا پھر ماں کو بازار سے سبزی تک لا کر دینی ہوتی۔۔۔ حتی کے وہ تو مالی بابا کی غیر موجودگی میں لان کے پودوں تک کو پانی دے دیتا۔۔۔
اسکے بارے میں کیا بات۔۔۔ دائم معتجب ہوا۔۔۔
ماشااللہ سے بہت پیارا بچہ ہے۔۔ نیک اور سلجھا ہوا۔۔۔ ماں مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
بیٹا میں کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔ درصل میں ابا جی کے کہنے پر قافی دیر سے یمنہ کے لئے خاندان میں اور ادھر ادھر کوئی اچھا لڑکا تلاش کر رہی تھی۔۔۔ لیکن بیٹا یہ حماد سیدھا میرے دل کو لگا ہے۔۔۔
بڑا ہی پیارا اور نیک بچہ ہے۔۔ تو ہم تینوں سوچ رہے تھے کے اگر یمنہ کے حوالے سے وہ ہمارے خاندان کا حصہ بن جائے تو۔۔۔
ماں نے اپنا مدعا اسکے سامنے پیش کیا تو وہ کافی دیر کے لئے گم صم رہ گیا۔۔۔
حماد تو اسے بھی بہت پسند تھا بلکہ وہ اسکے لئے چھوٹے بھائی کی طرح تھا۔۔ لیکن اسنے کبھی اس بارے میں سوچا نا تھا۔۔۔
ہاں ٹھیک تھا کے وہ حثیت و مرتبے میں انکے برابر نا تھا۔۔ مگر وہ جس قدر محنتی اور اپنے کام کو لے کر مخلص تھا۔۔۔ اسکی کامیابی یقینی تھی۔۔۔ مستقبل میں وہ شخص بہت تیزی سے ترقی کے منازل طے کرنے والا تھا۔۔۔ یہ دائم کی غائبانہ آنکھ پہلے ہی دیکھ چکی تھی۔۔۔
وہ لڑکا ہیرا تھا۔۔
اگر ایسا ہو جاتا تو اس میں قباحت بھی کوئی نا تھی۔۔۔
اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کے حماد کی زندگی میں کوئی نہیں۔۔۔ وہ زندگی کو لے کر بہت پڑیکٹیل اور کھڑا بندہ ہے۔۔۔۔۔۔ جسکی زندگی کی ترجیحات میں اول درجے پر صرف محنت تھی۔۔۔
اس بات مین تو کوئی قباحت نہیں ماں۔۔۔ بلاشبہ حماد ایک اچھا لڑکا ہے۔۔۔ ایک ایسا لڑکا جسے کوئی بھی بھائی بآسانی اپنی بہن کی ذمہ داری سونپ سکتا ہے ۔۔۔
چلیں بات کر کے اس سے اس بارے میں اسکی رائے جانوں گا۔۔۔
وہ کچھ سوچ کر گویا ہوا۔۔۔
*****

No comments